Ayahs 20:77–971:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تخف درکا “ (یعنی خوف نہ کر تم) فرعون والوں سے پکڑے جانے کا (آیت) ” ولا تخشی “ اور دریا میں غرق ہونے کا خوف کرو۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من الیم ما غیشہم “ سے مراد دریا ہے۔
6:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تطغوا فیہ “ یعنی اس میں طغیان یہ ہے کہ وہ اسے بغیر حلت کے پکڑے۔
7:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابو حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فیحل علیکم غضبی “ یعنی تم پر میرا غضب آجائے۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یحلل علیہ غضبی “ میں لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا کہ اس تفسیر پر کہ جس پر میرا غضب واجب ہے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے ابومجلز (رح) سے (آیت) ” ومن یحلل علیہ غضبی “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر مخلوق میں سے کوئی مخلوق اس پر ناراض ہوگی تو وہ اسے بلائے گا اور اس سے بات کرے گا۔
10:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقد ھوی “ سے مراد ہے کہ وہ بدبخت ہوا۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے سقی بن ماتع (رح) سے روایت کیا کیا جہنم میں ایک محل ہے کافر کو اس کے اوپر پھینکا جائے گا اور وہ جہنم میں چالیس سال تک گرتا رہے گا اس کی مٹی تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ومن یحلل علیہ غضبی فقد ھوی “ کا یہی مطلب ہے۔
12:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانی لغفار لمن تاب “ یعنی جو شرک سے توبہ کرے تو میں بلاشبہ اسکو بخشنے والا ہوں (آیت) ” وامن “ اور ایمان لایا اللہ کی وحدانیت پر (آیت) ” وعمل صالحا “ یعنی فرائض کو ادا کرے (آیت) ” ثم اھتدی “ پھر اسے کوئی شک نہ ہو۔
گناہوں سے استغفار کے ثمرات :
13:۔ سعید بن منصور اور فریابی نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وانی لغفار لمن تاب “ کے بارے میں فرمایا کہ جو گناہ سے توبہ کرے اور شرک سے محفوظ ہوجائے اور نیک عمل کرے اللہ اور اپنے درمیان (آیت) ” ثم اھتدی “ یعنی جان لے کہ اس عمل کے لئے ثواب ہے کہ اس پر بدلہ دیا جائے گا۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” ثم اھتدی “ کے بارے میں فرمایا پھر وہ قائم رہا اہل سنت والجماعت کے مسلک پر۔
15:۔ ابن ابی شیبہ، سعید بن منصور اور بیہقی نے شعب میں عمروبن میمون (رح) نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف آنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما اعجلک عن قومک یموسی (83) قال ھم اولآء علی اثری وعجلت الیک رب لترضی (84) “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک آدمی کو عرش کے سایہ کے نیچے دیکھا تو بڑے حیران ہوئے اور پوچھا اے میرے رب یہ کون ہے ؟ فرمایا میں تجھے اس کے بارے میں نہیں بتاوں گا لیکن اس کے تین خصائل بتاوں گا (کہ یہ آدمی) لوگوں سے حسد نہیں کرتا اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دیا اور اس نے اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کی اور کسی کی چغلی نہیں کھائی۔
16:۔ ابن مردویہ نے وھب بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کرنے کا وعدہ فرمایا تو موسیٰ (علیہ السلام) وقت مقرر پر نکل پڑے جس پر ان کا وعدہ تھا اس درمیان کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام تھے اچانک اپنے پیچھے ایک آواز کو سنا پوچھا اے میرے خدا میں نے اپنے پیچھے ایک آواز سنہ ہے (وہ کیا ہے ؟ ) فرمایا شاید تیری قوم گمراہ ہوگئی ہے عرض کیا اے میرے خدا ! کس نے ان کو گمراہ کیا ہے ؟ فرمایا سامری نے پوچھا کس طرح ان کو گمراہ کیا ہے ؟ فرمایا اس نے ان کے لئے بچھڑے کی شکل بنا دی ہے اس کا ایک جسم ہے اور آواز ہے پوچھا اے میرے خدا سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑے کا ڈھانچہ تیار کیا ہے اور اس میں روح کس نے پھونکی ہے یہاں تک کہ وہ آواز دینے لگی ؟ فرمایا میں نے روح پھونکی ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) فرمایا تیری عزت کی قسم تیرے علاوہ میری قوم کو کون گمراہ کرسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو نے سچ کہا فرمایا اے حکماء کے حکیم کسی حکیم کو یہ لائق نہیں کہ وہ تجھ سے زیادہ محکم ہو۔
انسان اپنے ارادہ واختیار سے گمراہ ہوتا ہے :
17:۔ ابن جریر نے تہذیب میں راشد بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے پاس آئے اور اپنی قوم سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تیری قوم تیرے بعد فتنہ میں پڑچکی ہے پوچھا اے میرے رب وہ کیسے فتنہ میں مبتلا ہوگئے ـ؟ حالانکہ آپ نے ان کو فرعون سے نجات دی اور ان پر انعام فرمایا اور ان کے ساتھ کیا کیا کرم فرمایا فرمایا اے موسیٰ انہوں نے تیرے بعد ایک بچھڑا بنالیا ہے اور اس کی ایکآواز ہے پوچھا اے میرے رب اس میں روح کس نے پھونکی ؟ فرمایا میں نے پوچھا اے میرے رب آپ نے ان کو گمراہ کیا فرمایا اے موسیٰ اے نبیوں کی اصل اے حکام کے باپ میں نے ان کے دلوں میں اس کی محبت دیکھی تو میں نے اس کام کو ان کے لئے آسان کردیا۔
18۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) علیؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف جانے میں جلدی کی پیچھے سامری نے بنی اسرائیل کے زیورات کو جمع کیا اس سے ایک بچھڑا بنایا پھر اس کے پیٹ میں ایک مٹھی (مٹی کی) بھر کر اس کے پیٹ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا آواز دینے لگا سامری نے ان سے کہا (آیت ) ’ ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی “ ہارون (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت) ” یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسنا “ جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے تو اپنے بھائی کے سر کو پکڑ لیا ہارون (علیہ السلام) نے ان سے کہا جو کچھ کہا پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو کہا (آیت) ” فما خطبک “ اس نے کہا (آیت) ” فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذلک سولت لی نفسی “ موسیٰ (علیہ السلام) بچھڑے کی طرف گئے اس پر ریتی کو رکھا اور اس کے ساتھ اس کو رگڑا اور وہ نہر کے کنارے پر تھا ان لوگوں میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی ان میں سے کسی نے اس پانی کو پیا تو اس کا چہرہ سونے کی طرح زرد ہوگیا انہوں نے پوچھا اے موسیٰ (علیہ السلام) ہماری توبہ کیسے ہوگی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارا بعض بعض کو قتل کرے (یہ سن کر) انہوں نے چھریاں اٹھائیں اور ایک آدمی نے اپنے باپ کو اپنے بھائی کو اور اپنے بیٹے کو قتل کرنا شروع کردیا اور انہوں نے قتل کرنے میں کوئی پرواہ نہیں کی یہاں تک کہ ان میں سے ستر ہزار قتل ہوگئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو حکم کرو کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھالیں جو قتل ہوگیا میں نے اس کی مغفرت کردی اور جو باقی رہا اس کی توبہ قبول کرلی۔
19:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب فرعون اور ان کے حواری اچانک دریا پر پہنچے فرعون ایک سیاہ گھوڑے پر سوار تھا گھوڑا دریا میں گھسنے سے ڈر گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک گھوڑی سامنے کی جب گھوڑے نے ان کو دیکھا تو اچانک اس کے پیچھے آگیا سامری نے جبرائیل (علیہ السلام) کو پہچان لیا کیونکہ اس کی ماں اس بچے کے ذبح کئے جانے کے خوف سے ڈری تو اس کو ایک غار میں چھوڑ کر اس کو ڈھانک دیا جبرائیل (علیہ السلام) اسے کے پاس آتے تھے اور اس کو انگلیوں کے ذریعہ غذا دیتے تھے ایک میں دودھ دوسری میں شہد اور تیسری میں گھی ہوتا تھا وہ اس کو غذا دیتے رہے یہاں تک کہ یہ جوان ہوگیا سامری نے جب ان کو دریا میں دیکھا تو ان کو پہچان لیا اور اس کے گھوڑے کے نشان کے نیچے سے ایک مٹھی مٹی اٹھالی فرمایا کہ گھوڑے کے سم کے نیچے سے ایک مٹھی (مٹی) لے لی سامری کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی کہ جب تو اس کو کسی چیزیں میں ڈالے گا اور کہے گا کن تو وہ اسی طرح ہوجائے گی یہ مٹی اس کو مٹھی میں رہی یہاں تک کہ اس نے دریا کو پار کرلیا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے دریا کو پار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون والوں کو غرق کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا (آیت) ” اخلفنی فی قومی واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین “ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے وعدہ پر چلے گئے اور بنی اسرائیل کے پاس فرعون والوں کے زیورات تھے گویا کہ وہ اس گناہ سے بچنا چاہتے ہیں اور انہوں نے زیور نکالے تاکہ آگ آئے اور کھاجائے جب انہوں نے ان (زیور) کو جمع کیا تو سامری نے مٹھی سے اشاری کیا اور ان زیوارت پر مٹی ڈال دی اور کہا تو ایک بچھڑے کا جسم بن جا جس کی آواز ہو تو وہ ایک بچھڑے کا جسم بن گیا جس کیا یک آواز تھی اس کے پیچھے سے ہوا داخل ہوتی تھی اور اس کے منہ سے نکلتی تھی کہ اس طرح اس سے آواز سنی جاتی تھی کہنے لگا (آیت) ” ھذا الھکم والہ موسیٰ فعکفوا “ یعنی بیٹھ گئے اور اس کی عبادت کرنے لگے ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” یقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمن فاتبعونی واطیعوا امری (90) قالوا لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ “
سامری گائے پرست قوم سے تھا :
20:۔ ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سامری ماجر ماوالوں میں سے تھا اور یہ اس قوم میں سے تھا جو گائے کی عبادت کرتے تھے اور یہ اپنے دل میں گائے کی عبادت کو پسند کرتا تھا اور اس نے بنی اسرائیل میں اسلام کو ظاہر کیا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف گئے تو ہارون (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا تم فرعون والوں کا زیور اور دوسرا سامان اٹھا چکے ہو (آیت) ” اوزار من زینۃ القوم “ اس سے تم پاک ہوجاؤ کیونکہ وہ ناپاک چیز ہے آگ جلائی گئی اور فرمایا جو کچھ زیورات وغیرہ تمہارے پاس ہیں اس میں ڈال دو انہوں نے لانا شروع کیا جو کچھ ان کے پاس تھا اس میں ڈالتے رہے اور سامری نے جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پاوں کا نشان کو دیکھا تو اس کے پاوں کے کھر کے نیچے سے مٹی کو اٹھا لیا پھر آگ کی طرف متوجہ ہوا اور ہارون (علیہ السلام) سے کہا اے اللہ کے نبی ! میرے ہاتھ میں کچھ ہے ؟ فرمایا ہاں ہے ہاں ہارون (علیہ السلام) کا یہ خیال تھا کہ اس کے پاس میں زیورات ار سامان ہے اس نے وہ مٹی اس زیورات پر ڈال دی اور کہا تو ایک بچھڑا بن جا جس کی آواز بھی ہو اور یہ ایک مصیبت اور آزمائش کے لئے تھا (آیت) ” ھذا الھکم والہ موسیٰ “ (یعنی یہ تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے) (آیت) ” فعکفوا علیہ “ (لوگ اس پر اعتکاف بیٹھ گئے) اور اس سے ایسی محبت کرنے لگے کہ کسی چیز سے کبھی اس طرح محبت نہیں کی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” فنسی “ پس سامری نے اسلام کو ترک کردیا (آیت) ” افلا یرون الا یرجع الیہم قولا ولا یملک لھم ضرا ولا نفعا “ (یعنی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے لئے کسی نفع اور نقصان کا مالک ہے) اور سامری کا نام موسیٰ بن ظفر تھا مصر کی زمین میں پیدا ہوا تھا پھر بنی اسرائیل میں داخل ہوگیا تھا جب ہارون (علیہ السلام) نے دیکھا کہ جس (شرک میں قوم) واقع ہوگئی ہے تو فرمایا (آیت) ” یقوم انما فتنتم بہ، وان ربکم الرحمن فاتبعونی واطیعوا امری (90) قالوا لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ (91) ہارون (علیہ السلام) دوسرے مسلمانوں کے ساتھ رہے تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) یون نہ کہیں (آیت) ” فرقت بینی بنی اسرآء یل ولم ترقب قولی “ کہ تو نے پھوٹ ڈالی بنی اسرائیل کے درمیان اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہارون (علیہ السلام) سامری کے پاس سے گذرے اور وہ بچھڑے کو تراش رہا تھا اس سے فرمایا تو کیا کررہا ہے ؟ اس نے کہا وہ چیز بنارہا ہوں جو نہ نقصان دے گی اور نہ نفع دے گی ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! اس کے دل کی خواہش پوری کردے اور ہارون (علیہ السلام) چلے گئے تو سامری نے یہ دعا مانگی اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ (یہ بچھڑا) آواز دینے لگے تو وہ آواز دینے لگا جب ہو آواز دیتا تھا تو سارے اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑتے اور جب (پھر) آواز دیتا تو اپنے سروں کو اٹھا لیتے۔
22:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل والوں نے قبطی لوگوں سے عاریتا زیورات لئے پھر یہ لوگ ان زیورات کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکل آئے ہارون (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حاضری کے لئے گئے ہوئے ہیں تم یہ زیورات جمع کرکے رکھ یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس آجائیں تو وہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے انہوں نے (زیورات) جمع کئے پھر ان کو پگھلادیا جب سامری نے مٹھی والی مٹی ڈالی تو وہ آواز دینے والا بچھڑا بن گیا اسی کو فرمایا (آیت) ” عجلا جسدا لہ خوار “ (یعنی ایک بچھڑے کی شکل میں جس کا جسم اور آواز تھی) سامری نے کہا (آیت) ” ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی “ (یعنی یہ تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا ہے موسیٰ (علیہ السلام) بھول گئے) اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی تلاش میں تشریف لے گئے تو بھول گئے اور وہ جگہ جو مقرر تھی معلوم نہ ہوسکی کہ وہ یہاں ہے۔
سامری کی شرارت کی ابتداء :
23:۔ عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف لے گئے سامری نے ان کو لوگوں کے درمیان سے دیکھ لیا اور ان کے گھوڑے کے پاوں کے نیچے سے ایک مٹھی (مٹی کی) بھری جبرئیل (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے پیچھے بٹھا لیا یہاں تک کہ جب آسمان کے دروازہ کے قریب ہوئے تو اور اوپر چڑھے اللہ کے حکم سے تختیاں لکھی جارہی تھیں اور آپ قلموں کے لکھنے کی آواز کو سن رہے تھے جب ان کو خبر دی گئی کہ ان کی قوم ان کے بعد فتنے میں پڑچکی ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نیچے اترے اور اس بچھڑے کو پکڑ کر جلادیا۔
24:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سامری اہل کرمان میں سے تھا۔
25:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف چلے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا اور ان سے پوچھا (آیت) ” وما اعجلک عن قومک یموسی (83) قال ھم اولآء علی اثری وعجلت الیک رب لترضی (84) پھر فرمایا (آیت) ” فانا قد فتنا قومک من بعدک واضلھم السامری (85) “ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی گمراہی کی خبر ملی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! کہ اس سامری نے ان کو حکم دیا کہ وہ بچھڑا بنالیں یہ تو بتائیں کہ اس میں کس نے روح پھونکی ؟ رب تعالیٰ نے فرمایا میں نے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! آپ نے ان کو گمراہ کیا پھر لوٹ آئے (یعنی) (آیت) ” موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا “ افسوس کرتے ہوئے (آیت) ” قال یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسنا “ سے لے کر (آیت) ” ما اخلفنا موعدک بملکنا “ تک یعنی اپنے اختیار سے (آیت) ” ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم ‘ یعنی ہم پر بوجھ لاد دیئے گئے قبطی لوگوں کئے زیوارت میں سے (آیت) ” فقذفنھا فذلک القی السامری (87) فاخرج لہم عجلا جسدا لہ خوار “ (اور فرمایا) فعکفواعلیہ یعبدونہ “ اور وہ بچھڑا آواز دیتا تھا اور چلتا تھا ہارون (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت) ” یقوم انما فتنتم بہ “ یعنی تم بچھڑے کی وجہ سے آزمائش میں پڑچکے ہو موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے اور سامری سے پوچھا (آیت) ” فما خطبک یسامری “ تیری کیا غرض تھی (سے لے کر) (آیت) ” وانظرنی الی الھک الذی ظلت علیہ عاکفا لنحرقنہ “ فرمایا اسکو پکڑ کر ذبح کردیا پھر اس کو رگڑ دیا ریتی کے ساتھ پھر اس کو دریا میں ڈال پھینک دیا اس دن ایسے کوئی نہیں تھی جس میں اس کا اثر نہ پہنچا ہو، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اس میں سے پی لو تو لوگوں نے پی لیا اور اس بچھڑے سے محبت کرتے تھے تو ان سے سونا نکلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واشربوا فی قلوبھم العجل “ (البقرہ آیت 93) جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے (آیت) ” وراء انہم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفرلنا لنکوننمن الخسرین “ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا مگر جب وہ اپنے رشتہ داروں کو خود قتل کریں جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الی بارء کم فاقتلوا انفسکم “ بس جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی دونوں فریقوں میں قتل ہونے والے شہید تھے یہاں تک کہ کثرت سے قتل ہوگئے قریب تھا کہ وہ سب ہلاک ہوجائیں یہاں تک کہ ان میں سے ستر ہزار قتل ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اے ہمارے رب بنواسرائیل ہلاک ہوگئے اے ہمارے رب ان باقی لوگوں پر مہربانی فرما دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ہتھیار رکھ دیں (یعنی قتل کرنا بند کردیں) اور ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان میں سے جو قتل ہوا وہ شہید تھا اور جو ان میں سے باقی تھا تو ان سے گناہوں کو مٹادیا گیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ’ فتاب علیکم انہ ھوالتواب الرحیم “ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو لے آئیں کہ جو بچھڑے کی عبادت سے معذرت کریں اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا (آیت) ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا “ پھر وہ چلے تاکہ وہ بچھڑے کی عبادت سے معذرت کریں جب وہ مقررہ وقت پر پہنچے تو کہنے لگے (آیت) ” لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ “ بلاشبہ تو نے اللہ سے کلام کیا ہے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرا (آیت) ” فاخذتکم الصعقۃ “ (یعنی ان کو بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا) وہ سب لوگ مرگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) روتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگے کہ اے میرے رب میں اپنی قوم میں جاکر کیا کہوں گا ؟ کہ آپ نے ان کے چنے ہوئے لوگوں کو ہلاک کردیا ہے (آیت) ” رب لوشئت اھلکتھم من قبل وایای اتھلکنا بما فعل السفھآء منا “ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ یہ ستر آدمی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا تھا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” انھی الا فتنتک، تضل بھا من تشآء “ (یعنی یہ تیری آزمائش ہے اس کے ذریعہ آپ گمراہ کرتے ہیں جس کو چاہتے تھے)
26:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افطال علیکم العھد “ (یعنی کیا لمبا ہوگیا تم پر) وعدہ (آیت) ” فاختلفتم موعدی “ یعنی تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی (آیت) ” ما اخلفنا موعدک بملکنا “ یعنی آپ کے حکم کی خلاف ورزی ہم نے از خود نہیں کی (آیت) ” ولکنا حملنا اوزارا “ یعنی ہم نے اٹھایا ہوا تھا بوجھ فرعون کی قوم کے زیورات میں سے اور یہ وہ زیورات تھے جو فرعون والوں سے مانگے پر لئے ہوئے تھے (آیت) ” فقذفنھا “ یعنی ہم نے ان کو ڈال دیا (آیت) ” فکذلک القی السامری “ یعنی اسی طرح سامری نے بھی کیا (آیت) ” فاخرج لھم عجلا جسدا لہ خوار “ یعنی اس میں ہلکی سی ہوا تھی اور یہ اس کا ڈکارنا تھا ” العجل “ گائے کے بچے کو کہتے ہیں۔
27:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ بملکنا “ سے مراد ہے ہمارے حکم سے۔
28:۔ عبدالرزاق عبد ابن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما اخلفنا موعدک بملکنا “ یعنی ہماری طاقت سے۔
29:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
30:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بملکنا “ سے مراد ہے ہماری قدرت سے۔
31:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے (آیت) ” بملکنا “ پڑھا ہے اور ملکنا ایک ہی ہے (یعنی دونوں کا معنی ایک ہی ہے)
32:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم (رح) نے روایت کیا کہ (آیت) ” ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) تم کو یاد کرانے سے بھول گئے کہ یہ ان کا خدا ہے۔
33:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنسی “ کہ وہ لوگ اپنی قوم سے کہتے تھے کہ رب تعالیٰ نے غلطی کی بچھڑے کی وجہ سے (آیت) ” افلا یرون الا یرجع الیہم قولا “ یعنی بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا (آیت) ” ولا یملک لہم ضرا ولا نفعا “ میں ضرا کا معنی ضلالت۔
34:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یھرون مامنعک اذ رایتھم ضلو (92) الا تتبعن “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جب آپ نے انکو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ نے انکو میرے احکام کی طرف کیوں نہیں بلایا ؟۔
35:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انکو (یعنی ہارون (علیہ السلام) اصلاح کرنے اور مفسدین کے راستے کی اتباع نہ کرنے کا حکم فرمایا تھا تو اصلاح میں سے یہ بھی تھا کہ آپ بچھڑے (کی عبادت) کا انکار کرتے اسی کو فرمایا (آیت) ” الا تتبعن، افعصیت امری “۔
حضرت ہارون (علیہ السلام) کی معذرت :
36:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل “ کے بارے میں فرمایا کہ میں اس بات سے ڈرا کہ ان میں سے بعض میری اتباع کریں گے اور ان میں سے بعض میری مخالفت کریں گے۔
37:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل “ کے بارے میں فرمایا کہ نیک لوگ جو تم سے پہلے تفریق ڈالنے کو ناپسند کرتے تھے۔
38:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” ولم ترقب قولی “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے میری بات کا انتظار نہیں کیا اور جو میں کرنے اور کہنے والا تھا اور ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت) ” ولم ترقب قولی “ یعنی تم نے میری بات کی حفاظت نہیں کی۔
39:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال فما خطبک یسامری “ یہ اس کا نام نہیں تھا لیکن ایک بستی تھی کہ اس کا نام سامرہ تھا (آیت) ” قال بصرت بما لم یبصروا بہ “ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کو (میرے سوا کسی نے نہیں دیکھا)
40:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بمالم یبصروابہ “ یا اور صاد کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
41:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فقبضت قبضۃ من اثر الرسول “ کے بارے میں روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے پاوں کے نیچے سے (آیت) ” فنبذتھا “ یعنی سامری نے بنی اسرائیل کے زیورات پر (وہ مٹی) ڈال دی تو وہ بچھڑا بن گیا۔
42:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فقبضت قبضۃ من اثر الرسول “ کے بارے میں روایت کیا کہ سامری نے گھوڑے کے پاوں کے نیچے سے ایک مٹھی مٹی بھرلی اور اس کو اپنے کپڑے میں باندھ لیا۔
43:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے (آیت) ” فقبضت “ صاد کے ساتھ پھر فرمایا کہ انگلیوں کے کناروں سے کسی چیز کو اٹھانا۔
44:۔ عبد بن حمید نے ابو الاشہب (رح) سے روایت کیا کہ حسن (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فقبضت قبضۃ “ صاد کے ساتھ یعنی اپنی انگلیوں کے کناروں کے ساتھ اور ابورجاء اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” فقبضت قبضۃ “ صاد کے ساتھ فرمایا اس سے مراد ہے پوری مٹھی کے ساتھ بھر لینا۔
45:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبضۃ “ سے مراد ہے مٹھی بھر کر۔۔ قبضہ سے مراد ہے انگلیوں کے کناروں سے کسی چیز کو لینا۔
46:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” فقبضت قبضۃ من اثر الرسول “ ضاد کے ساتھ پڑھتے تھے مٹھی کے معنی میں۔
47:۔ عبدالرزاق، بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ (آیت) ” فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس “ کہ تیرے لئے یہ سزا ہے (دنیا کی زندگی میں) تو کہتا پھرے گا (آیت) ” وان لک موعدالن تخلفہ “ (یعنی یہ تیرے ساتھ وعدہ ہے) تو ہرگز اس سے غائب نہ ہوگا۔
48:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وانظر الی الھک الذی ظلت علیہ عاکفا “ کے بارے میں فرمایا یعنی جس پر تو جم کر بیٹھا رہے (آیت) ” لنحرقنہ “ (ہم اس کو ضرور جلا دیں گے) آگ کے ساتھ (آیت) ” ثم لننسفنہ فی الیم نفسا “ یعنی ہم اسے دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے۔
مورتیوں کو جلایا جائے :
49:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت) لنحرقنہ “ تخفیف کے ساتھ اور فرماتے تھے کہ سونا اور چاندی آگ سے نہیں جلایا جاتا بلکہ اس کو رگڑا جاتا ہے ریتی کے ساتھ پھر اس کو آگ میں ڈالا جاتا ہے تو وہ راکھ بن جاتا ہے۔
50:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے بعض قرأت میں یوں فرمایا (آیت) ” لنذبحنہ ثم لنحرقنہ “ تخفیف کے ساتھ قتادہ ؓ عنہنے فرمایا کہ اس بچھڑے کا گوشت اور خون تھا۔
51:۔ ابن ابی حاتم نے ابونہیک ازدی (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لنحرقنہ “ نون کے اوپر نصب کے ساتھ اور را کے کسرہ اور تخفیف کے ساتھ۔
52:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الیم “ سے مراد ہے دریا۔
53:۔ ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیم “ سے مراد ہے نہر۔
Ayahs 20:98–1101:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال بہت برے ہیں اور برا ہے ان کے لئے ملنا (گناہوں کے بوجھ سے) چاہیے کہ ان سے جدا ہوجائیں بلاشبہ اگر تو ان سے ملے گا تو نہ سمجھے گا (ان کے اعمال کے بوجھ ہونے کو) حالانکہ وہ چھپے ہوئے نہیں ہیں اور ان کے لئے یہ بوجھ برا ہوگا اسی کو فرمایا (آیت) ” خلدین فیہ، وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ پھر فرمایا یہ ایسا برا بوجھ ہے کہ ایسے اعمال والے کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا (آیت) ” وسآء لہم “ (اور برا ہے ان کے لئے) یہ بوجھ (اب بھی) ان کے لئے اس کے بعد بھی برا ہے۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا ور کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ونحشر المجرمین یومئذ زرقا “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا قیامت کے دن مختلف حالات ہوں گے ایک حال میں مجرموں کی آنکھوں نیلی ہوں گی اور ایک حال میں اندھی ہوں گی۔
7:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یتخافتوں بینہم “ سے مراد ہے (آیت) ” یتسارون “ یعنی آپس میں راز کی باتیں کریں گے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” اذ یقول امثلھم طریقۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ جو ان میں اپنے طور پر زیادہ جاننے والا ہوگا وہ کہے گا۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ یقول امثلھم طریقۃ “ کہ وہ کفار میں سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہوگا اپنے خیال میں دنیا میں تھوڑی مدت تصور کریں گے۔
10:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے کہا اے محمد تیرا رب قیامت کے دن ان پہاڑوں کا کیا کرے گا ؟ تو (وہ آیت) ” ویسئلونک عن الجبال “ نازل ہوئی۔
11:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فیذرھا قاعا “ یعنی ہموار ” صفصفا “ یعنی ایسی جگہ جس میں سبزہ نہ ہو (آیت) ” لا تری فیھا عوجا “ یعنی وادی (آیت) ” ولا امتا “ یعنی بلند جگہ۔
12:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ عزوجل کے اس قول (آیت) ” فیذرھا قاعا صفصفا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا القاع سے مراد ہے چکنی جگہ (اور) صفصفا سے مراد ہے ہموار جگہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
ملمومۃ شھباء لو قذفوابھا شماریخ من رضوی اذا عاد صفصفا :
ترجمہ : ذخیرہ شدہ ہتھیاروں والا لشکر اگر وہ رضوی پہاڑ سے ٹہنیاں پھینکے تو ہموار جگہ پر لوٹتی ہیں :ـ
13:۔ عبد بن حمیدابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے (آیت) ” فیذرھا قاعا صفصفا “ (106) لاتری فیھا عوجا ولا امتا (107) “ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ اس سے وہ زمین مراد ہے جو بالکل ہموار ہو جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو۔
14:۔ عبد بن حمیدنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قاعا صفصفا “ سے مراد ہے ہموار میدان (آیت) ” لا تری فیھا عوجا ‘ یعنی نیچی جگہ (آیت) ” ولا امتا “ یعنی بلند جگہ۔
15:۔ عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” صفصفا “ سے مراد ہے ” قاع “ یعنی زمین ” صفصف “ سے مراد ہے ہموار (آیت) ” لا تری فیھا عوجا “ یعنی دڑاڑ ” ولا امتا “ یعنی ٹیلہ۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تری فیھا عوجا “ یعنی جھکاؤ ’(آیت) ” ولا امتا “ اور الامت ایسے اثر کو کہتے ہیں جو تسمے کی طرح ہو۔
17:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ العوج سے مراد ہے بلند ی اور الامت سے مراد ہے وسیع اور کھلا ہونا۔
18۔ عبد بن حمیدنے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ الامت سے مراد ہے گڑھا۔
19:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لا تری فیھا عوجا “ کے بارے میں پوچھا کہ الامت سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا زمین کی بھری ہوئی جگہ اور اس بارے میں کعب بن زہیر (رح) نے فرمایا :
فابصرت لمحۃ من رأس عکرشۃ فی کا فرمابہ أمت ولا شرف :
ترجمہ : مادئہ خرگوش کے سر سے میں کافر کو دیکھا تو اس میں کوئی ابھری ہوئی جگہ نہ تھی۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایسی تاریکی میں اٹھائے گا کہ جو آسمان کو لپیٹے ہوئے ہوگی ستارے بکھیر دے گی سورج اور چاند کی روشنی ختم ہوجائے گی پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا اور سب لوگ اس کی آواز کو سنیں گے اور اس کے پاس آئیں گے اور یہ قول ہے اللہ تعالیٰ کا (آیت) ” یومئذ یتبعون الداعی لاعوج لہ “
21:۔ ابن ابی حاتم نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یومئذ یتبعون الداعی لاعوج لہ “ یعنی سب اس پکارنے والے کا اتباع کریں گے کوئی اس سے روگردانی نہ کرسکے گا۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاعوج لہ “ سے مراد ہے کہ لوگ اس سے روگردانی نہ کرسکیں گے۔
23:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فلا تسمع الا ھمسا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ہلکی سی آواز۔
24:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تسمع الا ھمسا “ سے مراد ہے قدموں کے روندنے کی آواز۔
25:۔ عبد بن حمیدنے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تسمع الا ھمسا “ سے مراد ہے قدموں کی آواز۔
26:۔ عبد بن حمیدنے عکرمہ و سعید ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تسمع الا ھمسا “ سے مراد ہے قدموں کا روندنا۔
27:۔ عبد بن حمیدنے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ میں شعبی (رح) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس سے اونٹ گذرے جن پر چونالدا ہوا تھا میں نے ان کو چلایا تو میں نے ان اونٹوں کے چلنے کی آواز سنی تو فرمایا یہ ھمس ہے۔
28:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) (آیت) ” فلا تسمع الا ھمسا “ کے بارے میں فرمایا کہ ” ھمسا “ انتہائی پس آواز کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتا ہے اور آواز نہیں سنائی دیتی۔
29:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ھمسا “ سے مراد ہے خفیہ بات اور قدموں کی آواز۔
Ayahs 20:111–1141:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خلت یعنی جھک جانا۔
2:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خشعت یعنی ڈرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے قیدی یعنی سب لوگ قیدی ہوں گے۔
5:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے خضعت یعنی جھکنا (سب لوگ جھکے ہوئے ہوں گے)
6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس قول (آیت) ” وعنت الوجوہ للحی القیوم “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ حی وقیوم کے سامنے سب چہرے جھکے ہوئے ہوں گے قیامت کے دن پھر پوچھا کہ کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
لیبک علیک کل عان بکربہ وال قصی من مقل وذی وفر :
ترجمہ : روئے تیری بارگاہ میں اپنی تکلیف کی وجہ سے ہر ایک جھکنے والا آل قصی میں ہر نادار اور ہر مال دار۔
7:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے رکوع اور سجدہ کرنا۔
8:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے طلق بن حبیب (رح) سے (آیت) ” وعنت الوجوہ للحی القیوم۔ کے بارے میں فرمایا کہ وہ تیرا رکھنا ہے اپنی پیشانی کو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں کو اور اپنے قدموں کے کناروں سجدوں میں۔
9:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد خاب من حمل ظلما “ (یعنی ایسا شخص ناکام رہے گا) جو شرک لے کر آیا۔
10:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ فرمایا (آیت) ” وقد خاب من حمل ظلما “ میں ظلما سے مراد ہے شرک (آیت) ” فلایخف ظلما ولا ھضما “ سے مراد ہے نہ اس کو برائیوں میں زیادتی ہونے کا اندیشہ ہے (آیت) ” ولا ھضما “ سے مراد ہے نہ اس کو نیکیوں میں کمی ہونے کا اندیشہ ہے۔
11:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد خاب من حمل ظلما “ سے مراد ہے کہ ان کو یہ خوف نہیں ہوگا کہ ان پر ظلم کیا جائے گا اور ان کی برائیوں میں زیادتی کردی جائے گی (اور نہ یہ خوف ہوگا) کہ ان کی نیکیوں میں کمی کردی جائے گی۔
12:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے مراد ہے (آیت) ” فلایخف ظلما “ سے مراد ہے کہ اس کے گناہوں میں اضافہ کرکے اس پر زیادتی نہ کی جائے گی (آیت) ” ولا ھضما “ اور نہ اس کی نیکیوں میں کمی کرکے اس پر ظلم کیا جائے گا۔
13:۔ فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھضما “ سے مراد ہے عصبا (یعنی غصب کرنا ) ۔
14:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویحدث لہم ذکرا “ سے مراد ہے قرآن (اور) ذکرا سے مراد ہے سنجیدگی اور پرہیزگاری۔
قرآن یاد کرنے کا حرص :
15:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر جب جبرائیل (علیہ السلام) قرآن نازل فرماتے تو اس کے یاد کرنے میں آپ مشقت اٹھاتے اس خوف سے کہ جبرائیل (علیہ السلام) چلے نہ جائیں اور میں اس کو یاد نہ کرسکوں اور ان آیات کو بھول جاوں جو انہوں نے مجھے سکھائی ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ “ اور فرمایا (آیت) ” لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ “ (القیامہ آیت 26)
16:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ جلدی نہ کریں یہاں تک کہ ہم اس کو تیرے لئے بیان کردیں گے۔
17:۔ فریابی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا تو ہو نبی کریم ﷺ کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگی نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان قصاص کا فیصلہ کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (آیت) ” ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ، وقل رب زدنی علما “ تو نبی کریم ﷺ فیصلہ کرنے سے رک گئے یہاں تک کہ یہ (آیت) نازل ہوئی ” الرجال قومون علی النساء “ (النساء آیت 34)
18۔ سعید بن منصور اور عبد بن حمید حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” من قبل ان یقضی الیک وحیہ “۔
19:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تعجل بالقران “ سے مراد ہے کہ آپ کسی سے قرآن نہ لکھوائیں یہاں تک کہ ہم خود اس کو تیرے لئے پورا کردیں۔
20:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من قبل ان یقضی الیک وحیہ “ یعنی جب تک ہم اس کو بیان نہ کردیں (آپ یاد کرنے میں جلدی نہ کریں)
21:۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم انفعنی بما علمتنی وعلمنی ماینفعنی وزدنی علما والحمد للہ علی کل حال :
ترجمہ : اے اللہ ! مجھے نفع دے اس علم کے ساتھ جو تو نے مجھے سکھایا اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھ کو نفع دے اور میرے علم میں اضافہ فرما اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔
22:۔ سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :
اللہم زدنی ایمانا ویقینا وعلما “
اے اللہ مجھے زیادہ کر ایمان میں اور اس کی سمجھ میں اور یقین میں اور علم میں۔
Ayah 20:1151:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے صغیر میں ابن مندہ نے توحید میں اور حاکم نے (حاکم نے ان کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انسان اس لے نام رکھا گیا کیونکہ اس نے اس کی طرف (یعنی اللہ تعالیٰ سے) وعدہ کیا پھر بھول گیا۔
2:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن عساکر نے ابو امامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ اگر بنوآدم کی عقلیں جمع کی جائیں جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا قیامت کے قائم ہونے تک اور ان کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں آدم (علیہ السلام) کی عقل کو رکھ دیا جائے ان سب کی عقلوں کے مقابلے میں تو آدم (علیہ السلام) کی عقل بھاری ہوجائے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ یعنی ہم نے حافظے کو نہیں پایا (کہ ہو بھول گئے)
3:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کی عقل ان کی ساری اولاد کی عقل کی مثل (یعنی برابر) تھی (لیکن) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فنسی ولم نجدلہ عزما “
4:۔ عبدالغنی بن سعید نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد عھدنا الی ادم “ یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ درخت کے قریب نہ جائیں۔
5:۔ ابن جریر اور ابن مندہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ میں عزما سے مراد ہے حفظا۔
6:۔ ابن جریر ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنسی “ یعنی چھوڑ دیا (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ یعنی ہم نے اس میں اس کا عزم نہیں پایا۔
7:۔ زبیر بن بکار نے موفقیات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم “ ((رح) المائدہ آیت (101) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مہاجرین کے کچھ لوگوں کو انساب میں کوئی اعتراض تھا تو انہوں نے ایک دن کہا اللہ کی قسم ہم اس بات کو دوست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمارے نسب کے بارے میں نازل فرمائیں تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر مجھ سے فرمایا یہ تمہارا ساتھی علی بن ابی طالب ؓ والی بنایا گیا تو اس نے دنیا سے بےرغبتی کا مظاہرہ کیا لیکن میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نفس کا غرور اس سارے کمالات کو ختم کردے گا میں نے کہا اے امیر المومینن کہ بلاشبہ ہمارے ساتھی جن کے متعلق میں جانتا ہوں اللہ کی قسم ہم نہیں کہتے کہ انہوں نے تبدیلی کی یا عدل نہیں کیا اور نہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ناراض نہیں کیا تھا اپنی صحبت کے ایام میں عمر ؓ نے فرمایا بوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا جو حضرت علی ؓ نے پیغام بھیجا تھا اس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ناراض نہیں کیا تھا میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی لغزش کے بارے میں فرمایا (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھی (یعنی علی بن ابی طالب ؓ نے رسول اللہ ﷺ ناراض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن ہو خیالات جن کو دور کرنے پر انسان قدرت نہیں رکھتا بعض اوقات اللہ کے دین کے فقیہ اور امر الہی کے عالم کے دل میں خیالات آجاتے ہیں لیکن جب اسے معلوم ہوجاتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ؓ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ تمہارے علوم و معارف کے سمندر میں غوطہ مارے یہاں تک کہ وہ اس کی تہہ کو پہنچ جائے وہ آخرکار اپنے آپ کو عاجز پائے گا۔
8:۔ حکم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا اے امیرالمومنین ! آدمی کبھی ایک بات کو یاد کرتا ہے اور کبھی بھول جاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ دل پر تاریکی کا ایک پردہ چڑھ جاتا ہے جیسے چاند پر ابر چڑھ جاتا ہے جب وہ دل کو ڈھانک لیتا ہے تو بنی آدم بھول جاتا ہے جو کچھ وہ یاد رکھتا تھا جب وہ پردہ ہٹ جاتا ہے تو پھر وہ یاد کرلیتا ہے جو وہ بھول گیا تھا۔
بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کے نقصانات :
9:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ اور نہ اپنے بائیں ہاتھ سے پیو کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھایا تو وہ بھول گئے پس یہ بھولنا ان کی اولاد کو میراث میں ملا۔
10:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ کہ جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا وہ ان کو یاد نہ رہا۔
11:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولم نجدلہ عزما “ میں عزما کا معنی ہے صبر۔
12:۔ ابن منذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ اگر آدم (علیہ السلام) کے عقل کا وزن کیا جائے تمام جہان والوں کی عقل سے تو آدم (علیہ السلام) کی عقل بھاری ہوجائے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) اولو العزم میں سے نہ تھے۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنسی “ یعنی انہوں نے چھوڑ دیا جو ان کو حکم دیا گیا تھا اگر یہ آپ کی طرف سے بھول جانا ہوتا تو اس پر آپ کو مواخذہ نہ ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا ہے (یعنی معاف کردیا ہے) لیکن آدم (علیہ السلام) نے اس درخت کا پھل کھا کر پہلے حکم کو چھوڑ دیا۔