Ayahs 20:25–471:۔ ابن مردویہ خطیب اور ابن عساکر نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ثبیر پہاڑ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا تھا ثیبر (پہاڑ) چمک گیا ثبیر چمک گیا اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ساتھ کہ جس کا میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا کہ میرے سینے کو کھول دے اور میرے لئے کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ (آیت) ” یفقھوا قولی (28) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) واشر کہ فی امری (32) کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “
رسول اللہ ﷺ کی دعاء :
2:۔ سلفی نے طیوریات میں سند واہی کے ساتھ ابوجعفر محمد بن علی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) “ نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ ایک پہاڑ پر تھے پھر آپ نے اپنے رب سے دعا فرمائی اور فرمایا اے اللہ ! میری کمر کو مضبوط کردے میرے بھائی علی کے ساتھ پس (اللہ تعالیٰ نے) آپ ﷺ کی دعا قبول فرمائی۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ سعید بن جبیر ؓ نے (آیت) ” واحلل عقدۃ من السانی “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے یہ دعا کی کہ آگ کے ایک کنارے کو منہ میں داخل کرنے کی وجہ سے آپ کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی داڑھی سے پکڑ لیا تھا اس حال میں کہ وہ عقل نہیں رکھتے تھے فرعون نے کہا یہ میرا دشمن ہے اس کی بیوی نے کہا یہ ناسمجھ بچہ ہے وہ فرعون کی تشدید اور سزا کو ہٹانے کے لئے دو تھال لے کر آئی ایک میں انگارے تھے اور دوسرے میں جواہر اور موتی تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا تھا بیوی نے کہا دیکھو اگر یہ سمجھ دار ہوتا تو جواہر کو اٹھاتا۔
4:۔ ابن منذر نے ابن عبا سؓ سے روایت کیا کہ ” واجعل لی وزیرا من اھلی (29) ھرون اخی (30) اشددبہ ازری (31) یعنی ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے (عمر میں) بڑے تھے۔
5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” اشددبہ ازری “ یعنی ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ میری کمر مضبوط کردیجئے۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” اشددبہ ازری “ یعنی ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ میرے اس کام کو مضبوط کردیجئے اور مجھے اس کے ذریعہ قوت دیجئے بلاشبہ ان کے ذریعہ مجھے قوت حاصل ہوگی۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” واشر کہ فی امری “ کے بارے میں روایت کیا کہ اسی وقت ہارون (علیہ السلام) نبی بنا دیئے گئے جب موسیٰ (علیہ السلام) نبی بنائے گئے۔
8:۔ ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں جانتا ہوں کہ دنیا میں کوئی بھائی بھی اپنے بھائی کے لئے زیادہ نفع مند ہوتا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے بھائی کے لئے نبوت کا سوال کیا تھا وہ بھی ان کے لئے نفع مند ہوگا) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اس نے سچ کہا۔
9:۔ حاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ ہارون (علیہ السلام) بولنے میں فصیح تھے ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے اور علم وحلم کے ساتھ بات کرتے اور قد میں موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ لمبے تھے ا ورعمر میں ان سے بڑے تھے اور گوشت (یعنی موٹاپہ) بھی ان کا زیادہ تھے اور جسم کے لحاظ سے ان سے زیادہ سفید تھے اور ان کی تختیاں بھی زیادہ بڑی تھیں اور موسیٰ (علیہ السلام) گھنگریالے بالوں والے گندمی رنگ والے اور لمبے قد کے تھے گویا آپ شنواہ قبیلہ کے مردوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اس کے داہنے ہاتھ میں نبوت کی علامت ہوتی تھی لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ کی مہر نبوت کندھوں کے درمیان تھی۔
10:۔ عبد بن حمید نے عاصم بن ابی النجودرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” کی نسبحک کثیرا (33) ونذکرک کثیرا (34) انک کنت بنا بصیرا (35) “ تمام کا فات پر نصب پڑھتے تھے۔
11:۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ وہ تمام کا فات کو جزم دیتے تھے۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاقذفیہ فی الیم “ میں الیم سے مراد دریائے نیل ہے۔
13:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی محبت کا عکس ڈال دیا تو جو بھی آپ کو دیکھتا آپ کی محبت میں فریفتہ ہوجاتا۔
14:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سلمہ بن کھیل (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “ سے مراد ہے کہ میں نے تجھ کو محبوب بنا دیا اپنے بندوں کی طرف۔
15:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب آسیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے کی طرف دیکھا اور ان کے حسن کو اور ظرافت کو دیکھا تو اس نے فرعون سے کہا (آیت) ” قر عین لی ولک لا تقتلوہ “ (القصص آیت : 9) (یعنی میرے لئے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرو)
16:۔ حکیم ترمذی نے ابورجاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “ سے مراد ہے ظرافت اور مٹھاس۔
17:۔ ابن عساکر نے قتادہ (رح) سے (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی آنکھوں میں ایسی حلاوت کردی تھی کہ مخلوق میں سے جو ان کی طرف دیکھتا تھا تو ان سے محبت کرنے لگتا۔
18۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ تھا لوگ ان سے ملاقات کرتے تھے ان کو سلام کرتے اور خوش آمدید کہتے ان کی تعریف کرتے اور ان کے لئے دعائیں کرتے (اس سے) ابن عمر ؓ ہنستے بھی مجھ سے اس سے زیادہ احترام نہیں کریں گے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ’ ’ والقیت علیک محبۃ منی “۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے ابن نہیک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولتصنع علی عینی “ یعنی تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔
20:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوعمران الجونی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولتصنع علی عینی “ تاکہ تم اللہ کی نگرانی میں پرورش پاؤ۔
21:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولتصنع علی عینی “ یعنی تم میرے گھر کی نگرانی میں اس کو غذا دو ۔
22:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اے موسیٰ ! تو میری نگرانی میں تھا جب تیری ماں نے تجھ کو صندوق میں رکھا پھر دریا میں (ڈال دیا) (آیت) ” اذتمشی اختک “ جب تیری بہن چل رہی تھی۔
23:۔ ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور خطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو فرعون والوں میں ایک شخص قتل کیا تھا وہ قتل خطا تھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” وقتلت نفسا فنجینک من الغم وفتنک فتونا “ (یعنی آپ نے جو ایک جان کو قتل کیا تھا تو ہم نے آپ کو غم سے نجات دے دی)
24:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقتلت نفسا فنجینک من الغم یعنی ایک جان کو قتل کرنے کے غم سے ہم نے تجھے نجات دی (آیت) ” وفتنک فتونا “ اور تجھے پوری طرح بچا لیا۔
25:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وفتنک فتونا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے تمہاری آزمائش کی۔
26:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وفتنک فتونا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے آپ کو نعمت کے ذریعہ آزمایا۔
27:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وفتنک فتونا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے آپ کو آزمایا۔
28:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وفتنک فتونا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو صندوق میں ڈالا جانا ایک مصیبت تھا پھر دریا میں ڈالا جانا پھر فرعون والوں کا ان کا اٹھا لینا پھر آپ کا خوف زدہ ہو کر نکل جانا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آزمائش :
29:۔ ابن ابی عمر العدنی نے مسند میں عبد بن حمید، نسائی، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وفتنک فتونا “ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیا ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا اے جبیر کل صبح سویرے آنا کیونکہ یہ ایک طویل واقعہ ہے جب صبح ہوئی تو میں صبح سویرے ابن عباس ؓ کے پاس آگیا تاکہ وہ کام پورا کرلوں تو انہوں نے مجھ سے فتون کے بارے میں بتانے کا وعدہ کیا تھا انہوں نے فرمایا فرعون اور اس حواریوں نے اس مسئلہ پر بحث کی کہ اللہ عزوجل نے ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں اس کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ لاوں گا فرعون کے کسی حواری نے کہا کہ بنی اسرائیل اس بات کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کو اس مسئلہ میں کوئی شک نہیں اور وہ لوگ گمان کررہے تھے کہ وہ یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے جب وہ وفات پاگئے تو انہوں نے کہا یہ وہ نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا فرعون نے کہا تمہارا کیا خیال ہے تو انہوں نے مشورہ کیا اور اس بات پر متفق ہوئے کہ بہت سے لوگوں کو بھیجا جائے جن کے پاس چھریاں ہوں اور وہ بنی اسرئیل میں گھومیں پھریں اور نئے پیدا ہونے والے بچوں کو ذبح کردیں انہوں نے ایسا ہی کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بڑے لوگ تو اپنی عمر پر مر رہے ہیں اور چھوٹوں کو ذبح کیا جارہا ہے تو ان لوگوں نے کہا عنقریب بنی اسرئیل ختم ہوجائیں گے پس تم صبر کرو جو خدمت کا فریضہ بنی اسرائیل ادا کرتے ہیں ہم کو وہ خود کرنا پڑے گا پس ایک سال تو ان کا ہر بچہ قتل کردو اور ایک سال ان کا کوئی بچہ قتل نہ کیا جائے اس طرح ان کے بیٹوں کی تعداد کم ہوجائے گی پس جو بڑے مرجائیں گے ان کی جگہ یہ چھوٹے آجائیں گے اس طرح وہ زیادہ نہ ہوں گے کیونکہ تم کو ان کی کثرت سے خطرہ ہے وہ ہرگز ختم نہ ہوں گے تمہارے اس قتل کرنے سے اور تمہاری ضروریات بھی پوری ہوجائیں گی انہوں نے اس کام پر اتفاق کرلیا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوگئی اس سال میں جس میں لڑکوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا تو انہوں نے اعلانیہ بچہ جنم دیا یہاں تک کہ اگلے سال وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں تو ان کے دل میں غم اور رنج واقع ہوگیا اے ابن جبیر یہ ہے فتون میں سے (ایک فتنہ) جب وہ (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اپنی ماں کے پیٹ میں اس چیز کے ساتھ جس کا ارادہ کیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کی طرف وحی بھیجی (آیت) ” ولا تخافی ولا تحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (7) “ اور اس کو حکم فرمایا کہ جب تو اس کو جنے تو اس کو ایک صندوق میں رکھ دینا پھر اس کو دریا میں ڈال دیناجب وہ پیدا ہوئے تو اس نے ایسا ہی کیا جیسے حکم دیا گیا تھا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) دریا میں بہتے بہتے والدہ کی آنکھ سے اوجھل ہوگئے تو اس کے پاس شیطان آیا اور وسوسہ ڈالا تو اپنے دل میں سوچنے لگیں کہ میں نے خود اپنے بیٹے کے ساتھ کیا کیا ؟ اگر میرے پاس ذبح کردیا جاتا تو میں اس کو چھپا دیتی اور اس کو کفن دے دیتی یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب تھا کہ میں اس کو دریا کے جانوروں اور اس کی مچھلیوں کی طرف ڈال دیا پانی آپ کو بہا کرلے گیا یہاں تک وہ اس جگہ لے گیا جہاں فرعون کی بیوی کی لونڈیاں پانی بھرا کرتی تھی انہوں نے صندوق کو دیکھا تو اس کو پکڑ لیا اور اس کے دروازے کے کھولنے کا ارادہ کیا ان بعض عورتوں نے کہا اس میں مال ہے اگر ہم اس کو کھولیں گے تو بادشاہ کی بیوی تصدیق نہیں کرے گی وہ اس صندوق کو اسی حالت میں اٹھا کرلے گئیں اس میں سے کسی چیز کو ادھر ادھرنہ کیا یہاں تک کہ فرعون کی بیوی کو انہوں نے پیش کردیا جب اس نے اس کو کھولا تو اس میں ایک بچہ کو پایا اس کی جس پر اللہ نے محبت کا عکس ڈالا گیا تھا جو کسی انسان کو نہیں ملا تھا (آیت) ” واصبح فواد ام موسیٰ فرغا “ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےقرار ہوگیا وہ ہر وقت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتی رہتی تھیں جب ذبح کرنے والوں نے اس معاملے سنا تو فرعون کی بیوی کے پاس چھریاں لے کر آگئے تاکہ اس بچے کو ذبح کردیں۔ اے ابن جبیر ! یہ بھی ایک فتنہ تھا اس نے ذبح کرنے والوں سے کہا یہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں زیادتی نہیں کرے گا میں فرعون کے پاس لے جاتی ہوں اور اس سے اس کا مطالبہ کرتی ہوں اگر اس نے یہ بچہ مجھے دے دیا تو بہتر اور اگر اس نے اس کو ذبح کرنے کا حکم دے دیا توا میں بھی تم کو نہیں روکوں گی۔ جب فرعون کی بیوی اس بچے کو فرعون کے پاس سے لے آئی تو کہنے لگی (آیت) ” قرت عین لی ولک لا تقتلوہ ‘ یہ بچہ تیری اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تم اس کو قتل نہ کرو فرعون نے کہا یہ تیرے لئے ہوگا مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ذریعہ قسم کھائی جاتی ہے اگر فرعون یہ کہہ دیتا کہ اس کے لئے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا جیسے اس کو بیوی نے کہا تھا تو اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہدایت دے دیتے جیسے اس کی بیوی کو ہدایت دی لیکن اللہ عزوجل نے فرعون پر اس کو حرام قرار دیا تھا فرعون کی بیوی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر دودھ والی عورت کے پاس بھیجا تاکہ دایہ کو چن لیا جائے لیکن جو عورت اس بچے کو دودھ پلانے کے لئے اٹھاتی تو بچے نے اس کی چھاتی کو قبول نہیں کیا یہاں تک کہ فرعون کی بیوی کو اندیشہ ہوا کہ یہ دودھ نہ پیئے گا تو مرجائے گا اور وہ اس کے لئے بہت غمگین ہوئی آپ کو بازار لے جایا گیا شاید اس کے لئے کوئی دایہ مل جائے لیکن آپ نے کسی عورت کا دودھ قبول نہیں کیا (ادھر) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ (بچے کی جدائی سے) بدحواس ہوگئی اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے جا اور اس کو تلاش کر کہ شاید تو اس کا ذکر سن لے کیا وہ زندہ ہے یہ اس کو جانور تو نہیں کھا گئے اور جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اس کو بھول گئیں (آیت) ” فبصرت بہ عن جنب وھم لا یشعرون “ آپ کی بہن آپ کو دور سے دیکھتی رہی اور وہ اس حقیقت کو نہ سمجھتے تھے بہن نے جب دیکھا کہ تمام دائیاں عاجز آگئیں تو اس نے کہا (آیت) ” ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ نصحون “ تو لوگوں نے اس (بہن کو پکڑ لیا تو کیسے جانتی ہے کہ وہ اس کی خیر خواہی کریں گے کیا وہ اس کو پہچانتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اس بات میں شک کیا۔ اے ابن جبیر یہ بھی ایک فتنہ تھا بہن نے کہا وہ گھر والے اس بچہ سے شفقت اور خلوص کا مظاہرہ اس لئے کریں گے تاکہ بادشاہ کی جانب سے ان پر شفقت ہو ان لوگوں نے اس بچی کو چھوڑ دیا وہ اپنی ماں کی طرف چلی اور اس کو خبر دی تو (بچے کے پاس) آگئی جب اس نے بچے کو اپنی کو گود میں ڈالا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دودھ پینے لگ گئے حتی کے آپ سیر ہوگئے فرعون کی بیوی کو موسیٰ (علیہ السلام) کے دودھ پینے کی خوشخبری دی گئی کہ ہم نے تیرے بیٹے کے لئے ایک دایہ کو تلاش کیا ہے فرعون کی بیوی نے اس (دایہ) کو بلا بھیجا تو وہ اس بچہ کو ساتھ لے کر آگئی جب فرعون کی بیوی نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دایہ سے محبت دیکھی تو اس نے (دایہ) سے کہا تم میرے پاس ٹھہرو اور میرے اس بیٹے کو دودھ پلاتی رہو کیونکہ میں اس سے جو محبت کرتی ہوں ایسی محبت کسی اور چیز سے نہیں کرتی ہوں دایہ نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتی کہ میں اپنے گھر اور اپنی اولاد کو چھوڑ دوں تو وہ ضائع ہوجائیں گے اگر تیرا دل چاہے تو یہ بچہ مجھے عطا کردے میں اس کو اپنے گھر لے جاوں گی میں اس سے خیر کا سلوک کروں گی اگر تو نے چاہے تو میں اپنے گھر اور بچوں کو نہیں چھوڑ سکتی موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو یاد آگیا جو اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے یقین کرلیا کہ اللہ عزوجل اپنے وعدہ کو پورا کرنے والے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اسی دن اپنا بچہ واپس لے آئی اللہ تعالیٰ نے اس کی اچھی پرورش کیا اور اپنے فیصلہ کی حفاظت فرمائی اس کام کے لئے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا بنی اسرائیل ہمیشہ کے لئے فرعونیوں کے ظلم وستم سے موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے محفوظ ہوگئے جب سے آپ ان میں تشریف لائے تھے بنی اسرائیل شہر کے قرب میں اکٹھے رہتے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے پرورش پائی تو فرعون کی بیوی نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں سے میں اپنا بیٹادیکھنا چاہتی ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایک دن کا وعدہ کرلیا کہ وہ اس میں اس بچے کو دکھائے گی فرعون کی بیوی نے کہا اپنے خازنوں اپنی خادماوں اور اپنے خزانچیوں سے کہا تم میں سے ہر ایک آج میرے بیٹے کا استقبال کرے ہدیہ اور کرامت کے ساتھ اور میں ایک امین کو بھیجنے والی ہوں جو دیکھے گا کہ تم میں سے ہر شخص اس سے کتنی محبت کا اظہار کرتا ہے پاس ہدایہ اور تحائف کے ساتھ آپ کا استقبال کیا گیا جب وہ اپنی ماں کے گھر سے نکلے اور جب آپ فرعون کی بیوی کے پاس پہنچے تو اس نے کہا بھی بڑی عزت اور کرامت کا ثبوت دیا وہ آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اس کا ماں کو بھی تحائف عطا کئے پھر اس نے کہا میں اس کو فرعون کے پاس ضرور لے کر جاوں گی چاہے وہ اس کو تحفہ دے اور اس کا اکرام کرے جب اس کو لے کر اس کے پاس گئی اور اس کو اس کی گود میں بٹھایا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی داڑھی کو پکڑ کر زمین کی طرف کھنچا اس کو ایک شیطان نے کہا اللہ کے دشمنوں میں سے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کیا وعدہ کیا ؟ وہ آپ کا وارث بنے گا اور تجھ کو گرا دے گا اور وہ تجھ پر غالب آجائے گا تو اس نے ذبح کرنے والوں کو بلا بھیجا تاکہ وہ اس (بچے) کو ذبح کردیں، اے ابن جبیر ! یہ بھی ایک فتنہ تھا ہر مصیبت سے آپ کو آزمایا گیا فرعون کی بیوی دوڑتی ہوئی فرعون کے پاس آئی کہنے لگی کیا تو نے مجھے ھبہ نہیں کیا تھا ؟ اس نے کہا کیا تو نے اس کو نہیں دیکھا کہ وہ مجھے پچھاڑنا چاہتا ہے اور مجھ پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے اس نے فرعون سے کہا میرے اور اپنے درمیان ایسا معاملہ پیش کر جس سے حق ظاہر ہوجائے گا تو لے آ دو انگاروں کو اور موتی (پھر) اس کو اس (بچے) کے قریب کردے اگر یہ موتیوں کو پکڑ لے اور انگاروں سے بچے تو جان لے کہ یہ عقل رکھتا ہے اور اگر وہ انگاروں کو لے لے اور موتیوں کی طرف نہ جائے تو جان لے کہ کوئی عقلمند انگاروں کو موتیوں پر ترجیح نہیں دیتا جب اس (بچے) کے قریب انگارے اور موتی کئے گئے تو اس نے انگاروں کو پکڑ لیا تو ان دونون (انگاروں) کو آپ سے چھین لیا گیا اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اس کے بدن کو جلا نہ دیں تو (یہ دیکھ کر) فرعون نے عورت سے کہا اس کو ذبح نہ کرو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو پھیر دیا اس کے بعد کہ اس نے (ذبح کرنے کا) ارادہ کرلیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ کو انتہا تک پہنچانا چاہتے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچے یہ وہ دور تھا کہ فرعونی اسرائیلوں پر ظلم وستم کرتے تجھے اس درمیان کہ موسیٰ (علیہ السلام) شہر کی ایک جانب جارہے تھے اچانک دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے ان میں سے ایک بنی سرائیل والوں میں سے تھا اور دوسرا فرعون والوں میں سے تھا اسرائیلی نے فرعونی کے خلاف مدد مانگی موسیٰ (علیہ السلام) سخت غصہ ہوئے اور وہ شخص بنی اسرائیل میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے مرتبہ کو جانتا تھا اور وہ بنی اسرائیل کی موسیٰ (علیہ السلام) کا حفاظت کرنا جانتا تھا اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی ودودھ پلانے کی وجہ سے جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان چیزوں پر مطلع کردیا تھا جس پر کسی دوسرے کو مطلع نہیں فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونی کو مکہ مارا اور اس کو قتل کردیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے یہ کام ہوتا نہ دیکھا موسیٰ (علیہ السلام) اور اسرائیلی کے علاوہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جب آدمی قتل ہوا (آیت) ” ھذا من عمل الشیطن، انہ عدو مضل مبین “ (القصص الایۃ 15) پھر فرمایا (آیت) ” قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ “ فاصبح فی المدینۃ خآئفا یترقب “ (القصص آیت 17) فرعون کے پاس یہ خبر پہنچی کہ بنی اسرائیل والوں نے فرعون میں سے ایک آدمی کو قتل کردیا ہمارے حق کے لئے اس کو پکڑو اور کبھی ان کو آزاد نہ کرو فرعون نے کہا اس کو میرے پاس لے آؤ اور گواہ بھی ساتھ لاؤ کیونکہ بادشاہ اپنی قوم سے رغبت رکھتا تھا لیکن اس کے لئے یہ درست نہ تھا کسی کو قید کردے بغیر گواہ اور بغیر ثبوت کے پاس اس نے گواہوں کو طلب کرنے کا حکم دے دیا لوگ گواہوں کی تلاش میں گھومتے رہے لیکن کوئی دلیل اور گواہ نہ ملا اچانک موسیٰ (علیہ السلام) نے آگلے دن اس اسرائیلی کو دیکھا کہ وہ دوسرے فرعونی سے لڑ رہا ہے اسرائیلی نے فرعونی پر ان کی مدد مانگی موسیٰ (علیہ السلام) نادم تھے اپنے پہلے مکہ پر جس سے انہوں نے وہ آدمی ماردیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) اسرائیلی پر ناراض ہوئے جو اس نے عمل کیا تھا اور جو آج کررہا تھا اور فرمایا (آیت) ” انک لغوی مبین “ بلاشبہ تو گمراہ کرنے والا ہے اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف دیکھا جب انہوں نے یہ کہا اور آپ غصہ میں تھے تو وہ ڈرا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے (آیت) ” انک لغوی مبین “ (القصص آیت 18) (کہ تو کھلا گمراہ ہے) کہ کہیں آپ اس کو بھی قتل نہ کردیں حالانکہ وہ فرعونی (کے مارنے) کا ارادہ کررہے تھے تو اس اسرائیلی نے کہا (آیت) ” یموسی اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس “ (اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے بھی قتل کردے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا) فرعونی اپنی قوم کی طرف گیا اور اس نے ان کو خبر دی جو اس نے اسرائیلی سے سنا تھا جب اس نے یوں کہا (آیت) ” اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس “ (القصص آیت 19) فرعون نے ذبح کرنے والوں کو بھیجا تاکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیں فرعون کے قاصدوں نے بڑا راستہ پر آرام سے چل رہے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تلاش کررہے تھے ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے نکل جانے کا کوئی خوف نہ تھا (آیت) ” وجاء رجل “ یعنی ایک آدمی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے گروہ میں (آیت) ” من اقصا المدینۃ “ شہر کے آخری گوشے سے اس نے قریب والے راستے کو پکڑا یہاں تک کہ ان سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر پہنچ گیا اور ان کو خبر دی اے ابن جبیر ! یہ فتنوں میں سے ایک فتنہ تھا موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف متوجہ ہو کر نکل پڑے آپ کو اس طرح مصیبت نہیں پہنچی تھی اور راستے کا بھی علم نہیں تھا سوائے بس اپنے رب پر حسن ظن تھا کیونکہ فرمایا (آیت ) ’ ’ قال عسی ربنی ان یھدینی سوآء السبیل (22) ولما ورد مآء مدین وجد علیہ امۃ من الناس یسقون، ووجد من دونہم امراتین تذودن “ القصص آیت 23) یعنی ان دونوں لڑکیوں نے اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلایا پوچھا ” ما خطبکما “ (یعنی تمہارا حال ہے) کہ تم ایک طرف کھڑی ہو اور لوگوں کے ساتھ پانی نہیں پلاتی ہو انہوں نے کہا ہم قوم سے مزاحم ہونے کی طاقت نہیں رکھتیں ہم انتظار کررہی ہیں حوضوں کے خالی ہونے کا ” فسقی لھما “ (القصص آیت 24) (یعنی انہوں نے ان کی بکریوں کو پانی پلادیا) آپ نے ڈول میں بہت سا پانی ڈالا یہاں تک کہ وہ عورتیں چرواہوں سے پہلے فارغ ہوگئیں وہ دونوں اپنی بکریوں کو لے کر اپنے باپ کے پاس گئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) درخت کے سایہ میں چلے گئے (آیت) ” فقال رب انی لما انزلت الی من خیرفقیر “ ان لڑکیوں کے باپ کو بڑا عجیب لگا کہ یہ اتنی جلدی بکریوں کو سیراب کرکے آگئیں اس نے اپنی بچیوں سے کہا آج تمہارے ساتھ کوئی خاص معاملہ ہوا لڑکیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مہربانی کا ذکر کیا تو باپ نے ان دونوں میں سے ایک کو حکم دیا کہ اس کو بلا کرلے آؤ وہ آئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے باپ کا پیغام سنایا (آیت) ” قال لاتخف، نجوت من القوم الظلمین “ (القصص آیت 25) فرعون اور اس کی قوم کو تجھ پر کوئی قدرت نہیں اور ہم اس ملک میں نہیں ہیں اس کی بیٹی نے کہا ” یابت استاجرہ ان خیر من الستاجرت القوی الامین “ (القصص آیت 26) باپ کو غیرت سوار ہوئی اور کہا تجھے اس کی قوت اور امانت کا کیسے علم ہوا لڑکی نے کہا اس کی قوت وہ ہے کہ جو اس نے ہماری بکریوں کو پانی پلایا میں اس سے زیادہ قوت والا آدمی نہیں دیکھا جب اس نے ہماری بکریوں کو پانی پلایا تھا اور اس کی امانت یہ ہے کہ جب میں اس کے پاس گئی اور میں نے اس کو دیکھا ور جب میں اس کے سامنے آئی جب اس کو معلوم ہوا کہ میں عورت ہوں تو اس نے اپنے سر کو جھکا لیا اور اس کو اوپر نہ اٹھایا اور میری طرف متوجہ نہ ہوا یہاں تک کہ میں نے آپ کا پیغام پہنچایا اس نے مجھ سے کہا میرے پیچھے چلی آنا اور مجھے راستہ بتاتی رہ ایسی بات کوئی آدمی نہیں کہتا مگر وہ جو امین ہو باپ کا غصہ جاتا رہا اور بیٹی کی تصدیق کی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا (آیت) ” ان انکحک احدی ابنتی ھتین علی ان تاجرنی ثمنی حجج، فان اتممت عشرا فمن عندک، وما ارید اشق علیک “ (القصص آیت 27) انہوں نے ایسا ہی کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر آٹھ سال واجب تھے اور دو سال کی مدت ان کی طرف سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدت کا فیصلہ فرما دیا اور انہوں نے دس سال پورے کردیئے سعید (رح) نے فرمایا مجھ سے ایک نصرانی عالم نے پوچھا کیا تو جانتا ہے کون سی مدت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری کی ؟ میں نے کہا نہیں اور میں اس وقت واقعی نہیں جانتا تھا میں نے ابن عباس ؓ سے ملاقات کی تو میں نے ان سے وہی بات ذکر کی جو نصرانی نے کہی تو انہوں نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ آٹھ سال واجب تھے موسیٰ (علیہ السلام) اس میں کمی نہیں کرسکتے تھے اور تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر وعدہ کو پورا کرنے کا فیصلہ فرما دیا تھا پس موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال پورے کئے میں نے نصرانی کو یہ بتایا تو اس نے کہا جس نے تجھے یہ بتایا ہے وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے میں نے کہا ہاں اور اجل اور اولی ہے (آیت) ” وسارباھلہ “ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کو لے کر چل پڑے پھر راستہ میں آپ نے آگ دیکھی جس کا تذکرہ قرآن نے بھی کیا ہے اپنی لاٹھی اور اپنے ہاتھ کا، معجزہ بھی دیکھا اور آپ نے اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے فرعون والوں سے ڈرنے کا اظہار بھی کیا کہ میں نے ان کا آدمی قتل کیا ہوا ہے اور آپ کی زبان پر گرہ تھی جس کی وجہ سے آپ زیادہ بات نہیں کرسکتے تھے انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی مدد فرمائیے تاکہ وہ ان کے مددگار بن جائیں اور زیادہ بات کی جہاں ضرورت ہو وہاں بات کرسکیں اللہ تعالیٰ نے ان کا سوال پورا کردیا اور آپ کی زبان کی گرہ کو کھول دیا اور ہارون (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے (ان کے نبوت کے کام میں) مل جائیں موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی کو لے کر چلے اور ہارون (علیہ السلام) سے ملے تو دونوں اکٹھے ہو کر فرعون کے پاس گئے اس کے دروازے پر دونوں روک لئے گئے اور اندر جانے کی اجازت نہ ملی پھر ان دونوں کو انتہائی حجاب کے بعد اجازت ملی دونوں حضرات نے (اس سے) فرمایا (آیت) ” انا رسولا ربک “ فرعون نے کہا (آیت) ” فمن ربکما یموسی “ (اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے ؟ ) انہوں نے اس کو بتایا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا اس نے کہا تمہارا ارادہ کیا ہے ؟ اور اس نے مقتول کا ذکر کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اس نے اس پر انکار کیا اور کہا تو نشانی لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے۔ آپ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ بڑا سانپ بن گیا اس نے اپنا منہ کھولا اور وہ دوڑ رہا تھا فرعون کی طرف جب فرعون نے دیکھا کہ وہ سانپ اس کی طرف آرہا ہے تو اس سے ڈر گیا تو وہ اپنے پلنگ سے کود پڑا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد مانگنے لگا کہ وہ اس کو اس سے روک دے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو روک دیا اور اپنے ہاتھ کو نکالا اپنے گریبان سے جو وہ سفید تھا بغیر برص کی بیماری کے پھر اس کو اپنی آستین کی طرف لوٹا دیا تو وہ پہلی حالت پر ہوگیا جو اس نے دیکھا اس کے بارے میں اس نے اپنے سرداروں سے مشورہ کیا انہوں نے کہا (آیت) ” ھذن لسحرن یریدن ان یخرجکم من ارضکم بسحرھما ویذھبا بطریقتکم المثلی “ وہ مراد لیتا تھا اپنے ملک کا جس میں وہ لوگ عیش و آرام میں تھے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ بھی دینے سے انکار کردیا ان چیزوں میں سے جو انہوں نے طلب کی اور سب نے کہا ان کے لئے جادوگروں کو جمع کرو کیونکہ وہ ہماری ملک میں بہت ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جادو سے ان کے جادو پر غالب آئیں گے (آیت) ” فارسل فرعون فی المدائن حشرین “ (الشعراء آیت 54) ہر ماہر جادو گر کو جمع کیا گیا جب وہ فرعون کے پاس آئے تو انہوں نے کہا یہ جادوگر کس چیز کے ساتھ عمل کرتا ہے ـ؟ انہوں نے کہا کہ یہ سانپ اور رسیوں کے ساتھ عمل کرتا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ملک میں کوئی ایسی قوم نہیں جو سانپوں اور رسیوں کا ایسا عمل کرسکے جو ہم کرتے ہیں ہمارا کیا اجر ہوگا اگر ہم ان پر غالب آگئے فرعون نے ان سے کہا تم میرے قریبی اور میرے خاص لوگوں میں سے ہو گے اور میں تمہاری ہر خواہش پورا کروں گا جس کو تم محبوب رکھو گے پس جشن کا دن مقرر کرو (آیت) ” وان یحشرالناس ضحی (59) “ اور سارے لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں سعید نے کہا مجھ کو ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ یوم الزینت وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور جادوگروں پر غلبہ عطا فرمایا تھا اور وہ عاشورہ کا دن تھا جب ایک میدان میں جمع ہوگئے تو لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے ہم کو لے چلو ہم بھی اس کام کو دیکھیں گے (آیت) ” نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغلبین “ (الشعراء آیت 40) موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) مراد لیتے تھے اور انہوں نے یہ بات مذاق کرتے ہوئے کہی تھی اور دوسرے جادوگروں نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جادو پر قدرت پاتے ہوئے (آیت) ” اماان تلقی واما ان نکون نحن الملقین “ (الاعراف آیت 115) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم پہلے ڈالو (آیت) ” فالقوا حبالہم وعصیھم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون “ (الشعراء آیت 44) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کے جادوکو دیکھا تو اس سے خوف محسوس کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی ’(آیت) ” ان الق عصاک “ (الاعراف آیت 117) (یعنی تو اپنی لاٹھی کو ڈال دے) جب انہوں نے اس کو ڈالا تو وہ بڑا اژدھا بن گیا اور اس نے اپنا منہ کھولا ہوا تھا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے جب اس لاٹھی نے ان کی رسیوں کو تلاش کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ رسیاں خودبخود سانپ کے منہ میں جانیں لگیں یہ ان تک کہ نہ باقی رہی کوئی لاتھی یا کوئی رسی مگر اس نے ان سب کو نگل لیا جب جادوگروں نے یہ دیکھا کہنے لگے اگر یہ جادو ہوتا تو ہمارے اس سارے جادو کو نہ نگلتا لیکن یہ اللہ عزوجل کا حکم ہے تو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو موسیٰ (علیہ السلام) لے آئے اور اللہ جل شانہ کی طرف ہم توبہ کرتے ہیں اور اس عمل سے بھی جن میں ہم تھے اس جگہ پر اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے حواریوں کی کمر توڑ دی اللہ تعالیٰ نے حق کو غالب کردیا اور باطل کردیا انکے عمل کو (آیت) ” فغلبوا ھنالک والنقلبوا صغرین “ (الاعراف آیت 119) اور فرعون کی بیوی نے اللہ کی بارگاہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی نصرت کے لئے پوری آہ وزاری کے ساتھ دعا مانگ رہی تھی فرعونیوں نے جس نے اس کو اس حالت میں دیکھا تو اس نے سمجھا کہ یہ فرعون اور اس کے حواریوں کے لئے یہ شکل بنائے ہوئے تھا حقیقت میں اس کا غم اور اس کی کوشش موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے تھی جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے جھوٹے وعدہ کی وجہ سے لمبا عرصہ ٹھہر گئے وہ کہتا آپ فلاں وقت نشانی اور نبوت کی صداقت کی علامت لے آئیں گے تو ہو اس کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے گا جب معاملہ منکشف ہوجاتا توع وہ اپنے وعدہ کو توڑ دیتا اور عہد شکنی کرتا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو حکم فرمایا اور ان کے ساتھ رات کو نکل پڑے جب فرعون نے صبح کی اور دیکھا کہ وہ چلے گئے تو شہر اور اس کے اردگرد والوں کو اکٹھا کرنے کے لئے بھیج دیا تو ان کے پیچھے اپنے بڑے لشکر روانہ کئے اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف وحی فرمائی جب میرا بندہ موسیٰ (علیہ السلام) تجھ میں لاٹھی مارے تو بارہ راستوں میں پھٹ جانا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور انکے ساتھ دریا کے پار ہوجائیں اور پھر فرعون اور اس کے متبعین پر مل جانا موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کو مارنا بھول گئے دریا کی طرف پہنچ گئے دریا پہلے بھی نصف ہوچکا تھا خوف سے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کو اپنی لاٹھی سے ماریں گے اور وہ غافل ہو کر نافرمانی کا مرتکب نہ ہوجائے (آیت) ” فلما تراء الجمعن “ اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا (آیت) ” قال اصحب موسیٰ انا لمدرکون “ (الشعراء آیت 61) پس تو کر جو تیرے رب نے تجھے حکم دیا ہے بلاشبہ نہ تو خود جھوٹ بولتا ہے اور نہ تجھ سے جھوٹ بولا جاتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا جب تو دریا کے کنارے پہنچے گا ہم تیرے لئے دریا کو پھاڑدیں گے یہاں تک کہ میں اسے پار کرجاوں گا اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی یاد آئی آپ نے اس وقت دریا کو ماری جب کہ فرعون کے لشکر کا اول حصہ قریب ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کے آخری دستہ کے قریب تو دریا پھٹ گیا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا اور جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ فرمایا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی دریا پار ہوگئے اور فرعون کے سب ساتھی دریا میں داخل ہوئے ان پر دریا مل گیا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی دریا سے پار ہوگئے (آیت) ” قال اصحب موسیٰ انا لمدرکون “ (الشعراء آیت 61) (تو انہوں نے کہا) ہم ڈرتے ہیں کہ شاید فرعون غرق نہ ہوا ہو اور ہم اس کی ہلاکت سے امن والے نہ ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدن کو دریا سے نکال دیا یہاں تک کہ انہوں نے فرعون کے مرنے کا یقین کرلیا پھر وہ اس کے بعد اسرائیلی ایک قوم پر سے گذرے (فرمایا) (آیت) ” علی قوم یعکفون علی اصنام لھم قالوا یموسی اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ تم ایک قوم ہو (جو) جہالت کی باتیں کرتے ہو (آیت) ” ان ھولآء متبرما ھم فیہ وبطال ما کانوا یعملون “ تحقیق تم نے عبور کرنے کا معزہ دیکھا جو تمہارے لئے کافی ہے اور تم نے جو سنا تمہارے لئے کافی ہے موسیٰ (علیہ السلام) چل پڑے یہاں تک کہ ایک جگہ پڑاؤ کیا پھر ان سے فرمایا تم ہارون (علیہ السلام) کا کہا مانو کیونکہ میں نے تم پر اس کو خلیفہ بنایا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اور اس کی مدت تیس دن ہیں جب آپ اپنے رب کے پاس پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے ان تیس دنوں میں رات اور دن میں روزے رکھے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ میں اپنے رب سے بات کروں اور بدبو میرے منہ میں ہو جیسے بدبوروزہ دا رکے منہ میں ہوتی ہے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین کی نباتات میں سے کچھ لیا اور اس کو چبایا ان کے رب نے ان سے فرمایا جب وہ ان کے پاس آئے کہ تو نے افطار کیوں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے عرض کیا اے میرے رب میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں آپ سے بات کروں اس حال میں کہ میرے منہ میں بدبوہر فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو جانتا ہے کہ روزہ دار کی منہ کی بدبو میرے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے واپس جاؤ اور دس دن کے اور روزے رکھو پھر میرے پاس آؤ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے دیکھا کہ وہ اس مدت ان کے پاس واپس نہیں آئے جو طے کی گئی تھی تو یہ انکو برا لگا اور ہارون (علیہ السلام) نے ان کو خطبہ دیا اور ان سے فرمایا تم مصر سے نکلے تھے تو تمہارے پاس امانتیں تھیں فرعون کی قوم کی اور عاریۃ چیزیں تھیں اور تمہاری ان کے پاس اس قسم کی چیزیں تھیں اور اب ہم نہ تو انہیں یہ چیزیں واپس کرسکتے ہیں اور نہ اپنے پاس روک سکتے ہیں کہ جس کے پاس جو سامان اور زیور ہیں وہ اس گڑھے میں دفن کردے پھر آپ نے اس پر آگ جلائی اور اس کو جلادیا اور فرمایا (یہ مال) نہ ہوگا ہمارے لئے اور نہ ان کے لئے اور سامری ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے وہ بنی اسرائیل میں سے نہ تھا ان کا ہمسایہ تھا وہ بھی بنی اسرائیل کے ساتھ چل پڑا جب بنی اسرائیل چلے تھے اس نے گھوڑے کا نشان دیکھا اور اس نے اس میں سے ایک مٹھی بھرلی پھر ہارون (علیہ السلام) ان کے پاس سے گذرے تو ہارون (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا اے سامری جو تیرے ہاتھ میں ہے تو اس کو نہیں پھینکے گا وہ مٹھی بندکئے ہوئے تھا اسے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) سے سامری نے کہا کہ اس فرستادے (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے (گھوڑے کے پاوں کے) نیچے کی مٹی ہے جس نے تم کو دریا عبور کرایا تھا میں اسکو نہیں پھینکوں گا تم اللہ سے دعا کروں کہ وہ ہوجائے جو میں نے ارادہ کیا اس نے مٹی پھینک دی اور اس کے لئے ہارون (علیہ السلام) نے دعا کی سامری نے کہا میں ایک بچھڑا چاہتا ہوں پس گڑھے میں جو مال و متاع تھا اس کو جمع کیا پیتل یا لوہا یا زیور ان میں سے اس نے ایک بچھڑا بنایا جو اندر سے خالی تھا اس میں روح نہ تھی اور اس کی ایک آواز تھی ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم اس کی کوئی آواز نہ تھی لیکن وہ ایک ہوا تھی اس کے پچھلے حصے سے داخل ہوتی تھی اور اس کے آگے سے نکل جاتی تھی یہ آواز اس وجہ سے پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل کئی فرقوں میں بٹ گئے ایک فرقہ نے کہا اے سامری یہ کیا ہے ؟ اور تو اس کو زیادہ جاننے والا ہے اس نے کہا یہ تمہارا رب ہے کیا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھول گئے لوگوں نے کہا ہم اس کی تکذیب نہیں کرتے (آیت) ” حتی یرجع الینا موسیٰ “ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف لوٹ آئے اگر یہ ہمارا رب ہوگا تو ہم اس کو ضائع ن نہیں کیا جب سے ہم نے اس کو دیکھا ہے اور ہم نے اس کو نہیں چھوڑا اور اگر یہ ہمارا رب نہیں ہے تو بلاشبہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کریں گے اور ایک فرقہ نے کہا یہ شیطان کے عمل میں سے ہے یہ ہمارا رب نہیں ہے اور نہ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ایک فرقے کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی جو سامری نے بچھڑے کے بارے میں کہا اور اسی فرقے نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تکذیب کا اعلان کیا (آیت) ” ولقد قال لہم ھرون من قبل یقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمن “ کہ تمہارا رب رحمن ہے اور اسی طرح نہیں ہے تو ان لوگوں نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کو کیا ہوا کہ ہم سے تیس راتوں کا وعدہ کیا پھر انہوں نے وعدہ خلافی کی اور یہ چالیس راتیں گذر چکی ہیں ان کے بیوقوفوں نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) اپنا رب تلاش کررہے ہیں ان کو اپنے کے پانے میں غلطی ہوئی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور فرمایا جو کچھ ان کے لئے فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو سب کچھ بتادیا جو ان کے چلے جانے کے بعد ان کی قوم نے کیا تھا (آیت) ” فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا “ آپ نے ان کو اس کلام سے تنبیہ فرمائی جو قرآن نے ذکر کیا ” والقی الالواح واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ “ تختیاں نیچے ڈال دیں اور اپنے بھائی کو سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھنچا پھر اپنے بھائی سے معذرت کی اور اپنے رب سے استغفار کیا پھر آپ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس سے فرمایا ایسا کرنے پر کس چیز نے تجھ کو آمادہ کیا اس نے کہا (آیت) ” فقبضت قبضۃ من اثرالرسول “ اور میں نے سمجھ لیا اور تم پر یہ بات پوشیدہ رہی (آیت) ” فنبذتھا وکذلک سولت لی نفسی “ قال فاذھب فان لک فی الحیوۃ ان تقول لا مساس “ (سے لے کر) ” فی الیم نسفا “ تک اگر وہ خدا ہوتا تو سامری اس حالت تک نہ پہنچتا بنو اسرائیل نے آزمائش کا یقین کرلیا اور شک کرنے لگے وہ لوگ کہ ان کی رائے ہارون (علیہ السلام) کی رائے کے موافق تھی انہوں نے کہا اے موسیٰ ! اپنے رب سے سوال کر کہ ہمارے لئے توبہ کا دروازہ کھول دے کہ ہم توبہ کریں گے اور اپنی گذشتہ کو تاہیوں کو مٹانے کی کوشش کریں گے (آیت) ” واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا “ (الاعراف آیت 155) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں ستر آدمی چنے اور یہ بنی اسرائیل کے نیک لوگ تھے اور انہیں بچھڑے کو شریک نہیں بنایا تھا موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر چلے تاکہ وہ اپنے رب سے توبہ کا سوال کریں تو زمین ان کی وجہ سے لرزنے لگی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے شرما گئے جب ان کے ساتھ زلزلے کا عمل ہورہا تھا تو فرمایا (آیت) ” رب لوشئت اھلکتم من قبل وایای، اتھلکنا بما فعل السفھآء “ الآیۃ (الاعراف : آیت 155) اور ان میں سے بعض لوگ وہ تھے جن کے دلوں میں بچھڑے (کی محبت) پلا دی گئی تھی اور وہ اس پر ایمان لائے تھے اس وجہ سے زمین پر زلزلہ آیا اور فرمایا (آیت) ” ورحمتی وسعت کل شیء فساکتبھا للذین یتقون “ (سے لے کر) ” والانجیل “ (الاعراف آیت 156) تک اور فرمایا اے میرے رب میں آپ سے توبہ کا سوال کرتا ہوں اپنی قوم کے لئے میں نے کہا میری قوم کے علاوہ کسی قوم کے لئے تو نے اپنی رحمت لکھ دی ہے اور شاید تو نے مجھے موخر کردیا حتی کہ اس شخص کی امت مرحومہ میں نکلوں گا اللہ عزوجل نے فرمایا کہ ان کی توبہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر آدمی قتل کرے جو اس کو ملے والد میں سے یا اولاد میں سے پس وہ اسے تلوار کے ساتھ قتل کرے اور تعلقات کی پرواہ نہ کرے اور توبہ کی ان لوگوں نے جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر چھپے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں پر مطلع تھا بلکہ انہوں نے خود ہی گناہوں کا اعتراف کیا اور جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اسے بجا لائے تو اللہ تعالیٰ نے قاتل اور مقتول دونوں کو بخش دیا پھر موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر رات کو چلے مقدس زمین کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پھر تختیوں کو اٹھایا جب غصہ دورہوا اور اللہ تعالیٰ نے انکو کچھ فراض کا حکم فرمایا یہ تو ان پر بھاری ہوگئے تو انہوں نے ان پر قائم رہنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سائے کی طرح پہاڑ کو بلند کردیا اور ان سے قریب کردیا یہاں تک کہ وہ ڈرگئے کہ وہ ان پر واقع ہوجائے گا تو انہوں نے کتاب کو پکڑا اپنی قسموں کے ساتھ اور وہ دیکھ رہے تھے زمین کی طرف اور وہ کتاب جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور وہ پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے ڈرتے ہوئے کہ ان پر گر نہ جائے پھر وہ چلے یہاں تک کہ مقدس زمین میں آئے ان میں انہوں نے ظالموں کا شہر پایا ان کو تخلیق بڑی ناپسند تھی انہوں نے اپنے پھلوں کی بڑائی بڑے عجیب انداز میں بیان کی انہوں نے کہا اے موسیٰ (آیت) ” ان فیھا قوما جبارین “ آج کے دن ان کے ساتھ لڑنے کی کوئی طاقت نہیں اور ہم داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ اس میں ہیں (آیت) ” فان یخرجوا منھا فانا دخلون “ جبارین میں سے دو آدمیوں نے کہا ہم موسیٰ پر ایمان لے آئے اور دونوں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاسآئے اور کہا ہم زیادہ جانتے ہیں اپنی قوم کو اگرچہ تم ڈرتے ہو ان کے جسموں کو اور ان کثرت کو دیکھ کر نہ ان کے دلوں میں ہمت ہے اور نہ ان کے پاس حفاظت کا کوئی ذریعہ ہے (آیت) ” ادخلوا علیہم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غلبون “ اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ دونوں موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھے اور سعید بن جبیر ؓ نے گمان کیا کہ وہ جبارین میں سے تھے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” من الذین یخافون انعم اللہ علیھما “ یونی ان لوگوں میں سے تھے جن سے بنواسرائیل ڈرتے تھے اور انہوں نے کہا تھا (آیت) ” یموسی انالن ندخلھا ابداما داموا فیھا فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھناقعدون “ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر غصہ ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر بددعا فرمائی ان کا نام فاسقین رکھا گیا اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی ان کے لئے بددعا نہیں فرمائی تھی جب آپ نے ان کی معصیت و نافرمانی کو دیکھا تو ان کے لئے بددعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کو وہی نام دیا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دیا تھا یعنی فاسقین (آیت) ” محرمۃ علیہم اربعین سنۃ، یتیھون فی الارض “ المائدہ آیت 26) روز چلتے رہتے ان کو قرار نہیں تھا پھر میدان تیہ میں ان پر بادلوں کا سایہ کردیا نہ پوشیدہ ہوتے تھے نہ میلے ہوتے تھے اور ان کے درمیان ایک ایسا پتھر بنادیا جو چوکور شکل کا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اپنی لاٹھی سے اس کو مارئیے (آیت) ” فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا “ ہر قبیلہ اپنا چشمہ جانتا تھا جس میں سے وہ پیتے تھے وہ کسی مرحلہ سے اس چشمے کے ساتھ کوچ کرتے تو اس پتھر کو اس جگہ پاتے جیسے وہ اپنی منزل پر ان کے درمیان تھا۔ ابن عباس ؓ حدیث کو مرفوع روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ سے اور میرے نزدیک اس کی سچائی کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے ابن عباس ؓ سے یہ حدیث سنی مگر انہوں نے اس بات پر انکار کیا کہ ہوسکتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قتل کر افشاء کیا ہو ابن عباس ؓ نے فرمایا اسرائیلی نے آپ کا راز فاش کیا ابن عباس ؓ نے معاویہ ؓ کے ہاتھ کو پکڑا اور ابن کو سعد بن مالک زھری (رح) کے پاس لے گئے اور کہا تم ہم کو بتاؤ وہ حدیث جو نبی کریم ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعونی کے قتل کے بارے میں بتائی تھی کس نے یہ قتل کا راز افشاء کیا تھا ؟ اسرائیلی نے یا فرعونی نے تو آپ نے فرمایا اس کو فرعونی نے افشاء کیا تھا جو اس اسرائیلی سے سن کر اس نے یہ راز فاش کیا تھا جو قتل کے وقت موجود تھا :
30:۔ عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلبثت سنین فی اھل مدین “ یعنی اہل مدین کے پاس دس سال رہے (آیت) ” ثم جئت علی قدر یموسی “ سے مراد ہے ” علی مولد “ (یعنی وعدہ کے مطابق)
31:۔ عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم جئت علی قدر “ سے مراد ہے
32:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنیافی ذکری “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ۔
33:۔ عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے طستی قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
34:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
35:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولا تنیافی ذکری “ کے بارے میں بتائیے یعنی تم میرے کام میں کمزور نہ ہوجاؤ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
انی وجدک ماونیت واننی ابغی الفکاک لہ بکل وسبیل :
ترجمہ : تیری کوشش کی قسم میں کچھ بھی کمزوری نہیں پرا اور میں ہر طریقہ سے اس کو چھڑانا چاہتا ہوں۔
36:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنیا “ سے مراد ” ولا تبطئا “ یعنی سستی نہ کرو۔
37:۔ ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “ یعنی اس سے کنایہ میں بات کرو۔
38:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “ سے مراد ہے اس سے کنایہ میں بات کرو۔
39:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “ اے ابومرۃ ! اس سے کنایہ سے بات کرو۔
40:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “ سے مراد ہے اس سے معذرت خواہانہ لہجہ میں بات کرو اور اسے کچھ نہ کہو کہ تیرا رب ایک ہے اور تیرے لئے آخرت بھی ہے اور تیرے آگے جنت بھی اور دوزخ بھی ہے۔
41:۔ ابن ابی حاتم نے فضل بن عیسیٰ الرقاشی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اے وہ ذات جو اپنے دشمن سے محبت کا اظہار کرتی ہے اور جو اس سے محبت کا اظہار کرے گا اور جو اسے پکارے گا اس کے ساتھ کتنی محبت کا اظہار ہوگا۔
42:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لعلہ یتذکر “ یعنی کیا ہو نصیحت حاصل کرے گا۔
43:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اننا نخاف ان یفرط علینا “ یعنی وہ ہم پر (قتل کرنے یا عذاب دینے میں) جلدی کرے، (آیت) ” اویطغی “ یا (ہم پر) زیادتی کرے۔
44:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی “ یعنی ہم کو اندیشہ ہے کہ وہ ہمیں سزادے۔
45:۔ ابن منذر نے ابن جریج سے (آیت) ” لا تخافا اننی معکما اسمع واری “ کے بارے روایت کیا کہ میں سن رہا ہوں گا جو وہ کہے گا (واری “ میں میں دیکھ رہا ہوں گا کہ جو وہ تم دنوں کو جواب دے گا پس تم کو جو وحی کی جائے اس کے ساتھ تم اس کو جواب دینا۔
46:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے سند جید کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا پوچھا ا ے میرے رب ! میں اسے کیا کہوں ؟ فرمایا کہو (آیت) ” اھیا شراھیا “ اعمش (رح) اس کی تفسیر یہ ہے وہ ذات جو زندہ ہے ہر چیز سے پہلے اور زندہ رہے گی ہر چیز کے بعد۔
دنیا کے مال و دولت عزت کا میعار نہیں :
47:۔ احمد نے زہد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا، تو اس سے فرمایا تم دونوں کو دھوکہ نہ دے اس کا لباس جو میں نے اس کو پہنایا ہے کیونکہ اس کی پیشانی میرے ہاتھ میں ہے وہ نہ بولتا ہے اور نہ حرکت کرتا ہے مگر میرے حکم سے اور نہ تم کو دھوکہ میں ڈالے جو اس کے پاس دنیا کی زیب وزینت ہے۔ اگر میں چاہوں تو میں تم کو بھی دنیا کی زیب وزینت سے آراستہ کردوں کہ فرعون جان لینا ہے کہ وہ ایسا کرنے پر قادر ہے اور یہ مجھ پر کوئی مشکل نہیں ہے لیکن میں نے تم کو عزت و کرامت کا لباس پہنایا ہے تاکہ دنیا تمہارا مقام و مرتبہ کم نہ کرسکے اور بلاشبہ میں دور رکھتا ہوں اپنے دوستون کو دنیا سے جیسے ایک چرواہا دور رکھتا ہے اپنے اونٹوں کو ہلاکت کے بیٹھنے کی جگہ سے اور بلاشبہ میں اس کو دنیا سے اس طرح دور رکھتا ہوں جیسے چرواہا دور رکھتا ہے اپنے اونٹوں کو ہلاکت کی چراگاہ سے میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں روشن کردوں اس کے ساتھ ان کے سینوں کو۔ اور میں اس کے ذریعہ پاک کردوں ان کے دلوں کو اپنے بارے میں، ان لوگوں کی نشانیاں وہ لوگ جو پہنچانے جاتے ہیں اور ان کا معاملہ کہ جس کے ذریعہ وہ فخر کرتے ہیں اور تو جان لے کہ جو شخص میرے ولی کو ڈراتا ہے تو (گویا) اس نے میرے ساتھ جنگ کی اور میں بدلہ لینے والا بنوں گا قیامت کے دن اپنے اولیاء کا۔
48:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں، بخاری، مسلم، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ کے طریق سے ابوسفیان بن حرب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہرقل کو لکھا ،: محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہرقل روم کے بادشاہ کیطرف سلا ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔
49:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں، اور بیہقی نے شعب میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ تم اہل کتاب کو سلام کرو جب ان پر ان کے گھروں میں داخل ہو تو اس طرح سلام کرو (آیت) ” والسلم علی من اتبع الھدی “ (یعنی سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے )