20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 20:48–52

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

بلاشبہ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ اس پر عذاب ہے جو جھٹلائے اور روگردانی کرے۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر راہ بتائی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا تو پرانی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور بھولتا ہے

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔ 2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا عطا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ پھر اس کو جماع کا طریقہ سکھایا۔ 4:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن (رح) سے (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں فرمایا کہ رہ چیز کو ہر وہ چیز عطا فرمائی جو اس کے مناسب تھی پھر اس کا طریقہ بھی سکھایا۔ 5:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) نے (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں فرمایا ہر جانور کی تخلیق برابر فرمائی پھر اس کو طریقہ سکھایا جس کی وہ صلاحیت رکھتا تھا اور اس کو خاص طور پر سکھایا انسان کی پیدائش جانوروں کی پیدائش جیسی نہیں اور جانوروں کی پیدائش انسان کی پیدائش جیسی نہیں اور لیکن (آیت) ” وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا “ (الفرقان : آیت 2) 6:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ ہر مخلوق کو ہو چیز عطا کی گئی جو اس کی تخلیق کے مناسب تھی اور انسان کو جانور کی شکل میں بنایا اور جانور کو کتے کی شکل میں نہیں بنایا اور نہ کتے کو بکری کی شکل میں بنایا اور اس کو ہر وہ چیز عطا کی جو اس کو نکاح کی لئے ضرورت تھی اور ہر چیز کو اس کے مطابق تیار کیا اور اس میں سے کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کا وہ ذرا بھی مالک ہو اپنے کام میں، خلق میں، رزق میں اور نکاح میں (آیت) ” ثم ھدی “ پھر اس کی راہنمائی کی ہر چیز کی طرف اس کے رزق کی طرف اور اس کی بیوی کی طرف۔ 7:۔ ابن حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ ہر چیز کو اس کی صورت عطا فرمائی (آیت) ” ثم ھدی “ پھر اس کی معیشت کی طرف راہنمائی فرمائی۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کیا تم نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح کھڑا رہتا ہے اپنے ساتھی کے انتظار میں یہاں تک کہ پہچان جاتا ہے۔ 9:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم ھدی “ سے مراد ہے کہ کس طرح نر مادہ کے پاس آتا ہے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ جانور بھی چار چیزوں سے غافل نہیں ہوتے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا رب ہے اور (ہر) نر ہے آتا اپنی مادہ کے پاس اور اپنی روزی کا طریقہ جانتے ہیں اور وہ موت سے ڈرتے ہیں۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال فما بال القرون الاولی “ یعنی پہلی قوموں کا کیا حال ہے۔ 12:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباسؓ سے (آیت) ’ ’ لا یضل ربی “ کے بارے میں روایت کیا کہ (اللہ تعالیٰ ) خطا نہیں کرتے (یعنی خطا اور نسیان سے پاک ہیں) 13:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لایضل ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ دنوں کا ایک ہی معنی ہے۔ 14:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” لایضل ربی “ (یعنی میرا رب) کتاب کے بیان سے نہیں بھٹکتا (آیت) ” ولا ینسی “ اور نہ بھولتا ہے جو کچھ اس میں ہے۔ 15:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوالملیح (رح) سے روایت کیا کہ لوگ ہم پر کتاب کی وجہ سے عیب لگاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” علمھا عند ربی فی کتب “۔ 16:۔ ابن سعد، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ہلال (رح) سے روایت کیا کہ ہم قتادہ ؓ کے پاس تھے لوگوں نے کتاب کا ذکر کیا تو انہوں نے قتادہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کوئی ہرج نہیں کیا اللہ تعالیٰ خبیر نہیں ہیں کہ جو ہر (چیز کی) خبر دیتے ہیں پھر اس نے کہا (آیت) ” فما بال القرون الاولی (51) قال علمھا عند ربی فی کتب “ (یعنی کیا حال ہے پہلی امتوں کا تو فرمایا اس کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں )
Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنا دیا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے اور اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور مویشیوں کو چراؤ بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

1:۔ ابن مندر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاخرجنا بہ ازواجا “ کے بارے میں فرمایا کہ ازواجا سے مراد ہے اصتافا “ زمین کی نباتات میں سے ہر قسم مختلف ہے کھجور ایک قسم ہے اور انگور ایک قسم ہے اور ہر وہ چیز جس کو زمین اگاتی ہے ہو مختلف قسمیں ہیں۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من نبات شتی “ سے مراد ہے مختلف (اقسام کی سرسبزی) (آیت) ” لاولی النھی “ یعنی تقوی والوں کے لئے۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے دانش مند اور عقل والے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے تقوی والے۔ 5:۔ ابن منذر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کاموں سے بچتے ہیں جن سے منع کیا گیا۔
Ayahs 20:55–58

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اس سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اس میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمہیں دوسری بار نکالیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھائیں سو اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے ہمیں اپنے جادو کے ذریعہ ہماری سرزمین سے نکال دے۔

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو ہم بھی تیرے مقابلہ میں اسی جیسا جادو لے آئیں گے، سو تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقررہ کردے نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے اور نہ تو۔ اس غرض کے لئے ایک ہموار میدان مقرر کردے۔

1:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ چلتا ہے اور اس جگہ سے مٹی لیتا ہے جہاں انسان کو دفن ہونا ہوتا ہے وہ اس کو بکھیرتا ہے نطفہ پر پس انسان اس مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی بارے میں قول ہے (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔ میت پر مٹی ڈالتے ہوئے کیا پڑھا جائے : 2:۔ احمد اور حاکم نے ابوامامہ (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی جب قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تارۃ اخری “ یعنی دوسری مرتبہ۔ 4:۔ عبدبن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مکانا سوی “ سے مراد ایسی جگہ ہے جو مسافت کے اعتبار سے ان کے درمیان برابر ہو۔ 5:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مکانا سوی “ سے مراد ہے میرے اور تیرے درمیان وہ جگہ آدھی آدھی ہو۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مکانا سوی “ سے مراد ہے یکساں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مکانا سوی “ سے مراد ہے ہموار جگہ جہاں تمام لوگ اس میں برابر نظر آئیں جہاں نہ کوئی آواز ہو اور نہ کوئی چیز کسی دوسری چیز سے غائب ہو ہر چیز برابر دکھائی دے جب دیکھا جائے۔
Ayahs 20:59–60

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ تم سے زینت کے دن کا وعدہ ہے اور یہ بات بھی ہے کہ لوگ ایسے وقت میں جمع ہوں جب دن چڑھ جائے۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

اس کے بعد فرعون واپس ہوا پھر اس نے اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر وہ آگیا۔

1:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” موعدکم یوم الزینۃ “ وعدہ کے دن سے مراد ہے عاشورا کا دن۔ 2:۔ ابن منذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا تو اس نے اس سال کے فوت ہونے والے روزے کو پالیا اور جس نے عاشوراء کے دن صدقہ کیا اس نے اس سال میں اپنے فوت شدہ صدقہ کو پالیا۔ 3:۔ عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” موعدکم یوم الزینۃ “ سے بازار کا دن مراد ہے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” موعدکم یوم الزینۃ “ سے عید کا دن مراد ہے جس دن لوگ کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کی ملاقات اور زیارت کرتے ہیں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وان یحشر الناس ضحی “ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ اس مقرر وقت پر جمع ہوں گے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 8:۔ ابونہیک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان یحشر الناس ضحی “ تاء کے ساتھ پڑھا فرمایا کہ فرعون جمع کرے گا اپنی قوم کو۔
Ayahs 20:61–71

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا ہلاکت ہے تمہارے لئے اللہ پر جھوٹ افتراء مت کرو ورنہ وہ تمہیں ایسا عذاب دے گا کہ تمہیں بالکل ہی ختم کردے گا اور جو جھوٹ باندھتا ہے ہو ناکام ہی رہتا ہے۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنی اپنی رائے میں اختلاف کیا اور چپکے چپکے مشورہ کرتے رہے

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے کہ بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زریعہ تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکال دیں اور تمہارے عمدہ طریقے کو ختم کردیں۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

لہذا اب تم سب اپنی تدبیر کا انتظام کرو پھر صف بنا کر آجاؤ اور جو غالب ہو آج وہی کامیاب ہوگا۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے موسیٰ یا تم پہلے ڈالو اور یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا بلکہ تم پہلے ڈالو پس یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ کے خیال میں ایسی معلوم ہورہی تھیں جیسا کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

سو موسیٰ نے اپنے دل میں تھوڑا سا خوف محسوس کیا

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا کہ تم مت ڈرو بلاشبہ تم ہی بلند رہو گے

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور ڈال دو جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے وہ اس سب کو چٹ کردے گا جو کچھ انہوں نے بنایا ہے، انہوں نے صرف جادوگروں والا مکر کیا ہے اور جادوگر جہاں کہیں بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

سوجادوگر سجدہ میں گرادیئے گئے کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم موسیٰ پر ایمان لے آئے، بلاشبہ وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو میں ضرور بالضرور اس طرح سے تمہارے ہاتھ پاوں کاٹ دوں گا کہ ایک طرف کا ہاتھ ہوگا اور دوسری طرف کا پاوں ہوگا اور ضرور بالضرور میں تمہیں کھجور کی ٹہنیوں میں لٹکادوں گا۔ جیسے صلیب پر لٹکا دیا جاتا ہے اور تم ضرور جان لوگے کہ ہم میں کون سب سے زیادہ سخت عذاب والا ہے اور کس کا عذاب زیادہ دیر پا ہے۔

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب ہوگا) 5:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” تلقف ما صنعوا “ کے بارے میں فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس (لاٹھی) کو ڈالا تو وہ سانپ بن گیا اور اس (سانپ) نے ان رسیوں کو اور جو کچھ انہوں نے بنایا تھا (سب کو) کھانے لگا۔ 6:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے جندب بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی جادوگر کو پکڑو تو اس کو قتل کردو پھر یہ آیت (آیت) ” ولا یفلح الساحر حیث اتی “ یعنی (جادوگر) امن میں نہیں ہوتا جہاں بھی ہو۔
Ayahs 20:72–76

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

جادوگر کہنے لگے کہ ہمارے پاس جو کھلے ہوئے دلائل آئے ہیں ان کے مقابلہ میں اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے ہم تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے سو تو جو کچھ فیصلہ کرنے والا ہے وہ کرڈال، تو صرف اسی دنیا والی زندگی میں فیصلہ کرے گا

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطاوں کو بخش دے اور تو نے جو ہم سے زبردستی جادو کرایا اس کو بھی معاف فرما دے، اور اللہ بہتر ہے اور ہمیشہ ہی باقی ہے۔

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بلاشبہ بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا سو اس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور اس کے پاس جو شخص مومن ہو کر آئے گا جس نے نیک عمل کئے ہوں گے سو ان لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔

فرعون کے جادوگروں کی تعداد : 1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگرنوسو تھے انہوں نے فرعون سے کہا اگر یہ دونوں جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آئیں گے کیونکہ ہم سے زیادہ کوئی جادوگر نہیں ہے اور اگر ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے معجزات ہیں (تو ہم غالب نہ ہوں گے) جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سامنے اپنے جادو اور فریب کاری کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو فورا سجدہ میں گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ان کے سجدوں میں ان کے گھر (جنت میں) دکھادیئے کہ جن کی طرف ان کو لوٹ کرجانا تھا اس وقت انہوں نے کہا (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ (سے لے کر) ” واللہ خیروابقی “ 2:۔ ابن ابی حاتم نے قاسم بن ابی بزہ (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ سجدہ میں گرپڑے تو انہوں نے دوزخ والوں اور جنت والوں کو اور ان کے ثواب و عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ 3:۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وما اکرھتنا علیہ من السحر “ کے بارے میں فرمایا کہ فرعون نے بنی اسرائیل میں چالیس نوجوانوں کو منتخب کیا اور ان کو جادوگروں سے جادو سیکھنے کا حکم دیا اور اس نے بڑے جادوگروں سے کہا ان کو اس طرح جادو سکھائیں کہ زمین میں کوئی ان پر غالب نہ آسکے ابن عباس ؓ نے فرمایا ان لوگوں نے کہا (آیت) ” انا امنا بربنا لیغفرلنا خطیناوما اکرھتنا علیہ من السحر “۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ خیراوابقی “ سے مراد ہے کہ اگر میں اللہ کی اطاعت کروں تو اللہ تعالیٰ تجھ سے بہتر ہے اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کا عذاب تیرے عذاب سے زیادہ دائمی ہے۔ 5:۔ مسلم، احمد، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا (جب) اس آیت (آیت) ” انہ من یات ربہ مجرما فان لہ جھنم، لا یموت فیھا ولا یحییٰ “ پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم میں رہنے والے وہی ہیں جو جہنم میں رہنے ہیں وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ زندہ ہوں گے اور جو اس کے رہنے والے نہ ہوں گے (محض گناہ کی پاداش میں ڈالے گئے) تو پہلے ان کی جہنم کی آگ مارے گی پھر شفاعت کرنے والے کھڑے ہوں گے اور وہ ان کی شفاعت کریں گے پھر ان کو اکٹھا کرکے ایک نہر پر لایا جائے گا جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے پھر ان کو جسموں پر اس طرح گوشت اگ جیسے ککڑی اگتی ہے سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں (واللہ اعلم) 6:۔ طبرانی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین خصلتیں جس میں ہوں گی تو وہ اونچے درجات کو نہیں پہنچے گا جو غیب دانی کا عمل کرتا ہے جو جوئے کے تیر نکالتا ہے اور جو کسی فال کی وجہ سے سفر سے واپس آجاتا ہے۔ 7:۔ اصبہانی نے ترغیب میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے بھائی کو بادشاہ کے پاس لے جائے نیکی پہنچانے کی خاطریا اس سے تکلیف دور کرنے کی خاطر تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند کردیں گے۔ 8:۔ ابن مبارک نے زہد میں اور ابونعیم نے حلیہ میں عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک مخلوق کو جنت میں داخل فرمائیں گے ان کو اتنی نعمتیں عطا فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ اکتا جائیں گے اور ان کے اوپر کچھ لوگ اونچے درجوں میں ہوں گے جب وہ ان کی طرف دیکھیں گے ان کو پہچان لیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ تھے آپ نے ان کو کیوں فضیلت دی ؟ ان سے کہا جائے گا ارشاد ہوگا دور ہوجاؤ یہ وہ لوگ ہیں جو بھوکے رہتے تھے جب کہ تم پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور وہ پیاسے رہتے تھے جب کہ تم سیر ہو کر پیتے تھے اور وہ (عبادت کے لئے) کھڑے ہوتے تھے جب تم سو رہے ہوتے تھے اور تم شکستہ ہوتے تھے اور وہ بلند ہوتے تھے۔ کثرت ذکر اللہ بلندی مقام کا سبب ہے : 9:۔ احمد نے زہد میں ابن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اور اس کا غلام جنت میں داخل ہوں گے تو اس کا غلام ایک درجہ اس سے بلند ہوگا مالک کہے گا اے میرے رب ! یہ دنیا میں میرا غلام تھا ؟ اس سے کہا جائے گا کہ یہ تجھ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا تھا۔ 10:۔ ابوداود اور ابن مردویہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اونچے درجوں والے اہل جنت کو نیچے والے ایسے دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو آسمان کے افق پر اور بلاشبہ ابوبکر وعمر ؓ ان بلند درجات والوں میں سے ہیں اور زیادہ نعمتیں پائیں گے۔