12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

ان کے بیٹے کہنے لگے کہ اے ابا جی ہماری گناہوں کی مغفرت کے لئے دعا کیجئے بلاشبہ ہم خطا کرنے والے ہیں

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لئے مغفرت کے لئے دعا کروں گا بلاشبہ وہ غفور ہے رحیم ہے

اپنی اولاد کے حق میں استغفار : 1:۔ ابوعبید و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کے لئے دعا کو موخر فرمایا سحری کے وقت تک۔ 2:۔ ابن منذر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو سحری کے وقت تک اور آپ صبح کی نماز سحری کے وقت میں پڑھتے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کے لئے استغفار کرنے میں کیوں دیر کی۔ فرمایا ان کو سحری کے وقت تک موخر فرمایا۔ اس لئے کہ سحری کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یعقوب (علیہ السلام) کے قول (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے متعلق فرمایا کہ جمعہ کی رات آجائے گی تو میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ 5:۔ ترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وان مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ یہ قرآن میرے سینے میں نہیں ٹھہرتا اور میں اسے یاد رکھنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ نے فرمایا اے ابوالحسن (یہ ان کی کنیت تھی) میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاوں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ تجھ کو نفع دیں گے اور اسے بھی نفع دیں گے۔ جس کو تو یہ کلمات سکھائے گا اور جو توسیکھے گا تو وہ تیرے دل میں ٹھہرجائے گا عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو سکھائیے آپ نے فرمایا جب جمعہ کی رات ہو اگر طاقت رکھے تو آخیر تہائی رات میں کھڑا ہوجا۔ کیونکہ وہ ایسی گھڑی ہے جس کی شہادت دی گئی۔ اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ یہاں تک کہ جمعہ کی رات آجائے۔ اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو رات کے نصف میں کھڑا ہوجا۔ اگر تو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو رات کی ابتداء میں کھڑا ہوجا۔ پھر چار رکعت پڑھ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة یسین پڑھ۔ اور دوسری رکعت میں فاتحہ الکتاب اور حم دخان پڑھ اور تیسری رکعت میں فاتحہ الکتاب اور الم تنزیل سجدہ پڑھ اور چوتھی رکعت میں فاتحہ الکتاب اور تبارک المفصل پڑھ جب تو تشہد سے فارغ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرو اور مجھ پر درود بھیجو اور سارے نبیوں پر اور استغفار کرو مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے ایمان پر سبقت لے جانے والے بھائیوں کے لئے استغفار کرو۔ اور پھر یہ آخر میں کہہ لے۔ اللہم ارحمنی بترک المعاصی ابدا ما ابقیتنی وارحمنی ان اتکلف مالا یغنی وارزقنی حسن النظر فیما برضیک عنی اللہم بدیع السموات والارض ذا الجلال والاکرام والعزۃ التی لاترام اسئلک یا اللہ یا رحمن بجلالک ونوروجھک ان تلزم قلبی، حفظ کتابک کما علمتنی وارزقنی ان اتلوہ علی النحوالذی یرضیک عنی اللہم بدیع السموات والارض ذالجلال والاکرام والعزۃ التی الاترام اسئلک یا اللہ یارحمن بجلالک ونور وجھک ان تنور بکتابک بصری وان تطلق بہ لسانی وان تفرج بہ عن قلبی وان تشرح بہ صدری وان تغسل بہ بدنی فانہ لا یعیتنی علی الحق غیرک ولا یوتیہ الا انت ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما گناہ کے چھوڑنے ہمیشہ جب تک تو مجھے باقی رکھے اور مجھ رحم فرما کہ میں تکلیف دیا جاوں اس کام کی جس کو میں برداشت نہیں کرسکتا اور مجھ کو اچھا دیکھنا عطا فرما، ان کاموں میں کہ جس سے آپ راضی ہوں میری طرف سے اے اللہ ! اے بےمثال کے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے جلال اور اکرام والے اور اس عزت والے جس کے حاصل کرنے کا قصد نہیں کیا جاتا۔ اے اللہ اے الرحمن میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے جلال اور آپ کے چہرے کے نور کے ساتھ کہ میرے دل کو لازم کردے اپنی کتاب کے یاد کرنے سے جسے آپ نے مجھ کو سکھایا اور مجھ کو عطا کردیجئے یہ بات کہ میں اس کی تلاوت کروں اس طریقہ پر جو آپ کو راضی کردے۔ اے اللہ اے آسمانوں اور زمین کے بےمثال پیدا کرنے والے جلال اور اکرام والے اور ایسی غیرت والے کہ جس کے حاصل کرنے کا قصد نہیں کیا جاتا۔ اے اللہ اے الرحمن میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے جلال اور آپ کے چہرہ کے نور کے ساتھ کہ اپنی کتاب سے میری زبان کو چلا دے اور میرے دل میں راحت اور آرام کو کردے اور میری سینہ کو اس کے ذریعہ کھول دے اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو کھول دے۔ اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے۔ کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی حق پر مدد کرسکتا اور نہ اس کو کوئی دے سکتا ہے مگر آپ نہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کی ہمت مگر اس اللہ کی مدد کے ساتھ جو بلند اور بڑی ذات ہے۔ اے ابوالحسن ! یہ وظیفہ تین جمعہ کر یا پانچ یا سات جمعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس ذات کی قسم جس نے مجھ حق کے ساتھ بھیجا ہے مومن کی دعا رد نہیں کی جائے گی ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! حضرت علی پانچ یا سات جمعے انہوں نے یہ عمل کیا یہاں تک وہ آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس مجلس میں اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ پہلے میں چار آیات اور اس جیسی (کوئی آیت) یاد نہیں کرسکتا تھا جب بھی چار آیات پڑھتا تو وہ مجھے بھول جاتی تھیں اور اب میں چالیس آیتیں اس جیسی اور آیتیں سیکھتا ہوں جب میں ان کو زبانی پڑھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے گویا کہ میری آنکھوں کے سامنے کتاب اللہ موجود ہے اور میں حدیث کو سنتا تھا پھر جب اس کو دہراتا تھا تو وہ مجھے بھول چکی ہوئی تھی لیکن آج میں کئی احادیث کو سنتا ہوں اور ان میں سے کوئی بھی مجھے نہیں بھولتی رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا رب کعبہ کی قسم اے ابوالحسن تو مومن ہے۔ 6:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عمروبن قیس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ رات کی نماز میں میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کے لئے ان کے بیٹوں کو جمع فرمایا اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں تو آپ کے بیٹے علیحدہ ہو کر سرگوشی کرنے لگے انکے بعض نے بعض سے کہا کہ تم نہیں جانتے جو کچھ تم نے کہا اور جو کچھ تم سے اس بوڑھے (والد) کو تکلیف پہنچی یہ سارے بھائی یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے بیٹھ گئے اور یوسف (علیہ السلام) اپنے والد کے پہلو میں بیٹھے رہے انہوں نے کہا اے ہمارے باپ آج ہم آپ سے ایک ایسی گزارش کرنے آئے ہیں جو پہلے کبھی نہیں کی اور ہم ایسی پریشانی میں مبتلا ہیں کہ ایسی پریشانی کبھی نہ آئی یہاں اور کہنے لگے کہ انبیاء (علیہم السلام) مخلوق پر بہت رحم کرنے والے ہوتے ہیں یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے بیٹو ! تم کیا کہنا چاہتے ہو انہوں نے کہا کیا آپ نہیں جانتے جو ہماری طرف سے تمہیں تکلیف پہنچی اور جو کچھ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا ان دونوں نے فرمایا کیوں نہیں پھر انہوں نے کہا کیا تم دونوں نے ہم کو معاف نہیں کردیا دونوں نے کہا کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا بلاشبہ تمہارا معاف کرنا ہم کو کوئی فائدہ نہ دے گا اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو معاف نہ فرمایا اب تمہارا کیا ارادہ ہے اے میرے بیٹو ! انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس یہ بات آجائے گی کہ اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے تو ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور ہمارے دل مطمئن ہوں گے ورنہ ہم کو اس دنیا میں کبھی سکون نہیں ہوگا (اس پر بوڑھے شیخ) (یعنی یعقوب (علیہ السلام) کھڑے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کیا اور یوسف (علیہ السلام) اپنے والد کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ اور ان دونوں کے پیچھے (سب بھائی) کھڑے ہوئے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور یوسف (علیہ السلام) نے آمین کہا بیس سال تک ان بارے میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ جب بیسواں سال شروع ہوا تو جبرائیل (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) کے پاس نازل ہوئی اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بھیجا ہے کہ میں آپ کو خوشخبری دیدوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا آپ کی اولاد کے بارے میں قبول کرلی ہے اور معاف کردیا ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا اور آپ کے بعد نبوت پر انکا عہد لیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بھائیوں کے ظلم کا تذکرہ : 8:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کے لئے ان کے بیٹوں کو جمع فرمایا دیا تو یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا مجھ کو بیان کر جو تیرے ساتھ تیرے بھائیوں نے کیا تھا انہوں نے بیان کرنا شروع کیا تو آپ پر غشی طاری ہوگئی یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے باپ ! یہ میرے لئے آسان نہیں ہے اس کا بیان کرنا جو کچھ انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹو ! کیا تمہارے لئے کوئی عذر ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے اپنے کئے پر معافی مانگنے سے ڈرتے ہو۔ کہ تم سے پوچھا جائے گا اس کام سے جو تم نے کیا۔ انہوں نے کہا ہمارے باپ وہ معاملہ ہوچکا (اب) ہمارے لئے استغفار کیجئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کو یہ عزت بخشی تھی کہ جب بھی وہ کوئی گزارش کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کی گزارش کو قبول فرما لیتے پہلے دن میں یا دوسرے میں یا تیسرے دن میں ہر حال میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جب سحری کا وقت ختم ہو تو تم غسل کرنا پھر اچھا خوبصورت لباس پہن کر میرے پاس آجانا انہوں نے ایسا ہی کیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے یعقوب (علیہ السلام) انکے آگے کھڑے ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) ان کے پیچھے اور وہ (سب بھائی) یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے (کھڑے ہوئی) سورج کے طلوع ہونے تک دعامانگتے رہے لیکن توبہ نازل نہیں ہوئی۔ پھر دوسرے دن پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا جب چوتھی رات تھی تو کھڑے ہوئے اور آپ کے بیٹے بھی بیس سال اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ آپ نے ان کے لئے توبہ کی اور میں نے ان کی توبہ کو قبول کرلیا یعقوب (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب نبوت بھی ان کو دی جائے فرمایا میں نے نبیوں میں ان کا عہد لے لیا ہے۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے لڑکوں کی توبہ قبول نہیں ہوئی مگر بیس سال کے بعد آپ اپنے بیٹوں کے آگے کھڑے ہوئے توبہ قبول نہیں ہوئی یہاں تک کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئی اور ان کو یہ دعا سکھائی۔ یارجاء المومنین لا تقطع رجاءنا یا غیاث المومنین اغثنا یا مانع المومنین امنعنا یا مجیب التائبین تب علینا۔ ترجمہ : اے ایمان والوں کی امید ہماری امید کو نہ کانٹے اے ایمان والو کی مدد کرنے والے ہماری مدد فرمائیے اے ایمان والوں کو روکنے والے ہم کو روک دیجئے اے توبہ قبول کرنے والے ہماری توبہ قبول کیجئے۔ (اس دعا کو) انہوں نے سحری کے وقت تک موخر فرمایا پھر (سحری کے وقت میں) دعا فرمائی تو انکی توبہ قبول کرلی گئی۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے لیث بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بیس سال تک (دعا کے لئے) کھڑے ہوتے رہے (اور) معافی طلب کرتے رہے (اس معاملے سے) جو یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ کیا تھا تو ان سے قبول نہیں کی گئی یہاں تک کہ جبرائیل یعقوب (علیہ السلام) سے ملے اور ان کو یہ دعا سکھائی۔ یارجاء المومنین لاتخیب رجائی یا غیاث المومنین اغثنی یا عون المومنین اغثنی یا حبیب التوابین تب علی، ترجمہ : اے ایمان والوں کی امید ہمارے امید کو ناکام نہ کیجئے اے ایمان والوں کی مدد کرنے والے میری مدد فرمائیے ایے ایمان والوں کی مدد کرنے والے میری مدد کیجئے اے توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے میری توبہ قبول کیجئے۔ (یہ دعا کرنے اللہ تعالیٰ نے) ان کی دعا کو قبول فرمایا۔ 11:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ابن جریجرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” سوف استغفرلکم ربی “ سے لے کر ان شآء اللہ امنین “ تک کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میں تمہارے لئے اپنے رب سے استغفار کروں گا انشاء اللہ استغفر ربی اور انشاء اللہ کے درمیان جو کلام ہے یہ قرآن مجید کی تقدیم اور اس کی تاخیر میں سے ہے ابوعبید نے فرمایا کہ ابن جریج فرماتے ہیں کہ انشاء اللہ یعقوب (علیہ السلام) کے کلام میں سے ہے جب آپ نے فرمایا تھا داخل ہوجاؤ مصر میں۔ 12:۔ ابن جریر (رح) نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا واقعہ ہمارے سامنے اس لئے بیان نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ ان کو عار دلائے۔ کیونکہ وہ انبیاء میں سے تھے اور جنت والوں سے تھے لیکن اس واقعہ کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ اس کا بندہ مایوس نہ ہو اس کی رحمت سے۔
Ayahs 12:99–100

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس ٹھکانہ دیا، اور کہا کہ مصر میں انشاء اللہ امن وامان کے ساتھ داخل ہوجائیے

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اوپر بٹھایا اور وہ لوگ اس کے سامنے سجدہ میں گرگئے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اے اباجان یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اس کو سچا کردیا اور میرے ساتھ احسان فرمایا جبکہ مجھے جیل سے نکالا اور آپ لوگوں کو دیہاتی علاقہ سے لے آیا اس کے بعد شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، بیشک میرا رب جو چاہتا ہے اس کی لطیف تدبیر فرماتا ہے بیشک وہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے

مصر میں داخل ہونے کے وقت کے حالات : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) کے ملک مصر میں داخل ہوئے اور وہ 180 سال کے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی بادشاہی میں تیس سال زندہ رہے۔ اور یوسف (علیہ السلام) نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم خلیل اللہ کی عمر 195 سال کی تھی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” اوی الیہ ابویہ “ کے بارے میں فرمایا انہوں نے اپنے والد اور اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملالیا (یعنی اپنے ساتھ بٹھایا) 3:۔ ابن ابی حاتم اوبوالشیخ رحمہما اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “ میں ابویہ سے مراد ان کا والد اور ان کی خالہ ہیں اور یوسف کی والدہ ان کے بھائی یامین کے نفاس (کے خون) کے دوران فوت ہوگئی تھیں۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفع ابویہ “ سے مراد ہے کہ اس کی خالہ تھیں۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “ یعنی تخت شاہی پر بٹھایا۔ 6:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “ سے مراد ہے تخت شاہی۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد آپ کی مجلس (خاص) ہے (کہا اس میں ان کو بٹھایا) 8:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وخروالہ سجدا “ کے بارے میں فرمایا کہ پہلے لوگوں کا سلام سجدہ تھا سجدہ کے ساتھ وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو جنت والوں کا سلام عطا فرمایا یہ عزت و کرامت ہے اللہ کی طرف سے تو ان کو عطا فرمائی اور نعمت ہے ان کی طرف سے۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخروالہ سجدا “ سے مراد ہے کہ یہ سجدہ بطور شرف کے تھے (عبادت کے لئے نہ تھے) جیسے فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو بطور شرف کے سجدہ کیا اور یہ سجدہ عبادت کے لئے نہیں تھا۔ 10:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وخروالہ سجدا “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان کے والدین اور ان کے بھائیوں نے یوسف کے لئے سجدہ کیا اپنے سروں کو جھکائے ہوئے عجمی لوگوں کی طرح اور یہ سلام اس طرح تھا جیسا کہ آج کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک و سفیان رحمہما اللہ دونوں سے روایت فرمایا کہ یہ ان کا سلام تھا۔ 12:۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا نے کتاب العقوبات میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں سلیمان فارسی ؓ سے فرمایا کہ یوسف کے خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا (یعنی خواب کی تعبیر چالیس سال بعد پوری ہوئی) 13:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابوالشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا اور خواب کی انتہاء یہاں تک پہنچی ہے۔ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے درمیان 35 سال کا فاصلہ تھا (خواب اور تعبیر کے درمیان) 15:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ خواب اور تعبیر کے درمیان اسی سال کا فاصلہ تھا۔ 16:۔ ابن جبیر والحاکم وابن مردویہ نے فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی والد سے جدائی اور ملاقات کے درمیان اسی 80 سال کا فاصلہ تھا۔ 17:۔ ابن جبیر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ان دونوں کے درمیان ستتر 77 سال (جدائی رہی) 18:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں وابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کنویں میں ڈال دیئے گئے اور وہ سترہ 17 سال کے تھے پھر اپنے والد سے اسی 80 سال کے بعد ملے اور اس کے بعد تیس سال تک زندہ رہے اور ایک سوبیس سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ 19:۔ ابن مردویہ نے زیادرحمۃ اللہ علیہ سے مرفوع روایت کیا فرمایا کہ یوسف بیس سے کچھ اوپر سال غلامی میں رہے۔ 20: عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حذیفہ ؓ سے فرمایا اور یوسف (علیہ السلام) کے فراق اور ملاقات کے درمیان ستر سال کا فاصلہ تھا۔ 21:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے علی بن ابی طلحہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وجآء بکم من البدو “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کنعان میں تھے اور مال مویشی پالنے والے دیہاتی لوگ تھے۔ 22:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وجآء بکم من البدو “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ دیہات کے رہنے والے اور مویشی پالنے والے تھے۔ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے درمیان اسی 80 فرسخ کا فاصلہ تھا۔ اور اس سے پہلے ان کی جدائی ستر سال سے کچھ اوپر تھی۔ 23:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان ربی لطیف لما یشآء “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) پر مہربانی فرمائی اور ان کی مدد فرمائی جب ان کو جیل سے نکالا اور ان کے اہل و عیال کو دیہات سے لے آیا اور ان کے دل سے شیطان کی ناچاقی کو نکال دیا اور اپنے بھائیوں سے انتقام کو بھی نکال دیا۔ 24:۔ ابوالشیخ (رح) نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ جب یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان سے جلدی سے ملاقات کی اور بادشاہوں والا لباس پہنا۔ اور فرعون مصر نے بھی اس نے ملاقات کی یوسف (علیہ السلام) کے اکرام کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے فرمایا کہ فرعون نے ہمارا اکرام کیا ہے۔ تو اس کے لئے کچھ کلمات (دعائیہ) ارشاد فرمائیں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون تو برکت دیا جائے۔ 25:۔ ابوالشیخ (رح) نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) (دونوں آپس میں) ملے تو ان میں سے ہر ایک نے معانقہ کیا اور رونے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے والد ! آپ مجھ پر روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں چلی گئیں کیا آپ نہیں جانتے کہ قیامت ہم کو جمع کردے گی ؟ فرمایا کیوں نہیں اے میرے بیٹے لیکن میں خوف کرتا رہا کہ تیرا دین تجھ سے چھین نہ لیا جائے میرے اور تیرے درمیان یہ چیز حائل نہ ہوجائے۔ موت کے وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت : 26:۔ ابوالشیخ (رح) نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کو جب موت حاضر ہوئی تو یوسف سے فرمایا میں تجھ سے دو خصلتوں کا سوال کرتا ہوں اور تجھ کو دو چیزیں دیتا ہوں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنے بھائیوں کو معاف کردے اور ان سے بدلہ نہ لے جو انہوں نے تیرے ساتھ کیا اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب مرجاوں تو مجھ کو سواروں پر سوار کرلینا اور مجھ کو میرے آباواجداد ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ دفن کرنا اور میں تجھ کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ میری موت کے آنکھیں بند کردینا اور اپنے بیٹوں کو السباط میں داخل کر دنیا۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کو اپنے والد کے چہرے پر رکھا تاکہ ان کی آنکھوں کو بند کرے تو انہوں نے اپنی آنکھیں کھول لیں اور فرمایا اے میرے بیٹے کہ یہ معاملہ بیٹوں کی طرف سے آباواجداد کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ہے۔ 27:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کے نبی یعقوب (علیہ السلام) وفات پاگئے تو ان پر نوحہ کرنے والیاں چار ماہ تک بیٹھیں رہیں (یعنی نوحہ کرتے رہے ) ۔ 28:۔ احمد (رح) نے الزہد میں مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ جب ان کا آخری وقت تھا تو اپنے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کو تو فرمایا اپنے ہاتھ کو میرے پیٹھ کے نیچے داخل کردو۔ اور یعقوب (علیہ السلام) کے رب کے واسطے سے میری لئے قسم اٹھا کر مجھ کو دفن کرو گے میرے آباواجداد کے ساتھ کیونکہ میں شریک تھا ان کے ساتھ عمل میں پس مجھ کو شریک کر ان کے ساتھ قبروں میں جب یعقوب وفات پاگئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ان کو کنعان کی زمین میں لے آئے اور ان کے ساتھ ان کو دفن کردیا۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر سکھائی، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے آپ ہی دنیا اور آخرت میں میرے کارساز ہیں مجھے اس حالت میں موت دینا کہ میں فرماں بردار ہوں اور مجھے نیک بندوں میں شامل فرمائیے

اچھی موت کی دعا : 1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی (آیت ) ” رب قد اتیتنی من الملک “ سے لے کر ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین “ تک تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر دانی فرماتے ہوئے۔ ان کی عمر 80 سال زیادہ کی۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب یوسف (علیہ السلام) کو ان کا شوق ہوا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا اور آپ نے اپنے آباء کے ساتھ ملنے کو پسند کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ ان کو فوت کردیں اور ان کو ان کے (آباواجداد) کے ساتھ ملادیں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کسی نبی نے کبھی موت کا سوال نہیں کیا سوائے یوسف (علیہ السلام) کے اور فرمایا (آیت ) ” رب قد اتیتنی من الملک “ الآیہ ابن جریج (رح) نے فرمایا اور میں کہتا ہوں قرآن کی بعض آیات میں (تو مجھے موت دے) الفاظ آتے ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی نبی نے وفات کا سوال نہیں کیا سوائے یوسف (علیہ السلام) کے۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین “ سے مراد ہے کہ مجھ کو وفات دے اپنی اطاعت پر اور مجھ کو بخش دے جب تو مجھ کو فوت کرے۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والحقنی بالصلحین “ سے مراد ہیں ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) ۔ 6:۔ عبد بن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین “ سے مراد ہے جنت والے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کو ملک دے دیا گیا جو کچھ دیا گیا تو ان کا دل مشاق ہوا اپنے آباواجداد کی طرف۔ فرمایا۔ (آیت) ” رب قد آتیتنی من الملک “ سے لے کر ” والحقنی بالصلحین “ تک یعنی ان کے آباواجداد ابراھیم اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ 8:۔ احمد نے الزہد میں ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس ان کے والدین اور ان کے بھائی آگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو سکون اور اطمینان بخشا اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کردیا۔ اور وہ اس دن ڈبوئے ہوئے تھے دنیا کی نعمتوں میں (یعنی آپ پر نعمتوں کے انبار تھے) اپنے صالحین آباواجداد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) سے ملاقات کا۔ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جان قبض کرنے کا سوال کیا۔ اور کسی نے کبھی موت کی تمنا نہیں کی۔ نہ کسی نبی نے اور نہ کسی غیر نبی نے سوائے یوسف (علیہ السلام) کے۔ موت کے وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گفتگو : 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو جب موت حاضر ہوئی تو فرمایا اے میرے بھائیوں میں نے کسی سے انتقام نہی لیا۔ جس نے مجھ پر ظلم کیا دنیا میں اور میں محبوب رکھتا ہوں اس بات کو کہ میں ظاہر کرون نیکی کو اور چھپاوں برائی کو۔ دنیا میں میرا یہ زاد تھا۔ پھر فرمایا اے میرے بھائیو ! میں شریک ہورہا ہوں اپنے آباواجداد کے ساتھ اعمال میں پس مجھ کو شریک کردو ان کے ساتھ ان کی قبروں میں اور ان سے پکا وعدہ لیا مگر انہوں نے ایسانہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے انکی قبر کے بارے میں پوچھا کسی کو نہ پایا جو ان کو بتائے سوائے ایک عورت کے جس کو شارض بنت شیرا بن یعقوب کہا جاتا تھا کہنے لگی میں ایک شرط پر تم کو یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا بتاتی ہوں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تیری شرط کو پورا کردوں گا۔ کہنے لگی میں جوان رہوں جب میری عمر زیادہ ہوجائے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تیری یہ شرط منظور ہے پھر کہنے لگی تیرے ساتھ تیرے درجے میں قیامت کے دن رہوں اس شرط پر پہلے تو آپ رکے۔ لیکن حکم ہوا کہ اس کی شرط کو بھی مان لو۔ آپ نے یہ شرط بھی اس کی مان لی۔ اس عورت نے آپ کی رہنمائی کی۔ آپ نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی قبر سے نکالا اس عورت کی عمر جب پچاس سال تھی تو وہ تیس سال والی لگتی تھی۔ یہاں تک کہ اس عورت نے ایک ہزار سال چھ سو سال یا ایک ہزار چار سو سال عمر پائی یہاں تک کہ سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے اس کو پالیا اور اس سے نکاح کیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کہاں ہے ؟ 10:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے ساتھ لے جانے کا حکم فرمایا۔ تو ان کو حکم فرمایا کہ اپنے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو بھی ساتھ لے جاؤ کہ وہ ان کو اپنے پیچھے مصر کی سرزمین میں نہ چھوڑو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں سے یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے متعلق پوچھا۔ کسی کو نہ پایا سوائے ایک بڑھیا کے بنی اسرائیل میں سے کہنے لگی اے اللہ کے نبی ! میں اس کی ایسی جگہ کو جانتی ہوں اگر تو مجھ کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور مجھ کو پیچھے نہ چھوڑ مصر کی زمین میں تو میں تجھ کو اس کا بتادوں گی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا تھا۔ کہ وہ ان کو لے چلیں گے۔ جب فجر طلوع ہوگی اپنے رب سے دعا مانگی کہ اس کے طلوع کو موخر کردے یہاں تک کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی قبر کھودنے سے فارغ ہوجاوں۔ اللہ تعالیٰ نے فجر کو موخر فرما دیا وہ بڑھیا موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر باہر نکلی۔ یہاں تک کہ ان (کی قبر) کو دکھایا دریائے نیل کے کنارے پانی میں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو ایک مرمر کے صندوق میں نکالا۔ اور اس کو اٹھا کرلے گئے۔
Ayahs 12:102–106

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ اور آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہیں تھے، جب انہوں نے اپنے کام کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ تدبیر کررہے تھے

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اگرچہ آپ حرص کریں

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ اس پر ان سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتے یہ تو جہاں والوں کے لئے نصیحت ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر یہ لوگ گذرتے ہیں اور وہ ان سے اعراض کئے ہوئے ہیں

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر اس حال میں کہ شرک کرنے والے ہیں۔

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی آیتیں ہیں آسمان میں یعنی اس کا سورج اس کا چاند اس کے ستارے اور اس کا بادل اور اس میں (کتنی نشانیاں ہیں) جو اس کی مخلوق میں سے ہیں۔ نہریں، پہاڑ شہر اور محلات۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عبداللہ ؓ کے مصحف میں یوں ہیں (آیت) ” وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا “ آسمان اور زمین دو بڑی نشانیاں ہیں۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون “ کے بارے میں فرمایا ان سے سوال کیجئے کس نے ان کو پیدا کیا اور کس نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا ؟ تو وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ ان کا ایمان تھا جبکہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ 6:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ بلاشبہ ان کا رب ہے وہی ان کا خالق اور رازق ہے لیکن اس کے باوجود وہ شرک بھی کرتے ہیں۔ 7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا یہ ایمان ہے کہ وہ یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا فرمایا اور وہی ہم کو رزق دیتا ہے۔ اور وہی ہم کو موت دے گا تو یہ ایمان ہے لیکن وہ غیر اللہ کی عبادت کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔ 8:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے تلبیہ میں شرک کرتے ہوئے کہتے تھے۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وملک : ترجمہ : اے اللہ میں حاضر ہو، حاضر ہوں ساتھ کوئی شریک نہیں وہ شریک جس کو تو نے شریک بنایا تو اس کا بھی مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے تو اس کا بھی مالک ہے۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ منافق ہے جو ریاکاری سے عمل کرتا ہے اور شرک ہے اپنے عمل کی وجہ سے۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس بات سے مطمئن ہیں کہ ان پر اللہ کی طرف سے عذاب کی کوئی ایسی آفت آپڑے جو ان کو گھیرلے یا تم پر اچانک آپڑے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ من عذاب اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ کا عذاب ان کو ڈھانک لے گا۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ من عذاب اللہ “ سے مراد ہے عذاب واقع ہونے والا جو ان کو ڈھانک لے گا۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ “ سے مراد ہے ایسی سزا جو ان پر چھاجائے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں بصیرت پر ہوں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میرا اتباع کیا، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ یعنی میری دعوت ہے۔ 2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن جریر اور ابوالشیخ (رح) سے روایت کیا کہ انس ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ یعنی میری نماز۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زیادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ سے مراد ہے کہ میرا حکم میرا طریقہ اور میرا راستہ۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے راویت کیا کہ (آیت) ” علی بصیرۃ “ یعنی میں ہدایت پر ہوں (آیت) ” انا ومن اتبعنی “ (اور وہ بھی ہدایت پر ہے جو میری پیروی کرتے ہیں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

ترجمہ : اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب آدمی تھے جو مختلف بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے، ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھر سو وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گذرے اور البتہ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے تقوی اختیار کیا کیا تم سمجھ نہیں رکھتے

نبوت صرف مردوں کو ملی : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اھل القری “ کہ پہلے انبیاء کرام بھی آسمان والوں میں سے نہیں تھے جیسے تم نے کہا تھا۔ 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے کہا (آیت) ” ماانزل اللہ علی بشر من شیء “ (کہ اللہ تعالیٰ نے کس بشر پر کچھ نہیں اتارا) ابن جریج نے فرمایا (آیت) ” وما اکثرالناس ولو حرصت بمومنین “ (اور) ” وما تسئلہم علیہ من اجر “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت ) ” افامنوان تاتیہم غاشیۃ من عذاب اللہ “ اور یہ قول (آیت ) ” افلم یسروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم “ کہ یہ سارے ارشادات قریش کے لئے ہیں کہ کیا وہ زمین میں سیروسیاحت نہیں کرتے اور وہ دیکھتے انکے آثار کو اور عبرت حاصل کرتے اور غور وفکر کرتے۔ 3:۔ ابن جریر وابن وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اھل القری “ یعنی ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول بھیجا ہو کبھی بھی مگر بستی والوں میں سے کیونکہ وہ زیادہ جاننے والے تھے اور زیادہ جاننے والے تھے اور زیادہ فیصلہ کرنے والے تھے۔ سردار لوگوں میں سے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” افلم یسروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم “ کے بارے میں فرمایا پس وہ دیکھیں کیسے عذاب دیا اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو قوم لوط کو قوم صالح کو اور دوسری امتوں کو جن کو عذاب دیا گیا۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہوگئے اور انہیں یہ گمان ہوگیا کہ ہماری فہم نے غلطی کی تو ہماری مدد ان کے پاس آگئی پھر ہم نے جس کو چاہا اسے نجات دے دی گئی اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹایا جاتا

1:۔ ابوعبید البخاری النسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عروہ (رح) کے راستہ سے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ کے بارے میں پوچھا اور میں نے کہا (بغیر تشدید کے) ہے یا کذبوا (تشدید کے ساتھ) ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا بلکہ کذبوا تشدید کے ساتھ ہے میں نے کہا اللہ کی قسم انبیاء نے یقین کرلیا کہ انکی قوم نے ان کو جھٹلادیا۔ تو بھی اس آیت میں ظن (یعنی گمان) کے ذکر کا کیا مطلب ہے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا ہاں میری عمر کی قسم انہوں نے ان کو اس بات کا یقین تھا میں نے کہا شاید کہ (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ میں کذبوتخفیف کے ساتھ ہو عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کی پناہ رسول ایسے نہیں ہوتے کہ ان کو اس کا گمان ہو اپنے رب کے ساتھ میں نے کہا تو اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا یہ گمان کرنے والے رسولوں کے تابعداری کرنے والے تھے۔ (یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اپنے رب کے ساتھ اور ان کی تصدیق کی اور ان پر آزمائش لمبی ہوگئ اور فتح ونصرت پہنچنے میں تاخیر ہوگئی یہاں تک کہ جب رسول اللہ ﷺ مایوس ہوگئے اپنی قوم کے ان لوگوں سے جنہوں نے ان کو جھٹلایا ان کی قوم میں سے اور رسولوں نے گمان کیا کہ ان کی تابعداری کرنے والوں نے جھٹلادیا ہے تو اس وقت ان کے پاس اللہ کی مدد آتی۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر والطبرانی ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے ان پر پڑھا (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تخفیف کے ساتھ اور وہ کہنے لگے ان سے جو وعدہ کیا گیا تھا اس کی خلاف ورزی کی گئی اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) انسان تھے (ان کا گمان کرنا ہوسکتا ہے) پھر انہوں نے (یہ آیت) تلاوت کی ” حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ “ (البقرہ آیت 214) ابی ملکیہ نے فرمایا ابن عباس ؓ اس طرف گئے کہ انبیاء اکرام مایوس ہوگئے۔ اور کمزور پڑگئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جو وعدہ کیا گیا ہے اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ابن ملکیہ نے فرمایا کہ مجھے عروہ نے خبردی عائشہ ؓ کی طرف سے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کی مخالفت کی اور اس کا انکار کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے جو بھی وعدہ فرماتا ہے ہو جانتا ہے کہ وہ عنقریب پورا ہوگا اس کی موت سے پہلے لیکن برابر آزمائش دی رسولوں کے ساتھ یہاں تک کہ انہوں نے گمان کیا کہ ان کے ساتھ جو ایمان والے ہیں انہوں نے ان کو جھٹلایا اور وہ اس کو پڑھتی تھیں (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تشدید کے ساتھ تکذیب کے لئے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عروہ کے راستہ سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تشدید کے ساتھ۔ 4:۔ ابن مردویہ نے عمرہ کے راستہ سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تخفیف کے ساتھ۔ 5:۔ ابوعبید و سعید بن منصور والنسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھا کرتے تھے (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ تخفیف کے ساتھ اور فرماتے تھے کہ رسل اپنی قوموں سے مایوس ہوگئے کہ وہ ان کی دعوت قبول کریں گے اور ان کی قوم نے گمان کیا کہ رسولوں نے ان سے جھوٹ بولا۔ جو کچھ وہ لے کر آئے (آیت ) ” جآءھم نصرنا “ (اس وقت ہماری مدد آپہنچی ) ۔ 6:۔ عبدالرزاق سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر والطبرانی وابوالشیخ رحمہم اللہ نے تمیم بن حرام (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن مسعود ؓ کے سامنے قرآن کی قرأت کی انہوں نے مجھے نہیں پکڑا مگر دو حرفوں پر (پہلا) (آیت) ” وکل اتوہ دخرین “ فرمایا تو وہ تخفیف کے ساتھ اور میں نے ان پر یہ (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تو انہوں نے فرمایا کذبوا تخفیف کے ساتھ (آیت ) ” استیئس الرسل “ یعنی رسول اپنی قوم کے ایمان سے (مایوس ہوگئے) کہ وہ ایمان لائیں گے اور ان کی قوم نے گمان کیا جب مدد آنے پر تاخیر ہوئی اور کہنے لگے (آیت) ” انھم قد کذبوا “ کہ ان سے وعدہ خلافی کی گئی۔ 7:۔ ان مردویہ نے ابوالاشعری کے راستہ سے ابن مسعودؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سورة یوسف میں سے حفظ کیا (آیت ) ” وظنوا انہم قد کذبوا “ تخفیف کے ساتھ۔ س 8:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ربیعہ بن کلثوم (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ مسلم بن یسار ؓ نے سعید بن جبیر (رح) سے پوچھا کہ اے ابوعبیداللہ کہ ایک آیت مجھے پہنچی ہے (یعنی) (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ پس یہ معصیت ہے اگر ہم گمان کریں کہ رسولوں سے اس آیت کا مطلب یہ ہے۔ سعید بن جبیر نے فرمایا (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل “ (کہ رسول مایوس ہوگئے) اپنی قوم سے کہ وہ ان کی دعوت کو قبول کریں گے اور ان کی قوم نے گمان کیا کہ رسولوں نے ان سے جھوٹ بولا (آیت ) ” جآءھم نصرنا “ (کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی) تو مسلم کھڑے ہوئے سعید کی طرف اور ان سے معانقہ فرمایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تم سے ہر پریشانی کو دور کردے جیسے تو نے مجھ سے اس پریشانی کو دور کردیا۔ س 9:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابوحمزہ جزری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے کھانا تیار کیا اور میں نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو دعوت دی ان میں سے سعید بن جبیر اور ضحاک بن مزاحم بھی تھے۔ قریش میں سے ایک نوجوان نے سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اور کہا اے ابوعبید اللہ یہ آیت آپ کس طرح پڑھتے ہیں جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے یہ تمنا کی کہ میں اس سورة کو نہیں پڑھوں گا۔ (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا ” حتی اذا استیئس الرسل “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اپنی قوم سے مایوس ہوگئے کہ وہ ان کی تصدیق کریں گے اور جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے (تو انہوں نے گمان کیا) (آیت ) ” انہم قد کذبوا “ کہ رسولوں سے وعدہ خلافی کی گئی ہے ضحاک (رح) نے فرمایا اگر میں اس آیت کے لئے یمن کی طرف سفر کرتا تب بھی وہ کم ہوتا۔ 10:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا ” کذبوا “ کاف کے فتحہ اور ذال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا اور فرمایا رسول مایوس ہوگئے اپنی قوم کو عذاب ملنے سے اور ان کی قوم نے گمان کیا کہ رسولوں نے جھوٹ بولا (آیت ) ” جآءھم نصرنا “ پھر رسولوں کے پاس ہماری مدد آپہنچی مجاہد (رح) نے فرمایا اور مومن کے بارے میں فرمایا (آیت) ” فلما جآءتم رسلہم بالبینت فرحوا بما عندھم من العلم “ (غافرہ آیت 83) ان کی قوم نے کہا جب رسول ان کے پاس آئے کہ ہم زیادہ جانتے ہیں ان میں سے کہ ہم کو ہرگز عذاب نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت ) ” وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون (83) “ یعنی ان کو گھیر لیا (اس عذاب نے) جس کا وہ مذاق کرتے تھے۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنجی من نشآء “ یعنی ہم نے نجات دی رسولوں کو اور جس کو ہم نے چاہا (آیت ) ” ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین “ اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا جو اپنی قوم کو بلاتے ہیں۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو اللہ کی نافرمانی کرے گا۔ اس کو عذاب ہوگا اور وہ گمراہ ہوگا۔ 12:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جآءھم نصرنا “ سے مراد عذاب۔ 13:۔ ابوالشیخ (رح) نے نصر بن عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت) ” جآءھم نصرنا “۔ 14:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوبکر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت) ” جآءھم نصرنا “۔ 15:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا یرد باسنا “ سے مراد ہے اس کا عذاب (نہیں ٹالا جائے گا)
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ ان کے قصوں میں عقل والوں کے لئے عبرت ہے یہ قرآن ایسی کوئی بات نہیں ہے جو تراشی ہوئی ہو بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوئی ہیں یہ کتاب ان کی تصدیق کرنے والی ہے اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والی ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں

قرآنی حکایات عبرت کے لئے ہیں : ا :۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد کان فی قصصہم عبرۃ “ سے مراد ہے یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں۔ 2:۔ ابن جریروابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد کان فی قصصہم عبرۃ “ سے مراد ہے مغفرت (آیت) ” لاولی الالباب “ یعنی عقل والوں کے لئے۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما کان حدیثا یفتری “ سے مراد ہے جھوٹ (آیت) ” ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “ یعنی یہ قرآن تصدیق کرتا ہے ان کتابوں کی جو ان سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے وہ جو اس سے پہلے نازل ہوئیں اپنے انبیاء پر یقینی تورات، انجیل اور زبور یہ (کتابیں یعنی قرآن مجید) ان سب کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس پر گواہی دیتی ہے کہ یہ ساری کتابیں سچی تھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے (آیت) ” و تفصیل کل شیء “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تفصیل بیان فرمائی اس کے ذریعہ اس کے حرام کی اور اس کے حلال کی اور اس کی اطاعت کی اور اس کے گناہ کی۔ 4:۔ ابن السنی والدیلمی رحمہما اللہ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورت پر اس کی ولادت میں تنگی ہو تو ایک صاف برتن لے کر اس پر لکھے (آیت) ” کانہم یوم یررون مایوعدون “ (الاحقاف آیت 35) سے آیت کے آخرت تک اور ” کانہم یوم یرونھا “ (النازعات آیت 46) سے لے کر آیت کے آخر تک اور (آیت) ” لقد کان فی قصصہم عبرۃ “ آیت کے آخر تک پھر اس کو دھولو اور اس میں عورت کو پلاؤ اور اس کے پیٹ اور شرم گاہ پر چھڑکو۔ الحمد للہ سورة یوسف ختم ہوئی :