12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 12:81–83

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم لوگ اپنے والد کے پاس چلے جاؤ اور ان سے کہو کہ اے ابا جان بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کرلی اور ہم اس بات کی گواہی دے رہے ہیں جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی باتوں کے حافظ نہیں تھے

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور آپ اس بستی سے پوچھ لیجئے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے پوچھ لیجئے جن میں ہم شامل ہو کر آئے ہیں اور بلاشبہ ہم سچ کہہ رہے ہیں

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہیں ایک بات سجھا دی ہے سو میں صبر جمیل کو ہی اختیار کروں گا امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا بلاشبہ وہ علم والا ہے حکمت والا ہے

ظاہر حال پر شہادت دینا : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ان ابنک سرق “۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ یہ آدمی (یعنی عزیز مصر) نہیں جانتا کہ چور کو پکڑ لیا جاتا ہے اس کی چوری کی وجہ سے مگر تمہاری بات سے ہی اسکو علم ہوا ہوگا۔ اس نے کہا ہم نے وہی کہا جو ہم کو خبر تھی ہم نے جو یہ بیان کیا کہ وہ چور کو چوری کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور یہ وہی بات تھی جو ہم جانتے تھے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص ان کی گواہی لکھے جب ان سے گواہی کو طلب کیا جاتا تھا تو وہ گواہی دیتے تھے اور وہ (یہ آیت) ” وما شھدنا الا بما علمنا “ پڑھتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وما کنا للغیب حفظین “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ عنقریب چوری کرے گا۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنا للغیب حفظین “ یعنی ہم نہیں جانتے تھے کہ تیرا بیٹا چوری کرے گا۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنا للغیب حفظین “ یعنی وہ کہتے تھے کہ ہم کو یہ گمان نہیں تھا کہ تیرا بیٹا چوری کرے گا۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وسئل القریۃ “ سے مراد مصر ہے (اور) (آیت) ” عسی اللہ ان یاتینی بہم جمیعا “ یعنی یوسف اس نے بھائی (بنیامین) اور روبیل (سب کو اللہ تعالیٰ لائیں گے) 8:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عسی اللہ ان یاتینی بہم جمیعا “ یعنی یوسف اس کے بھائی (بنیامین) اور ان کے بڑے بھائی کو جو پیچھے رہ گیا (سب کو اللہ تعالیٰ لائیں گے) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا خط عزیز مصر کے نام : 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو روق (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو چوری کے سبب روک لیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی طرف خط لکھا۔ (جس کا مضمون یہ تھا) یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) عزیز فرعون کی طرف۔ امابعد ! ہم اہل بیت مصیبت میں مبتلا کئے گئے۔ کہ میرے والد ابراہیم اللہ کے لئے آگ میں ڈالے گئے تو انہوں نے صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والا بنادیا اور میرے والد اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کے لئے پیش کیا گیا اللہ کے لئے تو انہوں نے صبر کیا اللہ تعالیٰ نے اس بدلہ میں ایک عظیم دنبہ فدیہ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی بیٹا) عطا فرمایا تھا پھر اس کو چھین لیا گیا اس کے غم میں میری آنکھیں چلی گئیں اور میرا گوشت میری ہڈی پر خشک ہوگیا۔ نہ میری رات، رات ہے، اور نہ میرا دن دن ہے اور وہ قیدی جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بارے میں جو دعوی کیا گیا چوری کا میرے پہلے بچے کا حقیقی بھائی ہے جب میں یوسف کی گمشدگی پر افسوس کرتا ہوں تو میں اپنے اس بیٹے کو قریب بلاتا ہوں پھر اس سے میرے غم اور پریشانی ہلکی ہوجاتی ہے۔ اور مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے اس کو چوری کے سبب سے روک لیا ہے اس کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ میں نے چور کو نہیں جنا اور نہ وہ چور ہے والسلام۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالجلد (رح) سے روایت کیا کہ ان کے بھائیوں نے اس سے (یعنی یوسف (علیہ السلام) سے) کہا۔ اے عزیز ! میرا ایک بھائی تھا میں نے کسی کو بھی تجھ سے بڑھ کر اس کے مشابہ نہیں پایا گویا کہ وہ ایک سورج تھا یوسف (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا یعقوب (علیہ السلام) کے خدا سے سوال کرو کہ وہ تیرے بچپن پر رحم کرے گا اور تیری طرف تیرے بھائی کو لوٹا دے گا۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور ان کی طرف سے رخ پھیرلیا اور کہا کہ یوسف پر افسوس ہے، اور غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں سو وہ گھٹتے رہتے تھے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ یعنی ہائے افسوس۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن منذر رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ یعنی ہائے افسوس یوسف پر۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ سے مراد ہے یا جزعا اے بےصبری میری گھبراہٹ۔ 4:۔ ابوعبید وابن سعید وابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہم اللہ نے یونس (رح) سے روایت کیا کہ جب سعید بن حسن وفات پاگئے تو اس پر حسن ؓ سخت غمگین ہوگئے حسن ؓ سے اس بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے نہیں سنا کہ انہوں نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) یعقوب (علیہ السلام) پر رنج وغم کا اظہار کرنے کی وجہ سے عیب لگایا ہو۔ 5:۔ عبداللہ بن احمد نے روائد الزہد میں وابن جریر نے ابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا (اپنے والد) یعقوب سے نکلنا (یعنی جدا ہونا) سے لے کر لوٹنے کے دن تک اسی سال تھے اس عرصہ میں یہ غم ان کے دل سے جدا نہیں ہوا اور ان کے آنسو ہر وقت ان کے رخساروں پر جاری رہتے تھے اور برابر روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں ضائع ہوگئی (یعنی وہ نابینا ہوگئے) اللہ کی قسم زمین پر اس وقت مخلوق میں سے اللہ کے نزدیک کوئی بڑا خلیفہ یعقوب سے بڑھ کر نہیں تھا۔ 6: عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس امت کے علاوہ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ (البقرہ آیت 156) کا کلمہ کسی کو یاد نہیں دیا گیا۔ اگر یہ کسی کو دیا گیا ہوتا تو یعقوب (علیہ السلام) کو ضرور دیا ہوتا کیا تم نے ان کے پاس اس قول کو نہیں سنا یعنی (آیت) ” یاسفی علی یوسف “۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے احنف بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ داود نے کہا تھا کہ اے میرے رب کہ بنی اسرائیل تجھ سے سوال کرتے ہیں ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے واسطہ سے مجھے بھی ان کا چوتھا بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ابراھیم (علیہ السلام) میری وجہ سے آگ میں ڈالے گئے انہوں نے صبر کیا اور یہ ایک آزمائش تھی جو تجھ کو نہیں دی گئی اور اسحاق نے اپنے نفس کی قربانی پیش کی میری وجہ سے اور صبر کیا اور ایک آزمائش تھی جو تجھ کو نہیں دی گئی۔ اور یعقوب (علیہ السلام) سے میں نے اس کا محبوب (یعنی ان کے لڑکے یوسف کو لے لیا تھا یہاں تک کہ غم کی وجہ سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور انہوں نے بھی صبر کیا اور یہ ایک آزمائش تھی جو تجھ کو نہیں دی گئی۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھو کظیم “ یعنی غمگین۔ 9:۔ ابن الانباری (رح) نے الوقف میں نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فھو کظیم “ کے بارے میں مجھے بتائیے کہ کظیم کی چیز ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے غمگین اور اس بارے میں قیس بن زہیر نے کہا۔ فان اک کا ظما المصاب شاس فانی الیوم منطلق لسانی۔ ترجمہ : اگر میں شاس میں مصیبت زدہ کی وجہ سے مغموم ہوں تو آج میں اپنی زبان کو کھول رہا ہوں۔ 10:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھو کظیم “ سے مراد ہے غم کو ضبط کرنے والا۔ 11:۔ ابن مبارک وعبد الرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھو کظیم “ یعنی وہ غم پر ضبط کئے ہوئے تھے انہوں نے خیر کے سوا کوئی کلمہ زبان پر نہ لایا یا دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ آپ اپنے غم کو اپنے اندر ہی لوٹاتے رہے اور کوئی بات نہ کہی۔ 12:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا (آیت) ” فھو کظیم “ سے مراد ہے کرب یعنی مصیبت زدہ۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کظیم “ سے مراد ہے مکروب یعنی مصیبت زدہ۔ 14:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الکظیم “ سے مراد ہے مغموم۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھو کظیم “ سے مراد ہے ” مکمود “ یعنی مغموم۔ 16:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کظیم “ وہ ہے جو بات نہ کرے اور غم کی انتہا کو پہنچا ہو کہ لوگوں سے بات تک نہ کرے۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا جیل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آنا ـ: 17:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس جیل میں تشریف لائے تو انہوں نے اس کو پہچان لیا۔ اور ان سے پوچھا اے عزت والے فرشتے کیا تجھ کو یعقوب (علیہ السلام) کا علم ہے ؟ فرمایا ہاں ! پوچھا ان کی کیا حالت ہے ؟ فرمایا تجھ پر غم آئے ہوئے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی پوچھا ان کو کتنا غم پہنچا ہے۔ فرمایا ان ستر ماوں کی طرح جن کے بچے فوت ہوگئے ہوں گئے ہوں پوچھا اس پر ان کے لئے کوئی اجر ہے ؟ فرمایا ہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ 18:۔ ابن جریر نے لیث کے راستے ثابت بنانی (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 19:۔ ابن جریر نے لیث ابن ابی سلیم کے راستہ سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو بیان کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے ایک آدمی کی صورت میں اور وہ مصر میں تھے۔ یوسف (علیہ السلام) نے جب ان کو دیکھا تو ان کو پہچان لیا ان کے لئے کھڑے ہوگئے اور فرمایا اے پاکیزہ خوشبو والے فرشتے۔ اے پاکیزہ لباس والے اے رب عزت کی معزز فرشتے کیا تیرے پاس یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ علم ہے۔ فرمایا ہاں پوچھا وہ کیسے ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا انکی آنکھیں ضائع ہوگئی پوچھا کس وجہ سے ان کی آنکھیں ضائع ہوگئیں فرمایا تجھ پر غم کرتے ہوئے پوچا اس پر ان کو کیا اجر ملے گا فرمایا ستر شہیدوں کا اجر۔ 20:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن ابی جعفر سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائئے جیل میں یوسف (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا اے جبرائیل میرے باپ کو کتنا غم پہنچا فرمایا ایسی ستر عورتوں کا غم جن کے بچے فوت ہوگئے ہوں پوچھا اللہ کی طرف سے ان کا اجر کیا ہے فرمایا سو شہیدوں کا اجر۔ 21:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے خوشخبری لے کر وہ جیل میں تھے فرمایا اے دوست کیا مجھ کو پہچانا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں پاکیزہ صورت کو اور پاکیزہ خوشبو کو جو خاطئین کی خوشبو کے مشابہ نہیں ہے۔ کس بات نے آپ کو داخل کیا ہے مجرموں کے داخل ہونے کی جگہ میں۔ اور آپ کو پاکیزہ لوگوں میں سب سے پاکیزہ ہیں اور مقربین لوگوں کے سردار ہیں۔ اور رب العالمین کے امین ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے یوسف ! کیا تو جانتا ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ گھروں کو پاک کرتے ہیں نبیوں کی پاکیزگی سے اور وہ زمین جس میں تم داخل ہوتے ہو وہ زمینوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعہ جیل کو پاک کردیا ہے اور اس کے اردگرد کو پاکیزہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ پاکیزہ کے ساتھ اور پاکیزہ لوگوں کے بیٹے کے اللہ تعالیٰ آپ کو طہارت اور آپ کو صالح اور مخلص آباء کی طہارت کی وجہ سے پاک کرتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم مجھے صدیقین کے ناموں کے ساتھ کیسے یاد کرتا ہے اور مجھ کو مخلص میں کیسے شمار کررہے ہو۔ حالانکہ میں گناہ گار کے داخل ہونے کی جگہ میں داخل ہوں اور میں نام لیتا ہوں اور میں گمراہوں اور فساد کرنے والوں کا نام دیا گیا ہوں جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا تیرے دل غم سے دوچار نہیں ہوا اور نہیں میلا کیا تیری آزادی کو غلامی نے اور نہیں اطاعت کی تو نے اپنی مالکن کی اپنے رب کی نافرمانی میں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تیرا نام رکھا ہے صدیقین کے ناموں کے ساتھ اور تجھ کو شمار کیا ہے مخلصین میں سے اور تجھ کو ملادیا ہے تیرے صالح آباوجداد کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تجھے یعقوب (علیہ السلام) کا علم ہے ؟ فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے اس کو صبر جمیل عطا فرمایا ہے اور اس کو غم میں مبتلا کردیا تیری وجہ سے اور وہ غم میں گھٹا ہوا ہے پوچھا اس کے غم کی حد کیا ہے فرمایا ایسی ستر عورتیں جن کے بچے فوت ہوگئے ہوں پوچھا ان کے لئے اجر کیا ہوگا۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا سو شہیدوں کا۔ 22:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) جیل میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے ان کو سلام کیا یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے اپنے رب کے معزز اے پاک خوشبو والے لباس والے۔ کیا تجھے یعقوب (علیہ السلام) کا علم ہے فرمایا ہاں پوچھا کتنا شدید ہے ان کا غم پوچھا ان کے لیے کیا اجر ہوگا فرمایا ان کا غم ستر ایسی عورتوں کے غم کے برابر ہے جن کی اولاد فوت ہو پوچھا کیا تو جانتا ہے کہ میں ان سے ملاقات کروں گا ؟ فرمایا ہاں۔ تو یوسف (علیہ السلام) کا دل خوش ہوگیا۔ 23:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کا کتنا (غم) تھا فرمایا جتنا ستر عورتوں کا ہوتا ہے جن کے بچے فوت ہوگئے ہیں پوچھا گیا ان کا اجر کتنا ہوگا فرمایا سو شہیدوں کا اجر۔ اللہ کے ساتھ ان کا گمان ذرا دیر بھی برا نہیں ہوا رات میں یا دن میں۔ 24:۔ احمد (رح) نے الزہد میں عمر بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) ایسی ستر عورتوں کا غم ڈالا گیا جن کے بچے فوت ہوگئے ہوں اور اس غم میں اسی سال رہے۔
Ayahs 12:85–86

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹے کہنے لگے اللہ کی قسم آپ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرتے ہیں رہیں گے یہاں تک کہ گھل جائیں یا ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائیں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنے رنج اور غم کی اللہ ہی سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے مجھے وہ علم عطا ہوا ہے جو تم نہیں جانتے

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا۔ (آیت ) ” حتی تکون حرضا “ یہاں تک تو اس مرض میں دفن ہوجائے گا۔ (آیت ) ” او تکون من الھلکین “ یعنی تو ہوجائے گا مردوں میں سے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قالو تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا اور تو اس کی محبت سے سستی نہیں کرے گا۔ (آیت) ” حتی تکون حرضا “ یعنی بوڑھا ہوجائے گا۔ (آیت) ” اوتکون من الھلکین “ یا تو مرجائے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی تکون حرضا “ میں ” الحرض “ سے مراد ہے برائی اور بوسیدہ چیز (آیت) ” اوتکون من الھلکین “ مرنے والوں میں سے۔ 4:۔ ابن الانباری والطستی (رح) نے نافع ارزق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا آپ ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لعمرک لا تفتاتذکر خالدا وقد غالہ ما غال تتبع من قبل : ترجمہ : میری عمر کی قسم تو خالد کو ہمیشہ یاد کرتا ہے حالا کہ اس نے ایسے میں دھوکہ کیا ہے جیسے تبع نے اس سے پہلے دھوکہ دیا تھا۔ س پھر پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی اس قول (آیت ) ” حتی تکون حرضا “ کے بارے میں فرمایا الحرض سے مراد ہے ہلاکت کے قریب ہونا درد کی شدت کی وجہ سے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ أمن ذکر یتلی ان نات قریۃ بھا کانک حم للاطبای مخرض۔ ترجمہ : کیا لیلی کی یاد میں اس کی بستی دور رہ گئی گویا تم بیمار ہوگئے جس کی بیماری نے جگہوں کو حیران کردیا۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے طلحہ بن مصرف ایامی (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ اور ان کے ذکر سے بچا جائے۔ نہ شکایت کرے اپنے مرض کی نہ شکایت کرے اپنی مصیبت کی اور نہ اپنی خود تعریف کرے فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بتایا گیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے پاس ایک پڑوسی تھا اس نے کہا اے یعقوب ! کیا بات ہے میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں کہ تو کمزور ونحیف ہوگیا ہے حالانکہ آپ اس عمر کو نہیں پہنچے جس عمر کو آپ کا باپ پہنچا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا مجھ کو کمزور کردیا ہے اس چیز نے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے یوسف (علیہ السلام) کے غم میں مبتلا کیا ہے۔ اور اس غم کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے یعقوب ! تو نے میری مخلوق کی طرف میری شکایت کی ؟ عرض کیا اے میرے رب مجھ سے غلطی ہوگئی مجھ کو بخش دیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیری مغفرت فرما دی اس کے بعد جب ان سے پوچھا جاتا تو یہ فرماتے (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “ (میں تو اپنی مصیبت اور دکھ کا شکوہ اللہ تعالیٰ سے کرتا) ہوں۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) نے مسلم بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ مرفوع حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مصیبت کا شکوہ کیا (گویا) اس نے صبر نہ کیا۔ تم یہ (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “ 7:۔ ابن عدی والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مصیبت کا شکوہ کیا تو اس نے صبر نہ کیا پھر یہ (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “۔ 8:۔ ابن عدی والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیکی کے خزانوں میں سے (یہ کام ہیں) صدقہ کا چھپانا مصیبتوں اور بیماریوں کو چھپانا۔ اور جس نے مصبیت کا شکوہ کیا اس نے صبر نہ کیا۔ 9:۔ بیہقی (رح) نے ایک اور سند سے علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں نیکی کے خزانوں میں سے ہیں چھپا کر صدقہ کرنا۔ مصیبت کا چھپانا اور بیماری کا چھپانا۔ 10:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں اور آپ نے اس کو ضعیف کہا انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صبح کی دنیا پر غم کرتے ہوئے۔ تو گویا صبح کی اپنے رب پر ناراض ہوتے ہوئے اور جس نے صبح کی شکایت کرتے ہوئے اس مصیبت پر جو اس پر نازل ہوئی۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی شکایت کی اور جس نے کسی مالدار کے سامنے اس لئے جھکا تاکہ اس کی دنیا میں سے اس کو بھی مل جائے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کے دو تہائی (حصے) برباد کریں گے۔ اور جس کو قرآن دیا گیا پھر بھی وہ (بدعملی کی وجہ سے) دوزخ کی آگ میں داخل ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو (رحمت سے) دور کردیا۔ 11:۔ احمد نے الزہد میں والبیہقی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا اور اس کو ضعیف کہا ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں تیرے کام کی اصل ہیں کہ تم اپنی مصیبت کی شکایت نہ کر اور اپنی تکلیف کو بیان نہ کرو۔ اور اپنی زبان سے اپنی تعریف نہ کر۔ 12:۔ احمد (رح) نے الزہد میں والبیہقی (رح) نے و ھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے تورات شریف میں چار سطریں اکھٹے لکھی ہوئی پائی ہیں۔ جس نے مصیبت کی شکایت کیا۔ تو گویا اس نے اپنے رب کی شکایت کی۔ اور جو کسی مالدار کے لئے جھکتا ہے تو اس کو دو تہائی دین چلا جاتا ہے اور جس نے غم کیا اس چیز پر جو اس کے غیر کے ہاتھ میں ہے تو (گویا) وہ اپنے رب کے فیصلہ سے ناراض ہوتا ہے۔ اور جو اللہ کی کتاب کو پڑھتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی مغفرت نہ ہوگی۔ تو (گویا) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں میں سے ہے۔ 13:۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی رحمہما اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو کسی مصیبت میں مبتلا ہوا اور اس نے تین بار اس کو چھپایا اور کسی سے شکایت نہ کی تو اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے پر رحمت فرماتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھوں کی کیفیت : 14:۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ واحمد نے الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حبیب بن ابی ثابت (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کی بھویں ان کی آنکھوں پر گرگئی تھیں بوڑھاپے کی وجہ سے۔ اور وہ ان دونوں کو اوپر اٹھائے رکھتے تھے کپڑے کے ساتھ ان سے پوچھا گیا آپ کی یہ کیفیت کیوں ہے۔ فرمایا زمانے کے لمبا ہونے سے اور غموں کی کثرت سے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کیا تو میری شکایت کرتا ہے۔ فرمایا اے میرے رب ! مجھ سے غلطی ہوگئی ہے مجھ کو بخش دیجئے۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے نصر بن عربی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) پر جب یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا غم لمبا ہوگیا تو غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔ تو بیمار پرسی کرنے والے ان کے پاس لوگ آتے اور کہتے اے اللہ کے نبی تم پر سلام ہو آپ کیسے ہو ؟ تو آپ فرماتے بوڑھا آدمی ہوں میری آنکھیں چلی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے یعقوب ! تیمارداری کرنے والوں کے سامنے تو نے میری شکایت کی عرض کیا اے میرے رب مجھ سے یہ خطا ہوئی ہے آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ اس کے بعد آپ ہمیشہ یہی فرماتے تھے (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “ 16:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما اشکوا بثی “ یعنی میرا غم۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما اشکوا بثی “ سے مراد ہے میری حاجت۔ 18:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعلم من اللہ مالا تعلمون “ کے بارے میں فرمایا (کہ یعقوب نے فرمایا) میں جانتا ہوں کہ یوسف کا خواب سچا ہے اور میں عنقریب اس کو سجدہ کروں گا۔ 19:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن سعد وابن ابی شیبہ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب کے رونے کی آواز کو سنا اور میں صبح کی نماز میں صفوں کے آخر میں تھا اور وہ پڑھ رہے تھے (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “ حضرت عمر ؓ کا سورة یوسف پڑھ کر رونا : 20:۔ عبدالرزاق والبیہقی رحمہما اللہ نے علقمہ بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی انہوں نے سورة یوسف پڑھی جب آپ یوسف (علیہ السلام) کے ذکر پر پہنچے تو رونے لگے یہاں تک کہ میں نے ان کے رونے کی آواز سنی جبکہ میں آخری صف میں تھا۔ 21:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یعقوب (علیہ السلام) پر جب کبھی کوئی سخت مصیبت نازل ہوئی تو آپ نے اس مصیبت کے بعد اچھا گمان کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ 22:۔ ابن منذر (رح) نے عبدالرزاق (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب میرا بچہ لے لیا اور تو نے میری آنکھیں لے لیں فرمایا کیوں نہیں میری عزت اور میرے جلال کی قسم میں ضرور تجھ پر رحم کروں گا اور میں ضرور تجھ پر تیری آنکھوں کو اور تیرے بچے کو لوٹا دوں گا بلاشبہ میں نے تجھ کو اس مصیبت میں مبتلا کیا ہے اس لئے تو نے ایک اونٹ کو ذبح کیا تھا پھر اس کو بھونا تھا تیرے پڑوسی نے اس کی خوشبو کو پایا تھا مگر تو نے اس کو نہ دیا۔ 23:۔ اسحاق بن راھویہ (رح) نے اپنی تفسیر میں وابن ابی الدنیا نے کتاب الفرج بعدال الشرۃ میں وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں اوبوالشیخ والحاکم وابن مردویہ والبہیقی (رح) نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یعقوب (علیہ السلام) کے ایک منہ بولا بھائی تھا ایک دن اس نے کہا اے یعقوب (علیہ السلام) کس چیز نے تیری آنکھیں ضائع کردی اور کس چیز نے تیری پیٹھ دہری کردی فرمایا میری آنکھیں جو چلی گئیں وہ یوسف (علیہ السلام) پر رونے کی وجہ سے اور میری پیٹھ ٹیڑھی کردی بنیامین کی جدائی کے غم نے جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اے یعقوب (علیہ السلام) اللہ عزوجل آپ کو سلام فرما رہے ہیں اور آپ کو فرماتے ہیں تجھ کو شرم نہ آئی کہ تو غیروں کی طرف میری شکایت کرتا ہے یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والے ہیں کہ میری آنکھیں چلی گئیں اور میری پیٹھ ٹیڑھی ہوگئی۔ مجھ پر میرے دونوں پھول لوٹا دے میں اس کو موت سے پہلے سونگھ لوں پھر تو جو چاہے میرے ساتھ کر۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اے یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ تجھ کو سلام فرماتے ہیں اور آپ کو فرماتے ہیں خوش ہوجاؤ اور اپنے دل کو بھی خوش رکھو۔ میری عزت کی قسم۔ اگر دونوں مرچکے ہوتے تو میں ان دونوں کو تیرے لئے زندہ کردیتا مساکین کے لئے کھانا تیار کر۔ میرے بندوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب انبیاء اور مساکین ہیں اور تو جانتا ہے میں نے تیری آنکھیں کیوں لیں اور تیری پیٹھ کو کیوں ٹیڑھا کیا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کیا اس وجہ سے تو نے ایک بکری ذبح کی تھی تمہارے پاس ایک مسکین آیا اور وہ روزہ دار تھا تم نے اس کو اس میں سے کچھ بھی نہ کھلایا پھر یعقوب (علیہ السلام) نے جب صبح کے کھانے کا ارادہ کرتے تو ایک آواز لگانے والے کو حکم دیتے ہیں کہ یہ آواز لگائے۔ خبردار مساکین میں سے جو بھی صبح کو کھانے کا ارادہ کرے تو وہ یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ صبح کھانا کھائے اگر وہ روزہ دار ہو آواز لگانے والے نے حکم دیا کہ جو شخص مساکین میں سے روزہ دار ہو تو اس کو چاہئے کہ یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ افطار کرے۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! تم جاؤ اور یوسف اور کے بھائی کو تلاش کرو، اور اللہ رحمت سے ناامید نہ ہو، بلاشبہ اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے نصر بن عربی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ یعقوب (علیہ السلام) چوبیس سال ٹھہرے رہے نہیں جانتے تھے کہ یوسف زندہ ہے یا مرگیا ہے یہاں تک کہ ملک الموت ان کے پاس خلوت میں آئے یعقوب (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں موت کا فرشتہ ہوں پھر اس نے پوچھا میں تجھ کو یعقوب (علیہ السلام) کے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کی روح قبض کی تھی اس نے کہا نہیں۔ اس وقت یعقوب (علیہ السلام) نے (اپنے بیٹوں سے) فرمایا (آیت) ” یبنی اذھبوا فتحسسوا من یعسف واخیہ ولا تایئسوا من روح اللہ “ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مصر کی طرف گئے اور جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے انتہائی نرم گفتگو کی کہنے لگے اے عزیزہم کو اور ہمارے خاندانوں کو مصیبت پہنچی ہے ایسی کو فرمایا (آیت) ” قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر “۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تایئسوا من روح اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت (سے مایوس نہ ہوجاؤ) 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولاتائیسوا من روح اللہ “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی کشادگی سے مایوس نہ ہوجاؤ اس نے تم سے وہ غم دور کیا جس میں تم تھے۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

سو جب یہ لوگ یوسف پر داخل ہوئے تو کہنے لگے اے عزیز ہمارے اور ہمارے گھروالوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم یہ ایسی پونجی لائے ہیں جو رد کئے جانے کی مستحق ہے سو آپ ہمیں پورا غلہ دیجئے اور ہم پر صدقہ کردیجئے بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو اس کی جزا دیتا ہے

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر “ سے مراد ہے معاشی نقصان۔ 2:۔ ان جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجئنا ببضاعۃ “ سے مراد ہے دراھم ” مزجۃ “ سے مراد ہے غیر چالو (یعنی کھوٹے سکے ) ۔ 3:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی ردی سامان (جیسے بوسیدہ رسیاں اور بورے وغیرہ ) ۔ 4:۔ ابوعبیدہ وابن ابی شیبہ وابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی ردی اور کھوٹا سکے جو خرچ نہیں کئے جاتے یہاں تک کہ پھینک دیئے جاتے ہیں۔ 5:۔ سعید بن منصور وابوالشیخ وابن منذر رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی تھوڑی سی پونجی۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی کھوٹے دراھم۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ اور عکرمہ ؓ دونوں حضرات میں سے ایک سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ناقص اور دوسرے نے کہا کہ اس سے مراد ہے ردی پیسے۔ 8:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ اس نے (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے دیہاتی کا سامان مثلا اون اور گھی۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ سے مراد ہے جبۃ الخضراۃ صنوبر اور روئی۔ 10:۔ عبدالرزاق وابن منذر رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ سے مراد ہے اونٹنیاں اور دبلی گائیں۔ 11:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مزجۃ “ سے مراد ہے غیر چالو (یعنی کھوٹے سکے) 12:۔ ابن النجار (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ سے نادار (یعنی کم آمدنی والے) ستومراد ہیں۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ان انس ؓ سے روایت کیا کہ پیمائش کرنے والے کی اجرت کے بارے میں پوچھا گیا کیا خریدنے والے سے لی جائے گی فرمایا ٹھیک ہے یہ جو میرے دل میں واقع ہوئی ہے کہ وہ بیچنے والے پر ہوگی۔ اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا (آیت) فاوف لنا الکیل وتصدق علینا “ اور یوسف (علیہ السلام) ناپ کرے دینے والے تھے۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے ابراھیم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کے مصحف میں یوں ہے (آیت) فاوف لنا الکیل واوقر کا بنا “۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا صدقہ کا حرام ہونا۔ (آخری) نبی کریم ﷺ سے پہلے انبیاء میں سے کسی نبی پر تھا فرمایا کیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنتا (آیت) فاوف لنا الکیل وتصدق علینا “ ان اللہ یجزی المتصدقین “ س۔ 16:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سعید بن جبیررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انبیاء (علیہم السلام) صدقہ نہیں کھاتے تھے کیونکہ ان کے دراھم کھوئے تھے جو لوگوں میں مروج نہ تھے اور (یوسف کے بھائی) کہنے یوسف (علیہ السلام) کہ ہم سے درگزر کیجئے اور دراھم کھوٹے ہونے کی وجہ سے قیمت کے اعتبار سے کم نہ سمجھو۔ 17:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتصدق علینا “ سے مراد ہے کہ ہم پر ہمارے بھائی کو لوٹا دیجئے۔ 18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمربن العزیز سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا مجھ پر صدقہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر جنت کا صدقہ کریں گے۔ فرمایا افسوس ہے تجھ پر اللہ تعالیٰ صدقہ نہیں فرماتے لیکن اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کو بدلہ دیتے ہیں۔ 19:۔ ابوعبید وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ ناپسندیدہ ہے کہ ایک آدمی اپنی دعا میں یوں کہے۔ اے اللہ مجھ پر صدقہ فرما۔ فرمایا ہاں (ناپسندیدہ ہے، صدقہ اس کے لئے ہے جو ثواب کو طلب کرتا ہے (اور اللہ تعالیٰ کو ثواب کی ضرورت نہیں ) ۔ 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں سے کہا گیا کہ مصر میں ایک آدمی مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اور یتیم کی جھولی کو بھر دیتا ہے (جواب میں) انہوں نے کہا چاہئے کہ یہ آدمی ہمارے اہل بیت میں سے ہوگا۔ جب انہوں نے دیکھا تو وہ اچانک یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) تھے۔
Ayahs 12:89–90

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جاہل تھے

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

کہنے لگے واقعی کیا آپ یوسف (علیہ السلام) ہیں ؟ یوسف (علیہ السلام) نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا بلاشبہ بات یہ ہے جو شخص تقوی اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا

صبرو تقوی اختیار کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ 1:۔ ابوالشیخ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ یحی بن دثاب نے یوں پڑھا (آیت) ء انک لانت یوسف “ ایک ہمزہ کے ساتھ۔ ابولشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت اسی طرح تھی (آیت) ” قال انا یوسف وھذا اخی “ یعنی میرے اور اس کے درمیان رشتہ داری ہے۔ (آیت) ” قد من اللہ علینا “ (اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ) ۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) فرمایا (آیت ) ” انہ من یتق “ یعنی جو شخص زنا سے بچے (آیت ) ” ویصبر “ اور بغیر بیوی ہونے پر صبر کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لایضیع اجر المحسنین “۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ربیع بن انس سے روایت کیا کہ پہلی کتاب میں لکھا ہوا تھا کہ حسد کرنے والا نقصان نہیں پہنچاتا جب وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صبر کی وجہ سے اس کو نجات عطا فرما دیتے ہیں (جہنم سے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” انہ من یتق ویصبر فان اللہ لایضیع اجر المحسنین “۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

کہنے لگے اللہ کی قسم اللہ نے تجھے ہم پر فضیلت دی اور بلاشبہ ہم خطا کرنے والوں میں سے تھے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اپنا تعارف کرایا کہ وہ ایک ایسے آدمی کو ملے جو حلیم الطبع تھا۔ جس نے کسی درد والم کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ ان کو ان کے اعمال پر تنبیہ کی تھی۔
Ayahs 12:92–93

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

میرا یہ کرتہ لے جاؤ سو اسے میرے والد کے چہرہ پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیں گے، اور میرے پاس اپنے سارے گھر والوں کو لے آؤ

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کو معاف کرنا : 1:۔ عبدبن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح فرما لیا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیا کہتے ہو تم کیا گمان کرتے ہو انہوں نے کہا آپ کریم چچا کے بیٹے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم، یغفر اللہ لکم “ (آج تم پر کوئی گرفت نہیں اللہ تعالیٰ تم کو معاف فرمائے ) ۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب مکہ کو فتح فرما لیا۔ تو آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا اے مکہ والو ! تم کیا گمان کرتے ہو تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم نے خیر کا گمان کرتے ہیں اور ہم خیر کا کہتے ہیں آپ کریم چچا کے بیٹے ہیں آپ کو قدرت دی گئی آپ نے فرمایا میں وہی کہتا ہوں جیسے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم، یغفر اللہ لکم، وھو ارحم الرحمین “۔ 5:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ کو فتح فرما لیا تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ کعبہ کے پاس تشریف لائے اور دروازہ کے کو اڑوں کو پکڑ کر فرمایا تم کیا کہتے ہو اور تم کیا گمان کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا تو ہمارے بھائی کا بیٹا ہے۔ اور حلیم اور کریم چچا کا بیٹا ہے۔ آپ نے فرمایا میں وہی کہتا ہوں تو یوسف نے فرمایا تھا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم، یغفر اللہ لکم، وھو ارحم الرحمین “۔ تو مکہ کے لوگ باہر نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکل رہے ہیں اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ضرورتیں کا طلب کرنا نوجوانوں سے آسان ہوتا ہے اور بوڑھوں سے طلب کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کے قول کی طرف نہیں دیکھا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم۔ اور یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” سوف استغفرلکم ربی “ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے ایسا درگزر کبھی نہیں سنا یوسف (علیہ السلام) کے درگزر کی طرح۔ 8:۔ الحکیم الترمذی وابوالشیخ رحمہما اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو معاملہ در پیش آیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف کی طرف لکھا اور وہ نہ جانتے تھے کہ وہ یوسف (علیہ السلام) ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم یعقوب بیٹا اسحاق (علیہ السلام) کا اور وہ بیٹے ابراھیم (علیہ السلام) کے عزیز آل فرعون کی طرف سلام ہو تجھ پر میں تیری طرف اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ امابعد کہ ہم اہل بیت ہیں مصیبتوں کے اسباب نے ہم کو گھیر لیا ہے۔ میرے داد ابراہیم (علیہ السلام) جو اللہ تعالیٰ کے خلیل تھے ان کو ان کے رب کی اطاعت میں آگ میں ڈالا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر ٹھنڈک اور سلامتی والی بنا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے دادا کو حکم فرمایا کہ میرے والد کو ذبح کردیں اس کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ فدیہ دیا میرا ایک بیٹا تھا اور وہ مجھے لوگوں سے زیادہ محبوب تھا وہ مجھ سے گم ہوگیا اس پر غم کرتے ہوئے میری آنکھوں کا نور چلا گیا اور وہ تمہارے پاس چوروں کے معاملہ میں قید ہے، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نہ میں نے کبھی چوری کی اور نہ میں نے چورا ولاد کو جنا۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے خط کو پڑھا تو روئے اور چیخ ماری اور فرمایا (آیت) اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا “۔ 9:۔ ابولشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) اذھبوا بقمیصی ھذا “ کے بارے میں فرمایا کہ نمرود نے ابراہیم کو آگ میں ڈالا تو جبرائیل جنت میں سے ایک قمیص اور ایک جائے نماز لے کر آئے اور ان کو قمیص پہنائی اور ان کو جائے نماز پر بٹھایا اور جبرائیل (علیہ السلام) ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کی طرف حکم بھیجا (آیت) ” ینار کونی برداوسلما علی ابراھیم (69) “ اگر اللہ تعالیٰ ” وسلم ا “ کا لفظ نہ فرماتے تو ٹھنڈک ان کو تکلیف دیتی اور البتہ ان کو قتل کردیتی۔ 10:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا اے خیر البشر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لقب یوسف صدیق اللہ ابن یعقوب (علیہ السلام) کے اسرائیل اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جنت میں سے ایک کپڑا پہنایا۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق (علیہ السلام) کو پہنایا اسحاق (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کو پہنایا یعقوب (علیہ السلام) نے اس کو لے کر لوہے کی ڈبیہ میں رکھ دیا اور یوسف (علیہ السلام) کی گردن میں لٹکا دیا۔ اگر اس کے بھائی اس کو جانتے۔ تو کنویں میں پھینکتے وقت تو وہ اس کو لے لیتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا یوسف کو لوٹاتے وقت کا یعقوب (علیہ السلام) کی طرف اور اس کے خواب اور تعبیر کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا خوشخبری دینے والے کو حکم فرمایا کہ وہ اس کو خوشخبری سنائے آٹھ مواصل کی مسافت سے یعقوب (علیہ السلام) نے آٹھ مراحل کی مسافت سے اس کی خوشبو کو محسوس کرلی۔ اور فرمایا (آیت) ” انی لا جد ریح یوسف لولا تفندون “ جب ان کے چہرہ پر اس (قمیض) کو ڈالا گیا تو ان کی آنکھیں لوٹ آئیں جب بھی کوئی چیز جنت میں سے کسی مصیبت زدہ پر واقع ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے شفا دیتے ہیں۔ 11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مطلب بن عبداللہ بن حنطب (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کی ایک قمیض پہنائی۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق (علیہ السلام) کو پہنائی۔ پھر اسحاق (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کو پہنائی۔ پھر یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو پہنائی۔ آپ نے اس کو لپیٹا اور چاندی کی ایک ڈبیہ میں اس کو رکھ کر ان کی گردن میں لٹکایا۔ اور یہ قمیص انکی گردن میں تھی جب کنویں میں ڈالے گئے اور جب قید کئے گئے اور جب آپ پر بھائی داخل ہوئے پھر قمیض کو ڈبیہ میں سے نکالا اور فرمایا (آیت) بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا “۔ یعقوب (علیہ السلام) نے جنت کی ہوا کو سونگھ لیا اور وہ کنعان کے علاقہ میں تھے۔ جو فلسطین کی زمین ہے۔ اور فرمایا (آیت ) ” انی لا اجد ریح یوسف “۔ 12:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب آپ نے اپنے اہل و عیال کو بلایا تو ان کے اہل و عیال 93، انسان تھے۔ جو مصر میں آئے۔ ؛ ان کے مرد انبیاء تھے اور ان کی عورتیں صدیقات تھیں۔ اللہ کی قسم ! یہ لوگ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ( مصر) سے نکلے تو وہ چھ لاکھ ستر ہزار تھے۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے ساتھ آپ کی اولاد میں بہتر 72 افراد تھے۔ جب وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے تو وہ چھ لاکھ تھے۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ روانہ ہوگیا تو انکے والد نے کہا کہ اگر تم یہ نہ کہو کہ میں بہکی ہوئی باتیں کرنے والا ہوں تو میں یوسف کی خوشبو پارہا ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم ! آپ اپنی پرانی غلطی میں ہیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو مہکنا : 1:۔ عبدالرزاق والفریابی واحمد (رح) نے الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولما فصلت العیر “ کے بارے میں فرمایا کہ قافلہ نکلا اور ہوا چلی اور وہ تو یوسف (علیہ السلام) کی قمیض کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) کو محسوس ہوئی۔ اسی کو فرمایا (آیت) ” انی لا جد ریح یوسف لولا ان تفندون “ میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اگر تم مجھ کو بیوقوف نہ بتاؤ فرمایا کہ انہوں نے اس کو خوشبو کو سونگھ لیا آٹھ آدمیوں کے فاصلے سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی لا جد ریح یوسف “ یعنی انہوں نے اس کی خوشبو کو سونگھ لیا دس دنوں کی مسافت سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ایک دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ کتنی مسافت سے یعقوب (علیہ السلام) نے قمیض کی خوشبو کو پالیا ؟ فرمایا انہوں نے اس کو اسی فرسخ کے فاصلہ سے پالیا۔ 4:۔ ابن منذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ایک ماہ کے فاصلہ سے پائی گئی۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو چھ دنوں کے فاصلے سے پایا۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس کی خوشبو سات دنوں کے فاصلہ سے پائی گئی۔ 7: ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ (آیت) ” لولا ان تفندون “ سے مراد ہے کہ اگر تم مجھ کو جاہل نہ کہو۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لولا ان تفندون “ سے مراد ہے اگر تم مجھ کو نہ جھٹلاؤ۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لولا ان تفندون “ سے مراد ہے کہ تم مجھ کو بڑا بوڑھا خیال نہ کرو اور تم کہو کہ اس کی عقل چلی گئی۔ 10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ” المفتد “ سے مراد ہے ہو شخص جس کو عقل نہ ہو اور وہ کہتے ہیں کہ وہ بےعقل ہے اور شاعر نے کہا۔ : مھلا فان من العقول مفندا : ترجمہ : ٹھہرو کیونکہ عقل والوں میں سے بےعقل بھی ہوتے ہیں۔ 11:۔ عبدبن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان تفندون “ کے بارے میں فرمایا اگر تم مجھ کو احمق نہ سمجھو۔ قمیص سے یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی لوٹ آئی : 12:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کی طرف قیمص بھیجی تو انہوں نے اس کو پکڑا اور اس کو سونگھا پھر اس کو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی بینائی کو لوٹا دیا پھر (ان کے بیٹوں نے) ان کو سوار کرکے یوسف (علیہ السلام) کی طرف لے آئے۔ جب یہ لوگ داخل ہوئی تو یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹے یہودا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کا استقبال کیا۔ لشکروں اور لوگوں کے ساتھ یعقوب نے فرمایا اے یہودا یہ مصر کا فرعون ہے۔ یہودا نے کہا اے میرے والد ! ایسا نہیں ہے لیکن یہ آپکا بیٹا یوسف ہے ان کو جب علم ہوا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو یہ اپنے اعوان مملکت اور عوام کے ساتھ آپ کی ملاقات کرنے آیا ہے۔ جب ان سے ملاقات ہوئی یوسف (علیہ السلام) تشریف لے گئے تاکہ ان کو سلام کی ابتداء کریں تو اس سے منع کردیا گیا۔ تاکہ وہ جان لے کہ یعقوب (علیہ السلام) زیادہ عزت والے ہیں ان سے اللہ کے نزدیک ان کو گلے لگایا اور اس کو چوما اور فرمایا تجھ پر سلام ہو اے مجھ سے غم دور کرنے والے۔ 13:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ملک الموت سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا گیا کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کی جان کو قبض کرلیا ان لوگوں میں سے جن کو تو نے قبض کیا انہوں نے فرمایا نہیں اسی وقت فرمایا (آیت) ” بصیرا قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون (96) “۔ 14:۔ عبداللہ بن زوائد الزہد میں ابوالشیخ (رح) نے محمد بن یونس یمانی (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) زمین والوں میں سے سب سے زیادہ محبوب تھے ملک الموت کی طرف اور ملک الموت نے اپنے رب سے اجازت لی کہ وہ یعقوب (علیہ السلام) سے ملاقات کریں ان کو اجازت دے دی گئی۔ وہ تشریف لائے تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا اے ملک الموت میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ذات کے ذریعہ سے جس نے تجھ کو پیدا فرمایا۔ کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کی جان کو قبض کیا ان لوگوں میں سے جن کو تو نے قبض کیا۔ انہوں نے فرمایا نہیں۔ ملک الموت نے ان سے فرمایا اے یعقوب (علیہ السلام) میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاوں کہ تو کسی چیز کا سوال کرے گا تو تجھ کو وہ چیز مل جائے گی۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں ضرور بتائیے فرمایا ملک الموت نے کہا یوں کہو اے ایسی نیکی کرنے والے جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور تیرے علاوہ اس کو کوئی شمار نہیں کرسکتا اس رات میں یعقوب (علیہ السلام) نے ان کلمات کے ساتھ دعا فرمائی ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی یہاں تک کہ قمیص کو ان کے چہرہ پر ڈال دیا گیا جس سے ان بینائی لوٹ آئی۔ 15:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن حسن رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے بیان کیا کہ عمالقہ کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے یعقوب (علیہ السلام) کی طرف ان کی بیٹی رقیہ سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اس کی طرف کہلا بھیجا کہ مسلمان معزز عورت حلال نہیں ہے کسی کافر کے لئے۔ اس سے بادشاہ غصہ ہوا۔ اور کہا میں اس کو اور اس کی اولاد کو ضرور قتل کردوں گا۔ اور ان کی طرف لشکر بھیج دیا۔ تو یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں نے اس سے جنگ کی۔ یعقوب (علیہ السلام) بیٹھ گئے۔ ایک اونچلے ٹیلہ پر پھر فرمایا اے میرے بیٹو ! تمہاری طرف کسی کو یہ بات محبوب ہے کہ تم ان کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرو یا اللہ تعالیٰ ان کو کافی ہوجائے گا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے تو اس نے مجھے یہ غیرت عطا فرمائی۔ بیٹوں نے کہا ہم ان کو اپنے ہاتھوں سے قتل کریں گے۔ وہ یہ چیز ہمارے دلوں کے لئے ٹھنڈک کا باعث ہوگی۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اے بیٹو ! کیا تم اللہ کی کفایت کو قبول کروگے۔ فرمایا پھر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر بدعا فرمائی اور ان کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔ 16:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک لفی ضلل القدیم “ سے مراد ہے کہ تو اپنی پرانی غلطی میں مبتلا ہے۔ 17:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک لفی ضلل القدیم “ سے مراد ہے کہ تو اپنے پرانے جنوان میں مبتلا ہے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک لفی ضلل القدیم “ سے مراد ہے کہ تو اپنے پرانی محبت میں مبتلا ہے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر خوشبخری لانے والا آپہنچا تو اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر ڈال دیا لہذا وہ پھر سے آنکھوں والے ہوگئے اور بیٹوں سے فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما ان جآء البشیرالقہ علی وجہہ “ میں بشیر سے مراد ہے قاصد۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما ان جآء البشیر “ میں بشیر سے مراد ہے یہودا ابن یعقوب علیہ السلام۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ بشیر وہ یہودا تھا اور ابن مسعود ؓ اس کو یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) ” ان جآء البشیرمن بین یدی العیر “۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب خوشخبری دینے والا یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آیا تو فرمایا تم نے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں پائی ہم نے سات دنوں سے لائی نہیں پکائی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تجھ پر موت کی سختی کو آسان فرما دیا ہے۔ 5:۔ عبداللہ بن احمد زوائد الزہد میں لقمان حنفی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کے پاس جب خوشخبری دینے والا آیا تو اس نے کہا میں نہیں جانتا کہ میں آج تجھے کیا پیش کروں لیکن اللہ تعالیٰ نے تجھ پر موت کی سختی کو آسان فرما دیا ہے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب خوشخبری دینے والا یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آیا اور ان پر قمیض کو ڈال دیا تو اس سے پوچھا کون سے دین پر تم یوسف (علیہ السلام) کو چھوڑ آئے۔ اس نے کہا اسلام پر یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اب نعمت پوری ہوگئی۔