12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 12:50–53

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ سو جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ تو اپنے آقا کے پاس جا پھر اس سے دریافت کر کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے، بیشک میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس نے کہا کہ اے عورتو ! تمہارا کیا واقعہ ہے جبکہ تم نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنی مطلب برداری کی خواہش کی، انہوں نے جواب میں کہا حاش اللہ ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی طرف کوئی برائی منسوب کرسکیں، عزیز کی بیوی نے کہا اس وقت حق ظاہر ہوگیا میں نے اسے اپنے مطلب برداری کے لئے اسے پھسلایا اور بیشک وہ سچے لوگوں میں ہے

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ جان لے کر میں نے اس کے پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور بلاشبہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو نہیں چلنے دیتا

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بلاشبہ نفس برائی کرنے کا خواب زیادہ حکم دیتا ہے۔ بجز اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بیشک میرا رب غفور ہے رحیم ہے

1:۔ احمد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت (آیت ) ” فلما جآءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دعوت کو قبول کرلیتا اور اپنے عذر کو طلب نہ کرتا۔ 2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلم والے تھے۔ اگر میں قید میں ہوتا پھر میری طرف بلاوا آتا تو میں جلدی سے باہر نکل جاتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قابل قدر صبر : 3:۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تعجب کرتا ہوں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے صبر پر اس کے کرم پر اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کی طرف ایک آدمی خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے بھیجا گیا۔ اگر میں ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا اور فوراباہر نکل جاتا اور میں نے تعجب کیا ان کے چہرے اور ان کے کرم سے اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ان کے پاس قاصد آیا تاکہ وہ قید سے باہر آجائیں مگر وہ نہ آئے یہاں تک کہ آپ نے ان کو اپنے عذر کی خبر دی اور اگر میں ہوتا تو میں دروازہ کی طرف (باہر جانے کے لئے) جلدی کرتا۔ لیکن انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ پہلے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کردیں۔ 4:۔ احمد (رح) نے الزہد میں وابن منذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر میرے پاس قاصد آتا لمبی قید کے بعد تو میں بلانے کو جلدی قبول کرلیتا لیکن انہوں نے اس وقت فرمایا (آیت ) ” ارجع الی ربک فسئلہ ما بال النسوۃ “ (اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے) 5:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ یعنی یوسف نے عذر کا ارادہ کیا جیل میں سے نکلنے سے پہلے (یعنی اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کا ارادہ کیا) 6:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب بادشاہ نے عورتوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کیا تم نے یوسف (علیہ السلام) کو مطلب برداری کے لئے ورغلایا۔ (آیت) ” قلن حاش للہ ما علمنا علیہ من سوء قالت امرات العزیز الئن حصحص الحق انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین (51) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اور کہا آپ نے خیانت نہیں کی۔ جب آپ نے اس عورت کے ساتھ (برے کام کا) ارادہ کرلیا تھا ؟ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، ان النفس لامارۃ بالسوٓء “ (میں اپنے نفس کی برات کا دعوی نہیں کرتا ہے ایک نفس کو برائی کا حکم دیتا ہے۔ ) 7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الئن حصحص الحق “ یعنی ظاہر ہونا۔ 8:۔ حاکم (رح) نے اپنی تاریخ میں وابن مردویہ والدیلمی (رح) نے ابن جریر نے مجاہد، قتادہ، والضحاک وابن زید والسدی سے اسی طرح روایت کیا کہ انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ پڑھی اور فرمایا جب یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اپنے ارادہ کو یاد کرو تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی “ (کہ میں اپنے نفس کی برأت کا دعوی نہیں کرتا) 9:۔ ابن جریر (رح) نے عبداللہ بن ابی ھذیل (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اس دن (آپ نے خیانت نہیں کی) کہ جس دن آپ نے ارادہ کیا تھا اور رادہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، ان النفس لامارۃ بالسوٓء “ (میں اپنے نفس کی برأت کا دعوی نہیں کرتا بیشک برائی کا حکم دیتا ہے) 10:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ تو فرشتے نے کہا آپ کے پہلو میں کچوکا لگائے ہوئے کہا اے یوسف ! اور وہ خیانت نہیں جب آپ نے ارادہ کرلیا تھا (برے کام کا) تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی،۔ 11:۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے حکیم بن جابر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ جملہ کہا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کیا اس وقت (آپ نے خیانت نہیں کی) جب آپ نے شلوار کھول لی تھی ؟ تو اس وقت انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، ان النفس لامارۃ بالسوٓء “۔ 12:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قول یوسف (علیہ السلام) کا اپنے آقا کے لئے تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کا بےقصور ہونا دکھلادیا تھا۔ 13:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے جیل سے نکلنے سے پہلے ایک عذر کا ارادہ کیا اور فرمایا (آیت ) ” ارجع الی ربک فسئلہ ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیھن ان ربی بکیدھن علیم (50) (اور فرمایا) (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ ابن جریج نے فرمایا کہ اس آیت اور اس آیت کے درمیان جو کلام ہے اور وہ قرآن مجید کی تقدیم اور اس کی تاخیر کے اعتبار سے ہے۔ 14:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ یوسف (علیہ السلام) کا قول کہ میں عزیز مصر کی اس کی عورت کے بارے میں کوئی خیانت نہیں کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اور اس وقت بھی (خیانت نہیں کی ) ۔ 15:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ یوسف (علیہ السلام) کا قول کہ میں عزیز مصر کی اس کی عورت کے بارے میں خیانت نہیں کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اور اس وقت بھی (خیانت نہیں کی) جب آپ نے شلوار کھول لی تھی تو یوسف نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، آیت کے آخر تک۔ 16:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے اس ارادہ کو یاد کرو تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، ان النفس لامارۃ بالسوٓء “ (میں اپنے نفس کی برائی کا دعوی نہیں کرتا) 17:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا کہ کسی فرشتہ نے یا جبرائیل نے ان سے فرمایا اور اس وقت (خیانت نہ ہوئی) جب آپ نے اس کے ساتھ (برے کام کا) ارادہ کرلیا تھا یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی، ان النفس لامارۃ بالسوٓء “ 18:۔ عبدبن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کے بارے میں فرمایا اور اس وقت خیانت نہ ہوئی جب آپ نے (برے کام کا) ارادہ کرلیا تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی “۔ 19:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ فرشتے نے جو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تھا کہا اس وقت کو یاد کرو جب آپ نے اس (عورت) کے ساتھ (بارے کام کا) ارادہ کرتے تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی “۔ 20:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک لیعلم انی لم اخنہ “ بارے میں فرمایا کہ اللہ کے نبی یوسف (علیہ السلام) نے یہ جملہ کہا اور اس بات سے ڈرے کہ میں اپنے آپ کو پاک کہنے والا نہ بن جاوں تو فرمایا (آیت) ” وما ابری نفسی “۔ الآیہ۔ 21:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ایک اور سند سے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما ٓ ابری “ کے بارے میں فرمایا کہ اس عورت نے ارادہ کیا جب کا آپ نے ارادہ کرلیا تھا۔ 22:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبدالعزیز بن عمر (رح) سے روایت کیا کہ نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزم (یعنی کسی کام پر آمادہ کرنا آتا ہے تو یہی نفس ہی خیر کی طرف دعوت دیتا ہے۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ میں اسے خالص اپنے لئے رکھوں گا پھر جب ان کی بات کی تو کہا بیشک آج تم ہمارے پاس باعزت ہو معتبر آدمی ہو

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عزت و توقیر : 1:۔ ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں الکلبی کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قاصد آیا اور ان سے کہا کہ جیل کے کپڑے اتار دو ۔ اور نئے کپڑے پہن لو، اور بادشاہ کی طرف چلو۔ یوسف (علیہ السلام) نے تمام قیدیوں کو بلالیا اور وہ اس دن تیس سال کے تھے۔ جب وہ بادشاہ کے پاس آئے تو اس نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا اور کہا یہ نوجوان میرے خوابوں کی تعبیر کو جانتا ہے۔ اور بڑے بڑے جادوگر اور کاہن نہیں جانتے۔ اور ان کو اپنے آگے بٹھایا اور کہا خوف نہ کرو اور ان کو سونے کا ایک طوق پہنایا گیا اور ریشم کا لباس پہنایا اور ان کو ایک سواری دی جس میں زین سونے چاندی سے جڑی ہوئی تھی۔ جیسے بادشاہ کی سواری اور مصر میں طبل بجایا گیا کہ یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے خلیفہ ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” استخلصہ لنفسی “ یعنی میں نے اپنی ذات کے لئے خاص کرلیا ہے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہم اللہ نے زید العمی (رح) نے فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کو دیکھا تو یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس کی خیر کا آپ کی خیر کے ساتھ اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں آپ کی عزت کے ساتھ اس کے شر سے۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابومیسرہ (رح) سے روایت کیا کہ جب عزیز نے یوسف (علیہ السلام) کی ذہانت ومطانت اور اعلی ظرفی کو دیکھا تو اس کو بلایا اور ان کے ساتھ صبح وشام کا کھانا کھایا اور وہ دوسرے خادموں کو قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ اس وجہ سے جو ان کے اور اس عورت کے دمیان معاملہ ہوا تھا تو وہ عورت کہنے لگی تو اپنے ملازمین میں سے اس کو کیوں اپنے قریب بٹھاتا ہے۔ اس کو بھی کہا کہ وہ دوسرے ملازمین کے ساتھ کھانا کھائے۔ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا جاؤ۔ اور دوسرے غلاموں کے ساتھ صبح کا کھانا کھاؤ یوسف (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو میرے ساتھ کھانے کی رغبت رکھتا ہے۔ میں اللہ کی قسم یوسف یعقوب کا بیٹا ہوں جو اللہ کے نبی اسحاق کے بیٹے تھے اور وہ اسحاق بیٹے تھے ذبیح اللہ کے جو بیٹے تھے ابراہیم خلیل اللہ کے۔ بادشاہ کے سامنے حق گوئی و بےباکی : 5:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بادشاہ نے یوسف سے کہا کہ میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں تمام چیزوں میں تو میرا شریک اور ساتھی ہو میرے اہل کے سوا۔ اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ تو میرے ساتھ کھائے یوسف (علیہ السلام) غصے ہوگئے اور فرمایا میں زیادہ حقدار ہوں کہ میں تیرے ساتھ کھانے کو ناپسند کروں میں بیٹا ہوں ابراہیم خلیل اللہ کا اور بیٹا ہوں اسحاق ذبیح اللہ کا اور میں یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں جو اللہ کے نبی ہیں۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ بادشاہ جس کے پاس یوسف تھے وہ مسلمان ہوگیا تھا۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو میں ان کی حفاظت کرنے والا ہوں جاننے والا ہوں

1:۔ ابن ابی حاتم والحاکم رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے مجھے بحرین پر گورنر بنایا پھر مجھے معزول کردیا اور مجھ پر بارہ ہزار جرمانہ کیا پھر اس کے بعد مجھے عامل بنانے کے لئے بلایا تو میں نے انکار کردیا عمر ؓ نے فرمایا انکار کیوں کررہے ہو۔ حالانکہ یوسف (علیہ السلام) نے بھی عامل بننے کا سوال کیا تھا۔ جو تجھ سے بہتر ہے۔ میں نے کہا یوسف (علیہ السلام) نبی تھے جو ایک نبی کے بیٹے تھے اور وہ ایک نبی کے بیٹے اور ایک نبی کے بیٹے تھے اور میں (امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ میں بغیر برداشت کے کوئی بات کروں اور میں بغیر علم کے فتوی دے دوں۔ اور میری پیٹھ پر مارا جائے اور میری بےعزتی کی جائے اور میرا مال لے لیا جائے۔ 2:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتے تھے ؛ ان سے کہا گیا آپ کو کیا ہوا کہ آپ سیر ہو کر کھانا نہیں کھاتے اور آپ کے ہاتھ میں زمین کے خزانے ہیں تو انہوں نے فرمایا جب میں سیر ہو کر کھاوں گا تو بھوکے کو بھول جاوں گا۔ 3:۔ وکیع (رح) نے الغرر میں ابوالشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) سے پوچھا گیا آپ بھوکے رہتے ہیں حالانکہ زمین کے خزانے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے فرمایا میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں شکم سیر ہوجاوں گا تو بھوکے لوگوں کو بھول جاوں گا۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے شیبہ بن نعام الصبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اجعلنی علی خزآئن الارض “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھے سب غلوں پر مقرر کردیجئے بھوک کے سالوں کے لئے جو تو مجھے امانت دے گا میں اس کی حفاظت کروں گا۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” اجعلنی علی خزآئن الارض “ کے بارے میں فرمایا کہ فرعون کے پاس بہت خزانے تھے سوائے غلہ کے تو اس نے تمام خزانے یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کردیئے۔ اور قضاکا عہدہ بھی آپ کو دے دیا گیا۔ اور آپ کا فیصلہ نافذ ہوتا تھا۔ 6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی حفیظ “ یعنی جب تم مجھے والی بنادوگے تو میں حفاظت کرنے والا ہوں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی حفیظ علیم “ کے بارے میں فرمایا کہ میں حفاظت کرنے والا ہوں حساب کی اور مختلف زبانوں کو جاننے والے ہیں۔ 8:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے اشجعی (رح) نے اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح یوسف کو زمین میں بااختیار بنادیا اس میں جہاں چاہے رہے ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیں اور ہم اچھے کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

مصر کی حکومت ملنا : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک مکنا لیوسف فی الارض “ یعنی ہم نے ان کو مالک بنادیا کہ اس دنیا کا (آیت) ” حیث یشآء اس میں جو چاہیں کریں اور یہ ان کے سپرد کردی گئی تھیں۔ اور فرمایا اگر وہ چلتا کردیتا تو وہ فرعون کو ماتحت (یعنی تابع) اور یوسف کو مافوق (یعنی متبوع) کردیے تھا ایسا کرسکتا تھا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ عزیز کی بیوی راستہ پر کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ یوسف (علیہ السلام) وہاں سے گزرے تو کہنے لگی کہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے غلام کو بادشاہ بنادیا اس کی اطاعت سے اور بادشاہ کو غلام بنادیا اس کی نافرمانی سے۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ یہ ذکر کیا گیا کہ اطیفران راتوں میں ہلاک ہوگیا اور بادشاہ ریان نے اپنی بیوی راعیل سے یوسف کی شادی کردی اور وہ عورت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئی تو آپ نے فرمایا کیا یہ بہتر نہیں اس سے جس کا تو ارادہ کرتی تھی کہ جس کا تم ارادہ کرتے تھے اس عورت نے کہا اسے دوست ! مجھے ملامت نہ کر، بلاشبہ میں ایک حسین و جمیل عورت تھی اور دنیا اور ملک سے نازونعمت کے ساتھ رہتی تھی اور میرا خاوند عورتوں کے پاس نہ آتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی حسن و جمال کا بنایا ہے میں آپ پر فریفتہ ہوگئی تو میرے دل نے مجھ پر غلبہ کیا اس کام پر جو تو نے دیکھا اور وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ آپ نے اس عورت کنواری پایا۔ جب (یوسف علیہ السلام) نے اس سے جماع کیا تو اس سے دو بچے پیدا ہوئے۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے عبدالعزیز بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عزیز کی بیوی کی ملاقات یوسف (علیہ السلام) سے راستے میں ہوئی اور عورت کہنے لگی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں۔ جس نے بادشاہ کو اس کے گناہ کی وجہ سے غلام بنادیا اور غلام کو اس کی اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنادیا تو انہوں نے اس کو پہچانا اور اس سے شادی کرلی اور اس کو کنواری پایا کیونکہ اس کا پہلا خاوند عورتوں کے پاس نہ آتا تھا۔ 5:۔ الحکیم الترمذی (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ عزیز کی عورت کو کوئی ضرورت پیش آئی تو اس سے کہا گیا کہ تو یوسف بن یعقوب کے پاس حاضر ہو اپنی ضرورت کے لئے اور اس سے سوال کر اس نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ایسا مت کر ہم تجھ پر خوف کرتے ہیں کہنے لگی ہرگز نہیں میں ان لوگوں سے نہیں ڈرتی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں تو ان کے پاس آئی اور ان کو شاہی محل میں دیکھا تو کہنے لگی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے غلام کو اس کی اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنا دیا پھر اس نے اپنے آپ کی طرف دیکھا اور کہنے لگی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے بادشاہ کو غلام بنادیا اس کے گناہوں کی وجہ سے تو انہوں اس کی ساری ضرورتوں کو پورا کیا۔ پھر اس سے شادی کرلی تو اس کو کنواری پایا پھر اس سے فرمایا کہ یہ صورت بہتر نہیں ہے۔ ان کاموں میں سے جس کا تو ارادہ رکھتی تھی ؟ اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں تیرے بارے میں چار چیزوں کے ساتھ آزمائی گئی کہ آپ سب لوگوں میں زیادہ خوبصورت تھے۔ اور میں اپنے زمانے کے لوگوں میں زیادہ خوبصورت تھی اور میں کنواری تھی اور میرا خاوندنامرد تھا۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی سے شادی کی اور اس کو کنواری پایا اور اس کا (پہلا) خاوند نامرد تھا۔ 7:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے وابن ابی الدنیا نے الفرج میں والبیہقی (رح) نے والاسماء والصفات میں انس بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ خیر کو طلب کرو اور اللہ کی رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان رحمت کی ہواوں کی پہچانتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تمہاری شرمگاہوں کو چھپائے رکھے ہو اور تمہیں خوف سے امن عطا فرمائے۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور البتہ آخرت کا ثواب ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مالک بن دیناررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ میں نے حسن سے پوچھا اور میں نے کہا اے ابوسعید کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” ولاجرالاخرۃ خیرللذین امنوا وکانوا یتقون “ اس کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا ! اے مالک ! حرام کاموں سے بچتے رہے ان کے پیٹ کمر سے لگے رہے اور انہوں نے حرام کاموں کو چھوڑ دیا جبکہ ان کے نفس اس کی بہت خواہش رکھتے ہیں۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائی آئے سو وہ ان کے پاس اندر چلے گئے سو یوسف (علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا اور وہ انہیں نہیں پہچان رہے تھے

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی مصر آمد : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف کے بھائی جب ان کے پاس آئے تو انہوں نے تو ان کو پہچان لیا مگر وہ نہ پہچان سکے۔ پیالہ بادشاہ کے پاس لایا گیا جس میں وہ پیتا تھا، اس کو اس کے ہاتھ پر رکھ دیا گیا آپ اسے ٹھوکر مارتے تو وہ بجنے لگ جاتا پھر وہ ٹھوکر مارتے تو بجنے لگتا یوسف نے فرمایا کہ یہ پیالہ مجھ کو تمہاری طرف سے خبر دے رہا ہے کہ تمہاری باپ شریک ایک بھائی تھا جس کو یوسف کہا جاتا تھا اور اس کا باپ تمہاری نسبت اس سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ تم اس کو لے گئے تھے اور اس کو ایک کنویں میں ڈال دیا تھا اور تم نے اپنے باپ کو یہ بتایا تھا کہ بھیڑیا اس کو کھا گیا ہے اور تم اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے، تو (یہ سن کر) انکے بعض نے بعض کی طرف دیکھنا شروع کیا، اور وہ تعجب کررہے تھے کہ یہ پیالہ ان کی خبریں بتارہا ہے۔ اس کو یہ کیسے علم ہوگیا۔ والدین کی خبر گیری اور بھائیوں کی بیخبر ی : 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالجلد (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ تمہارے کام نے البتہ مجھے شک میں ڈال دیا ہے گویا تم جاسوس ہو انہوں نے کہا اے عزیز (مصر) کہ ہمارے والد بوڑھے ہیں اور صدیق ہیں اور ہم سچے لوگ ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ البتہ انبیاء کے کلام سے دلوں کو زندہ کرتے ہیں جیسے آسمان کی بارش سے زمین کو زندہ فرمایا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ایک برتن تھا آپ اس کو کھٹکھٹا رہے تھے اور گویا کہ یہ تمہاری طرف سے خبر دے رہا ہے تم جاسوس ہو۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عون (رح) سے روایت کیا کہ میں حسن ؓ سے کہا کیا تو تم جانتے ہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا۔ فرمایا نہیں ! اللہ کی قسم ! ان کو نہیں پہچانا تھا۔ 4:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فعرفہم وھم لہ منکرون “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ان کو نہیں پہچانا تھا۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے وھب (رح) سے کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے جب پیالہ کو بجانا شروع کیا اور ان کو خبر دی اور ان کے بھائیوں میں ایک بھائی انکی طرف کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہماری چھپی ہوئی بات کو ظاہر نہ کریں۔
Ayahs 12:59–66

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف (علیہ السلام) نے انہیں سامان تیار کردیا تو فرمایا کہ تمہارا جو ایک باپ شریک بھائی ہے اسے میرے پاس لے آنا کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی کرنے والا

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

سو اگر تم اس بھائی کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہیں ہے جو میں تمہیں ناپ کردوں اور میرے پاس مت آنا

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

بھائیوں نے کہا ہم اس کے باپ سے اس کے بارے میں درخواست کریں گے اور ہمیں یہ کام ضرور کرنا ہے

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گزاروں سے کہا کہ ان کی پونجی ان کے کجاو وں میں رکھ دو اپنے گھروالوں کے پاس پہنچ جائیں تو اسے پہچان لیں شاید وہ پھر واپس آجائیں

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ اے ابا جان ہمیں گلہ دینے کی ممانعت کردی گئی ہے سو آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور بلاشبہ ہم اس کی حفاظت کرنیوالے ہیں

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

ان کے والد نے کہا کیا میں اس پر تمہارا اعتبار کروں مگر جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی پر تمہارا اعتبار کرچکا ہوں، سو اللہ سب سے بہتر نگہبان ہے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے سامان کو کھولا تو انہوں نے اپنی پونجی کو پایا کہ ان کی طرف واپس کردی گئی ہے کہنے لگے کہ ابا جی ! اور ہمیں کیا چاہیے اور ہماری پونجی ہے ہماری طرف لوٹا دی گئی ہے اور ہم اپنے گھروالوں کے لئے لائیں گے اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لے آئیں گے، یہ غلہ تھوڑا سا ہے

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کی طرف سے مضبوط عہد نہ دے دو کہ تم اسے ضرور لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم کو گھیر لیا جائے سو جب انہوں نے اپنے والد کو اپنا عہد دے دیا تو والد نے کہا کہ ہم جو بات کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس شخص سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں جو مصر میں مہمان نوازی کرتا ہے۔ 5:۔ سعید بن منصور (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وقال لفتینہ “ یعنی اپنے غلاموں سے کہا (آیت ) ” اجعلوا بضاعتہم “ یعنی ان کے چاندی کے سکے (واپس کردو) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا گھر : 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب اور ان کے بیٹوں کا گھر کے بارے میں جو مجھ کو بعض اہل علم نے ذکر کیا کہ وہ عربات میں تھا جو فلسطین کی زمین میں ہے شام کی پست زمین میں ہے۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ آپ کا مکان ادلاج میں تھا۔ جو نچلی وادی کی طرف ایک علاقہ ہے اور ہر دیہاتی کے پاس بکریاں اور اونٹ تھے۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہما اللہ نے مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ عبداللہ کے شاگردوں سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ہے۔ (آیت) ” فارسل معنا اخانا “۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فارسل معنا اخانا “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے ایک اونٹ غلہ لائیں گے۔ (ہمارے ساتھ بنیامین کو بھیج دیں) 9:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہما اللہ نے مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عبداللہ کے اصحاب سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فاللہ خیر حفظا “ پڑھا۔ 10:۔ سعید بن منصور وابوعبید وابن منذر رحمہم اللہ نے علقمہ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ردت الیہم “ یعنی راء کے کسرہ کے ساتھ۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” مانبغی، ھذہ بضاعتنا ردت الینا “ کے بارے میں فرمایا اور ہم کیا چاہتے ہیں کہ ہماری چاندی کے سکے واپس لوٹا دیئے گئے اور ہم کو ناپ بھی پورا دیا گیا (آیت) ” ونزداد کیل بعیر “ یعنی ایک ایک اونٹ کا بوجھ (زیادہ لائیں گے) 12:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ونزداد کیل بعیر “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے گدھے کا بوجھ اور ایک یہ لغت ہے ابوعبید یعنی مجاہد نے فرمایا کہ گدھے کو بعض لغات میں اونٹ کہا گیا۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا ان یحاط بکم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے مگر یہ کہ تم مغلوب کردیئے جاؤ۔ یہاں تک کہ تم کو واپس آنے کی طاقت نہ رہے۔
Ayahs 12:67–68

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور یعقوب نے کہا کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے داخل مت ہونا اور مختلف دروازوں سے داخل ہونا، اور میں اللہ کے حکم کو تم سے ذرا بھی ٹال نہیں سکتا، حکم صرف اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور چاہئے کہ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کریں

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ اسی طرح داخل ہوئی جیسے ان کے والد نے انہیں حکم دیا تھا تو اللہ کے حکم سے ذرا بھی انہیں کوئی چیز بچانے والی نہ تھی مگر یعقوب کے جی میں ایک حاجت تھی جسے اس نے پورا کرلیا اور بلاشبہ وہ علم والے تھے اس وجہ سے کہ ہم نے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں سکھایا تھا اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بیٹوں کو نصیحت : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وقال یبنی لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب کے بیٹوں پر نظر بد لگ جانے کا خطرہ تھا (اس لئے ان کو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم فرمایا) 2:۔ ابن ابی شبیہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ان پر نظر بدلگنے کا خوف تھا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) اپنی اولاد پر نظر بد لگ جانے کا خوف تھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ان پر نظر بدلگ جانے کا خوف کیا۔ 5:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے بہت خوبصورت تھے اس لئے آپ کو ان پر خوف ہوا کہ انکو لوگوں کی نظر بد نہ لگ جائے۔ 6:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وادخلوا من ابواب متفرقۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کو پسند کیا کہ یوسف اپنے بھائی کو علیحدگی میں ملاقات کرسکیں۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضھا “ کے بارے میں فرمایا کہ نظر کا خوف تھا (یعقوب (علیہ السلام) کو) اپنے بیٹوں پر۔ 8:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وانہ لذو علم لما علمنہ “ کے بارے میں فرمایا یعنی وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرنے والا ہے اور جو شخص عمل نہیں کرتا علم کے مطابق وہ عالم نہیں ہوتا۔
Ayahs 12:69–76

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

سو جب وہ یوسف (علیہ السلام) پر داخل ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس ٹھکانہ دیا اس سے کہا کہ میں بیشک تیرا بھائی ہوں لہذا تو اس کا رنج مت کر جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب انہیں سامان دے کر تیار کردیا تو ایک پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے کجاوہ میں رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلہ والو بلاشبہ تم چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے اور ان کی طرف آگے بڑھے کہ تم کس چیز کو گم پا رہے ہو

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے اور جو شخص اسے لے کر آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم لوگ اس لئے نہیں آئے کہ زمین میں فساد کریں اور نہ ہم چور ہیں

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے کجاوہ میں یہ پیمانہ پایا جائے سو خود اس کی ذات ہی اس کا بدلہ ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزادیا کرتے ہیں

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر یوسف نے اپنے بھائی کے تھیلے کی تلاشی لینے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی لینے سے ابتدا کی، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا ہم نے یوسف کو اسی طرح تدبیر بتادی، بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے ہم جسے چاہیں درجات کے اعتبار سے بلند کرتے ہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر زیادہ جاننے والا ہے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع ہے۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سقایہ اور صواع ایک ہی چیز ہے کہ اس میں یوسف پانی پیا کرتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ سقایہ سے مراد ہے صواع اور یہ سونے کا ایک پیالہ ہوتا تھا۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ایتھا العیر “ عیر سے مراد ہے گدھوں کا قافلہ۔ 6:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری وابوالشیخ وابن منذر نے غرائب شعبہ میں وابن مردویہ والضیاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” صواع الملک “ نے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک چیز ہے جو چاندی کے ایک پیالہ کے مشابہ ہوتی ہے اور اس میں وہ لوگ پانی پیتے تھے۔ 7:۔ ابن الانباری (رح) نے الوقف والا بتداء میں والطستی (رح) نے نافع بن ازرق سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” صواع الملک “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ صواع وہ گلاس ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے۔ لہ درمک فی راسہ ومشارب وقد روطباح وصاع ودیسق ترجمہ : اس کے لئے تیری گوشت سے بھری ہوئی ہڈی ہے اس کے سر میں اور پانی پینے کے برتن میں اور ہانڈی ہے اور باورچی ہے۔ اور صاع (پیمانہ) ہے اور بھرا ہوا حوض ہے۔ 8:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” صواع الملک “ سے مرادوہ پیالہ ہے جس کے دونوں جانب ملے ہوئے ہوتے ہیں اس میں عجمی لوگ پیتے ہیں۔ 9:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” صواع الملک “ یعنی یہ پیالہ چاندی کا تھا۔ 10:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” صواع الملک “ کہ یہ پیالہ تانبا کا تھا۔ 11:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” نفقد صواع الملک “ صاد کے ضمہ اور الف کے ساتھ۔ 12:۔ سعید بن منصور وابن الانباری (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” صواع الملک “۔ 13:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” صواع الملک “ یعنی غین کے ساتھ اور فرمایا کہ یہ سونے یا چاندی کا بنا ہوا تھا اور سقایہ میں وہ پانی پیتا تھا۔ 14:۔ ابن الانباری (رح) نے ابورجاء (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” نفقد صواع الملک “ عین کے بغیر نکتہ کے اور صاد زبر کے ساتھ۔ 15:۔ عبداللہ بن عون (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” صواع الملک “ صاد مضمومہ کے ساتھ۔ 16:۔ سعید بن جبیر ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” نفقدصواع الملک “ 17:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولمن جآء بہ حمل بعیر “ ایک گدھے کا بوجھ غلہ سے اور یہ ایک لغت ہے۔ 18:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حمل بعیر “ یعنی ایک اونٹ کا بوجھ۔ 19:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا بہ زعیم “ یعنی اور میں کفیل ہوں۔ 20:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر مجاہد قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مجاہد سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا بہ زعیم “ وہ آواز دینے والا تھا جس نے کہا تھا (آیت) ” ایتھا العیر “۔ 21:۔ ابن الانباری (رح) نے الوقف والابتداء میں نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وانا بہ زعیم “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس کا مطلب ہے کفیل۔ فروہ بن میسک نے اس کے بارے میں کہا۔ اکون زعمکم فی کل عام یحیش حجفل یلب لھام ترجمہ : میں ہر سال تمہارا ضامن اور کفیل ہوں ایک قوی اور جرات مند لشکر سے مقابلہ میں۔ 22:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابولشیخ رحمہم اللہ نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما جئنا لنفسد فی الارض “ یعنی ہم اس کے لئے نہیں آئے کہ ہم زمین میں نافرمانی کریں۔ 23:۔ ان جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قالوا فما جزآوہ “ کہ انہوں نے پہچان لیا (چور کے) حکم کو ان کے حکم میں (یعنی ان کے قانون میں) تو انہوں نے کہا (آیت) ” جزآوہ من وجد فی رحلہ فھو جزآوہ “ اور یہ فیصلہ انبیاء (علیہم السلام) اور یعقوب اور اس بیٹوں کے دور میں ہوتا تھا۔ کہ چوری کرنے والے کو غلام بنالیا جائے۔ اس کا جس کی اس نے چوری کی۔ 24:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ان کو خبر دی اس قانون کے ساتھ کہ جو فیصلہ کرتے ہیں انکے شہروں میں (اور یہ تھا) کہ جس نے چوری کی اس کو غلام بنالیا جائے۔ اسی لئے انہوں نے کہا ” جزآوہ من وجد فی رحلہ “ (اس کی سزایہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ پیالہ نکل آئے وہی اس کی جزاء ہے) 25:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فبدا باوعیتہم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی کی گئی کہ جب بھی وہ کسی آدمی کا سامان کھولتا تھا تو وہ اپنے فعل پر استغفار کرتا یہاں تک کہ لڑکے (یعنی بنیامین) کا سامان باقی رہ گیا تو اس (تلاشی لینے والے) نے کہا میں گمان نہیں کرتا کہ اس نے کوئی چیز لی ہوگی سب نے کہا واقعی یہ ایسا ہی ہے۔ پس اس نے اس کو سچا سمجھا۔ چور کو غلام بنانا مصر کا قانون نہیں تھا : 26:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” کذلک کدنا لیوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ اسی طرح ہم نے (یہ کام) کیا یوسف (علیہ السلام) کے لئے (آیت) ” ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک “ یعنی بادشاہ کے قانون میں (وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے) پھر فرماتے ہیں کہ بادشاہ مصر کا قانون یہ تھا کہ جو شخص چوری کرتا اس سے چوری کا مال لے لیا جاتا اور اس کے برابر اس کے (اپنے) مال میں سے اور لیا جاتا اور اس کو دے دیا جاتا جس کی چوری کی گئی۔ 27:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک “ یعنی بادشاہ کے قانون میں (وہ بھائی کو نہ لے جاسکتے تھے) 28:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بادشاہ کا قانون نہیں تھا جو شخص چوری کرتا وہ اسے ہی رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بھائی کے لئے یہ تدبیر فرمائی۔ یہاں تک کہ ان سے بات کی گئی (اس قانون کے بارے میں) جو انہوں نے بنیامین کو پکڑ لیا اس کے قول کی وجہ سے اور (چور کا روک لینا) بادشاہ کے قانون میں تھا۔ 29:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بادشاہ کا قانون میں نہیں تھا کہ جس نے چوری کی اس کو غلام بنا لیا جائے۔ 30:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ بادشاہ کا قانون یہ تھا کہ جو شخص چوری کرے تو اس سے دوگنا جرمانہ وصول کیا جائے۔ 31:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” الا ان یشآء اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) کے لئے واپس تدبیر اختیار فرمائی۔ 32:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مالک بن انس (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زید بن اسلم کو اس آیت کے بارے میں ی فرماتے ہوئے سنا (یعنی یہ آیت) نرفع درجت من نشآء “ کہ (اپنے) علم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ درجے بلند فرما دیتے ہیں دنیا میں جس کے لئے چاہتے ہیں۔ 33:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” نرفع درجت من نشآء “ کے بارے فرمایا کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کو علم دیا گیا اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کا درجہ علم میں بلند کردیا۔ 34:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ کہ ایک شخص دوسرے سے زیادہ عالم ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ ایک اور عالم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عالم سے بلندو برتر ہے۔ 35:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابن عباس ؓ کے پاس تھے انہوں نے ایک حدیث بیان فرمائی تو اس آدمی نے جو ان کے پاس تھا کہا (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ (یہ سن کر) ابن عباس ؓ نے فرمایا برا ہے جو تو نے کہا اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہیں وہی ہر عالم سے بلند علم والا ہے۔ 36:۔ ابن جریر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ایک مسئلہ کے بارے میں حضرت علی ؓ سے سوال کیا آپ نے اس کے بارے میں جواب دیا تو اس آدمی نے کہا اس طرح نہیں ہے۔ لیکن اس طرح اور اس طرح ہے۔ علی نے فرمایا تو نے صحیح کہا اور میں نے خطا کی (اور فرمایا) (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “۔ 37:۔ ابن ابی شبیہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے الاسماء و الصفات میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ کا علم ہر عالم کے علم سے بلند ہے۔ 38:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک سے زیادہ جاننے والا ہیں۔ 39:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کوئی علم ایسا نہیں کہ جس کے اوپر کوئی عالم نہ ہو یہاں تک کہ علم کی انتہا اللہ تعالیٰ تک ہوتی ہے۔ اس سے علم شروع ہوتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اور عبداللہ کی قراءۃ میں یوں ہے۔ (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ 40:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے وابوالشیخ (رح) سے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفوق کل ذی علم علیم “ کے بارے میں دونوں نے فرمایا وہ اسی طرح ہے یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں میں علم میں بلند ترین تھے۔
Ayahs 12:77–79

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

بردران یوسف کہنے لگے کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے سو یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے جی میں چھپالیا اور اس کو ظاہر نہیں کیا، کہا کہ تم زیادہ برے ہو اور اللہ ہی خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد ہیں جو زیادہ بوڑھے ہیں سو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیجئے بلاشبہ ہم آپ کو اچھا برتاؤ کرنیوالوں میں سے دیکھ رہے ہیں

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے پناہ دے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہو اس کے سوا کسی دوسرے کو پکڑ لیں، اگر ایسا کریں تو بلاشبہ ہم ظلم کرنے والے ہوجائیں گے

بھائیوں کے غلط الزام لگانا : 1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے (اسی سے) یوسف (علیہ السلام) کو مراد لیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا آزمائش میں مبتلا ہونا : 2:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلی مصیبت جس میں یوسف (علیہ السلام) داخل ہوئی وہ یہ تھی جس کے بارے میں مجھے (یہ بات) پہنچی ہے۔ کہ ان کی ایک چچی جو اسحاق کی اولاد میں سے بڑی تھی۔ اس کے پاس ایک اسحاق (علیہ السلام) کا ٹپکا تھا۔ اور وہ وراثت میں بڑے فرد کو دیتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے ہاں جب یوسف (علیہ السلام) پیدا ہوئی تو ان کی پھوپھی نے ان کو دودھ پلایا۔ اور وہ ان کے پاس رہتے تھے۔ جتنی محبت یوسف (علیہ السلام) سے ان کی پھوپھی کرتی تھیں اتنی شاید کسی نے کسی چیز سے نہ کی ہو۔ یہاں تک کہ جب آپ کچھ بڑے ہوگئے تو یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک بات آئی اور اس (پھوپھی) کے پاس آئے اور فرمایا اے میری بہن ! یوسف (علیہ السلام) کو میرے سپرد کردو۔ اللہ کی قسم میں اس پر قادر نہیں ہوں کہ وہ مجھ سے ذرا دیر بھی غائب رہے۔ پھوپھی نے کہا اللہ کی قسم میں اس پر قادر نہیں ہوں کہ وہ مجھ سے ذرا دیر بھی غائب رہے۔ پھوپھی نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کو نہیں چھوڑوں گی۔ کچھ دن میرے پاس اس کو چھوڑ دو میں اس بارے میں سوچوں گی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق دے۔ جب یعقوب (علیہ السلام) چلے گئے تو اس نے اسحاق (علیہ السلام) کا ٹپکا لے کر یوسف (علیہ السلام) کے کپڑوں کے نیچے (چھپا کر) باندھ دیا۔ پھر کہنے لگی کہ اسحاق (علیہ السلام) کا ٹپکا گم ہوگیا۔ دیکھو کس نے اس کو لیا ہے اور کس کو ملا ہے۔ اس نے بھی تلاش کیا پھر کہنے لگی گھر والوں کی تلاشی لو۔ اس کی تلاشی لی تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس اس کو پایا۔ کہنے لگی اللہ کی قسم کہ اس کو میرے سپرد کردو میں اس بارے میں کروں گی جو چاہوں گی۔ یعقوب (علیہ السلام) تشریف لائے ان کو خبر دی گئی یعقوب (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا تو جان اور وہ جانے اگر اس نے ایسا کیا ہے تو تیرے سپرد ہے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔ تو پھوپھی جان نے ان کو روک لیا اور یعقوب (علیہ السلام) ساتھ لے جانے پر کامیاب نہ ہوئے یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ یہ وہی بات تھی جو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کہتے تھے کہ اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی ہے اسی کو فرمایا (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “۔ 3:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اپنی خالہ کی سرمہ دانی چرائی تھی۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آپ نے بچپن میں سرمہ کی دو سلائیاں چوری کی تھیں جو سونے کی بنی ہوئی تھیں۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے سونے اور چاندی کا ایک بت چرایا تھا جو اس کے نانا کا تھا پھر اس کو توڑ کر راستے میں ڈال دیا ان کے بھائیوں نے اسی بات کی ان کو عار دلائی۔ 6:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یوسف (علیہ السلام) کی ماں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی خالو کا بت چرالیں کہ جس کی وہ عبادت کرتا ہے۔ اور اس کی ماں مسلمان تھی۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ چوری جس کی وجہ سے ان کے بھائیوں نے ان کو عیب لگایا (یہ تھی) کہ انہوں نے ایک بت کو اٹھایا جو ان کے نانا کا تھا اور اس سے آپ نے خیر کا ارادہ کیا تھا۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) چھوٹے بچے تھے اپنی ماں کے ساتھ اپنی خالہ کے پاس رہتے تھے آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور کنیسہ (عیسائیوں کا گرجا) میں داخل ہوئے۔ وہاں سونے کا چھوٹا سابت تھا۔ آپ نے ان کو لے لیا اس بات کی انکے بھائیوں نے عار دلائی اور کہا (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “۔ 9:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) انکے ساتھ ایک دسترخوان پر تھے (ان کی اجازت کے بغیر) آپنے کھانے میں سے کچھ اٹھالیا تھا اور اس کو صدقہ کردیا (یہ چوری تھی ) 10:۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کس یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو پیالہ لینے کی وجہ سے کیسے ڈرایا۔ حالانکہ وہ ان کو بتا چکے تھے کہ وہ ان کے بھائی ہیں اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ یوسف (علیہ السلام) انجان ہی رہے۔ ان کے مکروفریب سے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اور روای نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے سامنے بھائی ہونے کا اعتراف نہیں کیا تھا۔ لیکن ان سے فرمایا میں تمہارا بھائی ہوں اس ہلاک ہونے والے بھائی کی جگہ۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالہم “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے دل میں ایسی بات کو چھپالیا (اور دل میں کہا) (آیت) ” انتم شرمکانا واللہ اعلم بما تصفون “۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” شرمکانا “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ( ان کے جواب میں) فرمایا (آیت) ” واللہ اعلم بما تصفون “ جو تم کہتے ہو (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں ) ۔ 13:۔ عبدالرزاق (رح) نے مصنف میں شیبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی (بنیامین) سے ملے تو ان سے پوچھا کیا تو نے میرے بعد شادی کی تھی ؟ اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کس چیز نے تجھ کو مجھ پر غم کرنے سے غافل کردیا ؟ تو بھائی نے کہا کہ تیرا باپ یعقوب (علیہ السلام) نے مجھ سے شادی کرلے شاید کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اولاد پیدا کردے جو افسوس کا اظہار کرتے رہیں۔ یا فرمایا کہ وہ ٹھہرے رہے زمین میں اپنی تسبیح کے ساتھ۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب یوسف سے ناامید ہوگئے تو وہاں سے علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پکا وعدہ لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں قصور کرچکے ہو، سو اب میں اس سر زمین سے نہیں ٹلوں گا جب تک میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا اللہ میرے لئے فیصلہ نہ فرما دے اور وہ فیصلہ دینے والوں میں سے اچھا فیصلہ دینے والا ہے

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا آپس میں مشورہ : 1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فلما استیئسوا منہ “ کے بارے میں فرمایا جب بھائی ناامید ہوگئے اور انہوں نے معاملہ میں یوسف (علیہ السلام) کی سختی کو دیکھا۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خلصوا نجیا “ یعنی وہ علیحدہ ہوگئے۔ (سوچ بچار کے لئے) 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قال کبیرھم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ شمعون تھا جو پیچھے رہ گیا تھا اور یہ عقل کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ تھا۔ (مگر) پیدائش کے لحاظ سے ان میں بڑا روبیل تھا۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال کبیرھم “ اور وہ روبیل تھا۔ اور یہ وہی (بھائی) تھا جس نے بھائیوں کو یوسف کے قتل سے روکا تھا۔ اور قوم کا بڑا تھا۔ 5:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویحکم اللہ لی “ یعنی میں قتال کروں تلوار کے ساتھ یہاں تک کہ قتل کردیا جاوں۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ شمعون یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے لڑائی کے لحاظ سے بڑا سخت تھا جب وہ غصہ ہوتا اس کے بال کھڑے ہوجاتے آنتیں پھول جاتیں اور اس کے غصہ کو کوئی چیز نہیں بجھا سکتی تھی۔ مگر یہ کہ آل یعقوب میں سے کوئی اس کو ہاتھ لگا دیتا تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تھا اور اس نے ایک مرتبہ ایک بستی والوں پر دھاوا بولا تھا اور ان کو ہلاک کردیا تھا اور اس دن بھی وہ سخت غصہ ہوا تھا جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے پیالہ چھین لیا تھا یہاں تک کہ اس کی آنتیں پھول گئیں یوسف نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ اس کو ہاتھ لگا دے تو اس کا غصہ ٹھہر گیا اور ٹھنڈا ہوگیا اور اس نے کہا کہ اس یعقوب میں سے ایک ہاتھ نے مجھ کو چھو لیا ہے۔