12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب اس نے ان عورتوں کی مکر کی باتیں سنیں تو انہیں بلوابھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس تیار کی جس میں تکیہ لگا کر بیٹھیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ ان کے سامنے سے نکل آ، سو جب ان عورتوں نے دیکھا تو حیران رہ گئیں، اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہنے لگیں حاشا اللہ یہ شخص بشر نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “ یعنی بمکرھن سے مراد ان کی باتیں ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “ سے مراد ہے ان کا عمل ہے اور فرمایا کہ قرآن مجید میں ہر مکر سے مراد عمل ہے۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریر وابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعتدت لھن متکا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور ان کا طریقہ یہ تھا جب وہ دستر خوان رکھتے تھے تو ہر انسان کو چھری دیتے تھے کہ جس کے ساتھ وہ کاٹ کر کھاتا تھا جب ان عورتوں نے (یوسف) کو دیکھا پھر فرمایا جب یوسف (علیہ السلام) ان کے سامنے گزرے ” اکبرنہ “ تو وہ آپ کی عظمت حسن کی قائل ہوگئی اور اپنے ہاتھوں کو چھریوں سے کاٹنے لگیں اور وہ گمان کررہی تھی کہ وہ اپنا کھانا کاٹ رہی ہیں۔ پھلوں سے ضیافت : 4:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعتدت لھن متکا “ کے بارے میں فرمایا کہ عزیز کی بیوی نے ان عورتوں کو لیموں دیئے اور ہر ایک کو ان میں سے چھری بھی دی۔ جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو ان کی عظمت حسن کی وہ قائل ہوگئیں اور اپنے ہاتھوں کو کاٹ لیا اور وہ گمان کررہی تھیں کہ وہ لیموں کو کاٹ رہی ہیں۔ 5:۔ مدد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” المنکا “ سے مراد ترنج (یعنی کنوں) ہے اور وہ متکا کو تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ایک اور سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” متکا “ سے مراد ہے ترنج (یعنی لیموں) 7:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے تیسری سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کیا کہ جس نے ” متکا “ اس کی تشدید کے ساتھ پڑھا تو اس سے مراد کھانا ہے اور جس نے ” متکا “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا تو اس سے مراد ترنج ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سلمہ بن تمام ابوعبید اللہ قشری (رح) سے روایت کیا کہ ” متکا “ حبشی زبان کا لفظ ہے وہ لوگ اترنج کو متکا کہتے ہیں۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابان بن تغلب سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) ” واعتدت لھن متکا “ تخفیف کے ساتھ اس سے مراد ہے اترنج (یعنی لیموں ) ۔ 10:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واعتدت لھن متکا “ سے مراد ہے کھانا دینا اور مسند ہے۔ 11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن جریر اور وابوالشیخ رحمہما اللہ ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” متکا “ سے مراد ہے ہر وہ چیز جو چھری سے کاٹی جاتی ہے۔ 12:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے ابن زیر ؓ سے روایت کیا کہ ان عورتوں کو انہوں نے اترنج اور شہد دیا انہوں نے چھری کے ساتھ اترنج کاٹا اور اپنے ہاتھ سے کھایا جب یوسف (علیہ السلام) سے کہا گیا ان کے سامنے سے نکل جاؤ تو وہ نکلے جب ان عورتوں نے انکو دیکھا تو آپ کے حسن کی عظمت کے قائل ہوگئیں اور ایسی محو ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو چھری سے کاٹنا شروع کیا حالانکہ ان کے ہاتھوں میں اترنج تھا اور ان کو ہاتھ کٹنے کی خبر تھی نہ ہوئی۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ اترنج کا کاٹ رہی ہیں حسن یوسف کو دیکھ کر ان کی عقلیں چلی گئیں اور کہنے لگیں (آیت ) ” وقلن حاش للہ ماھذا بشرا “ یعنی یہ انسان نہیں ہے بلکہ یہ کوئی معزز فرشتہ ہے۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ذرید بن مجاشع سے روایت کیا اپنے بعض شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا اس عورت نے اپنے منتظم سے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کے پاس لے آؤ اور اس کو سفید کپڑے پہنا دو کیوں کہ سفید لباس میں خوبصورت آدمی زیادہ اچھا لگتا ہے اس نے یوسف کو عورتوں پر پیش کیا جبکہ وہ اپنے ہاتھوں میں پھل لے کر کاٹ رہی تھیں۔ جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو کاٹ ڈالا اپنے ہاتھوں کو اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے ہاتھ کٹ گئے ہیں اس کی طرف دیکھنے کی وجہ سے کیونکہ وہ آپکی طرف متوجہ تھیں پھر اس عورت نے یوسف کو واپس چلنے کا اشارہ کیا تو وہ پیچھے سے آپ کو دیکھ رہی تھیں اور انہوں نے کاٹ ڈالا اپنے ہاتھوں کو چھریوں سے لیکن انہوں نے درد کو محسوس نہ کیا ان کی طرف دیکھنے کی وجہ سے جب یوسف چلے گئے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور درد کو محسوس کیا اس عورت (زلیخا) نے ان عورتوں سے کہا کہ تم نے ایک گھڑی دیکھی اور تمہاری یہ حالت ہوگئی تو میں کس طرح کروں ؟ کہنے لگیں۔ (آیت ) ” وقلن حاش للہ ماھذا بشرا، ان ھذا الا ملک کریم “ 14:۔ ابوالشیخ (رح) نے عبدالعزیز بن الوزیربن الکمیت بن زید بن الکیت الشاعر سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد اور میرے دادا نے روایت کیا کہ میں نے اپنے دادا الکیت کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” فلما راینہ اکبرنہ “ سے مراد ہے کہ یوسف کو دیکھ کر ان کی منی ٹپک پڑی پھر انہوں نے اس بارے میں یہ شعر پڑھا۔ لمارأتہ الخیل من رأس شاھق صھلن واکبرن المنی المذفقا ترجمہ : جب گھوڑوں نے اس کو بلندی سے دیکھا تو وہ ہنہنائے اور انہوں نے منی ٹپکائی۔ 15:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عبدالصمد بن علی بن عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے باب دادا ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ (آیت راینہ اکبرنہ “ سے مراد ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) ان پر نکلنے تو ان کو خوشی سے حیض آگیا اور شاعر نے کہا : ناتی النساء اطھارھن ولا ناتی النساء اذا اکبرن اکبارا ترجمہ : ہم طہر کی حالت میں عورتوں کے پاس آتے ہیں اور ان کے پاس نہیں آتے جب وہ حائضہ ہوتی ہیں۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما رائنہ اکبرنہ “ کہ وہ ان کی عظمت حسن کی قائل ہوگئی۔ (آیت) ” وقطعن ایدیھن “ چھری سے انہوں نے ہاتھ کاٹے یہاں تک کہ انہوں نے ان کو پھینک دیا (آیت ) ” وقلن حاش للہ “ یعنی اللہ کی پناہ۔ 17:۔ ابن ابی داود (رح) نے المصاحف میں الخطیب (رح) نے تابی التلخیص میں اسید بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ مصحف عثمانی میں (آیت ) ” وقلن حاش للہ “ تھا یعنی اس میں الف نہیں تھا یعنی ان عورتوں نے کہا کہ یہ ایک فرشتہ ہے فرشتوں میں سے اس کے حسن کی وجہ سے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) نے ابو الحویرث حنفی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ماھذا بشرا “ یعنی یہ (غلام) خریدا ہوا نہیں ہے۔ 19:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان ھذا الا ملک کریم “ یعنی ان عورتوں نے کہا کہ یہ ایک فرشتہ ہے فرشتوں میں سے اپنے حسن کی وجہ سے ، 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے یزید بن اساس (رح) سے روایت کیا کہ جب عورتیں آرام سے اپنی اپنی مسندوں پر بیٹھ گئی تو اس عورت (زلیخا) نے اپنے منتظم سے کہا ان کو اترجن اور چھری دے دو ۔ اس نے ہر ایک کو اترنج اور چھری پیش کردی تو انہوں نے (پھل کو) کاٹنا اور کھانا شروع کیا۔ زلیخا نے کہا کیا تم یوسف کی طرف دیکھوگئی ؟ انہوں نے کہا جیسے تو چاہے تو اپنے منتظم سے کہا کہ یوسف کو ان کے سامنے لے آؤ جب ان عورتوں نے ان کو دیکھا تو اپنی انگلیوں کو اترنج کے ساتھ کاٹ ڈالا اور ان کو تکلیف محسوس نہ ہوئی پھر انہوں نے کسی درد کو نہ پایا جب انہوں نے اس کے حسن کو دیکھا جب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر چلے گئے زلیخا نے کہا یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھی۔ اب بتاؤ کہ تم نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور تم کو احساس تک نہ ہوا۔ اور جب انہوں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو چیخنا اور رونا شروع کیا، زلیخا نے کہا اب بتاؤ میری حالت کیا ہوگئی تو وہ کہنے لگیں (آیت ) ” وقلن حاش للہ ماھذا بشرا ان ھذا لاملک کریم “ اور کہنے لگیں ہم تجھ پر کوئی ملامت نہیں دیکھتیں اور اس کے بعد (یعنی ہم تجھ کو اب ملامت نہیں کرتیں) 21:۔ ابوالشیخ (رح) نے منبہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان عورتوں میں سے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ان میں سے انیس عورتیں محبت کی وجہ سے مرگئیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال :۔ 22:۔ احمد وابن ابی حاتم وابن مردویہ الحاکم رحمہم اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو آدھا حسن دیا گیا تھا۔ 23:۔ ابن سعد وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو ایک تہائی حسن دیا گیا تھا۔ 24:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا چہرہ بجلی کی طرح چمکدار تھا جب وہ کوئی عورت اپنے مطلب برداری کے لئے ان کے پاس آئی تو وہ اپنے چہرے کو چھپالیتے تھے۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ یہ عورت اس وجہ سے کسی فتنہ میں نہ پڑجائے۔ 25:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کی والدہ کو حسن انسانیت کا ایک تہائی حصہ دیا گیا تھا۔ چہرے اور سینوں میں اور اس کے علاوہ دوسرے اعضاء میں۔ 26:۔ ابوالشیخ (رح) نے اسحاق بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) جب مصر کی گلیوں میں چلتے تھے تو ان کے چہرے کی چمک دیواروں پر اس طرح پڑتی تھی جیسے پانی اور سورج کی دیوار پر چمک پڑتی ہے۔ 27:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو دنیا والوں کا ایک تہائی حسن دیا گیا تھا اور (دوسرے) لوگوں کو دو تہائی عطا کیا گیا۔ 28:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کو دس حصوں میں تقسیم فرمایا ان میں سے تین حصے حوا (علیہ السلام) میں رکھے۔ اور تین حصے سارہ (علیہ السلام) میں رکھے اور تین حصے یوسف (علیہ السلام) میں اور ایک حصہ ساری مخلوق میں رکھ دیا۔ اور سارہ (علیہ السلام) زمین کی عورتوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھیں۔ اور تمام عورتوں سے زیادہ غیرت مند تھیں۔ 29:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ربیعہ جرشی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا یوسف (علیہ السلام) اور سارہ (علیہ السلام) کو (آدھا حسن) دیا۔ اور دوسرا آدھا سارے لوگوں میں تقسیم فرمایا۔ 30:ـ۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ حسن کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا اور یوسف (علیہ السلام) کو ایک تہائی دیا گیا اور دو تہائی لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا اور یوسف لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ 31:۔ عبدبن حمید وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یوسف کے حسن کی فضیلت لوگوں پر ایسی ہے جسے چودھویں رات کو چاند کی فضیلت آسمان کے ستاروں پر۔ 32:۔ الحاکم (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف کو حسن و جمال کا دو تہائی حصہ عطا فرمایا اور اپنے بندوں کے درمیان ایک تہائی کو تقسیم فرمایا اور آدم (علیہ السلام) کے مشابہ تھے۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا تھا۔ جب آدم (علیہ السلام) نے نافرمانی کی تو ان سے نور اور رونق اور حسن چھین لیا گیا اور ان کو توبہ کے ساتھ ایک تہائی حسن عطا کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو اس میں دو تہائی عطا فرمایا اور ان کو خوابوں کی تعبیر عطا فرمائی۔ اور جب آپ ہنستے تھے تو آپ کی داڑھوں سے نور دکھائی دیتا تھا۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

وہ عورت کہنے لگی سو یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی اور واقعی میں اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی سو وہ بچ گیا اگر اس نے وہ بات نہ مانی جس کا میں اسے حکم دے رہی ہوں تو ضرور اس کو جیل میں بھیج دیا جاے گا اور یہ ضرور بےعزت ہوگا

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستعصم “ یعنی وہ (بڑے کام سے) رک گیا۔ 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستعصم “ کا معنی ہے فاستعصی۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ اے میرے رب یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس کے مقابلہ میں مجھے جیل جانا محبوب ہے اور اگر آپ مجھ سے ان کی چال بازی کو دفع نہ کریں گے تو میں ان کی طرف مائل ہوجاوں گا اور میں جاہلوں میں سے ہوجاوں گا

عزت بچانے کے لئے جیل کی زندگی پسند کرنا : 1:۔ سعید (رح) نے اپنی تفسیر میں وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ دعا کی توثیق دی جاتی ہے مقدر کے مطابق کیا تو نے نہیں دیکھا کہ یوسف نے عرض کیا (آیت) ” رب السجن احب الی “ پھر کہا تھا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کردینا تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کے سامنے ایک چٹان سے پردہ ہٹادیا اور (یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا آپ کیا دیکھتے ہیں فرمایا ایک چیونٹی کو دیکھ رہا ہوں جو چٹان کو کاٹ تو رہی ہے ؟ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ کے رب فرماتے ہیں کہ میں اس (چیونٹی) کو نہیں بھولا پھر تجھ کو کیسے بھولوں گا میں نے تجھے اس لئے قید کیا تھا کہ تو نے خود ہی کہا تھا (آیت) ” رب السجن احب الی “۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والا تصرف عنی کیدھن “ کے بارے میں فرمایا اگر آپ کی طرف سے (مجھے برائی سے ہٹانا) نہ ہوا۔ حالانکہ آپ قوت والے ہیں اور حفاظت فرمانے والے ہیں تو میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں ان کے مکر سے بچ سکوں اور میرے پاس طاقت بھی نہیں (ان کی مکاریوں سے بچنے کے لئے ) ۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” اصب الیھن “ یعنی میں ان کو عورتوں کے پیچھے لگ جاوں گا۔ مواقع گناہ سے دوری اختیار کرنا : 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اصب الیھن “ یعنی میں ان عورتوں کی اطاعت کرلوں گا۔ 5:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص جان بوجھ کر کوئی گناہ کرے یا خطا کرے اور وہ جاہل تھا جب اس نے یہ گناہ کیا کیا آپ یوسف (علیہ السلام) کے اس قول کی طرف نہیں دیکھتے کہ (انہوں نے کہا تھا) (آیت ) ” اصب الیھن واکن من الجھلین “ (کہ اپنی مہربانی سے ان کے مکر کو مجھ سے ہٹائیں تو میں ان کی طرف مائل ہوجاوں گا اور میں نادانوں میں ہوجاوں گا) یعنی یوسف (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ زنا حرام ہے اگر وہ ایسا کرلیتے تو ہوجاتے جاہل لوگوں میں سے۔
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کرلی سو عورتوں کی چال بازی کو یوسف (علیہ السلام) سے ہٹا دیا، بلاشبہ وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے

1:۔ ابن منذر (رح) نے بکر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ عزیز مصر کی عورت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئی جب اس عورت نے ان کو دیکھا تو ان کو پہچان لیا اور کہنے لگی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے غلام کو اپنے اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنادیا اور بادشاہ کو اپنی نافرمانی کی وجہ سے غلام بنادیا۔
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر نشانیاں دیکھنے کے بعد ان لوگوں کی سمجھ میں یہ آیا کہ ایک وقت تک یوسف کو جیل میں رکھیں

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ثم بدالہم من بعد ما راوالایت “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تجھ سے پہلے کسی نے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ نشانیوں میں سے یہ ہیں قمیص کا پھٹا ہونا اور عورت کا اثر آپ کے جسم میں ہونا اور چھریوں سے عورتوں کا ہاتھ کاٹنا اور عزیز کی بیوی کا اپنے خاوند سے کہنا یوسف کو جیل میں نہیں بھیجے گا، تو لوگ اس کو سچا مانیں گے (یعنی یوسف کو ) ۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نشانیاں یہ تھیں قمیص کا پھٹ جانا اور چہرے میں خراشوں کا ہونا۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم بدالہم من بعد ما راوالایت “ کے بارے میں فرمایا کہ قیمص کا پیچھے سے پھٹ جانا (نشانیوں میں سے ہے ) ۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من بعد ما راوالایت “ میں آیات سے مراد بچے کا بات کرنا ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نشانیاں یہ ہیں عورتوں کا ہاتھ کو کاٹ لینا اور قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہوا ہونا۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان میں سے ایک صاحب الرائے آدمی نے عزیز مصر سے کہا کہ تو اگر اس غلام (یعنی یوسف (علیہ السلام) کو چھوڑ دے گا۔ کہ وہ حقیقت بیان کرے گا۔ لوگوں کے سامنے اور ان کو اپنا معاملہ بیان کرے گا جبکہ عورت اپنے گھر میں رہے گی کہ وہ لوگوں کی طرف نہیں جائے گی۔ تو لوگ یوسف کو بےقصور سمجھ سمجھیں گے۔ اور تیرے گھروالوں کو رسوا کریں گے تو بادشاہ نے (یہ سن کر) یوسف (علیہ السلام) کو جیل (میں ڈالنے کا) حکم دے دیا۔ 7:۔ عبدبن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) تین مرتبہ سزا دیئے گئے پہلی مرتبہ قید ہوئے جب انہوں نے اس عورت (یعنی عزیز مصر کی بیوی) کے بارے میں کچھ ارادہ کرلیا تھا اور دوسری مرتبہ ان کے اس کہنے کی وجہ سے (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ تو کئ سال وہ پھر جیل میں رہے (اور) تو آپ کی قید میں اضافہ کرگئے سزا دی گئی اور تیسری مرتبہ جب انہوں نے کہا (آیت) ” ایتھا العیر انکم لسرقون (70) “ تو (بھائیوں نے) ان کے سامنے ہی کہہ دیا۔ (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “ (یعنی اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی ہے) 8:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لیسجننہ حتی حین “ کے بارے میں فرمایا کہ سات سال تک جیل میں رہے۔ 9:۔ ابن الانباری (رح) نے کتاب الوقف والا بتداء میں والخطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو یہ حرف (آیت) ” لیسجننہ حتی حین “ پڑھتے ہوئے سنا۔ عمر نے ان سے فرمایا کس نے تجھ کو یہ الفاظ پڑھائے ہیں اس نے کہا ابن مسعود ؓ نے حضرت عمر نے اس کی تصحیح فرمائی (آیت) ” لیسجننہ حتی حین “ پھر ابن مسعود کو لکھا تم پر سلام ہواما بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل فرمایا اور (پھر) قرآن کو عربی میں فرمایا اور اس کو قریش کی لغت میں نازل فرمایا ہے جب تیرے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو قریش کی لغت کے ساتھ پڑھاؤ اور ھذیل (قبیلہ) کی لغت میں نہ پڑھاؤ۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو جوان جیل میں داخل ہوئی ان میں سے ایک نے کہا کہ میں خواب میں اپنے کو دیکھ رہا ہوں کہ شراب نچوڑرہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں خواب میں اپنے کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں آپ ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے بلاشبہ ہم آپ کو نیک آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تعبیر خواب علم دیا گیا :۔ 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ودخل معہ السجن فتین “ کے بارے میں فرمایا دو آدمیوں کو قید کیا گیا ایک ان میں سے بادشاہ کے مطبخ کا نگران تھا اور دوسرا اس کو شراب پلانے والا تھا۔ بادشاہ کے دوغلام جیل میں تھے : 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ودخل معہ السجن فتین “ کے بارے میں فرمایا بڑے بادشاہ ریان بن ولید کے یہ دونوں غلام تھے ان میں سے ایک اس کی شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا اس کے بعض دوسرے کاموں پر (مقرر تھا) بادشاہ ان دونوں پر ناراض ہوگیا ان میں سے ایک کا نام مجیب تھا اور دوسرافبواء تھا جو شراب پلانے پر مقرر تھا جب ان دونون کی یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے نوجوان اللہ کی قسم ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں جب سے ہم نے تجھ کو دیکھا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی نجیع نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں سے فرمایا جب انہوں نے ان کو یہ بات کہی اور میں تم دونوں کو اللہ کی قسم ! دیتا ہوں کہ مجھ سے محبت نہ کرو۔ اللہ کی قسم ! جس نے کبھی مجھ سے محبت کی تو اس محبت کرنے والے پر کوئی مصبیت پڑگئی میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو اس کی وجہ سے مجھ پر مصیبت نازل ہوئی۔ پھر میرے والد نے مجھ سے محبت کی تو اس محبت کی وجہ سے میں مصیبت میں گرفتار ہوا۔ جب میرے آقا کی بیوی نے مجھ سے محبت کی تو اس کی محبت کرنے کی وجہ سے مجھ پر مصیبت نازل ہوئی (اس لئے) مجھ سے محبت نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تم دونوں میں برکت دے۔ ان دونوں نے انکار کردیا اور آپ سے محبت اور الفت کی جو کچھ ہوجائے کیونکہ وہ آپ کی فہم و فراست کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئے۔ اور ان دونوں نے ایک خواب دیکھا جب دونوں جیل میں داخل ہوئے۔ مجیب نے دیکھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں اور فبواء نے دیکھا کہ وہ شراب کو نچوڑ رہا ہے۔ انہوں نے ان خوابوں کی تعبیریوسف (علیہ السلام) سے پوچھی اور کہا ہمیں اس کی تعبیر بتاؤ (آیت ) ” نبئنا بتاویلہ انانرک من المحسنین “ یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (آیت ) ” لایاتیکما طعام ترزقنہ “ یعنی تمہاری نیند میں (آیت ) ” الا نباتکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما “ پھر ان کو اللہ اور اسلام کی طرف بلایا اور فرمایا (آیت ) ” یصاحبی السجنء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القہار “ اے میرے جیل کے ساتھیو ! کیا بہت سے خدا بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہیں۔ پھر مجیب سے فرمایا تو سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے تیرے سر میں سے کھائے گے۔ اور فبواء کو فرمایا کہ تو اپنے کام پر کامیاب لوٹ جائے گا اور تیرا مالک تجھ سے راضی ہوجائے گا (آیت) ” قضی الامر الذی فیہ تستفتین (41) یعنی یہ اس کام کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے) 3:۔ وکیع (رح) نے الغرر میں عمروبن دینار (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے محبت میں جتنی تکالیف پہنچی ہیں اتنی کسی کو نہیں پہنچی ہیں۔ میرے والد نے مجھ سے محبت کی تو میں اندھیرے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ عزیز کی عورت نے مجھ سے محبت کی تو میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی ارنی اعصر خمرا “ سے مراد ہے انگور۔ 5:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) ” انی ارنی اعصر عنبا “ اور فرمایا اللہ کی قسم ! کہ میں اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس طرح لیا ہے۔ 6:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” انی ارنی اعصر خمرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ میں انگور کو نچوڑ رہا ہوں اور یہ عمان کی لغت ہے وہ لوگ انگور کو شراب کا نام دیتے ہیں۔ 7:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” نبئنا بتاویلہ “ میں تاویل سے مراد تعبیر ہے۔ 8:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی ارنی اعصر خمرا “ یہ عمان کی لغت ہے اور (آیت ) ” انا نرک من المحسنین “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کا احسان یہ تھا جو ہم ذکر کیا گیا کہ وہ ان کے غمگین لوگوں کو تسلی دیتے اور ان کے مریضوں کو دوا کرتے تھے اور انہوں نے آپ کی عبادت کو ار مشقت کو دیکھا تو ان سے محبت کرنے لگے اور جب یوسف (علیہ السلام) جیل میں پہنچے تھے توا نہوں اس میں ایک قوم کو پایا کہ ان کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں۔ اور ان کی مصیبتیں سخت ہوگئیں تھیں۔ اور ان کے غم لمبے ہوچکے تھے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو کہنا شروع کیا (اس حال میں بھی) خوش ہوجاؤ صبر کرو اجر دیئے جاوگے۔ بلاشبہ اس کے لئے بھی اجر ہے بلاشبہ اس کے لئے بھی ثواب ہے۔ انہوں نے کہا اے نوجوان۔ اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے۔ تیرا چہرہ کتنا اچھا ہے تیرا اخلاق کتنا عمدہ اور صورت کتنی پیاری ہے۔ البتہ تحقیق ہم کو برکت عطا کی گئی ہے تیرے پڑوس میں ہونے کی وجہ سے ہم اس سے پہلے کہ ہماری حالت غیر تھی جب سے ہم قید ہوئے ہیں جب تو نے ہم کو خوشخبری سنائی اجر کفارہ اور طہارۃ کی اے نوجوان تو کون ہے فرمایا میں یوسف بیٹا ہوں صفی اللہ یعقوب کا جو بیٹے ہیں ذبیح اللہ اسحاق کے جو بیٹے ہیں خلیل اللہ ابراہیم کے علیہم الصلاۃ والسلام آپ کے ساتھ سب لوگ محبت اور عقیدت رکھتے تھے اور جیل کے نگران نے ان سے کہا اے نوجوان ! اللہ کی قسم اگر میں طاقت رکھتا تو تجھے چھوڑ دیتا لیکن میں تجھ سے اچھا سلوک کروں گا اور تجھے اچھا پڑوس دوں گا پس تو ٹھہر جا جیل کے جس کمرے میں چاہے۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے جیل والوں کے لئے دعا فرمائی : اللہم لا تعم علیہم الاخبار وھون علیہم مر الایام۔ ترجمہ : اے اللہ ان پر ہمیشہ مشکل حالات نہ رکھ اور ان پر گردش زمانہ کو آسان فرما۔ 10:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی رحمہما اللہ نے شعب الایمان میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” انا نرک من المحسنین “ کے بارے میں پوچھا گیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا کیا احسان تھا فرمایا کہ جب کوئی انسان جیل میں بیمار ہوجاتا تو اس کی تیمارداری کرتے اور جب اس پر جگہ تنگ ہوجاتی تو اس کے لئے کشادگی کا سامان کرتے اور جب وہ کسی چیز کا محتاج ہوتا تو اس کے لئے وہ چیز جمع کردیتے۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں خواب کی تعبیر بتادوں گا یہ اس علم میں ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے، بلاشبہ میں نے ان لوگوں کے دین کو چھوڑ رکھا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں

1:۔ ابوسعید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال لا یاتیکما طعام ترزقنہ “ کے بارے میں فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو فورا تعبیر بتانے کو ناپسند کیا تو انہوں نے ان کے جواب کے علاوہ (دوسرا) جواب دیا تاکہ وہ جان لیں کہ ان کے پاس ایک خاص علم ہے اور بادشاہ جب کسی انسان کے قتل کا ارادہ کرتا تھا تو اس کے لئے مخصوص کھانا تیار کیا جاتا تھا اور اس کو اس کھانے کی طرف بلایا جاتا ہے پس ان دونوں نے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لا یاتیکما طعام ترزقنہ سے لے کر ” تشکرون “ تک (یعنی نہیں آئے گا تمہارے پاس کھانا جو تمہیں کھلایا جاتا ہے پس ان دونوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ آپ نے ان کے خوابوں کی تعبیر دی۔ اور فرمایا (آیت) ” یصاحبی السجنء ارباب “ سے لے کر (آیت) ” ولکن اکثرالناس لا یشکرون “ تک انہوں نے آپ کو نہیں چھوڑا پھر آپ نے ان کو خوابوں کی تعبیر بتادی۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے باپ دادوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کا اتباع کیا ہے، یہ ہمارے لئے کسی طرح بھی درست نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ کا فضل ہے، اور لیکن بہت سے لوگ شکر اد انہیں کرتے

1:۔ ترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا والحاکم وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ کریم بیٹا کریم کا اور کریم بیٹاکریم کا وہ یوسف بیٹا یعقوب کا وہ بیٹا اسحاق کا وہ بیٹا ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم والحاکم رحمہما اللہ نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ اسماء بن خارجہ فزاری نے ایک آدمی سے فخر کیا اور کہا کہ میں الاشیاخ الکرام (یعنی عزت والے شیوخ) کی اولاد میں سے ہوں عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا وہ تو یوسف بیٹا یعقوب کا اور وہ بیٹا اسحاق ذبیح اللہ کا اور وہ بیٹا اسحاق ذبیح اللہ کا اور وہ بیٹا ابراہیم خلیل اللہ کا ہے۔ 3:۔ الحاکم (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور اس نے کہا ابن اخیار (نیک لوگوں کا بیٹا) کے لئے اجازت طلب کرو عمر نے فرمایا اس کو اجازت دیدو جب وہ داخل ہوا تو عمر ؓ نے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا کہ میں فلاں کا بیٹا فلاں کا اور فلاں کا بیٹا فلاں کا ہوں اور زمانہ جاہلیت کے اشراف لوگوں کو گنوایا عمر نے اس سے فرمایا کیا تو یوسف بیٹا یعقوب کا اور یعقوب بیٹا اسحاق کا اور اسحاق بیٹا ابراہیم کا ہے۔ اس نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا کہ بہترین لوگوں میں سے تھے اور تو برے لوگوں میں سے ہے۔ تو نے میرے سامنے اپنے کو دوزخ کے پہاڑوں میں شمار کیا ہے۔ 4:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ دادا کو باپ کے قائم مقام بناتے اور کہتے تھے جو شخص چاہے البتہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا۔ (آیت) ” واتبعت ملۃ اباءی ابرھیم واسحق و یعقوب “۔ 5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک من فضل اللہ علینا “ سے مراد ہے کہ ہم کو انبیاء بنایا (یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر فضل ہے) (آیت) ” وعلی الناس “ اور لوگوں پر احسان فرمایا ہم کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ 6:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ذلک من فضل اللہ علینا وعلی الناس “ کے بارے میں فرمایا کہ مومن بندہ البتہ شکر کرتا ہے جو اللہ کی نعمت اس کو پہنچتی ہے اور وہ اسکا بھی شکر ادا کرتا ہے جو لوگوں کو اللہ کی نعمت پہنچتی ہے ہم کو ذکر کیا گیا کہ ابو درداء فرمایا کرتے تھے بہت شکر کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جو ایسی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں جو ان کو نہیں دی گئی اور بہت سے ایسے فقہ حاصل کرنے والے ہوتے ہیں جو فقیہ نہیں ہوتے۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیوں کیا بہت سے معبود جداجدا بہتر ہیں یا اللہ بہتر ہے جو تنہا ہے زبردست ہے

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو وہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے تجویز کرلئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ حکم بس اللہ ہی کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہ سیدھا راستہ ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

ایک اللہ کے در کو مضبوطی سے تھام لو : 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب اللہ نے نبی یوسف (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ ان میں سے ایک مقتول ہے تو ان دونوں کو بلایا ان کے حصے کی طرف جو ان کے آقا کی طرف سے ملنا تھا اور جو انہیں ملنا تھا ان کے آخرت سے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یصاحبی السجن “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو ایسے ہی کہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الحکم الا للہ، امر الا تعبدوا الا ایاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ دین کی بنیاد ” وحدہ لاشریک لہ “ کے ساتھ اخلاص پر ہے۔ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک الدین القیم “ سے مراد ہے وہ دین جو انصاف والا ہے۔
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرے کو سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے جس بات کے بارے میں تم معلوم کررہے تھے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے

1:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک ساتھی (یوسف (علیہ السلام) کے پاس) آیا اور کہا آپ بتائیے اس خواب کے بارے میں اور اس میں سے انگور نکلے تو میں نے ان کو نچوڑا پھر بادشاہ کو بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم جیل میں تین دن رہو گے تو نکل جائے گا اور اس (بادشاہ) کو شراب پلائے گا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فیسقی ربہ خمرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں رب سے مراد ہے اس کا آقا۔ جھوٹا خواب بیان کرنا : 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے جیل کے ساتھیوں کے کچھ بھی نہ دیکھا تھا بلکہ انہوں نے یہ خواب بنایا کہ تاکہ وہ ان کے علم کا تجربہ کریں۔ جب انہوں نے ان کے خوابوں کی تعبیر دیدی تو انہوں نے کہا کہ ہم تو یونہی دل لگی کررہے تھے اور ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا تو (یوسف (علیہ السلام) فرمایا (آیت) ” قضی الامر الذی فیہ تستفتین “ یعنی تعبیر واقع ہوچکی ہے اب فیصلہ ہوچکا ہے۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر دی تھی۔ 4:۔ ابوعبید وابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ان دو خواب بیان کرنے والوں میں سے ایک چھوٹا تھا۔ 5:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قضی الامر الذی فیہ تستفتین “ کے بارے میں فرمایا کہ جب ان دونوں نے کہا کہ ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا ہم نے تم سے مذاق کیا ہے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے مطابق فیصلہ ہوچکا جو میں نے تعبیر دی ہے۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے روٹی پکانے والے سے فرمایا کہ تو سولی دیا جائے گا اور پرندے تیرے سر میں سے کھائیں گے اور شراب پلانے والے سے فرمایا کہ تو اپنے کام پر لوٹ جائے گا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جب تعبیر دی گئی تو ان دونوں نے کہا ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” قضی الامر الذی فیہ تستفتین “۔ 7:۔ ابوالشیخ (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا ” اما احد کما فیسقی ربہ خمرا “
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور جن دو جوانوں نے خواب کی تعبیر دریافت کی تھی ان میں سے جس شخص کے بارے میں یوسف (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ وہ رہا ہونے والا ہے اس سے کہا کہ تو اپنے آقا کے سامنے میرا تذکرہ کردینا پھر اس شخص کو شیطان نے اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلادیا سو یوسف (علیہ السلام) جیل میں چند سال رہے

1:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ ابن سایط (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وقال للذی ظن انہ ناج منھما اذکرنی عند ربک “ کے بارے میں فرمایا کہ (مصر کی زمین کے مالک کے پاس (میں ذکر کردیتا) 2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ یعنی بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ قیدخانے کے دروازے پر پہنچا تو اس نے کہا مجھے کوئی اپنی حاجت بتائے۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کردینا اور رب سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے مالک ہیں۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقال للذی ظن انہ ناج “ کے بارے میں فرمایا کہ خواب کی تعبیر کو ظن کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور باطل کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ 5:۔ ابن ابی دنیا نے کتاب العقوبات میں وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یوسف (علیہ السلام) وہ کلمہ نہ فرماتے جو انہوں نے کہا تھا (یعنی) (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ توجیل میں اتنی زیادہ دیر تک نہ رہتے جتنا کہ وہ رہے کیونکہ انہوں نے غیر اللہ سے کشادگی طلب کی تھی۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یوسف (علیہ السلام) وہ کلمہ نہ فرماتے جو انہوں نے کہا تھا تو وہ اتنی زیادہ (دیرقید میں نہ رہتے جتنا وہ رہے تھے) 7:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر وہ (آیت ) ” اذکرنی عندربک “ نہ فرماتے تو جیل میں اتنا عرصہ نہ رہتے جتنا وہ رہے۔ 8:۔ احمد (رح) نے الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر وہ (آیت ) ” اذکرنی عندربک “ کہتے نہ تو جیل میں اتنا زیادہ عرصہ نہ رہتے جتنا وہ رہے پھر حسن ؓ رونے لگے اور فرمایا اگر ہم پر کوئی بھی مصیبت نازل ہوئی تو ہم خوف کے وقت لوگوں کی طرف پناہ لیتے ہیں (یعنی انہیں سے مدد مانگتے ہیں ) ۔ 9:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی اگر یوسف (علیہ السلام) اپنے آقا سے سفارش نہ کرتے تو لمبی مدت تک جیل میں نہ رہتے۔ جتنا کہ وہ رہے لیکن اپنے آقا کی طرف سفارش طلب کرنے پر یہ سزا دی گئی۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ و عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی۔ کس نے تجھے قتل سے بچایا تھا جب تیرے بھائی تجھ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ عرض کیا اے میرے رب آپ ہی نے مجھ کو بچایا۔ پھر فرمایا کس نے تجھ کو کنویں سے نکالا تھا۔ جب انہوں نے تجھ کو اس میں ڈال دیا تھا عرض کیا اے میرے رب آپ ہی نے نکالا تھا۔ پھر فرمایا کس نے تجھ کو اس عورت سے بچایا تھا۔ جب اس نے اپنے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا۔ عرض کیا اے میرے رب آپ نے مجھ کو بچایا تھا پھر فرمایا پھر تجھے کیا ہوا کہ تو مجھ کو بھول گیا۔ اور ایک آدمی کو تو نے یاد کیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا گھبراہٹ کی وجہ سے وہ کلمہ میں اپنی زبان سے کہہ بیٹھا فرمایا میری عزت کی قسم ! میں تجھ کو جیل میں کئی سال تک رکھوں گا تو وہ جیل میں کئی سال رہے۔ جیل خانہ میں رب کی طرف سے آزمائش : 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس شراب پلانے والے سے فرمایا کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کردینا ان سے پوچھا گیا اے یوسف ! کیا تو نے میرے علاوہ دوسرے کو کارساز بنادیا اب تو میں تیری قید کو لمبا کردوں گا یوسف رونے لگے اور عرض کیا اے میرے رب میرا دل مصیبت کی کثرت کی وجہ سے مشغول ہوگیا تھا۔ اور میں نے یہ کلمہ کہہ دیا۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وقال للذی ظن انہ جان منھما اذکرنی عندربک “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس آدمی سے فرمایا جس نے ان کے جیل کے ساتھیوں میں سے نجات پائی تھی کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا اس نے ذکر نہ کیا یہاں تک کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا۔ اس وجہ سے شیطان نے اس کو بھلادیا کہ وہ اپنے آقا کا ذکر کرا دیا اور بادشاہ نے رہائی کا حکم دے دیا۔ اور بطور عقوبت کئی سال جیل میں رہے اس قول کی وجہ سے (آیت ) ” اذکرنی عندربک “ 13:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فلبث فی السجن بضع سنین “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ جیل میں سات سال رہے۔ 14:۔ عبدالرزاق واحمد الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کو سات سال تک تکلیف پہنچی اور یوسف (علیہ السلام) جیل میں سات سال رہے۔ ا وربخت نصر کو درندوں میں سات سال عذاب دیا گیا۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلبث فی السجن بضع سنین “ یعنی بارہ سال (وہ جیل میں رہے) 16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوبکر بن عیاش کے راستے سے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ایک کلمہ ایسا فرمایا کہ اس کی وجہ سے سات سال جیل میں رہے۔ ابوبکر (رح) نے فرمایا کہ اس سے پہلے پانچ سال قید کردیئے گئے تھے۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے طاوس وضحاک دونوں حضرات (آیت ) ” فلبث فی السجن بضع سنین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ چودہ سال (جیل میں رہے) 18:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” البضع “ تین سے نوتک کی تعداد پر ہوتا ہے۔ 19:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” البضع “ تین سے نو تک کی تعداد کو کہتے ہیں۔ 20:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” البضع “ دس سے کم کو کہتے ہیں۔ 21:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) سے تین لغزشیں ہوئی (1) ان کا یہ کہنا (آیت ) ” اذکرنی عند ربک “ (2) ان کا یہ کہنا اپنے بھائیوں کے لئے کہ تم چور ہو اور (3) ان کا یہ کہنا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ کیا وہ خیانت نہیں تھی۔ جب آپ نے (برے کام کا) ارادہ کرلیا تھا ؟ تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میں اپنے آپ کو پاک نہیں کہتا۔ 22:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (گھر سے) یوسف (علیہ السلام) گئے تو سترہ سال کے تھے اور کنویں میں سات سال رہے اور جیل میں سات سال رہے۔ اور غلہ کو سات سال میں جمع کیا علماء کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد وہ اپنے والد سے ملے تھے۔ 23:۔ احمد (رح) نے الزہد میں ابوالملیح (رح) سے روایت کیا کہ یوسف کی جیل میں یہ دعا تھی۔ اللہم ان کان خلق وجھی عندک فانی اتقرب الیک بوجہ یعقوب ان تجعل لی فرجا ومخرجا ویسرا وترزقنی من حیث لا احتسب۔ ترجمہ : اے اللہ اگر میری ذات کی پیدائش تیری طرف ہے تو میں تیری تقرب چاہتا ہوں اپنے والد یعقوب کی ذات کی وجہ سے کہ میرے لئے کردیجئے رہائی اور نکلنے اور آسانی کا راستہ اور مجھ کو رزق دیجئے اس طرح پر کہ میں (اس کا) حساب نہ کیا جاوں۔ 24:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں عبداللہ موذن الطائف (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے یوسف ! کیا جیل آپ پر سخت ہوگئی ؟ فرمایا ہاں فرمایا یوں دعا کرو : اللہم اجعل لی من کل ما اھمنی وکربینی من امر دنیای وامر اخرتی فرجا ومخرجا وارزقنی من حیث لا احتسب واغفرلی ذنبی وثبت وجائی واقطعہ من سواک حتی لا ارجواحدا غیرک۔ ترجمہ : اے اللہ بنا دے ہر اس کام سے جس نے مجھ کو بےچین کردیا اور مجھے مشقت میں ڈال دیا میری دنیا کے کاموں میں سے اور میرے آخرت کے کاموں میں سے میرے لئے رہائی اور نکلنے کا راستہ اور مجھ کو رزق عطا فرمادیجئے اس طرح کہ اس کا احساس نہ کیا جاوں اور میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور میری امیدوں کو جما دیجئے اور اس کے علاوہ میری امت کاٹ دیجئے یہاں تک کہ میں آپ کے علاوہ کسی سے کوئی امید نہ رکھوں۔
Ayahs 12:43–46

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ بیشک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات گائیں موٹی ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہیں ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور ان کے علاوہ خشک بالیں ہیں اے درباروالو مجھے میرے خواب کے بارے میں جواب دو اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو یوں ہی خیال وخواب ہیں اور ہم خوابوں کی تعبیر دینا جانتے نہیں ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور وہ شخص بول اٹھا جو دو قیدیوں میں رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آگیا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر سے باخبر کردوں گا تم لوگ مجھے بھیج دو

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف اے سچے ہمیں ایسی سات موٹی گایوں کے بارے میں جواب دیجئے جنہیں سات دبلی گائیں کھاجارہی ہیں اور سات ہری بالوں اور ان کے علاوہ خشک بالوں کے بارے میں بتائیے تاکہ میں ان لوگوں کی طرف واپس ہوجاوں امید ہے وہ بھی جان لیں گے۔

1:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس شراب پلانے والے سے فرمایا (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ کہ بڑے بادشاہ (یعنی اپنے آقا) (کے پاس) میری مظلومیت اور بغیر جرم کے میری قید کا تذکرہ کرنا۔ اس نے کہا میں ایساکروں گا۔ جب شراب بنانے والا (جیل سے) باہر نکلا تو اسی کام پر لوٹا دیا گیا جس پر وہ تھا اور اس کا آقا (یعنی بادشاہ) اس پر راضی ہوگیا اور شیطان نے بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنا بھلا دیا تھا۔ اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک جیل میں رہے، پھر بادشاہ ریان بن الولید نے ایک خواب دیکھا جس کا ان آیات میں ذکر ہے بادشاہ کو خواب نے خوفزدہ کردیا اور اس نے سمجھا کہ سچا خواب ہے لیکن وہ اس کی تاویل نہ جانتا تھا۔ اس نے اپنے اہل مملکت میں سے اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہا (آیت) ” انی اری سبع بقرت سمان یاکلن سبع عجاف وسبع سنبلت خضر واخر یبست “ جب نبوا ساقی نے بادشاہ کا یہ خواب سنا۔ تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو یاد کیا کہ جو انہوں نے اس کی اور اس کے ساتھی کی تعبیر دی تھی اور اس نے اس وقت کہا (آیت) ” انا انبئکم بتاویلہ “ میں تم کو اس کی تاویل بتاتا ہوں۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اضغاث احلام “ یعنی جھوٹے خواب۔ 3:۔ ابوعبید وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اضغاث احلام “ سے مراد ہے خلط ملط (یعنی پریشان خواب) 4:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ یعنی کچھ عرصہ کے بعد۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد حسن، عکروہ، عبداللہ بن کثیر اور سدی (رح) سے سب نے اسی طرح فرمایا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ یعنی دو سال کے بعد۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ یعنی کئی سال کے بعد۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ یعنی لوگوں میں سے ایک عرصہ کے بعد (اس کو یاد کیا) 9:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ فتح اور تخفیف کے ساتھ اور فرمایا کہ نسیان کے بعد (اس کو یاد آیا) 10:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” بعد امۃ “ یعنی نسیان کے بعد۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے حمید (رح) سے روایت کیا کہ مجاہد (رح) نے یوں پڑھا (آیت) ” واد کر بعد امۃ “ مجرور فحفہ “ (یعنی جزم اور بغیر تشدید کے) 12:۔ ابو عبیدوابن منذر رحمہما اللہ نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کی قرأۃ میں یوں ہے (آیت) ” انا انبئکم بتاویلہ “۔ 13:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابو الشیخ (رح) سے روایت کیا کہ وہ (یعنی ابی بن کعب) (آیت) ” انا انبئکم بتاولہ “ پڑھتے تھے ان سے کہا کہ یہ (آیت) ” انا انبئکم “ ہے فرمایا کیا وہ ان کو خواب بیان کرنے والا تھا۔ 14:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” افتنا فی سبع بقرت “ (اس آیت کے بارے میں فرمایا موٹی گائیوں سے سرسبز شاداب سال ہیں اور سات دبلی گائیوں سے مراد ہے قحط زدہ سال اور سات سرسبز خوشوں سے مراد ہے سرسبز شاداب سال کہ جس میں زمین اپنا گھاس اپنی کھیتی اور اپنا پھل نکالتی ہے اور دوسرے خشک خوشوں سے مراد ایسے سال ہیں کہ زمین جس میں کوئی چیز نہ اگائی۔
Ayahs 12:47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ سات سال لگا تار متواتر کھیتی کروگے پھر جو تم کھیتی کاٹ لوتو اسے اس کی بالوں میں چھوڑے رکھنا مگر تھوڑا سا جس میں سے تم کھاتے رہو

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سخت سات سال آئیں گے جو اس سب کو کھائیں گے جو تم نے ان کے لئے پہلے بچا کر رکھا ہوگا بجز اس کے جو تم چھوڑوگے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش ہوگی اور اس میں رس نچوڑیں گے۔

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تعجب کیا یوسف (علیہ السلام) کے اور ان کے صبر اور ان کے کرم پر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جب ان سے دبلی اور موٹی گائیوں کے بارے میں پوچھا گیا اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا تھا تو میں بھاگ جاتا دروازے کی طرف (یعنی جیل سے نکل جانے میں جلدی کرتا) لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کے لئے ایک عذر ہوجائے (یعنی وہ بےقصور ثابت ہوجائیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو خواب کی تعبیر دینے پر راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کو نرمی کا حکم فرمایا اور فرمایا تزرعون سبع سنین دابا، فما حصدتم فذروہ فی سنبلۃ “ آپ نے ان کو فرمایا کہ تم سات سال کاشت کرو گے پھر جو تم کاٹو اسے خوشوں میں رہنے دو کیونکہ دانہ خوشے میں نہ ہو تو اسے گھن لگ جاتا ہے۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فذروہ فی سنبلۃ “ سے مراد ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے (غلہ کے دانے کو) باقی رکھنے کا ارادہ فرمایا (تاکہ اناج زیادہ مدت باقی رہے) 4:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فذروہ فی سنبلۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ بعض پہلی قرأۃ میں ہے کہ وہ اناج ان کے لئے باقی رہے گا کھایا نہیں جائے گا یعنی گھن سے سلامت رہے گا) 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک آدمی کے لئے دو کا کھانا تیار کیا جاتا پھر اس آدمی کے قریب کرتے تھے تو وہ آدھا کھاتا تھا اور آدھا چھوڑدیتا تھا یہاں تک کہ جب ایک دن ایک آدمی کے قریب (کھانا) کیا تو وہ اس کو سارا کھا گیا۔ یوسف نے اس سے فرمایا یہ پہلا دن ہے سات سخت سالوں میں ہے۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ثم یاتی من بعد ذلک سبع شداد “ کے بارے میں فرمایا کہ اسی سے مراد قحط زدہ سخت سال ہیں اور (آیت) ” یاکلن ما قدمتم “ سے مراد ہے کہ وہ اس ذخیرہ کو کھاجائیں گے جو تم نے جما کر رکھا ہوگا۔ (آیت) ” الا قلیلا مما تحصنون “ مگر تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلوگے۔ 7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مماتحصنون “ کا معنی تحزنون ہے یعنی جو تم محفوظ کرلو گے۔ (اور) ” (آیت ) ” وفیہ یعصرون “ یعنی انگوروں کا رس اور تیل نکالیں گے۔ 8:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عام فیہ یغاث الناس “ یعنی اس سال میں ان کو بارش بھی پہنچے گی (آیت ) ” وفیہ یعصرون “ یعنی وہ اس سال رس نچوریں گے انگور کا اور وہ نچوڑیں گے تیل کو اور وہ نچوڑیں گے ہر پھل میں سے۔ 9:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفیہ یعصرون “ یعنی اس سال (جانوروں کا) دودھ بھی دو ہیں گے۔ 10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) وفیہ یعصرون “ یعنی وہ (جانوروں کا) دودھ دو ہیں گے۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس “ یعنی لوگوں کے لئے بارش برسائی جائے گی (آیت) ” وفیہ یعصرون “ یعنی وہ نچوڑیں گے پھلوں کو انگوروں کو اور زیتون کو اور یہ وہ علم ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اور اس کے متعلق آپ سے سوال نہیں کیا گیا۔ 12:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم یاتی من بعد ذلک عام “ الآیہ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو زیادہ طریقے سکھائے کہ جس کے بارے میں انہوں نے سوال نہیں کیا تھا۔ 13:۔ ابن منذر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم یاتی من بعد ذلک عام “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو ایسی بات بتائی کہ جس کے بارے میں انہوں نے سوال نہیں کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر سکھایا تھا (آیت ) ” فی یغاث الناس “ یعنی بارش برسائی جائے گی (آیت) ” وفیہ یعصرون “ یعنی (وہ نچوڑیں گے) تلوں کے تیل کو انگور سے شراب کو اور زیتون سے تیل کو۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عام فیہ یغاث الناس “ یعنی بارش برسائی جائے گی (آیت) ” وفیہ یعصرون “ یعنی وہ اپنے انگوروں کو نچوڑیں گے۔ 15:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عام فیہ یغاث الناس “ یعنی اس سال میں لوگوں پر بارش برسائی جائے گی (آیت) ” وفیہ یعصرون “ یعنی اس میں تیل کو (نچوڑیں گے) 16:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وفیہ تعصرون “ تاء گے ساتھ یعنی وہ تم دودھ بھی دوہوگے۔ 17:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عبد ان المفرری (رح) کے راستہ سے عیسیٰ بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عیسیٰ بن عمیر ثقفی کو یوں پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون “ تاء کے ساتھ یعنی مینہ برسائے گا یہ آیت پڑھی (آیت) ” وانزلنا من المعصرت مآء ثجاجا “ بطور دلیل کے۔