12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب یوسف کو لے گئے اور اس پر متفق ہوگئے کہ اسے اندھیرے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اس کے پاس وحی بھیج دی کہ تم ضرور انہیں یہ بات جتلاوگے اور وہ نہیں جانیں گے

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منجانب اللہ تسلی : 1:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” واوحینا الیہ “ الآیہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف کی طرف وحی بھیجی جب وہ کنویں میں تھے تم ضرور خبر دوگے اپنے بھائیوں کو جو کچھ انہوں نے کیا اور وہ اس وحی کے متعلق کچھ نہ جانتے تھے۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واوحینا الیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اور وہ کنویں میں تھے کہ عنقریب تم ان کو بتاؤ گے جو کچھ انہوں نے کیا یعنی ان کے بھائیوں نے اور وہ اس وحی کے متعلق کچھ نہ جانتے تھے اور اس وحی نے ان پر آسان کردیا جو کچھ انہوں نے انکے ساتھ کیا تھا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم لا یشعرون “ یعنی وہ بھائی اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ ان کی طرف وحی کی گئی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم لا یشعرون “ کہ وہ نہ جانتے تھے کہ یہ یوسف ہے۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ وہ ان کو پہچان گئے لیکن انہوں نے ان کو نہ پہچانا پیالہ لایا گیا انہوں نے اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا۔ اس کو ٹھوکر لگائی تو وہ بجنے لگا پھر فرمایا کہ اس پیالے نے مجھ کو خبردی ہے کہ تمہارا باپ شریک ایک اور بھائی ہے۔ جس کو یوسف کہا جاتا تھا اور وہ تمہارے دین کی پیروی کرتا تھا تم اس کو لے کر گئے اور تم نے ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیا۔ پھر تم اپنے باپ کے پاس آئے اور تم نے کہا کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے۔ اور تم اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ پیالہ البتہ تمہاری خبر دے رہا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہم نہیں دیکھتے ہیں کہ یہ آیت نہیں نازل ہوئی مگر اسی کے بارے میں (یعنی یہ آیت) ” لتنبئنہم بامرھم ھذا وھم لایشعرون “ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈال دیا گیا تو ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ اور فرمایا اے لڑکے اس کنویں میں تم کو کس نے ڈالا فرمایا میرے بھائیوں نے پوچھا کیوں ڈالا فرمایا میرا باپ مجھ سے محبت کرتا تھا اور میرے بھائی مجھ سے حسد کرتے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے پوچھا کیا آپ نے یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں فرمایا یہ معاملہ یعقوب (علیہ السلام) کے معبود کی طرف ہے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا یوں کہو : اللہم انی اسئلک باسمک المخزون والمکنون یا بدیع السموات والارض یا ذالجلال والاکرام ان تغفرلی ذنبی وترحمنی وان تجعل لی من امری مرجا ومخرجا وان ترزقنی من حیث احتسب ومن حیث لا احتسب۔ ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے پوشیدہ نام کے واسطے سے اے بغیر مثال کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے۔ اے بزرگی اور عزت والے کہ مجھ کو بخش دے میرے گناہوں کو اور مجھ پر رحمت فرمائیے کہ میرے لئے میرے معاملے میں کشادگی اور نکلنے کا راستہ دیجئے اور مجھ کو رزق عطا فرمائیے کہ جہاں سے مجھے گمان ہو اور جہاں سے مجھے گمان نہ ہو۔ جب آپ نے یہ دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات عطا فرمائی اور نکلنے کا راستہ بنادیا اور مصر کے بادشاہ نے آپ کو رزق عطا فرمایا جہاں سے ملنے کا ان کو گمان بھی نہ تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کلمات کے ساتھ اصرار سے دعا مانگو کیونکہ یہ چنے ہوئے نیک لوگوں کی دعا ہے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوبکر بن عیاش (رح) نے فرمایا کہ یوسف کنویں میں تین دن رہے۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ لوگ شام کے وقت روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے اے ابا جی بلاشبہ بات یہ ہے کہ ہم سب آپس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے دوڑ لگانے میں مشغول ہوگئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا سو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں۔

1:۔ ابن منذر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت قاضی شریح کے پاس آئی جو کسی چیز کے بارے میں جھگڑا کررہی تھی پھر اس نے رونا شروع کردیا لوگوں نے کہا اے ابوامیہ (یہ شریح کی کنیت ہے) کیا تو نے اس کو روتا ہوا نہیں دیکھا۔ فرمایا (کہ اسی طرح) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے آئے تھے۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومانت بمومن لنا “ یعنی تو ہماری تصدیق کرنے والا نہیں ہے۔ 3:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومانت بمومن لنا ولوکنا صدقین “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) عرب کے کلام پر نازل ہوئی جیسے تیرا کہنا کہ تو سچا ہونے کی تصدیق نہیں کرے گا اگرچہ میں سچاہوں۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور وہ اس کے کرتہ پر جھوٹا خون لے آئے، یعقوب نے کہا بلکہ یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے تمہیں ایک بات بنا کردی ہے، سو میں صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا۔ اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد طلب کرتاہوں

جھوٹاخون لگا ہوا قمیص : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وجآء و علی قمیصہ بدم کذب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بکری کے بچے کا خون تھا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بدم کذب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جھوٹا خون تھا وہ یوسف کا خون نہیں تھا وہ ایک بکری کے بچے کا خون تھا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ایک ہرن کو پکڑا اس کو ذبح کیا اور قمیص کو اس کے ساتھ لت پت کیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو الٹ پلٹ کیا تو فرمایا میں کسی پنجہ یا ناخن کا اثر نہیں دیکھتا ہوں۔ بلاشبہ یہ درندہ رحم کرنے والا تھا اور انہوں نے جان لیا کہ ان لوگوں نے جھوٹ بولا ہے۔ 4:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وجآء و علی قمیصہ بدم کذب “ کے بارے میں فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کی قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لائی گئی تو انہوں نے اس میں کوئی پھٹن نہ دیکھی تو فرمایا تم نے جھوٹ بولا اگر ایسا ہوتا جیسے تم کہتے ہو کہ اس کو بھیڑیے نے کھایا ہے تو اس کی قمیص بھی پھاڑی جاتی۔ 5:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کی قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لائی گئی تو انہوں نے اس کو الٹ پلٹ کرنا شروع کیا خون کا اثر تو نہیں دیکھا۔ مگر اس میں کسی چیر پھاڑ کو نہ دیکھا تو فرمایا اے میرے بیٹو ! اللہ کی قسم میں نے ایسا حلیم بھیڑیا نہیں دیکھا۔ کہ اس نے میرے بیٹے کو کھایا اور اس کی قمیص کو باقی رکھا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بکری کے بچے کو ذبح کیا اور اس (قمیص کو اس کے خون سے آلودہ کیا۔ جب یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو صحیح سالم دیکھا تو جان لیا کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے پھر ان سے فرمایا کہ بھیڑیا کیسا حلیم تھا اس نے قمیص پر رحم کیا اور میرے بیٹے پر رحم نہ کیا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ اللہ کے نبی یعقوب (علیہ السلام) کے پاس اس کی قمیص کو لائے تو فرمایا میں اس پر نہیں دیکھتا کسی درندے کے حملہ کے اثر کو اور نہ کوئی پھٹن دیکھتا ہوں (قمیص میں) 8:۔ ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم الجرجانی نے اپنی امال میں ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یعقوب (علیہ السلام) آئے اور ان سے کہا گیا کہ یوسف کو بھیڑیئے نے کھالیا ہے تو انہوں نے بھیڑیئے کو بلایا اور اس سے فرمایا تو نے میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے دل کے پھل کو کھالیا۔ اس نے کہا میں نے ایسا نہیں کیا فرمایا تو کہاں سے آیا اور تیرا کہاں کا ارادہ ہے۔ اس نے کہا میں مصر کی زمین سے آیا ہوں اور جرجان کی زمین کا ارادہ رکھتا ہوں یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا یوں تجھے کیا فائدہ ہوگا، اس نے کہا میں نے انبیاء (علیہم السلام) کو آپ سے پہلے سنا ہے وہ فرماتے ہیں جس نے کسی (دوست یا قریبی رشتہ دار) کی زیارت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر قدم کے بدلہ میں ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور اس سے ایک ہزار گناہ مٹاتا ہے اور اس کے لئے ایک ہزار درجے بلند کرتا ہے یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور فرمایا تجھ کو کیا ہوا تو ہم کو بیان نہیں کرتا اس نے کہا کیونکہ یہ لوگ نافرمان ہیں۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے مبارک (رح) سے روایت کیا کہ ابن سیرین سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا۔ جس نے خواب میں دیکھا کہ وہ مسواک کررہا ہے جب بھی وہ مسواک کو باہر نکلتا ہے تو اس پر خون کو دیکھتا ہے آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور جھوٹ مت بول اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” وجآء و علی قمیصہ بدم کذب “۔ 10:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) قال بل سولت لکم انفسکم امرا “ سے مراد ہے کہ تم کو (اس بات کا) حکم دیا ہے تمہارے نفسوں نے۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) قال بل سولت لکم انفسکم امرا “ کے بارے میں فرمایا بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے اس کام کو مزین کردیا ہے (آیت) ” فصبر جمیل، واللہ المستعان علی ما تصفون “ یعنی اس بات پر جو تم جھوٹ بول رہے ہو۔ صبر جمیل کی تعریف : 12:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الصبر میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے حبان بن ابی حیلہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فصبر جمیل “ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا صبر جمیل وہ ہوتا ہے جس میں شکوہ نہ ہو اور جس نے اپنی بات کو پھیلایا اس نے صبر نہ کیا۔ 13:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فصبرجمیل “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صبر جس میں جزع وفزع نہ ہو (یعنی گھبراہٹ نہ ہو) 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فصبرجمیل “ وہ ہے جس میں کوئی شکوہ نہ ہو مگر اللہ کی طرف۔ 15:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ثوری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے بعض صحابہ سے روایت کیا کہ صبر میں سے تین چیزیں ہیں کہ اپنی تکلیف کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور اپنی مصیبت کا اظہار نہ کرے اور اپنے آپ کو پاک نہ سمجھے (یعنی اپنی تعریف نہ کرے ) ۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ آگیا انہوں اپنا آدمی پانی لانے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول ڈالا وہ کہنے لگا کیا ہی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک لڑکا ہے اور انہوں نے اسے سامان تجارت بنا کر چھپالیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

قافلہ والوں نے کنویں سے نکالا : 1:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ایک قافلہ آیا اور وہ کنویں کے قریب آکر رکا، پھر انہوں نے اپنے ایک آدمی کو پانی بھرنے والا ڈول دے کر بھیجا اس نے پانی نکالا تو یوسف باہر نکل آئے وہ لوگ خوش ہوگئے کیونکہ انہوں نے ایک غلام کو پالیا وہ لوگ نہ جانتے تھے اس کے علم کو اور نہ اس کی قدرومنزلت کو جانتے تھے جو ان کے رب کی طرف سے (ان کو حاصل تھی) ان کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کوئی دلچسپی نہ تھی انہوں نے اس کو بیچ ڈالا حالانکہ اس کا بیچنا حرام تھا انہوں نے چند دراہم کے بدلہ میں ان کو بیچ ڈالا۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فارسلوا واردھم “ کے بارے میں فرمایا کہ (قافلہ والوں نے) اپنے قاصد کو (پانی کے لئے) بھیجا اس نے اپنا ڈول کنویں میں لٹکایا یوسف اس ڈول سے چمٹ گئے جب وہ باہر نکل آئے تو ان لوگوں نے کہا اے خوشخبری یہ تو لڑکا ہے انہوں نے ان کو فروخت کردیا جب ان کو باہر نکال لیا اور یہ بیت المقدس کا ایک کنواں ہے جس کی جگہ معلوم ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو روق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یبشری “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے اے خوشخبری۔ 4:۔ ابن منذر نے ابوعبید کے واسطے سے ابوعبید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے کسائی کو سنا کہ وہ بیان کررہے تھے حمزہ سے اور وہ اعمش اور ابوبکر سے کہ وہ عاصم ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ دونوں (یعنی اعمش اور ابوبکر) نے اس کو پڑھا (آیت) ” یبشری “ یا کی طرف اضافت کے بغیر۔ 5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یبشری “ کے بارے میں فرمایا کہ پانی نکالنے والے کے ساتھی کا نام بشری تھا اس لئے اسے پکارا یا بشری جیسے کہ تم کہتے ہو یا زید۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یبشری “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا نام بشری تھا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واسروہ بضاعۃ “ کے بارے میں فرمایا یعنی وہ یوسف کے بھائی تھے جنہوں نے یوسف کی شان کو چھپا دیا تھا اور اس بات کو چھپایا کہ یہ ان کا بھائی ہے اور یوسف (علیہ السلام) نے بھی ان کا بھائی ہونا ظاہر نہ کیا۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ ان کے بھائی ان کو قتل نہ کردیں اور بک جانے کو اختیار فرمایا اور ان کے بھائیوں نے ان کو حقیر سی قیمت کے ساتھ بیچ دیا۔ 8:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واسروہ بضاعۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے آپ کے فروخت کرنے کو چھپادیا تھا۔ 9:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واسروہ بضاعۃ “ کے بارے فرمایا کہ تاجروں نے ایک دوسرے سے اس کو چھپایا۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم اور ابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واسروہ بضاعۃ “ کے بارے میں فرمایا ڈول والا اور اس کا ساتھی انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے یہ مال رضا کارانہ طور پر فروخت کرنے کے لئے لیا ہے تاکہ دوسرے ساتھی شرکت کا مطالبہ نہ کریں۔ یوسف کے بھائی ان کے پیچھے لگ گئے اور انہوں نے ڈول لٹکانے والے اور اس کے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اس کو مضبوطی سے باندھ دو تاکہ بھاگ نہ جائے حتی کہ وہ مصر تک آپ کو باندھ کرلے گئے آپ نے فرمایا کون مجھے خریدے گا اور چھپا کر رکھے گا بادشاہ نے آپ کو خرید لیا اور وہ بادشاہ مسلمان تھا۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور انہوں نے اسے معمولی سی قیمت پر بیچ دیا جو گنتی کے چند درہم تھے اور یہ لوگ اس سے بےرغبت تھے

قافلہ والوں کے ہاتھ چند دراہم کے عوض فروخت ہوئے : 1:۔ ابن جریر ابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کو بیچ دیا جب ڈول لٹکانے والے نے اپنے ڈول کو نکالا تھا۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو حقیر سی قیمت کے عوض بیچ دیا پھر فرمایا اور یہ (بیع) حرام تھی ان کے لئے اس کا بیچنا حلال نہیں تھا اور نہ اس کی قیمت کا کھانا ان کے لئے حلال تھا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ قافلہ والوں نے آپ کو فروخت کیا تھا۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “ کے بارے میں فرمایا کہ ( ان کے بھائیوں نے) ان کو بیچ ڈالا حرام قیمت کے ساتھ کہ یوسف (علیہ السلام) کا بیچنا حرام تھا اور اس کا خریدنا بھی حرام تھا۔ 5:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “ میں ” البخس “ سے مراد ہے ظلم کہ یوسف (علیہ السلام) کا بیچنا ار اس کی قیمت ان پر حرام تھی اور آپ کو بیس دراہم میں بیچا گیا۔ 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے گرے ہوئے ملنے والے بچے کے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ آزاد ہے ار اس (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “ کو دلیل بنایا۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ کسی جنگلی یا دیہاتی آدمی کے لئے خریدوفروخت مکروہ ہے پھر یہ (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “ دلیل کے طور پر پڑھی۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بثمن بخس “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے بہت تھوڑی قیمت۔ 9:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ” البخس “ سے مراد ہے تھوڑی قیمت۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر والطبرانی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف کو بیس دراہم میں خریدا گیا اور جب آپ نے اپنے گھر والوں کو مصر بلایا تو وہ تین سو نوے انسان تھے ان کے مرد نبی تھے اور ان کی عورتیں صدیقیات تھیں اللہ کی قسم موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں نکلے تھے یہاں تک کہ چھ لاکھ ستر ہزار (کی تعداد) کو پہنچ چکے تھے۔ 11:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” دراھم معدودۃ “ سے مراد ہیں بیس درھم۔ 12: ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ (آیت) ” دراھم معدودۃ “ یعنی بائیس درھم یوسف کے بھائیوں کے لئے تھے (جو) گیارہ آدمی تھے۔ س 13:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریر اور ابوالشیخ (رح) نے نوف الشامی البکالی ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” دراھم معدودۃ “ یعنی وہ بیس دراہم تھے اور یہ دس (بھائی) تھے انہوں نے دو دو درہم (آپس میں) تقسیم کر لئے۔ 14:۔ ابوالشیخ (رح) نے نعیم بن ابی ھند (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ (آیت) ” دراھم معدودۃ “ کہ وہ تیس دراہم تھے۔ 15:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بثمن بخس ‘ میں البخس “ سے مراد ہے تھوڑی قیمت اور (آیت) ” دراھم معدودۃ “ یعنی چالیس دراھم تھے۔ 16:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وکانوا فیہ من الزاھدین “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد آپکے بھائی ہیں جو اس کے بارے میں بےرغبت تھے اور آپ کی نبوت کو نہیں جانتے تھے اور آپ کی قدرومنزلت کو نہ جانتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھی۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور اہل مصر میں سے جس شخص نے یوسف کو خریدا تھا اس نے اپنی عورت سے کہا اسے عزت کے ساتھ رکھنا، ممکن ہے ہمارے کام آجائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں قوت دے دی اور تاکہ اسے خوابوں کی تعبیر دینا بتلادیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

عزیز مصر کا اپنی بیوی کا نصیحت کرنا : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے محمد بن اسحاق (رح) سے فرمایا کہ جس آدمی نے (یوسف (علیہ السلام) کو) خریدا تھا وہ ظفیر بن روحب تھا اور اس کی بیوی کا نام راعیل بن رعائیل تھا۔ 2:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ شخص جس نے آپ کو عزیز مصر کے پاس بیچا تھا اس کا نام مالک بن ذعر تھا جب اس نے بیچاتو پوچھا تو کون ہے اور مالک مدینہ والوں میں سے تھا جب یوسف (علیہ السلام) نے اس کو بتایا کہ وہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے ؟ تو وہ آپ کی عظیم شان کو پہچان گیا اور کہا اگر مجھے اپنے متعلق بتاتے تو میں تجھ کو کبھی فروخت نہ کرتا اب میرے لئے دعا کردیجئے یوسف (علیہ السلام) نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تیرے لئے تیرے اہل و عیال میں برکت دے تو اس کی بیوی بارہ مرتبہ حاملہ ہوئی اور ہر پیٹ سے دو بچے پیدا ہوتے۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اکرمی مثوہ “ یعنی ٹھہرنے کی جگہ۔ 4:۔ سعید بن منصور وابن سعد وابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا۔ ابن جریر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تین آدمی سب سے زیادہ فراست والے تھے لوگوں میں وہ عزیز جب اس نے یوسف میں فراست کو دیکھا تو بیوی سے کہا اس کو عزت سے رکھنا قریب ہے کہ یہ ہم کو نفع دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا لیں۔ اور وہ عورت جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی تھی اس نے اپنے والد سے کہا تھا اے میرے والد ! اس کو مزدوری پر رکھ لو (یہ اس کی فراست تھی) اور جب ابوبکر نے (اپنی فراست سے) عمر کو خلیفہ بنایا تھا۔ 5:۔ عبدالرزاق وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ عزیز بادشاہ کے ملازمین میں سے ایک ملازم تھا اور کلبی نے فرمایا کہ اس کا روٹی پکانے والا اور شراب پلانے والا اور دوائی دینے والا تھا اور یہی جیل والا ساتھی تھا۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولنعلمہ من تاویل الاحادیث “ یعنی خواب کی تعبیر۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ غالب علی امرہ “ کہ وہ فعال ہے یعنی اپنے کام کو کرنے والا ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ غالب علی امرہ “ کہ عربی لغت پر غالب ہے۔ 9:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ غالب علی امرہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات غالب ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے مرتبہ پر پہنچائے۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم و حکمت عطا ہونا : 1:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے کتاب الاضداد میں والطبرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولما بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمرتینتیس 33 سال تھی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمر پچیس سال کی ہوئی۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمر تیس سال ہوئی۔ 4:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولمابلغ اشدہ “ سے بیس سال مراد ہیں (کہ آپ کی عمر جب بیس سال ہوئی) 5:۔ ابن ابی حاکم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بلغ اشدہ “ سے دس سال مراد ہے (کہ آپ کی عمر جب دس سال ہوئی) 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بلغ اشدہ “ سے بالغ ہونا مراد ہے (یعنی جب آپ بالغ ہوئے) 7:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اشدالحلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کے لئے نیکیاں اور برائیاں لکھی جائیں۔ 8:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) اتینہ حکما وعلما “ سے مراد نبوت سے پہلے فقہ اور علم اور عقل ہے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک نجزی المحسنین “ سے مراد ہے ہدایت پانے والے۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے ان کو پھسلایا اور دروازے بند کردیئے اور کہنے لگی آجاؤ میں تمہارے لئے تیار ہوں، انہوں نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں بیشک تیرا شوہر میرا مربی ہے اس نے میرا اچھا ٹھکانہ بنایا ہے، بیشک بات یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے

حضرت یوسف (علیہ السلام) پر آزمائش کا زمانہ : 1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما للہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وراوتہ التی ھو فی بیتھا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ورغلانے والی عزیز کی بیوی تھی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وراوتہ التی ھو فی بیتھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس عورت نے آپ کو اس وقت ورغلایا جب آپ مردوں کی عمر تک پہنچے۔ 3:۔ عبدالرزاق والبخاری وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرنی وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء اور تاء کی فتح کے ساتھ ہم نے ان سے کہا کہ لوگ اس کو یوں پڑھتے ہیں (آیت) ” ھیت لک “ تو فرمایا مجھے چھوڑ دو میں اس طرح پڑھوں گا جیسے کہ مجھ کو پڑھایا گیا یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ 4:۔ ابن جریر والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء اور تاء کے ساتھ اور وہ ہمزہ کے ساتھ نہ پڑھتے تھے۔ 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھایا ” ھیت لک “ یعنی آجاؤ یہ صرف تیرے لئے اجازت ہے۔ 6:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے جیسے عبداللہ پڑھتے تھے (آیت) ” ھیت لک “ اور فرمایا ” ھلم لک “ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھیت لک “ یعنی آجاؤ یہ حکم صرف تیرے لئے ہے یہ جو دانیہ زبان کی لغت ہے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ھیت لک “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ تم آجاویہ حکم صرف تیرے لئے ہے اور یہاں یہ قبطی زبان کا لفظ ہے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ھیت لک “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے آجاؤ۔ 10:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ھیت لک “ سے مراد ہے کہ اس (عورت) نے اپنے آپ کو نیچے ڈال دیا اور اس کے لئے چت لیٹ گئی اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنی ذات کی طرف بلایا اور یہ ایک لغت ہے۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ھیت لک “ کے بارے میں فرمایا کہ اس نے اپنے آپ کو نیچے ڈال دیا اور اس کے لئے چت لیٹ گئی یہ عربی لغت ہے (جیسے) اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلایا۔ 12:۔ ابوعبید وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے یحی بن وثاب (رح) نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء کے کسرہ اور تاء کے ضمہ کے ساتھ یعنی میں تیار ہوں تیرے لئے۔ ھیت کی مختلف قرأتیں : 13:۔ ابوعبید و ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء کے کسرہ اور تاء کے ضمہ اور ہمزہ کے ساتھ پھر فرمایا اس سے مراد ہے میں تیار ہوں تیرے لئے۔ 14:۔ الطستی (رح) نے نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ھیت لک “ کے بارے میں پوچھا کہ اس کے بارے میں مجھے بتائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے میں تیار ہوں تیرے لئے۔ کھڑا ہوجا اور اپنی حاجت کو پورا کر پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے احیحۃ الانصاری ؓ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ بہ احمی المصاب اذا دعال اذا ما قیل لابطال ھیتا ترجمہ : مصیبت زدہ کو اس کے ذریعہ بچایا جاتا ہے جب وہ اس کو بلاتا ہے جب نوجوان کو کہا جاتا ہے کہ اٹھو اپنی ضرورت کو پورا کرو۔ 15:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ھیت لک “ تاء کے ضمہ کے ساتھ (یعنی) میں تیرے لئے تیار ہوں۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے زربن حبیش (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ھیت لک “ یعنی تاء کی فتحہ کے ساتھ یعنی آجاؤ یہ صرف تیرے لئے ہے ابوعبید نے بھی اس طرح کہا نسائی اس کو بیان کرتے ہیں کہ یہ نجد والوں کی لغت ہے (پھر) حجاز کی طرف واقع ہوگئی۔ اس کا معنی ہے آجاؤ۔ 17:۔ ابوعبید و ابن منذر رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عامر الیحصی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء کے کسرہ اور تاء کے فتح کے ساتھ۔ 18:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انہ ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے میرے آقا اور اس سے عورت کا خاوند مراد ہے۔ 19:۔ ابوبکر عیاش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” انہ ربی “ کے بارے میں فرمایا اس سے اس عورت کا خاوند مراد ہے۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے ان کے ساتھ اپنا کام نکالنے کا مضبوط ارادہ کرلیا تھا اور وہ بھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے، اسی طرح تاکہ ہم ان سے برائی کو اور بےحیائی کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے

1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اس عورت نے اس کام کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے آپ کو آراستہ کیا اور اپنے بستر پر چت لیٹ گئی اور انہوں نے اس (عورت) کا ارادہ کیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئے اور اپنے لنگوٹ کو کھول لیا، آسمان سے آواز آئی اے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے اس پرندہ کی طرح مت ہوجا جس کے پر نوچ لئے جاتے ہیں اور وہ بغیر پروں کے ہوتا ہے انہوں نے اس آواز پر کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ یہ ان تک کہ اللہ تعالیٰ نے برہان یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کو یعقوب (علیہ السلام) کی صورت میں اپنی انگلیوں کو دانت سے کاٹتے ہوئی دکھایا وہ گھبرائے اور ان کی شہوت ان کی انگلیوں سے نکل گئی اور وہ فورا دروازہ کی طرف دوڑے تو اس کو بندپایا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پاوں کو اٹھایا اور اس سے دروازہ کو مارا تو وہ دروازہ کھل گیا۔ وہ عورت ان کے پیچھے لگی اور ان کو پکڑ لیا اس نے اپنے ہاتھوں کو ان کی قمیص میں ڈالا اور اس کو پھاڑ دیا یہاں تک کہ ان کی پنڈلی کے پٹھے تک پہنچ گئی جب دروازہ کھلا تو ان دونوں نے عورت کے خاوند کو دروازہ کے سامنے پایا۔ 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ وابو نعیم رحمہم اللہ نے الحلیۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے ارادہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کہاں تک پہنچے انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے شلوار کو کھول لیا تھا۔ اور ختنہ والی جگہ پر بیٹھ گئے تو آواز آئی اے یوسف (علیہ السلام) اس پرندہ کی طرح مت ہوجاؤ کہ جس کے پر تھے جب اس نے بدکاری کی تو اس حال میں بیٹھ گیا کہ اس کا کوئی پر نہ تھا۔ 3:۔ ابونعیم (رح) نے الحلیۃ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ولقد ھمت بہ، وھم بھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس عورت نے آپ سے خواہش کی اور آپ نے بھی اس میں خواہش کی اور ان کی خواہش میں سے یہ تھا کہ آپ نے اپنا ازار بند کھول لینے کا ارادہ کیا اور وہ عورت ایک بت کی طرف کھڑی ہوئی جو موتی اور یاقوت سے جڑا ہوا تھا۔ اور جو کمرے کے ایک کونے میں رکھا ہوا تھا اس نے (بت کو) ایک سفید کپڑے سے اپنے اور اسکے درمیان ڈھانک دیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تو یہ کیا کررہی تھی اس نے کہا مجھے اپنے خدا سے شرم آتی ہے وہ مجھے اس صورت میں دیکھے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اس بت سے شرم کررہی ہے جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور میں نہ شرم کروں اپنے خدا اس خدا سے جو قائم رکھنے والا ہے ہر نفس کے ہر عمل کو (یعنی ہر جاندار کے کام کو دیکھ رہا ہے) پھر فرمایا تو مجھ سے اس کام کو کبھی نہیں پہنچے گی۔ (یعنی تو مجھ سے کبھی اپنی خواہش پوری نہیں کرسکتی) جو آپ نے دیکھ لی تھی۔ 4:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وھم بھا “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنی شلوار کو کھول لیا تھا جب وہ ناف کے نیچے تک پہنچے تو وہ عورت کے پاس اس جگہ پر بیٹھ گئے تھے جہاں مرد اپنی عورت سے ( جماع کرنے لئے) بیٹھ جاتا ہے (اچانک) ان کے لئے یعقوب (علیہ السلام) کی ایک صورت دکھائی گئی انہوں نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ مارا تو ان کی شہوت ان کی انگلیوں سے نکل گئی (اور وہ زنا کرنے سے رک گئے) 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم رحمہم اللہ نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) کو کمرے کے درمیان میں دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو دانت میں کاٹ رہے ہیں یہ دیکھ کر یوسف (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگے اور فرمایا اے میرے والد آپ کے حق کی قسم کہ میں کبھی بھی (اس کام کی طرف) نہیں لوٹوں گا۔ 6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالیشخ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے شلوار کھول لیا تھا اور ختنہ کی جگہ پر بیٹھ گئے تھے (اس حال میں) انہوں نے (اپنے والد) یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ کی صورت دیکھی جو اپنی انگلیوں کو دانتوں سے کاٹ رہے تھے انہوں نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا تو ان کی انگلیوں سے شہوت نکل گئ۔ یعقوب (علیہ السلام) کے ہر بیٹے کی اولاد بارہ تھی لیکن یوسف (علیہ السلام) کے شہوت کی کمی وجہ سے آپ کی اولاد گیارہ تھی۔ 7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے یعقوب (علیہ السلام) کی ایک صورت بنادی گئی تو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سینے پر ہاتھ مارا تو ان کی انگلیوں کے پوروں سے ان کی شہوت نکل گئی یعقوب (علیہ السلام) کے ہر بیٹے کے بارہ لڑکے ہوئے سوائے یوسف (علیہ السلام) کے ان کے صرف دو لڑکے پیدا ہوئے۔ 8:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو دیکھا جو اپنی انگلیوں کو دانت میں کاٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے یوسف ! یوسف (یہ کیا کر رہے ہو) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے رب کی نشانی دیکھی : 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو دیکھا کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس گناہ سے روک دیا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ان کے لئے یعقوب کی ایک شکل بنا دی گئی جو اپنی انگلیوں کو دانتوں میں کاٹ رہے تھے اور وہ ان کے لئے فرما رہے تھے۔ اے یوسف کیا تو بیوقوف کے عمل کا ارادہ کرتا ہے حالانکہ تو لکھا ہوا ہے انبیاء میں تو یہ دلیل ہے (جس کا ذکر قرآن میں کیا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے ہر شہوت کو کھینچ لیا جو ان کے اعضاء میں تھی۔ 10:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے یعقوب (علیہ السلام) کی ایک شکل بنا دی گئی جو اپنی انگلیوں کو دانتوں سے کاٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل الرحمان تیرا نام انبیاء میں ہے اور تو عمل کررہا ہے بیوقوفوں جیسا عمل۔ 11:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک دیوار میں یعقوب (علیہ السلام) کی شکل دیکھی۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے روایت کیا کہ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ گھر کی چھت کھل گئی اور انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو اپنی انگلیوں کو دانتوں میں کاٹتے ہوئے دیکھا۔ 13:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولقد ھمت بہ وھم بھا لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب انہوں نے ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا یوسف ! اپنا سر اوپر اٹھائیے انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو اچانک ایک تصویر گھر کی چھت پر دیکھی اور وہ کہہ رہی تھی اے یوسف تو لکھا ہوا ہے انبیاء میں تو اس طرح سے اللہ عزوجل نے ان کو بچالیا۔ 14:۔ ابوعبید و ابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے گھر کی چھت میں یعقوب (علیہ السلام) کی صورت دیکھی جو پکار رہی تھی یوسف یوسف ! (یہ کیا کررہے ہو) 15:۔ ابن جریر (رح) نے زہری کے راستے سے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کیا کہ انہوں نے خبر دی کہ وہ دلیل جو یوسف نے دیکھی تھی وہ یعقوب (علیہ السلام) تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نصیحت کی : 16:۔ ابن جریر (رح) نے قاسم بن ابی برزہ (رح) سے روایت کیا کہ آواز دی گئی اے یعقوب کے بیٹے نہ ہوجاؤ اس پرندہ کی طرح جس کے پر تھے جب اس نے زنا کیا تو وہ بیٹھ گیا (اس حال میں) کہ اس پر کوئی پر نہیں تھا یوسف (علیہ السلام) نے آواز کی طرف توجہ نہ دی اور بیٹھ گئے اپنے کو اوپر کو اٹھایا تو یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ کو دیکھا جو اپنی انگلیوں کو اپنے دانتوں میں کاٹ رہے تھے وہ مرعوب ہو کر اپنے والد سے شرم کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے علی بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے ہر بیٹے کے بارہ بارہ لڑکے ہوئے مگر یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ لڑکے ہوئے ان سے شہوت کے نکل جانے کی وجہ سے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یوسف نے (اپنے والد) یعقوب (علیہ السلام) کی شکل دیکھی جو اپنی انگلی کو دانتوں میں کاٹ رہے تھے اے یوسف ! پس آپ جہاں تھے رک گئے اور کھڑے ہوگئے۔ 19:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ گمان کررہے تھے کہ ان کے لئے یعقوب کی طرح ایک شکل بنا دی گئی تو وہ ان سے شرما گئے (اور برے کام سے باز آگئے ) 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے اوزعی (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت کو دیکھا جس نے آپ کو منع کیا۔ اور ان کے لئے باغ کی دیوار میں ایک شکل بنا دی گئی (جس کو دیکھ کر وہ برے کام سے رک گئے) 21:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ ہ وہ دلیل جس کو یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا وہ تین آیات تھیں اللہ کی کتاب میں سے (1) (آیت) ” وان علیکم لحفظین (10) کراما کاتبین (11) یعلمون ما تفعلون (12) “ (الانفطار : آیت 12) (2) اور اللہ تعالیٰ کا قول (آیت) ” وما تکون فی شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون میں عمل الا کنا علیکم شھودا اذتفیضون فیہ “ (یونس آیت 61) (3) اور اللہ تعالیٰ کا قول ( آیت) ” افمن ھوقآئم علی کل نفس بما کسبت “ (الرعد آیت 33) 22:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے گھر کی دیوار کے ایک کونے میں یہ لکھا ہوا دیکھا۔ (آیت) ” ولا تقربوالزنی انہ کان فاحشۃ وسآء سبیلا (22) “ (الاسراء : آیت 23) 23:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ یوسف اور عزیز کی بیوی جب خلوت میں (اکھٹے) ہوئے تو ایک ہتھیلی بغیر جسم کے ان دونوں کے درمیان نکلی اس پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا (آیت) ” افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت “ (الرعد آیت 33) پھر وہ ہتھیلی چلی گئی اور یہ دونوں اپنی جگہ پر کھڑے رہے پھر وہ ہتھیلی ان کے درمیان لوٹ آئی۔ اس پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا (آیت) ” وان علیکم لحفظین (10) کراما کاتبین (11) یعلمون ما تفعلون (12) “ (الانفطار : آیت 12) پھر وہ ہتھیلی چلی گئی اور یہ دونوں اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ وہ ہتھیلی تیسری مرتبہ لوٹ آئی اس پر لکھا ہوا تھا۔ (آیت) ” ولا تقربوالزنی انہ کان فاحشۃ وسآء سبیلا (22) “ (الاسراء : آیت 23) اور وہ ہتھیلی چلی گئی یہ دونوں اپنی جگہ پر کھڑے رہے ہتھیلی جو چوتھی مرتبہ لوٹ آئی۔ اس پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ (آیت) ” تعلمون (180) واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ما کسبت وھم لا یظلمون “ تو یوسف (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ 24:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لولا ان رابرھان ربہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کے رب کی نشانیاں تھیں (اور) یوسف (علیہ السلام) نے فرشتے کی تصویر دیکھی۔ 25:۔ ابوالشیخ وابو نعیم رحمہما اللہ نے الحلیۃ میں جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) اس عورت کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی تو اس میں سونے کا ایک بت تھا۔ وہ عورت کہنے لگی آپ یہاں ٹھہریں یہاں تک کہ میں اس بت کو ڈھانک دیتی ہوں کہ میں اس سے شرماتی ہوں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا یہ عورت اس بت سے شرم کررہی ہے اور میں زیادہ حقدار ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے شرم کروں تو اس (برے کام) سے رک گئے اور اس کو چھوڑ دیا۔ 26:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے عبدالرحمن بن یزید بن جابر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشآء میں سوء اور فحشاء سے مراد زنا ہے اور بری تعریف ہے۔ 27:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ میں عبادنا المخلصین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کی بھی عبادت نہیں کرتے۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دو دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے پیچھے سے ان کا کرتہ چیر دیا اور دونوں نے اس عورت کے سردار کو دروازہ کے پاس پالیا، وہ کہنے لگی جو شخص تیرے گھروالوں کیساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا دردناک سزا دی جائے

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واستبقا الباب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ یعنی یوسف (علیہ السلام) اور وہ عورت (دونوں) دروازہ کی طرف دوڑے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ووجدا سیدھا “ 3:۔ ابن جریر (رح) نے زیدبن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ” السید “ سے مراد ہے (اس عورت کا) خاوند۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والفیا سیدھا “ سے مراد ہے اس کا خاوند اور (آیت) ” لدا الباب “ سے مراد ہے دروازہ کے پاس۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے نوف الشامی (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) خاوند کے سامنے اس کی برائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ اس (عورت) نے کہا (آیت ) ” قالت ما جزآء من اراد باھلک سوٓءا “ تو یوسف (علیہ السلام) غصہ ہوئے اور فرمایا (آیت ) ” ھی راودتنی عن نفسی “ (کہ اس عورت نے مجھے ورغلایا ہے) 6:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ان یسجن اوعذاب الیم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد قید ہے۔ 7:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے تین لغزشیں کیں جب انہوں نے اس عورت کا ارادہ کیا تو قید کردیئے گئے۔ اور جب انہوں نے کہا کہ میرا ذکر اپنے آقا کے پاس کردینا تو کئی سال تک جیل میں رہے اور شیطان نے اس کو بھلا دیا اس کے آقا کے پاس ذکر کرنے سے۔ اور جب کہا کہ تم لوگ چور ہو تو ان کے بھائیوں نے کہا اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ (یعنی یوسف علیہ السلام)
Ayahs 12:26–28

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا اسی نے مجھے اپنی مطلب برداری کے لئے پھسلایا اور اس کے خاندان میں سے ایک گواہی دینے والے نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتہ سامنے سے پھاڑا گیا ہے تو عورت نے سچ کہا اور یہ شخص جھوٹے لوگوں میں سے ہے

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھاڑا گیا تو اس عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں میں سے ہے

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب اس کے کرتے کو دیکھا گیا کہ پیچھے سے پھاڑا گیا ہے تو کہنے لگا کہ بیشک یہ تم عورتوں کی فریب کاری میں سے ہے بیشک تمہارا فریب بڑا ہے

موضع تہمت میں صفائی پیش کرنا ضروری ہے : 1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک حاکم نے حکم کیا۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بچہ تھا جو (ابھی) گہوارے میں تھا۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ سے ایک بچہ مراد ہے جو گھر میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو بولنے کی توفیق دی۔ 4:۔ احمد وابن جریر والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار آدمیوں نے صغر سنی میں بات کی تھی فرعون کو کنگھی کرنے والی کے بچے نے۔ اور یوسف (علیہ السلام) کی گواہی دینے والے نے اور صاحب جریج (یعنی وہ بچہ جس کی نسبت غلط طور پر جریج کی طرف کی گئی تھی) اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) (کہ انہوں نے ماں کی گود میں بات کی ) ۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور صاحب یوسف اور صاحب جریج کہ ان سب نے گہوارے میں بات کی۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریج وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کہ یوسف (علیہ السلام) کے متعلق گواہی دینے والا وہ بچہ ہے جو ابھی اپنے گہوارے میں تھا۔ 7:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ گواہی دینے والا داڑھی والا آدمی ہے۔ 8:۔ الفریابی وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بادشاہ کے خاص لوگوں میں سے تھا۔ 9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ گواہی دینے والا ایسا شخص تھا جو عقل اور سمجھ داری والا تھا۔ 10:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ سے مراد ہے کہ وہ گواہ عورت کے چچا کا بیٹا تھا اور وہ حکیم تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت پر گواہی : 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ قتادہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ وہ ایک دانا آدمی تھا اس کے اہل و عیال میں سے اس نے کہا کہ قمیص دونوں کے درمیان فیصلہ کردے گی۔ اگر قمیص پھٹی ہوئی ہے۔ 12:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن جریر اور ابوالشیخ نے عکرمہ ؓ سے اس طرح روایت کیا کہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ نہ انسان تھا اور نہ جن تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق تھی۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے۔ کہ آپ کی قمیص پھٹی ہوئی ہے۔ پیچھے سے اور یہ گواہی تھی (آپ کی پاکدامنی کی) 13:۔ ابن جریروان منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ یوسف کی قمیص میں تین نشانیاں ظاہر ہوئیں۔ جب وہ پیچھے سے پھٹ گئی اور جب وہ یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ پر ڈالی گئی تو وہ آنکھوں والے ہوگئے اور جب وہ قمیص پر جھوٹا خون لگا کر آئے تو آپ نے پہچان لیا کہ اگر بھیڑیئے نے اس کو کھایا تھا تو اس کی قمیص کو پھاڑ دیتا۔
Ayah 12:29

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کو جانے دو ، اور اے عورت تو اپنے گناہ کے لئے استغفار کر، بلاشبہ تو ہی گناہگاروں میں سے ہے

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ نے فرمایا (آیت) ” یوسف اعرض عن ھذا “ یعنی اے یوسف اس کام اور بات سے (منہ پھیر لے) (آیت) ” واستغفری لذنبک “ اور اے عورت تو اپنے رب سے مغفرت طلب کر۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوسف اعرض عن ھذا “ یعنی اس کا ذکر نہ کر۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” واستغفری لذنبک انک کنت من الخطئن “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حلم (یعنی بادشاہ مصر نے حلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے عورت سے کہا کہ اپنے جرم کی معافی مانگ بیشک تو خطاکاروں سے ہے۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور چند عورتوں نے کہا جو شہر میں رہتی تھیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو مطلب حاصل کرنے کے لئے پھسلاتی ہے، اس غلام کے عشق نے اس کے دل میں پوری طرح جگہ پکڑلی ہے، بیشک ہم تو اس عورت کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں

1:۔ ابن ابی جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ یعنی (یوسف کی محبت) اس پر غالب آگئی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو قتل کردیا یوسف کی محبت نے (آیت ) ” الشغف “ سے مراد ہے قتل کرنے والی محبت اور ” الشغف “ اس سے کم محبت کو بھی کہتے ہیں۔ اور ” الشغاف “ سے مراد ہے دل کا پردہ۔ شغفھا حبا کی تفسیر : 3:۔ الطستی نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں بتائیے فرمایا شغاف سے مراد ہے وہ محبت ہے جو دل میں اور زندگی میں ہوتی ہے یعنی اس عورت کا دل بھر گیا یوسف کی محبت سے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں۔ کیا تو نے نابغہ بن ذبیان کو نہیں سنا وہ کہتا ہے۔ وفی الصدرحب دون ذلک داخل وحول الشغاف عیبتہ الاضالع۔ ترجمہ : سینہ میں محبت داخل ہوچکی ہے اور اس کے پردہ کے اردگرد جس کو پسلیوں سے غائب کردیا گیا۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا کہ محبت اس کے دل سے چمٹ گئی تھی۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ یعنی محبت اس کے پیٹ میں داخل ہوچکی تھی اور فرمایا کہ مدینہ والے اس طرح کہتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں اس کی محبت داخل ہوچکی ہے۔ 6:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” الشغوف “ سے مراد ہے محبت کرنے والا (اور) ” المشغوب “ سے مراد ہے محبوب۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ اور فرماتے تھے ” الشغف “ سے مراد ہے محبت اور ” الشغف “ سے مراد ہے ” شغف الدایۃ ‘ اور یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ خوف زدہ ہوجائے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ بغیر نکتے والی عین کے ساتھ۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ سے مراد ہے وہ محبت جو دل سے چمٹ جائے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ” الشغاف “ سے مراد ہے پتلی جھلی جو سفید دل پر ہوتی ہے اس کی محبت اس جلد کو پھاڑ دیتی ہے یہاں تک کہ دل کی طرف پہنچ جاتی ہے۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” الشغف “ اور ” الشعف “ دونوں مختلف ہیں ” الشعف “ بعض میں ہوتا ہے۔ اور ” الشغف “ محبت میں استعمال ہوتا ہے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد العبادانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا میں ارادہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مجھ سے محبت کرے۔ میں اپنے والد کی محبت کی وجہ سے کنویں میں ڈال دیا گیا اور عزیز مصر کی عورت سے محبت کی وجہ سے میں قید میں ڈال دیا گیا۔ 13:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ سے مراد ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی محبت اس عورت کے دل میں داخل ہوگئی۔ 14:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی محبت اس کے دل کے پردے کے نیچے داخل ہوگئی۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ عورت یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں ہلاک ہوگئی۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے اعرج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ عین مہملہ کے ساتھ اور یہ بھی فرمایا (آیت ) ” شغفھا حبا “ عین مجموعہ کے ساتھ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ یوسف اس عورت سے محبت کرتے ہیں۔