Ayah 9:113مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت
آیت نمبر 113: ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس کا سبب نزول وہ ہے جو سعید بن مسیب نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو طالب کی وفات کا وقت آیاتو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو ان کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھے دیکھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ‘ اے چچا !” لا الہ الا اللہ “ کا کلمہ کہہ دے میں تیرے لیے اللہ کے ہاں اس کلمہ کے ذریعے زور دار سفارش کروں گا تو ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کہنے لگے کیا تو عبد المطلب کے دین سے اعراض کررہا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) ان پر اپنی بات پیش کرتے رہے اور وہ یہ بات بار بار کرتے رہے حتیٰ کہ ابو طالب نے آخری بات یہ کہی۔
میں عبد المطلب کے دین پر ہوں اور ” لا الہ الا اللہ “ کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا جب تک اسی سے روک نہ دیا جائوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” ماکان للنبی والذین امنو ا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من م بعد ما تبین لھم انھم اصحب الجحیم “ اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل کی ” انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشائ “
ابو طالب کے سامنے کلمہ پیش کرنا اور ان کا انکار کرنا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو کہا اے چچا لا الہ الا اللہ کہہ دو میں تمہارے لیے قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش مجھے عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ اس کو کلمہ کہنے پر موت کے خوف نے مجبور کیا ہے تو میں اس کلمہ کے ذریعے تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشائ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آپ (علیہ السلام) کے چچا ابو طالب کا تذکرہ ہوا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ شاید اس کو میری شفاعت قیامت کے دن نفع دے اور اس کو جہنم کے ایک گڑھے میں ڈالا جائے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچے جس کی وجہ سے اس کا دماغ جوش مارے۔
حضرت ابوہریرہ اور بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر آئے اور اس پر ٹھہرے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگے اس امید پر ٹھہرے کہ آپ (علیہ السلام) کو اجازت دی جائے تو آپ (علیہ السلام) ان کے لیے استغفار کریں تو یہ آیت نازل ہوئی۔” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفرو ا للمشرکین “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو اتنے روئے کہ ساتھ والوں کو بھی رونا آگیا۔ پھر فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لیے استغفار کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دی گئی تو تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ موت کو یاد دلاتی ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے والد کے لیے استغفار کروں گا جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لیے استغفار کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” ما کان للنبی والذین امنوا الخ “ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر دی کہ انہوں نے اپن والد کو یہ کہا تھا ” سلام علیک شاستغفر لک ربی “ تو میں نے ایک شخص کو سنا کہ وہ اپنے مشرک والدین کے لیے استغفار کررہا ہے تو میں نے اس کو کہا کہ تو ان کے مشرک ہونے کے باوجود ان کے لیے استغفار کررہا ہے ؟ تو اس نے کہا کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لیے استغفار نہیں کیا تھا ؟ تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور یہ بات ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الا قول ابراھیم لا بیہ لاستغفر ن لک “
Ayah 9:114آیت نمبر 114:
تفسیر 114:” وماکان استغفار ابرھیم لا بیہ الا عن موعدۃ وعدھآ ایاہ “ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” ایاہ “ کی ھاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدہ ان کے والد کی طرف تھا وہ یہ کہ ان کے والد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں گے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا عنقریب میں آپ کے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا یعنی جب آپ مسلمان ہوگئے۔
اور بعض مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ” ایاہ “ کی ھاء اب کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے لیے استغفار کریں گے کیونکہ ان کے اسلام کی امید تھی اور وہ باری تعالیٰ کا قول ( ساستغفر لک ربی) ہے اس پر حسن کی قرأت ( وعدھا اباہ) باء کیسا تھ دلالت کرتی ہے اور اس پر دلیل کہ یہ وعدہ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے تھا اور استغفار والد کے شرک کی حالت میں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم ۔۔۔۔۔۔ الا قول ابراھیم لا بیہ لا ستغفرن لک “ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس استغفار میں پیروی نہ کی جائے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کیلئے جو استغفار کیا تھا اس کے اسلام لانے کی امید کی وجہ سے یا اس وعدہ کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا لاستغفرن الک۔” فلما تبین لہ انہ عدو للہ “ اس کے کفر پر مرنے کی وجہ سے ” تبرأ منہ “ اور بعض نے کہا جب آخرت میں ا ن پر واضح ہوگا کہ یہ اللہ کا دشمن تھا تو اس سے برأت ظاہر کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے والد آزر سے ملاقات ہوگی اور آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کو کہیں گے کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کریں تو ان کے والد جواب دیں گے کہ آج کے دن میں تیری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے کہ اے میرے رب ! آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اس دن رسوانہ کریں گے جس دن سب اٹھائے جائیں گے تو میرے والد سے بڑی رسوائی کون سی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے۔ پھر آزر کو اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن ابراہیم (علیہ السلام) اس سے برأت ظاہر کریں گے۔ ” ان ابراہیم لاواہ حلیم “۔۔۔۔۔۔
اواہ کی تفسیر میں ائمہ کے اقوال
” اواہ “ کے معنی میں اختلاف ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ” اواہ “ عاجزی کرنے والے گڑ گڑانے والے اور عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” اواہ “ بمعنی دعا اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” اواہ “ بمعنی توبہ کرنے والا مئومن۔ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” اواہ “ بمعنی اللہ کے بندوں پر رحم کرنے والا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” اواہ “ بمعنی یقین رکھنے والا اور کعب احبار فرماتے ہیں کہ ” اواہ “ وہ شخص اواۃ وہ شخص جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں (آہ آہ) کرے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی زندگی میں دوزخ کے خوف سے بکثرت آہیں بھرتے تھے۔ عقبہ بن عامر (رح) فرماتے ہیں کہ ” اواہ “ جو اکثر اللہ کا ذکر کرے اور سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ ” اواہ “ بمعنی خیر کی تعلیم دینے والا اور ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں بمعنی فقیہ ابو عبیدہ نے کہا کہ اواہ سے وہ شخص مراد ہے جو خوف سے آہ آہ کرنے والا یقین کی وجہ سے گڑ گڑانے والا اور طاعت کا التزام کرنے والا زجاج نے کہا کہ ابو عبیدہ کا قول ان تما م معانی کو جامع ہے جو اواہ کے بیان کئے جاتے ہیں او اہ وہ آواز جو سینے سے سانس لیتے وقت آواز سے نکلے ( جس کو آسان الفاظ میں ٹھنڈا سانس بھی کہا جاتا ہے) اور والحلیم وہ شخص جو اس کو گالی دے یا ناپسند بات کہے اس سے در گزر کرے۔ جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کی دھمکی کا جواب سلام سے دیا۔” لئن لم تنتہ لا رجمنک واھجرنی ملیا قال سلام علیک ساستغفر لک ربی “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حلیم بمعنی سردار ہے۔
Ayah 9:115تفسیر 115:” وما کان اللہ لیضل قوما م بعد اذ ھدھم “ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اوامر کو چھوڑنے کی وجہ سے گمراہی کا فیصلہ کرنے والے نہ تھے تمہارے مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی وجہ سے۔۔۔۔” حتی یبین لھم ما یتقون “ مراد یہ ہے کہ حتیٰ کہ تمہارے سامنے نہی آجائے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ بیان کردے اور تم اس کو نہ لو تو اس وقت تم گمراہی کے مستحق ہو گے۔
مجاہد (رح) فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کا بیان مئومنین کو مشرکین کے لیے استغفار چھوڑ نے کے بارے میں خاص ہے اور اپنی معصیت چھوڑے اور طاعت کرنے کے بارے میں عام ہے ‘ پس تم کرو اور چھوڑ دو ۔
ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے جب تک ان کو یہ بیان نہ کردیں کہ کیا انہوں نے چھوڑناے اور کیا کرنا ہے۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ احکام کے بارے میں ہے کیونکہ ایک قوم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور اسلام قبول کیا۔ اس وقت تک نہ شراب حرام ہوئی تھی اور نہ قبلہ کعبہ کی طرتبدیل ہوا تھا تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور اسی حالت پر رہے اور شراب حرام کردی گئی اور قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا اور ان کو اس کا بالکل علم نہ تھا۔ پھر وہ مدینہ آئے تو معلوم ہوا کہ شراب حرام کردی گئی ہے اور قبلہ پھیر دیا گیا ہے تو عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) ایک دین پر تھے اور ہم اس کے علاوہ دین پرچلتے رہے تو ہم گمراہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔” وماکان اللہ لیضل قوما بعد اذھدھم “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کے عمل کو باطل نہیں کرتے جو منسوخ حکم کو جانتی ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ناسخ بیان کردے۔” ان اللہ بکل شیء علیم “ پھر اپنی تعظیم کی اور فرمایا۔
Ayah 9:116تفسیر 116: ” ان اللہ لہ ملک السموت والارض “ جو چاہے حکم کرے یحییٰ ویمیت ط ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر “
Ayah 9:117آیت نمبر 117: ” لقد تاب اللہ علی النبی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے در گزر کردیا اور نبی کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی توبہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے منافقین کو جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی اور بعض نے کہا کہ کلام کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ شروع کیا اس لیے کہ آپ (علیہ السلام) ان کی توبہ کا سبب تھے۔ جیسے فرمایا ” فان للہ خمسہ وللرسول “ اور اسی کی مثل کئی جگہوں پر ” والمھجرین والا نصار الذین اتبعو ہ فی ساعۃ العسرہ “ یعنی تنگی کے وقت میں یہاں کوئی متعین گھڑی مراد نہیں ہے اور غزوہ تبوک کا نام غزوۃ العسر ۃ رکھا گیا ہے اور لشکر کا نام جیش العسرۃ رکھا گیا ہے اور عسرۃ بمعنی سختی تنگی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر سواریوں ‘ سفر خرچ اور پانی میں تنگی تھی۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ دس صحابہ کرام ؓ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے ‘ ایک شخص تھوڑی دیر سوار ہوتا پھر وہ اتر جاتا تو دوسرا سوار ہوجاتا اور ان کا سفر خرچ کیڑے لگی ہوئی کھجوریں اور خراب جو تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جماعت اس حال پر نکلی کہ ان کے پاس چند کھجوریں تھیں۔ جب ان کو بھوک لگتی تو ایک کھجور کو چاٹ لیتا تو اس کا ذائقہ آجاتا۔ پھر اپنے ساتھی کو دے دیتا تو وہ اس کو چوس لیتا پھر اس پر ایک گھونٹ پانی پی لیتا۔ اسی طرح سب لوگ کرتے یہاں تک کہ اس کھجور پر صرف گٹھلی باقی رہ جاتی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی سچائی اور یقین کے ساتھ چلتے رہے اور عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سخت گرمی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف نکلے تو ہم نے ایک جگہ پڑائو ڈالا ‘ ہمیں وہاں سخت پیاس لگی حتیٰ کہ ہمیں لگنے لگا کہ ہم عنقریب ختم ہوجائیں گے حتی کہ ہم میں سے کوئی شخص پانی کی تلاش میں جاتا تو وہ نہ لوٹتا حتی کہ گمان ہوتا کہ و ہ ہلاک ہوچکا ہو گا اور یہ حالت آگئی کہ کوئی شخص اونٹ کو نحر کرتا پھر اس کی اوجھڑی کو نچوڑ کر پانی پی لیتا اور باقی کو اپنے جگر پر ڈال دیتا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) دعا کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا آپ اس کو پسند کرتے ہیں ؟ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا جی ہاں۔ تو آپ (علیہ السلام) نے ہاتھ اٹھائے اور ان کو نیچے نہیں کیا تھا کہ بجھل بادل آئے اور سایہ کیا پھر خوب بر سے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اپنے ساتھ جو مشکیزے تھے وہ بھر لیے۔ پھر ہم گئے تو دیکھتے تھے کہ اس بارش نے لشکر سے تجاوز نہ کیا تھا یعنی لشکر کے پڑائو سے آگے کی جگہ بارش نہ تھی۔
” من بعد ما کاد یزیغ حمزہ اور حفص رحمہما اللہ نے ” یزیغ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” کاد “ کی وجہ سے اور ” کا دت “ نہیں کہا اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور الزیغ مائل ہونا ‘ یعنی اس کے بعد کہ قریب تھا کہ مائل ہوجائیں۔ ” قلوب فریق منھم “ یعنی ان میں سے بعض کے دل۔ قلوب فریق منھم “ یہاں دین سے انحراف مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جنگ سے انحراف اور واپس چلے جانے کا دل میں خیال آیا ‘ سفر کی تنگیوں کی وجہ سے ۔” ثم تاب علیھم “ اگر یہ اعتراض ہو کہ کیسے توبہ کا اعادہ کیا حالانکہ اس سے پہلی آیت میں فرمادیا ہے کہ ” لقد تاب اللہ علی النبی “ تو جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں تو بہ کا ذکر گناہ سے پہلے تھا اور یہ محض اللہ کا فضل ہے۔ پھر جب گناہ کو ذکر کیا تو توبہ کو دوبارہ ذکر کیا کہ ان کی توبہ قبو ل کرلی۔” انہ بھم ر ء ورحیم “ ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ جس کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرلیں تو اس کو اس پر کبھی عذاب نہ دیں گے۔
Ayah 9:118غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والے صحابہ اور کعب بن مالک کا واقعہ
تفسیر 118:” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ یعنی غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے اور بعض نے کہا ہے کہ ” خلفوا “ یعنی ان کا معاملہ مئو خر کیا گیا ابو لبا بہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ سے اور یہ تین حضرات کعب بن مالک ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا جس غزوہ پر بھی رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے میں کسی غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ سے سوائے غزوہ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا ( اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مواخذہ نہ تھا کیونکہ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے ( لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈ بھیڑ ہوگئی۔ میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا ( یعنی تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کی تھی ‘ میں بھی موجود تھا) وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہدو پیمان کیا تھا۔ اگر چہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔
میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوہ تبوک کے زمانہ میں میں بڑا طاقتور اور فراخ حال تھا۔ اس سے پہلے کبھی میں اتنا مرفہ الحال اور طاقتور نہ ہوا۔ اس زمانہ میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو انٹنیاں ہوئیں۔ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور تو ریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے لڑائی خفیہ تدبیر ( کا نام) ہے۔ جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی ‘ سفر طویل تھا ‘ راستہ میں بیابان تھے ‘ دشمنوں کی تعداد بہت تھی ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرمادیا تھا اور اپنے رخ کی صحیح اطلاع دے دی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں ۔ مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت تھی۔ بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے۔ حاکم نے اکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوہ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی۔ ابو زرعہ نے کہا : کسی کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے۔ زہری نے کہا کتاب سے مراد رجسٹر ہے جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا۔ وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ آئے ‘ میرا معاملہ پوشیدہ ہے ( کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا) حضور ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاریاں کرلیں اور جمعرات کے دن روانہ ہوگئے۔ آپ سفر پر خواہ جہاد کا ہو یا کسی اور غرض سے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی پسند فرماتے تھے۔ میں بھی ( روزانہ) صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا مگر بغیر کچھ کئے وپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا : مجھ میں استطاعت ہے ‘ جب چاہوں گا فوراً کرلوں گا۔ یونہی وقت ٹلتارہا ‘ یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں اپنی کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور ﷺ کے بعد ایک دوروز میں تیاری مکمل کر کے پیچھے سے جا پہنچوں گا مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کے لیے صبح کو نکلا مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا۔ پھر دوسرے روز صبح کو نکلا ‘ تب بھی کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح مدت بڑھتی گئی یہاں تک کہ لوگ دور چلےئے اور تیزی کے ساتھ جہاد کی طرف بڑھ گئے اور میں ارادہ ہی کرتا رہا کہ ( جلد ) کوچ کر کے ان کو پیچھے سے جالوں گا۔ کاش ! میں نے ایسا کرلیا ہوتا ‘ مگر میرے مقدر میں ہی نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی روانگی کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں کو دیکھتا تھا تو گھومنے کے بعد مجھے یا تو صرف وہ لوگ نظر آتے تھے جو منافق کہے جاتے تھے یا وہ کمزور لوگ دکھائی دیتے تھے جن کو اللہ نے معذور بنادیا تھا اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ تبوک پہنچنے تک رسول اللہ ﷺ نے میرا تذکرہ نہیں کیا۔ تبوک پہنچ کر ایک روز آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریافت فرمایا : کعب بن مالک کو کیا ہوگیا ؟ بنی سلمہ کے یا میر ی قوم کے ایک آدمی نے ( جس کا نام حسب روایت محمد بن عمر ‘ عبد اللہ بن اینس سلمی تھا) کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس کو اس کی دو چادروں نے اورص غرور و فخر کے ساتھ) اپنے دونوں پہلوئوں پر دیکھنے نہیں آنے دیا (یعنی آج کل وہ مرفہ الحال ہے ‘ ایک چادر باندھتا ہے ‘ ایک اوڑھتا ہے اور دونوں طرف گردن موڑ موڑ کر اپے مونڈھوں کو دیکھتا ہے ‘ اسی وجہ سے وہ نہ آسکا) حضرت معاذ بن جبل یا ابو قتادہ نے کہا : تم نے بری بات کہی ( ایسا نہیں ہے) یار سول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم میں نے اس کے اندر سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں پایا۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔
حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : جب مجھے اطلاع ملی کہ رسول اللہ ﷺ واپس آنے کے لیے چل پڑے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرنے کے لیے عذر بنانے لگا اور ایسی بات کی تیاری کرنے لگا کہ کل کو رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی سے میں کس طرح بچ سکوں گا۔ مختلف اہل الرائے اور گھر والوں سے میں نے اس معاملہ میں مدد بھی لی۔ پھر جب مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ قریب ہی آپہنچے ہیں تو میرے دل سے تمام غلط خیالات جاتے رہے اور میں سمجھ گیا کہ جس بات میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی ‘ اس کے ذریعہ سے میں ناراضگی سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چناچہ میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یقین کرلیا کہ سچائی ہی مجھے نجات دے سکتی ہے۔ صبح کو حضور ﷺ تشریف لے آئے۔
ابن سعد نے کہا رمضان میں (واپس پہنچے) کعب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب ( سفر سے واپس ) آتے تھے تو دن چڑھے مدینہ میں پہنچتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے ‘ پھر وہیں بیٹھ جاتے تھے ‘ پھر وہاں سے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ اس کے بعد امہات المومنین کے ہاں جاتے تھے۔ حسب دستور آپ نے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دور کعت نماز پڑھی ‘ پھر وہیں لوگوں کے ( معاملات سننے کے) لئے بیٹھ گئے۔ اب تبوک کی شرکت سے رہنے والے لوگ آنے لگے اور ( اپنے اپنے) عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ سب لوگ کچھ اوپر اسی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرلیا ‘ ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ جب میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ مسکرادیئے ‘ مگر مسکراہٹ غصہ آلود تھی اور فرمایا آئو۔ میں چلتا چلتا سامنے پہنچ کر بیٹھ گیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ کعب نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! آپ نے میری طرف سے کیوں منہ پھیرلیا ؟ واللہ ! میں منافق نہیں ہوں ‘ نہ مجھیص اسلام کی صداقت میں) کوئی شک ہے ‘ نہ میں ( عقیدہ اسلام سے) بدل گیا ہوں۔ فرمایا پھر تم ( ساتھ جانے سے) کیوں رہ گئے ‘ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟ میں نے عرض کیا : بیشک ( میں نے سواری بھی خرید لی تھی) یا رسول اللہ ﷺ ! اگر میں کسی اور دنیا دار کے ساتھ اس وقت بیٹھا ہوتا تو خدا کی قسم ! کوئی عذر معذرت کر کے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا۔ کیونکہ مجھ میں قوت کلامیہ (اور دلیل کی طاقت ) موجود ہے ‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر میں آپ کے سامنے جھوٹ بنا بھی دوں گا اور آپ راضی بھی ہوجائیں گے تب بھی عنقریب اللہ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر سچ سچ کہہ دوں گا تو گو آپ ناراض ہوجائیں گے مگر امید ہے کہ اللہ مجھے معاف فرما دے گا۔ بخدا ! مجھے کوئی عذر نہ تھا ‘ نہ اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور فراخ حال (کبھی ہوا) تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس نے سچی بات کہہ دی۔ اب تم اٹھ جائو اور اللہ جو کچھ چاہے گا ۔ تمہارے متعلق فیصلہ کردے گا۔
میرے سچ بولنے کی وجہ سے بنی سلمہ کے کچھ لوگ برانگیختہ ہوگئے اور کہنے لگے : تو نے اس سے پہلے تو کوئی جرم کیا نہ تھا ‘ نہ اتنا کمزور تھا کہ جس طرح دوسرے شرکت نہ کرنے والوں نے اپنی عدم شرکت کے عذر کئے ( اور عتاب سے بچ گئے) تو کوئی عذر نہ پیش کرسکتا ( آئندہ) رسول اللہ ﷺ کی دعائے مغفرت تیرے ( اس ) گناہ کے معاف ہونے کے لیے کافی تھی۔ غرض وہ برابر مجھے ڈانٹتے اور سرزنش کرتے رہے اور اتنی سرزنش کی کہ میرا ارادہ ہوگیا کہ دوبارہ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کردوں۔ لیکن میں نے کہہ دیا ‘ مجھ سے دو جرم یکجا نہیں ہوسکتے کہ جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی نہیں گیا اور اب حضور ﷺ سے جھوٹ بھی بولوں۔
پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا : کیا میرے ساتھ ایسا کوئی اور بھی ہے جو تبوک کو نہیں گیا ہو ( اور اس نے کوئی عذر تراشی بھی نہ کی ہو) لوگوں نے کہا : ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی بات کہی تھی جیسی تو نے کی تھی اور ان کو بھی وہی ہدایت کی گئی جو تجھے کی گئی۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقضی۔
حضرت کعب کا بیان ہے کہ : لوگوں نے میرے سامنے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور جن کی پیروی کی جاسکتی تھی۔ ان کا نام سن کر میں اپنی سابق بات پر قائم رہا جو لوگ تبوک کو نہیں گئے تھے ‘ ان میں سے صرف ہم تینوں سے ہی رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کلام کرنے کی ممانعت فرمادی۔ لوگ اس فرمان کے بعد ہمارے لئے بالکل بدل گئے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں آیا ہے : ہم صبح کو لوگوں میں نکلتے تھے مگر کوئی ہم سے سلام کلام نہیں کرتا تھا ‘ نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ عبدالرزاق کی روایت ہے : لوگ ایسے بدل گئے کہ گویا وہ ہم کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ درو دیوار اجنبی ہوگئے ‘ وہ درو دیوار ہی نہ رہے جن کو ہم پہچانتے تھے۔ میرے لئے سب سے زیادہ رنج آفریں یہ خیال تھا کہ اگر میں اسی حالت میں مرگیا تو رسول اللہ ﷺ میرے جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھیں گے اور اگر اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو میری یہی حالت قائم رہے گی کہ نہ کوئی مجھ سے کلام کرے گا نہ میرے جنازے کی نماز پڑھے گا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ وہ سرزمین ہی میرے لئے اجنبی ہوگئی ‘ وہ بستی وہ نہ رہی جو میری ثنا ساتھی۔ یہ حالت پچاس رات قائم رہی۔ میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے ‘ وہ گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں طاقتور اور جوان تھا ‘ گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا مگر کوئی مجھ سے کلام سلام نہیں کرتا تھا۔ نماز کے بعد جب رسول اللہ ﷺ صحابہ کے جلسہ میں بیٹھے ہوتے تو میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور دل میں کہتا : کیا حضور ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے لیے لب مبارک ہلائے یا نہیں ‘ پھر حضور ﷺ کے پاس پہنچ کر (دانستہ) نماز پڑھتا اور کن انکھیوں سے دیکھتا رہتا (کہ) حضور ﷺ کی توجہ میری طرف ہوئی یا نہیں ( جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو حضور ﷺ میری طرف منہ کرلیتے ‘ لیکن جب میں التفات نظر کرتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔ جب مدت تک لوگ مجھ سے یو نہی دور دور رہے تو ایک روز دیوار پھلانگ کر میں ابو قتادہ کے پاس ان کے باغ میں پہنچ گیا۔ ابو قتادہ میرے چچاز اد تھے قبیلہ بنی سلمہ سے تھے ‘ میرے باپ کے بھائی کے بیٹے نہ تھے۔ مجھے ان سے بڑی محبت تھی۔ میں نے ان کو سلام کیا مگر خدا کی قسم ! انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : ابو قتادہ ! یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ابو قتادہ خاموش رہے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے ‘ کوئی بات نہیں کی۔ تیسری یا چوتھی بار کہنے کے بعد انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب معلوم ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسہ بہہ نکلے اور لوٹ کر دیوار پھلانگ کر میں آگیا۔ ایک روز میں بازار میں جارہا تھا کہ علاقہ شا م کا رہنے والا ایک دیہاتی نظر پڑا ‘ یہ شخص غلہ لے کر مدینہ میں بیچنے آیا تھا۔ کسی سے اس نے پوچھا : مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیا۔ وہ میرے پاس آیا اور ایک خط مجھے دیا جو شاہ غسان کی طرف سے تھا ( یعنی بادشاہ شام کی طرف سے) ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ میرے قبیلہ کا کوئی آدمی شام میں تھا ‘ اس نے بھیجا تھا۔ خط ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس میں لکھا تھا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم کو دور کردیا ہے اور پرے پھینک دیا ہے اور اللہ نے تم کو ایسا نہیں بنایا کہ ذلت کے مقام میں رہو اور تمہارا حق ضائع کیا جاتا رہے۔ اس لئے اگر تم سکونت منتقل کرنا چاہتے ہو تو ہم سے آملو ‘ ہم تمہاری مدد کردیں گے۔ خط پڑھ کر میں نے کہا : یہ بھی ( اللہ کی طرف سے) آزمائش ہے کہ کافر بھی میر الالچ کرنے لگے ( میری ذات کافروں کے لالچ کی جو لان گاہ بن گئی) پھر میں نے تحریر کو تنور میں جھونک دیا۔۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت کعب نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی حالت کا شکوہ کیا اور عرض کیا : آپ کی مجھ سے رو گردانی اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مشرک میرا لالچ کرنے لگے۔
جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتوں میں چالیس راتیں گزر گئیں تو اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس پہنچا۔ محمد بن عمر نے اس قاصد کا نام خزیمہ بن ثابت بتایا ہے ‘ یہی قاصد مرارہ اور ہلال کے پاس بھی گیا۔ قاصد نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمکو حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جائو۔ میں نے کہا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور ؟ اس نے کہا : طلاق کا حکم نہیں ہے۔ اس سے الگ رہو ‘ قربت نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی حکم پہنچا۔ حسب الحکم میں نے اپنی بیوی سے کہا : اپنے گھر چلی جا اور فیصلہ قطعی ہونے تک وہیں رہ۔ ہلال بن امیہ کی بیوی یعنی خولہ بنت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے ‘ اپنا کام خود نہیں کرسکتا اور اس کا کوئی خادم بھی نہیں ہے۔ کیا اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو آپ کی ناگواری کا باعث ہوگا ؟ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بوڑھا ہے ‘ نظر بہت کمزور ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ( کام کردینے کی ممانعت نہیں ہے) مگر وہ تجھ سے قربت نہ کرے۔ عورت نے کہا : خدا کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی حس ہی نہیں ہے۔ جب سے اس کا یہ واقعہ ہوا ہے برابر آج تک رونے میں مشغول ہے۔ حضرت کعب کا بیان ہے مجھ سے بھی میرے کسی گھر والے نے کہا اگر ہلال بن امیہ کی بیوی کی طرح تم بھی اپنی بیوی کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لو وہ تمہاری خدمت کردیا کرے تو مناسب ہے میں نے کہا خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ کیا معلوم حضور ﷺ کیا فرمائیں اور میں تو جوان آدمی ہوں ( مجھے دوسرے سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے) اسی حالت میں دس راتیں اور گزر گئیں اور پچاس راتیں پوری ہوگئیں۔
کعب کا بیا ن ہے پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر (بیٹھا) تھا اور میری حالت وہ تھی جو اللہ نے بیان فرمائی ہے ( ضاقت علیھم الارض بما رحبت) زمین باوجود فراخ ہونے کے میرے لئے تنگ ہوگئی تھی۔ یکدم ایک چیخنے والے کی آواز سنائی دی جو کوہ سلع پر چڑھ کر انتہائی اونچی آواز سے چیخا تھا : اے کعب بن مالک ! تجھے خوشخبری ہو۔ محمد بن عمر کی روایت ہے کہ وہ کوہ سلع پر چڑھنے والے حضرت ابوبکر تھے۔ آپ نے ہی پکار کر کہا تھا : اللہ نے کعب پر رحم فرما دیا۔ اے کعب ! خوش ہوجا۔ عقبہ کی روایت ہے کہ دو آدمی دوڑے ہوئے حضرت کعب کو بشارت دینے کے لیے گئے ‘ ایک آگے بڑھ گیا جو پیچھے رہ گیا تھا ‘ و ہ کوہ سلع پر چڑھ گیا اور وہیں سے اس نے ندا کی : اے کعب ! تو بہ قبول ہونے کی تجھے بشارت ہو۔ اللہ نے تم لوگوں کے بارے میں قرآن نازل فرمادیا۔ اہل تاریخ کا خیال ہے کہ بشار دینے کے لیے دوڑنے والے یہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر و حضرت عمر تھے۔
حضرت کعب ؓ کا بیان ہے آواز سنتے ہی میں سجدہ میں گرپڑا اور خوشی سے رونے لگا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا۔ لوگ ہم کو بشارت دینے کے لیے آگئے۔ کچھ اور لوگ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے کے لیے پہنچے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا۔ محمد بن عمر نے کہا : یہ حضرت زبیر بن عوام تھے۔ قبیلہ اسلم کا ایک اور شخص بھی دوڑ پڑا مگر گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے مجھے آواز پہنچ گئی تھی۔ اس لئے جب وہ شخص آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی ‘ یعنی حمزہ اسلمی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے۔ خدا کی قسم ! میرے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کپڑے ہی نہ تھے۔ ابو قتادہ ( بروایت میں محمد بن عمر) سے دو کپڑے عاریۃ لے کر میں نے پہنے۔ ہلال بن امیہ کو قبول توبہ کی خوشخبری دینے سعید بن زید گئے تھے۔ ہلال نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ‘ مسلسل روزے رکھ رہے تھے اور برابر رونے میں مشغول تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتے ‘ ان کی جان نکل جائے گی۔ مرارہ بن ربیع کو بشارت سلکان بن سلامہ نے دی۔ یہ سلامہ بن وقش کے باپ تھے۔
حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں لوگوں کے گروہ در گروہ مبارک باد دینے کے لیے مجھ سے ملتے رہے۔ آخر میں مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ‘ گرد اگر د لوگ بھی موجود تھے۔ مجھے دیکھ کر طلحہ بن عبید اللہ اٹھے اور لپک کر میری طرف بڑھے ‘ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے طلحہ کے اور کوئی نہیں اٹھا۔ میں طلحہ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ میں نے سلام کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جب سے تو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ‘ اس وقت سے آج تک ہر دن سے بہتر دن کی تجھے بشارت ہو۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ! فرمایا : نہیں ‘ اللہ کی طرف سے ہے۔ تم لوگوں نے اللہ سے سچا معاملہ کیا ‘ اللہ نے بھی تم کو سچا قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ خوشی کے وقت آپ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ‘ معلوم ہوتا تھا چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم دیکھ کر پہچان لیتے تھے ( کہ حضور ﷺ اس وقت خوش ہیں) جب میں سامنے بیٹھا تو عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! میری توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنے کل مال سے دستبردار ہو جائوں اور بطور صدقہ اللہ اور اس کے رسو کے خدمت میں پیش کردوں۔ فرمایا کچھ مال اپنے لئے بھی روک رکھو ‘ تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : اچھا ! نصف مال ( سے دستبردار ہوتا ہوں) فرمایا : نہیں۔ میں نے عرض کیا : تو ایک تہائی ( قبول کرلیجئے) فرمایا اچھا۔ میں نے عرض کیا تو خیبر میں جو میرا حصہ ہے ‘ میں اس کو روکے رکھتا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھے نجات دی ہے۔ لہٰذا میری توبہ کا تتمہ یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا۔ سچ بہی بولوں گا۔ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے جو کرم اللہ نے مجھ پر کیا ہے ‘ کسی اور پر اس سے بہتر احسان کیا ہوگا۔ چناچہ اس عہدے کے بعد آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور امید ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا۔ اللہ جھوٹ بولنے سے مجھے محفوظ رکھے گا۔
اللہ نے توبہ قبول فرمانے کے سلسلہ میں لقد تاب اللہ علی النبی والمھاجرین والا نصار سے وکونوامع ا الصادقین تک آیات نازل فرمائیں۔
” حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت وضاقت علیھم انفسھم “ غم کی وجہ سے ” وظنوا “ یعنی انہوں نے یقین کرلیا۔” ان لا ملجا من اللہ یعنی اللہ سے کوئی جائے فرار نہ ہے الا الیہ ط ثم تاب علیھم لیتوبوا “ یعنی تاکہ وہ توبہ پر قائم رہیں کیونکہ توبہ تو وہ پہلے کرچکے تھے۔” ان اللہ ھوالتواب الرحیم “
Ayah 9:119آیت نمبر 119:
یآ یھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ نافع (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ ہو جائو اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ ہو جائو اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ مہاجرین مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” للفقراء المھاجرین “ سے ” اولئک ھم الصادقون “ تک کی وجہ سے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ ہو جائو جن کی نیتیں سچی ہیں اور دل اور عمل سیدھے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف اخلاص نیت کے ساتھ نکلے اور بعض نے کہا ا ن لوگوں کے ساتھ ہو جائو جنہوں نے گناہ کا اعتراف کرنے میں سچ بولا اور جھوٹے عذر نہیں کیے اور ابن مسعود ؓ پڑھتے تھے ” وکونوا مع الصادقین “ اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جھوٹ نہ سنجیدگی میں درست ہے اور نہ مذاق میں اور تم میں سے کوئی اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے کہ پھر اس کو پورا نہ کرسکے۔ اگر سچا ہو تو یہ آیت پڑھو ” کونوا مع الصادقین “
Ayah 9:120آیت نمبر 120:” ماکان لاھل المدینۃ “ اس کا ظاہر خبر ہے اور حقیقی معنی نہیں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وماکان لکم ان تئو ذوا رسول اللہ “ ہے۔” ومن حولھم من الا عراب “ مزینہ ‘ جہینہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے دیہاتوں کے رہنے والے۔ “ ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ جب وہ کسی غزوہ پر تشریف لے جائیں۔” ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ “ آپ ﷺ سفر کی مشقت اور تھکاوٹ میں ہوں۔
” ذلک بانھم لا یصیبھم “ ان کے سفر میں ” ظما “ پیاس ” ولا نصب “ تھکاوٹ ” ولا مخمصۃ “ بھوک ” فی سبیل اللہ ولا یطئون موطئا “ زمین ” یغیظ الکفار ان کا اس کو روندنا ولا ینا لون من عدو نیلا “ یعنی ان کوا ن کے دشمنوں سے قتل یا قید یا غنیمت یا شکست نہیں پہنچی۔” الا کتب لھم بہ عمل صالح ط ان اللہ لا یضیع اجرالمحسنین “ عبابہ بن رفاعہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے جارہا تھا تو مجھے راستے میں ابو عبس ؓ ملے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں تو اللہ تعالیٰ ان قدموں کو آگ پر حرام کردیں گے۔ اس آیت کے حکم میں علماء رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ آیت نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہے کہ جب آپ (علیہ السلام) خود کسی غزوہ کے لیے تشریف لے جارہے ہوں تو کسی کے لیے اس سے پیچھے رہ جانا جائز نہیں ہے لیکن نبی کریم ﷺ کے علاوہ آئمہ اور حکمران اگر جائیں تو مسلمانوں میں سے جو چاہے جنگ سے پیچھے رہ سکتا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس کے جانے کی ضرورت نہ ہو اور ولید بن مسلم (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی ‘ ابن مبارک ‘ ابن جابر ‘ سعید بن عبد العزیز رحمہم اللہ کو سنا کہ اس آیت کے بارے میں فرماتے تھے کہ بیشک یہ اس امت کا ابتداء اس کا آخر ہے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تھا جب اسلام والے تھوڑے تھے جب ان کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور جنگ سے پیچھے رہ جانے کو جائز قرار دے دیا اور فرمایا ” وماکان المئومن لینفرو کافۃ “
Ayah 9:121تفسیر آیت نمبر 121: ” ولا ینفقون نفقۃ “ اللہ کے راستے میں ” صغیرۃ ولا کبیرۃ ولا یقطعون وادیا وہ اپنے سفر میں کسی وادی سے تجاوز نہیں کرتے آتے اور جاتے الا کتب لھم یعنی ان کے آثار اور قدموں کے نشانات لیجزیھم اللہ احسن ماکانوا یعملون “ خزیم بن فاتک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کچھ مال خرچ کیا تو اس کے لیے سات سوگنا تک اجر لکھا جائے گا۔ ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک شخص نکیل ڈالی ہوئی اونٹنی لے کر آیا اور کہا یہ اللہ کے راستے میں ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ‘ تیرے لیے اس کے بدلے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہوں گی سب کو نکیل ڈالی ہوئی ہوں گی۔ زید بن خالد ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا تو اس نے جہاد کیا اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے گھر والوں کی اچھی خبر گیر ی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
Ayah 9:122تفسیر 122:” وماکان المئومنون لینفروا کآفۃ “ کلبی (رح) کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے عیب بیان کیے غزوہ تبوک میں تو نبی کریم ﷺ جو لشکر بھیجتے تو تمام مسلمان غزوہ کی طرف نکل کھڑے ہوتے اور نبی کریم ﷺ کو تنہا چھوڑ دیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ نفی نہی کے معنی میں ہے۔” فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طآ ئفۃ “ یعنی کیوں نہیں نکلتی جنگ کی طرف ایک جماعت ہر قبیلہ کی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جماعت باقی رہ جائے۔” لیتفقھوا فی الدین “ یعنی پیچھے رہ جانے والے قرآن اور سنن اور فرائض و احکام سیکھیں۔ پھر جب لشکر واپس آجائیں تو ان کو خبر دیں کہ ان کے بعد کیا احکام نازل کیے گئے ہیں۔ پھر وہ لشکر کے لوگ ان احکام کو سیکھنے کے لیے ٹھہر جائیں اور دوسری جماعت بھیج دیں تو یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ولینذروا قومھم “ اور تاکہ ان کو قرآن کی تعلیم دیں اور اس کے ذریعے ڈرائیں۔” اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون “ جہالت سے ہیں وہ اس کے خلاف عمل نہ کریں حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سمجھ اور ڈرانا اس جماعت کی طرف لوٹ رہا ہے جو جہاد کے لیے کی گئی تھی اور معنی یہ ہے کہ کیوں نہیں نکلی ایک جماعت کہ وہ سمجھ حاصل کرلیں۔ وہ بصیرت حاصل کرلیں اس سے جو اللہ ان کو مشرکوں پر غلبہ اور دین کی مدد کرکے دکھائے گا اور اپنی کافرقوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف جہاد سے لوٹیں۔ پھر ان کو خبر دیں اللہ اور اس کے رسول اور مئومنین کی مدد کی تاکہ وہ نبی کریم ﷺ کی دشمنی سے باز آجائیں کہ کہیں ان پر وہ مصیبت نہ آجائے جو ان کے کافر ساتھیوں پر آئی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا ایک اور مطلب بھی ہے وہ یہ کہ بنو اسد اور خزیمہ کے قبیلوں پر سخت قحط آیا تو وہ اپنی اولاد کے ساتھ مدینہ آگئے اور مدینہ کے راستوں کو گندی سے خراب کردیا اور اس کی چیزوں کے نرخ بڑھا یئے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا۔
” وما کان المئو منون لینفروا کافۃ فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ “ یعنی ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ سارے نکل کھڑے ہوں لیکن ہر قبیلہ سے ایک جماعت جو دین میں سمجھ حاصل کرے۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت و ہدایت دینے کے لیے دیہات اور صحراء کی طرف گئے۔ لوگوں نے ان سے کہا تم ہمارے پاس تو تبلیغ کرنے آگئے اور اپنے ساتھی رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کرآگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ اور ہی ہوا وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی سمجھ دیتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو سونے اور چاندی کی کاوں کی طرح (مرکز) کانیں پائو گے پس جو ان میں سے بہتر جاہلیت میں تھے وہ اسلام بھی بہتر ہیں۔ وہ دین کی سمجھ ( فقہ) اختیار کرلیں۔ فقہ دین کے احکام کو پہچاننا اور یہ تقسیم ہوتا ہے فرض عین اور فرض کفایہ کی طرف۔
پس فرض عین جیسے طہارت ‘ نماز ‘ روزے کا علم تو ہر مکلف پر اس کا جاننا ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا علم کا طلب کرنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے اور اسی طرح ہر وہ عبادت جس کو شریعت نے ہر ایک پر واجب کیا ہو تو اس کی معرفت اور اس کے علم کی معرفت واجب ہے جیسے زکوۃ کا علم۔ اگر کسی کے پاس مال ہو اور حج کا علم اگر حج واجب ہو اور بہر حال فرض کفایہ یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرے کہ اجتہاد اور فتویٰ کے مرتبہ تک پہنچ جائے جب سارے شہر والے اس علم کے حاصل کرنے سے بیٹھ گئے تو سارے گناہ گارہوں گے اور اگر کسی شہر سے ایک شخص بھی اس فرض کفایہ علم کو حاصل کرنے نکل کھڑا ہو تو دوسروں سے فرض ساقط ہوجائے گا اور ان پر اس عالم کی تقلید واجب ہے نئے پیش آ نے والے مسائل میں۔ ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی فضیلت عابد پر میری تمہارے ادنیٰ پر فضیلت کی طرح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک فقیہ زیادہ بھاری ہے شیطان پر ہزار عباد ت گزاروں سے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ علم کا طلب کرنا نقل نماز سے افضل ہے۔
Ayah 9:123تفسیر 123: یآ یھا الذین امنوا قاتلو ا الذین یلونکم من الکفار “ آیت میں گھر اور نسب کے اعتبار سے قریبی لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جیسے بنو قریظہ ‘ بنو نضیر اور خیبر وغیرہ اور بعض نے کہا اس سے روم مراد ہیں اس لیے کہ وہ شام کے ہائشی ہیں اور ملک شام عراق کی بنسبت مدینہ سے زیادہ قریب ہے۔” ولیجدو ا فیکم غلظۃ ‘ سختی اور غیرت۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا جہاد پر صبر۔ ” واعلموا ان اللہ مع المتقین “ سرد اور تصرف کیساتھ۔
Ayah 9:124آیت نمبر 124: واذا مآ انزلت سورة فمنھم من یقول ایکم زاتہ ھذہ ایمان “ یقین ‘ منافقین یہ بات استہزاء کے لیے کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانا “ یقین اور تصدیق ” وھم یستبشرون “ قرآن کے اترنے پر خوش ہوتے ہیں۔
Ayah 9:125آیت نمبر 125:” واما الذین فی قلوبھم مرض “ شک اور نفاق ” فزادتھم رجسا الی رجسھم “ یعنی ان کا کفر زیادہ ہوتا ہے۔ ہر سورت کے نزول کے وقت وہ اس کا انکار کرتے ہیں تو اس کے ذریعے ان کا کفر زیادہ ہوتا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اشارہ ہے کہ ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے اور حضرت عمر ؓ اپنے ساتھیوں میں سے ایک یا دو کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے آئو ہم ایمان کو زیادہ کرلیں۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے تھے کہ بیشک دل میں سفید نقطے کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جب ایمان زیادہ ہوتا ہے تو وہ نقطہ بھی زیادہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مکمل دل سفید روشن ہوجاتا ہے اور بیشک دل میں سیاہ دھبہ کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ پھر جب بھی نفاق زیادہ ہوتا ہے تو وہ سیاہ دھبہ بھی بڑھتا ہے یہاں تک کہ سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر تم کسی مسلمان کا دل کھول کر دیکھو تو اس کو بالکل سفید پائو گے اور اگر کسی منافق کا دل چیر کر دیکھو تو اس کو بالکل سیاہ پائو گے۔” وما توا وھم کفرون “
Ayah 9:126تفسیر 126: ” اولا یرون ‘ حمزہ اور یعقوب نے (ترون) تاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور مومنین کو خطاب ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ مذکورہ منافقین کی خبر ہے ( انھم یفتنون) وہ آزمائے جاتے ہیں۔ انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین “ بیماریوں اور سختیوں کے ساتھ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ قحط اور سختی کے ساتھ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ غزوہ اور جہاد کے ساتھ اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا نفاق ظاہر کرکے ان کو رسوا کیا جاتا ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ منافق ہوتے ہیں پھر ایمان لاتے ہیں پھر منافق ہوجاتے ہیں اور ایمان (رح) فرماتے ہیں کہ سال میں ایک یاد و مرتبہ اپنا عہد توڑتے ہیں ” ثم لا یتوبون “ عہد توڑنے سے اور نہ نفاق سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔” ولا ھم یذکرون “ یعنی اللہ تعالیٰ کے نصرت اور کامیابی کے وعدوں کی تصدیق دیکھ کر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 9:127آیت نمبر 127: ” واذا مآ انزلت سورة “ اس میں منافقین کے عیوب اور ان کو ڈانت ہے۔” نظر بعضھم الی بعض “ بھاگنے کا ارادہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اشارہ سے کہتے ہیں کہ ” ھل یرکم من احد “ مئومنین میں سے کوئی ایک۔ اگر وہ کھڑے ہوں اور کوئی مئومن نہ دیکھ رہا ہو تو مسجد سے نکل جاتے ہیں اور اگر پتہ لگے کہ کوئی ایک ان کو دیکھ رہا ہے تو وہ مجلس میں بیٹھے رہتے ہیں۔” ثم انصرفوا ‘ ذ ان پر ایمان لانے سے اور بعض نے کہا ان جگہوں سے پھرجاتے ہیں جہاں وہ سنتے ہیں۔” صرف اللہ قلوبھم “ ایمان سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے اس فعل کے بدلے اللہ نے ان کو گمراہ دیا۔” بانھم قوم لا یفقھون “ اپنے دین کو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھ لو تو یوں نہ کہا کرو ک کہ ہم نماز سے پھر (لوٹ) رہے ہیں کیونکہ ایک قوم پھری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا لیکن تم یوں کہو کہ ہم نے نماز ادا کرلی۔
Ayah 9:128آیت نمبر 128: ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ تم اس کا حسب و نسب جانتے ہو۔ سدی (رح) فرماتے ہیں عرب سے بنی اسماعیل سے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرب کے ہر قبیلہ میں آپ (علیہ السلام) کا نسب جاملتا ہے۔ جعفر بن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے نبی کریم ﷺ کے نسب میں جاہلیت کی کوئی پیدائش نہیں ہوئی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں جاہلیت کے طریق زنا سے نہیں پیدا ہوا بلکہ اسی نکاح کے ذریعے سے پیدا ہوا۔ جیسا اسلامی نکا ح ہوتا ہے۔ نہیں جنا مجھے مگر اسلام کے نکاح کی طرح نکاح نے۔ ابن عباس ؓ ‘ زہری اور ابن محیصن رحمہم اللہ نے ” من انفسکم “ فاء کی زبر سے پڑھا ہے۔ یعنی تم میں سے افضل اور اشرف لوگوں میں سے ہیں۔” عزیز علیہ “ گراں ہے ان پر ” ماعنتم “ بعض نے کہا ” ما “ صلہ ہے یعنی ” عنتکم “ اور وہ تم پر مشقت اور ضرر کا داخل ہونا ہے۔ قتیبی نے کہا کہ وہ چیز رسول پر شاق ہے جو تم کو دشواری میں ڈال دے اور تم کو دکھ پہنچائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تم گمراہ ہو جائو۔” حریص علیکم “ تمہارے ایمان اور تمہاری خیر خواہی پر اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے گمراہ لوگوں پر حریص ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دیں۔” بالمئو منین ر ء ورحیم “ بعض نے کہا ہے کہ نیک لوگوں پر شفیق اور گناہ گاروں پر رحیم ہیں۔
Ayah 9:129تفسیر 129:” فان تولوا “ یعنی اگر وہ ایمان سے اعراض کریں۔ ” فقل حسبی اللہ لا الہ الا ھو ط علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم “ ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ قرآن مجید میں آخر میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں۔ ” لقد جاء کم رسول “ سے آخر سورت تک اور فرمایا کہ اللہ کے پاس سے آنے والی آیت میں قریب ترین زمانہ والی یہی دو آیات ہیں۔
الحمد للہ تفسیر بغوی کی دوسری جلد مکمل ہوئی۔