Ayah 9:37تفسیر 37۔” انما النسیء زیادۃ فی الکفر “ بعض نے کہا یہ سعیر اور حریق کی طرح مصدر ہے اور بعض نے کہا یہ جریج اور قتیل کی طرح مفعول ہے بمعنی تاخیر ۔ اسی سے ادھار بیع کو ” نسیئہ “ کہتے ہیں اور نسئی کا معنی ایک مہینے کی حرمت کو دوسرے مہینے کی طرف مؤخر کرنا کیونکہ عرب اشھر حرام کی تعظیم کا اعتقاد رکھتے تھے اور یہ بات انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے لی تھی اور ان کی اکثر گزران ( معیشت ) شکار اور لوٹ مار کے ذریعے تھی تو لگا تار ان تین مہینوں کے لیے رکنا ان پر بڑا گراں تھا اور بسا اوقات ان حرام مہینوں میں ان کو کوئی لڑائی شروع ہوجاتی تو وہ اس لڑائی کو ٹالنا پسند نہ کرتے تو ان مہینوں کی حرمت کو دوسرے مہینوں کی طرف موخر ک دیتے تو محرم کی حرمت صفر کی طرف موخر ک دیتے اور صفر کو حرام سمجھتے اور محرم کو حلال سمجھتے ۔ پھر جب صفر میں کوئی ضرورت پڑتی تو اس کی حرمت ربیع الاول تک موخر کردیتے ۔ اسی طرح مہینہ مہینہ آگے کرتے رہتے یہاں تک کہ حرمت مکمل سال پر گھومتی رہتی ۔ جب اسلام قائم ہوا تو بہت عرصہ کے بعد محرم اپنی اس جگہ پر آگیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کی مقرر کی تھی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اس کو بیان کیا ۔
ابو بکرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک زمانہ اپنی کی طرح گھوما ہے جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ سال بارہ مہینے کا ان میں سے چار محترم ہیں تین لگا تار ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب جو شعبان اور جمادی کے درمیان ہے اور پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتا ہے تو آپ (علیہ السلام) نے سکوت فرمایا۔ ہمیں خیال ہوا کہ آپ (علیہ السلام) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے سکوت فرمایا ۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوا کہ آپ (علیہ السلام) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے سکوت فرمایا ۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوا کہ آپ (علیہ السلام) اس کا دوسرا نام رکھیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا یہ یوم نحر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال محمد کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح جو اس شہر میں اس مہینہ میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تمہارا اعمال کے بارے میں سوال کرے گا ۔ سن لو ! میرے بعد گمراہ ہو کر نہ لوٹنا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ، سن لو ! حاضر غائب کو پہنچا دے۔ پس شاید کہ بعض وہ لوگ جن تک میرا پیغام پہنچے اس کو زیادہ محفوظ کرنے والے ہوں ۔ سن لو کیا میں نے پہنچا دیا ؟ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ وہ فرماتے ہیں کہ نسئی ان میں جاری رہتا تھا تو وہ بسا اوقات کسی سال میں ایک مہینے میں خج کرتے اور اگلے سال دوسرے مہینے میں حج کرتے ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ایک مہینہ میں دو سال حج کرتے تھے۔ ذوالحجہ میں دو سال پھر دو سال محرم میں حج کرتے ، پھر دو سال صفر میں اسی طرح تمام مہینوں میں کرتے تو حجہ الوداع سے ایک سال قبل جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج کیا تو وہ ذوالعقدہ میں ہوا ۔ پھر اگلے سال نبی کریم ﷺ نے ذوالحجہ میں حجۃ الوداع کیا تو آپ (علیہ السلام) کا حج اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر حج کا مہینہ موافق ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) نے نو ذی الحجہ کو وقوف عرفہ کیا اور دس کو منیٰ میں خطبہ دیا اور صحابہ کرام ؓ کو خبر دی کہ نسئی کے مہینے زمانہ کے گھومنے سے منسوخ ہوگئے ہیں اور معاملہ ویسے ہوگیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے دن مقرر کیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ ان کو یاد رکھیں تا کہ آئندہ زمانے میں یہ پھر تبدیل نہ ہوجائے۔
نسئی کا بانی کون تھا
اس میں اختلاف ہے کہ نسئی کی ابتداء کس نے کی ہے ؟ ابن عباس ؓ ، ضحاک، قتادہ اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نسئی کی ابتداء بنو مالک بن کنانہ کے شخص ابو تمام جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی نے کی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی ابتداء بنو کنانہ کے ایک شخص نعیم بن ثعلبہ نے کی ہے اور اس کے بعد جنادہ بن عوف ۔ یہ وہ شخص ہے جس کا زمانہ نبی کریم ﷺ نے پایا اور عبد الرحمن بن زید بن اسلم کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص قلمس نے ابتداء کی ۔ ان کا شاعر کہتا تھا :” اور ہم میں مہینوں کو موخر کرنے والا قلمس ہے “ اور وہ لوگ یہ کام صرف ذی الحجہ میں کرتے تھے جب عرب والے موسم کے لیے جمع ہوتے تھے۔
ضحاک (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نسئی کا طریقہ پہلے عمروبن الحی بن قمعہ بن خندق نے جاری کیا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندق کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا ہے۔ یہ جو ہم نے ذکر کیا ہے یہ وہ نسئی ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” انما النسی زیادۃ فی الکفر “ مراد یہ ہے کہ ان کے کفر پر کفر کی زیادتی ہے۔ ” یضل بہ الذین کفروا “ حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” یضل “ یاء کے پیش اور ضاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” زین لھم سوء اعمالھم “ کی طرح اور یعقوب (رح) نے یاء کے پیش اور ضاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی حسن اور مجاہد (رح) کی قرأت ہے معنی یہ ہوگا ” یضل “ اس کے ساتھ کافر لوگوں کو اور دیگر حضرات نے یاء کے زبر اور ضاد کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ وہ خود گمراہ ہیں یہ پڑھنا اللہ تعالیٰ کے فرمانے ” یحلونہ “ کی وجہ سے ہے۔ یعنی نسئی کو ۔ ” عاما ویحرمونہ عاما لیواطنوا “ یعنی تا کہ وہ موافقت کریں اور مواطاۃ موافقت کرنا ۔ ” عدۃ ما حرم اللہ “ مراد یہ ہے کہ انہوں نے اشھر حرام میں سے جس مہینہ کو حلال کیا اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے ایک مہینہ حرام کردیا اور حلال مہینوں میں سے ایک مہینے کو حرام کیا تو اس کے بارے حرام مہینوں میں سے ایک کو حلال کردیا تا کہ حرام مہینے چار سے زیادہ نہ ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں تا کہ تعداد میں موافق ہوجائیں ۔ ” فیحلوا ما حرم اللہ زین لھم سوء اعمالھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ان کے لیے شیطان نے مزین کردیا ۔” واللہ لا یھدی القوم الکافرین “ یضل بہ الذین کفروا زین لھم سوء اعمالھم یحلونہ عاما ً ویحرمونہ عاما لیواطئو ا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ زین لھم سوء اعمالھم واللہ لا یھدی القوم الکافرین “۔
Ayah 9:38تفسیر 38۔” یایھا الدین امنوا ما لکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض “۔
آیت کا شان نزول
یہ آیت غزوہ تبوک پر ابھارنے کے لیے نازل ہوئی ہے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ طائف سے لوٹے تو غزوہ روم کے جہاد کا حکم دیا گیا ۔ اس وقت مسلمان بڑے تنگدست تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا اور پھل خوب پک چکے تھے اور آپ (علیہ السلام) جب کسی غزوہ کے لیے تشریف لے جانا چاہتے تو اپنے ارادہ کو ظاہر نہ فرماتے تھے بلکہ کسی اور جگہ کی طرف توریہ کرتے ۔ لیکن اس غزوہ میں کیونکہ لمبا سفر سخت گرمی میں کرنا تھا اور دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی تو آپ (علیہ السلام) نے تمام صورت حال مسلمانوں کے سامنے ظاہر کردی اور کوئی توریہ نہیں کیا تا کہ وہ دشمن کے مقابلہ کے لیے خوب تیاری کرلیں تو مسلمانوں پر اس غزوہ کے لیے نکلنا بہت گراں ہوا تو اللہ تعالٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا ما لکم اذا قیل لکم “ یعنی تم کو اللہ کے رسول ﷺ کہتے ہیں ” انفروا “ تم اللہ کے راستے میں نکلو۔” اثاقلتم الی الارض “ یعنی تم اپنی زمین اور ساکن کو چمٹ جاتے ہو۔ ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الاخرۃ یعنی دنیا کو ترجیح دینا اور آخرت کی نعمتوں کو اس کے بدلے چھوڑ دینا فما متاع الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا قلیل پھر جہاد چھوڑنے پر ان کو دھمکی دی۔
Ayah 9:3939۔ ’ ’ الا تنفروا یعدبکم عذاباً الیما ً “ آخرت میں دردناک عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے دنیا میں ان سے بارش کو روک لینا مراد ہے۔ نجدۃ بن نفیع نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلہ کو غزوہ کے لیے نکلنے کا کہا تو وہ اپنے گھروں میں رہ گئے تو ان سے بارش روک لی گئی تو یہ ان کا عذاب تھا۔ ” ویستبدل قوماً غیر کم “ تم سے بہتر اور زیادہ فرمانبردار ۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ وہ فارس والے ہیں اور بعض نے کہا وہ یمن والے ہیں۔” ولا تضروہ شیئا واللہ علی کل شی قدیر “۔
Ayah 9:4040۔” الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ کی مدد اور اپنے دین کے اعزاز کا خود کفیل ہے چاہے وہ مدد کریں یا نہ کریں کیونکہ اس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد کی جب دوست کم اور دشمن زیادہ تھے تو آج تو بطریق اولیٰ ہوسکتی ہے کہ دوستوں کی تعدادبھی زیادہ ہے۔ ” اذا اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین “ یعنی وہ دو میں سے ایک تھے اور دو سے حضر ت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔” اذھما فی الغار “ جبل ثور ہیں۔
” اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا “ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے علاوہ تمام زمین والوں کو عتاب کیا ہے۔ جمیع بن عمیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ارشاد فرمایا کہ تو میرا غار میں ساتھی تھا اور حوض پر بھی ساتھی ہوگا ۔ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ ابوبکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کے صحابی نہ تھے تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے نص قرآنی کا انکار کیا اور دیگر تمام صحابہ ؓ کا انکار کرے تو وہ مبتدع ( بدعتی ) ہے کافر نہیں۔ ” لا تحزن ان اللہ معنا “ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا حزن بزدلی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ پر شفقت کی وجہ سے تھا اور کہا کہ اگر میں قتل کیا گیا تو ایک آدمی ہوں اور اگر آپ کے ساتھ یہ معاملہ ہوا تو امت ہلاک ہوجائے گی ۔
روایت کیا گیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضور ﷺ کے ساتھ سفر ہجرت میں تھے تو کبھی آپ (علیہ السلام) کے آگے چلتے کبھی پیچھے تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا ہوگیا ہے اے ابوبکر ؟ تو آپ ؓ نے جواب دیا کہ مجھے پیچھے سے حملہ آور کا خیال آتا ہے تو پیچھے چلتا ہوں اور جب آگے سے کسی کے گھات لگانے کا خیال آتا ہے تو آگے چلتا ہوں ، جب غار میں پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ یہاں ٹھہریں میں غار کی صفائی کرلوں تو آپ ؓ غار میں داخل ہوئے اور غار کو صاف کیا ، پھر عرض کیا اب آپ آئیں یا رسول اللہ ! تو آپ (علیہ السلام) اندر داخل ہوئے ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے تھے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ کی وہ رات عمر اور اس کی آل اولاد سے بہتر ہے۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو بیان کیا کہ میں نے مشرکین کے قدموں کو دیکھا کہ وہ ہمارے سروں کے اوپر ہیں اور ہم غار میں تھے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کسی ایک نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے ابوبکر ! تیرا ان دو لوگوں کے با رے میں کیا خیال ہے کہ اللہ ان کا تیسرا ہے۔
عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا میرے والدین دین اختیار کرچکے تھے اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ دن کے صبح شام آپ (علیہ السلام) تشریف نہ لاتے ہوں ۔ جب مکہ میں مسلمانوں پر آزمائش آئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی الہل عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلے۔ جب آپ برک الغماد جگہ پہنچے تو آپ ؓ کو ابن الدغنہ ملا وہ وقارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا اے ابوبکر کہاں کی تیاری ہے ؟ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے تو میرا ارادہ ہے کہ زمینی سیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں تو ابن الدغنہ نے کہا بیشک تیری مثل شخص اے ابوبکر نہ نکل سکتا ہے اور نہ نکالا جاسکتا ہے بیشک تومعدوم ( فقیر) کے لیے کماتا ہے اور وصلہ رحمی کرتا ہے اور بوجھ اٹھاتا ہے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہے اور حق پر مدد کرتا ہے ۔ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں ، آپ ؓ واپس جائیں اور اپنے شہر میں جا کر اپنے رب کی عبادت کریں تو آپ ؓ واپس لوٹے اور دین الدغنہ بھی آپ ؓ کے ساتھ آیا اور شام کو تمام اشراف قریش کا چکر لگایا اور ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے لیے اوصاف بیان کر کے اپنی پناہ کا کہا تو انہوں نے ابن الدغنہ کی پناہ کا انکار نہیں کیا اور ابن الدغنہ کو کہا کہ ابوبکر کو کہو کہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں اور اس میں نماز پڑھیں اور جو چاہے قرأت کریں اعلانیہ یہ کام کر کے ہمیں تکلیف نہ دیں تو ابن الدغنہ نے یہ بات حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کہی تو کچھ عرصہ اپنے گھر میں عبادت کی اور نہ اعلانیہ نماز پڑھتے اور نہ گھر کے علاوہ قرأت کرتے ۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی ۔ اس میں نماز پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرتے تو ان پر مشرکین کی عورتیں اور بچے جمگھٹا کردیتے اور ان پر تعجب کرتے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب قرآن پڑھتے تو بہت زیادہ روتے تھے تو اشراف قریش اس بات سے گھبراگئے اور ابن الدغنہ کو پیغام بھیجا۔
تو وہ مکہ آیا ، انہوں نے کہا کہ آپ کی پناہ کی وجہ سے ہم نے ابوبکر صدیق ؓ کو کچھ نہیں کہا کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں گے لیکن انہوں نے اس سے تجاوز کیا ہے اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا کر اعلانیہ نماز اور قرأت کرتے ہیں ہمیں اپنی عورتوں اور بچوں کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے آپ ان کو روکیں ۔ اگر وہ اس بات کو مان لیتے ہیں کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کریں تو آپ اپنی امان باقی رکھیں ۔ اگر وہ اعلانیہ عبادت کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہو آپ کا ذمہ واپس کردیں کیونکہ آپ کے ذمہ کو خراب کرنا پسند نہیں کرتے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اعلانیہ عبادت کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ ؓ کو معلوم ہے کہ میں نے آپ کے لیے عقدا مان کیا تھا۔ اگر آپ اس پرکار بند رہتے ہیں تو ٹھیک ورنہ میرا ذمہ واپس کردیں کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب کہیں کہ میں نے ایک شخص سے عقد کر کے توڑ دیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ میں تیری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ کی پناہ میں راضی ہوں ۔ اس وقت نبی کریم ﷺ مکہ میں تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے مسلمانوں کو فرمایا کہ میں نے تمہاری ہجرت کا علاقہ دیکھا ہے وہ کھجور کے درختوں والا ہے دو دو سیاہ پتھروں والی وادیوں کے درمیان ہے پھر جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حبشہ کے مہاجرین میں سے اکثر مدینہ لوٹ لئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مدینہ کی طرف کوچ کرنے کی تیاری کی تو آپ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ٹھہر جائو ، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت دی جائے گی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا آپ (علیہ السلام) کو بھی اس کی امید ہے۔ میرا باپ آپ پر قربان ہو ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں ۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ رسو ل اللہ ﷺ کی رفاقت کے لیے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو چارہ وغیرہ کھلا کر تیار کیا ، چار ماہ ایسا کیا ۔
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ ایک دن ہم ابوبکر صدیق ؓ کے گھر میں چاشت کے وقت بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا یہ اللہ کے رسول ﷺ منہ چھپا کر ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں کہ جس کا معمول نہیں تھا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا کہ میرے ماں اور باپ ان پر فدا ہوں اللہ کی قسم ! اس وقت میں آپ (علیہ السلام) کسی اہم کام کی وجہ سے آئے ہوں گے تو آپ (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابوبکر ! ( ؓ اپنے پاس سے ہر کسی کو نکال دو تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ( ﷺ) یہ آپ (علیہ السلام) کے گھر والے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ان دو اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا قیمت کے ساتھ لوں گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے بڑی جلدی ان کی تیاری کرا دی اور ان دونوں کے لیے چمڑے کا ایک توشہ دان تیار کیا تو حضرت اسماء بنت ابی بکر نے اپنے کمر بند ک ایک ٹکڑا کاٹ کر اس کا منہ باندھ دیا ۔ اسی وجہ سے ان کا نام ذات العطاقین پڑگیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ ثورپہاڑپر ایک غار میں چلے گئے اور اس میں تین دن رہے ، رات کو ان کے پاس عبد اللہ بن ابی بکر ؓ جاتے اور دن بھر قریش سے جو باتیں سنتے ان کو یاد کر کے آپ (علیہ السلام) کو سناتے اور صبح منہ اندھیرے وہاں سے واپس آجاتے اور صبح کو قریش میں پھرتے رہتے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے غلام عامر بن فھیرۃ بکریاں چراتے ہوئے رات کو وہاں پہنچ جاتے اور دودھ پلاتے اور صبح سے پہلے وہاں سے ریوڑ لے کر چلے جاتے ۔ یہ معاملہ تینوں راتوں میں رہا ۔ نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بنی ویل کے ایک شخص کو راستہ دکھانے کے لیے اجرت پر لیا ہوا تھا یہ شخص کفار مکہ کے دین پر تھا تو انہوں نے اپنی اونٹنیاں اس کو دے دیں کہ وہ تین راتوں کے بعد صبح کے وقت اونٹنیاں لے کر آجائے گا۔
سراقہ کا قصہ
شیخین نے صحیحین میں نیز امام احمد نے سراقہ کی روایت سے اور امام احمد و یعقوب بن سفیان نے حضرت ابوبکر کے حوالے سے بیان کیا ۔ سراقہ کا بیان ہے کفار قریش کے قاصد ہمارے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر کے قتل یا گرفتار کرنے والے کیلئے ایک انعام مقرر کیا اور کہا کہ دونوں میں جس کسی کو کوئی قتل یا گرفتار کرے گا ۔ اس کو سو اونٹیاں دی جائیں گی ۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کے ساتھ ایک جلسہ میں بیٹھا ہوام تھا کہ ایک آدمی آ کر کھڑا ہوا اور اس نے کہا : سراقہ ! میں نے ابھی ساحل پر کچھ اشخاص دیکھے ہیں ۔ دوسری روایت میں ہے کہ تین سوار دیکھے ہیں میرے خیال میں وہ محمد اور ان کے ساتھی تھے۔ یہ سنتے ہی میں پہچان گیا کہ ہوں نہ ہوں وہی ہوں گے۔ میں نے اس شخص کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔ وہ خاموش ہوگیا ۔ میں اٹھ کر گھر میں گیا اور باندی کو حکم دیا کہ میرا گھوڑے لے کر بطن وادی میں پہنچا دے اور خود اپنے خیمہ کے پیچھے سے ہتھیار لے کر نکل چلا اور نیزہ کو گھسیٹتا گیا ۔ بلم کا بالائی حصہ کو نیچے کو دیا ۔ اس طرح گھوڑے تک پہنچا اور سوارہو کر تیز دوڑتا ہوا چل دیا ۔ یہاں تک کہ میری دونوں اشخاص پر نظر پڑگئی ۔ قریب پہنچا ہی تھا کہ گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں نیچے گرپڑا ۔ پھر میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس میں سے فال لینے کیلئے تیر نکالے کہ میں ان کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں ۔ فال لینے پر تیر وہی نکلا جو مجھے پسند نہ تھا۔ یعنی فال یہ نکلی کہ میں ان کو ضرر نہ پہنچاسکوں گا ۔ مگر مجھے امید تھی کہ میں اس فال کو الٹ دوں گا اور سو اونٹنیاں لے لوں گا ۔ چناچہ میں پھر گھوڑے پر سوارہو گیا اور تیروں کی فال مانی اور گھوڑے کو تیز دوڑتا چلاتا کہ وہ مجھے قریب پہنچا دے۔ میں اتنا قریب پہنچ گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز میں نے سن لی ۔ آپ کی توجہ میری طرف یہ تھی مگر حضرت ابوبکر میری طرف زیادہ متوجہ تھے۔ اسی حالت میں اچانک میرے گھوڑے کے دونوں پائوں گھنٹوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں نیچے گرپڑا ۔ میں نے گھوڑے کو جھڑکا ا اور خود اٹھا مگر گھوڑا پائوں باہر نہ نکال سکا ۔ گھوڑے نے کوشش کی کہ قدم باہرنکال لے ۔ اس کوشش میں دھویں کی طرح غبار اٹھ کر اوپر چڑھ گیا ۔ میں نے پھر تیروں سے فال نکالی مگر وہی فال نکلی کہ میں ان کو ضرر نہ پہنچا سکو گا ۔ آخر میں جان گیا کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے محفوظ کردیئے گئے ہیں اور وہ غالب آئیں گے ۔ مجبوراً میں نے امان کیلئے پکارا اور کہا دیکھو ! میری کیا حالت ؟ میں خدا کی قسم ! ہرگز تم کو کوء یاذیت نہیں پہنچائوں گا اور میری طرف سے تمہارے لئے کوئی ناخوشگوار حرکت نہ ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا : اس سے پوچھو کہ کیا چاہتا ہے ؟ میں نے کہا آپ کی قوم نے آپ کے سلسلہ میں انعام مقرر کیا ہے ۔ غرض لوگوں کا جو مقصد تھا میں نے اس کی اطلاع آپ کو دے دی ۔ کچھ زاد راہ اور سامان کی بھی پیشکش کی مگر آپ نے مجھے کوئی تکلیف نہ دی نہ کچھ مانگا ۔ صرف اتنا فرمایا کہ ہماری خبر ظاہر نہ کرنا۔ میں نے درخواست کی کہ ( آئندہ کیلئے) مجھے کوئی پروانہ امن کیلئے لکھ دیجئے۔ آپ نے حکم دیا : ابوبکر ! اس کو لکھ دو ۔
” فانز ل اللہ سکینتہ علیہ “ بعض نے کہا نبی کریم ﷺ پر اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ پر کیونکہ نبی کریم ﷺ پہلے سے سکنیت پر تھے۔” وایدہ بجنودلم تروھا ‘ ‘ یہ وہ فرشتے تھے جو کافروں کے چہرے اور نگاہیں پھیرنے کے لیے اترے تھے اور بعض نے کہا کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گئے۔ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن فرشتوں کے ساتھ مدد کی اور یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کی تدبیر آپ (علیہ السلام) سے غار میں پھیری ۔ پھر اپنی مدد کو فرشتوں کے ذریعے بدر میں ظاہر کیا ۔ ” وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی “ اور ان کا کلمہ شرک یہی قیامت تک نیچا ہے۔” وکلمۃ اللہھی العلیا “ قیامت کے دن تک ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” لا الہ الا اللہ “ مراد ہے اور بعض نے کہا ہے ” کلمۃ الذین کفروا “ جو انہوں نے آپ میں نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کے لیے تدبیر کی تھی اور ” کلمۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ وہ ان کی مدد کریں گے اور یعقوب (رح) نے ” وکلمۃ اللہ “ تاء کے زبر کے ساتھ اس بناء پر پڑھا ہے کہ اس کا ” جعل “ کے پہلے مفعول ” کلمۃ الذین کفروا “ پر عطف ہے اور اصل عبارت ” وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی ، وجعل کلمۃ اللہھی العلیا “ ہے ۔ تو ’ کلمۃ اللہ “ پہلے کا مفعول پر معطوف ہے اور ” العلیا “ دوسرے مفعول ہے اور باقی حضرات نے ” کلمۃ اللہ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ استئناف کی بناء پر گویا کہ کلام باری تعالیٰ کے قول ” وجعلوا کلمۃ الذین کفروا السفلی “ پر مکمل ہوگئی تھی ۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ” وکلمۃ اللہھی العلیا “ مبتداء اور خبر ہے کلمۃ اللہ مبتداء اور العلیا اس کی خبر ہے۔ ” واللہ عزیز حکیم “ تفسیر : وما کان المومنون سدی (رح) فرماتے ہیں ک جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر اس کی وجہ سے بڑی سختی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا اور فرمایا ” لیس علی الضعفاء ولا علی المرضی “ پھر ان منافقین کے بارے میں آیت نازل کی جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے۔
Ayah 9:4141۔” انفروا اخفافاً وثقالا “ حسن ، ضحاک ، مجاہد ، قتادہ اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بوڑھے اور جوان نکلو ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ چست اور غیر چست سب نکلو۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں کہ پیدل اور سوار ۔ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں ” خفافا ً “ یعنی فقراء ۔ ” ثقالا “ یعنی مالدار ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” خفافا ً “ جن کو مال کی وسعت ہو اور ثقالا ً جن پر مالی تنگی ہو اور بعض نے کہا ” خفافا ً “ کم ہتھیار والے اور ثقالا ً زیادہ ہتھیار والے۔ حکم بن عتیبہ (رح) فرماتے ہیں کہ مصروف ہو یا فارغ ۔ مرۃ ہمدانی (رح) فرماتے ہیں کہ تندرست ہو یا مریض ۔ یمان بن باب (رح) فرماتے ہیں کہ کنوارے ہو یا شادی شدہ اور بعض نے کہا کہ ” خفافاً “ یعنی جب کوچ کا اعلان سنو تو جلدی سے نکل پڑو۔ ” ثقالا “ غور و فکر اور تیاری کے ساتھ نکلو ۔” وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ذلک خیر لکم ان کنتم تعلمون “ زہری (رح) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب (رح) کی آنکھ ختم ہوچکی تھی پھر بھی جہاد کے لیے نکلے تو ان کو عرض کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہے آپ نہ جائیں تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خفیف و ثقیل سے نکلنے کا کہا ہے۔ اگر میں لڑ نہیں سکتا تو مسلمانوں کی تعدادبڑھائوں گا اور سامان کی حفاظت کروں گا ۔ عطاء خراسانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وما کان المومنون لینفروا “ کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے۔
Ayah 9:4242۔” لو کان عرضا قریباً “ اور کان کا اسم مضمر ہے یعنی جس کی طرف ہم ان کو بلا رہے ہیں وہ ایسی غنیمت ہوتی جس کا حاصل کرنا قریب ہو ” وسفرا قاصدا ‘ ‘ قریب اور آسان ” لا تبعوک “ تو وہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلتے ” ولکن بعدت علیھم الشقۃ “ یعنی مسافت ، شقہ دور کے سفر کو کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان پر گراں ہوتا ہے اور بعض نے کہا ” شقۃ “ وہ انتہا جس کا ارادہ کر کے چلا جائے ۔” وسیحلفون باللہ لو استطعنا لخرجنا معکم یھلکون انفسھم “ یعنی جھوٹی قسموں کے ساتھ ” واللہ یعلم انھم لکذبون “ اپنی قسموں میں کیونکہ ان کے پا س طاقت تھی۔
Ayah 9:4343۔” عفا اللہ عنک “ عمرو بن میمون (رح) فرماتے ہیں کہ وہ کام ایسے ہیں جو آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کیے ہیں (1) منافقین کو اجازت دینا (2) بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینا تو اللہ تعالیٰ نے دونوں جگہ عتاب فرمایا ۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی اور لطف کو تو دیکھو کہ ابتداء معافی سے کی ہے پھر عار دلائی ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی عزت کی ہے اور آپ (علیہ السلام) کا مقام بلند کیا ہے اور بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے دائمی عفو کریں۔” لم اذنت لھم “ پیچھے رہ جانے کی ” حتیٰ یتبین لک الذین صدقوا “ اپنے عذروں میں ” و تعلم الکذبین “ یعنی آپ (علیہ السلام) جان لیں کہ کون اپنا عذر بیان کرنے میں سچے ہیں اور کن کو کوئی عذر نہ تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس دن آپ (علیہ السلام) منافقین کو نہ جانتے تھے۔
Ayah 9:4444۔” لا یستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاخر ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم “ یعنی آپ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت نہ مانگیں ” واللہ علیم بالمتقین “۔
Ayah 9:4545۔” انما یستاذنک الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر وار تابت قلوبھم “ یعنی شک میں ہیں اور منافق ہیں ” فھم فی ریبھم یترددون “ حیران و پریشان ہیں۔
Ayah 9:46تفسیر 46۔” ولو ار ا دو الخروج جنگ کی طرف ” لا عدوا لہ “ یعنی اس کیلئے تیاری کریں ” عدۃ “ تیاری اور قوت ہتھیاروں اور گھوڑوں وغیرہ کے ذریعے ” ولکن کرہ اللہ انبعاثھم “ ان کا نکلنا ” فثبطھم “ ان کو نکلنے سے روک دیا ” وقیل اقعدوا “ اپنے گھروں میں ” مع القعدین “ مریضوں اور اپاہجوں کے ساتھ اور بعض نے کہا عورتوں اور بچوں کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کا قول ( وقیل) یعنی ان میں سے بعض نے بعض کو کہا تم بیٹھ جائو اور کہا گیا ہے کہ ان کے دلوں میں وحی کی اور رسوائی کے اسباب کا ان کو ابہام کیا گیا ہے۔
Ayah 9:4747۔” لو خر جوا فیکم “ رسول اللہ ﷺ نے جب تبوک کی طرف جہاد کا حکم دیا تو اپنے لشکر کو ثنیۃ الوداع پر مقرر کیا اور عبد اللہ بن ابی کو ثنیۃ الوداع سے نیچے اس کا لشکر کافی تعداد میں تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کے ساتھ تشریف لے گئے تو پیچھے عبد اللہ بن ابی کے پاس منافقین اور شک والے رہ گئے ، اور یہ جہاد کیلئے نہیں نکلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ آیت اتاری ” لو خرجوا “ یعنی منافقین ” فیکم “ تمہارے ساتھ ” ما زادو کم الا خبالا ً “ یعنی فساد اور شر اور فساد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تم میں بزدلی ڈال دیتے ۔ ” ولا اوضعوا خلکم “ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دیتے ، چغلی اور ایک کی بات دوسرے کی طرف نقل کر کے ” یبغونکم الفتنۃ “ یعنی تمہارے لیے وہ تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے تم فتنہ میں پڑ جائو ۔ وہ کہتے ہیں تمہارے لیے یہ اور یہ جمع کیا گیا ہے اور تم شکست کھا گئے ہو اور عنقریب تمہارے دشمن تم پر غالب ہوجائیں گے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” یبغونکم الفتنۃ “ یعنی شر اور سرکشی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں فتنہ شرک ہے اور کہا جاتا ہے ” بغیۃ وابغیتہ بغیا اذا التمستہ لہ “ یعنی میں نے اس کے لیے سرکشی کی ۔ ” وقیکم سمعون لھم “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر ان کے مخبر ہیں جو تمہاری بات سن کر ان تک پہنچا دیتے یعنی جاسوس اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر ان کی اطاعت کرنے والے لوگ ہیں یعنی ان کی کلام سن کر ان کی اطاعت کرتے ہیں ۔ ” واللہ علیم بالظلمین “۔
Ayah 9:4848۔” لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل “ یعنی انہوں نے آپ کے ساتھیوں کو دین سے روکنے کی کوشش کی اور لوگوں کے ہاتھوں آپ لوگوں کو رسوا کرنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے جیسے عبد اللہ بن ابی غزوہ احد کے دن اپنے ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا ۔ ” وقلبوا لک الامور “ آپ کے دین اور رائے کو باطل کرنے کی کوشش کی ۔ آپ (علیہ السلام) سے لوگوں کو ورغلانے اور متفرق کرنے کے ذریعے۔ ” حتی جاء الحق “ مدد اور کامیابی آجائے ” و ظھر امر اللہ “ اللہ کا دین ” ھم کرھون “۔
Ayah 9:49جدبن قیس کے متعلق آیت کا نزول
تفسیر 49۔” ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ یہ آیت جد بن قیس منافق کے بارے میں نازل ہوئی کہ جب نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کی طرف سفر کی تیار کی تو جد نے کہا اے اللہ کے رسول ! میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت خواہش مند ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نیب بنو اصغر کی لڑکیاں دیکھیں تو ان سے صبر نہ کرسکوں گا ۔ مجھے جنگ میں نہ جانے کی اجازت دیں اور ان عورتوں کے ذریعے میری آزمائش نہ کریں ، میں آپ (علیہ السلام) کی مالی مدد کروں گا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جدہ بن قیس نے یہ وجہ بیان کی حالانکہ نفاق کے علاوہ اس کی کوئی وجہ نہ تھی تو نبی کریم ﷺ نے اس سے اعراض کیا اور فرمایا کہ میں نے تجھے اجا زت دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” ومنھم “ منافقین میں سے ” من یقول ائذن لی “ پیچھے رہ جانے کی ۔ ” ولا تفتنی “ بنو اصغر کی لڑکیوں سے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ مجھے گناہ گار نہ کریں ۔ ” الا فی الفتنۃ سقطوا “ یعنی شرک اور گناہ میں اپنے نفاق کی وجہ سے واقع ہوگئے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کر کے ” وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین “ ان کو اپنے اندر جمع کرنے والی ہے۔
Ayah 9:5050۔” ان تصبک حسنۃ “ نصرت اور غنیمت ” تسوھم “ ان کو غمگین کردیتی ہے یعنی منافقین کو ” وان تصبک مصیبۃ “ قتل اور شکست ” یقولوا قد اخذنا امرنا “ یعنی ہم نے جنگ سے پیچھے رہ جانے کا فیصلہ سمجھ سے لیا ۔ ” من قیل “ اس معصیت سے پہلے ” ویتولو اوھم فرحون “ خوش ہوتے ہیں اس مصیبت کی وجہ سے جو آپ کو پہنچی ہے۔
Ayah 9:5151۔” قل “ ان کو اے محمد ” لن یصیبناالا ما کتب اللہ لنا “ ہم پر لوح محفوظ ” ھو مولنا “ ہمارا مدد گار اور حافظ ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ہماری ذات سے اولیٰ ہے موت اور زندگی میں ” وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “۔
Ayah 9:5252۔” قل ھل تربصون بنا “ اے منافقو ! کیا تم انتظا ر کررہے ہو ” الا احدی الحسنین “ یا تو مدد اور غنیمت یا شہادت اور مغفرت ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے اور گھر سے صرف جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے کلمات کی تصدیق اس کو نکالے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کریں گے یا وہ اپنے گھر لوٹ آئے اجر اور غنیمت لے کر ۔
” ونحن نتربص بکم “ برائیوں میں سے ایک کا ” ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ “ تو تمہیں پہلی امتوں کی طرح ہلاک کر دے گا ۔” اوبا یدینا “ مؤمنین کے ہاتھوں سے اگر تم پانے دل کا بعض ظاہر کر دو ۔ ” فتربصوا انا معکم متربصون “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تم شیطان کے وعدوں کا انتظار کرو اور ہم اللہ کے وعدوں کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین کو ظاہر کرے گا اور مخالفین کی بیخ کنی کرے گا ۔
Ayah 9:53تفسیر 53۔” قل انفقوا طوعا او کرھا “ امر شرط اور جزاء کے معنی میں ہے۔ یعنی اگر تم خوشی سے یا جبراً خرچ کرو ۔ یہ آیت جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے جنگ میں نہ جانے کی اجرت مانگی اور کہا کہ میں اپنے مال سے مدد کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لن یتقبل منکم انکم “ اس لئے کہ تم ” کنتم قوما فسقین “۔
Ayah 9:5454۔” وما منعھم ان تقبل منھم “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یقبل “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ فعل کے مقدم ہونے کی وجہ سے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ اس لیے کہ فعل جمع مؤنث ( نفقات) کی طرف مسند ہے۔ اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ فاعل مؤنث ہے۔ نفقتھم ان کے صدقات الا انھم کفروا باللہ وبرسولہ ان کے نفقات کے قبو ل کرنے سے مانع ان کا کفر ہے۔ ولا یاتون الصلوٰۃ والا وھم کسالی ” بوجھل قدموں کے ساتھ کیونکہ وہ اس نماز کی ادائیگی پر ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے چھوڑنے پر عذاب سے نہیں ڈرتے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ منافقین کی تو نماز ہی قبول نہیں ، پھر نماز میں سستی پر کیوں مذمت کی ؟ جواب یہ ہے کہ مذہب اس کفر پر ہے جو ان کو نماز میں سستی پر ابھارتا ہے کیونکہ کفر سست کردیتا ہے اور ایمان چست کرنے والا ہے۔ ” ولا ینفقون الا وھم کرھون “ اس لیے کہ وہ اس کو تاوان سمجھتے ہیں۔
Ayah 9:5555۔” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم “ اعجاب کسی عجیب چیز کو دیکھ کر خوش ہونا ۔ یعنی آپ اس مال اور اولاد کو اچھا نہ سمجھیں جو ہم نے ان کو دیا ہے اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو ڈھیل دیتے ہیں تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کردیتے ہیں ۔” انما یرید اللہ لیعدبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ اگر یہ اعتراض ہو کہ مال اور اولاد میں کیسا عذاب ہے حالانکہ وہ لوگ تو دنیا میں اس کو بہت بڑی نعمت سمجھتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ مجاہد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کی اصل ہے ” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم فی الحیوۃ الدنیا انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الاخرۃ “ اور بعض نے کہا عذاب جو مال اور اولاد میں مصائب کی صورت میں آئیں گی۔
حسن رحمہ فرماتے ہیں کہ ان کو دنیا میں عذاب دے گا اس مال سے زکوٰۃ لے کر اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو ا کر ۔ اور بعض نے کہا ہے ان کو اس کے جمع کرنے میں تھکا کر اور اس کی حفاظت میں اکتا کر اور اس کے خرچ کو ناپسند کر کے اور اس کا وارث ایسے لوگوں کو بنا کر جو اس کی تعریف نہیں کرتے ، ان سب کے ذریعے عذاب دیتے ہیں ۔ ” وتزھق انفسم “ یعنی نکلتا ہے ” وھم کفرون “ یعنی کفر پر مریں گے۔
Ayah 9:56تفسیر 56۔” ویحلفون باللہ انھم لمنکم “ یعنی تمہارے دین پر ہیں ۔ ” وما ھم منکم ولکنھم قوم یفرقون “ اس سے ڈرتے ہیں کہ ان کا دین نہ ظاہر ہوجائے۔
Ayah 9:5757۔” لو یجدون ملجا “ کوئی ٹھکانہ یا قلعہ عطاء (رح) فرماتے ہیں جائے فرار اور بعض نے کہا ہے کہ حفاظت کا مقام جن میں پناہ لی جاسکتی ہے۔ ” او مغرت “ پہاڑوں میں غاریں مغارۃ کی جمع ہے وہ پہاڑ ی غار جس میں تو چھپے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرنگ اور تہہ خانے ۔ ” او مدخلا ً “ داخل ہونے کی جگہ یہ ادخل یدخل سے ہے اس کی اصل مد تخل بروزن منتعل ہے۔ دخل یدخل سے مجاہد (رح) فرماتے ہیں جائے پناہ ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تہہ خانہ مراد ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ چوہوں کی بل کی طرح زمین میں کوئی بل حسن (رح) فرماتے ہیں ایسا طریقہ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے خلاف داخل ہوں اور یعقوب (رح) نے ” مد خلا “ میم کے زبر اور دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے بمعنی داخل ہونے کی جگہ ۔” لو لوالیہ “ تو وہ اس کی طرف بھاگتے تم سے پیٹھ پھیر کر ” وھم یجمحون “ وہ انکار میں دوڑا رہے ہوتے ۔ ان کی کوئی چیز واپس نہیں لاسکتی ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کوئی اور راستہ پاتے تو تم سے جدا ہوجاتے۔
Ayah 9:5858۔” ومنھم من یلمزم فی الصدقت “ یہ آیت ذوالخویصرۃ تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کا نام حرقوص بن زھیر ہے۔ یہی خوارج کی بنیاد ہے۔
آیت کا شان نزول
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ (علیہ السلام) مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو آپ (علیہ السلام) کے پاس ذوالخویصرہ آیا ۔ یہ بنو تمیم کا آدمی ہے کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! آپ انصاف کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو برباد ہو ، میں انصاف نہ کروں گا تو کون انصاف کرے گا ، میں خسارہ والا ہوگیا ، اگر میں انصاف نہ کروں تو حضر ت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو اس کے کچھ ساتھی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ یہ قرآن پڑھتے ہیں مگر وہ ان کی گردن سے نیچے نہیں اترتا ۔ یہ دین سے اس طرح گزر جائیں گے جیسا کہ تیرا اپنے ہدف سے تیزی سے گزر جاتا ہے گوبر اور خون کے پارہ ہوجاتا ہے ( اس کے باوجود) اس پر کوئی نشان نہیں ہوتا کہ اس کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں خون کا کوئی اثر نہ پایا جائے ۔ دونوں پروں کو دیکھا جاتا ہے تو ان پر کچھ نہیں ہوتا اور شکار پر بھی کچھ نہیں پایا جاتا ۔ حضرت ابو سعیدخدری ؓ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی اور گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ان سے قتال کیا اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔
کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک منافق شخص جس کو ابو الجوط کہا جاتا تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ آپ نے برابری کے ساتھ تقسیم نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ” ومنھم من یلمزک فی الصدقات “ یعنی آپ پر عیب لگاتا ہے۔ جب تو کسی کو عیب لگائے کہا جاتا ہے۔” لمزہ وھمزہ “ یعنی منافقین کہتے تھے کہ محمد ﷺ اپنے چہتے لوگوں کو دیتے ہیں ۔ اور یعقوب (رح) نے ” یلمزک “ اور اسی طرح الحجرات میں ” یلمزون “ اور ” ولا تلمزوا “ ہر ایک کو میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے میم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں ۔ ” یلمز ویلمز “ اور ” یعکف اور یعکف “ کی طرح اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ۔” یلمزک “ یعنی آپ کی زیارت کرتے ہیں یعنی آپ کا امتحان لیتے ہیں ۔” فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون “ بعض نے کہا جب ان کو زیادہ دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر کم دیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں۔
Ayah 9:59تفسیر 59۔” ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان کے لیے جو تقسیم کردیں اس پر قناعت کریں ۔ ’ وقالوا حسبنا اللہ “ ہمیں اللہ کافی ہے۔ ” سیوتینا اللہ من ضلہ ورسولہ “ جن کے ہم محتاج ہیں ۔ ” انا الی اللہ رغبون “ اس بات میں کہ وہ ہم پر اپنے فضل سے وسعت کرے اور ہمیں صدقہ وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے اموال سے غنی کر دے اور ’ ’ لو “ کا جواب محذوف ہے ، یعنی ان کے لیے بہتر ہوتا۔