Ayah 9:60صدقات کے مصارف کا بیان
60۔” انما الصدقت للفقراء والمسکین “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقات کے مستحقین بیان کیے ہیں اور ان کی آٹھ قسمیں بیان کی ہیں ۔ زیاد بن حارث صدائی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی تو ایک شخص آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے صدقات میں سے کچھ دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقات میں نہ اللہ اپنے نبی کے فیصلہ پر راضی ہیں اور نہ کسی اور کے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ کیا اور ان کی آٹھ قسموں پر مقرر کردیا ہے اگر تو ان قسموں میں سے کسی قسم پر ہے تو میں تجھے تیرا حق دے دوں گا ۔
” للفقراء المسکین “ صدقہ کی اقسام میں سے پہلی قسم فقراء ہیں ۔ دوسری ، مساکین ، علماء کا فقیر اور مسکین کی تعریف میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ ، حسن مجاہد ، قتادہ ، عکرمہ اور زہری رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ فقیر جو سوال نہ کرے اور مسکین جو سوال کرے۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ فقیر وہ نہیں ہے جو ایک ایک درہم جمع کرے اور ایک ایک کھجور جمع کرے لیکن جو اپنے نفس اور کپڑے کو صاف کرے اور کسی شے پر قادر نہ ہو ۔ ان کو جاہل سوال نہ کرنے کی وجہ سے مال دار سمجھتے ہوں تو یہ فقیر ہے۔
فقیر و مسکین کی تعریف اور مختلف اقوال
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ فقیر اپاہج محتاج اور مسکین تندرست محتاج ۔ عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ فقراء مسلمانوں میں سے اور مساکین اہل کتاب میں سے مراد ہیں اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ فقیر وہ شخص جس کے پاس نہ مال ہو نہ ہنر ، خواہ اپاہج ہو یا تندرست اور مسکین وہ شخص جس کے پاس مال یا ہنر تو ہو لیکن اس کو غنی نہ کرتا ہو ۔ وہ خود سوال کرے یا نہ کرے تو امام شافعی (رح) کے نزدیک مسکین کی حالت فقیر سے بہتر ہوتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’ ’ اما لسفنیۃ فکانت للمساکین ‘ کہ ان کے لیے ملکیت کو ثابت کرنے کے باوجود ان کو مسکین کہا ہے کہ اصحاب رائے کے نزدیک فقیر کی حالت مسکین سے بہتر ہوتی ہے۔ ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ فقراء سے مراد مہاجرین اور مساکین سے مراد جن مسلمانوں نے ہجرت نہ کی ہو ۔ خلاصہ کلام یہ کہ فقر و مسکنت حاجت اور ضعف مال کا نام ہیں ۔ پس فقیر وہ محتاج کہ ضروریات نے اس کی کمر توڑدی ہو اور مسکین وہ شخص کہ اس کی جان کمزورہو گئی ہو اور روزی کی تلاش میں حرکت سے عاجز آگیا ہو۔
عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ان کو خبر دی کہ وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ (علیہ السلام) سے صدقہ کا سوال کیا تو آپ (علیہ السلام) نے ان کی تصویب فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دوں گا اور ان صدقات میں مالدار اور قوت الے کمانے والے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
غناء کی مقدار کتنی ہے جس کیلئے صدقہ لینا جائز نہیں
علماء کا اس غناء کی حد میں اختلاف ہے جو صدقہ لینے سے مانع ہو۔ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ اس کی حد یہ ہے کہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کے اور اس کے عیال کو ایک سال کے لیے کافی ہو اور یہی امام مالک اور شافعی رحمہم اللہ کا قول ہے اور اصحاب رائے رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی حد یہ ہے کہ دو سو درہم کا مالک ہو اوز ایک قوم نے کہا ہے کہ جو شخص پچاس درہم کا مالک ہو اس کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم تک حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرماایا کہ جس شخص نے لوگوں سے سوال کیا اور اس کے لیے اتنا مال ہے جو اس کو کافی ہے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا سوال اس کے چہرے میں ایک زخم ہوگا تو صحابہ کرام ؓ نے سوال کیا ۔ یا رسول اللہ ! کتنا مال بندو کو غنی کردیتا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ پچاس درہم یا اس کی قیمت سونا اور یہی سفیان ثوری (رح) ، ابن مبارک ، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے اور یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ آدمی کو زکوٰۃ میں سے پچاس درہم سے زیادہ دیئے جائیں اور بعض نے کہا چالیس درہم کیونکہ روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر مال ہے تو اس نے اصرار سے سوال کیا ۔ ” والعاملین علیھا “ یہ وہ لوگ ہیں جو صدقات کی مال داروں سے وصولی میں کوشش کرتے ہیں اور اس کو مستحقین پر خرچ کرتے ہیں ۔ یہ خواہ مال دار ہو یا فقیر ان کے عمل کی اجرت کے برابر ان کو دیا جائے گا ۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو صدقہ کا آٹھواں حصہ ملے گا ۔
مؤلفۃ قلوب کا مصداق کون ہیں ؟
” والمفولفۃ قلوبھم “ صدقہ کے مستحقین کی چوتھی قسم مؤلفہ قلوب ہیں ۔ ان کی دو قسمیں ہیں (1) مسلمان (2) کافر ، پھر مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں (1) ایک قسم وہ لوگ جو اسلام میں تو داخل ہوگئے تھے لیکن ان کی نیت کمزور تھی تو نبی کریم ﷺ ان کے دل کو جمانے کے لیے دیا کرتے تھے ، جیسا کہ عینیہ بن بدر اور اقرع بن حابس اور عباس بن مرد اس ؓ کو دیا ۔ وہ لوگ جو اسلام لائے اور ان کی نیت اسلام میں پختہ تھی اور یہ اپنی قوم کے معززین تھے جیسے عدی بن حاتم ، زبرقان بن بدر ؓ تو نبی کریم ﷺ ان کو دیتے تھے ان کی قوم کو مائل کرنے اور ان جیسے دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے تو ان لوگوں کو امام غنیمت کے خمس اور فئی میں سے دے سکتا ہے اور نبی کریم ﷺ ان کو دیتے تھے لیکن صدقات میں سے نہ دیتے تھے اور دوسری قسم وہ مسلمان بھی داخل تھے جن کے ہاں کافروں کے مقابلہ کیلئے کوئی مسلمان فوج اتری ہو مگر مسلمانوں کی مقامی امداد کے بغیر وہ لشکر اپنے نشانہ پر نہ پہنچ سکتا ہو اور مقامی مسلمان جہاد میں شرکت کیلئے تیار نہ ہوں ، خواجہ اپنی بدحالی کی وجہ سے با ایمان کی کمزوری کے سبب سے ، ایسی صورت میں حاکم کیلئے جائز ہے کہ مجاہدوں کے حصہ کے مال غنیمت میں سے اور بقول بعض مؤلفۃ القلوب کے زکوٰۃ کے حصہ میں سے ان مسلمانوں کو کچھ دے دے۔
روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس صدقہ کے تین سو اونٹ وصول کر کے لائے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو اس میں سے تیس اونٹ دیئے اور کافروں میں سے ” مولفۃ قلوب “ وہ ہیں جن کے اسلام کی امید ہو یا اس کے شرکا خوف ہو تو اما م ان کے شر سے بچنے کیلئے یا ان کو اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے کچھ دے۔ نبی کریم ﷺ ان کو خمس کا خمس دیتے تھے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) نے صفوان بن امیہ کے اسلام کی طرف میلان کو دیکھ کر ان کو بھی دیا لیکن اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دی ہے ( اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں) اور اس سے بےپرواہ کردیا ہے کہ اسلام کی طرف لوگوں کو مائل کریں تو کسی مشرک کو کسی حال میں دینا جائز نہیں ہے۔
اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں ان کا حصہ اب ختم ہے۔ یہی بات اور شعبی (رح) سے مروی ہے اور اسی کے امام مالک اور ثوری رحمہم اللہ اور اصحاب رائے قائل ہیں اور ایک قوم نے کہا ہے کہ ان کا حصہ اب بھی ثابت ہے۔ یہی بات حسن (رح) سے مروی ہے اور یہی زہری اور ابو جعفر رحمہم اللہ محمد بن علی اور ابو ثور رحمہما اللہ کا قول ہے اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہو تو ان کو دیا جائے گا ۔ ” وفی الرقاب “ پانچویں قسم رقاب ہے اور یہ وہ مکاتب ہیں کہ ان کا صدقہ میں حصہ ہے۔ یہی اکثر فقہاء کا قول ہے اور سعید بن جبیر ؓ ، نخعی ، زہری ، لیث بن سعد اور شافعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس مال کے غلام خرید کر آزاد کیے جائیں اور یہ حسن (رح) کا قول ہے اور امام مالک اور احمد اور اسحاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں ۔ ” والغارمین “ چھٹی قسم غارمین ہے ان کی دو قسمیں ۔ ایک قسم وہ لوگ جنہوں نے اپنی ضرورت کے لے قرض لیا ہو لیکن کسی گناہ کے کام کے لیے قرض نہ لیا ہو تو اگر ان کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ اپنا قرضہ اتار سکیں تو صدقہ میں سے ان کو دیا جائے گا ۔ لیکن اگر قرضہ ادا کرنے کا مال ہو تو ان کو نہ دیا جائے گا اور ایک قسم وہ لوگ جنہوں نے نیکی اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے قرض لیا ہو ان کو بھی صدقہ کے مال سے اتنا دیا جائے گا کہ وہ صدقہ ادا کرلیں ۔ اگرچہ یہ مالدار ہوں۔
غنی کیلئے صدقہ لینے کی اجازت کس طرح ہے۔
حضرت عطاء بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے پانچ آدمیوں کے ۔ اللہ کے راستے میں لڑنے والا 2۔ مقروض کے لیے 3۔ ایسے شخص کے لیے جو اس صدقہ کو اپنے مال سے خرید لے 4۔ یا ایسے آدمی کے لیے اس کے مسکین پڑوسی ہوں ان پر صدقہ کیا جائے تو کوئی مسکین اس غنی کو ہدیہ کر دے۔ 5۔ اس صدقہ کی وصولی کے لیے کام کرنے والے کے لیے لیکن جس نے کسی معصیت کے کام کے لیے قرضہ لیا ہو تو اس کو صدقات میں سے کچھ نہ دیا جائے گا ۔ ” وفی سبیل اللہ “ اس سے مرادمجاہدین ہیں ان کے لیے صدقہ میں حصہ ہے کہ جب وہ غزوہ کی طرف نکلنے کا ارادہ کریں گے تو ان کو صدقہ دیا جائے گا اور جہاد میں جن چیزوں کی ضرورت ہو وہ بھی دی جائیں گی جیسے سفر خرچ ، کپڑے ، ہتھیار ، سواری ۔ اگرچہ یہ مال دار ہوں اور حج کے لیے صدقہ نہ دیا جائے گا اکثر اہل علم کے نزدیک ۔ ایک قوم نے کہا ہے کہ فی سبیل اللہ کا حصہ حج کے لیے بھی خرچ کیا جاسکتا ہے۔ یہی بات ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہی حسن اور احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے۔
” وابن السبیل “ اور آٹھویں قسم ابناء السبیل کی ہے ۔ پس جو شخص مباح سفر کا ارادہ کرے اور اس کے لیے اس سفر کا کرایہ نہ ہو تو اس کو صدقہ میں سے اتنا حصہ دینا جائز ہے کہ وہ اپنا سفر کرسکے چاہے جس شہر کی طرف جا رہا ہے وہاں اس کا مال ہو یا نہ ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابن لسبیل مسافر ہے اور عراق کے فقہاء (رح) فرماتے ہیں کہ ابن السبیل سے وہ حاجی مراد ہے جو قافلہ سے پیچھے رہ گیا ہو ۔ ” فریضۃ من اللہ واللہ علیم حکیم “۔
صدقات کی تقسیم کیسے کی جائے گی
اہل علم اور فقہاء رحمہم اللہ کا صدقات کی تقسیم کی کیفیت سے اختلاف ہے اور اس بات میں اختلاف ہے کہ بعض اصناف کی طرف خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ جب تمام اصناف موجود ہوں تو سارا مال بعض پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے اور یہی عکرمہ (رح) کا قول ہے اور امام شافعی (رح) بھی اسی کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنے مال میں سے ان چھ قسموں میں سے ہر ایک پر خرچ کرے جن کا حصہ ثابت ہے برابر خرچ کرے اور علماء رحمہم اللہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ اگر سارا صدقہ ان اقسام میں سے ایک قسم یا ان میں سے کسی قسم کا ایک شخص پر خرچ کر دے تو بھی جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آٹھ قسموں کا نام لے کر یہ بتادیا کہ ان کے علاوہ کسی مصرف میں نہیں خرچ کرسکتے۔ یہ واجب نہیں کیا کہ تمام قسموں میں برابر تقسیم کرنا ہے۔ یہی حضرت عمر اور ابن عباس ؓ کا قول ہے اور سعید بن جبیر اور عطاء (رح) اسی کے قائل ہیں اور اسی کی طرف سفیان ثوری اور اصحاب رائے گئے ہیں اور اسی کے امام احمد (رح) قائل ہیں اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ ایک قسم کو دینا بھی جائز ہے لیکن مال کو سب قسموں پر تقسیم کرنا اولیٰ ہے اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ وہ حاجت مندوں کو تلاش کرے اور جو زیادہ ضرورت مند ہو وہ اولیٰ ہے۔ اگر کسی سال فقراء زیادہ ضرورت مند ہوں تو ان کو مقدم کرے اور اگر دوسرے سال دوسری قسم میں سے کوئی زیادہ ضرورت مند ہو تو ان کو مقدم کرے۔
اور جس کو صدقہ دیا جائے اس کے استحقاق سے زیادہ نہ دیا جائے ۔ فقیرکو اس کے غنا کی مقدار پر زائد نہ دیا جائے ۔ جب اس کو تھوڑاغنا حاصل ہوجائے تو پھر اس کو نہ دیاجائے۔ اگر وہ ہنر مند ہے لیکن ہنر کے اوازار نہیں ہیں تو اس کو اتنی مقدار دی جائے جس سے ہنر کے اوزار خرید سکے اور عامل کو اس کے عمل کی اجر تے سے زیادہ نہ دیا جائے اور مکاتب کو بدل کتابت سے زیادہ نہ دیا جائے اور مقروض کو اس کے قہض سے زائد نہ دیا جائے اور مجاہد کو اس کے آنے جانے اور معرکہ جنگ میں قیام اور جن ہتھیاروں اور سواری کی ضرورت ہے اتنا نفقہ دیا جائے اور مسافر کو اس کی منزل مقصود اور اپنے مال تک پہنچنے جتنا خرچ دیا جائے۔
صدقات ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوسکتے ہیں
اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف صدقہ کو منتقل کرنے میں اختلاف ہے جب اس شہر میں بھی مستحقین موجود ہوں تو اکثر اہل علم نے اس کو ناپسند کیا ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے جو ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاد ؓ کو یمن بھیجا اور فرمایا ، آپ اہل کتاب کی قوم کے پاس جا رہے ہیں ، ان کو اس بات کی گواہی کی طرف بلائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء کو دیا جائے گا ، اگر وہ اس کو مان لیا تو آپ ان کے عمدہ مال کو لینے سے بچیں اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا کیونکہ اس کی ( بد دعا) اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے تو اس حدیث نے دلالت کی ہے کہ ہر قوم کے صدقات اسی قوم کے فقراء پر خرچ کیے جائیں گے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جب صدقات ایک شہر سے دوسرے شہرمنتقل کردیئے جائیں تو فرض ادا ہوجائے گا مگر عمر بن عبد العزیز (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے زمانہ میں صدقات خراسان سے شام منتقل کیے گئے تھے تو انہوں نے واپس خراسان منتقل کردیا تھا۔
Ayah 9:61تفسیر 61۔” ومنھم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن “ یہ آیت منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کو تکلیف دیتے تھے اور نا مناسب باتیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض کہتے کہ ایسا کام نہ کرو کیونکہ ہمیں خوف کہ ان تک تمہاری باتیں پہنچ گئیں تو ہم پر کوئی مصیبت آجائے گی تو جلاس بن سوید کہنے لگا ہم جو چاہیں گے کہیں گے پھر ان کے پاس جا کر انکار کردیں گے اور قسمیں اٹھائیں گے تو وہ ہماری بات کی تصدیق کردیں گے کیونکہ محمد ﷺ اذن ہیں ۔ جب کوئی شخص جو کچھ اس کو کہا جائے اس کو سن لے اور قبول کرلے تو اس کو کہا جاتا ہے ” فلان اذن سامعہ ‘ ‘ اور بعض نے کہا اذن بمعنی کان والے ہیں یعنی ذواذن ۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے ایک شخص نبتل بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ شخص کان کٹا ہوا سرخ آنکھوں ، سیاہ رخساروں والا بد صورت تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کو شیطان کی طرف دیکھنا پسند ہو تو وہ نبتل بن حارث کی طرف دیکھ لے۔
یہ نبی کریم ﷺ کی باتیں منافقین کو جا کر بتا تا تھا ۔ اس کو کہا گیا کہ ایسا نہ کر تو کہنے لگے محمد ﷺ اذن ہیں جو ان کو کوئی بات کہے اس کی تصدیق کردیتے ہیں تو ہم چاہیں کہہ لیں ۔ پھر جب ان کے پاس آتے ہیں اور اللہ کی قسم کھالیتے ہیں تو وہ ہماری تصدیق کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” قل اذن خیر لکم “ یعنی خیر اور تمہاری بھلائی کی باتیں سنتے ہیں شر اور فساد کی باتیں نہیں سنتے۔ یہ معنی اس وقت ہے جب اذن کی خیر کی طرف مضاف کیا جائے جیسا کہ اکثر حضرات کی قرأت ہے اور اعشی اور برجمی نے ابوبکر (رح) سے دونوں کو تنوین کے ساتھ مرفوع پڑھا ہے ” اذن خیبرً “ یعنی اگر وہ تم سے سن کر تمہاری تصدیق کردیتے ہیں تو یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ تمہاری تکذیب کریں اور تمہاری بات کو قبول نہ کریں ۔ پھر ان کی بات کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یومن باللہ “ نہیں بلکہ وہ تو اللہ پر ایمان لاتے ہیں ۔ ” یومن للمومنین “ یعنی مؤمنین کی بات کی تصدیق کرتے ہیں نہ کہ منافقین کی بات کی ۔ کہا جاتا ہے امنتہ وامنت لہ یہ ( صدقۃ میں نے اس کی تصدیق کی) ورحمۃ حمزہ نے ( ورحمۃ) زیر کے ساتھ پڑھا ہے اس معنی کی بناء پر کہ ( اذن خیر لکم) و (اذن رحمۃ) اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی مواذن خیر و ھو رحمۃ للذین امنوا منکم ‘ ‘ کیونکہ یہ مؤمنین کے ایمان کا سبب ہے۔” والذین یوذون رسول اللہ لھم عذاب الیم “۔
Ayah 9:6262۔” یحلفون باللہ لکم لیرضوکم “ قتادہ اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ منافقین کے کچھ لوگ جمع ہوئے ، ان میں جلاس بن سوید اور ودیعہ بن ثابت بھی تھے تو نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر محمد ﷺ جو کہتے ہیں وہ سچ ہے تو ہم چھوٹے گدھے سے بھی برے ہیں اور ان کے پاس ایک انصاری لڑکے عامر بن قیس ؓ بھی بیٹھے تھے تو انہوں نے ان کی بھی تحقیر کی اور یہ باتیں بھی کہیں تو اس لڑکے کو غصہ آگیا اور کہا اللہ کی قسم ! محمد ﷺ جو کہتے ہیں وہ حق ہے اور تم کو چھوٹے گدھے سے بھی برے ہو۔ پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ (علیہ السلام) کو ساری بات بتائی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو بلوایا اور اچھا تو وہ مل کر قسمیں کھانیل گے کہ عامر جھوٹا ہے اور عامر ؓ نے قسم کھائی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ان کی تصدیق کردی تو حضرت عامر ؓ دعا مانگنے لگے اور کہنے لگے اے اللہ ! سچے کو سچا کر دے اور جھوٹے کو جھوٹا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ (علیہ السلام) واپس آئے تو آپ (علیہ السلام) کے پاس آ کر عذ ر کرتے اور قسمیں کھاتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ” یحلفون باللہ لکم لیرضوکم واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مومنین “۔
Ayah 9:63تفسیر 63۔” الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایک جانب میں ہوجائیں ۔ ” فان لہ نار جھنم خالدا ً فیھا ذلک الخزی العظیم “ یعنی بڑی رسوائی۔
Ayah 9:6464۔” یحذر المنفقون “ یعنی منافقین ڈرتے ہیں کہ ” ان تنزل علیھم “ یعنی مؤمنین پر ” سورة تنبھم بما فی قلوبھم “ یعنی جو حسد اور دشمنی منافقین کے دلوں میں ہے یہ باتیں وہ آپس میں کرتے تھے اور چھپاتے تھے اور اس رسوائی سے ڈرتے تھے کہ قرآن ان کی حالت نہ بیان کر دے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورت کا نام فاضحہ ( رسوا کرنے والی) مبشرہ اور مشیرہ ہے کیونکہ اس نے ان کی رسوائیاں پھیلائیں ۔ عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام بمع ولدیت قرآن میں اترے، پھر مؤمنین پر شفقت کرتے ہوئے ان کے ناموں کا ذکر منسوخ کردیا کیونکہ ان منافقین کی اولاد مؤمن تو کوئی ان کو عار نہ دلائے۔” قل استھزء وا ان اللہ مخرج “ ظاہر کرنے والا ہے ” ما تحذرون “۔
آیت کا نزول بارہ منافقین کے بارے میں ہوئی
ابن کسی ان (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت بارہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے تو یہ لوگ ایک گھاٹی میں چھپ گئے تا کہ آپ (علیہ السلام) کو قتل کرسکیں ، ان کے ساتھ ایک مسلمان بھی تھے جو اپنی حالت چھپائے ہوئے تھے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی ساری تدبیر حضور ﷺ کو بتادی اور حکم دیا کہ کوئی شخص بھیج کر ان کی سواریوں کے چہروں کو مروائیں ۔ اس وقت حضرت عمار بن یاسر ؓ آپ (علیہ السلام) کی سواری کو کھینچ رہ تھے اور حضر ت حذیفہ ؓ پیچھے سے ہانک رہے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے حضرت حذیفہ ؓ کو کہا کہ ان کی سواریوں کے چہروں کو ماریں تو انہوں نے مارا اور ان کو بھگادیا ۔ جب آپ (علیہ السلام) نے پڑائو کیا تو حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ اس قوم میں سے آپ ؓ کس کو پہچانتے تھے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کسی کو نہیں پہچانتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ فلاں اور فلاں تھے اور سب کو نام ذکر دیئے تو حضرت حذیفہ ؓ نے پوچھا کہ آپ ان کو قتل کیوں نہیں کرا دیتے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ عرب کہیں کہ جب محمد ﷺ اور ان کے ساتھی کامیاب ہوئے تو ان کو قتل کرنا شروع ہوگئے بلکہ ہمیں اللہ ان کی طرف سے کافی ہے دبیلہ ( پھوڑے کے ساتھ) ۔
قیس بن عبادہ (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمار ؓ کو کہا کہ کیا تمہارا قتال اپنی رائے ہے ؟ کیونکہ رائے تو غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی یا کوئی وصیت ہے جو نبی کریم ﷺ نے تم کو کی ہو ؟ تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا کہ ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نے کوئی ایسی وصیت نہیں کی جو تمام لوگوں کی طرف نہ کی ہو اور فرمایا کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک میری امت میں ۔ شعبہ (رح) فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ مجھے حذیفہ ؓ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور اس کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ کو پھوڑا جو کافی ہوگیا جو ان کے کندھوں میں ظاہرہوا تھا یہاں تک کہ ان کے سینوں تک پہنچ گیا ۔
Ayah 9:6565
اس آیت کا نزول تین منافقین کے متعلق ہوا
کلبی ، مقاتل اور قتادہ رحمہم اللہ نے آیت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے سفر میں تھے تو آپ کے آگے تین منافق چل رہے تھے ، دو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے اور تیسرا ہنس رہا تھا، بعض نے کہا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ کا خیال ہے کہ وہ روم پر غالب آجائیں گے اور انکے شہر فتح کرلیں گے ، کتنی عجیب بات ہے۔ اور بعض نے کہاوہ یہ کہتے جا رہے تھے کہ محمد ﷺ کا خیال ہے کہ ہمارے ان ساتھیوں کے بارے میں جو مدینہ میں ہیں قرآن نازل ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر اپنے نبی ﷺ کو مطلع کردیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اپنی سواریوں پر رک جائو اور ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تم نے یہ بات کی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ ہم تو گپ شپ کر رہے تھے جیسے مسافر سفر طے کرنے کے لیے کرتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی کو دیکھا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کے آگے دوڑتا آ رہا ہے اور پتھر اس کو زخمی کر رہے ہیں اور کہتا آ رہا تھا ہم تو صرف گپ شپ کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اس کو فرما رہے تھے کہ کیا اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ تم استہزاد کرتے ہو اور اس کی طرف متوجہ نہ ہو رہے تھے اور اس پر کوئی بات زیادہ نہ کر رہے تھے۔ ” قل “ یعنی اے محمد منافقین کو کہہ دیں ” قل ابا للہ وایتہ “ اس کی کتاب ” ورسولہ کنتم تستھزون “۔
Ayah 9:6666 ۔” لا تعتدروا ا قد کفر تم بعد ایمانکم “ اگر یہ اعتراض ہو کہ وہ تو پہلے سے ہی مومن نہ تھے۔ پھر ان کو یہ کیسے کہا کہا ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو ؟ تو جواب یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کو ظاہر کرنے کے بعد کفر کو ظاہر کیا ہے ” ان نعف عن طائفۃ منکم ‘ ‘ یہاں طائفہ سے ایک شخص مراد ہے۔” نعذب طائفۃ بانھم کانوا مجرمین “ استہزاء کی وجہ سے اور عاصم نے ( نعف) نون اور اس کے زبر اور فاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ (نعذب) نون کے ساتھ اور دال کی زیر پر ( طائفہ) کے زبر اور دیگر حضرات نے (یعف) یاء اور اس کے پیش اور فاء کے زبر کے ساتھ ( تعذب) تاء اور ذال کے زبر کے ساتھ ( صائفۃ) مرفع نائب فاعل ہونے کی بناء پر پڑھا ہے۔ محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص مخشی بن حمید اشجعی کی تو قبول کی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ یہ شخص ہنستا تھا لیکن ان کی گفتگو میں حصہ نہ لیتا تھا اور ان کے ایک طرف ہو کر چل رہا تھا اور ان کی بعض باتوں کا انکار بھی کیا تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے اپنے نفاق سے توبہ کرلی اور کہا اے اللہ ! میں ہمیشہ ایک ایسی آیت سنتا جو مجھ پر پڑھی جاتی تھی اس سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے اور دل کمزور ہوجاتے۔ اے اللہ ! تو وفات اپنے راستے میں شہادت کے ساتھ کر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے اس کو غسل دیا ، میں نے اس کو کفن دیا ، میں نے اس کو دفن کیا ۔ تو یہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ اس جنگ میں شہید ہر شخص کو لاش ملی سوائے ان کے۔
Ayah 9:6767۔” المنفقون والمفقت بعضھم من بعض “ یعنی وہ ایک دین پر ہیں ، اور بعض نے کہا کہ نفاق پر جمع ہونے میں ان کا معاملہ ہے۔ ” یامرون بالمنکر “ مشرک اور معصیت کا حکم دیتے۔” وینھون عن المعروف “ یعنی ایمان اور اطاعت سے روکتے۔
” ویقبضون ایدیھم “ یعنی اپنے ہاتھوں کو صدقہ اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں اور خیر کے کام میں ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ” نسوء اللہ قنسیھم “ انہوں نے اللہ کی اطاعت چھوڑی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دینا اور دنیامیں ہدایت دینا چھوڑ دیا اور آخرت میں ان پر رحمت کرنا چھوڑ دیا اور ان کو اپنے عذاب میں چھوڑ دیا ۔” ان المنفقین ھم الفسقون “
Ayah 9:68تفسیر 68۔” وعد اللہ المفقین والمفقت والکفار نار جھنم خلدین فیھاھی حسبھم “ ان کو کافی ہے ان کے کفر میں جزاء ” ولعنھم اللہ “ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ” ولھم عذاب مقیم “ اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔
Ayah 9:6969۔” کالذین من قبلکم “ یعنی تم نے اللہ کے حکم سے پھرنے میں وہی کام کیا جو تم سے پہلوں نے کیا تو تم پر ان کی طرح لعنت کی گئی ۔ ” کانوا اشد منکم قوۃ “ یکڑ اور روکن میں ” و اکثر اموالا واولاد فاستمعتوا بخلاقھم “ یعنی ان کے شہوات کی پیروی کر کے اپنے دنیا کے حصہ کے ساتھ نفع اٹھا لیا اور اس کو آخرت کا بدلہ سمجھ کر راضی ہوگئے۔” فاستمعتم بخلاقکم “ اے کفار اور منافقین ” کما استمتع الذین من قبلکم بخلاقھم “ اور تم ان کا راستہ چلو ہو۔” وخضتم “ باطل میں اور اللہ پر جھوٹ بولنے میں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے اور مؤمنین سے استہزاء کرنے میں۔ ” کالذی خاضوا “ یعنی جیسے وہ گھسے اور بعض نے کہا ہے کالذی یعنی کالذین خاضوا یہ اس وجہ سے کہ الذی اسم ناقص ہے ( ما اور رمن) کی طرح اس کے ذریعے واحد اور جمع کی تعبیر کیا جاتا ہے اس کی نظیر باری تعالیٰ کا قول ( کمثل الذی اس تو قد نارا) پھر فرمایا ( ذھب اللہ بنورھم) ۔۔۔۔۔ ” اولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ واولئک ھم الخسرون “ یعنی جیسے ان کے اعمال ضائع ہوئے اور وہ خسارہ میں پڑے اسی طرح تمہارے اعمال ضائع ہوگئے اور تم خسارہ میں ہو گے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں کے طریقے کا اتباع کرو گے بالشت بالشت کے ساتھ اور گزگز کے ساتھ حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم ان کا اتباع کروگے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ یہود و نصاری ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا پس اور کون ؟ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ نہیں ہیں لوگ مگر وہی ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تم امتوں میں بنی اسرائیل کے زیادہ مشابہ ہو طریقہ اور سیرت میں ، تم ان کے اعمال کی پیروی کرو گے مگر میں یہ نہیں جانتا کہ تم بچھڑے کی عبادت بھی کرو گے یا نہیں ؟
Ayah 9:70تفسیر 70۔” الم یاتھم “ یعنی منافقین ” نبا خیر الذین من قبلھم “ جب انہوں نے ہمارے رسولوں کی مخالفت اور ہماری مخالفت کی کیسے ہم نے ان کو عذاب دیا اور ان کو ہلاک کردیا۔ پھر فرمایا کہ ” قوم نوح “ طوفان کے ذریعے ہلاک کیے گئے ” وعاد “ ہوا کے ذریعے ہلاک کیے گئے ۔ ” وثمود “ زلزلہ کے ذریعے ” وقوم ابراہیم “ نعمت کو سلب کرنے اور نمرود کو ہلاک کرنے کے ساتھ ۔ ” واصحاب مدین “ یعنی شعیب (علیہ السلام) کی قوم سائبان کے دن کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔” والمؤتفکات “ پلٹی ہوئی بستی ہم نے جس کا نچلا حصہ اوپر کردیا اور یہ لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی بستیاں تھیں ۔ ” اتنھم رسلھم بالبینات “ انہوں نے ان کی تکذیب کی اور ان کی نافرمانی کی جیسے تم نے کیا اے کفار کی جماعت ! تو عذاب کے جلد آنے سے ڈرو۔ ” فما کان اللہ لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون “۔
Ayah 9:7171۔” والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض “ دین میں اور کلمہ اور مدد و نصرت ایک ہونے میں ۔ ” یامرون بالمعروف “ ایمان ، طاقت اور خیر کا ” وینھون عن المنکر “ شرک اور معصیت اور اس کام سے جو شریعت میں معروف نہ ہو۔
Ayah 9:7272۔” وعد اللہ المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا و مساکین طیبۃ “ پاکیزہ رہائش گاہیں ۔ فی جنات عدن “ یعنی ہمیشگی کے باغات کہا جاتا ہے ” عدن بالمکان “ جب وہ اس میں رہائش پذیر ہو ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جنت کا وسط ہیں ۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہا جاتا ہے اس کے ارد گرد ستو ن ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ، اس میں صرف نبی یا صدیق یا شہید داخل ہوں گے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ سونے کا محل ہے اس میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل حکمران داخل ہوں گے۔ عطاء بن سائب (رح) فرماتے ہیں کہ عدن جنت میں ایک نہر ہے اس کے دونوں کناروں پر باغات ہیں۔
مقاتل اور کلبی نے کہا عدن جنت کے اندر ایک بہت اونچا درجہ ہے اس میں تسنیم کا چشمہ ہے اس درجہ کے ارد گرد گھنے درخت ہیں جن سے ابتدائے آفرینش سے وہ گرا ہوا اور ڈھانپا ہوا ہے اور اس وقت تک چھپا رہے گا کہ اس میں انبیاء صدیق شہید ، صالح الاعمال اور وہ لوگ داخل ہوں گے جن کا داخلہ اللہ کی مشیت میں ہے عدن موتی یاقوت اور سونے کے محل ہیں ۔ عرش کے نیچے سے ایک پاکیزہ خوشبودار ہوا چلے گی اور اہل عدن کے پاس ڈھیروں سفید مشک لے کر آئے گی۔
” ورضوان من اللہ اکبر “ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان نعمتوں سے بڑی جن میں وہ ہوں گے ۔” ذلک ھو الفوز العظیم “
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو فرمائیں گے اے اہل جنت کیا تم راضی ہو ؟ تو وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم کیوں نہ راضی ہوں گے حالانکہ آپ نے ہمیں وہ نعمتیں دی ہیں جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں تو حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا میں تمہیں اس سے افضل نہ دوں ؟ تو وہ عرش کریں گے اے ہمارے رب ! کون سی چیز اس سے افضل ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے تم پر اپنی رضا مندی اتاری ، اب میں تم پر اس کے بعد ہمیشہ ناراض نہ ہوں گا۔
Ayah 9:73تفسیر 73۔” یایھا النبی جاھد الکفار “ تلوار اور قتل کے ساتھ ” والمنفقین “ منافقین سے جہاد کے طریقے میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اگر طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کے ساتھ اور اگر طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ساتھ اور فرماتے ہیں کہ منافقین کو سخت چہرے کے ساتھ ملو ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زبان کے ساتھ اور نرمی چھوڑ کر اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سخت گفتگو کر کے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر حدود قائم کر کے۔” واغلظ علیھم وما وھم “ آخرت میں ’ ’ جھنم وبئس المصیر “ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت نے عفو و در گزر کی تمام آیات کو منسوخ کردیا ہے۔
Ayah 9:74آیت یحلفون باللہ کی تفسیر
74۔” یحلفون باللہ ماقالوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجرہ کے سائے میں تشریف فرما تھے تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا بیشک عنقریب تمہارے پاس ایک ایسا انسان آئے گا جو تمہاری طرف شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا ۔ جب وہ آئے تو تم اس سے کلام نہ کرنا ۔ تھوڑا وقت نہ گزرا تھا کہ ایک نیلی آنکھوں والا شخص آیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو پکارا اور فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہو ؟ تو وہ آدمی گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلایا اور ان سب نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت جلاس کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ایک دن تبوک میں خطبہ دیا اور منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کو ” رجس “ (گندگی) قرار دیا اور ان کا عیب بیان کیا تو جلاس بن سوید نے کہا اگر محمد (ﷺ) سچ کہہ رہے ہیں تو ہم جھوٹے گدھے سے بھی بدتر ہوئے۔ تو یہ بات عامر بن قیس ؓ نے سن لی تو آپ (علیہ السلام) کو جلاس کی بات کی خبر دی تو جلاس نے کہا یا رسول اللہ ! اس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ منبر کے پاس قسم اٹھائیں تو عصر کے بعد جلاس نے منبر کے پاس کھڑے ہو کر قسم اٹھائی کہ ا س اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میں نے یہ بات نہیں کہی ۔ عامر ؓ نے مجھ پر جھوٹ کہا ہے پھر عامر ؓ کھڑے ہوئے اور کہا اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس نے یہ بات کہی ہے اور میں نے اس پر جھوٹ نہیں کہا ، پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا ، اے اللہ ! ہم میں سے سچے کی تصدیق اپنے نبی پر اتاردیں تو رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین نے آمین کہا تو ان حضرات کے متفرق ہونے سے پہلے جبرئیل (علیہ السلام) آسمان سے یہ آیت لے کر اترے یہاں تک کہ اس پر پہنچے اور پھر کلبی (رح) نے وہی واقعہ بیان کیا جو جلاس اور انصاری لڑکے عامر بن قیس ؓ کا ما قبل میں چندصفحے پہلے گزر چکا ہے۔ ” فان یتوبوا یک خیرا لھم “ تو جلاس کھڑا ہوا کہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ میں نے اللہ تعالیٰ کی بات سنی کہ مجھ پر توبہ پیش کی ۔ عامر بن قیس ؓ نے سچ کہا میں نے یہ بد گوئی کی تھی میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی یہ بات قبول کرلی اور ان کی توبہ بہت اچھی رہی۔
ولقد قالوا کملۃ الکفر و کفروا بعد اسلامھم یعنی اسلام اور ایمان کو ظاہر کرنے کے بعد کفر کو ظاہر کیا اور بعض نے کہا نبی کریم ﷺ کو برا بھلا کہنا مراد ہے اور بعض نے کہا کہ کفر کا کلمہ ۔ جلاس کا یہ کہنا ہے کہ اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم گدھے سے بھی برے ہیں اور بعض نے کہا کفر کا کلمہ ان کا یہ قول ہے ” لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل “ اور یہ قصہ مکمل تفصیل سے سورة منافقون میں آئے گا ۔” وھموا بما لم ینالوا “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جس مسلمان نے ان کا یہ قول سنا ” کہ ہم گدھے سے زیادہ برے ہیں “ تو اس کے قتل کا ارادہ کیا تا کہ وہ ان کا راز نہ پھیلا دے اور بعض نے کہا کہ یہ وہ بارہ منافق مراد ہیں جو تبوک کے راستے میں گھاٹی پر ٹھہرے تھے تا کہ نبی کریم ﷺ کو قتل کرسکیں تو جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر حکم دیا کہ ان کی سواریوں کے چہروں کو مروائیں تو آپ (علیہ السلام) نے حضرت حذیفہ ؓ کو بھیجا تھا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اب منافقین نے کہا تھا کہ جب ہم مدینہ آئیں گے تو عبد اللہ بن ابی کے سر پر تاج رکھیں گے تو وہ اس مقصد تک نہ پہنچ سکے۔” وما نقموا “ اور ان نے ناپسند کیا اور نہ اس کا انکار کیا ہے الا ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ اس کی صورت یہ بنی کہ جلاس ؓ کا آزاد کردہ غلام قتل کردیا گیا تو حضور ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم دینے کا حکم دیا تو حضرت جلاس مال دار ہوگئے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے ان کی معیشت تنگ تھی جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ غنیمتوں کے ذریعے مال دار ہوگئے۔ ’ ’ فان یبربوا “ اپنے نفاق اور کفر سے ” یک خیرا لھم وان یتولوا “ ایمان سے اعراض کریں۔” یعذبھم اللہ عذابا ً الیما فی الدنیا والاخرۃ “ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں آگ ۔ ” وما لھم فی الارض من ولی ولا نصیر “۔
Ayah 9:75ثعلبہ بن حاطب کا مال کیلئے آپ ﷺ سے دعا کروانا اور قبولیت دعا کا اثر
تفسیر 75۔” ومنھم من عھد اللہ لئن اثنا من فضلہ لنصدقین “ ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال دے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر کرے اس زیادہ سے بہتر ہے جس کی تو طاقت نہ رکھتا ہو ۔ پھر وہ اس کے بعد آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے مال دے تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تیرے لیے رسول اللہ ﷺ کے طرز میں اچھا طریقہ نہیں ہے ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں ارادہ کروں کہ میرے ساتھ پہاڑ سونے اور چاندی کے ہو کر چلیں تو ضرور چلیں گے ۔ پھر وہ اس کے بعد آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال دے، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (علیہ السلام) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق دوں گا تو رسول اللہ ﷺ نے کہا اے اللہ ! ثعلبہ کو مال دے۔ کہا ( ابو امامہ ؓ سے) کہ پھر اس نے ایک بکری لی وہ ایسے بڑھنیل گی جیسے کیڑے بڑھتے ہیں تو اس پر مدینہ تنگ ہوگیا تو وہ مدینہ سے نگل گیا اور مدینہ کی وادیوں میں سے ایک میں پڑائو ڈالا اور اس کی بکریاں کیڑوں کی طرح بڑھتی جا رہی تھیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازپڑھتا اور باقی نمازیں اپنی بکریوں میں پڑھتا۔ پھر بکریاں اور یاد ہوگئیں تو مدینہ سے اتنا دور ہوگیا کہ صرف جمعہ نماز میں حاضر ہوتا۔
پھر بکریاں اور زیادہ ہوئیں تو اور بھی دورہو گیا ۔ یہاں تک کہ نہ جمعہ میں آتا اور نہ جماعت میں ۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تو وہ لوگوں کو ملتا اور خبریں معلوم کرتا ۔ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے پوچھا ثعلبہ نے کیا کیا ؟ تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ثعلبہ نے اتنی بکریاں بنالیں کہ ایک وادی میں سماتی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اے ثعلبہ کا افسوس ! اے ثعلبہ کا افسوس ! اے ثعلبہ کا افسوس۔
ثعلبہ کا زکوٰۃ دینے سے انکار کرنا
اللہ تعالیٰ نے صدقات کی آیت نازل کی تو نبی کریم ﷺ نے بنو سلیم کے ایک شخص اور جہینہ کے شخص کو بھیجا اور ان دونوں کو صدقہ کی عمریں اور لینے کا طریقہ لکھوا دیا ۔ پھر فرمایا کہ ثعلبہ بن حاطب اور بنو سلیم کے ایک شخص کے پاس جانا اور ان دونوں سے ان کے صدقات وصول کرنا تو وہ دونوں ثعلبہ کے پاس گئے اس سے صدقہ مانگا اور رسول اللہ ﷺ کا لکھوایا ہوا پڑھ کر سنایا تو ثعلبہ کہنے لگا یہ توجزیہ ہے ، یہ تو جزیہ کی بہن (اس کی مثل) ہے ۔ تم آگے چلے جائو ، جب صدقہ لے کر فارغ ہو جائو تو میری طرف لوٹ آنا ۔ یہ وہاں سے گئے جب سلمی صحابی ؓ کے پاس پہنچے تو ان کے اپنے اونٹوں میں سے بہترین صدقہ کے لیے الگ کر رکھے تھے۔ پھر ان دونوں کا استقبال کیا ۔ جب ان دونوں نے یہ عمدہ جانور دیکھے تو کہا کہ یہ آپ پر لازم نہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ لے جائو میرا دل اس پر خوش ہے تو وہ دونوں اسی طرح دوسرے لوگوں کے پاس گئے اور صدقہ وصول کیا۔ پھر ثعلبہ کے پاس گئے تو اس نے کہا مجھے وہ تحریر دکھائو ، اس کو پڑھا اور کہا یہ تو جزیہ کی مثل ہے تو چلے جائو تا کہ میں سوچ لوں۔ تو وہ دونوں واپس آگئے۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کی گفتگو کرنے سے پہلے فرمایا ’ ’ یا ویح ثعلبہ۔۔۔۔ باویج ثعلبہ “ پھر مسلمانوں کے لیے خیر کی دعا کی تو ان دونوں نے ثعلبہ کی کار گزاری سنائی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
Ayah 9:76ثعلبہ کے بارے میں آیت کا نزول
تفسیر :۔” ومنھم من عاھد اللہ لئن اتنا من فضلہ۔۔۔۔۔۔۔ وبما کانوا یکذبون “ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے کوئی بیٹھا تھا۔ اس نے یہ بات سنی تو ثعلبہ کے پاس گیا اور کہا ” ویحک یا لعلبۃ “ تیرا ناس ہوا اے ثعلبہ ! اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے تو ثعلبہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ آپ (علیہ السلام) اس کا صدقہ قبول کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع کردیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تیرا اپنا عمل ہے میں نے تجھے حکم دیا تھا تو نے میری اطاعت نہ کی ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کا صدقہ قبول کرنے سے انکار کردیا تو وہ اپنے گھر آگیا اور آپ (علیہ السلام) دنیا سے تشریف لے گئے۔ پھر وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میرا صدقہ قبول کرلیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تجھ سے قبو ل نہ کیا میں بھی قبول نہ کروں گا ۔ پھر حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قبول نہ کیا میں بھی قبول نہ کروں گا ۔ پھر حضرت عثمان غنی ؓ کے پاس آیا ، انہوں نے بھی قبول نہ کیا تو ثعلبہ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں مرگیا ۔
ابن عباس ، سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ثعلبہ انصار کی ایک مجلس میں آیا اور ان کو گواہ بنایا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کچھ دے تو میں اس میں سے ہر حق والے کو دوں گا اور اس سے صدقہ کروں گا اور صلہ رحمی کروں گا اور قریبی رشتہ داروں پر احسان کروں گا تو اس کا چچا زاد بھائی مرگیا تو وہ وراثت میں اس کو مال ملا تو اپنے وعدہ کو پورا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حسن اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب اور معتب بن قشیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ دونوں بنو عمرو بن عوف کے تھے۔ یہ ایک مجلس میں گئے جہاں چند لوگ بیٹھے تھے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! اگر ہمیں اللہ تعالیٰ مال دیں تو ہم اس میں سے صدقہ کریں ، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مال دیا تو اس پر بخل کرنے لگے۔” ومنھم “ یعنی منافقین میں سے ” من عامد اللہ لئن اثانا من فضلہ لنصدقین “ اور ہم اس میں سے اللہ کا حق ادا کریں گے۔” ولنکونن من الصالحین “ ہم نیک لوگوں والے کام کریں گے صلہ رحمی اور اچھے کاموں میں خرچ کرنا وغیرہ۔
Ayah 9:77تفسیر 77۔” فاعقبھم “ ان کے پیچھے لایا نفاقاً فی قلوبھم “ یعنی ان کے معاملہ کا انجام نفاق کردیا ۔ کہا جاتا ہے اعقب فلہ تاندامۃ جب اس کے کام کا انجام یہ ہو اور بعض نے کہا ہے انکا انجام ان کے دلوں کا نفاف کردیا ۔ عاقبۃ اور اعقبۃ ایک معنی میں ہیں ” الی یوم یلقونہ “ یعنی قیامت تک ان پر توبہ حرام کردی ۔ ” بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
Ayah 9:7878۔” الم یعلموا ان اللہ یعلم سرھم ونجوھم “ یعنی جو اپنے دل میں چھپا یا ہوا ہے اور جو آپس میں سر گوشی کرتے ہیں۔” وان اللہ غلام الغیوب “۔
Ayah 9:7979۔” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مئومنین کو صدقہ کی ترغیب دی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار درہم لائے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) میرا مال آٹھ ہزار تھا میں آپ (علیہ السلام) کے پاس چار ہزار لایا ہوں ‘ آپ اس کو اللہ کے راستے میں بھی برکت دے جو تو نے دیا اور اس میں بھی جو تو نے روک لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں اتنی برکت دی جس دن ان کی وفات ہوئی تو دو ان کی بیویاں تھیں ان کے مال کا آٹھواں حصہ ان دونوں کے لیے ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم بنا۔
اور اس دن عاصم بن عدی عجلانی ؓ نے کھجور کے ایک سود سق صدقہ کیے اور ابو عقیل انصاری ؓ آئے ‘ ان کا نام کی مزدور کی ‘ مجھے دو صاع کھجور کے ملے تو میں نے ایک اپنے گھر والوں کے لیے رکھ لیا اور آپ (علیہ السلام) کے لیے دوسرا لے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو صدقہ میں بکھیر دیا جائے تو منافقین نے ان حضرات میں عیب نکالنے شروع کیے کہ عبدالرحمن اور عاصم نے تو ریاکاری کرتے ہوئے مال دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ ابو عقیل کے ایک صاع سے مستغنی ہیں لیکن ان کا مقصد یہ ہے صدقہ دینے والوں میں ان کا بھی تذکرہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔” الذین یلمزون “ عیب نکالتے ہیں۔” المطو عین من المئومنین فی الصدقات “ یعنی عبدالرحمن بن عوف اور عاصم ؓ ”۔۔۔ “ یعنی ابو عقیل ؓ اور جہد بمعنی طاقت ہے۔ پیشی کے ساتھ قریش اور اہل حجاز کی لغت میں اور اعرج نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں کہ ” جھد ‘ پیش کے ساتھ طاقت اور زبر کے کے ساتھ مشقت۔” فیسخرون منھم ان سے استہزاء کرتے ہیں سخرا للہ منھم یعنی ان کو اللہ تعالیٰ بدلہ دیں گے استہزاء کا ولھم عذاب الیم “
Ayah 9:80تفسیر : 80” استغفر لھم اولا تستغفرلھم “ الفاظ اگر چہ امر کے ہیں لیکن معنی خبر کا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کے لیے استغفار کیا ہو یا نہ کیا ہو ” ان تستغفر لھم سبعین مر ۃ فلن یغفر اللہ لھم “ ستر کے عدد کا ذکر مبالغہ کے لیے ہے کہ ان کی مغفرت سے نا امیدی ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رخصت دی ہے۔ پس میں ستر سے زائد کروں گا۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ ” سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ذلک بانھم کفروا باللہ ورسولہ واللہ لا یھدی القوم الفسقین “
Ayah 9:8181:” فرح المخلفون “ غزوہ تبوک سے اور مخلف بمعنی پیچھے چھوڑا ہوا شخص ” بمقعد ھم “ یعنی ان کے بیٹھنے کی وجہ سے ” خلف رسول اللہ “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد اور بعض نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے کہ آپ (علیہ السلام) تو تشریف لے گئے اور یہ گھروں پر رہ گئے۔” وکرھوآ ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ وقالو ا لا تنفروا فی الحر “ اور غزوہ تبوک سخت گرمی میں تھا۔” قل نار جھنم اشد حرا لو کانوا یفقھون “ یعلمون یعنی جانتے اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں اسی طرح ہے۔
Ayah 9:8282:” فلیضحکوا قلیلا “ دنیا میں ” ولیبکوا کثیرا “ آخرت میں۔ تقدیر عبارت یہ ہے ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا “ ‘۔۔۔۔” جزآء مما کا نوا یکسبون “
موسیٰ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تھوڑ ا ہنسو اور زیادہ روئو۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم رویا کرو ‘ اگر رونے کی طاقت نہیں رکھتے تو رونے کی صورت بنا لو کیونکہ جہنم والے جہنم میں اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسو ان کے چہرے پر اتنے بہیں گے کہ گویا وہ چھوٹے نالے ہیں۔ پھر آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون کے آنسو بہیں گے۔ اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو چل پڑیں۔
Ayah 9:83تفسیر :83” فان رجعک اللہ “ یعنی اے محمد ﷺ آپ کو غزوہ تبوک سے واپس کردیں۔” الی طائفۃ منھم “ پیچھے رہ جانے والوں کی ایک جماعت کی طرف کیونکہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تمام لوگ منافق نہ تھے “ فاستاذنوک للخروج “ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ دوسرے غزوہ میں ” فقل لن تخرجوا معی ابدا “ سفر میں۔” ولن تقاتلوا معی عدوا انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ فاقعدوا مع الخلفین “ یعنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ اور بعض نے کہا مریضوں اور اپاہجوں کے ساتھ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ جو بغیر عذر کے پیچھے رہ گئے۔ اور کہا گیا ہے کہ خالفین کے ساتھ قراء فرماتے ہیں صاحب خالف اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی مخالف ہو۔