Ayah 9:2525۔” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ و یوء حنین “ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ذی المجاز کے پہلو میں جگہ ہے ۔ حنین کا واقعہ راویوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور رمضان کے کچھ دن باقی تھے۔ پھر حنین کی طرف کوچ کیا قبیلہ ھوازن اور ثقیف سے لڑائی کے لیے بارہ ہزا ر کے لشکر کے ساتھ دس ہزار مہاجرین اور انصار تھے اور دو ہزار وہ لوگ جو مکہ سے آزاد کیے گئے تھے ( نو مسلم) عطاء فرماتے ہیں کہ سولہ ہزار کا لشکر تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ دس ہزار تھے اور اس غزوہ میں مسلمانوں کی تعداد ہر غزوہ سے زیادہ تھی پہلے کبھی اتنی تعداد نہ ہوئی تھی۔
اور ہوازن اور ثقیف کے مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی ہوازن کا سردار مالک بن عوف نصری اور ثقیف کا سردار کنانہ بن عبدیا لیل ثقفی تھا۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو ایک انصاری صحابی سلمہ بن وقشی ؓ نے کہا آج ہم اپنی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہہوں گے تو نبی کریم ﷺ کو ان کی بات ناگوار گزری اور ایک آدمی کے قول کی وجہ سے معاملہ ان کے سپرد کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی مدداٹھائی گئی اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو اس کا قول پسند نہ آیا اور معاملہ انہی کی طرف سپرد کردیا تو بڑے زور کی لڑائی ہوئی تو مشرکین کو شکست ہوئی ۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی کہ تم رسوائی کو یاد کرو تو وہ واپس پلٹے اور مسلمان تتر بتر ہوگئے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ فتح مکہ کے دن اسلام لانے والے لوگ اس دن لوگوں کے ساتھ گئے جب انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے۔
ابو اسحاق (رح) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے براء بن عازب ؓ کو کہ اے ابو عمار ! آپ لوگ حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے فرمایا نہیں ، اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری لیکن آپ (علیہ السلام) کے صحابہ میں سے چند نوجوان بغیر ہتھیاروں کے لشکر کے ساتھ چل پڑے ، ان کے پاس تھوڑا بہت ہتھیار تھا تو ان کا مقابلہ ایسی تیر انداز قوم سے ہوا ان کا کوئی تیر زمین پر نہ گرتا تھا۔ ہوازن اور بنو نصر نے مل کر خوب تیر اندازی کی ، ان کا نشانہ خطا نہ ہوتا تھا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار ہو کر آگے بڑھے۔ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب اس خچر کو کھینچ رہے تھے تو آپ نیچے اترے اور مدد طلب کی اور فرمایا میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں پھر صحابہ کرام ؓ کی صفیں ترتیب دیں۔
اسی روایت کو اسرائیل نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے۔ اسی میں یہ اضافہ ہے کہ اس دن آپ (علیہ السلام) سے بڑا بہادر کوئی نہیں دیکھا گیا ۔ اس بات کو زکریا نے بھی ابو اسحاق سے روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ براء ؓ فرماتے ہیں کہ جب جنگ خوب تیز ہوجاتی تو ہم آپ کے ذریعے اپنا بچائو کرتے اور ہم میں بہادر وہ شخص ہوتا جو آپ (علیہ السلام) کے برابر ہوتا ۔ اس وقت شعبہ نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ براء ؓ فرماتے ہیں کہ ہوازن بڑی تیر انداز قوم تھی۔ جب ہمارا ٹکرائو ہوا تو ہم نے ان پر ایسا حملہ کیا کہ وہ پسپا ہوگئے تو مسلمان غنیمت کی طرف متوجہ ہوگئے تو انہوں نے تیروں سے ہمارا استقبال کیا ۔ بہر حال رسول اللہ ﷺ بالکل پیچھے نہیں ہٹے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارد گرد تین سو لوگ بچے ، باقی لوگ ادھر ادھر ہوگئے اور دیگر حضرات نے کہا کہ اس دن آپ (علیہ السلام) کے ساتھ صرف حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ اور ابو سفیان بن حارث ؓ اور ایمن بن ام ایمن ؓ تھے۔
کثیر بن عباس بن عبد المطلب سے روایت ہے کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن حاضر تھا تو میں اور ابو سفیان بن حارث ؓ حضور ﷺ کے ساتھ رہے بالکل جدا نہیں ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ اس دن اسی سفید خچر پر تھے جو آپ (علیہ السلام) کو فروۃ بن نفاثۃ جذامی نے ہدیہ کیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کو ٹکرائو ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے خچر کو کفار کی جانب ایڑھ لگانے لگے اور میں نے آپ (علیہ السلام) کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی میں اس کو روک رہا تھا کہ کہیں وہ بھاگ نہ پڑے اور ابو سفیان نے خچر کی رکاب پکڑی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس ! آواز لگائوسمرۃ والوں کو ، حضرت عباس ؓ کی آواز بہت بلند تھی تو حضرت عباس ؓ نے بلند آواز سے آواز لگائی کہ اصحاب سمرہ کہاں ہیں ؟ تو اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو ایسے پلٹے جیسے گائے اپنے بچھڑے کی طرف تیزی سے دوڑتی ہے اور کہنے لگے لبیک لبیک تو انہوں نے کفار کے ساتھ لڑائی کی اور انہوں نے انصار کو پکارا ، اے انصار کی جماعت ! اے انصار کی جماعت ! تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر پر بیٹھے ان کی لڑائی دیکھی اور چند کنکریاں لے کر ان کی طرف پھینکیں اور پھر وہ شکست کھائیں گے محمد ﷺ کے رب کی قسم ! تو میں بھی دیکھنے لگا کہ اب لڑائی خوب جاری ہے۔
سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین کیا ۔ جب ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ (علیہ السلام) خچر سے اترے اور مٹی کی ایک مٹھی لیکر ان کے چہروں کی طرف پھینکی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کی آنکھوں کو اس ایک مٹھی سے بھر دیا تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی تو نبی کریم ﷺ نے ان کی غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کی ۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کی ۔ روایت میں ہے کہ بنو نضر کے ایک آدمی شجرہ نے لڑائی کے بعد مؤمنین کو کہا چتکبرے گھوڑے اور وہ مرد کہاں ہیں جن پر سفید کپڑے تھے ؟ ہم تو ان کے ہاتھوں مارے گئے ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو دی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے۔ زہر ی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ شیبہ بن عثمان بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سے آیا کہ آپ کو قتل کر دوں طلحہ بن عثمان اور عثمان بن طلحہ کے بدلے جو احد کے دن مارے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے اس ارادہ پر رسول اللہ ﷺ کو مطلع کردیا تو آپ (علیہ السلام) میری طرف متوجہ ہوئے اور میرے سینے پر ہاتھ مار کر کہا اے شیبہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں تو میرے پٹھے کانپنے لگے تو میں نے آپ (علیہ السلام) کو دیکھا تو آپ (علیہ السلام) مجھے اپنے کان و آنکھ سے زیادہ محبوب ہوگئے تو میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ (علیہ السلام) کو میرے دل کے ارادے پر مطلع کیا ہے۔
جب مشرکین شکست کھا کر بھاگے تو سیدھے اوطاس گئے واں ان کے اہل و عیال اور مال تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شعری صحابی ؓ کو جن کو ابو عامر کہا جاتا تھا مسلمانوں کے لشکر کا امیر بنا کر اوطاس روانہ کیا اور بعض نے کہا درید بن اصمہ کو امیر بنایا تو مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی اور مسلمانوں نے ان کے عیال کو قیدی بنا لیا اور ان کا امیر مالک بن عوف نضری بھاگ کر طائف چلا گیا اور وہاں پناہ لی اور مال و اولاد بھی بطور غنیمت لے لیا گیا اور مسلمانوں کے امیر ابو عامر غزوہ اوطاس میں شہید ہوگئے۔ زہر ی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب (رح) نے مجھے خبر دی کہ اس دن چھ ہزار لوگ قیدی ہوئے ، پھر رسول اللہ ﷺ طائف تشریف لائے اور باقی مہینہ ان کا محاصرہ کیا ۔ جب ذوالقعدہ شروع ہوا تو یہ حرام مہینہ تھا اس لیے آپ (علیہ السلام) ان سے روانہ ہوگئے اور جعرانہ تشریف لائے اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور اوطاس اور حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور کوئی لوگوں کو تالیف قلب کے لیے مال دیا جیسے ابو سفیان بن حرب حارث بن ہشام ، سہیل بن عمرو اور اقرع بن جابس۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ہوازن کے مال میں سے قریش کو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے چندلوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی مغفرت کریں ، قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ تک ان کی بات پہنچی تو آپ (علیہ السلام) نے انصار کو ایک قبہ میں جمع کیا اور انصار کے ساتھ وہاں کسی کو نہیں بلایا ۔ جب سب جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان سے فرمایا کہ تمہاری طرف سے مجھے کیا بات پہنچی ہے ؟ تو ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے ذورائے لوگوں نے یہ بات نہیں کہی ، ہمارے چند نو عمروں نے یہ بات کی ہے اور وہ بات نقل کی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں ایسے لوگوں کو مال دے رہا ہوں جو نئے نئے کفر کو چھوڑ کر اسلام لائے ہیں ، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال لے جائیں اور تم اپنے ساتھ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو لے جائو ؟ اللہ کی قسم ! وہ تم سے بہتر چیز نہ لے کر جائیں گے تو انہوں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! پھر ان کو فرمایا کہ تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیح دیکھ گے تو صبر کرنا حتیٰ کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو حوض پر آ ملو اور یہ بھی فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا ۔
حضرت عبد اللہ بن یزید بن عاصم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کا مال غنیمت حاصل کرنے کے بعد قریش کے موئفۃ القلوب اور دوسرے عربوں کو حسب مرضی تقسیم کردیا ۔ دوسری روایت میں آیا کہ ایک ایک کو سو سو اونٹ دیئے مگر انصار کیلئے کچھ نہ ہوا ، نہ تھوڑا دیا نہ بہت ۔ اس پر انصاریوں کے دلوں میں کچھ احساس ہوا اور چہ مگوئیاں خوب ہونے لگیں ۔ بعض لوگ یہاں تک کہنے لگے کہ اللہ اپنے رسول کو معاف کرے یہ عجیب بات ہے۔ وہ قریش کو دے دے ہیں اور ہم کو چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواروں سے دشمنوں کا خون ٹپک رہا ہے۔ اگر کوئی سخت مصیبت آتی ہے تو ہم کو بلایاجاتا ہے اور مال غنیمت ہم کو چھوڑ کر دوسروں کو دیا جاتا ہے ۔ یہ تقسیم کس کے حکم پر ہو رہی ہے ؟ اگر اللہ کے حکم سے ہو رہی ہے تو ہم صبر کریں گے اور اگر خود رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہو رہی ہے تو ہم آپ کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک انصاری نے کہا میں تو تم سے پہلے ہی کہتا تھا کہ جب سب کام ٹھیک ہوجائیں گے تو یہ ( رسول اللہ ﷺ ) دوسروں کو تم پر ترجیح دیں گے۔ دوسرے لوگوں نے اس انصاری کو سختی کے ساتھ ڈانٹ دیا۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ اور عینیہ بن حصن اور اقروع بن حابس ؓ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرد اس کو اس سے کم دیا تو عباس بن مرد اس نے اشعار میں کہا کہ کیا آپ میرا مال غنیمت میں حصہ عینیہ بن حصن فزاری اور اقرع بن حابس کے حصے کے برار قرار دے رہے ہیں ، حالانکہ حصن اور حابس کے کارنامے تو (میرے پاس) مرد اس کے ہم پلہ نہیں تھے۔ یہ اشعار سن کر رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ کو بھی پورے سو اونٹ دے دیئے۔ عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے ان کو خبر دی کہ تقسیم غنیمت کے بعد ہوازن کا ایک وفد مسلمان ہو کر آیا تو آپ (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ ہمارے مال اور قیدی واپس کردیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کو تم دیکھ رہے اور سچی باپ مجھے پسند ہے تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو یا تو مال یا قیدی تو انہوں نے کہا ہم قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں ۔ پھر آپ (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اور فرمایا ، اما بعد : بیشک یہ تمہارے بھائی تمہارے پا س توبہ کر کے آئے ہیں ۔ میری رائے یہ ہے کہ ان کو ان کے قیدی واپس کر دوں تو تم میں سے جو کوئی دل کی خوشی سے ایسا کرنا چاہے تو کرے اور جو چاہے کہ اس کے بدلے ہم اس کو کچھ مال دیں تو وہ ایسا کرے ہم کو جو پہلا مال غنیمت اللہ دیں گے اس میں سے اس کو دے دیں گے تو سب نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ہم دل کی خوشی سے دیتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجمع میں ہمیں یہ پتہ نہیں کہ کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں ؟ اس لیے تم واپس چلے جائو ور اپنے معروف لوگوں کو بتائو ، وہ آ کر ہمیں بتائیں تو لوگ چلے گئے اور اپنے معروف لوگوں سے بات کی اور انہوں نے آ کر کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) سب نے طیب نفس سے اجازت دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے حنین کے واقعہ میں یہ آیت اتاری ” لقد نصر کم اللہ فی مواطن کثیرۃ یوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم “ حتی ٰ کہ تم نے کہا آج ہم کمی کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے۔” فلم نغن عنکم “ تمہاری کثرت نے ” شیئا ً “ یعنی کامیابی کثرت تعداد سے نہیں ہوتی ۔” وضاقت علیکم الارض بما رحبت “ اپنی وسعت کے باوجود ” تم ولیتم مدبرین “ شکست کھا کر۔
Ayah 9:26تفسیر 26۔” ثم انزل اللہ “ شکست کے بعد ” سکینتہ “ کا معنی امن و اطمینان سے کیا ہے۔ یہ فعلیہ کے وزن پر سکون کے ساتھ ہے۔ ” علی رسولہ وعلی المومنین وانزل جنودالم تروھا “ جنود سے مراد فرشتے ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ یہ فرشتے قتال کے لیے نہیں اتارے گئے تھے بلکہ کفار کوہ بزدل کرنے اور مومنین کو بہادر کرنے کے لیے اتارے گئے تھے کیونکہ یہ بات روایت کی گئی ہے کہ فرشتوں نے بدر کے علاوہ کسی جنگ میں قتال نہیں کیا ۔ ” وعذب الذین کفروا “ قتل ، قید اور مال چھین کر عذاب دیا گیا ” وذلک جزاء الکفرین “۔
Ayah 9:2727۔” ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشاء “ پس اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔” واللہ غفور رحیم “۔
Ayah 9:28انما ا المشرکون نجس کی وضاحت
28۔” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس “ ضحاک اور ابو عبیدہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پلید ہیں اور بعض نے کہا خبیث ہیں ۔ نجس مصدر ہے اس میں مذکر ، مونث ، تثنیہ ، جمع سب برابر ہیں اور نجس نون کے کسرہ او جیم کے سکون کے ساتھ تو یہ اکیلا نہیں بولا جاتا بلکہ یوں کہا جاتا ہے ” رجس نجس “ اور جب اکیلا ذکر کیا جائے تو ’ نجس “ نون کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ آیت میں حکم کی نجاست مراد ہے نہ کہ جسم کی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو نجس کہا ہے کیونکہ وہ جنبی ہوں تو غسل نہیں کرتے اور حدث لاحق ہو تو وضو نہیں کرتے۔” فلا یقربوا المسجد الحرام “ مرادان کو حرم میں داخل ہونے سے منع کرنا ہے کیونکہ جب وہ حرم میں داخل ہوں گے تو مسجد حرام کے قریب ہوجائیں گے۔
شیخ امام (رح) فرماتے ہیں کہ داراسلام کے تمام شہر کافروں کے حق میں تین قسم پر ہیں۔
جزیرہ عرب میں یہود و نصاریٰ کے رہنے کا حکم
ان میں سے ایک حرم ہے۔ پس کافر کے لیے جائز نہیں کہ اس میں داخل ہو ، خواہ ذمی کافر ہو یا مستامن اس آیت کے ظاہر کی وجہ سے اور اگر دارالکفر سے کوئی قاصد امام کی طرف آئے اور امام حرم میں ہو تو اس کو حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے بلکہ اس کی طرف کوئی بندہ بھیجے جو حرم سے باہر اس سے پیغام سن لے اور اہل کوفہ نے معاہدے کے لیے حرم میں داخل ہونے کو جائز قرار دیا ہے۔
دوسری قسم بلاد اسلامیہ کی حجاز ہے اس میں کافر اجازت لے کر داخل ہوسکتا ہے لیکن تین دن سے زائد قیام نہیں کرسکتا ۔ اس حدیث کی وجہ سے جو حضرت عمربن خطاب ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، اگر میں زندہ رہا ، اگر اللہ نے چاہا تو ضرور یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا ۔ یہاں تک کہ اس میں صرف مسلمانوں کو چھوڑوں گا تو آپ (علیہ السلام) دنیا سے چلے گئے اور وصیت فرما گئے کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۔ اس کام کی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مہلت نہیں ملی تو حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو جلا وطن کیا اور جو ان میں سے تجار ت کی نیت سے آئے اس کے لیے تین دن کی مدت مقرر کی۔
اور جزیرہ عرب طو ل میں اقصیٰ عدن سے عراق کے سبزہ زاروں تک اور عرض میں جدہ میں جدہ اور اس کے اطراف سے شام کے اطراف کے سمندری ساحل تک ہے۔ تیسری قسم تمام بلاد اسلامیہ کافر کے لیے جائز ہے کہ ان میں ذمہ یا امان ( ویزہ) کے ذریعے رہ سکے لیکن مساجد میں مسلمانوں کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔ ” بعد عامھم ھذا “ یعنی اس سال کے بعد جس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو حج کرایا اور حضرت علی ؓ نے برأت کا اعلان کیا ۔ یہ ہجرت کا نواں سال تھا۔” وان خفتم عیللۃ “ کیونکہ اہل مکہ کی معیشت تجارت سے تھی اور مشرکین مکہ میں غلہ لاتے اور تجارت کرتے جب ان کو حرم میں داخل ہونے سے منع کیا گیا تو ان کو فقر کا خوف ہوا تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ۔ ” علیۃ “ یعنی فقر و فاقہ۔” فسوف یعنیکم اللہ من فضلہ ان شاء ان اللہ علیم حکیم “ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غنی کیا ۔ اس طرح کہ ان پر بارش برساد دی تو ان کو خیر بڑھ گئی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جدہ ، صنعاء اور جریش یمن کے لوگ اسلام لے آئے اور وافر غلہ مکہ کی طرف لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سے کفایت کی جس کا ڈر تھا اور ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے ان کو جزیہ دیا اور ان کو غنی کردیا۔
Ayah 9:2929۔” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ کو روم سے قتال کا حکم دیا گیا تو اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ (علیہ السلام) نے غزوہ تبوک کیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود کے قبیلہ بنو نضیر اور بنو فریظہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے صلح کی اور مسلمانوں کو پہلا جزیہ ان سے ملا اور مسلمانوں کی طرف سے پہلی ذلت ان کو یہی ملی ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اہل کتاب تو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے تو اس آیت سے وہ کیسے مراد ہوسکتے ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ مؤمنین جیسا ایمان نہ رکھتے تھے کیونکہ جب وہ عزیر اور مسیح (علیہما السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو ان کا اللہ پر ایمان نہ ہوا ۔ ” ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق “ یہاں اسم کی اضافت اپنی صفت کی طرف ہے۔ اصل عبارت ” الدین الحق “ تھی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں ۔ یعنی اللہ کا دین نہیں مانتے اور اللہ کا دین اسلام ہے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کی اہل حق کی طرح اطاعت نہیں کرتے۔ ’ ’ من الذین اتوا الکتاب “ یعنی یہود و نصاریٰ ” حتی یعطوا الجزیۃ عن ید “ مغلوبیت اور ذلت کے ساتھ ، ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص دل کی خوشی کے بغیر مجبوراً کوئی چیز دے تو اس کو کہا جاتا ہے ” اعطا عن ید “ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ خود اپنے ہاتھ سے آ کردیں کسی دوسرے کے ہاتھ اپنا جزیہ نہیں بھیج سکتے اور بعض نے کہام ” عن ید ‘ ‘ کا معنی یہ ہے کہ نقد دیں ادھار نہ ہو۔ بعض حضرات نے کہا کہ عن ید سے مرادیہ ہے کہ شکر گزارہو کر جزیہ ادا کریں کہ مسلمانوں نے ان کو قتل نہیں کیا ۔
وھم صاغرون کی تفسیر میں مختلف اقوال
” وھم صاغرون “ ذلیل اور مغلوب ہوں ، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کھڑے ہو کردیں اور لینے والا بیٹھاہو ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کی گردن روند کر اس سے جزیہ وصول کیا جائے۔ کلبی کا بیان ہے کہ لیتے دیتے وقت اس کی گردن پر گھونسا رسید کیا جائے۔ بعض نے کہا کہ اس کی داڑھی پکڑ کر طمانچہ مارا جائے۔ بعض نے کہا اس کا گریبان پکڑ کر کھینچے ہوئے سختی کے ساتھ مقام تحصیل تک لایا جائے۔ بعض نے کہا کہ جزیہ پیش کرنا ہی ذلت ہے اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صغاریہ ہے کہ اسلام کے احکام ان پر جاری کیے جائیں ۔ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہود و نصاریٰ جب عرب نہ ہوں تو ان سے جزیہ لینا جائز ہے۔ اور اس میں اختلاف ہے کہ عربی کتابی اور عجم کے غیر کتابی کفار سے جزیہ لینے کا کیا حکم ہے۔ امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ جزیہ مذہب کی بناء پر ہے شخصیت کی بناء پر نہیں ہے کہ جزیہ تمام ادیان پر لازم ہے نہ کہ نسبوں کی وجہ سے اس لیے اہل کتاب خواہ عربی ہو یا عجمی ، ان سے جزیہ لیا جائے گا اور کسی حال میں بتوں کی پوجا کرنے والوں سے نہ لیا جائے گا اور اس بات سے استدلال کیا کہ نبی کر ﷺ نے اکید ردومہ سے جزیہ لیا تھا حالانکہ وہ عربی شخص تھا اور بعض نے کہا یہ غسان کا تھا اور یمن کے لوگوں سے ذمہ لیا تھا حالانکہ ان میں سے اکثر عرب تھے اور امام مالک اور اوزاعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کے علاوہ تمام کفار سے جزیہ لیا جائے گا اور اما م ابو حنفیہ (رح) فرماتے ہیں کہ اہل کتاب سے تو ہر حال میں لیا جائے گا خواہ عجم ہوں یا عرب اور عجم کے مشرکین سے لیا جائے گا عرب کے مشرکین سے نہیں لیا جائے گا اور امام ابو یوسف (رح) فرماتے ہیں کہ عرب سے نہ لیا جائے گا خواہ اہل کتاب ہوں یا مشرک اور عجم سے لیا جائے گا ، خواہ کتابی ہوں یا مشرک ۔ بہر حال مجوسی تو ان سے جزیہ لینے پر تمام صحابہ کرام ؓ کا اتفاق ہے۔
عمرو بن دینار نے بحالہ بن عبیدہ کو کہتے سنا کہ حضرت عمر ؓ مجوس سے جزیہ نہ لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ نبی کریم ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ جعفر بن محمد نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مجوس کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں تو حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ اپنائو اور حضرت عمر ؓ کے مجوس سے جزیہ کے لینے سے رکنے میں یہاں تک کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ حضور ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا تو اس امتناع میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی رائے یہ تھی کہ ہر مشرک سے جزیہ لیا جائے گا صرف اہل کتاب سے لیا جائے گا اور اس بات میں اختلاف ہے کہ مجوسی اہل کتاب کے حکم میں ہیں یا نہیں ؟
حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ان کی ایک کتاب تھی جس کو وہ پڑھاتے تھے تو ایک دن صبح کی تو وہ کتاب ان سے اٹھائی گئی اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مجوسیوں کا ذبح کیا ہوا جانور اور ان سے نکاح حرام ہے۔ بخلاف یہود و نصاریٰ کے کہ ان سے جائز ہے۔ بہرحال جو دیگر مشرکین یہود و نصاریٰ کے دین میں داخل ہوگئے۔ ان کے حکم میں نظر ہے۔ اگر اس دین کے تبدیل ہونے اور منسوخ ہونے سے پہلے داخل ہوئے ہوں تو ان کو جزیہ پر برقرار رکھا جائے گا اور ان سے نکاح حلال اور ذبیحہ بھی حلال ہوگا اور اگر آپ (علیہ السلام) کے تشریف لانے کی وجہ سے ان کے دین منسوخ ہونے کے بعد داخل ہوئے تو جزیہ پر برقرار نہ رکھے جائیں گے اور نہ انکے نکاح حلال ہوں گے اور نہ دبیحہ اور جس کا معاملہ ہم پر مشکوک ہو کہ وہ دین منسوخ ہونے سے پہل داخل ہوئے یا بعد میں تو ان سے جزیہ لیا جائے گا ان کی جان کی حفاظت کو غلبہ دیتے ہوئے اور ان سے نکاح اور ذبیح حلال نہ ہوں گے حرمت کو غلبہ دیتے ہوئے گا ان کی جان کی حفاظت کو غلبہ دیتے ہوئے اور ان سے نکاح اور ذبیحہ حلال نہ ہوں گے حرمت کو غلبہ دیتے ہوئے۔ پس اس قسم میں سے عرب کے نصاریٰ تنوح اور بھراء اور بنو تغلب ہیں کہ حضر ت عمر ؓ نے ان کو جزیہ پر برقرار رکھا اور فرمایا کہ ان کے ذبیحہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں ۔ بہر حال جزیہ کی مقدار تو کم ازکم ایک دینا رہے اس سے کم کرنا جائز نہیں ہے اور ایک دینار فقیر ، غنی ، متوسط سب سے قبول کرلیا جائے گا ۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار لوں اور اس کے برابرخود تو نبی کریم ﷺ نے ہر بالغ سے ایک دینار لینے کا کہا اور فقیر غنی ، متوسط کا فرق بیان نہیں کیا ۔ اس میں اس پر بھی دلیل ہے کہ بچوں اور عورتوں پر جزیہ واجب نہیں ۔ جزیہ صرف آزاد عاقل بالغ مردوں سے لیا جائے گا اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ہر مالدار پر چار دینار اور ہر مسلط پر دو دینار اور ہر فقیر پر ایک دینار ہے اور یہی اصحاب رائے کا قول ہے۔
Ayah 9:30تفسیر 31۔” وقالت الیھود عزیز ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ “ سعید بن جبیرؓ اور عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہود کی ایک جماعت آئی جن میں سلام بنھ مشکم اور نعمان بن اوفی ٰ ، شاس بن قیس اور مالک بن قیس تھے تو یہ کہنے لگے ہم آپ (علیہ السلام) کی اتباع کیسے کریں حالانکہ آپ عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا نہیں سمجھتے تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ عبید بن عمیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ بات یہود کے صرف ایک شخص فنحاص بن عاز وراء نے کہی تھی یہ وہی شخص ہے جس نے کہا تھا ” ان اللہ فقیر و نحن اغنیائ “ عطیہ عوفی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہود نے عزیرعلیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اس وجہ سے کہا کہ عزیر (علیہ السلام) ان میں تھے اور ان کے پاس توریت بھی تھی اور تابوت بھی تھا تو انہوں نے توریت کو ضائع کیا اور ناحق کام کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تابوت اٹھا لیا اور ان کو توریت بھلا دی اور اس کو سینوں سے مٹا دیا تو حضرت عزیر (علیہ السلام) نے گڑ گڑا کر دعا کی جو کتاب ان کے سینوں سے مٹائی گئی ہے وہ واپس آجائے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نور اتارا جو ان کے پیٹ میں چلا گیا اور توریت آپ (علیہ السلام) کے پاس واپس آگئی تو آپ (علیہ السلام) نے قوم میں اعلان کیا اور فرمایا اے قوم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے توریت واپس کردی ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے لگے ۔ پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے تابوت بھی اتار دیا ۔ جب انہوں نے تابوت دیکھا تو توریت کے نسخوں سے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی تعلیم دی ہوئی تو ریت کا موازنہ کیا تو اس کی مثال پایا تو کہنے لگے توریت حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اس وجہ سے دی گئی ہے کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بخت نصر بادشاہ جب بنی اسرائیل پر غالب آیا تو توریت کے پڑھنے والوں کو قتل کردیا اور عزیر (علیہ السلام) اس وقت بہت چھوٹے تھے تو ان کو چھوٹاسمجھ کر قتل نہیں کیا ۔
جب بنو اسرائیل بیت المقدس کی طرف لوٹے اور ان میں کوئی توریت پڑھنے والا نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے عزیر (علیہ السلام) کو بھیجا تا کہ وہ ان کے لیے توریت کی تجدید کریں اور سو سال بعد اللہ تعالیٰ کی نشانی ہوں ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے پاس فرشتہ ایک برتن میں پانی لایا ، وہ آپ (علیہ السلام) کو پلایا تو ریت آپ (علیہ السلام) کے سینے میں آگئی ۔ جب حضرت عزیر (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو کہا میں عزیر ہوں تو انہوں نے جھٹلایا اور کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہو تو ہمیں توریت لکھوائیں تو حضرت عزیر (علیہ السلام) نے ان کو لکھ کر دے دی تو ایک آدمی نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے میرے دادا سے بیان کیا ہے کہ توریت ایک چمڑے میں رکھ کر ایک انگور کے درخت میں دفن کی گئی ہے۔ لوگ اس کے ساتھ گئے اور وہ نسخہ نکالا تو حضرت عزیر (علیہ السلام) والا نسخہ بعینہٖ اس جیسا تھا تو کہنے لگے اللہ کسی شخص کے دل میں ایسے توریت نہیں ڈالتے مگر یہ کہ وہ اس کا بیٹا ہو تو اس وقت یہودز نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور بہر حال نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ۔ اس قول کا سبب یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد اکیاسی سال نصاریٰ اپنے دین پر قائم رہے۔ نماز پڑھتے اور رمضان کے روزے رکھتے ، پھر ان کی یہود سے جنگ ہوئی ۔ یہود میں ایک بہادر شخص بولص تھا۔ اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی ایک جماعت کو قتل کیا ، پھر یہود کو کہنے لگا کہ اگر حق عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے تو ہم نے ان کا انکار کیا اس لیے جہنم ہمارا ٹھکانہ ہے تو ایک حیلہ کر کے ان کو گمراہ کرتاہوں تا کہ وہ جہنم میں داخل ہوں اس کا گھوڑا تھا جس کو عقاب کہا جاتا تھا اس نے اس کو مار ڈالا اور سر پر مٹی ڈالی اور شرمندگی ظاہر کی۔
تو نصاریٰ نے اس سے پوچھا کون ہے ؟ کیا تمہارا دشمن بولص ، مجھے آسمان سے آواز دی ہے کہ تیری توبہ قبول نہیں ہے مگر یہ کہ تو نصرانی ہوجا تو میں نے توبہ کی ہے تو انہوں نے اس کو کنیسہ میں داخل کیا اور ایک کمرے میں داخل ہوا اور پورا سال نہ دن کو نکلا نہ رات کو یہاں تک کہ انجیل سیکھ لی۔ پھر نکلا اور کہنے لگا کہ مجھے ند آئی ہے کہ اللہ نے تیری توبہ قبول کرلی ہے تو نصاریٰ نے اس کی تصدیق کی اور اس سے محبت کرنے لگے۔ پھر یہ بیت المقدس کی طرف چلا گیا اور ان پر نسطورا کو خلیفہ بنایا گیا اور اس کو سکھایا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم (علیہا السلام) اور خدا تین تھے پھر روم کی طرف متوجہ اور ان کو لا ھوت اور نا سوت سکھایا اور کہا عیسیٰ (علیہ السلام) نہ انسان تھے نہ جسم تھے بلکہ اللہ کے بیٹے تھے۔ یہ بات ایک شخص یعقوب کو سکھائی۔ پھر ایک شخص کو بلایا اس کو ملک کہا جاتا تھا۔ اس کو کہا بیشک ” الہ “ نہ زائل ہوسکتا ہے اور نہ زائل کیا جاسکتا ہے عیسیٰ (علیہ السلام) تو جب یہ عقائد ان پر پختہ ہوگئے تو ان تینوں میں سے ہر ایک کو بلایا اور کہا تو میرا خاص بندہ ہے اور میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ مجھ سے راضی ہیں : وران میں سے ہر ایک کو کہا کہ کل میں خود کو ذبح کرلوں گا تو تم لوگوں کو بلانا تیری بات مانیں گے۔ پھر مذبح میں داخل ہوا اور یہ کہا کہ میں خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قتل کر رہا ہوں اور خود کو ذبح کردیا تو تیسرے دن ان تین میں سے ہر ایک نے لوگوں کو بلایا تو ہر ایک کے کچھ لوگ متبع ہوگئے اور آپس میں لڑنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وقالت النصاریٰ المسیح ابن اللہ ذلک قولھم باقواھھم “ وہ اپنی زبانوں سے بغیر علم کے کہتے ہیں :” یضاھئون قول الذین کفروا من قبل “ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نصاریٰ کا قول ان سے پہلے والے یہود کے قول کے مشابہ ہے کہ انہوں نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا قول اپنے سے پہلے مشرکین کے قول کے مشابہ ہے جنہوں نے لات ، عزیٰ اور منات کو اللہ کی بیٹیاں کہا۔ حسن کا قول ہے کہ عیسائیوں کا یہ قول گزشتہ کافروں کے قول کی طرح کفر یہ ہے۔ یعنی عیسائیوں کا کفر گزشتہ کافروں کی طرح ہے۔ کذالک قال الذین من قبلھم مثل قولھم تشابھت قلوبھم انہی کے قول کی طرح یعنی ان کا کفر قدیمی ہے ۔ قتیبی کا قول ہے کہ آپ ﷺ کے زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کا قول بھی اپنے اسلاف کے قول کی طرح ہے یعنی ان کا کفر قدیمی ہے۔ ” قاتلھم اللہ “ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یعنی ان پر اللہ نے لعنت کردی ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ حقیقتاً لڑائی کے لیے نہیں بلکہ تعجب کے لیے ہے۔” انی یوفکون “ جب دلائل اور براہن قائم ہوچکے تو پھر حق سے باطل کی طرف مڑ کر کہاں جا رہے ہیں۔
Ayah 9:31تفسیر 32۔” اتخذوا احبارھم ورھبانھم “ یعنی اپنے علماء اور قراء کو احبار حبر کی جمع ہے حبر عالم اور دینی کتابیں پڑھنے والے کو کہتے ہیں ۔ رہبان راہب کی جمع گرجوں میں رہنے والے عیسائیوں کو کہتے ہیں۔” اربابا ً “ اگر یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے احبار اور رھبان کی عبادت تو نہیں کی تھی ؟ تو ہم جواب دیں گے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی تھی اللہ کی نا فرمانیوں میں اور جن چیزوں کو انہوں نے حلال سمجھا ان کو انہوں نے حلال سمجھا اور جن کو انہوں نے حرام سمجھا، ان کو انہوں نے حرام سمجھا تو ان کو خدا کی طرح بنادیا۔ عدی بن حاتم ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی تو آپ (علیہ السلام) نے مجھے اے عدی ! اس بت کو اپنی گردن سے پھینک دے تو میں نے اس کو پھینک دیا۔
جب میں آپ (علیہ السلام) کے قریب ہوا تو آپ (علیہ السلام) یہ آیت پڑھ رہے تھے ۔” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا ً من دون اللہ “ آپ (علیہ السلام) اس آیت سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا ہم ان کی عبادت نہ کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا وہ نہیں حرام کرتے تھے ان چیزوں کو جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے پھر تم بھی ان کو حرام سمجھتے تھے اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے تو تم بھی ان کو حلال سمجھتے تھے ؟ میں نے کہا جی ہاں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ ان کی عبادت تھی ، عبد اللہ بن مبارک (رح) فرماتے ہیں کہ :
نہیں بدلا دین کو مگر بادشاہوں اور برے علماء اور انکے درویشوں نے
” والمسیع بن مریم “ یعنی تم نے ان کو بھی معبود بنا لیا ” وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدالا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون “۔
Ayah 9:32تفسیر 32۔” یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواھھم “ یعنی اللہ کے دین کو اپنی زبانوں کے ساتھ باطل کردیں اس کی تکذیب کر کے ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں نور سے قرآن مراد ہے یعنی ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی زبانوں کے ساتھ تکذیب کر کے قرآن کو رد کریں ۔” ویاتی اللہ الا ان یتم نورہ “ یعنی اپنے دین کو بلند کر دے اور اپنے کلمہ کو ظاہر کر دے اور اس حق کو مکمل کر دے جس کے ساتھ محمد ﷺ کو بھیجا ہے۔” ولوکرہ الکفرون “
Ayah 9:3333۔” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی “ ھدی سے قرآن مراد ہے اور بعض نے کہا فرائض کو بیان کر کے ” ودین الحق “ یعنی اسلام ” لیظھرہ علی الذین کلہ “ تمام ادیان پر۔
ولو کرہ المشرکون کی مختلف تفسیریں
” ولوکرہ المشرکون “ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ (1) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” لیظھرہ “ کی ھاء رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی تا کہ آپ (علیہ السلام) کو دین کے تمام احکام سکھا کر ان کو آپ (علیہ السلام) پر ظاہر کردیں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) پر دین کے شرائع میں سے کوئی مخفی نہ ہو۔ (2) دیگر حضرات نے فرمایا کہ ھاء دین الحق کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اور یہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے دوبارہ اترنے کے وقت ہوگا کہ ہر شخص ہر دین والا اسلام میں داخل ہوجائے گا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان کے زمانے میں تمام ادیان سوائے اسلام کے ختم ہوجائیں گے اور مقدار ؓ نے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ” زمین پر کوئی کچا یا پکا مکان ایسا نہ رہے گا کہ اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو نہ داخل کردیں یا تو عزیز کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ “ یا تو اللہ ان کو عزت دیں گے تو ان کو اس دین کا بل بنادیں گے یا ان کو ذلت دیں گے تو وہ اس دین کو اختیار کرلیں گے تو میں نے کہا تو دین سارا اللہ کا ہوگا ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات اور دن نہیں ختم ہوں گے حتیٰ کہ لات اور عزیٰ کی عبادت کی جائے گی تو میں نے عرض کیا اے اللہ ! میں یہ خیال کرتی ہوں کہ یہ اس کے بعد ہوگا جو اللہ نے اتارا ” ھو الذین ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون “ پھر فرمایا کہ یہ ہوگا جب اللہ چاہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے تو وہ ہر اس شخص کی روح قبض کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی خیر ہوگی پھر وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہ ہوگی تو لوگ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو تمام ادیان پر ظاہر کردیا کہ تمام سننے والوں پر ظاہر کردیا کہ یہ دین حق ہے اور جو اس کے مخالف ادیان ہیں وہ باطل ہیں اور اس دین کو شرک اور اہل کتاب اور امیوں کے دین پر غالب کیا ۔ پھر رسو ل اللہ ﷺ نے امیوں کو مغلوب کیا تو وہ اسلام کے قریب ہوگئے بعض خوشی سے بعض کرھا ً اور اہل کتاب کو قتل کیا اور قیدی بنایا یہاں تک کہ بعض اسلام کے قریب آگئے اور بعض نے ذلت کے ساتھ جزیہ دیا تو یہ اس دین کا تمام ادیان پر ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:34تفسیر 34۔” یا ایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاحبار والرھبان “ یعنی اہل کتاب کے علماء اور قراء ” لیاکلون اموال الناس بالباطل “ یعنی اپنے احکام میں رشوت لیتے ہیں اور اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اپنے بیوقوفوں سے اس پر کچھ قیمت لیتے ہیں یہ ان کے کمائی کے ذریعے ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے توریت میں موجود نبی کریم ﷺ کی صفات تبدیل کردیں تا کہ ان کی کمائی نہ بند ہوجائے۔ ” ویصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم “ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دے وہ کنز نہیں ہے اگرچہ کہیں مدفون بھی ہو اور جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنز ہے ، اگرچہ وہ مدفون شدہ نہ ہو اور اسی کی مثل ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو سونے چاندی کا مالک اس کا حق ( زکوٰۃ) ادا نہ کرے گا ۔ قیامت کے دن اس سونے چاندی سے اس کیلئے آ گ کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور دوزخ کی آگ میں ان کو دہکا کر اس شخص کے پہلو پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں۔ جب وہ کچھ ٹھنڈی پڑجائیں گی تو دوبارہ تپاکر داغ لگائے جائیں گے اور ایسا اس ( پورے ) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی ۔ آخر جب بندوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو اس شخص کو اس کا راستہ بتادیا جائے گا جنت کو جانے والا یا دوزخ کو جانے والا ۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اونٹوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اور جو اونٹوں والا ان کا حق ( یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے گا اور پانی پلانے کے دن ان کو دوہنا ( اور دودھ میں سے مساکین کو دینا بھی) منجملہ حقو ق کے ہے۔ قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اونٹوں کے سامنے اس کو لٹایا جائے گا ۔ اونٹ سب موجود ہوں گے۔ ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا ۔ یہ اونٹ اپنے موزوں ( یعنی کھروں) سے اس کو روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے۔ اول حصہ جب روند چلا جائے گا تو پچھلا حصہ پھر ( روند نے کیلئے) لوٹ پڑے گا ( یعنی روندنے کا سلسلہ نہ ٹوٹے گا) ایسا اس ( پورے ) دن ہوتا رہے گا ۔ جس کا مقدار پچاس ہزار برس ہوگی ۔ آخر جب بندوں کا فیصلہ ہوچکے تو اس کو اس کا راستہ بتا دیاجائے گا ۔ جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف ۔ عرض کیا گیا گائے بھینس اور بھیڑ بکریوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ان کا مالک اگر حق ادا نہ کرے گا تو ہموار میدان میں ان جانوروں کے سامنے اس کو بچھاڑ کر لٹا یا جائے گا ۔ جب سب جانور موجود ہوں گے۔ کوئی غیر حاضر نہ ہوگا ۔ ان میں کوئی ایسا نہ ہوگا کہ اس کے سینگ پیچھے کو مڑے ہوئے ہوں ، نہ کوئی جانور منڈا ہوگا، نہ سینگ ٹوٹا ہوا ( سب کے سینگ نوک دار آگے کی طرف ہوں گے) یہ تمام جانور اس شخص کو اپنے سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے۔ اول حصہ گزرتا جائے گا اور پچھلاحصہ لوٹ کر آتا جائے گا ۔ یہ عذاب اس ( پورے) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی ۔ آخر جب لوگوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو اس کو اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا ، جنت کا یا دوزخ کا۔ ( رواہ مسلم)
حضر ت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کو اللہ مال دے پھر وہ اس کی زکوٰۃ نہ ادا کرے تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں لایا جائے گا ۔ اس کی آنکھ کے اوپر دو سیا ہ نقطے ہوں گے وہ قیامت تک اس کی گردن کو چمٹا رہے گا اور اس کے جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔” ولا یحسبن الذین یبخلون بما آتاھم اللہ “ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہر مال جو چار ہزار درہم سے زائد ہو تو وہ کنز ہے اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے یا نہ کی جائے اور جو اس سے کم ہو وہ نفقہ ہے اور جو حاجت سے بچ جائے تو وہ کنز ( خزانہ) ہے۔ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا تو آپ (علیہ السلام) کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جب مجھے دیکھا تو فرمایا کہ وہ لوگ خسارہ والے ہیں رب کعبہ کی قسم ! ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں آیا اور بیٹھ گیا پھر کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوئی ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ پر میرے ماں اور باپ قربان ہوں وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جن کا مال زیادہ ہو مگر جو اس اس طرح کرے اور اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں اشارہ کیا ( یعنی ہر خیر کے کام میں خرچ کریں) اور یہ لوگ تھوڑے ہیں۔
حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک شخص فوت ہوگیا تو اس کی چادر میں ایک دینار تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک داغ ہے۔ پھر دوسرے شخص کا انتقال ہوا تو اس کی چادر میں دو دینار تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ دو داغ ہیں اور پہلا قول زیادہ اصح ہے کہ یہ آیت زکوٰۃ نہ دینے کے بارے میں ہے نہ کہ تمام مال حلال کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نیک مال آدمی کے لیے بہت اچھا ہے۔ مجاہد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں ہوئی اور کہنے لگے ہم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھے گا کہ اپنے بچوں کے لیے کچھ چھوڑ جائے تو حضرت عمر ؓ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لیے فرض کی ہے تا کہ تمہارا باقی مال اس کے ذریعے پاک کر دے اور حضرت عمر ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا یہ حکم زکوٰۃ کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم اتارا تو اس کو مال کے لیے پاکی کا ذریعہ بنادیا اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میرے لیے احد پہاڑ کے برابر سونا ، میں اس کی تعداد جانتا ہوں اس کو زکوٰۃ ادا کروں اور اللہ کی طاعت میں لگا رہوں ۔” ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ “ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ” لا ینفقونھما “ کیوں نہیں کہا ” لاینفقونھا “ کیوں کہا ہے حالانکہ آیت میں سونے اور چاندی دونوں کا ذکر ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس مفرد کی ضمیر سے خزانہ مراد ہے خواہ چاندی ہو یا سونا ۔ اور بعض نے کہا کہ ضمیر ” فضۃ “ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس لیے کہ یہ عام ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ وانھالکبیرہ “ یہاں بھی ” انھا “ کی ضمیر نماز کی طرف لوٹ رہی ہے اور جیسے اللہ تعالیٰ کے قول ( واذا راو تجارۃ اولھوا انفضوا لیھا) میں ضمیر کو تجارت کی طرف لوٹایا ہے اس لیے کہ یہ زیادہ عام ہے ( فبشرھم بعذاب الیم) یعنی ان کو ڈرائیں کیونکہ وہ عام ہے اگرچہ ذکر دو چیزوں کا تھا۔
Ayah 9:35تفسیر 35۔” یوم یحمی علیھا فی نارجھنم “ آگ میں داخل ہوں گے پھر ان خزانوں پر آگ بھڑکائی جائے گی ۔ ” فتکویٰ بھا “ جلائے جائیں گے اس کے ساتھ ” جباھھم وجنوبھم وظھورھم “ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ دینا رکو دینار پر اور درہم کو درہم پر نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کی جلد اتنی وسیع کردی جائے گی کہ ہر درہم الگ جگہ پر رکھا جائے گا ۔ ابوبکر وراق (رح) سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے چہرے پہلو اور پیٹھ کو کیوں خاص کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ مال دار شخص جب فقیر کو دیکھتا ہے تو اس کی پیشانی سکڑ جاتی ہے اور اس سے پہلو موڑ کر اعراض کرتا ہے اور پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ ” ھذا ما کنزتم لا نفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون “ یعنی تم اپنے مال میں سے اللہ کے حقوق کو روکتے تھے۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں ہے اور اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب اور مسلمانوں سب کو شامل ہے اور حضرت ابو ذر ؓ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Ayah 9:3636۔” ان عدۃ الشھور “ یعنی مہینوں کی تعداد ” عند اللہ ا الثنا عشر شھرا فی کتب اللہ “ محرم ، صفر ، ربیع الاول ، ربیع الثانی ، جمادی الاول ، جمادی الاخری ، رجب ، شعبان ، رمضان ، شوال ، ذولقعدہ ، ذوالحجہ ، ” فی کتاب اللہ “ یعنی اللہ کے حکم میں اور بعض نے کہا لوح محفوظ میں ” یوم خلق السموات والارض “ ان سے چاند والے مہینے مراد ہیں انہی مہینوں کا مسلمان اپنے روزوں اور حج اور عید اور تمام معاملات میں اعتبار کرتے ہیں ۔ شمسی مہینوں کے اعتبار سے سال تین سو پینسٹھ دن اور ایک دن کا چوتھا حصہ ہوتا ہے اور قمر ی مہینوں کا سال تین سو ساٹھ دن سے کچھ کم ہوتا ہے جتنے دن چاند کم ہو ۔ اکثر تین سو چون دن کا ہوتا ہے۔ ” منھا اربعہ حرم “ رجب ، ذوالقعدۃ ، ذوالحجہ ، محرم ،” ذلک الدین القیم “ یعنی سیدھا حساب ہے۔” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ یعنی سال کے تمام مہینوں میں گناہ کر کے اور نیکی چھوڑ کر اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان چار مہینوں میں نیک عمل کا ثواب زیادہ ملتا ہے اور ان میں گناہ کرنے کا گناہ دوسرے مہینوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ گناہ ہر حال میں بہت برا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حرام کو حلال کر کے اور ان میں قتل و غارت کر کے ظلم نہ کرو۔ محمد بن اسحاق بن یسار (رح) فرماتے ہیں کہ تم اس کے حلال کو حرام نہ بنائو اور نہ اس کے حرام کو حلال بنائو اہل شرک کے فعل کی طرح اور وہ نسئی ہے ” وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ “ تم کو اور سب کو واعلموا ان اللہ مع المتقین۔
علماء رحمہم اللہ کا ان چار مہینوں میں قتال کے حرام ہونے میں اختلاف ہے تو ایک قوم نے کہا کہ یہ پہلے کبیرہ گناہ تھا پھر اس آیت سے منسوخ کردیا گیا۔” وقاتلوا المشرکین کافۃ “ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان چار مہینوں اور ان کے علاوہ بھی قتال کرو۔ یہی قتادہ ، عطاء خراسانی ، زہری اور سفیان ثوری رحمہم اللہ کا قول ہے اور ان حضرات نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ہوازن سے حنین کے مقام پر جنگ اور ثقیف سے طائف میں جنگ اور ان کا محاصرہ شوال اور ذی العقدہ کے بعض دنوں میں کیا اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے اللہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ لوگوں کے لیے حرم اور اشھر حرام میں قتال جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ان سے قتال کریں اور یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ۔