9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 9:84–85

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان میں سے کوئی مر جاّئے تو کبھی اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (ہی مرے) ۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

تفسیر 84 :” ولا تصل علی احد منھم مات ابدا “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے حالت مرض میں رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا۔ جب آپ (علیہ السلام) اس پر داخل ہوئے تو اس کو فرمایا کہ تجھے یہود کی محبت نے ہلاک کردیا تو وہ کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے آپ کے پاس پیغام اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ مجھے تنبیہ کریں ‘ میں نے اس لیے پیغام بھیجا تھا کہ آپ (علیہ السلام) میرے لیے استغفار کریں اور آپ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ (علیہ السلام) اس کو اپنی قمیص میں دفن کریں اور اس پر نماز پڑھیں۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ جب عبد اللہ بن ابی ابن سلول مرگیا تو اس کے جنازہ کے لیے رسول اللہ ﷺ کو بلایا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ اس کا جنازہ پڑھا نے کھڑے ہوئے تو میں لپک کر پہنچا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) کیا آپ ابن ابی ابن سلول پر نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے فلاں فلاں دن یہ یہ کہا ؟ اور آپ (علیہ السلام) پر وہ باتیں شمار کرائیں۔ تو آپ (علیہ السلام) مسکرائے اور فرمایا کہ اے عمر ! مجھ سے ہٹ جا جب میں نے بار بار یہی بات کہی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے میں نے اس کو اختیار کرلیا ہے۔ اگر میں جانتا کہ میں ستر پر زائد کروں تو اس کی مغفرت ہوگی تو میں اس پر زیادتی کرتا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔ پھر لوٹے تو تھوڑا وقت ہی ٹھہرے تھے کہ سورة برأۃ کی دو آیتیں نازل ہوگئیں۔ ” ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فسقون “ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ پر اس دن اپنی جرأت کرنے پر بڑا تعجب ہوا اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ عمرو (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ ؓ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ عبد اللہ بن ابی کے قبر میں داخل کیے جانے کے بعد وہاں تشریف لے گئے تو آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا اس کو نکالا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اس پر اپنا لعاب پھونک دیا اور اس کو اپنی قمیص پہنائی۔ واللہ اعلم۔ اس نے حضرت عباس ؓ کو قمیص پہنائی تھی۔ سفیان (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ پر دو قمیصیں تھیں تو عبد اللہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے والد کو وہ قمیص پہنا دیں جو آپ (علیہ السلام) کے جسم اطہر کو لگی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے ابی کو مرنے کے بعد قمیص پہنانے کی وجوہات حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب قیدیوں کو لایا گیا اور عباس ؓ کو بھی لایا گیا تو ان پر کوئی کپڑا نہ تھا تو عبد اللہ بن ابی کی قمیص ان کو پوری آجاتی تھی تو آپ (علیہ السلام) نے حضرت عباس ؓ کو اس کی قمیص پہنادی۔ اسی وجہ سے آپ (علیہ السلام) نے اپنی قمیص اتار کر عبد اللہ کو پہنادی۔ ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کا رسول اللہ ﷺ پر ایک احسان تھا تو آپ (علیہ السلام) نے پسند کیا کہ اس کا بدلہ دیں اور روایت کیا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) سے پوچھا گیا جو کچھ آپ (علیہ السلام) نے عبد اللہ کے ساتھ کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کے ہاں میری قمیص اور میری نماز اس کو کچھ فائدہ نہ دے گی۔ اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئیں گے اور روایت کیا گیا ہے کہ جب منافقین نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی قمیص سے عبد اللہ کی برکت حاصل کررہا ہے تو اس کی قوم کے ایک ہزار لوگ اسلام لے آئے۔ قولہ ” ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “ اس پر نہ ٹھہریں اور اس کو خود دفن نہ کریں ‘ یہ ان کے قول قام فلان با مر فلان سے مشتق ہے یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اس کے امر کو کافی ہوجائے۔ ” انھم کفروا باللہ ورسولہ “” وما توا ھم فاسقون “ نبی کریم ﷺ نے اس کے بعد کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ کسی کی قبر پر کھڑے ہوئے۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

تفسیر آیت 86: وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَجَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْـتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ مال اور فراوانی والے ان میں سے جنگ سے پیچھے رہ جانے میں۔” وقالوا ذرنا نکن مع القعدین “ اپنے کجاووں میں۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

آیت 87: رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ یعنی عورتوں اور بعض نے کہا گھٹیا اور بیوقوف لوگوں کے ساتھ۔ کہا جاتا ہے۔” فلان خالفۃ قومہ “ جب وہ ان میں کم حیثیت ہو۔” وطبع علی قلوبھم فھم لا یفقھون “
Ayahs 9:88–89

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر 88: یعنی نیکیاں اور بعض نے کہ خو بصورت عورتیں جنت میں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فیھن خیرات حسان “ ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ خیر کا معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین “۔۔۔” واولئک ھم المفلحون “
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

آیت نمبر :90: یعقوب اور مجاہد رحمہما اللہ نے ” المعذرون “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ وہ لوگ جو عذر میں مبالغہ کرنے والے ہوں ضرب المثل ہے ” لقد اعذر من انذر “ یعنی جس شخص نے عذر میں مبالغہ کیا اور دیگر حضرات نے ” المعذرون “ شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی کوتاہی کرنے والے۔ کہا جاتا ہے ” عذر “ یعنی کوتاہی کی اور فراء (رح) فرماتے ہیں ” المعذرون “ اصل میں ” المعتذرون “ تھا تاء کا ذال میں ادغام کردیا گیا ہے اور تاء کی حرکت عین کو منتقل کردی گئی ہے۔ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کا تذکرہ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ معذرون سے مراد عامر بن طفیل کا قبیلہ ہے۔ یہ لوگ اپنا دفاع کرنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اگر ہم غزوہ میں شریک ہوتے تو قبیلہ طئی کے بدو ہماری عورتوں اور بچوں اور جانوروں پر غارت گری کرتے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے پیچھے رہ گئے تھے۔” وقعد الذین کذبو اللہ ورسولہ ‘ یعنی منافقین۔ ابو عمر بن علاء (رح) فرماتے ہیں کہ دونوں فریق برا فعل کرنے والے تھے۔ ایک وہ قوم جنہوں نے باطل عذر کرنے کی تکلیف کی اور انہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے مراد لیا ہے ۔ ” وجاء المعذرون “ اور دوسری وہ قوم جنہوں نے کسی عذر کی تکلیف ہی نہیں کی اور پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جرأت کی ۔ یہ منافقین ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے وعید بیان کی۔” سیصیب الذین کفروا منھم عذاب الیم “ پھر عذروالوں کا تذکرہ کیا۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیت نمبر 91:” لیس علی الضعفآئ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی اپاہجوں ‘ بوڑھوں اور عاجز لوگوں پر اور بعض نے کہا بچے مراد ہیں۔ بعض نے کہا عورتیں مراد ہیں۔” ولا علی المرضی ولا علی الذین لایجدون ما ینفقون “ یعنی فقراء ” حرج “ گناہ۔” اذا نصحوا للہ ورسولہ “ ان سے غائب ہونے کے وقت اور ایمان کو خالص کیا ہو اور عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا ہوا ور رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی ہو۔ “ ماعلی المحسنین من سبیل “ کوئی راستہ سزا کا۔” واللہ غفور رحیم “ قتاہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت زید بن عمر اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور وہ نابینا تھے۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

آیت نمبر 92:” ولا علی الذین اذا مآ اتو ک لتحملھم “ مطلب یہ ہے کہ نہ پہلے لوگوں پر کوئی سبیل ہے اور نہ ان لوگوں پر جو آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ یہ سات افراد تھے۔ ان کا نام کثرت سے رونے والے پڑگیا۔” بکائین “ معقل بن یسار ؓ ‘ صنحر بن خنسائ ‘ عبد اللہ بن کعب انصاری ‘ عبلہ بن زید انصاری ‘ سالم بن عمیر ‘ ثعلبۃ بن غنمۃ ‘ عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ یہ حضرات نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ‘ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلنے کا حکم دیا ہے ‘ ہمیں سوار کردیں۔ مفسرین رحمہم اللہ کا اس لفظ ” لتحملھم “ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سوال کیا کہ ان کو جانوروں پر سوار کردیں اور بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ان کو پیوند لگے موزوں اور گھسے ہوئے جوتوں پر سوار کردیں یعنی دے دیں تاکہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ جنگ میں شریک ہو سکیں تو نبی کریم ﷺ نے ان کو جواب دیا جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ” قلت لآ اجد مآ احملکم علیہ تولوا “ روتے ہوئے ” واعینھم تفیض من الدمع حزنا الا یجدوا ما ینفقون “
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

آیت نمبر 93: انما السبیل “ سزا کی ” علی الذین یستاذنونک پیچھے رہ جانے کی وھم اغنیآء رضوا بان یکونوا مع الخوالف عورتوں اور بچوں کے ساتھ وطبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون “
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

تفسیر آیت نمبر 94:” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ روایت کیا گیا ہے کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی تعداد بیاسی تھی جب رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس تشریف لے آئے تو وہ آکر باطل عذر کرنے لگے۔” قل لاتعتذروا لن نئو من لکم قد نبا نا اللہ من اخبارکم وسیری اللہ عملکم ورسولہ “ آئندہ وقت میں کہ کیا تم نے اپنے نفاق سے توبہ کرلی ہے یا اس پر قائم ہو ؟” ثم تردون الی علیم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون “
Ayahs 9:95–96

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

آیت نمبر 95: جب تم ان کی طرف جہاد سے لوٹو گے ” لتعرضوا عنھم “ تاکہ تم ان سے در گزر کرو۔ ” فاعرضوا عنھم “ ان کو چھوڑ دو اور جو انہوں نے اپنے لیے نفاق کو اختیار کیا ہے ” انھم رجس “ یعنی بیشک ان کا عمل بہت برا ہے۔” وما وھم “ آخرت میں ” جھنم جزآء م بما کانوا یکسبون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ یہ اسی (0 8) منافقین تھے جب نبی کریم ﷺ واپس تشریف لائے تو فرمایا ان کے ساتھ نہ بیٹھنا اور ان سے بات بھی نہ کرنا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺ کے لیے اللہ کی قسم کھائی کہ اس کے بعد کسی جنگ سے پیچھے نہ رہے گا اور مطالبہ کیا کہ آپ (علیہ السلام) اس سے راضی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 97: ” الاعراب “ یعنی دیہات والے ” اشد کفرا و نفاقا “ شہر والوں سے ” واجدر “ زیادہ لائق ہیں۔ ” واجدر الا یعلمو ا حدود مآ انزل اللہ علی رسولہ “ کیونکہ وہ قرآن کے سننے اور سنتوں کی پہچان سے بہت دور ہیں۔” واللہ علیم جو کچھ اس کی مخلوق کے دل میں ہے حکیم “ جو اپنے فرائض مقرر کئے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

آیت نمبر :98: ومن الا عراب من یتخذ ما ینفق مغرما “ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے دینے پر ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے روکنے پر عذاب سے نہیں ڈرتے وہ تو صرف خوف اور دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ اور مغرم اس چیز کو لازم کرنا جو لازم نہ ہو۔” ویتربص انتظار کرتا ہے۔ بکم الدوآ ئر “ یعنی زمانے کے پھر نے کا جو کبھی خیر لاتا ہے اور کبھی شر اور ایمان بن رباب (رح) فرماتے ہیں یعنی زمانہ تم پر پلٹ جائے۔ پس رسول اللہ ﷺ مرجائیں اور مشرکین غالب ہوجائیں۔ ” عیلھم دآ ئر ۃ السوئ “ ان پر بلائیں اور غم چکر لگاتے ہیں اور محمد ﷺ اور ان کے دین کے بارے میں بھی براہی خیال کرتے ہیں۔ اور ابن کثیر اور ابو عمر و رحمہما اللہ نے ” دائرۃ السوئ “ یہاں اور سورة فتح میں سین کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی نقصان دہ ‘ آزمائش والی اور ناپسندیدہ چیز اور دیگر حضرات نے سین کے زبر کے ساتھ مصدر کی بناء پر پڑھا ہے اور بعض نے کہا ہے زبر کے ساتھ فساد ‘ اور پیش کے ساتھ نقصان دہ اور ناپسندیدہ چیز۔” واللہ سمیع علیم “ یہ آیت اسد غطفان اور تمیم کے دیہاتیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر بعض کا استثناء کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر 99:” ومن الاعراب من یئومن باللہ والیوم الاخر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مزینہ کے بنو مقرن ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اسلم ‘ غفار اور جہینہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اسلم اور غفار اور جہینہ کا کچھ حصہ اور مزینہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بہتر ہوں گے تمیم ‘ اسد بن خزیمہ ‘ ہوازن اور غطفان سے۔” ویتخذ ما ینفق قربت عند اللہ “ قربات قربتہ کی جمع ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتا ہے۔ وصلوت الرسول “ یعنی اس کی دعاء اور استغفار۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی دعا میں رغبت کرتے ہیں ” الآ انھا قربۃ الھم نافع نے ورش کی روایت سے قربۃ راء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے سکون کے ساتھ سید خلھم اللہ فی رحمتہ اپنی جنت میں ان اللہ غفور رحیم) “
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

100 ” والسبقون الاولون من المھجرین والا نصار “ مرفوع ہے باری تعالیٰ کے قول ” والسابقون “ پر عطف ہے۔ سابقون الا ولون مہاجرین والا نصار میں سے کون ہیں سابقون سے کون مراد ہیں اس میں اختلاف ہے۔ سعید بن مسیب ‘ قتادہ ‘ ابن سیرین اور جماعت نے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ یہ اہل بدر ہیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر ہوئے تھے اور بیعت رضوان حدیبیہ میں ہوئی اور اس میں اختلاف ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد کون پہلے ایمان لایا اور اس با پر تو اتفاق ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لائیں تو بعض نے کہا پہلے ایمان لانے والے اور نماز پڑھنے والے حضرت علی بن ابی طالب ؓ ہیں اور یہی حضرت جابر ؓ کا قول ہے اور اسی کے مجاہد (رح) اور ابن اسحاق (رح) قائل ہیں کہ دس سال کی عمر میں اسلام لائے اور بعض نے فرمایا کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد ابوبکر صدیق ؓ ایمان لائے اور یہی ابن عباس ؓ اور ابراہیم نخعی اور شعبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض نے فرمایا کہ پہلے اسلام لانے والے زید بن حارثہ ؓ ہیں اور یہی زہری اور عروہ بن زبیر ؓ کا قول ہے اور اسحاق بن ابراہیم حنظلی (رح) نے ان اقوال کے درمیان تطبیق کی ہے۔ پس وہ فرماتے ہیں کہ مردوں سے پہلے مسلمان حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں اور عورتوں میں سے خدیجہ ؓ اور بچوں میں سے علی ابن ابی طالب ؓ اور غلاموں میں سے زید بن حارثہ ؓ پہلے اسلام لائے۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ اسلام لائے تو اپنے اسلام کو ظاہر کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نرم مزاج شخص تھے اور قریش کے اچھے نسب والے اور بڑے عالم تھے اور یہ بڑے اچھے اخلاق والے تاجر تھے اور ان کی قوم کے مردان کے پاس آتے تھے اور قریش کے اچھے نسب والے اور بڑے عالم تھے اور یہ بڑے اچھے اخلاق والے تاجر تھے اور ان کی قوم کے مردان کے پاس آتے تھے اور کئی باتوں پر مشورہ کرتے تھے کیونکہ آپ ؓ علم والے اور اچھی مجلس والے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے اعتماد کے لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے لگے تو ان کے ہاتھوں پر عثمان بن عفان ؓ ‘ زبیر بن عوام ‘ عبد الرحمن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ ؓ اسلام لائے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ جب انہوں نے اسلام کے بعد نماز بھی پڑھ لی۔ یہ آٹھ افراد وہ ہیں جنہوں نے اسلام کی طرف سبقت کی۔ پھر لوگ لگاتار اسلام میں داخل ہونے لگے اور انصار میں اسلام میں سبقت کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے عقبہ کی رات بیعت کی اور یہ عقبہ اولیٰ میں چھ افراد تھے اور عقبہ ثانیہ میں ستر افراد تھے اور وہ لوگ جو ایمان لائے جب ان کے پاس ابو زر ار ۃ مصعب بن عمیر ؓ گئے اور ان کو قرآن کی تعلیم دی تو ان کے ساتھ عورتوں اور بچوں کی بہت بڑی تعداد اسلام لائی۔ ” والسابقون الاولون من المھاجرین “ جنہوں نے اپنی قوم اور قبیلہ کو چھوڑا اور اپنے وطن کو ترک کیا۔” والانصار “ مدینہ کے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کو ٹھکانہ دیا۔” والذین اتبعو ھم باحسان “ بعض نے کہا ” سابقون الون “ کے سوا بقیہ مہاجر و انصار مراد ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ لوگ مراد ہیں جو ایمان اور ہجرت یا دین کی مدد کرنے میں قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلتے رہے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے مہاجرین اور انصار ؓ کا تذکرہ ترحم اور دعا کے ساتھ کیا۔ ابو صخر حمید بن زیادہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی (رح) کی خدمت میں گیا اور ان کو عرض کیا کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آپ (رح) کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ جنت میں ہوں گے خواہ نیک ہوں یا کسی سے کچھ فرو گذاشت ہوگئی ہو۔ میں نے عرض کیا یہ بات آپ نے کہاں سے کہہ دی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تو اللہ کا فرمان ” والسابقون الاولون من المھاجرین۔۔۔۔۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ “ تک پڑھ اور فرمایا کہ ” والذین اتبعو ھم باحسان “ سے تابعین میں یہ شرط لگائی ہے کہ وہ صحابہ کرام ؓ کے نیک افعال میں اتباع کریں۔ ابو صخر کہتے ہیں کہ گویا میں نے اس سے پہلے کبھی یہ آیت پڑھی ہی نہ تھی۔ روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ کرام ؓ کو برا بھلا نہ کہو ‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان میں سے کسی ایک کے ایک مد یا اس کے نصف کو نہ پہنچ سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب میں سب کو جمع کردیا اور فرمایا ” رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ واعد لھم جنت تجری تحتھا الانھر ابن کثیر نے (من تحتھا الانھار) پڑھا ہے اور اسی طرح اہل مکہ کے مصاحف میں ہے خلدین فیھآ ابدا ذلک الفوز العظیم “
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

تفسیر 101: ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ اور یہ مزینہ ‘ جہینہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے لوگ ہیں ان کے گھر مدینہ کے ارد گرد تھے۔ ” ومن اھل المدینۃ “ یعنی اوس اور خزرج مدینہ کے ہیں ان میں میں سے بھی منافق ہیں۔” مردوا علی النفاق یعنی نفاق پر سرکشی کی لا تعلمھم آپ اے محمد ﷺ ط نحن نعلمھم ط سنعذبھم مرتین “ ان دونوں عذابوں کی تعیین میں اختلاف ہے۔ کلبی سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فلاں تو نکل جا کیونکہ تو منافق ہے تو کئی لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ان رسوا کیا۔ تو یہ پہلا عذاب ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ پہلا عذاب قتل اور قید ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے اور انہی سے یہ بھی روایت ہے کہ ان کو دو مرتبہ بھوک کا عذاب دیا گیا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ پھوڑے کا عذاب دنیا میں اور قبر کا عذاب۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ پہلا عذاب دنیا میں مال اور اولاد کی مصیبتیں اور دوسرا آخرت کا عذاب اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ پہلا عذاب ان پر حدود قائم کرنا اور دوسرا قبر کا عذاب اور بعض نے کہا پہلا عذاب ان کی روح قبض کرتے ہوئے فرشتوں کا ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارنا اور دوسرا عذاب قبر اور بعض نے کہا پہلا مسجد ضرار کو جلانا اور دوسرا ان کو جہنم کی آگ سے جلانا۔” ثم یردون الی عذاب عظیم “ یعنی جہنم کے عذاب کی طرف۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 102: تفسیر آیت نمبر 102:” وآخرون “ یعنی اہل مدینہ اور اعراب میں سے دوسرے لوگ مراد ہیں۔ یہ منافقین کی طرف نہیں لوٹ رہا۔ ” اعترافوا انہوں نے اقرار کیا بذنو بھم خلطوا عملا صالحا “ اور وہ ان کا اپنے گناہوں اور اپنی توبہ کا اقرار کرنا ہے۔ ” وآ خر سینا “ یعنی دوسرے برے اعمال کے ساتھ۔ باء کو وائو کی جگہ لایا گیا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے خلطت الماء واللین یعنی باللبن بر اعمل ان کا نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ جانا اور نیک عمل ان کا شرمندہ ہونا اور خود کو ستونوں سے باندھنا ہے اور بعض نے کہا کہ نیک عمل ان کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوات ہیں۔ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عذر عسی اللہ ان یتوب علیھم ان اللہ غفوررحیم “ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے۔ پھر اس پر نادم ہوئے اور کہنے لگے کہ وہ عورتوں کے ساتھ سایوں میں تھے اور رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ جہاد اور تکلیفوں میں تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قریب آئے تو یہ حضرات کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! ہم اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ لیں گے اور اپنے آپ کو آزاد نہ کریں گے جب تک خود رسول اللہ ﷺ ہمیں آزاد نہ کردیں اور ہمارا عذر قبول نہ کرلیں تو ان حضرات نے خود کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا۔ جب آپ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے تو ان پر گزر ہوا ‘ ان کو بندھے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون لو گ ہیں ؟ تو لوگوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ (علیہ السلام) سے پیچھے رہ گئے تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ وہ خود کو آزاد نہ کریں گے جب تک آپ (علیہ السلام) ان سے راضی ہو کر ان کو آزاد نہ کردیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ ان کو آزاد نہ کروں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا جب تک مجھے ان کے آزاد کرنے کا حکم نہ دیا جائے کیونکہ انہوں نے مجھ سے بےرغبتی کی اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں جانے سے پیچھے رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا عذر قبول کر کے ان کو کھلوا دیا۔ جب وہ آزاد ہوگئے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! یہ ہمارے مال ہیں جنہوں نے ہمیں آپ سے پیچھے کردیا ‘ آپ (علیہ السلام) اس کو صدقہ کر کے ہمیں پاک کردیں اور ہمارے لیے استغفار کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے تمہارے مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” خذ من اموالھم صدقہ “
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔ اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

آیت نمبر 103: توبہ کرنے والے افراد کی تعداد تفسیر : ان توبہ کرنے والے حضرات کی تعداد میں اختلاف ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دس تھے ‘ ان میں سے حضرت ابو لبابہ ؓ بھی تھے اور عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ پانچ تھے۔ ان میں سے ایک ابو لبابہ ؓ تھے۔ سعید بن جبیر ؓ اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ آٹھ تھے۔ ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سات تھے اور یہ سب کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک ابو لبابہ ؓ تھے اور علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ صرف ابو لبابہ ؓ کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے۔ پھر ان کے گناہ میں اختلاف ہے۔ حضرت ابو لبابہ کی توبہ کا ذکر مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آی تابو لبابہ ؓ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے بنو قریظہ کو کہا تھا کہ اگر تم ان کے فیصلہ پر آگئے تو حلق کی طرف اشارہ کرکے ذبح کا بتایا اور زہری (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ ؓ کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے نازل ہوئی کہ انہوں نے اپنے آپ کو ستون سے باند ھ لیا تھا اور کہا تھا اللہ کی قسم ! میں اپنے آپ کو نہ کھولوں گا اور نہ کھانا کھائوں گا اور نہ کچھ پیوں گا یہاں تک کہ میں مرجائوں یا اللہ ! میری توبہ قبول کرلیں تو سات دن اسی حال پر رہے نہ کچھ کھایا ہ پیا۔ حتیٰ کہ بےہوش ہو کر گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ان کو کہا گیا کہ آپ ؓ کی تو بہ قبول ہوگئی تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! میں خود کو نہ کھولوں گا جب تک مجھے رسول اللہ ﷺ خود آکر نہ کھولیں تو آپ (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کو کھولا۔ پھر حضرت ابو لبابہ ؓ نے کہا کہ میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا پڑوس چھوڑ دوں جس کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہوا ہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے صدقہ کردوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے ابو لبابہ ! تجھے تہائی کافی ہے ‘ آگے سب حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان حضرات کے مالوں کا تہائی حصہ قبول کیا اور دو تہائی ان لوگوں کے پاس رہنے دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ” خذ من اموالھم “ کہ مال میں سے کچھ لیں ‘ یہ نہیں فرمایا تھا کہ سارا مال لے لیں۔ حسن اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ان تین کے علاوہ ہیں جو پیچھے رہ گئے تھے۔ آیت نمبر 103:” خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم “ اس کے ذریعے ان کے گناہوں کو ” وتزکیھم بھا “ ان کو منافقین کے مرتبہ سے بلند کرکے مخلصین کے مرتبہ تک پہنچا دیں اور بعض نے کہا کہ ان کے مال بڑھ جائیں ” وصل علیھم “ ان کے لیے دعا اور استغفار کریں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ صدقہ وصول کرنے والے کا صدقہ دینے والے کو یہ کہنا ہے ” آجرک اللہ فیما اعطیت وبارک لک فیما ابقیت “ ( اللہ تیرے دیئے ہوئے پر اجر دیں اور باقی مال میں برکت دیں) اور الصلاۃ کا معنی دعا کرنا ہے۔” ان صلاتک “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” صلاتک “ واحد کا صیغہ اور یہاں تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة ہود میں ” اصلاتک “ اور سورة المئومنین میں ” علی صلاتھم “ سب کو واحد کا صیغہ۔ حفص (رح) نے ان دونوں کی یہاں اور سورة ہود میں موافقت کی ہے اور دیگر حضرات نے ان سب میں جمع کا صیغہ اور یہاں تاء کی زیر پڑھی ہے اور سورة مئومنین میں بھی اور الا نعام میں اختلاف نہیں ہے۔” وھم علی صلا تھم یحافظون “ اور المعارج میں جو ہے ” وھم علی صلاتھم دائمون “ یہ دونوں واحد کے صیغے ہیں۔” ان صلاتک سکن لھم “ یعنی بیشک آپ کی دعا ان کے لیے رحمت ہے۔ یہ بات ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کے لیے سکون و اطمینان ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی ہے۔ اور ابو عبیدہ فرماتے ہیں ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے والی ہے ” واللہ سمیع علیم “ مسئلہ :۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ صدقہ وصول کرنے کے وقت امام پر دعا دینا واجب ہے یا نہیں ؟ بعض علماء رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ واجب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ مستحب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ فرض صدقات کی وصول کے وقت دعا واجب ہے اور نفلی صدقات کے وقت مستحب ہے۔ عمرو بن مرۃ (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ کو فرماتے سنا ( یہ اصحاب ثجرہ میں سے ہیں) کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی قوم مصدقہ لاتی۔ تو آپ (علیہ السلام) فرماتے ” الھم صل علیھم “ تو میرے والد آپ (علیہ السلام) کے پاس صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اللھم صل علی آل ابی اوفی “ اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں کہ یہ فرض صدقہ میں نہیں ہے بلکہ قسم کے کفارہ کے صدقہ میں ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ فرض صدقہ میں ہے۔ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو جن لوگوں نے پیچھے رہ جانے کے باوجود توبہ نہیں کی تھی وہ کہنے لگے کہ یہ لوگ کل تو ہمارے ساتھ تھے کہ نہ ان سے کوئی بات کرتا تھا نہ کوئی ساتھ بیٹھتا تھا۔ اب ان کو کیا ہوگیا ؟ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے واپس آکر منافقین سے گفتگو اور ہم نشینی سے منع فرمادیا تھا۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے ؟ اور بیشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

تفسیر 104: الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویا خذالصدقت یعنی ان کو قبول کرتے ہیں وان اللہ ھوالتواب الرحیم “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ نہیں ہے کوئی بندہ جو اپنی پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ تو پاکیزہ مال ہی کو قبول کرتے ہیں اور آسمان کی طرف پاکیزہ چیز ہی بلند ہوتی ہے مگر اس کو رحمن کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے تو وہ اس کی ایسے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی ایک اپنے بچھڑ نے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کی مثل آئے گا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے پڑھا ” ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویا خذ الصدقات “
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو (سب) تم کو بتائے گا۔

آیت نمبر 105: مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لیے وعید ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا دیکھنا اللہ تعالیٰ کا آپ (علیہ السلام) کو خبر دینا ہے اور مئومنین کا دیکھنا ان کے دلوں میں نیک لوگوں کی محبت ڈالنا اور برے لوگوں کا بغض ڈالنا۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے انکو عذاب دے اور چاہے معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 106:”۔۔۔ “ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے ابوبکر کے علاوہ ” مرجون “ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے ساتھ اور ” الارجائ “ تاخیر کرنا۔ آخرون مرجون سے کون لوگ مراد ہیں ” مرجون “ یہ وہ تین لوگ تھے جن کا واقعہ آگے تفصیل سے آرہا ہے۔ حضرت کعب بن مالک ؓ ‘ ہلال بن امیہ ‘ مرارۃ بن ربیع ؓ ان حضرات نے توبہ کرنے اور عذر کرنے میں اتنی کوشش نہیں کی جو ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے کی تھی تو نبی کریم نے پچاس راتیں ان کا معاملہ موقوف رکھا اور لوگوں کو ان سے بات چیت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع کردیا تو یہ چیز ان پر بہت گراں گزری اور زمین تنگ ہوگئی ‘ یہ بدر کے شرکاء میں سے تھے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہ ہلاک ہوگئے اور دوسرے لوگ کہنے لگے کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کردیں تو یہ اللہ کے حکم کے منتظر تھے نہیں جانتے تھے کہ ان کو عذاب دیں گے یا ان پر رحم کریں گے یہاں تک کہ پچاس راتوں کے بعد ان کی توبہ کا حکم نازل ہوا۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

تفسیر آیت نمبر 107: ” والذین اتخذوا اہل مدینہ اور اہل شام نے ” الذین “ بغیر وائو کے پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور دیگر حضرات نے وائو کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسجد ضرار کی بناء کا پس منظر مسجد ا ضرارا “ یہ آیت منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان لوگوں نے ایک مسجد بنائی جس کے ذریعے مسجد قباء کی مخالفت کرنا چاہتے تھے۔ یہ بارہ منافق تھے۔ ودیعہ بن ثابت ‘ ، خذام بن خالد اسی کے گھر سے یہ مسجد نکالی گئی اور ثعلبہ بن حاطب ‘ حارثہ بن عمرو اور اس کے دوبیٹے مجمع اور زید ‘ معتب بن قشیر ‘ عباد بن حنیف ‘ سہل بن حنیف کا بھائی ‘ ابو جہیتہ بن از عر ‘ نبتل بن حارث بحاد بن عثمان اور ایک آدمی جس کو بحذج کہا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ مسجد بنائی مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لیے۔” وکفرا “ اللہ اور اس کے رسول کا ” وتفریقام بین المئو منین “ اس لیے کہ تمام مسلمان مسجد قباء میں نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے مسجد ضرار بنائی تاکہ ان میں سے بعض وہاں نماز پڑھیں تو ان میں اختلاف پیدا ہوں ‘ ان کو نماز مجمع بن حارث پڑھاتا تھا۔ جب تعمیر سے فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ‘ آپ (علیہ السلام) اس وقت تبوک کے سفر کی تیاری فرما رہے تھے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم نے مریضوں اور حاجت مندوں کی نماز کے لیے مسجد بنائی ہے اور بارش اور سردیوں کی راتوں کے لیے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) وہاں تشریف لائیں اور ہمارے ساتھ اس میں نماز پڑھیں اور ہمارے لیے برکت کی دعا کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں سفر کے لیے جارہا ہوں اگر ہم واپس آئے تو ان شاہ اللہ تمہارے پاس آکر اس میں نماز پڑھیں گے۔” وارصاد ا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل “ یعنی اس شخص کے انتظار اور تیاری کے لیے جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی اس سے پہلے۔ یہ شخص ابو عامر راہب تھا یہ انہی منافقین میں سے تھا اور یہ حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کا والد ہے۔ یہ جاہیلت میں نصرانی ہو کر راہب بن گیا تھا اور ٹاٹ کا لباس پہنتا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ (علیہ السلام) کو ابو عامر نے کہا وہ دین کیا ہے جس کو آپ (علیہ السلام) لائے ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں دین حنیف ابراہیم (علیہ السلام) کا دین لایا ہوں تو ابو ابو عامر کہنے لگا کہ میں بھی اسی دین پر ہوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس پر نہیں ہے کہنے لگا کیوں نہیں لیکن آپ (علیہ السلام) نے تو دین حنیف میں وہ باتیں داخل کردی ہیں جو اس میں نہیں تھیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے کچھ نہیں کیا میں تو اس دین کو سفید صاف ستھرا لے کر آیا ہوں تو ابو عامر کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ ہم دونوں میں سے جھوٹے کو موت دے اس حال میں کہ اکیلا مسافری کی حالت میں ہو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا (آمین) اور اس کا نام ابو عامر فاسق رکھا۔ جب احد کا دن آیا تو ابو عامر نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ میں جس قوم کو بھی آپ (علیہ السلام) کے ساتھ قتال کرتا پائوں گا تو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ اہل سے قتال کروں گا تو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر جنگ حنین تک لڑائی کرتارہا۔ پھر جب ہوا زن کو شکست ہوئی تو ناامید ہو کر شام کی طرف بھاگ گیا اور منافقین کو پیغام بھیجا کہ جتنا ہو سکے قوت اور ہتھیار تیار کرو اور میرے لیے ایک مسجد بنائو ‘ میں روم کے بادشاہ قیصر کے پاس جارہا ہوں اور روم سے ایک بڑا لشکر لائوں گا اور محمد ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو مدینہ سے نکال دوں گا تو ان لوگوں نے مسجد قباء کے پہلو میں مسجد ضرار بنائی تو یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وارصاد المن حارب اللہ ورسولہ من قبل “ یعنی ابو عامر فاسق جب شام سے آئے تو اس میں نماز پڑھے اور نہ اس مسجد ضرار کے بننے سے پہلے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرچکا ہے۔” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی “ یعنی اس کی تعمیر سے اچھے کام کا ارادہ ہے اور وہ اچھا کام مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد تک جانے سے عاجز اور ضعیف لوگوں کے لیے سہولت۔” واللہ یشھد انھم لکذبون “ اپنے قول اور قسم میں۔ روایت کیا گیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے اور مدینہ کے قریب ذی اوان جگہ پر پڑائو کیا تو وہ آپ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے اور ان کی مسجد میں چلنے کا مطالبہ کیا تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی قمیص منگوائی تاکہ اس کو پہن کر ان کے پاس جائیں تو آپ (علیہ السلام) پر قرآن نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو مسجد ضرر کی خبر اور ان لوگوں کا ارادہ بتایا تو آپ (علیہ السلام) نے مالک بن و خشم ؓ ‘ معن بن عدی ‘ عامر بن سکن اور حضرت حمزہ ؓ کے قاتل حضرت وحشی ؓ کو بلایا اور ان کو فرمایا کہ اس مسجد کی طرف جائو جس کے لوگ ظالم ہیں اس کو گرا دو اور جلا دو تو یہ حضرات بڑی تیزی سے روانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف پر پہنچے جو مالک بن د خشم ؓ کا قبیلہ ہے تو مالک ؓ نے کہا مجھے مہلت دو تاکہ میں اپنے گھر سے آگ لے آئوں تو وہ گھر گئے اور کھجور کی ایک شاخ لے کر اس کو آگ لگائی۔ پھر یہ حضرات وہاں سے نکلے اور دوڑتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں کچھ لوگ تھے تو اس کو آگ لگا دی اور گرادیا اور مسجد والے ایک طرف ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو کوڑی بنادیا جائے اس میں مردہ جانور ‘ بدبودار چیزیں وغیرہ ڈالی جائیں اور ابو عامر شام میں اکیلا مسافری کی حالت میں مرگیا۔ روایت کیا گیا ہے کہ بنو عمر و بن عوف جنہوں نے مسجد قباء بنائی تھی یہ لوگ حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے اور کہا کہ مجمع بن حارثہ کو اجازت دیں کہ مسجد قباء میں ہماری امامت کیا کریں تو حضرت عمر ؓ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ کیا یہ مسجد ضرار کا امام نہیں تھا ؟ تو مجمع ؓ نے حضرت عمر ؓ عن کو عرض کیا اے امیر المئومنین ! میرے بارے میں جلدی نہ کریں ‘ اللہ کی قسم ! میں نے اس مسجد میں نماز تو پڑھی تھی لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے۔ اگر میں یہ بات جانتا تو ان کے ساتھ اس مسجد میں نماز نہ پڑھتا۔ میں نوجوان لڑکا تھا ‘ قرآن پڑھنے والا تھا ‘ وہ بوڑھے تھے قرآن نہ پڑھ سکتے تھے تو میں نے ان کو نماز پڑھا دی ‘ میں تو یہی سمجھتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایسا کررہے ہیں لیکن میں ان کے دل کی بات نہ جانتا تھا تو اس پر عمر ؓ نے ان کا عذر قبول کر کے ان کی تصدیق کی اور ان کو مسجد قباء میں نماز پڑھانے کی اجازت دے دی اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ پر شہروں کی فتوحات کیں تو آپ ؓ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ ایک شہر میں دو مسجدیں نہ بنائیں کہ ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگیں۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

تفسیر 108: لاتقم فیہ ابدا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس میں نماز نہ پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ ن اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مسجد ضرار میں نماز نہ پڑھیں۔ لام ابتداء کیلئے ہے اور بعض نے کہا ہے لام قسم ہے اصل عبادت ( والل لمسجد اسس) یعنی اس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی سو ( من اول یوم) یعنی جس دن پہلے اس کی بنیاد رکھی گئی تھی ” لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ “ نماز پڑھنے کے لیے۔ اس مسجد کی تعیین میں اختلاف ہے۔ ابن عمر ؓ ‘ زید بن ثابت اور ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مدینہ کی مسجد مسجد نبوی ﷺ ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ ابو سلمہ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے پاس سے عبدالرحمن بن ابی سعید خدری ؓ کا گزر ہوا تو میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد سے ” لمسجد اسس علی التقوی “ کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میرے والد نے کہا ہے کہ میں آپ (علیہ السلام) پر آپ (علیہ السلام) کی بعض ازواج میں کسی کے گھر داخل ہوا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) دو مسجدوں میں سے کون سی تقویٰ پر بنائی گئی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے کنکریوں کی ایک مٹھی لی اور اس کو زمین پر مارا اور فرمایا وہ تمہاری یہ مدینہ کی مسجد ہے تو میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی آپ کے والد سے اسی طرح سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر حوض پر ہے اور علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ مسجد قباء ہے اور یہی عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہی عروہ بن زبیر ‘ سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ (رح) کا قول ہے۔ عبد اللہ بن دینار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء تشریف لاتے ‘ پیدل چل کر اور سوار ہو کر اور عبد اللہ بن عمر ؓ بھی ایسے کرتے تھے اور نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس میں دو رکعت پڑھتے تھے۔” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ حدث اور جنابت اور نجاست سے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے اور رات کو جنابت کی حالت میں نہ سوتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔” واللہ یحب المطھرین “
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر آیت نمبر 109: ” افمن اسس بنیا نہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف “ ابن عمر و اور حمزہ اور ابوبکر رحمہم اللہ نے راء کے سکون کے ساتھ اور باقی حضرات نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ جرف ایسا کنواں جس کی منڈیر نہ ہو ” ھار “ یعنی ہائر اور بمعنی وہ گرنے والا ہے۔ ” فانھار بہ یعنی بنانے والے ساتھ گرپڑے فی نار جھنم “ مراد یہ ہے کہ اس مسجد ضرار کو تعمیر کرنا جہنم کے کنارے پر تعمیر کی طرح ہے وہ اپنے اوپر آباد لوگوں کے ساتھ جہنم میں گرجائے گا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے جائے گا ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

تفسیر آیت نمبر 110:” لا یزال بنیا نھم الذی بنواریبۃ شک اور نفاق کے طور پر فی قلوبھم “ وہ خیال کرتے تھے کہ وہ اس مسجد کو بنا کر نیک کام کررہے ہیں جیسے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو بچھڑے کی بڑ ی محبت تھی۔ یہ تفسیر ابن عباس ؓ نے بیان کی ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ حسرت اور ندامت ہے کیونکہ وہ اس کی تعمیر پر نادم تھے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی تعمیر کا گرنا شک اور غصہ کا سبب ہے ان کے دلوں میں۔” الآ ان تقطع قلوبھم “ یعنی ان کے دل پھٹ جائیں اور وہ مرجائیں۔ اور ابن عامر ‘ ابو جعفر ‘ حفص اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” تقطع “ تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” تقطع “ تو دو تاء میں سے ایک کو حذف کیا گیا ہے تخفیف کی غرض سے اور دیگر حضرات نے ” تقطع “ تاء کے پیش کے ساتھ تقطیع سے پڑھا ہے اور صرف یعقوب (رح) نے ” الی ان “ لام کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے غایت ہونے کی بناء پر اور دیگر حضرات نے ” الا ان “ لام کی شد کے ساتھ استثناء کی بناء پر پڑھا ہے اور یعقوب کی قرأت پر ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ کی تفسیر دلالت کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اس سے شک اور شرمندگی میں رہیں گے یہاں تک کہ جب وہ مریں گے تو اس وقت ان کو یقین آجائے گا۔” واللہ علیم حکیم “
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

جان و مال کے بدلے میں جنت کا سودا آیت نمبر 111:” ان اللہ اشتری من المئو منین انفسھم واموالھم “ محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی مکہ میں عقبہ کی رات کو اور یہ ستر افراد تھے تو عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) اپنے رب اور اپنے لیے جو چاہے شرط طے کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے اور اپنے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم مجھ سے ہر اس چیز کو روکو گے جس کو اپنے آپ اور اپنے مال سے روکتے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جنت۔ تو انصار کہنے لگے بڑے نفع کا سودا ہے ہم نہ خود اس کو ختم کریں گے اور نہ ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔” بان لھم الجنۃ “ اور اعمش (رح) نے ” بالجنۃ “ پڑھا ہے۔ ” یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فیقتلون “ یاء کے پیش اور تاء کے زبرے ساتھ پڑھا ہے۔ مفعول کے فعل کے فاعل کے فعل پر مقدم ہونے کی بناء پر۔ یعنی ” یقتل بعضھم ویقتل الباقون “ اور باقی حضرات نے ” فیقتلون “ یاء کے زبر اور تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔” ویقتلون “ یاء کے پیش اور تاء کے زبر کے ساتھ فاعل کے فعل مفعول کے فعل پر مقدم ہونے کی بناء پر اور وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے کفار کو قتل کرتے ہیں پھر شہید ہوتے ہیں یہ وجہ زیادہ ظاہر ہے اور اس کی قرأت اکثر ہے ۔ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وعدا علیہ حقا “ یعنی جنت کا ثواب ان کے لیے وعدہ ہے اور حق ہے ” فی التورۃ والا نجیل والقران “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور اس کو ان کتابوں میں بیان کیا۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ تمام ملتوں والوں کو جہاد کا حکم دیا گیا جنت کے ثواب کے بدلے۔ پھر ان کو خوشخبری دی اور فرمایا ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ فاستبشروا تم خو ش ہو جائو ببیعکم الذی با یعتم بہ ط وذلک ھوالفوز العظیم “ مئومنین کے لیے سستا سودا حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے بیعت کی اور دونوں سودے تمہارے مقرر کردیئے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ثمن (قیمت ) طے کیا پھر ا ن کے لیے اس میں مزید اضافہ کردیا اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تم دوڑ و نفع والی بیع کی طرف جو اللہ تعالیٰ ن ہر مئومن سے کی ہے اور انہی سے روایت ہے کہ فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے دنیاوی ہے تو دنیا کے کچھ حصہ کے بدلے جنت کو خریدے۔ پھر ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

سودا کرنے والے مومنین کی صفات تفسیر 112:” التآئبون “ فراء فرماتے ہیں رفع کے ساتھ نئی کلام شروع کی گئی ہے پہلی آیت کے مکمل اور کلام کے ختم ہونے کی وجہ سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ” التائبنون “ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں خواہ انہوں نے جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے تو جس کی یہ صفت ہوگی تو اس کے لیے بھی جنت ہے اور یہ معنی اچھا ہے تو گویا کہ اللہ تعالیٰ نے تما م مئومنین کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے (وکلا و عداللہ الحسنی) پس جس نے اس کو پہلے کے تابع بنایا ہے تو ان کے لیے بھی جنت کا وعدہ ہے اور اگر جنت کا وعدہ ان مجاہدین کے لیے ہو جو ان صفات کے ساتھ موصوف ہیں۔” التائبون “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کی اور نفاق سے بری ہوئے۔ ” العبدون “ اطاعت کرنے والے جنہوں نے خالص اللہ کے لیے عبادت کی ہو۔” الحمدون “ یعنی جو خوشحالی و تنگ حالی ہر حال میں اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں پہلے ان لوگوں کو بلایا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں خوشی اور تنگی میں۔” السآ ئحون “ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ روزہ دار مراد ہیں۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” سائحون “ سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مراد ہیں۔ حضرت عثمان بن منطعون ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے سیاحت کی اجازت دیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میری امت کی سیاحت کے راستے میں جہاد ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” سائحون “ سے طالب علم مراد ہیں۔” الرکعون السجدون “ یعنی نماز پڑھنے والے ” الا مرون بالمعروف ایمان کے ساتھ والناھو ن عن المنکر شرک سے اور کہا گیا ہے کہ معروف سے مراد سنت ہے اور منکر سے مراد بدعت ہے والحفظون لحدود اللہ اللہ کے اوامر پر قائم رہنے والے اور حسن فرماتے ہیں کہ اہل وفا مراد ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کی ہوئی بیعت کو پورا کیا۔ وبشر المئومنین “