7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

تفسیر :- اس کا واقعہ یہ ہے کہ اس شخص نے پہلی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں اور جانتا تھیں اور جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک رسول بھیجنے والے ہیں اس کو امید تھی کہ وہ رسول میں ہی ہوں گا۔ جب محمد ﷺ کو رسول بنایا گیا تو اس کو حسد ہوا جس کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) کا انکار کیا۔ یہ حکمت اور اچھی نصیحت کرنے والا شخص تھا۔ یہ کسی بادشاہ کے پاس گیا ہوا تھا واپس آیا تو بدر کے مقتولین پر گزر ہوا تو کہنے لگا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل نہ کرتے۔ جب امیہ مرگیا تو اس کی بہن گھبرائی ہوئی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بھائی کی وفات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا وہ سویا ہوا تھا کہ دو آنے والے اس کے پاس آئے اور گھر کی چھت کھول دی اور نیچے اترے، ایک اس کے پائوں اور دوسرا سرہانے بیٹھ گیا، پائوں والے نے سروالے کو کہا یہ زیادہ یاد رکھنے والا ہے اس نے جواب دیا پاکیزہ ہے اس نے کہا اس نے انکار کیا۔ وہ بہن کہتی ہے کہ میں نے امیہ سے پوچھا تو اس نے کہا میرے بارے میں بھلائیک ا ارادہ کیا گیا ہے۔ پھر اس پر غشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے۔ زندگی کتنی ہی مدت تک لمبی ہو۔ اس کو کبھی زوال کی طرف جانا ہی ہے۔ جو حالت میرے سامنے آئی کاش اس سے پہلے ہی میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہاڑی بکرے چراتا (یعنی گوشہ گیر ہو کر سب انسانوں سے الگ جا رہتا) بلا شبہ حساب فہمی کا دن بڑا دن ہوگا ایسا بھاری دن ہوگا کہ (شدت ہول سے) بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ بلاشبہ حساب فہمی کا دن بڑا دن ہوگا ایسا بھاری دن ہوگا کہ (شدت ہول سے) بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ بلاشبہ حساب فہمی کا دن بڑا دن ہوگا ایسا بھاری دن ہوگا کہ (شدت ہول سے) بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے شعر مجھ کو سنائو تو اس نے کچھ قصیدے سنائے تو آپ (علیہ السلام) نیف رمایا کہ اس کے شعر ایمان لائے اور اس کا دل کافر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ یہ آیت بسوس کے بارے میں نازل ہوئی یہ بنی اسرائیل کا آدمی تھا اس کو تین مقبول دعائوں کا کہا گیا ۔ اس کی بیوی تھی جس سے ایک بیٹا تھا تو بیوی نے کہا ایک مقبول دعا مجھے دے اس نے کہا کیا چاہتی ہے ؟ اس نے کہا اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے بنو اسرائیل کی خوبصورت ترین عورت بنا دے، اس نے دعا کی تو وہ خوبصورت عورت بنادی گئی جب اس کو یہ نعمت ملی تو خاوند سے بےرغبتی دکھانے لگی اور اکڑنے لگی تو خاوند کو غصہ آیا اور اس پر بد دعا کی تو وہ بھوکنے والی کتیا بن گئی تو وہ دعائیں چلی گئیں تو اس کا بیٹا آیا کہ ہماری زندگی کا کیا فائدہ ؟ ہماری ماں کتیا بن گئی ہے لوگ ہمیں عاردلاتے ہیں آپ اللے سے دعا کریں کہ اس کو پہلے جیسا کر دے تو وہ دعا کی وہ عورت ٹھیک ہوگئی اور ساری دعائیں بھی چلی گئیں اور پہلے دو قول زیادہ ظاہر ہیں۔ حسن اور ابن کیسان رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ آیتا ہل کتاب کے منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو ایسے پہچانتے تے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کی مثال بیان کی ہے جس پر ہدایت پیش کی گئی ہو او اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہو۔ پس یہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کی مثال بیان کی ہے جس پر ہدایت پیش کی گئی ہو اور اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہو۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وائل علیھم نبا الذی اتیناہ آیاتنا “ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے ایک کتاب دی گئی تو وہ اس سے ایسے نکلا جیسے سانپ اپنی کھال سے نکلتا ہے۔ (فاتبعہ الشیطن فکان من الغوین) 176 (ولو شئنا لرفعنہ) یعنی اس کا مرتبہ اور دہ ان آیات کے ذریعے بلند کرتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم اپنے علم سے اس کو بلند کرتے ہیں اور مجاہد اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہم ان سے کفر اٹھا دیتے ہیں اور اس کو آیات سے بچا لیتے ہیں۔ (بھا ولکنہ اخلد الی الارض) یعنی دنیا میں رہائش رہی اور دنیا کی طرف مائل رہا زجاج (رح) فرماتے ہیں ” خلد “ اور ” اخلد “ ایک ہیں اور اس کی اصل خلود سے ہے اور وہ دوام اور مقام ہے کہا جاتا ہے ” اخلد “ فلان بالمکان جب وہ اس میں مقیم ہو اور الارض سے یہاں دنیا مراد ہے اس لئے کہ دنیا میں جو بیابان اور لہلہاتے کھیت ہیں سب ارض ہیں اور دنیا کا سارا سامان زمین سے نکالا ہوا ہے۔ (واتبع ھوہ) جس طرف خواہش نے دعوت دی اس کا مطیع ہوگیا اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کی خواہش قوم کے ساتھ تھی۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کا طالب بنا اور اپنے شیطان کی اطاعت کی یہ سخت ترین آیت ہے علماء پر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ایک شخص کو اپنی آیات میں سے اسم اعظم دیا اور مستجاب دعا اور علم و حکمت دیا تو وہ دنیا کے میلان اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے اس کا مستحق ہوا کہ اس پر نعمت تبدیل کردی جائے اور اس سے چھین لی جائے اور ان دو خصلتوں سے وہی عالم محفوظ رہ سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھیں کعب بن مالک انصاری ؓ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں وہ اتنی خرابی نہیں مچاتے جتنا آدمی کا مال پر حرص خرابی مچاتا ہے اور شرف اس کے دین کو ہے۔ (فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھت او تتر کہ یلھث) کہا جاتا ہے ” لھث الکلب یلھث لھثا “ جب وہ اپنی زبان نکالے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس کی مثال ہے جو کتاب پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر اگر اس کو ڈرائو تو نہ ڈرے اور اگر چھوڑ دو تو ہدایت نہ پائے دونوں حالتیں اس پر برابر ہیں، کتے کی دونوں حالتوں کی طرح کہ اگر اس کو بھگایا جائے یا بوجھ لادا جائے تب بھی ہانپتا ہے اور اگر اس کو آرام سے بٹھایا جائے تب بھی ہانپتا ہے فرماتے ہیں ہر چیز یا بھوک سے ہانپتی ہے یا پیاس سے لیکن کتاب بھوک، راحت، پیاس، ہر حال میں ہانپتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کی مثال بیان کی ہے جو اس کی آیات کو جھٹلائے تو فرمایا اگر آپ اس کو نصیحت کریں تو وہ گمراہ ہے اور اگر نصیحت چھوڑ دیں تو بھی وہ گمراہ ہے کتے کی طرح کہ اگر آپ اس کو دھتکار دو تو بھی ہانپتا ہے اور اگر اس کے حال پر چھوڑ دو تو بھی ہانپتا ہے اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وان تدعوھم الی الھدی لایتبعوکم سواء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون “ پھر تمام تکذیب کرنے والوں کے بارے میں عام مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ (ذلک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرون) بعض نے کہا یہ کفار مکہ کی مثال ہے کہ وہ تمنا رکھتے تھے کہ کوئی ہادی ان کے پاس آئے ان کو سیدھا راستہ دکھائے اور اللہ کی طاعت کی طرف بلائے۔ پھر جب ان کے پاس ایسے نبی آئے جن کے سچا ہونے میں ان کو ذرہ بھی شک نہ تھا تو انہوں نے ہدایت حاصل نہ کی۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

تفسیر 177(سآء مثلاً القوم الذین کذبوا بایتنا) اس کی اصل عبارت ” ساء مثلاً مثل القوم “ ہے مثل کو حذف کردیا گیا ہے اور قوم کو اس کے قائم کردیا گیا ہے۔ اس لئے القوم پر پیش پڑھا گیا ہے۔ وانفسھم کانوا یظلمون)
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

178 (من یھد اللہ فھو المھتدی ومن یضلل فاؤلئک ھم الخسرون)
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

(ولقد ذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس) اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے بہت سے جن و انس کو جنم کے لئے پیدا کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر بدبختی کے ازلی کلمہ کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کو اللہ نے جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کے بچنے کا کوئی حیلہ نہیں ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے بچوں میں سے کسی کا جنازہ پایا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشخبری ہے جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے کس نے خبر دی ہے ؟ بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے ۔ (لھم قلوب لایفقھون بھا) یعنی ان سے خیر اور ہدایت کو نہیں جانتے (ولھم اعین لایبصرون بھا) حقر استے کو (ولھم اذان لایسمعون بھا) قآن کی نصیحتیں کہ سن کر ان میں غور و فکر کریں۔ پھر ان کی جہالت اور کھانے پینے میں بند رہنے کی مثال دی اور فرمایا کہ (اولئک کالا نعام بل ھم اضل) یعنی چوپایوں کی طرح ہیں کہ ان کا بھی بڑا مقصد بند رہنے کی مثال دی اور فرمایا کہ (اولئک کالا نعام بل ھم اضل) یعنی چوپایوں کی طرح ہیں کہ ان کا بھی بڑا مقصد کھانا پینا اور شہوت پوری کرنا ہوتا ہے بلکہ یہ زیادہ گمراہ ہیں کیونکہ جانوروں کو نفع و نقصان تمیز ہے نقصان دہ کام نہیں کرنے اور یہ لوگ تو جاننے کے باوجود آگ میں جانے والے کام کر رہے ہیں (اولئک ھم الغفلون)
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

180(وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے دعا میں رحمٰن کو پکارا تو مکہ کے بعض مشرکین کہنے لگے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ وہ ایک رب کو بلاتے ہیں تو یہ دو کو کیوں بلا رہا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا “ حسنیٰ احسن کی مئونث ہے جیسے کبریٰ اور صغریٰ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں سو سے ایک کم جوان کو یاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے (وذروا الذین یلحدون فی اسمآئہ ) حمزہ (رح) نے ” یحلدون “ یاء اور رحاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو۔ کسائی (رح) نے النحل میں اس کی موافقت کی ہے اور باقی حضرات نے یاء کے پیش اور حاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور الحاد کا معنی سیدھے راستے سے اعراض کرنا۔ کہا جاتا ہے ” الحد یلحد الحاداً ولحد یلحد لحوداً “ جب وہ مائل ہوجائے۔ یعقوب سکیت (رح) فرماتے ہیں۔ الحاد حق سے اغراض کرنا اور حق میں وہ چیز داخل کرنا جو اس میں نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے ” الحد فی الدین والحد بہ “ حمزہ (رح) نے بھی اسی طرح پڑھا ہے۔ (سیجزون ماکانوا یعملون) ملحدین سے مراد مشرکین مکہ ہیں کہ انہوں نے اللہ کے نام تبدیل کئے کہ ان ناموں کو بتوں کو دے دیا اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کچھ حرف کم کردیئے۔ مثلا لات کو اللہ سے ” عزی “ کو عزیز سے ” مناۃ “ کو منان سے مشتق کیا۔ یہ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے۔ بعض نے کہا کہ ا ن کا الحاد بتوں کو معبود کا نام دینا تھا۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” یلحدون فی اسمائہ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ اہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اسماء میں الحادیہ ہے کہ اللہ کو ایسا نام دینا جو نہ کتاب اللہ میں ہے اور نہ سنت رسول اللہ ﷺ میں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء توقیفی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود کو جواد کہا ہے سخی نہیں کہا۔ اگرچہ معنی ایک ہے اور رحیم نام لیا ہے رفیق نہیں اور عالم نام رکھا ہے عاقل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یخادعون اللہ وھو خادعھم “ اور فرمایا ” ومکروا و مکر اللہ “ اور دعا میں ” یا مخادع “ اور یا مکار نہیں کہا جاسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ان اسماء سے دعا کی جاتی ہے جو تعظیم کے طور پر منقول ہیں۔ پس یوں کہا جاتا ہے یا اللہ ! یا رحمٰن ! یا رحیم ! یا عزیز ! یا کریم ! وغیرہ۔” سیجزون ما کانوا یعملون “ آخرت میں۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

تفسیر 181 (ومن خلقنآ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون ) عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی امت مراد ہے۔ یعنی مہاجرین و انصار اور احسان کے ساتھ ان کے پیچھے چلنے والے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے ہیں تمہارے لئے ہے اور ایک قوم کو تم سے پہلے اس کی مثال دیا گیا تھا۔” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون “ عمیر بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو سنا کہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت اللہ کے حکم کے ساتھ قائم رہے گی ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا جو ان کو رسوا کرنا چاہے گا اور نہ وہ جوان کی مخالفت کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

181 (والذین کذبوا بایتنا سنستدرجھم من حیث لایعلمون) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ایسی جگہ سے مکر کریں گے کہ ان کو علم ہی نہ ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ ہم ان کے اطمینان کی جگہ سے آئیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ” فاتاھم اللہ من حیث لم یحتسبوا “ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کر کے ان کو ہلاک کردیں گے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ نئی نافرمانی کریں گے ہم ان کے لئے نئی نعمت لائیں گے۔ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ ان پر نعمتیں نچھاور کردیں گے اور ان کو شکر بھلا دیں گے۔ اہل معانی فرماتے ہیں کہ استدراج یہ ہے کہ کسی چیز ک طرف خفیہ تھوڑا تھوڑا چلا جائے، اس کو اعلانیہ ظاہر نہ کیا جائے، اسی سے درج الصبی ہے کہ جب بچہ اپنے چلنے میں قدم قریب قریب رکھے اور اسی سے درج الکتاب ہے جب کتاب کو ایک شئی کے بعد دوسرے سے لپیٹ دے۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

183 (واملی لھم ط ان کیدی متین) یعنی میں ان کی زندگی لمبی کروں گا تاکہ وہ نافرمانیوں میں بڑھیں۔ میرا پکڑنا سخت مضبوط ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ مذاق اڑانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک رات میں قتل کردیا۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

تفسیر 154(اولم یتفکروا ما بصاحبھم من جنۃ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور قریش کے ہر قبیلہ کوا سکے نام سے پکارا، ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو ایک کہنے والے نے کہا کہ تمہارایہ ساتھی مجنون ہے صبح تک یہی آوازیں لگاتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت میں صاحب سے مراد محمد ﷺ (ان ھو الا نذیر مبین) پھر انکو ایسے غور و فکر پر ابھارا جو ان کو علم تک پہنچا دے۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

(185) پس کہا (اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شیئ) یعنی آسمان و زمین میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس میں غور و فکر کر کے اس کی وحدانیت پر استدلال کرو (وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم) یعنی شاید کہ ان کا وعدہ قریب آگیا ہو تو وہ ایمان لانے سے پہلے مرجائیں اور عذاب میں جا پڑیں۔ (فبای حدیث م بعدہ یومنون) یعنی قرآن کے بعد۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ جو کتاب لائے اس کے علاوہ کس کتاب کی تصدیق کریں گے حالانکہ محمد ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی کتاب۔ پھ ران کے ایمان سے اعراض کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

186 (من یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم) اہل بصرہ اور عاصم نے یاء کے ساتھ اور راء کے رفعہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یاء کے ساتھ اور راء کے جزم کے ساتھ اور راء کا جزم ” یضلل “ پر عطف کی وجہ سے ہوگا اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ اور راء کے رفعہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نئی کلام ہے۔ (فی طغیانھم یعمھون) اپنی سرکشی میں متردد اور متحیر ہیں۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

187 (یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھآ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ بیشک ہمارے اور تمہارے درمیان رشتہ داری ہے ہمیں یہ بتادیں کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (یسئلونک عن الساعۃ) قیامت کے بارے میں (قل انما علمھا عند ربی لا یجلیھا لوفتھآ الا ھو ثقلت فی السموت ولارض ) اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اس کو اس کے وقت پر وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمینوں میں ۔ اس کا علم بھاری ہے اور اس کا معاملہ آسمان اور زمین والوں پر مخفی ہے اور ہر مخفی چیز ثقیل ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جب قیامت آئے گی تو آسمانوں اور زمین والوں پر بھاری ہوگی۔ (لاتاتیکم الا بغتۃ) اچانک غفلت کی حالت میں آئے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ دو آدمیوں نے اپنے کپڑے پھیلائے ہوئے ہوں گے نہ ان کو بیع کرسکیں گے اور نہ اس کو لپیٹ سکیں گے اور البتہ قیامت قائم ہوگی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر گیا ہوگا اس کو پی نہ سکے گا اور قیامت قائم ہوگی کہ وہ اپنے حوض کو لیپ رہا ہوگا تو اس میں پانی نہ ڈال سکے گا اور قیامت قائم ہوگی کہ آدمی نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہوا ہوگا اس کو کھانہ سکے گا۔ (یسئلونک کانک حفی عنھا) یعنی اس کو جانتے ہیں۔ یہ مشتق ہے ان کے قول ” احفیث بالمسئلۃ “ سے یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی کسی چیز کے سوال میں مبالغہ کرے یہاں تک کہ اس کو جان لے قل انما علمھا عند اللہ ولکن اکثر الناس لایعلمون) کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اس لئے محمد ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

تفسیر 188 (قل لا املک لنفسی نفعاً ولا ضراً الا ماشآء اللہ) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل مکہ کہنے لگے اے محمد ! آپ کا رب آپ کو سستے ریٹ کا ریٹ بڑھنے سے پہلے نہیں بتاتے کہ آپ (علیہ السلام) غلہ خرید کر ریٹ بڑھنے کے بعد نفع کمائیں اور اس زمین اک بھی نہیں بتاتا جو خشک ہونے لگی ہے تاکہ آپ (علیہ السلام) اس سے کوچ کر کے خوشحال زمین کی طرف چلے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آپ کہہ دیں کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا) یعنی اپنی ذات کے لئے نفع حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں کہ تجارت میں نفع حاصل کرلوں اور نہ نقصان کا مالک ہوں کہ زمین کے بنجر ہونے سے پہلے وہاں سے چلا جائوں مگر جو اللہ چاہے کہ میں اس کا مالک بنوں (ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر و ما مسنی السوئ) یعنی اگر مجھے زمین کی ہریالی اور خشک سالی کا علم ہوتا تو میں قحط کے زمانہ میں بہت سارا مال جمع کرلیتا اور مجھے برائی نہ پہنچتی یعنی تکلیف، فقر، بھوک۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں اپنے لئے نفع اور نقصان اک مالک نہیں ہوں، یعنی ہدایت اور گمراہی کا مالک نہیں اور اگر غیب کا علم جانتا یعنی میں کب مروں گا تو میں خیر کو حاصل کرلیتا، یعنی نیک عمل کرلیتا اور مجھے برائی نہ پہنچتی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ میں شر سے بچتا اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں جانتا کہ کب قیامت قائم ہوگی تو میں تمہیں خبر دیتا تاکہ تم ایمان لے آتے اور تمہاری تکذیب سے مجھے برائی نہ پہنچتی (ان انا الا نذیر) اس شخص کو جو میرے لائے ہوئے دین پر ایمان نہ لائے (وبشیر) جنت کی (لقوم یومنون) یومنون یصدقون کے معنی میں ہے۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

189(ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ) یعنی آدم (علیہ السلام) سے (وجھل منھا زوجھا) یعنی حواء (علیہما السلام) (لیسکن الیھا) تاکہ اس سے انس حاصل کرے (فلما تغشھا) یعنی جماع کیا (حملت حملاً خفیفاً ) یہ نطفہ سے حمل کی ابتداء ہے کہ ابتداء میں عورت پر ہلکا ہوتا ہے (فمرت بہ) یعنی اس حمل کے ساتھ چلتی پھرتی اٹھتی بیٹھتی رہی، کوئی بوجھ محسوس ن ہوا (فلما اثقلت ) یعنی بچہ اس کے پی ٹ میں بڑا ہوگیا اور اپنے حمل سے بوجھل ہوگئی اور اس کی ولادت قریب ہوگئی۔ (دعوا اللہ ربھما) یعنی آدم (علیہ السلام) اور حواء عل یہما السلام نے (لئن اتیتنا صالحا) یعنی ہمارے جیسا تندرست بچہ (لنکونن من الشکرین) مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حواء (علیہما السلام) کو حمل ہوا تو ابلیس انسانی شکل میں ان کے پاس آیا تو کہنے لگا آپ کے پی ٹ میں کیا ہے ؟ انہوں نے کہا مجھے نہیں پتہ۔ تو وہ کہنے لگا کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ کوئی درندہ یا کتا یا خنزیر نہ ہو اور یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ نکلے گا کہاں سے اگر پیچھے سے نکلا تو تجھے مار دے گا یا منہ سے نکلے گا یا پیٹ پھاڑ کر تو حضرت حواء (علیہ السلام) کو اس کی باتوں سے خوف آیا تو انہوں نے یہ باتیں آدم (علیہ السلام) کو بتائیں تو وہ دونوں اس فکر میں لگ گئے۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میرا اللہ کے ہاں مرتبہ ہے اگر میں اللہ سے دعا کروں کہ اس کو تندرست بنا دے تو دعا قبول ہوگی اور بچہ آسانی سے پیدا ہوجائے گا۔ اس کے بدلے میں کیا تو اس کا نام عبدالحارث رکھ دے گی ؟ ابلیس کا نام فرشتوں میں حارث تھا۔ حضرت حواء (علیہما السلام) نے یہ بات آدم ع لیہ السلام کو بتائی۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ وہی ساتھی ہے جس کو تو جانتی ہے ابلیس بار بار آتا رہا حتیٰ کہ ان کو دھوکہ میں ڈال دیا ۔ جب بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام عبدالحارث رکھ دیا۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حواء (علیہما السلام) کی آدم (علیہ السلام) سے جو اولاد ہوتی اس کا نام عبداللہ، عبید اللہ، عبدالرحمٰن رکھتیں تو وہ بچے مرجاتے تو ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اولاد زندہ رہے تو اس کا نام عبد الحارث رکھو تو بچہ پیدا ہوا تو اس کا نام عبدالحارث رکھا تو وہ زندہ رہا اور حدیث میں ہے کہ ان دونوں کو ابلیس نے دو مرتبہ دھوکہ دیا۔ ایک مرتبہ جنت میں اور دوسری مرتبہ دنیا میں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کا بچہ پیدا ہوا انہوں نے عبداللہ نام رکھا، اس سے پہلے بھی ان کا ایک عبداللہ نام کا بچہ فوت ہوچکا تھا تو ابلیس نے آ کر پوچھا کیا نام رکھا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا عبداللہ تو اس نے کہا تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو تمہارے پاس چھوڑ دیں گے ؟ اللہ تو اس کو اپنے پاس بلا لیں گے، میں تمہیں ایک نام بتاتا ہوں جس سے بچہ زندہ رہے گا تم اس کا نام عبد شمس رکھو، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

تفسیر اور بعض نے کہا کہ آیت میں یہود و نصاریٰ مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد دی تو ان کو یہودی اور نصرانی بنادیا۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں کہ کفار مراد ہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کا نام عبدالعزیٰ اور عبداللات اور عبد مناۃ رکھا اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق مخاطب ہے۔ اپنے قول ” خلقکم “ کے ساتھ یعنی ہر ایک کو اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی یعنی اس کی جنس سے اس کی بیوی بنائی اور یہ حسن (رح) کا قول ہے۔ اگر اسلاف میں سے عبد اللہ بن عباس ؓ ، مجاہد، سعید بن مسیب اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت کا یہ قول نہ ہوتا کہ یہ آیت آدم و حوا (علیہما السلام) کے بارے میں ہے۔ 051(فلما اتھما صالحاً جعلا لہ شرکآء فیمآ اتھما) اہل مدینہ اور ابوبکر رحمہم اللہ ” شرکا “ شین کے کسرہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے بمعنی شرکت۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں بمعنی حصہ اور باقی حضرات نے شرکاء شین کے ضمہ اور الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا کہ شریک کی جمع ہے یعنی ابلیس مراد ایک ہے لیکن صیغہ جمع کا استعمال کیا ہے۔ یعنی اس کا شریک بنایا جب بچہ کا نام عبدالحارث رکھا، یہ عبادت میں شریک کرنا نہیں تھا اور نہ ہی حارث آدم (علیہ السلام) اور حواء (علیہما السلام) کا رب تھا کیونکہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے اور شرک سے معصوم تھے لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ حارث بچہ کی نجات کا سبب ہے اور عبد کا لفظ عاجزی کے لئے بھی بولا جاتا ہے ہر جگہ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ اس کو معبود مانتا ہے جیسے کسی مہمان آئے تو وہ تواضع میں خود کو عبدالضیف بھی بولا جاتا ہے ہر جگہ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ اس کو معبود مانتا ہے جیسے کسی کا مہمان آئے تو وہ تواضع میں خود کو عبدالضیف کہتا ہے تو یہ مطلب نہیں کہ مہمان کو معبود مان لیا ہے۔ اسی طرح یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کو کہا ” ربی “ تو یہ مراد نہیں تھی کہ وہ ان کا معبود ہے (فتعلی اللہ عما یشرکون) بعض نے کہا کہ یہ نئی کلام ہے اس سے مراد اہل مکہ کا شرک کرنا ہے اور اگر ماقبل سے تعلق ہو تو معنی ٹھیک ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حواء (علیہما السلام) کے لئے بہتر یہ تھا کہ وہ شرک فی الاسم بھی نہ کرتے اور آیت کی تفسیم میں ایک اور قول یہ ہے کہ اس سے اولاد آدم (علیہ السلام) کے تمام مشرکین مراد ہیں۔ یہی حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنی اولاد کو شریک بنادیا ہے تو یہاں اولاد کا لفظ محذوف ہے اور ان دونوں کو ان کا قائم مقام بنادیا گیا ہے جیسا کہ آباء کے فعل کی نسبت ابناء (اولاد) کی طرف کی ہے ان کو عار دلانے کے لئے یا ان آیات میں اور فرمایا ” ثم اتخذتم العجل “ اور ” واذ قتلتم نفسا “ اس سے ان یہود کو خطاب کیا ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں تھے حالانکہ یہ کام تو ان کے آباء نے کیا تھا۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

تفسیر 191 (ایشرکون مالا یخلق شیئاً ) یعنی ابلیس اور بتوں کو (وھم یخلفون) یعنی وہ خود مخلوق ہیں۔
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

192 (ولا یستطیعون لھم نصراً ) یعنی بت اپنا کہنا ماننے والوں کی مدد نہیں کرسکتے (ولا انفسھم ینصرون) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان کو توڑنا چاہے تو وہ اپنے سے اس کو دور نہیں کرسکتے۔ پھر مئومنین کو خطاب کر کے فرمایا۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

193 (وان تدعوھم الی الھدیٰ ) اگر تم مشرکین کو اسلام کی طرف بلائو (لایتبعو کم) نافع (رح) نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” یتبعھم الغارون “ شعراء میں پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں میں شد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں فصیح لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” تبعہ تبعا واتبعہ اتباعا “ (سوآء علیکم ادعو تموھم ام انتم صامتون) ان کو پکارنے سے وہ ایمان نہ لائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ہے ” سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم لایئومنون “ اور بعض نے کہا ہے کہ اگر تم ان بتوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے اس لئے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

194 (ان الذین تدعون من دون اللہ) یعنی بتوں کو (عباد امثالکم فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین) کہ کیا وہ معبود تمہاری طرح مملوک ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ تمہاری طح مسخر ہیں۔ یعنی وہ مسخر اور تابع کئے گئے ہیں اس کام کے لئے جو ان سے مراد ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” عباد امثالکم “ سے فرشتے مراد ہیں اور یہ خطاب فرشتوں کی عبادت کرنے والی قوم کو ہے اور پہلا قول صحیح ہے۔ پھر ان کی عاجزی بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

تفسیر 195 (الھم ارجل یمشون بھا ام لھم ایدیبطشون بھآ) ابو جعفر نے یہاں اور سورة قصص اور دخان میں طاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے طاء کی زیر کے ساتھ (ام لھم اعین یبصرون بھآ ام لھم اذان یسمعون بھا) مراد یہ ہے کہ مخلوق کی قدرت ان اعضاء اور آلات کے ذریعے ہے اور بتوں کے تو یہ آلات ہی نہیں ہیں تو ان بتوں سے تو تم خود افضل ہو کہ چلنے کے لئے پائوں اور پکڑنے کے لئے ہاتھ اور دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سننے کے لئے کان ہیں تو تم ان کی کیسے عبادت کرتے ہو جن سے تم افضل ہو اور تمہاری قدرت ان سے زیادہ ؟ (قل ادعوا شرکآء کم) اے مشرکوں کی جماعت (ثم کیدون) تم اور وہ مل کر (فلا تنظرون) میری برائی میں جلدی کرو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تم ان کی عبادت کرو کیا وہ تمہیں ثواب دیں گے یا تمہیں جزاء دیں گے اگر تم سچے ہو کہ تمہارا ان کے ہاں نفع ہے۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

(196) (ان ولی اللہ الذی نزل الکتب) یعنی قرآن کہ اس نے میری مدد کی کتاب اتار کر (وھو یتولی الصلحین) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ کے برابر کسی کو نہیں کرتے تو اللہ اپنی مدد سے ان کی حمایت کرتا ہے ان کے دشمنوں کی دشمنی ان کو نقصان نہیں دیتی۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وہ بتوں کی طرف دیکھتے ہیں (وھم لایبصرون ) یہاں حقیقتاً دیکھنا مراد نہیں ہے کہ مقابلہ مراد ہے عرب کہتے ہیں داری تنظیر الی دارک یعنی اس کے مقابل ہے اور بعض نے کہا ہے وتراھم ینظرون الیک یعنی گویا کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول (وتری الناس سکاری) ہے یعنی گویا کہ وہ نشہ میں ہیں یہ مفسرین کا قول ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین نہ سنتے ہیں اور نہ اپنے دل سے اس کو سمجھتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آنکھوں سے تو آپ کو دیکھتے ہیں لیکن اپنے دل سے نہیں دیکھتے اور سمجھتے۔
Ayahs 7:198–199

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

199 (خذالعفو) عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ لوگوں کے اخلاق سے چشم پوشی کریں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی لوگوں کے اخلاق میں چشم پوشی کریں اور ان کے اعمال کو بغیر تجسس کے قبول کرلیں۔ مثلاً عذر کو قبول کرنا اور عفو چشم پوشی اور اشیاء کی تفتیش کو چھوڑنا۔ روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ سے پوچھ نہ لوں کچھ نہیں جانتا، پھر لوٹے اور کہا کہ بیشک آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے کہ جو آپ علیہ ال سلام سے رشتہ توڑے اس سے جوڑیں اور جو آپ کو محروم کرے اس کو دیں اور جو آپ سے ظلم کریں اس کو معاف کریں۔ اور ابن عباس ؓ سدی، ضحاک اور کلبی رحمہما فرماتے ہیں یعنی جو اموال میں سے بچ جائے وہ لے لیں اور وہ عیال سے بچنے والا مال ہے اور یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” یسالونک ماذا ینفقون قل العفو “ کا۔ پھر یہ آیت فرض صدقات سے منسوخ ہوگئی۔ (وامر بالعرف) یعنی ہر وہ کام جس کو شریعت نیک قرار دے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ عرف یعنی ” لا الہ الا اللہ “ کا حکم دیں (واعرض عن الجھلین) ابوجہل اور اس کے ساتھیوں سے۔ اس کو جہاد کی آیات نے منسوخ کردیا ہے اور بعض نے کہا کہ جب کوئی جاہل آپ (علیہ السلام) پر کوئی حماقت کا کام کرے تو اس کو تلوار سے جواب نہ دیں جیسے دوسری جگہ فرمایا واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً کہ جب ان سے جاہل مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلا کہتے ہیں۔ ابوجعفر صادق ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو عمدہ اخلاق کا حکم دیا ہے اور قرآن میں اس آیت سے زیادہ جامع آیت مکارم اخلاق کے بارے میں نہیں ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فحش گو نہ تھے اور نہ تکلف سے فحش گوئی کرتے تھے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے عمدہ اخلاق کو مکمل کرنے کے لئے اور اچھے افعال کو مکمل کرنے کے لئے۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

تفسیر 200 (واما ینزغنک من الشیطن) شیطان کا نزغ اس کا وسوسہ ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نزغ کی نسبت آدمی کی طرف ہو تو تھوڑی سی حرکت اور شیطان کی طرف ہو تو تھوڑا سا وسوسہ کا معنی ہوتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید (رح) فرماتے ہیں کہ آیت ” خذالعفو “ نازل ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ غصہ بھی تو ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی (واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعد باللہ انہ سمیع علیم)
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

201 (ان الذین اتقوا اذا مسھم) یعنی مئومنین (طئف من الشیطن تذکروا فاذاھم مبصرون) ابن کثیر، اہل بصرہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” طیف “ پڑھا ہے ار دیگر حضرات نے (طائف) مد اور ہمزہ کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے میت اور مائت اور ان دونوں کا معنی وہ چیز جو تھے تکلیف پہنچائے اور ایک قوم نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ ابو عمر و (رح) فرماتے ہیں (الطائف) جو کسی چیز کے اردگرد چکر لگائے اور ” الطیف “ وسوسہ اور بعض نے کہا ہے الطائف جو شیطان کی طرف سے وسوسہ آئے اور ” الطیف “ مس کرنا اور چونکا لگانا۔” تذکروا “ انہوں نے پہچانا۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ شخص جو غصہ میں ہو پھر اللہ تعالیٰ کی یاد آئے تو وہ غصہ پر ضبط کرلے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں آدمی گناہ کا پختہ ارادہ کرلے، پھر اللہ کی یاد آئے تو اس کو چھوڑ دے۔ ” فاذا ھم مبصرن “ یعنی اپنی غلطیوں کی جگہ غور و فکر سے دیکھتے ہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں جب پھسلتے ہیں توبہ کرتے ہیں۔ چونک گئے پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بیشک متقی جب اس کو شیطان چھیڑے تو وہ فوراً پہچان لیتا ہے کہ یہ گناہ تو سمجھ کر اللہ کی مخالفت سے بچ جاتا ہے۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

تفسیر 202 (اخوانھم یمدونھم) یعنی شیطانوں کے بھائی مشرکین میں سے ان کو شیطان کھینچتا ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر کافر کا ایک شیطان بھائی ہے (فی الغی) یعنی ان کے لئے گمراہ کرنے کو طلب کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس پر جاری رہتے ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کو گمراہی میں زیادہ کرتے ہیں اور اہل مدینہ نے ” یمدونھم “ یاء کے پیش اور میم کے زیر ہے۔ (ثم لایقصرون) یعنی رکتے نہیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نہ انسان اپنے برے اعمال سے رکتے ہیں اور نہ شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے رستے ہیں۔ اس صورت میں ” ثم لایقصرون “ مشرکین اور شیاطن سب کا فعل ہوگا۔ ضحاک اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مشرکین گمراہی سے نہیں رکتے اور نہ سمجھ رکھتے ہیں بخلاف مئومنین کے کہ ان کو نصیحت کی جائے تو چونک جاتے ہیں اور ان کو سمجھ آجاتی ہے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

203 (واذا لم تاتھم بایۃ) یعنی جب مشرکین کے پاس کوئی نشانی نہ آئے۔ تو کہتے ہیں کیوں نہ چھانٹ لایا تو نے اس کو اپنی طرف سے اور اپنے اختیار سے کیوں نہ کیا ؟ عرب کہتے ہیں ” اجتبت الکلام ‘ ذ جب تو اس کو گھڑ لے۔ تو کچھ اپنی طرف سے ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل مکہ ضد کی وجہ سے نبی کریم ﷺ سے نشانیوں کا مطالبہ کرتے تھے جب آپ تاخیر کرتے تو وہ کہتے کہ اپنی طرف سے کیوں نہیں ایجاد کرلیتے ؟ (قالوا لولا اجتبیتھا ط قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی ھذا بصآئر من ربکم) (قل) کہہ دیجیے اے محمد (انما اتبع ما یوحی الی من ربی ھذا بصائر من ربکم) اس کا واحد بصیرت ہے۔ اس کا اصل معنی شے کا ظاہر اور پختہ ہوتا تاکہ اس کو انسان دیکھ لے اور اس کے ذریعے رہنمائی حاصل کرے (وھدی و رحمۃ لقوم یومنون)
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

204 (واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون) اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت نماز میں قرأت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا شان نزول حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام ؓ نماز میں اپنی ضروریات کی گفتگو کرلیتے تھے۔ پھر ان کو خاموش رہنے اور قرآن کی قرأت کو توجہ سے سننے کا حکم دیا گیا اور ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ آیت امام کے پیچھے اونچی آواز سے قرأت چھوڑنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں آوازوں کو بلند کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نماز میں جب جنت اور جہنم کی آیات سنتے تو آوازوں کو بلند کرتے۔ ابن مسعود ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے چند لوگوں کو سنا کہ وہ امام کے ساتھ قرأت کرتے ہیں جب نماز ختم ہوئی تو فرمایا، کیا تمہارے سمجھنے کا وقت نہیں آیا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ جیسا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہ حسن اور زہری اور نخعی رحمہما اللہ کا قول ہے کہ یہ آیت نماز میں قرأت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ سعید بن جبیر ؓ عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت خطبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام کے جمعہ کے دن خاموش ہونے کے بارے میں ہے اور جن نمازوں میں امام جہر کرتا ہے اور عمر بن عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں ہر واعظ کے قول کے لئے خاموش ہونا مراد ہے اور پہلا قول ان سب میں بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ آیت نماز میں قرأت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے کہ آیت مکی ہے اور جمعہ مدینہ میں واجب ہوا ہے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ امام کے خطبہ کے لئے خاموش ہونے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو اپنے ساتھی کو امام کے خطبہ کے دوران کہے خاموش ہوجا تو تو نے لغو کا کام کیا اور اہل علم کا اختلاف ہے کہ امام کے پیچھے نماز میں قرأت کا کیا حکم ہے ؟ ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ واجب ہے امام جہراً قرأت کر رہا ہو یا ” سرا “ یہی بات حضرت عمر، عثمان، علی، ابن عباس ؓ اور معاذ ؓ سے مروی ہے اور یہ ہی امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہم اللہ کا قول ہے بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ جن نمازں میں امام آہستہ قرأت کرے ان میں مقتدی بھی قرأت کرے اور جن میں امام جہراً قرأت کرے ان میں نہ کرے یہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے اور یہی عروہ بن زبیر ؓ اور قاسم بن محم (رح) کا قول ہے اور امام زہری، امام مالک، ابن مبارک، امام احمد اور اسحاق رحمہما اللہ اسی کے قائل ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ مقتدی بالکل قرأت نہ کرے، خود امام سراً قرأت کر رہا ہو یا جہراً یہ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے اور اسی کے سفیان ثوری (رح) اور اصحاب رائے قائل ہیں۔ جو حضرات امام کے پیچھے قرأت کو جائز نہیں سمجھتے وہ اس آیت کے ظاہر سے استدلال کرتے ہیں اور جن ہوں نے قرأت کو واجب کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت فاتحہ کے علاوہ قرآن کے بارے میں ہے اور مقتدی جب فاتحہ پڑھے تو امام کے سکتوں کی اتباع کرے یعنی امام جب خاموش ہو تو وہ کچھ فاتحہ پڑھ لے اور قرأت میں امام سے جھگڑا نہ کرے۔ اس پر دلیل عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرأت بوجھل ہوگئی جب نماز ختم ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ؟ تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) جی اللہ کی قسم ! تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو مگر ام القرآن کیونکہ جو اس کو نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔

205 (واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ و دون الجھر من القول) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت میں ذکر سے نماز میں قرأت کرنا مراد ہے۔ یعنی آہستہ اپنے دل میں قرأت کرے اور دون الجبیر سے مراد یہ ہے کہ جہری نماز میں بھی بہت زیادہ بلند نہ ہو بلکہ سکون کے ساتھ کچھ پست آواز ہو جو اپنے پچھلوں کو سنائی دے۔ مجاہد اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ دعا میں اس کی طرف آہ وزاری کریں اور سینوں میں اس کا ذکر کریں۔ آواز بلند کریں اور نہ دعا میں چیخیں (بالغدور والاصال ولا تکن من الغفلین) یعنی صبح اور شام کو آصال کا واحد اصیل ہے یمین اور ایمان کی طرح یہ عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور سجدہ کرتے رہتے ہیں۔

تفسیر 206 (ان الذین عند ربک) یعنی مقرب فرشتے (لایستکبرون عن عبادتہ و یسبحونہ) اس کو یاد کرتے ہیں اور پاکی بیان کرتے ہیں اور سبحان اللہ کہتے ہیں (ولہ یسجدون) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ابن آدم آیت سجدہ کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کو جنت ملے گی اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی تو میرے لئے جہنم ہے۔ معدان سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ؓ سے سوال کیا کہ مجھے ایک ایسی حدیث بیان کریں جس کے ذریعے مجھے اللہ تعالیٰ نفع دیں تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ اللہ کے لئے سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سجدہ کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند کردیتے ہیں اور اس سے ایک گناہ مٹا دیتے ہیں۔