7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

(79) حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے اعراض کیا (فتولی عنھم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی ونصحت لکم ولکن لاتحبون النصحین) اگر یہ اعتراض ہو کہ صالح (علیہ السلام) نے ان کے ہلاک ہونے کے بعد ان کو کیسے خطاب کیا ؟ ان الفاظ سے لقد ابلغتکم رسالۃ ربی ونصحت لکم تو جواب یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے مقتولین میں سے ہر ایک کا نام لے کر آاز دی تھی اور ان کو کہا تھا کہ ہم نے اپنے رب کے وعدہ کو حق پایا۔ کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو حق پایا ؟ تو حضرت عمر ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ ان جسموں سے کیا بات کر رہے ہیں جن میں کوئی روح ہی نہیں ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے۔ (رواہ النسائی) بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے ان مردہ لوگوں کو خطاب کیا تاکہ پیچھے رہ جانے والوں کے لئے عبرت بنے۔ بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل یہ ہے کہ ” صالح (علیہ السلام) نے ان سے اعراض کیا اور کہا کہ میں اپنے رب کا پیغام تم کو پہنچا چکا تو ان کو زلزلہ نے آپکڑا۔ “ ثمود کا واقعہ قوم ثمود کا واقعہ محمد بن اسحاق اور وہب وغیرہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ قوم عاد جب ہلاک ہوگئی اور ان کا معاملہ ختم ہوگیا تو ثمود ان کے بعد زمین میں ان کی خلیفہ بنی تو ان کی تعداد بہت ہوگئی اور لمبی عمریں ہوئیں یہاں تک کہ وہ مٹی کے مکان بنتاے تو وہ ان کی زندگی میں منہدم ہوجاتے تو انہوںں نے پہاڑوں میں گھر بنانا شروع کردیئے اور ان لوگوں کی معاش وسیع تھی تو انہوں نے زمین میں فساد برپا کیا اور غیر اللہ کی عبادت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں صالح (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا۔ یہ عرب قوم تھی صالح (علیہ السلام) اچھے حسب و نسب والے تھے۔ صالح (علیہ السلام) جو انی کے زمانہ میں نبی بنا کر بھیجے گئے اور ان کو اللہ کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ بالکل بوڑھے ہوگئے لیکن صرف چند غریب لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کی اتباع کی۔ جب صالح (علیہ السلام) نے ان پر تبلیغ میں خوب محنت کی اور ان کو بہت زیادہ ڈرایا تو وہ کہنے لگے کہ ان کو کوئی نشانی دکھائیں جو آپ (علیہ السلام) نے ان پر تبلیغ میں خوب محنت کی اور ان کو بہت زیادہ ڈرایا تو وہ کہنے لگے کہ ان کو کوئی نشانی دکھائیں جو آپ (علیہ السلام) کے سچا وہنے کی دلیل ہو تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کون سی نشانی چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ آپ ہماری عید کی طرف نلکیں۔ ان کی عید سال میں ایک بار آتی تھی جس میں یہ اپنے بتوں کی طرف جاتے تھے تو آپ ہمارے ساتھ چلیں۔ آپ اپنے معبود کو بلائیں ۔ اگر آپ (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی ہم آپ کی اتباع کریں گے اور اگر ہماری دعا قبول ہئی تو آپ ہماری اتباع کرنا۔ صالح (علیہ السلام) نے فرمایا ٹھیک ہے تو وہ اپنے بت لے کر عید کے دن نکلے اور صالح (علیہ السلام) بھی ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے اپنے بتوں سے دعا کی کہ صالح (علیہ السلام) کی کوئی دعا قبول نہ ہو۔ پھر ثمود کا سردار جندع بن عمرو بن حراش کہنے لگے اے صالح ! (علیہ السلام) ہمارے لئے اس چٹان سے ایک اونٹنی نکال جو بہت پشم والی ہو جو دس ماہ کی حاملہ ہو، بڑے پیٹ والی ہو، بختی اونٹ کے مشابہ نہ ہو اور اس نے پہاڑ کی ایک الگ چٹان کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے نکالیں۔ اگر آپ نے ایسا کردیا تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے پختہ عہد لئے کہ اگر میں نے ایسا کردیا تو مجھ پر ایما نلے آئو تو وہ کہنے لگے جی ہاں تو صالح (علیہ السلام) نے دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا ماگنی تو وہ چٹان حاملہ جانور کی طرح آواز نکالنے لگی ار پھر اس کے ایک حصہ نے حرکت کی اور اس سے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی بڑے پیٹ والی بہت زیادہ پشم والی جیسی انہوں نے مانگی تھی آگئی اس کے دونوں پہلوئوں کے درمیان کا فاصلہ اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں یہ سارا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ پھر اس کا بچہ پیدا ہوا جو اسی کی طرح بڑا تھا تو جندع بن عمرو اور اس کی قوم کے چند لوگ ایمان لے آئے ار قوم ثمود کے معزز لوگ بھی ایمان لانا چاہتے تھے مگر ان کو ذواب بن عمر بن لبید اور حباب جوان کے بتوں کے پجاری تھے اور رباب بن صمغر جو کہ کاہن تھا تو ان لوگوں نے باقی لوگوں کو ایمان لانے سے روک دیا۔ جب اونٹنی نکلی تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کی اور تمہاری پانی پینے کی باری متعین ہے تو اوہ اونٹنی اور اس کا بچہ قوم ثمود میں ٹھہر گئے، درختوں سے چرتی اور پانی پیتی، وہ ایک دن کے وقفہ سے پانی پینے آتی اور اپنی باری کے دن اپنا سر کنوئیں میں ڈالتی اور سارا پانی پی جاتی ایک قطرہ پانی بھی نہ بچاتی۔ پھر سر اٹھاتی اور ٹانگیں کشادہ کرلیتی، پھر وہ لوگ جتنا چاہتے دودھ نکالتے خود بھی پیتے برتن بھی بھر لیتے پھر وہ جس راستہ سے آئی ہوتی اس کے علاو ہ راستے سے چلی جاتی۔ جب قوم ثمود کی پانی کی باری آتی تو وہ جتنا چاہتے پانی پیتے اور اونٹنی کی باری کے دن کے لئے بھی ذخیرہ کرلیتے۔ یہ اونٹنی سائے کیلئے جہاں جاتی وہاں سے پالتو جانور بھاگ جاتے تو ان کے چرواہوں کو یہ بات تکلیف دیتی تھی تو انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے پر تیار ہوگئے۔ قوم ثمود میں دو عوتریں تھیں۔ ایک ذواب بن عمر کی بیوی اس کا نام عنیزہ بنت غنم بن مجلز تھا، کنیت ام غنم تھی ۔ یہ بوڑھی عورت تھی لیکن اس کی بیٹیاں بہت خوبصورت تھیں اور اس کے پاس مال اور مویشیوں کی فراوانی تھی اور دوسری عورت کا نام صدوف بن مخیا تھا یہ بہت خوبصورت عورت تھی اور بڑی مالدار اور اس کے پاس مویشی بہت زیادہ تھے۔ ان دو عورتوں کو صالح سے بہت زیادہ دشمنی تھی اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنا ان کو بڑا پسند تھا کیونکہ وہ ان کے جانوروں کو نقصان پہنچا رہی تھی تو ان دونوں نے ایک تدبیر نکالی کہ صدوف نے ثمود کے ایک آدمی حباب کو بلایا کہ تو اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دے تو میں تیری ہو جائوں گی۔ اس نے انکار کردیا تو اس نے اپنے چچا زاد بھائی کو بلایا جس کا نام مصدع بن مھرج بن محیا تھا۔ یہ بڑا خوبصورت اور صاحب مال شخص تھا۔ اس پر اپنا آپ پیش کیا تو یہ اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے پر آمادہ ہوگیا اور عنیزہ بنت غنم نے قدر بن سالف کو بلایا یہ سرخ رنگ نیلی آنکھوں والا چھوٹے قد کا شخص تھا۔ لوگوں کا گمان تھا کہ قدار کسی زانی کی اولاد تھا، سالف کی اولاد نہ تھا لیکن اس کی بیوی سے پیدا ہوا ہے تو عنیزہ نے کہا کہ اگر تو اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دے تو میری جو بیٹی تو چاہے تجھے دے دوں گی۔ یہ قدرار اپنی قوم میں غالب شخص تھا۔ ہشام نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ان کو عبد اللہ بن زمعتہ ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) نے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اور اس کی ٹانگیں کاٹنے الے کے بارے میں فرمایا کہ ” اذا نبعث اشقاھا “ کہ اس کام کے لئے قوم ثمود میں سے قوت اور غلبہ والا شخص کھڑا ہوا جو ابو زرمعتہ ؓ کی مثل تھا تو قدار بن سالف اور مصدع بن مھرج چل پڑے اور قوم ثمود کے گمراہ لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا تو سات آدمی ان میں سے بھی چل پڑے، وہ اونٹنی جب پانی پر آنے لگی تو قدار اس کے راستے میں چٹان کے پیچھے گھات لگا کر بیٹھ گیا اور مصدع دوسرے راستے میں گھات لگا کر بیٹھ گیا تو وہ اونٹنی مصدع والے رسات ی سے گزری تو اس نے تیر مارا جو اس کی پنڈلی کے جوڑ میں لگا۔ اتنے میں ام غنم عنیزہ اپنی بیٹی کے ساتھ آگئی اور اس کو کہا کہ قدار کے سامنے چہرہ کھول دے۔ یہ لڑکی عورتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی تو قدار نے یہ دیکھتے ہی اونٹنی پر تولار سے سخت حملہ کیا جسے وہ گرگئی اور ایک آواز لگائی جس سے اپنے بچہ کو ڈرا رہی تھی پھر دوسرا وار اس کی گردن پر کر کے اس کو نحر کردیا اور سارے شہر والے نکل آئے اور اس کا گوشت تقسیم کر کے پکا لیا۔ اونٹنی کے بچہ نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ بھاگ گیا اور ایک پہاڑ کے پاس آیا جس کو صنو کہا جاتا تھا اور بعض نے کہا پہاڑ کا نام قارۃ تھا اور صالح (علیہ السلام) آئے تو لوگوں نے بتایا کہ اونٹنی کو مار دیا گیا ہے تو آپ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو دیکھا کہ لوگ اس کا گوشت لے رہے ہیں اور عذر کرنے لگے اے اللہ کے نبی اس کو فلاں نے قتل کیا ہے، ہمارا کوئی گناہ نہیں تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تم اس کے بچہ کو تلاش کرو، اگر وہ مل گیا تو شاید اللہ تعالیٰ تم سے عذاب کو دور کردیں تو لوگ اس بچہ کو تلاش کرنے نکل پڑے جب اس کو پہاڑ پر دیکھا تو اس کو پکڑنے کے لئے دوڑے تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو حکم دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آسمان کی طرف اتنا بلند ہوگیا کہ وہاں تک پر نے بھی نہ پہنچ سکتے تھے تو صالح (علیہ السلام) بھی وہاں پہنچ گئے۔ جب اس بچہ نے صالح (علیہ السلام) کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کے آنسو بہنے لگے پھر اس نے تین دفعہ آواز نکالی، پھر پہاڑ پھٹا اور وہ اس میں چلا گیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) فرمانے لگے کہ ہر آواز ایک دن کی مہلت ہے تو تم اپنے گھروں میں تین دن تک نفع اٹھا لو یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں نے ہفتے کے ایام کے نام رکھے ہوئے تھے اتوار کا اول، سوموار کا اھون، منگل کا دبار، بدھ کا جبار، جمعرات کا مئونس، جمعہ کا عروبہ اور ہفتے کا نام شبا رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے اونٹنی کو بدھ کے دن قتل کیا تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جمعرات کی صبح تمہارے چہرے زرد ہوں گے اور عروبہ یعنی جمعہ کی صبح سرخ ہوں گے اور شبار یعنی ہفتے کی صبح سیاہ ہوں گے۔ پھر اتوار کے دن تمہارے پاس عذاب آئے گا۔ جب صالح (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو وہ نو افراد جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا کہنے لگے آئو صالح (علیہ السلام) کو بھی قتل کردیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو ان کو ہم اپنے سے پہلے بھیج دیتے ہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو ان کو ان کی اونٹنی کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ یہ لوگ رات کو صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے گئے کہ ان کو قتل کر کے رات سکون سے اپنے گھر گزاریں گے تو فرشتوں نے ان کو پتھروں سے کچل دیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس نہ پہنچے تو انہوں نے آ کر دیکھا کہ ان کے سر کچلے پڑے ہیں تو صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے گئے کہ ان کو قتل کر کے رات سکون سے اپنے گھر گزاریں گے تو فرشتوں نے ان کو پتھروں سے کچل دیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس نہ پہنچے تو انہوں نے آ کر دیکھا کہ ان کے سر کچلے پڑے ہیں تو صالح (علیہ السلام) کو کہنے لگے کہ آپ نے ان کو قتل کیا ہے تو صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے لگے تو آپ (علیہ السلام) کا قبیلہ ہتھیار لے کر آپ (علیہ السلام) کے دفاع کے لئے آگیا اور ان کو کہا کہ اللہ کی قسم تم ان کو کبھی قتل نہ کرسکو گے، انہوں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ تین دن میں تم پر عذاب آئے گا ۔ اگر یہ سچے ہیں تو ان کو قتل کر کے تم اپنے رب کو مزید ناراض کر دو گے اور اگر یہ جھوٹے ہیں تو اپنا مقصد پورا کرلینا تو وہ چلے گئے تو جب جمعرات کی صبح آئی تو ان سب کے چہرے زرد ہوگئے، چھوٹے بڑے مرد و عورت سب کے۔ ایسا لگتا تھا کہ خلوف بوٹی ان پر مل دی گئی ہے تو اس وقت ان کو عذاب اور صالح (علیہ السلام) کے سچا ہونے کا یقین ہوگیا تو صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لئے تلاش کرنے لگے، صالح (علیہ السلام) اس جگہ سے چلے گئے اور ثمود کی ایک شا خ بنو غنم کے پاس آگئے اور ان کے سردار نفل جس کی کنیت ابوھدب تھی کے مہمان ہوئے اس نے آپ (علیہ السلام) کو چھپا دیا۔ وہ آپ (علیہ السلام) کے قتل پر قادر نہ ہو سکے۔ یہ شخص مشرک تھا وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو تکلیفیں دینے لگے تاکہ وہ آپ (علیہ السلام) کا پتہ بتادیں تو صالح (علیہ السلام) کے ایک ساتھی نے ان سے آ کر پوچھا کہ وہ ہمیں آپ (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھنے کے لئے تکلیف دے رہے ہیں، کیا آپ (علیہ السلام) کا پتہ بتادیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو انہوں نے بتادیا وہ ابو ھدب کے پاس آئے۔ اس نے کہا ہاں صالح (علیہ السلام) میرے پاس ہیں لیکن تم ان کو کچھ نہیں کہہ سکتے تو یہ لوگ چلے گئے اور پھر ان کو اپنی پڑگئی۔ ایک دوسرے کے چہرے کی زردی دیکھ کر پریشان ہوتے تھے اور چیختے تھے۔ دوسرے دن چہرے سرخ ہوگئے۔ گویا کہ ان کو خون سے رنگ دیا گیا ہے تو رونے اور چیخنے چلانے لگے کہ عذاب کا ایک دن گزر گیا ہے۔ تیسرے دن کی صبح چہرے اتنے ایسے سیاہ ہوگئے جیسے ان پر تارکول چڑھا دیا گیا ہو اب وہ چیخنے لگے کہ عذاب آگیا۔ صالح (علیہ السلام) اپنے مسلمان ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چل پڑے اور ملتہ فلسطین کے علاقہ میں پڑائو ڈالا۔ اتوار کی صبح قوم ثمود نے کفن پہنے خوشبو لگائو اور زمین پر گرگئے اور کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف کہ کس طرف سے عذاب آئے گا جب اتوار کے دن چاشت کا وقت ہوگیا تو آسمان سے ایک چیخ آئی جس میں بجلی وغیرہ کی کڑک اور زمین کی ہر آواز والی چیز کی آاز تھی۔ اس آواز نے ان کے دل پھاڑ دیئے، ان میں سے کوئی چھوٹا یا بڑا زندہ نہ رہا سوائے ایک اپاہج لڑکی کے اس کا نام ذریعہ بنت سالف تھا یہ صالح (علیہ السلام) سے شدید دشمنی رکھنے والی کافرہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے وقت اس کی ٹانگیں ٹھیک کردیں تو یہ بڑی تیزی سے اس جگہ سے اور حجاز اور شام کے درمیان وادی قزح تک پہنچ گئی وہاں کے لوگوں کو بتایا کہ میں نے قوم ثمود کے عذاب کا خود مشاہدہ کیا ہے پھر پانی مانگا، انہوں نے پانی پلایا تو پیتے ہی مرگئی۔ سدی نے قتل ناقہ کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ اللہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے پاس کے وحی بھیجی تیری قوم عنقریب اونٹنی کو قتل کر دے گی۔ حضرت نے یوم سے یہی بات کہہ دی قوم والوں نے کہا ہم ہرگز ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اس مہینہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا اور آئندہ وہ قتل کرے گا اور اسی کے سبب سے تمہاری ہلاکت ہوگی کہنے لگے اس مہینہ میں ہمارا جو رنگ والا بچہ بچ گیا اور اس کا بڑھائو بہت تیزی سے ہوا۔ مقتول بچوں کے باپ جب اس کو دیکھتے تو کہتے ہمارے بچے بھی اگر زندہ ہوتے تو ایسے ہی ہوتے، یہ سوچ سوچ کر ان کو حضرت صالح (علیہ السلام) پر غصہ آیا کہ یہ ہی شخص ہمارے بچوں کے قتل کا سبب ہے۔ پھر انہوں نے قسم کھا کر باہم معاہدہ کرلیا کہ ہم رات کو جا کر اس کو اور اس کے گھر والوں کو ضرور مار ڈالیں گے۔ پھر مشورہ ہوا کہ ہم کو بستی سے نکل جانا چاہیے لوگ ہم کو جاتے دیکھ کر خیال کریں گے کہ ہم سفر کو جا رہے ہیں۔ ہم باہر جا کر کہیں غار میں چھپ جائیں گے اور صالح جس وقت (رات کو) مسجد کو جائیں گے ہم آ کر ان کو قتل کردیں گے۔ پھر لوٹ کر غار میں چلے جائیں گے پھر (صبح کو) گھروں کو واپس آجائیں گے اور کہیں گے ہم تو قتل کے وقت موجود بھی نہ تھے لوگ ہم کو سچا سمجھیں گے۔ کیونکہ ان کا تو یہی خیال ہوگا کہ ہم سفر کو گئے ہوئے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھ بستی میں نہیں سوتے تھے بلکہ اپنی مسجد میں جس کو مسجد صالح کہا جاتا تھا جا کر رات گزارتے تھے اور صبح کو آ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے شام ہوتی تو پھر مسجد کو جا کر رات کو وہیں رہتے غرض وہ لوگ جن کے بچے قتل ہوئے تھے۔ بستی سے باہر جا کر ایک غار میں گھس گئے اور اللہ کے حکم سے غار ان پر گرپڑا اور سب مرگئے۔ اسی کو اللہ نے فرمایا ہے فمکروا مکرا و مکرنا مکر اوہم لایشعرون کچھ لوگ جو اس بات سے واقف تھے نکل کر گئے جا کر دیکھا کہ سب لوگ کچلے پڑے ہیں۔ انہوں نے بستی میں آ کر شور مچا دیا اللہ کے بندو ! صالح نے بچوں کے قتل پر ہی بس نہیں کیا۔ بلکہ ان لوگوں کو بھی مار ڈالا یہ سن کر بستی والے اونٹنی کو قتل کرنے پر متفق ہوگئے۔ ابن اسحاق نے کہا اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد ان نو آدمیوں نے شب خون مار کر حضرت صالح کو قتل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ یعنی قتل ناقہ کا واقعہ حضرت صالح کو قتل کرنے کے معاہدہ سے پہلے ہوچکا تھا۔ سدی وغیرہ کا بیان ہے دسواں بچہ قذار جب قتل ہونے سے بچ گیا تو تیزی سے بڑھنے لگا ایک دن میں اتنا بڑھ جاتا جتنا دوسرے بچے ایک ہفتہ میں بڑھتے ہیں اور ایک ماہ میں اتنا بڑھ جاتا دوسرے بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں جب بڑا ہوگیا تو لوگوں کے ساتھ ایک روز شراب پینے بیٹھا اور شراب بنانے کے لئے پانی کی ضرورت ہوئی اور چونکہ وہ دن اونٹنی کے پانی پینے کا تھا۔ اس لئے پانی کا نہیں ملا۔ یہ بات ان لوگوں کو بہت کھلی اور کہنعے لگے ہم دودھ کا کیا کریں ہمیں تو اس پانی کی ضرورت ہے جو یہ اونٹنی پی جاتی ہے تاکہ مویشیوں کو پلائیں اور کھیتیاں سینچیں۔ قذار بولا کیا میں تمہارے لئے اس اونٹنی کو قتل کر دوں۔ اہل مجلس نے کہا ہاں ! چناچہ سب نے اونٹنی کو قتل کردیا۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے سفر میں مقام حجر پر پڑائو ڈالا تو حکم دیا کہ اس کنوئیں سے کوئی پانی نہ پئے اور نہ جانوروں کو پلائیں تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ ہم نے اس پانی سے آٹا گوندھا ہے اور مشکینروں میں پانی بھرا ہے تو آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ وہ آٹا پھینک دو اور وہ پانی گرا دو ۔ ابو الزبیر نے حضرت جابر ؓ کا قول نقل کیا کہ جب غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کا گزر حجر سے ہوا تو صحابہ کو حکم دیا تم میں سے کوئی اس (ویران) بستی میں نہ جاتے نہ ان کا پانی پیو ان عذاب یافتہ لوگوں کی طرف سے گزرو تو روتے ہوئے ڈرتے ڈرتے کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا پھر فرمایا تم اپنے رسول سے معجزات نہ طلب کرو۔ یہ صالح کی قوم تھی جس نے اپنے رسلو سے معجز طلب کیا تھا تو اللہ نے ایک اونٹنی برآمد کردی جو اس پہاڑی راستہ سے پانی پر جاتی اور (پانی پی کر) اس راستہ سے واپس آتی تھی اور اپنی لوگوں کو ہلاک کردیا جو اس سر زمین میں مشرق سے مغرب لے کر مغرب تک آسمان کے خیمہ کے نیچے رہتے تھے صرف ایک آدمی بچا جس کو ابو رغال کہا جاتا تھا یہ قبیلہ ثقیف کا مورث اعلیٰ تھا یہ اس وقت جرم کے اندر تھا اور حرم میں ہونے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے بچ گیا لیکن جب حرم سے باہر نکلا تو اس پر بھی وہی عذاب آیا جو دوسروں پر آیا تھا اور وہیں دفن ہوگیا۔ دفن ہونے کے وقت اس کے پاس سونے کی ایک سلاخ بھی تھی جو اسی کے ساتھ زمین میں دب گئی۔ حضور ﷺ نے صحابہ کو ابو رغال کی قبر بھی دکھائی اور لوگوں نے تلواروں سے (کرید کر) زمین کھود کر سونے کی وہ ڈنڈی برآمد کرلی۔ قوم ثمود میں سے جو لوگ حضرت صالح پر ایمان لائے تھے ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ حضرت صالح ان لوگوں کو لے کر حضرت موت چلے گئے۔ حضر ت موت میں پہنچ کر آپ کی وفات ہوگئی۔ اسی لئے اس بستی کا نام حضرت موت ہوگیا پھر ان لوگوں نے ایک بستی بسائی جس کا نام حاصورا ہوا۔ بعض علماء روایت کا قول ہے کہ حضرت صالح کی وفات مکہ میں ہوئی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 58 سال کی تھی آپ صرف بیس سال اپنی قوم میں رہے تھے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

تفسیر 80 (ولوطاً ) بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ آپ یاد کریں لوط (علیہ السلام) کو یہ لوط بن ہاران بن تارخ بن انی ابراہیم (اذ قال لقومہ) یہ سدوم کے رہنے والے ہیں کیونکہ لوط (علیہ السلام) بابل کے رہنے اولے تھے اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سفر ہجرت کیا شام کی طرف تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فلسطین میں قیام کیا اور لوط (علیہ السلام) نے اردن میں قیام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سدوم والوں کی طرف رسول بنایا تو انہوں نے ان کو فرمایا (اتاتون الفاحشۃ) مردوں کے پاس آتا (ماسبقکم بھامن احد من العلمین) عمر و بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے کوئی نر کسی نر پر کبھی نہیں چڑھا تھا۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

(81) انکم اہل مدینہ اور حفص نے (انکْ ) کاف کی زیر کے ساتھ خبر کی بناء پر پڑھا اور دیگر حضرات نے جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے (لتاتون الرجال) ان کے پچھلے حصوں میں ……(انکم لتانون الرجال شھوۃ من دون النسآئ) یعنی مردوں کے پچھلے راستے کی طرف آنا تمہیں عورتوں کے اگلے راستے میں آنے سے زیادہ پسند ہے۔ (بل انتم قوم مسرفون) حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے۔ قوم لوط کا ذکر محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے ایسے پھل دار باغات تھے کہ اس وقت ان جیسے باغات کسی کے پاس نہیں تھے تو لوگ ان کے پھل توڑ کر ان کو تکلیف دیتے تھے تو ابلیس ایک بوڑھے دانا شکل میں آیا اور ان کو کہا اگر تم ان کے ساتھ یہ برا کام کر دو تو ان سے نجات پا جائو گے۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو وہ بار بار اصرار کرتا رہا تو انہوں نے ایسا کرنے کی ٹھان لی تو اگلی چند لڑکے پھل توڑنے آئے تو انہوں نے پکڑ کر ان کے ساتھ فعل خبیث کیا تو یہ ان کی عادت بن گئی۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ وہ لوگ صرف جوان لڑکوں سے نکاح کرتے تھے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بہ بدفعلی کرنے والا پہلا شخص ابلیس ہے کیونکہ ان لوگوں کے شہر بڑے سرسبز تھے تو لوگ وہاں چارہ کی تلاش میں آتے تھے تو ابلیس ایک خوبصورت لڑکے کی صورت میں آیا اور اپنے ساتھ یہ کام کرنے کی دعوت دی تو ان لوگوں نے یہ کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا کہ ان پر پتھر برسائے اور زمین کو حکم دیا کہ ان کو دھنسا دے۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

تفسیر 82 (وما کان جواب قومہ انا ان قالوا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے اخر جوھم) یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کے دین والوں کو (من قریتکم انھم اناس یتطھرون) مردوں کے پاس جانے سے بچتے ہیں۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

(83) فاتجینہ … یعنی لوط (علیہ السلام) کو (واھلہ) یعنی مئومنین کو اور بعض نے کہا ان کی دو بیٹیاں مراد ہیں (الا امراتہ کانت من الغبرین) یعنی عذاب میں گرفتار ہوئی اور بعض نے کہا مطلب یہ یہ کہ وہ لمبی عمر والے لوگوں میں سے تھی کہ لمبی عمر گزاری اور پھر قوم کے لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوئی اور ” من الغابرین “ کہا ہے اس لئے کہ مراد یہ ہے کہ وہ پیچھے رہنے والے مردوں میں سے ہے۔ جب ان کا ذکر مردوں کے ذر کی طرف ملایا تو (مذکر کا صیغہ) کہا ” من الغابرین “
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

(84) (وامطرنا علیھم مطراً ) وھب کا قول ہے کہ گندھک اور آگ کی بارش اور وہ پتھر نشان زدہ تھے۔ ابو عبیدہ و (رح) فرماتے ہیں کہ عذاب کے بارے میں ” امطر “ کا لفظ اور ” رحمت “ کے بارے میں مطر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین اہل مدین کون تھے
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

(85) (والی مدین اخاھم شعیباً ) یعنی مدین کی اولاد کی طرف ہم نے بھیجا اور مدین ابراہیم خلیل الرحمٰن (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں۔ یہ ” ایکۃ “ والے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ شعیب (علیہ السلام) بن توبتہ بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ ابن اسحاق (رح) نے نسب نامہ یہ بتایا ہے کہ شعیب بن میکائیل بن یزجرین مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) اور میکائیل کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی صاحبزادی تھیں اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ شعیب بن یثرون بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا کیونکہ یہ اپنی قوم کو بڑے اچھے انداز میں نصیحت کرتے تھے۔ ان کی قوم کافرہ تھی اور ناپ و تول میں کمی کرتی تھی۔ (قال یقوم اعبدواللہ مالکم من الہ غیرہ قد جآء تکم بینۃ من ربکم) یہ دلیل جوان کے پاس آئی۔ اگرچہ یہاں ذکر نہیں کی گئی لیکن آئی تھی کیونکہ تمام قوموں کے پاس آنے والی نشانیوں کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے اور بعض نے کہا ” بینۃ “ سے مراد شعیب (علیہ السلام) کا آنا ہے (فاوفوا الکیل والمیزان ولاتبخسوا الناس اشیآء ھم) یعنی لوگوں کے حقوق کھا کر ظلم نہ کرو اور ان میں کمی نہ کرو۔ (ولا نفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا) یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے بھیجنے اور انصاف کا حکم دینے سے جو اصلاح ہوئی اس کے بعد فساد نہ کرو اور جس نبی کو کسی قوم کی طرف بھیجا گیا تو وہ اس قوم کی اصلاح ہے (ذلکم خیر لکم ان کنتم مئومنین) یعنی جس کا تم کو حکم دیا یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

تفسیر 86(ولا تقعدوا بکل صراط) ہر راستے پر (توعدون) ڈرانے کی غرض سے (وتصدون عن سبیل اللہ) اور مت بیٹھو راستوں پر یہ راستے پر کہ ڈرائو دھمکیاں دو اور روکو اللہ کے راستے سے اللہ کے دین سے۔ (من امن بہ وتبغونھا عوجاً ) بعض نے کہا کہ تم دین میں عیب تلاش کرتے ہو اور سیدھے راستے سے نکلنے کا طریقہ کیونکہ وہ رساتوں پر بیٹھ جاتے تھے اور جو شخص شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا ارادہ کرتا۔ اس کو کہتے کہ شعیب (علیہ السلام) جھوٹا ہے وہ تجھے تیرے دین سے نہ پھسلا دے اور مئومنین کو قتل کی دھمکیاں دیتے تھے (واذکروا اذکنتم قلیلاً فکثرکم ) تمہاری تعداد زیادہ کی (وانظروا کیف کان عاقبۃ المفسدین) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام کیا ہوا۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

87(وان کان طائفۃ منکم امنوا بالذی ارسلت بہ وطآئفۃ لم یومنوا) یعنی اگر میری رسالت میں تمہیں اختلاف ہے کہ دو فرقے ہوگئے ہو ایک ایمان لانے والوں کا ایک جھٹلانے والوں کا (فاصبروا حتی یحکم اللہ بیننا) جھٹلانے والوں کو عذاب دینے اور ایمان لانے والوں کو نجات دینے کا (وھو خیر الحکمین)
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

تفسیر 88(قال الملا الذین استکبروا من قومہ) اس سے مراد شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سردار تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ (لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنآ او لتعودن فی ملتنا) سم اس دین پر لوٹ آئو جس پر ہم ہیں (قال) شعیب (علیہ السلام) نے کہا (اولو کنا کرھین) اگر ہم تمہارے دین پر آنے سے بیزار ہوں تو کیا ہمیں مجبور کرو گے ؟
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

89(قد اقترینا علی اللہ کذباً ان عدنا فی ملتکم بعد اذنجنا اللہ منھا ط وما یکون لنا ان نعوذ فیھا ) اللہ تعالیٰ کے اس سے نجات دینے کے بعد (الا ان یشآء اللہ ربنا) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت میں یہ بات ہے کہ ہم واپسی اسی پر لوٹ جائیں گے تو اس صورت میں اللہ کی قضاء ہم پر جاری ہوگی۔ یہاں پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو دعوت دی کہ ہمارے دین میں واپس لوٹ آئیں اور شعیب (علیہ السلام) نے بھی یہی کیا کہ ہم اس دین پر نہیں لوٹ سکتے حالانکہ شعیب ع لیہ السلام تو کبھی بھی ان کے دین پر نہ تھے تو اس قول کا کیا مطلب ہوا ؟ جواب یہے کہ آیت میں عود کا لفظ دخول کے معنی میں ہے یعنی آپ مہارے دین میں داخل ہوجائیں۔ بعض نے کہا کہ عاد صار کے معنی میں ہے کہ تم ہو جائو ہمارے دین میں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے کیونکہ پہلے وہ کافر تھے، بعد میں مئومن ہوئے تو ان کے کافر ساتھیوں نے ان کو واپس بلایا تو ان کی طرف سے شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا (وسع ربنا کل شیء علماً ) (علی اللہ توکلنا) جو تم ہمیں دھمکائیں دیتے ہو ان کے بارے میں۔ پھر جب شعیب (علیہ السلام) ا ن کے ایمان سے ناامید ہوگئے تو فرمایا (ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق) مہارے درمیان فیصلہ کیجیے انصاف کے ساتھ (وانت خیر الفتحین) تو بہتر حاکمین میں سے ہے۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے

90(وقال الملا الذین کفروا من قومہ لئن اتبغنم شعیباً ) تم اپنے دین کو چھوڑ دو گے (انکم اذا لخسرون) خسارہ میں ہو گے۔ عطاء فرماتے ہیں انکار کرنے والے ہوں گے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں عاجز ہوں گے۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

91(فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ” رجفۃ “ سے زلزلہ مراد ہے ۔ ابن عباس ؓ اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیا۔ اس سے سخت گرمی بھیجی جس نے ان کے سانس کو پکڑ لیا کہ اب نہ ان کو سایہ نفع دیتا تھا نہ پانی تو وہ لوگ درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوتے تھے تاکہ ٹھنڈ حاصل کریں لیکن جب داخل ہوتے تو اس کو باہر کھلی فضا سے بھی زیادہ گرم پاتے تو بھاگ کر کھلی جگہ میں نکل جاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان میں پاکیزہ ہوا بھیجی تو اس نے ان کو سایہ دیا تو وہ ایک دوسرے کو بلا کر اس کے نیچے جمع ہوگئے کیونکہ وہ سائبان کی طرح تھی اور اس میں ٹھنڈک اور خنک ہوا تھی۔ جب سب عورتیں، مرد، بچے جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی میں سے آگ کے شعلے برسائے اور زمین بھی ہلنے لگی تو وہ جل کر راکھ ہوگئے اور یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وہا کو سات دن کے لئے روک لیا۔ پھر ان پر گرمی کو سات دن کے لئے مسلط کردیا۔ پھر ان کے لئے دور سے ایک پہاڑ لایا گیا تو اس کے پاس ایک آدمی آیا تو دیکھا کہ اس کے نیچے چشمے اور نہریں ہیں تو وہ سارے اس کے نیچے جمع ہوگئے تو پہاڑ ان پر گرگیا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان (عذاب یوم الظلہ) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب الایکہ اور صحاب مدین کی طرف بھیجا۔ اصحاب ایکتہ سائبان کے ذریعے ہلاک کئے گئے اور اصحاب مدین چیخ کے ذریعے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس سے سارے ہلاک ہوگئے۔ ابو عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ مدین کے بادشاہوں کے نام یہ تھے ابو جاد، ھوز، حطی، کلمن، سعفص قرشت، شعیب (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کا بادشاہ کلمن تھا۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے گویا کبھی آباد ہی نہ تھے غرض جنہوں نے شعیب کو چھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

92(الذین کذبوا شعیباً کان ثم یغنوا فیھا) یعنی وہ ان میں رہائی پذیر نہ ہوئے تھے۔ یہ ان کے قول غنیت بالمکان سے مشتق ہے جب تو اس میں رہائش پذیر ہو اور مغانی منازل اس کا واحد معنی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گویا کہ انہوں نے اس میں ناز و نعم حاصل نہیں کئے۔ وہاں جنہوں نے جھٹلایا ۔ شعیب (علیہ السلام) کو ویہ ہوئے خراب نہ کہ مومنین جیسا کہ وہ کافر تھے۔ ” الذین کذبوا شعیباً کان لم یغنوا فیھا “ ایسا معلوم ہونے لگا کہ یہ وہاں رہتے ہی نہیں تھے وہاں کوئی آبادی ہی نہیں تھی۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے غنیت بالمکان میں نے اس جگہ قیام کیا۔ مغانی مکانات قیام گاہیں اس کا واحد ” مغنی “ آتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی گویا کہ ان کی کوئی نعمت عطا ہی نہیں کی گئی۔ (فیھا الذین کذبوا شعیباً کانوا ھم الخسرین)
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیوں ! میں نے تم کو پروردگار کے پیغام پہنچا دئے ہیں اور تمہاری خہر خواہی کی تھی تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں ؟

تفسیر 93(فتولی عنھم) یعنی جس وقت ان لوگوں کے پاس عذاب آیا تو شعیب (علیہ السلام) ان سے اعراض کر چلے گئے (وقال یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم فکیف اسی علی قوم کفرین) اور الاسی غم اور الاسی صبر کرنا۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو جو ایمان نہ لائے دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔

94(وما ارسلنا فی قریۃ من نبی) یہاں مقدر ہے یعنی پھر ان لوگوں نے اس نبی کو جھٹلایا (انا اخلنا اھلھا) جب وہ ایمان نہ لائے ہوں۔ بالباسآء اور والضراء کی مختلف تفاسیر (بالباسآء والضرائ) ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ” باسء فتر ہے اور ” ضرائ “ سے مراد مرض ہے اور یہی معنی ہے ان لوگوں کے قول کا جنہوں نے کہا ” باساء “ کا تعلق مال سے اور ” ضرائ “ کا تعلق جان سے ہے اور بعض نے کہا کہ ” باسائ “ اور ” بئوس “ کا معنی معیشت کا تنگ ہونا اور ” ضرائ “ اور ” ضر “ کا معنی بری حالت اور بعض نے کہا ” باسائ “ سے مراد غم و پریشانی اور ” ضرائ “ سے خشک سالی مراد ہے (لعلھم یضرعون) اور توبہ کریں۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے اس طرح کا رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اپنے حال میں بیخبر تھے

95(ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ) یعنی نعمت، کشادگی، خوشحالی، سرسبزی اور صحت میں اس کو بدل دیا۔ (حتی عفواً ) یعنی ان کی تعداد زیادہ ہوگئی یا ان کے مال زیادہ ہ وگئے۔ جب بال زیادہ ہوجائیں تو کہا جاتا ہے ” عفا الشعر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں اضافہ ہوگیا (وقالوا) وہ نرمی اور عیش میں ہونے کے بعد اپنی غفلت سے کہنے لگے۔ (قدمس ابآء نا الضرآء والسرآئ) یعنی زمانہ کی یہ پرانی عادت ہمارے اور ہمارے آباء کے ساتھ چلی آرہی ہے یہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نہیں ہے لہٰذا تم اسی دین پر چلتے رہو جس پر تمہارے آباء تھے کیونکہ ان تکالیف کی وجہ سے انہوں نے اپنا دین نہ چھوڑا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (فاخذنھم بعتۃ (پھر پکڑا ہم نے ان کو اچانک وہ اپنی حالت پر بےخوف تھے ) (وھم لایشعرون) عذاب کے اترنے کی۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔

96(ولو ان اھل القرٓی امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض) یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات اور ” برکۃ “ اصل یہ ہے کہ کوئی چیز لگاتا رہے یعنی ہم ان پر لگاتار بارش برساتے اور نباتات اگاتے اور ان سے قحط اور خشک سالی اٹھا لیتے ۔ (ولکن کذبوافاخذنھم بما کانوا یکسبون) خبیث اعمال سے۔
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں ؟

97(افامن اھل القرٓی) جن نے کفر کیا اور جھٹلایا اس حکم سے مکہ والوں اور اس کے اردگرد والے (ان یاتیھم باسنا) ہمارے عذاب (بیاتاً ) رات رات کو (وھم نآئمون)
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا اہل شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں ؟

تفسیر 98(اوامن) اہل حجاز اور اہل شام نے وائو کو ساکن اور باقی نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی) یعنی دن کو اور ضحی دن کا ابتدائی حصہ اور سورج کے خوب روشن ہونے کا وقت ۔ (وھم یعلبون) غافل ہوں۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے ؟ سو خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں

99(افآمنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون) اللہ تعالیٰ کا مکر ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دے کر ڈھیل دینا ہے۔ عطیہ (رح) فرماتے ہیں اس کا پکڑنا اور اس کا عذاب۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے مرجانے کے بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ؟ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

100(اولم یھد) قتادہ اور یعقوب نے ” نھ ”‘ نون کے ساتھ پڑھا ہے کہ جمع تعظیم کے لئے ہے اور باقی حضرت نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (للذین یرثون الارض من بعد اھلھآ) ان کی ہلاکت کے بعد (ان لونشآء اصبنھم) یعنی ان کو پکڑ لیں اور ہم ان کو سزا دیں (بذنوبھم) جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو سزا دی ہے (ونطبع علی قلوبھم فھم لا یسمعون) ایمان کو اور نہیں قبول کرتے نصیحت کو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ” نطبع “ ماقبل سے منقطع ہے کیونکہ ” اصبناھم “ ماضی ہے اور ” نطبع “ مستقبل ہے۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

101(تلک القریٰ ) یہ بستیاں جن کے بسنے والوں کے حالات ہم نے آپ (علیہ السلام) کو سنائے یعنی قوم نوح و عاد وثمود اور قوم لوط و شعیب (علیہم السلام) کے حالات (نقص علیک من ام نبآئھا ) کیونکہ ان میں نصیحت ہے (ولقد جآء نھم رسلھم بالبینت فما کانوا لیومنوا بما کذبوا من قبل) معجزات و عجائبات (پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلا جھٹلا چکے تھے) یعنی معجزات و عجائب دیکھنے کے بعد بھی اس دین پر ایمان نہ لاسکے جس پر ان کے دیکھنے سے پہلے ایمان نہ لائے تھے اس کی نظری اللہ تعالیٰ کا قول ” قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کافرین “ ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں یعنی نہیں تھا ان کفار جن کو ہم نے ہلاک کیا ہے کہ وہ رسولوں کے بھیجنے کے وقت ایمان لے آتے، اس پر جس کی انہوں نے اس سے پہلے تکذیب کی تھی جب ان کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر ان سے میثاق لیا تھا تو انہوں نے زبان سے اقرار کیا اور دل میں تکذیب کو چھپایا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان کو ہلاک کرنے کے بعد زندہ کردیں تو وہ ایمان نہ لائیں گے اس پر جس کی تکذیب انہوں نے اپنی ہلاکت سے پہلے کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ولو ردوا العادواً لمانھوا عنہ) کی وجہ سے۔ یمان بن رباب فرماتے ہیں اس معنی پر ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی ۔ فرماتے ہیں وہ ان پر ایمان نہیں لانے والے جن کو گزشتہ امتوں نے جھٹلایا ہے بلکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی جس کی پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحر او مجنن “ ہے۔ (کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین) یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلی امتں کے دلوں پر مہر لگا کر ان کو ہلاک کردیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کی قوم کے جن کافروں کے بارے میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے ان کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو دیکھا تو بدکار ہی دیکھا

تفسیر 102(وما وجدنا لاکثرھم من عھد) یعنی مثاق کے دن جس دن تمہیں آدم علیہ السام کی پیٹھ سے نکالا تھا اور عہد لیا تھا اس عہد کا پورا کرتا نہ پایا (و ان وجدنا اکثرھم لفسقین) یعنی عہد کو توڑنے والے۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔

103(ثم بعثنا من م بعدھم) یعنی نوح، ھود، صالح اور شعیب (علیہم السلام) کے بعد (موسی بایتنآ الی فرعون وملائہ فعلموبھا) یعنی اس کا انکار کیا اور ظلم ایک شے کو دوسری کی جگہ رکھنے کو کہتے ہیں اور ان کا ظلم کفر کو ایمان کی جگہ رکھنا تھا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ہم نے ان کے ساتھ کیسے کیا۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

104(وقال موسی) جب فرعون کے پاس گئے (یفرعون انی رسول من رب العلمین) تیری طرف تو فرعون نے کہا آپ نے جھوٹ کہا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواباً کہا۔
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جائے۔

(105) (حقیق علٓی ان لا اقول علی اللہ الا الحق) میں اس کا حق دار ہوں کہ اللہ پر صرف حق بات کہوں تو ” علی “ باء کے معنی میں ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے ” رنیت بالقوس و رمیت عن القوس “ اور ” جنت علی حال حال حسنۃ و بحال حسنۃ “ اس پر ابی اور اعمش کی قرأت دلالت کرتی ہے ” حقیق بان لا اقول “ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ حریص ہوں اس بات پر کہ اللہ پر صرف حق بات کہوں اور نافع (رح) نے ” علی “ یاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی حق اور واجب ہے مجھ پر تب تو کہ میں اللہ پر صرف حق کہوں۔ (قد جنتکم بینۃ من ربکم ) یعنی عصا (فارسل معی نبی اسرآئیل) یعنی ان کا راستہ چھوڑ دے تاکہ وہ ارض مقدس چلے جائیں کیونکہ فرعون ان سے سخت مشقت والے کام کرلیا کرتا تھا جیسے اینٹیں بنوانا مٹی ڈھونا وغیرہ۔ تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب یوں دیا۔
Ayah 7:106

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تم نشانی لیکر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لے آؤ دیکھاؤ

106(قال ان کنت جنت بایہ قات بھآ ان کنت من الصدقین)
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا ہوگیا

107(فالقی) موسیٰ (علیہ السلام) نے (عصاہ فاذاھی ثعبان مبین) ثعبان اور جان کی وضاحت ” ثعبان “ بڑا نر سانپ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دوسری جگہ آیت میں اس کو ” جان “ کہا گیا ہے اور جان چھوٹے سانپ کو کت ہے ہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ حرکت کرنے میں چھوٹے سانپ کی طرح تھا اور جسم کے اعتبار سے بڑا سانپ تھا۔ ابن عباس ؓ اور سدی (رح) نے فرمایا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن گیا۔ اس کا رنگ زرد بالوں والا اس کے جبڑوں کے درمیان اسی گز کا فاصلہ تھا، زمین سے ایک میل اونچا اٹھ گیا۔ اس طرح کہ دم نیچے نکالی اور اپنا نچلا جبڑا بھی زمین پر رکھ لیا اور اوپر والا جبڑا محل کی چھت سے جالگا اور فرعون کو پکڑینے اس کی طرف متوجہ ہوا۔ فرعون اس کے خوف سے بھاگا تو پاخانہ بیچ میں نکل گیا اور بعض نے کہا ہے کہ اس دن چار سو مرتبہ اس کو پاخانہ آیا۔ اور وہ لوگوں پر متوجہ ہوا تو وہ چیخنے لگے اور پچیس ہزار لوگ بھگدڑ سے مرگئے تو فرعون کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں آپ (علیہ السلام) کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ (علیہ السلام) کو بھیجا ہے کہ اس کو پکڑ لیں، میں آپ پر ایمان لائوں گا اور نبی اسرائیل کو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ بھیج دوں گا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا وہ دو بار عصا بن گیا۔ پھر فرعون نے کہا کیا کوئی اور نشانی ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔
Ayah 7:108

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کی نظر میں سفید براق تھا

تفسیر 108(ونزع یدہ فاذاھی بیضآء للنظرین) یعنی اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کر کے نکالا اور بعض نے کہا کہ اپنی بغل سے نکالا تو وہ سفید تھا۔ اس میں ایسی روشنی تھی کہ سورج کی روشنی پر غالب آگئی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا رنگ گندمی تھا۔ پھر اس ہاتھ کو گریبان میں داخل کیا تو پہلے جیسا ہوگیا۔
Ayah 7:109

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے یہ بڑا علامہ جادوگر ہے۔

109(قال الملا من قمو فرعون ان ھذا لسحر علیھم) یعنی لوگوں کو آنکھوں پر جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے ان کو عصا سانپ لگنے لگا اور گندمی ہاتھ سفید لگنے لگا۔
Ayah 7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے بھلا تمہاری کیا صلاح ہے ؟

100(یرید ان یخرجکم ) اے قبطی لوگو ! (من ارضکم) مصر سے (فما ذا تامرون) یعنی کیا مشورہ دیتے ہو۔ یہ فرعون نے کہا تھا اگرچہ اس کا تذکرہ نہیں ہے اور بعض نے کہا ان سرداروں نے کہا تھا فرعون اور اس کے خواص کو۔
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھئے اور شہروں میں نقیب روانہ کردئجے

111(قالوا) یعنی سردار ڈھیل دے ” ارجہ “ ابن کثیر، اہل بصرہ اور ابن عامر نے ہمزہ کے ساتھ اور ھاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔ پھر نافع، ورش اور کسائی رحمہما اللہ نے ھاء کی زیر کا اتباع کیا ہے اور عاصم اور حمزہ رحمہما اللہ نے ساکن پڑھا ہے اور ابو جعفر اور قالون نے اس کو اختلاس کیا ہے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی اس کو مئوخر کیا ہے اور بعض نے کہا ہے میں اس کو گمان کرتا ہوں۔ (واخاہ وارسل فی المدآئن خشرین) یعنی سپاہیوں کو بھیج کہ وہ بڑے جادوگروں کو جمع کریں۔ انہوں نے کہا ہے ان مدائن کی طرف مردوں کو بھیج جو ان سے موجود جادوگروں کو تیرے پاس جمع کریں اور جادوگروں کے سردار مدائن الصعید کے آخر میں تھے اگر موسیٰ (علیہ السلام) ان پر غالب ہوگئے تو ہم ان کی تصدیق کریں گے اور اگر جادو گر غالب آگئے تو ہم جان جائیں گے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادو گر ہیں۔ (نعوذ باللہ)
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

112(یاتوک بکل سحر علیم) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یہاں اور سورة یونس میں ” سحار “ پڑھا ہے اور سورة شعراء میں سب کا اتفاق ہے کہ ” سحار “ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ساحر سے مراد وہ جو جادو سکیھا ہو لیکن آگے نہ سکھائے اور ” سحار “ جو آگے سکھائے اور عملاً جادو کرے اور بعض نے کہا سحر وہ شخص جس کا جادو کسی کسی وقت چلے اور سحار جس کا جادو دائمی ہو۔ ابن عباس ؓ ابن اسحاق اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے جب عصا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھی تو سوچا کہ ہم اس سے اسی وقت غالب ہوسکتے ہیں جب کوئی اس سے زیادہ جادو جاننے والا ہو تو اس نے بنی اسرائیل کے کچھ لڑکے ” غوصائ “ بستی میں اسی وقت غالب ہوسکتے ہیں جب کوئی اس سے زیادہ جادو جاننے والا ہو تو اس نے بنی اسرائیل کے کچھ لڑکے ” غوصائ “ بستی میں بھیجے کہ وہاں ان کو جادو کی تعلیم دی جائے تو وہاں جادوگروں نے ان کو بہت زیادہ جادو سکھایا۔ ادھر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک دن کا وعدہ کرلیا اور جادو گروں کو بلوایا تو وہ لڑکے اور ان کے استاد سب آگئے تو فرعون نے پوچھا تم نے کیا کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان لڑکوں کو ایسا جادو سکھایا ہے کہ زمین کے جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر آسمان سے کوئی معاملہ آئے تو یہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر فرعون نے اپنی سلطنت کے تمام جادوگر جمع کروائے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد ان جادوگروں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ مقاتل رحمہ الل ہفرماتے ہیں کہ بہتر تھے دو قبطی اور ستر بنی اسرائیل کے ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مجوسی نینویٰ کے رہنے والے معلم تھے اور ا ن کے علاوہ ستر جادوگر تھے اور کعب (رح) فرماتے ہیں کہ بارہ ہزار تھے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ تیس ہزار سے زائد تھے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ستر ہزار تھے۔ محمد بن منکدر (رح) فرماتے ہیں اسی ہزار تھے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے سردار کا نام شمعون تھا اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ جادوگروں کے سردار کا نام یوحنا تھا۔
Ayah 7:113

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

تفسیر 113(وجآء السحرۃ فرعون قالوا) فرعون کو (ان لنا لاجزاً ) اور مال ہے (ان کنا نحن الغلبین) اہل حجاز اور حفص (رح) نے ” ان لنا “ خبر کی بناء پر پڑھا ہے اور باقی حضرات نے استفہام کے ساتھ اور سورة الشوریٰ میں سب کا اتفاق ہے کہ یہ استفہام ہے۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ضرور اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کئے جاؤ گے

114(قال نعم وانکم لمن المقربین) مع مال کے ساتھ میرے ہاں تمہارا بلند مرتبہ ہوگا۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جب فریقین روز مقرر پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

115(قالوا یموسی اما ان تلفی واما ان نکون نحن الملقین) اپنے عصا اور رسیاں۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالی تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا یعنی نظر بندی کردی اور لاٹھیوں اور رسیوں کے ساتھ بنا بنا کر انہیں ڈرا ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دیکھایا

116(قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے (القوا فلمآ الفوا سحروا اعین الناس) یعنی لوگوں کی آنکھوں کو اپنے کرتب کی حقیقت پہچاننے سے پھیر دیا اور یہی جادو ہے۔ (واسترھبوھم وجآء وبسحر عظیم) ان پر رعب ڈالا اور ان کو ڈرایا ۔ کیونکہ انہوں نے موٹے رسے اور لمبی لکڑیاں ڈالی تھیں تو وہ پہاڑوں کی مثل بڑے سانپ بن گئے اور ساری وادی ان سے بھر گئی اور وہ سانپ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے۔ یہ میدان ایک میل لمبا اور ایک میل چوڑا تھا۔ لوگوں کو اس میں سانپ اور اژدھے ہی نظر آرہے تھے۔
Ayah 7:117

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بیھجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو تو وہ فوراً سانپ بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں ایک ایک کر کے نگل جائیگی۔

117(واوحینآ الی موسیٰ ان الق عصاک) جب موسیٰ ع لیہ السلام نے عصا ڈالا تو وہ اتنا بڑا اژدھا بنا کہ افق کو اپنے حجم سے بند کردیا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مقابلہ اسکندریہ میں ہوا اور کہا گیا ہے کہ سانپ کی دم سمندر تک پہنچ گئی اور اس نے اسی گز بڑا منہ کھولا (فاذاھی تلقف) حفص (رح) نے ” تلفف “ لام کے سکون اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو اور دیگر حضرات نے لام کے زبر اور قاف کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ نگلنے لگا۔ (مایافکون) جو خیالی جھوٹ انہوں نے بنایا تھا وہ اژدھا ان کے سب عصا اور رسیوں کو ایک ایک کر کے نگل گیا تو بھگدڑ سے پچیس ہزار لوگ مارے گئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا تو وہ پہلے جیسا عصا بن گیا۔
Ayah 7:118

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پھر تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے باطل ہوگیا

تفسیر 118(فوقع الحق) حسن اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں حق ظاہر ہوگیا۔ (وبطل ماکانوا یعملون) یعنی جادو کیونکہ جادو گر کہنے لگے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کا عمل جادو ہوتا تو ہماری لکڑیاں اور رسیاں باقی بچ جاتیں لیکن وہ تو نہیں تھیں تو وہ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کے حکم سے ہے۔