Ayah 7:41(41) (لھم من جھنم مھادومن فوقھم غواش) ” غواش غاشبۃ “ کی جمع ہے یعنی لحاف۔ مراد یہ آگ ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لھم من فوقھم ظلل من النار ومن تحتھم ظلل “ (وکذلک نجزی الظلمین اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو)
Ayah 7:42(42) (والذین امنوا و عملوا الصلحت لانکلف نفسا الا وسعھآ) یعنی ان کی طاقت کے مطابق اور جس میں کوئی حرج اور تنگی نہ ہو۔ (اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون)
Ayah 7:43(43) (ونزعنا ما فی صدورھم من غل) کھوٹ اور دشمنی تھی ہم ان کو بھائی بنادیں کہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے آپس میں کسی سے حسد نہ ہوگا (تجزی من تحتھم الانھر) حسن (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ” ونزعنا مافی صدورھم من غل اخوانا علی سرر متقابلین “ اللہ کی قسم ہم اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں، عثمان، طلحہ، زبیر ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (نکال لیں ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی)
پل صراط عبور کرنے کے بعد جنتیوں کے سینوں سے بغض نکال دیا جائے گا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مئومنوں کو جہنم سے بچا لیا جائے گا اور جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر ان کو روکا جائے گا اور ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہوں ان کا بدلہ لیا جائے گا جب ان کی کانٹ چھانٹ اور خوب صفائی ہوجائے گی تو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ وہ مئومن لوگ جنت کے گھرکا راستہ دنیا کے گھر سے بھی زیادہ جانتے ہوں گے۔ سدی (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جنتی لوگ جب جنت کی طرف روانہ کئے جائیں گے ت جنت کے دروازہ پر ایک درخت پائیں گے جس کی جڑ میں دو چشمے ہوں گے ایک سے پئیں گے تو ان کے دل سے کینہ نکال دیا جائے گا، یہی شراب طہور ہے اور دوسرے سے غسل کریں گے تو ان پر نعمتوں کو ترو تازگی آجائے گی اس کے بعد نہ ان پر میل آئے گی اور نہ پراگندہ ہوں گے ” الی ھذا “ یعنی جنت کے راستے کی طرف اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے ہمیں عمل کی ہدایت دی، جس کا یہ ثواب ہے۔” وما کنا “ ابن عامر (رح) نے ” ما کنا “ بغیر وائو کے پڑھا ہے۔ ” لنھتدی لولا ان ھدان ھدانا اللہ لقد جاء ت رسل ربنا بالحق “ جب جنتی لوگ رسولوں کے وعدوں کو سامنے دیکھیں گے تو یہ کہیں گے۔ (اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کی سچی بات) یہ بات جنتی لوگ کہیں گے جب رسولوں کے کئے ہوئے وعدوں کو اپنے سامنے دیکھ لیں گے (اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے ) بعض نے کہا جب وہ جنت کو دور سے دیکھیں گے تو یہ آواز آئے گی اور بعض نے کہا جنت میں پہنچنے کے بعد۔
اہل جنت کو تمام مشکلات سے چھٹکارے کی بشارت کا اعلان
حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے یہ دونوں فرماتے ہیں کہ آواز دینے والا آواز دے گا کہ تمہارے لئے یہ انعام ہے کہ ہم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے اور ہمیشہ زندہ ہو گے کبھی موت نہ آئے گی اور تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے اور تم ہمیشہ ناز و نعم میں رہو گے کبھی فقر نہ آئے گا۔ آیت میں اسی آواز کا ذکر ہے۔ یہ صحیح حدیث ہے۔ امام مسلم (رح) نے سفیان ثوری (رح) کی سند سے اس کو مرفوع بھی نقل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص کے لئے جنت و جہنم میں ٹھکانا ہے۔ کافر مئومن کے جہنم کے ٹھکانے کا وارث بنے گا اور مئومن کافر کے جنت کے ٹھکانے کا وارث بنے گا۔
Ayah 7:44(44) (ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار ان قدو جدنا ماوعدنا ربنا) ثواب کا (سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدہ کو) عذاب کے وعدہ کو (حقا اس سے مراد سچائی فھل وجدتم ما وعد ربکم اس سے مراد عذاب حقا ط قالوا نعم) کسائی (رح) نے ” نعم “ کو عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی قرآن میں آیا ہے اور باقی حضرات نے عین کے فتحہ کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ (فاذن مئوذن بینھم) یعنی ایسی پکار ہوگی جس کو دونوں فریق سن لیں گے (ان لغتۃ اللہ علی الظلمین) اہل مدینہ اہل بصرہ اور عاصم نے (ان) کو بغیر شد کے ” لغۃ “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ” ان “ کو شد اور ” لغۃ اللہ، کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ منصوب ہے ظالمین کی وجہ سے مراد کافرین ہے۔
Ayah 7:45تفسیر 45(الذین یصدون) پھیرتے تھے لوگوں کو (عن سبیل اللہ) اللہ کا کہنا ماننے سے (ویبغونھا عوجاً ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غیر اللہ کے لئے نماز پڑھتے تھے اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے عظمت نہیں دی اس کو عظیم جانتے تھے۔ ” عوج “ عین کے کسرہ کے ساتھ دین میں یا زمین ٹیڑھا ہونا اور ہر وہ چیز جو سیدھی کھڑی نہ ہوتی ہو اس کو بھی کہہ سکتے ہیں اور اگر عین پر فتحہ ہو تو کھڑی چیز پر بولا جاسکتا ہے جیسے دیوار نیزہ وغیرہ۔ (وھم بالاخرۃ کفرون)
Ayah 7:46(46) (وبینھما حجاب) یعنی جنت اور جہنم کے درمیان اور بعض نے کہا جہنمیوں کے درمیان دیوار ہوگی اور یہ وہی سور ہے جس کا تذکرہ قرآن میں ہے۔ ” قضرب بینھم بسورلہ باب “ …(وعلی الاعراف رجال) اعراف وہی سور ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان ہوگا۔
اصحاب الاعراف کی وضاحت اور مصداق
اعراف عرف کی جمع ہے ہر بلند جگہ کو عرف کہتے ہیں اور مرغے کی کلغی کو بھی ” عرف الدیک “ کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی تمام جسم سے بلند ہوتی ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سور کا نام اعراف اس وجہ سے رکھ اگیا کہ اعراف والے لوگوں کو پہچانتے ہوں گے۔
اعراف پر کون لوگ ہوں گے ؟ اس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ حذیفہ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی عینی ان کی برائیاں جنت میں جانے سے رکاوٹ ہوں گی اور نیکیاں جہنم میں جانے سے۔ یہ لوگ اعراف پر ٹھہرے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ جو ا ہیں گے ان کے حق میں فیصلہ کریں گے ار ان کو جنت میں داخل کریں گے اپنے فضل سے اور یہ جنت میں داخل ہونے والے آخری لوگ ہوں گے۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ لوگوں کا قیامت کے دن حساب کیا جائے گا۔ پس جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوئیں، اگرچہ ایک ہی زیادہ ہو تو جنت میں داخل ہوگا اور جس کی برائیاں اس کی اچھائیوں سے بڑھ گئیں اگرچہ ایک ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ پھر یہ آیت پڑھی ” فمن ثقلت موازینہ فاولئک ھم المفلحون ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسھم “ پھر فرمایا کہ ترازو ایک رائی کے وزن کی وجہ سے جھک جاتا ہے یا اٹھ جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں ت وہ اعراف والوں میں ہوگا تو یہ لوگ صراط پر ٹھہرے رہیں گے پھر وہ جنتیوں اور جہنمیوں کو پہچاننے لگیں گے جب جنت والوں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو سلام کریں گے اور جب اپنی آنکھیں جہنمیوں کی طرف پھیریں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب تو ہمیں نہ کر ظالم قوم کے ساتھ نیکیوں والوں کو ایک نور دیا جائے گا اور ان کے آگے اور دائیں چلے گا اور ہر ایک کو نور دیا جائے گا لیکن جب پل صراط پر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ہر منافق مرد و عورت کا نور چھین لیں گے۔ جب جنتی لوگ یہ منظر دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب ! تو ہمارے لئے ہمارا نور مکمل کر دے لیکن اصحاب اعراف سے نور تو نہیں چھینا جائے گا لیکن ان کی برائیاں ان کو روک دیں گی تو ان کے دل میں امید رہ جائے گی کیونکہ ان کا نور ختم نہیں ہوا ہوگا تو اسی کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ (لم یدخلوھا وھم یطمعون)
اور ان کو طمع اس نور کی ہوگی جو ان کے سامنے ہے، پھر وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور وہ جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوں گے اور شرجیل بن سعد (رح) فرماتے ہیں اصحاب الاعراف وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے گئے ہوں گے اور مقاتل نے اپنی تفسیر میں اس کو مرفوع نقل کیا ہے کہ اہل اعراف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے والدین کی نافرمانی کر کے جہاد فی سبیل اللہ میں حص ہلیا اور شہید ہوگئے تو ان کو جنم سے آزادی ملی اللہ کے راستے میں قتل ہونے کی وجہ سے اور والدین کی نافرمانی کی وجہ سے جنت میں داخل ہونے سے روکے گئے تو یہ جنگ میں سب سے آخر میں داخل ہوں گے اور مجاہد (رح) سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے والدین میں سے ایک ان پر رضای ہوگا اور دوسرا راضی نہ ہوگا۔ یہ اعراف پر روکے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کردیں۔ پھر یہ جنت میں داخل ہوں گے اور عبدالعزیز بن یحییٰ کتانی (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ ہیں جو فترت کے زمانہ میں مرگئے اور انہوں نے اپنا دین تبدیل نہیں کیا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ مشرکین کے بچے ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ مئومنین میں سے اہل فضل ہیں جو اعراف پر چڑھیں گے اور اہل جنت اور اہل جہنم پر جھانکیں گے اور دونوں فریقوں کے احوال کا مطالعہ کریں گے۔
(یعرفون کلابسیماھم) یعنی جنتیوں کو ان کے چہرے کی سفیدی اور جہنمیوں کو ان کے چہروں کی سیاہی سے پچان لیں گے۔ (ونادوا اصحب الجنۃ ان سلم علیکم لم یدخلوھا وھم یطمعون) اس میں داخل ہونے۔ ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں یہ طمع رکھی ان کو اعزاز دینے کے لئے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں جس ذات نے ان کے دلوں میں طمع ڈالی وہ ان کو ان کی طمع تک پہنچا دے گا۔
Ayah 7:47تفسیر (47) (واذا صرفت ابصارھم لقآء اصحب النار) تو اللہ کی پناہ مانگیں گے (قالوا ربنا لاتجعلنا مع القوم الظلمین) یعنی کافروں کے ساتھ جہنم میں نہ ڈال۔
Ayah 7:48(48) (ونادی اصحب الاعراف رجالاً ) جو جہنمی دنیا میں بڑے لوگ تھے (یعرفونھم بسیمھم قالوا ما اغنی عنکم جمعکم) یعنی دنیا کا مال اور اولاد (وما کنتم تستکبرون) ایمان لانے سے کلبی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ دیوار پر آواز دیں گے اے ولید بن مغیرہ، اے ابوجہل بن ہشام، اے فلاں پھر وہ جنت کی طرف دیکھیں گے تو اس میں وہ فقیر اور کمزور لوگ ہوں گے جن کا وہ مذاق اڑاتے تھے جیسے سلمان، صہیب، خباب اور بلال ؓ اور ان جیسے دیگر حضرات تو اعراف والے ان کفار کو کہیں گے۔
Ayah 7:49(49) (اھولاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمۃ) یعنی تم نے قسم اٹھائی تھی کہ یہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر اعراف والوں کو کہا جائے گا (ادخلوا الجنۃ لاخوف علیکم ولا انتم تحزنون) یہاں ایک دوسرا قول ہے کہ جب اعراف والے جہنمیوں کو یہ باتیں کہیں گے تو وہ کہیں گے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوگئے ہیں تو تم تو داخل نہیں ہوئے تو ان کو عار دلائیں گے اور قسم کھائیں گے کہ تم جہنم میں داخل ہو گے تو جو فرشتے اعراف والوں کو روکے ہوئے ہوں گے وہ کہیں گے کہ تم ان اعراف والوں کے بارے میں قسم کھا رہے ہو کہ ان کو اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی ؟ پھر ان اعراف والوں کو کہیں گے تم جنت میں داخل ہو جائو نہ ڈر ہے تم پر اور نہ تم غمگین ہو گے۔
Ayah 7:50(ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان اقیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ) اللہ نے جو تم کو جنت کے کھانوں سے رزق دیا کچھ ہم پر بھی کشادگی کرو۔ ابن عباس ؓ سے عطاء نے روایت کی ہے کہ جب اعراف والے جنت چلے جائیں گے تو جہنم والوں کو امید ہوگی کہ اب ہم پر کشادگی ہوجائے گی تو وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک ہمارے رشتہ دار جنت میں ہیں تو ہمیں اجازت دے کہ ہم ان کو دیکھ لیں اور بات کرلیں تو وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو جنت میں دیکھیں گے کہ وہ نعمتوں میں مزے کر رہے ہیں تو ان کو پہچان لیں گے لیکن جنت والے ان کی سایہی کی وجہ سے ان کو نہ پہچان سکیں گے تو جہنم الے جنت والوں کو ان کے نام لے کر پکاریں گے اور ان کو رشتہ دار ہونے کی خبر دیں گے اور کہیں گے کہ تھوڑا پانی یا کھانا دے دو ۔ (قالوا ان اللہ حرمھما علی الکفرین ) یعنی پانی اور کھانے کو۔
Ayah 7:51(الذین اتخذوا دینھم لھوا ولعباو عزتھم الحیوۃ الدنیا) جو شیطان نے ان کے لئے مزین کیا بحریہ وغیرہ کا حرام کرنا اور بیت اللہ کے اردگرد سیٹیاں اور تالیاں بجانا اور وہ تمام برے افعال جو وہ جاہلیت میں کرتے تھے اور بعض نے کہا ہے ”’ ینھم “ یعنی اپنی عید کو۔ اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگانی نے سو آج ہم ان کو بھلا دیں گے) آگ میں چھوڑ دیں گے (فالیوم اننھم، کما نسوا لقآء یومھم ھذا) یعنی جیسے انہوں نے اس دن کی ملاقات کے لئے عمل چھوڑ دیا (وما کانوا بایتنا یجحلون) ۔
Ayah 7:52تفسیر (52) (ولقد جئنھم بکتب فصلنہ علی علم) یعنی قرآن جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے ہماری طرف سے وہ چیز جو ان کی مناسبت ہے (ھدی و رحمۃ) یعنی ہم نے قرآن کو ہدایت دینے والا اور رحمت والا بنایا ہے (لقوم یومنون)
Ayah 7:53(53) (ھل ینظرن الا تاویلہ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تاویل سے جزاء مراد ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں اس کا انجام مراد ہے اور معنی یہ ہے کہ یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے امر کا انجام کیا ہوتا ہے یعنی عذاب اور ان کا جہنم میں جانا۔ (یوم یاتی تاویلہ ) یعنی اس کی جزاء اور ان کا انجام کہنے لگیں گے (یقول الذین نسوہ من قبل قد جآء ث رسل ربنا بالحق) سو اس وقت اعتراف کیا جب ان کو اعتراف نفع نہ دے گا (فھل لنا) سے آج کے دن (من شفعآء فیشفعوا لنا اونرد) یا ان کو لوٹا دیں دنیا کی طرف (فنعمل غیر الذی کنا نعمل ، قدخسروا انفسھم) یعنی عذاب سے ہلاک کردیا (وضل) اس سے مراد باطل ہے (عنھم ما کانوا یفترون)
Ayah 7:54(54) (ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام) یعنی چھ دن کی مقدار میں اس لئے کہ دن سورج کے طلوع سے غروب تک کا وقت ہے اور اس وقت نہ سورج تھا نہ آسمان اور نہ ایام۔ بعض نے کہا چھ دن آخرت کے دن کی طرح یعنی ہر دن ہزار سال کے برابر اور بعض نے کہا دنیا کے دنوں کی طرح۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کے ایک لمحہ میں پیدا کرنے پر قادر تھے لیکن چھ دن میں پیدا کر کے مخلوق کو تعلیم دی ہے کہ اپنے کاموں میں تحمل و وقار اختیار کرو۔ تحقیق حدیث میں آیا ہے کہ وقار رحمٰن کی طرف سے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے۔ (ثم استوی علی الغرش)
استوی علی العرش کی مختلف تفاسیر
کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ نے ” استوی “ کا معنی کیا ہے اس نے قرار پکڑ ا اور ابو عبیدہ (رح) نے معنی کیا ہے بلند ہوا۔ معتزلہ نے ” استوائ “ کی تاویل “ استعلائ “ سے کی ہے یعنی غلبہ پایا عرش پر۔ اہل سنت فرماتے ہیں کہ ” استواء علی العرش “ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے بغیر کسی کیفیت کے۔ ہر بندہ پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر ایمان لائے اور اس کی حقیقت کا علم اللہ کے سپرد کرے کہ اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں۔ کسی شخص نے مالک بن انس سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الرحمٰن علی العرش استوی “ کے بارے میں سوال کیا کہ اس استوی کی کیفیت کیا تھی ؟ تو آپ (رح) نے کچھ دیر سرجھکایا اور پھ راس کو تھوڑا سا اٹھایا اور کہا ” استوائ “ کے معنی مجہول نہیں لیکن کیفیت عقل سے باہر ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے اور میں تجھے گمراہ سمجھتا ہوں پھر اس کے بارے میں حکم دیا اس کو مجلس سے ناکل دیا گیا۔ سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، سفیان بن عینیہ، عبداللہ بن مبارک رحمہما اللہ اور ان کے علاوہ اہل سنت کے بہت سے علماء سے مروی ہے کہ صفات متشا بہات کو ان کے عنی پر جاری کردہ بغیر کسی متعین کیفیت کے اور لغت میں عرش تخت کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا عرش سے ملک مراد ہے۔ اور بعض نے کہا ہے عرش جو بلند ہو اور سایہ کرے۔ اسی سے عرش الکروم ہے۔ ” یغشی اللیل النھار “ حمزہ، کسائی اور ابوبکر اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” یغشی “ شد کے ساتھ پڑھا ہے یہاں اور سورة الرعد میں اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی رتا دن پر آتی ہے اور اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس میں حذف ہے یعنی یغشی النھار اللیل “ اور کلام کے اس پر دلالت کرنے کی وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا اور دسوری آیت میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ۔ (یغشی الیل النھار یطلبہ حئیثا والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ الا لہ الخق والامر) اڑھات ا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور پیدا کئے سورج اور چاند اور تارے ابن عامر رحمہ الہ نے تام کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء اور خبر کی بناء پر اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح سورة النحل ہے عطف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قول ” خلق السماوات والارض “ پر یعنی ان تمام چیزوں کو تابع پیدا کیا۔ تابعد ار اپنے حکم کے سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا) یعنی اسی کی مخلوق ہے کیونکہ اس نے ان کو پیدا کیا اور اسی کے لئے حکم ہے اپنی مخلوق کو جو چاہے حکم دے۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خلق اور امر میں فرق کیا ہے جو ان کو جمع کرے کافر ہے (تبرک اللہ رب العلمین) یعنی بلند اور عظیم ہے اللہ۔ بعض نے کہا تبارک تفاعل ہے برکتہ سے بمعنی بڑھنا اور زیادہ ہون ایعنی برکت اس کے ذکر سے حاصل کی جاتی ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہر برکت کے ساتھ آیا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں برکت اسی کے پاس سے آتی ہے اور بعض نے کہا ہے بابرکت اور پاک ہے اور بعض نے کہا ہے تبارک اللہ یعنی ہر چیز میں اسی کے نام کے ساتھ برکت حاصل کی جاتی ہے۔ محققین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس صفت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ثابت و دائم ہے نہ زائل ہوگا اور نہ زائل کیا جاسکتا ہے اور برکت کی اصل ثبوت ہے۔ کہا جاتا ہے تبارک اللہ اور متبارک اور مبارک نہیں کہا جاتا ۔ اس لئے کہ منقول نہیں ہے۔” رب العالمین “
Ayah 7:55تفسیر (55) (ادعوا ربکم تضرعا) اپنے کو ذلیل کرتے ہوئے (وخفیۃ) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ خفیہ دعا اور اعلانیہ دعا کے درمیان ستر گنا فرق ہے۔ مسلمان دعا میں خوب کوشش کرتے تھے مگر ان کی آواز نہیں سنی جاتی تھی۔ صرف سرگوشیاں ان کے رب کے ساتھ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خفیہ دعا مانگنے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے نیک بندے کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے فعل سے راضی ہوئے (جس وقت اس نے اپنے رب کو پکارا چپکے سے) تو فرمایا (اذ نادی ربہ نداء خفیا) (انہ لایحب المعتدین) بعض نے کہا دعا میں حد سے گزرنے وال۔ ابو مجاز (رح) فرماتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کے مرتبوں کا سوال کرتے ہیں۔ ابو نعامہ (رح) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو سنا کہ وہ کہہ رہا ہے اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے اللہ سے جنت کا سوال کر اور اس سے جہنم سے پناہ مانگ کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عنقریب اس امت میں ایک ایسی قوم جو پاکی میں اور دعا میں حد سے تجاوز کرے گی۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں حد سے گزرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آواز کو دعا میں بلند کیا جائے اور چیخا جائے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی لڑائی کی تو لوگ ایک وادی پر چڑھے اور تکبیر کہنے میں آواز کو بلند کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے آپ پر حم کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے تم ہر کسی کی سننے والے قریب کو پکار رہے ہو۔ (رواہ البخاری) عطیہ (رح) فرماتے ہیں کہ معتدین وہ لوگ ہیں جو مئومنین کے خلاف ایسی دعائیں کرتے جو حلال نہیں۔ مثلاً کہتے ہیں اے اللہ ! ان کو رسوا کر دے اے اللہ ! ان پر لعنت کر دے وغیرہ۔
Ayah 7:56(56) (ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا) یعنی معاصی کر کے اور غیر اللہ کی اطاعت کی طرف بلا کر زمین میں خرابی مت ڈالو کیونکہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیج کر اور شریعت کو بیان کر کے اس کی اصلاح کرچکے ہیں اور یہی حسن، سدی، ضحاک کلبی رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے۔ عطیہ (رح) فرماتے ہیں کہ زمین میں نافرمانیاں نہ کر واپس اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیں گے اور تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے کھیتی کو ہلاک کردیں گے اس صورت میں ” بعد اصلاحھا “ کا معنی یہ ہوگا کہ بارش اور فراوانی کے ذریے اللہ نے اسکی اصلاح کردی اس کے بعد تم فساد نہ کرو (وادعوہ خوفا وطمعا) یعنی اللہ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی مغفرت اور فضل کی امید (ان رحمت اللہ قریب من المحسنین)” قریبۃ “ نہیں کہا۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں رحمت یہاں ثواب کے لئے ہے تو صفت معنی کی طرف لوٹ رہی ہے لفظ کی طرف نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” واذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ و الیتامی و المساکین فارزقوھم منہ “ اور مذکر، مئونث، واحد، جمع سب برابر ہیں۔ ابو عمر و بن علاء (رح) فرماتے ہیں ا لقرب لغت میں قرب کے معنی میں ہوتا ہے اور مسافت کے معنی میں بھی۔ عرب کہتے ہیں ” ھذہ امرأۃ قربیۃ منک “ جب یہ قرابت کے منی میں ہو اور قریب منک کہتے ہیں جب مسافت کے معنی میں ہو۔
Ayah 7:57تفسیر 57(وھو الذین یرسل الریح بشراً ) عاصم (رح) نے باء اور اس کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور شین کے سکون کے ساتھ یہاں اور الفرقان اور سورة النمل میں۔ یعنی ہوائیں بارش کی خوشخبری لاتی ہیں کیونکہ دوسری آیت میں ہے ” الریاح مبشرات “ (بین یدی رحمتہ) اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” نشرا “ نون اور زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور وہ پاکیزہ نرم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” والناشرات نشرا “ اور ابن عامر (رح) نے نون کے پیش اور شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے نون کے پیش اور شین کے ساتھ پڑھا ہے نشور کی جمع صبور اور صبر اور رسول اور رسل کی طرح یعنی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ مکہ کے راستے میں سخت ہوا چلی تو حضرت عمر ؓ نے اردگرد والوں سے پوچھا کہ ہوا کے بارے میں تم تک نبی کریم ﷺ کا کیا پیغام پنچا ہے ؟ کسی نے جواب نہ دیا تو یہ سوال مجھ تک پہنچا میں قافلہ کے آخر میں تھا میں نے سواری کو زبردستی دوڑایا اور حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچ گیا اور عرض کیا اے امیر المومنین ! مجھے خبر پہنچی کہ آپ ؓ نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ع لیہ السلام نے فرمایا کہ ہوا اللہ کے حکم سے آتی ہے رحمت اور عذاب کے ساتھ اتٓی ہے۔ اس اپنی سند سے نقل کیا ہے (حتی اذا اقلت سجابا ثقالاً ) بارش کے ساتھ (سقنہ) تو ہانک یدتے یہں ہم اس بادل کو ضمیر المسحاب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ” لبلد میت “ یعنی ایسے مردہ شہر کی طرف جو پانی کا محتاج ہے اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی ایسے مردہ شہر کو زندہ کرنے کے لئے جس میں کوئی نباتات نہ ہوں۔ ایک مردہ شہر کی طرف) جو پانی کا محتاج ہو (فانزلنا بہ المآء فاخرجنا بہ من کل اثمرات ط کذلک نخرج الموتی ) زمین کے بنجر ہونے کے بعد اس کے زندہ کرنے سے استدلال کیا ہے مردوں کو زندہ کرنے پر (لعلکم تذکرون)
ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سوب لوگ نفخہ اولیٰ سے مرجائیں گے تو اللہ تعالیٰ مردوں کی منی کی طرح ایک بارش عرش کے نیچے کے پانی سے بھیجیں گے جس کا نام ” ماء الحیوان “ ہے تو وہ کھیتی کے اگنے کی طرح اپنی قبروں میں اگ جائیں گے جب ان کے جسم مکمل ہوجائیں گے تو ان میں روح پھونکی جائے گی پھر ان پر نیند ڈال دی جائے گی تو وہ قبروں میں سو جائیں گے پھر دوسرے نفخہ کے ساتھ جمع کئے جائیں گے اور نیند کا خمار اپنے سروں میں محسوس کر رہے ہوں گے اس وقت وہ لوگ کہیں گے (یاویلینا من بعثنا من مرقدنا)
Ayah 7:58(58) (والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ) یہ مثل اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مئومنوں کے لئے بیان کی ہے۔ مئومن کی مثال اس پاکیزہ شہر کی سی ہے جس کو بارش کا پانی پہنچے تو اس سے اللہ کے حکم سے نباتات نلکیں۔
(والذی خبث ) یعنی شوریلی زمین (لایخرج الا نکداً ) ابو جعفر (رح) نے کاف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے کاف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تھوڑی مقدار بڑی مشقت اور تنگی سے ۔ پہلی مثال مئومن کی ہے کہ جب قرآن سنتا ہے اس کو محفوظ کرتا ہے اور اس کو سمجھتا ہے تو اس سے نفع حاصل کرتا ہے اور دوسری کافر کی مثال ہے کہ قرآن کو سنتا ہے لیکن وہ اس میں کوئی اثر نہیں کرتا جیسے بلد خبیث میں بارش کوئی اثر نہیں کرتی (کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون) ابو موسیٰ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ اس ہدایت اور علم کی مثال جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ اس ثیر بارش کی ہے جو کسی زمین کو پہنچے تو اس زمین کا ایک حصہ پاکیزہ ہے جو پانی کو قبول کر کے چارہ اور سبز گھاس اگاتا ہے اور ایک حصہ اس زمین کا خشک قحط زدہ ہے جو پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو نفع دیتے ہیں تو لوگ خود پیتے ہیں جانوروں کو پلاتے ہیں اور کاشت کرتے ہیں اور وہ بارش اس زمین کے ایک دوسرے حصے پر برستی ہے وہ چٹیل میدان ہے نہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کرے اور جس علم کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا وہ علم اس کو نفع دے وہ خود سیکھے اور سکھائے اور اس شخص کی مثال ہے جو اس علم کی طرف بالکل سر نہ اٹھائے اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہ کرے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔
Ayah 7:59تفسیر 59(لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ) وہ نوح بن لمک بن متوشکخ بن اخنوخ اور یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ نوح (علیہ السلام) پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ادریس (علیہ السلام) کے بعد بھیجا۔ یہ بڑھئی تھے اللہ تعالیٰ نے پچاس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں اور بعض نے کہا دو سو پچاس سال کی عمر میں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ سو سال کی عمر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) اپنے اوپر کثرت سے نوحہ کرتے تھے اس وجہ سے ان کا نام نوح رکھا گیا پھر اس نوحہ کے سبب میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا اپنی قوم پر ہلاکت کی بد دعا کرنے کی وجہ سے افسوس کرتے تھے اور بعض نے اپنے بیٹے کنعان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مراجعت کی وجہ سے۔ اور بعض نے کہا ہے اس لئے کہ وہ مجذوم کنے پر گزرے تو کہا اے بدصورت تو دور ہٹ جا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کی کہ تو نے میرا عیب نکالا ہے یا کتے کا عیب نکالا ہے ؟ (فقال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ابو جعفر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” من الہ غیرہ “ راء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ الا لہ کی صفت پر ہے اور حمزہ نے سورة فاطر میں اس کی موافقت کی ہے۔ ” ھل من خالق غیر اللہ “ اور دیگر حضرات نے راء کے پیش کے ساتھ تقدیم کی بناء پر پڑھا ہے اس کی اصل عبارت ” مالکم غیرہ من الہ “ ہے۔ (انی اخاف علیکم) بیشک میں خوف کرتا ہوں تم پر اگر تم ایمان نہ لائے (عذاب یوم عظیم)
Ayahs 7:60–61(61) (قال یقوم لیس بی ضللۃ ) کہا آپ (علیہ السلام) (نوح علیہ السلام) نے اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں ” لیست “ نہیں کہا اس لئے کہ ضلالتہ کا معنی ضلال ہے یا فعل کی تقدیم کی بناء پر (ولکنی رسول من رب العلمین)
Ayah 7:62(62) (ابلغکم رسلت ربی وانصح لکم واعلم من اللہ مالا تعلمون پہنچاتا ہوں تم کو ابو عمرو نے ” ابلغمکم “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی ہو یہ ابلاغ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” لقد ابلغتکم “ کی وجہ سے۔ اپنے رب کے پیغامات تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم تک تمہارے رب کا پیغام پہن چکا ہے۔
اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ تبلیغ سے پڑھا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان ” یلغ ما انزل الیک “ کی وجہ سے۔ رسالات ربی “ تاکہ تم جان جائو کہ میں نے تبلیغ رسالت تم تک پہنچا دیا ہے۔
(وانصح لکم) نصح یہ ہے کہ اپنے غیر کے لئے بھی اسی خیر کا ارادہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اللہ کا عذاب مجرم قوم سے دور نہیں کیا جاتا۔
Ayah 7:63تفسیر 63(اوعجتم) الف استفہام کا وائو عاطفہ پر داخل ہوا ہے (ان جآء کم ذکر من ربکم) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نصیحت اور بعض نے کہا ہے بیان اور بعض نے کہا ہے پیغام ۔ (علی رجل منکم لینذرکم ولتنفوا ولعلکم ترحمون) اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے (ولتتقوا ولعلکم ترحمون)
Ayah 7:6464(فکذبوہ) یعنی نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا (فانجینہ والذین معہ فی الفلک) طوفان سے بچایا (واغرقاً الذین کذبوا بایتنا ط انھم کانوا قوماً عمین) یعنی کافر ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے دل اللہ کی معفرت حاصل کرنے سے اندھے ہوگئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں حق اور ایمان سے اندھے ہوگئے۔ کہا جاتا ہے ” اجل عم عن الحق واعمی فی البصر “ اور بعض نے کہا ” العمی “ اور ” الاعمی الخضر “ اور الاخضر کی طرح ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ عذاب کے اترنے سے اندھے ہوگئے اور غرق ہوگئے۔
Ayah 7:6565(والی عاد اخاھم ھوداً ) یہ قوم عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح ع لیہ السلام کی اولاد سے تھی۔ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ھود (علیہ السلام) ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ھود (علیہ السلام) کا نسب نامہ یہ ہے ھود بن عبداللہ بن رباح بن جلود بن عاد بن عوص اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں نسب نامہ یہ ہے کہ ابن شالخ بن الحسند بن سام بن نوح۔ (قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ط افلا تتقون) تتقون تخافون کے معنی میں ہے۔
Ayah 7:66(66) (قال الملا الذین کفروا من قومۃ انا لنرک) اے ھود (فی سقاھۃ) حماقت اور جہالت میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ تو ایسے دین کی طرف بلا رہا ہے جس کو تو خود نہیں پہچانتا۔ (وانا لنطنک من الکذبین) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ہماری طرف۔
Ayah 7:6767(قال) ھود (علیہ السلام) سے فرمایا (یقوم لیس بی سفاھۃ ولکنی رسول من رب العلمین)
Ayah 7:68تفسیر 68 (ابلغکم رسلت ربی وانا لکم ناصح امین) خیر خواہ ہوں کہ توبہ کی طرف بلاتا ہوں۔ رسالت پر امین ہوں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آج کے دن سے پہلے میں تم میں امین تھا۔
Ayah 7:6969(اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذرکم ط واذکروا اذ جعلکم خلقآء من بعد قوم نوح) یعنی زمین میں ان کے ہلاک کرنے کے بعد (وزادکم فی الخلق بصطۃ) یعنی لمبائی اور طاقت کلبی اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے لمبے آدمی کا قد سوگز اور چھوٹے آدمی کا قد ساٹھ گز ہوتا تھا۔ ابوحمزہ ثمالی (رح) فرماتے ہیں ستر گز اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسی گز۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہر آدمی کی لمبائی بارہ گز تھی اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کا سر بڑے گنبد کی طرح تھا۔ (فاذکروا الآء اللہ) انعامات کو اور اس کا واحد الی ہے اور الی معی اور امعاء اور قفا اور اقفاء کی طرح ہے اور اس کی نظیر ” اناء اللیل “ ہے ۔ جیسے اناء کا واحد انی وانی ہے۔ (لعلکم تفلحون)
Ayah 7:70(70) (قالوا اجننتا لنعبد اللہ وحدہ ونذرما کان یعبد ابآئو ناقاتنا بما تعدنآ ان کنت من الصدقین) جن بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے ان کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کریں۔ اگر کوئی وعدہ عذاب ہے تو لے آئو۔
Ayah 7:71(71) (قال) ھود (علیہ السلام) نے (قد و قع) کہ تم پر عذاب پختہ ہوگیا اور نازل ہوگیا (علیکم من ربکم رجس) کہا تم پر واقع ہوچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور سین زاء سے تبدیل کی گئی ہے۔ ” وغضب “ یعنی ناراضگی۔ ” اتجا ذنوننی فی اسمآء سمیتمو ھآ انتم وابآئو کم “ تم نے اس کو رکھا ہے اور غصہ کیوں جھگڑتے ہو، مجھ سے ان ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں ان کے کئی بات تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے۔ (مانزل اللہ بھا من سلطن) حجتہ اور برہان مراد ہیں (فانتظروا) عذاب کے آنے کے (انی معکم من المنتظرین)
Ayah 7:72(72) فانجینہ) ہم نے ھود (علیہ السلام) کو عذاب کے وقت نجات دی (والذین معہ برحمۃ منا و قطعنا دابر الذین کذبوا بایتناً ) یعنی ہم ان کو جڑوں سے اکھڑا پھینک دیں گے اور ان کو ہلاک کردیں گے (وما کانوا مئومنین)
عاد کا واقعہ
محمد بن اسحاق اور دیگر نے ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ یمن میں رہتے تھے ان کی رہائش احقاف پر تھی یہ عمان اور حضر موت کے دریمان ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ ساری زمین میں پھیلے اور اپنی طاقت سے زمین والوں کو مغلوب کردیا۔ یہ بتوں کی عبادت کرنے تھے۔ ایک بت کو صداء ایک کو صمود اور ایک کو ھباء کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ھود (علیہ السلام) ک نبی بنا کر بھیجا۔ یہ ان میں درمیانے نسب والے اور اعلیٰ حسب والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کا حکم دیا اور لوگوں پر ظلم کرنے سے روکا۔ اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیا تو انہوں نے جھٹلایا اور کہنے لگے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تین سال تک بارش کو روک لیا جس کی وجہ سے بہت مشقت میں پڑگئے۔ اس زمانہ میں لوگ عمومی مصیبت کے وقت مکہ میں بیت اللہ کے پاس جا کر دعا مانگتے تھے خواہ مئومن ہوں یا مشرک تو مکہ میں بہت سے لوگ مختلف ادیان کے جمع ہوگئے اور سب مکہ کی تعظیم کرتے تھے۔ اس وقت میں عمالقہ قوم آباد تھی۔ ان کی نسل عملیق بن لاذ ابن سام بن نوح (علیہ السلام) سے چلی تھی۔
اس زمانہ میں مہ کا سردار عمالقہ قوم کا شخص معاویہ بن بکر تھا اس کی والدہ کلہدۃ تھی جو خیبری کی بیٹی تھی یہ خیبری قوم کا ایک شخص تھا تو جب قحط پڑا تو قوم عاد کہنے لگی کہ اپنا ایک وفد مکہ بھیجو جو تمہارے لئے بارش کی دعا مانگے تو انہوں نے قیل بن عنزہ اور نعیم بن ھزال ، عقیل بن صندین بن عادالاکبر، مرثدبن سعد بن عفیر کو یہ مرثد مسلمان تھے لیکن اسلام کو چھپاتے تھے۔ ” جلھمہ “ بنت خیبری معاویہ بن بکر کے ماموں کو بھیجا تو ہر آدمی کے ساتھ اس کی قوم کی ایک جماعت تھی یہاں تک کہ ان کے وفد کی تعداد ستر کو پہنچ گئی۔ جب مکہ آئے تو معاویہ بن بکر کے مہمان ہوئے۔ یہ مکہ میں حرم سے باہر رہتا تھا تو ان کی خوب مہمان نازی کی کیونکہ یہ اس کے ماموں اور داماد وغریہ تھے تو یہ ایک مہینہ وہاں رہے شراب پیتے اور معاویہ کی دو لونڈیاں ان کو گانا سناتیں۔ ان کو آتے ہوئے ایک مہینہ لگ گیا اور واں ایک مہینہ قیام کیا جب معاویہ نے ان کے لمبے قیام کو دیکھا اور یہ دیکھا کہ قوم نے ان کو مشکل سے نکلنے کی فریاد کرنے کے لئے بھیجا تھا اور یہ یہاں مزے کر رہے ہیں تو ان کو یہ بات ناگوار گزری اور کہا میرے ماموں اور رشتہ دار وہاں مر رہے ہیں اور یہ یہاں میرے مہمان بنے بیٹھے ہیں۔ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کروں، اگر جانے کا کہتا ہوں تو یہ ناراض ہوں گے کہ یہ ہمیں بوجھ سمجھتا ہے اور اگر کچھ نہیں کہتا تو میری قوم ہلاک ہوتی ہے تو انہوں نے گانے والی لونڈیوں کو چند اشعار لکھ کردیئے کہ یہ ان کے سامنے گائو۔
اے۔ قیل اور ہیثم اٹھ شاید اللہ بارش سے ہم کو سیراب فرما دے جس سے قوم عاد سیراب ہو ان لوگوں کی تو ایسی حالت ہوگئی کہ سخت پیاس کی وجہ سیبات بھی نہیں کرسکتے نہ بوڑھے کی امید ہے نہ بچے کی۔ پہلی عوتریں عافیت سے تھیں مگر اب عورتیں بھی سخت پیاسی ہوگئیں۔ قوم عاد کو کھانے کے لئے علی الاعلان درندے گشت کر رہے ہیں اور کسی عاد والے کے تیروں کا ان کو اندیشہ نہیں اور تم لوگ یہاں مزے میں سارے دن رات گزار رہے ہو اے وفد والو تمہارا برا ہو تم کو سلامتی اور خوش آمدید نصیب نہ ہو۔
جب انہوں نے گائے تو یہ آپ س میں کہنے لگے کہ ہماری قوم نے ہمیں اس مصیبت پر فریاد کرنے کے لئے بھیجا تھا ہم نے دیر کردی ہے تو اب حرم میں داخل ہو کر اپنی قوم کے لئے بارش طلب کرتے ہیں تو مرثد بن سعد بن عفیر جو کہ خفیہ ایمان لا چکے تھے انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم تمہاری دعا سے بارش نہ ہوگی۔ لیکن اگر تم اپنے نبی کی اطاعت کرلو اور اپنے رب سے توبہ کرلو تو بارش ہوگی، اب انہوں نے اپنا اسلام ظاہر کردیا اور چند اشعار کہے۔
عاد نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے پا سے ہوگئے آسمان پر ایک قطرہ نہیں برساتا ان کا ایک بت ہے جس کو صمود کہا جاتا ہے اور اس کے سامنے صدا اور ہبا بھی ہیں۔ اللہ نے رسول کے ذریعے سے ہم کو راہ ہدایت دکھائی۔ مہ نے سیدھا راستہ دیکھ لیا اور نابینائی جاتی رہی جو معبود ہود کا ہے وہی میرا معبود ہے۔ اللہ ہی پر بھروسہ ہے اور اسی سے آس ہے۔
تو وہ لوگ معاویہ بن بکر کو کہنے لگے اس کو ہم سے روک دو یہ ہمارے ساتھ مکہ نہ جائے کیونکہ اس نے ہمارا دین چھوڑ کر ھود (علیہ السلام) کے دین کی اتباع کی ہے تو ان کے مکہ کی طرف جانے کے بعد مرثد بھی مکہ پہنچ گئے اور دعا مانگی کہ اے اللہ ! میری دعا صرف میرے حق میں قبول کرنا ان لوگوں کے حق میں قبول نہ کرنا اور قوم عاد کا وفد اپنے سردار قیل بن عنز کے ساتھ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ ! ہمارے وفد کا سردار جو کچھ مانگ رہا ہے وہ ہمیں بھی دے اور قیل بن عنز نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اگر ھود (علیہ السلام) سچے ہیں تو ہم پر بارش برسا کیونکہ ہم ہلاک ہو رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تین بادل پیدا کئے سفید اور سرخ اور سیاہ اور قیل کو آواز آئی ان میں سے ایک کو اپنی قوم کے لئے چن لے۔ قیل نے کہا میں سیاہ کو چنتا ہوں کیونکہ اس میں پانی زیادہ ہوتا ہے تو آواز آئی تو نے اپنی قوم کے لئے راکھ کو چنا ہے ان میں سے کوئی نہ بچے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سیاہ بادلوں کو قوم عاد کو سزا دینے کے لئے بھیج دیا۔ جب وہ بادل قوم عاد پر پہنچے تو وہ خوش ہوگئے اور کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہ عذاب ہے جس کو تم جلدی طلبک رتے تھے۔ اس عذاب کو سب سے پہلے قوم عاد کی ایک عورت نے دیکھا اور چیخ مار کر بیہوش ہوگئی۔ جب ہوش آیا تو لوگوں نے پوچھا کیا دیکھا تو نے ؟ اس نے کہا کہ میں نے ہوا دیکھی جس میں آگ کے شعلے تھے اس کے آگے کئی آدمی ہیں جو اس کو کھینچ کر لا رہے ہیں، اس عورت کا نام مھدد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بادل کو سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا۔ اس نے قوم عاد کے تمام افراد ہلاک کردیئے۔ ھود (علیہ السلام) اور مئومنین پہلے سے الگ ہوگئے تھے ان کو ہلکی ہلکی ہوا لگی جو بڑی بھلی معلوم ہوتی تھی اور قوم عاد پر بڑی شدید تھی کہ ان کو زمین سے آسمان کی طرف اٹھاتی تھی پھر زمین پر پٹختی تھی۔
وہ وفد مکہ سے نکل کر معاویہ کے پاس آیا تو قوم عاد سے تین دن کی دوری پر ایک قوم آباد تھی۔ اس کا ایک شخص اونٹنی پر آیا، ایک تاریک رات میں اور خبر دی تو انہوں نے پوچھا ھود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کہاں تھے ؟ اس نے کہا سمندر کے ساحل پر گویا ان کو ابھی بھی شک تھا۔ تو ہزیلتہ بنت بکر کہنے لگی اللہ کی قسم اس نے سچ خبر دی ہے اور یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ مرثد بن سعد، لقمان بن عاد اور قیل بن عنز نے جب مکہ میں دعا کی تو ان کو کہا گیا کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی اب اپنے لئے کچھ مانگو، سوائے ہمیشہ زندہ رہنے کے کیونکہ موت تو ہر ایک کو آنی ہے تو مرثد نے دعا مانگی اے اللہ ! مجھے سچائی اور نیکی دے۔ یہ ان کو مل گئی۔ لقمان نے کہا مجھے لمبی عمر دیں، کہا گیا تو خود اختیار کر کتنی ہو ؟ اس نے سات گدھوں کی عمر پسند کی ہر گدھ اسی سال زندہ رہا اور ساتویں گدھ کے ساتھ یہ بھی مرگیا اور قیل نے کہا جو چیز میری قوم کو پہنچی مجھے بھی وہی دیں تو کہا گیا کہ ہلاکت ؟ اس نے کہا مجھے پرواہ نہیں ان کے بعد زندگی کی مجھے ضرورت نہیں تو اس کو بھی وہی عذاب پہنچا اور ہلاک ہوگیا۔
سدی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے عاد پر سخت آندھی بھیجی جب آندھی ان کے قریب ہوئی تو انہوں نے اونٹوں اور مردوں کو دیکھا کہ وہ آسمان و زمین میں اڑ رہے ہیں جب ان لوگوں نے یہ دیکھا ت جلدی سے گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لئے تو آندھی نے دروازہ جڑ سے اکھاڑ دیئے اور ان کو ہلاک کردیا پھر ان کو گھروں سے نکال دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک ک دیا تو ان پر سیاہ پرندے بھیجے جنہوں نے ان کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیا اور روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آندھی کو حکم دیا اس نے ان پر ریت ڈال دی وہ سات راتیں اور آٹھ دن ریت کے نیچے رہے اور وہ ریت کے نیچے آہ آہ کرتے رہے ۔ پھر ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان سے ریت ہٹا دی۔ پھ ران کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور جب بھی ہوا آتی ہے تو ایک اندازہ و مکیال سے آتی ہے۔ لیکن اس دن داروغہ سے سرکشی کی اور ان پر غالب آگئی، ان کو بھی پتہ نہ چلا کہ اس کی مقدار کتنی تھی اور حدیث میں ہے کہ ہوا انگوٹھی کے سوراخ جتنی نکلی۔
علی ؓ سے مروی ہے کہ ھود (علیہ السلام) کی قبر اطہر حضر موت میں سرخ ٹیلہ میں ہے اور عبدالرحمٰن بن سابط کہتے ہیں رکن اور مقام اور زمزم کے درمیان ننانوے انبیاء کی قبر ہے اور ہود، شعیب ، صالح اور اسماعیل (علیہم السلام) کی قبر اسی جگہ میں ہے۔ یہاں تک کہ ساتویں پر آئے اور ہر گدھ اسی (80) سال زندہ رہتا ہے اور ان میں سے آخری لبد تھا جب لبد مرگیا تو لقمان (علیہ السلام) بھی اس کے ساتھ فوت ہوگئے۔ بہرحال قیل تو اس نے کہا کہ میں وہی اختیار کرتا ہوں جو میری قوم کو پہنچا ہے تو اس کو کہا گیا ہلاکت ؟ تو اس نے کہا مجھے پرواہ نہیں ہے ان کے بعد مجھے زندہ رہنے کی ضرورت نہیں ہے تو جو عذاب قوم عاد پر آیا وہ اس پر بھی آپ تو وہ ہلاک ہوگیا اور روایت کیا گیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی کی قوم جب ہلاک ہوجاتی تو وہ نبی (علیہ السلام) اپنی قوم کے نیک لوگوں کے ساتھ مکہ آتے اور وہاں وفات تک اللہ کی عبادت کرتے رہتے۔
Ayah 7:73تفسیر 73(والی ثمود اخاھم صلحاً ) یہ قوم ثمود بن عابرین ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے۔ لیکن مراد یہاں ان کا قبیلہ ہے۔
ابو عمرو بن علاء فرماتے ہیں کہ ثمد کا معنی تھوڑا پانی۔ ان کا نام ثمود ان کے پانی کے کم ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ ان کی رہائش حجاز اور شام کے درمیان مقام حجر پر تھی۔ (اخاھم صالحا) ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے نسبی بھائی صالح کو بھیجا بھائی مراد نہیں (جو المئومنون اخوۃ کے زمرہ میں آتا ہے) اور وہ صالح بن عبید بن آصف بن ماسح بن عبید بن خادر بن ثمود۔ (بولا) صالح (علیہ السلام) (قال یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ ط قدجآء تکم بینۃ من ربکم ھذہ ناقۃ اللہ) اونٹنی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے، فضیلت اور تخصیص کی بناء پر جیسا کہ کہا جاتا ہے بیت اللہ۔ ” لکم ایۃ “ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ (قذروھا تاکل) تاکہ وہ چارہ وغیرہ کھائے (فی ارض اللہ ولا تمسوھا بسوء ) نہ اس کو پہنچو برائی کے ساتھ کہ تم اس کو کونچیں کاٹ ڈالو وگرنہ (فیاخذکم عذاب الیم)
Ayah 7:74تفسیر 74(واذکروا اذ جعلکم خلفآء من م بعد عاد و بوا کم) تم کو جگہ دی اور تم کو بسایا (فی الارض تتخلون من سھولھا قصوراً و تنحنون الجبال بیوتا) یہ لوگ پہاڑوں میں سوراخ کر کے گھر بناتے تھے، گرمیوں میں مٹی کے گھروں میں رہتے اور سردیوں میں پہاڑوں کے گھروں میں اور بعض نے کہا صرف پہاڑ میں گھر بناتے تھے کیونکہ مٹی کے گھر ان کی عمر جتنا عرصہ باقی نہیں رہتے تھے۔ (فاذکرو الآء اللہ ولا تعتوا فی الارض مفسدین) عثو سخت ترین فساد کو کہتے ہیں۔
Ayah 7:75(75) (قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اتعلمون ان صلحاً مرسل من ربہ ط قالوا انا بمآ ارسل بہ مئومنون)
(قال الملا) ابن عامر نے واو کے ساتھ پڑھا ہے (الذی استکبروا من قومہ) اس سے بڑے لیڈر اور سردار مراد ہیں جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے کو اپنی ذلت سمجھتے تھے (للذین استضعفوا) حضرت صالح (علیہ السلام) کے متعبین کمزور لوگوں سے عار سمجھتے تھے (لمن امن منھم) وہی مئومن لوگ تھے یا کمزور اور غریبوں میں سے صرف مئومنوں سے کہنے تھے (اتعلمون ان صلحاً مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہ مئومنون)
Ayah 7:76(76) (قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون) انکار کرنے والے ہیں۔
Ayah 7:77(77) (فعقروا الناقۃ) زہری (رح) فرماتے ہیں العقر اونٹ کی کونچیں کاٹنا پھر نحر کو عقر بنایا گیا، اس لئے کہ اونٹ کو نحر کرنے والا اس کو عقر یعنی زخمی کرتا ہے پھر نحر کرتا ہے۔” وعتوا عن امر ربھم “ اور العتو باطل میں غلو کرنا کہا جاتا ہے ” عنا یعتو عتوا “ جب انہوں نے تکبر کیا اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے بارے میں اس کا حکم چھوڑ دیا اور اپنے نبی کی تکذیب کی۔ (وقالوا یصلح ائتنا بما تعدناً ) وعدہ کیا گیا عذاب کا (ان کنت من المرسلین)
Ayah 7:78تفسیر (78) (فاخذتھم الرجفۃ) وہ زمین کا زلزلہ اور اس کی حرکت ہے اور ان کو چیخ اور زلزلہ سے ہلاک کیا گیا۔ ” فاصبحوا فی دارھم “ بعض نے کہا ہے مراد الدیار ہیں اور بعض نے کہا ہے ان کی سرزمین اور بستی مراد ہے۔ اس لئے دار کو واحد ذکر کیا ہے۔ اگر مکان یا گھر مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ جمع کا صیغہ وہتا۔” جاثمین “ مردہ اوندھے پڑے ہوئے۔ بعض نے کہا ہے اوندھے منہ مردہ پڑے تھے۔ پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے)