7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 7:119

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے

119(فعذبوا ھنالک وانقلبوا صغرین) ذلیل اور مغلوب ہو کر۔
Ayah 7:120

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور یہ کیفیت دیکھ جادوگر سجدے میں گرپڑے

120(والقی السحرۃ سجدین) اللہ کے لئے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے سجدہ میں ڈال دیا اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الہام کیا کہ وہ سجدہ کریں تو انہوں نے سجدہ کیا ۔ اخفش (رح) فرماتے ہیں اتنی تیزی سے سجدہ میں گئے گویا کہ کسی نے ان کو سجدہ میں گرا دیا۔
Ayah 7:121

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان آئے

121-122 (قالوا امنا برب العلمین) فرعون کہنے لگا مجھے مراد لے رہے ہیں تو انہوںں نے کہا (رب موسیٰ و ھرون) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں کے سردار کو کہا تھا کہ اگر میں غالب آگیا تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آئو گے ؟ تو اس نے کہا میں ایسا جادو لایا ہوں کہ کوئی جادو اس پر غالب نہیں ہوسکتا اور اگر آپ (علیہ السلام) مجھ پر غالب ہوگئے تو میں آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئوں گا حالانکہ اس وقت فرعون بھی دیکھ رہا تھا پھر بھی اس نے یہ کہہ دیا۔
Ayahs 7:122–123

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ بیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دو تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ فریب ہے جو تم نے ملکر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو سو عنقریب اس کا نتجہ معلوم کرلو گے

123 (قال فرعون امنتم بہ) کیا تم ایمان لے آئے۔ حفص (رح) نے ” آمنتم “ جملہ خبر یہ پڑھا ہے، یہاں اور سورة طہ اور الشعراء میں اور دیگر حضرات نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” امنتم بہ “ (قبل ان اذن لکم) کہ کیا تم نے میری اجازت کے بغیر موسیٰ کی تصدیق کردی (ان ھذا لمکر مکر تم وہ) یہ ایک سازش تھی جو تم نے اور موسیٰ نے مل کر تیار کی تھی (فی المدینۃ) تاکہ تم مصر پر غالب آ جائو (لتخر جوا منھآ اھلھا فسوف تعلمون) میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔
Ayah 7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں پہلے تو تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔

124(لاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف) وہ یہ کہ ہر جانب سے ایک عضو کاٹے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں میں تمہارے دائیں ہاتھ اور بائیں پائوں کاٹوں گا۔ (ثم لاصلینکم اجمعین) مصر کی نہر کے کنارے پر۔
Ayahs 7:125–126

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

تو وہ بولے ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور اس کے سوا تم کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے ؟ اے پروردگار ! ہم پر صبر و استقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

تفسیر 126 (وما تنقم منا) یعنی تو ہم سے ناپسند نہیں کرتا اور ضحاک وغیرہ نے فرمایا ہے تو ہم پر عیب نہیں لگاتا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں ہمارا تیرے پر کوئی گناہ نہیں ہے جس پر تو ہمیں عذاب دے ۔ (الا ان امنا بایت ربنا لما جآء تنا ) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے (ربنا افرغ علینا صبرا و توقنا مسلمین) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون نے ان کے اہتھ پائوں کٹوا کر انکو سولی پر چڑھا دیا تھا لیکن دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ فرعون ان پر قدرت نہیں پاسکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ (لایصلون الیکما با یاتنا انتما ومن اتبعکما الغالبون) تم دونوں اور تمہارے متعبین ہی غالب رہو گے)
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجئے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہوجائیں ؟ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو تو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشبہہ ہم ان پر غالب ہیں۔

127(وقال الملا من قوم فرعون) فرعون کو کہنے لگے (اتدر موسیٰ وقومہ لیفسدوا فی الارض) یہاں فساد سے ان کی مراد لوگوں کو فرعون کی عبادت سے ہٹانے کی دعوت دینا ہے (ویذرک والھتک) نہ وہ تیری عبادت کریں گے اور نہ تیرے بتوں کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فرعون اپنی ایک گائے کی عبادت کرتا تھا اور جہاں کہیں کوئی خوبصورت گائے دیکھتا تو اس کی عبادت کا لوگوں کو حکم دیتا۔ اس لئے سامری نے ان کے لئے بچھڑا بنادیا تھا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ گردن پر صلیب لٹکائی ہوئی تھی اس کی عبادت کرتا تھا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بت بنائے تھے ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور قوم کو کہتا تھا یہ تمہارے معبود ہیں یعنی میں تمہارا اور تمہارے معبودوں کا رب ہوں کہ ان کو میں نے بنایا ہے اس لئے تو وہ کہتا تھا ” انا ربکم الاعلی “ ابن مسعود، ابن عباس ؓ، شعبی اور ضحاک رحمہما اللہ نے ” ویذرک الھتک “ الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی تیری عبادت چھوڑ دیں گے کیونکہ فرعون کی عبادت کی جاتی تھی وہ کسی کی عبادت نہ کرتا تھا اور بعض نے کہا معبودوں سے سورج مراد ہے کیونکہ وہ لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے (قال سنقتل ابنآء ھم ) اہل حجاز نے ” سنقبل “ تخفیف کے ساتھ قتل سے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” تقتیل “ سے شد کے ساتھ کثرت کے معنی کی بناء پر پڑھا ہے۔ (ونستحی نسآء ھم وانا فوقھم قھرون) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فرعن بنی اسرائیل کے بیٹوں کو اس سال قتل کروا دیتا تھا جس سال کا اس کو کہا گیا تھا کہ اس سال ایسا لڑکا پیدا ہوگا جو تیری بادشاہت ختم کر دے گا تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت تک ان کو قتل کرواتا رہا تو اب اس مقابلہ کے بعد بھی کہنے لگا کہ ان پر قتل والا معاملہ پھر شروع کرو تو اس بات کی شکایت بنو اسرائیل نے کی۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد ما نگو اور ثابت قدم رہو زمین تو خدا کی ہے۔ (اور) وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اسکا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے۔

128(قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ) یعنی ملک مصر (یورثھا من یشآء من عبادہ والعافیۃ للمتقین) مدد اور کامیابی اور بعض نے کہا نیک بختی اور شہادت اور بعض نے کہا جنت۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچنی رہی ہیں اور آنے کے بعد بھی موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

تفسیر 129 (قالوا اوذینا) جب جادوگر ایمان لے آئے تو چھ لاکھ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کی تو وہ کہنے لگے کہ ہم پر تکلیفیں رہیں (من قبل ان تاتینا) رسالت ملنے سے پہلے بچوں کو قتل کرنے کی صومن م بعد ما جئنتا) دوبارہ بچوں کو قتل کرنے کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل تو آدھا دن ان سے کام لیتا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد سارا دن بغیر مزدوری کے کام لیتا تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وہ فرعون کی مٹی سے اس کے لئے اینٹیں بناتے تھے اور مسویٰ (علیہ السلام) کے بعد اس نے حکم دیا کہ مٹی بھی خود لائو۔ (قال عسی ربکم ان یھلک عدوکم ویستخلفکم فی الارض) یعنی ان کے بعد تمہیں مصر میں رہائش دے (فینظر کیف تعملون) تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کر کے ان کے شہروں اور مالوں کا بنی اسرائیل کو خلیفہ بنایا تو انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔

130(ولقد اخذنا آل فرعون بالسنین ونقص من المثرت) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قحط شہر والوں کے لئے اور میووں کا نقصان دیہات والوں کے لئے تھا (لعلھم یذکرون) کیونکہ سخت حالات دل کو نرم کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف راغب کرتے ہیں۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں (مقدر) ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔

131(فاذا جآء تھم الحسنۃ) خوش حالی، عافیت، کشادگی (قالوا لنآ ھذہ) یعنی ہم اس کے مستحق ہیں اس کو اللہ کا فضل سمجھ کر شکر نہیں کیا ( وان تصبھم سیئۃ) خشک سالی ، آزمائش وغیرہ (یطیروا بموسی ومن معہ) اور کہتے کہ ان کو دیکھنے کی وجہ سے ہمیں تکلیف پہنچی ہے۔ سعید بن جبیر ؓ اور محمد بن مکندر (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون کی بدشاہت چارسو سال رہی اور اس کی عمر چھ سو بیس سال تھی اس کو کبھی کوئی مزاج کے خلاف بات بھی نہیں پیش آئی۔ اگر اس مدت میں کبھی بھوک یا ایک رات کا بخار یا تھوڑی سے جسمانی تکلیف آئی ہوتی تو کبھی رب ہونے کا دعویٰ نہ کرتا (الا انما طئرھم عند اللہ ولکن اکثرھم لایعلمون) کہ ان پر جو حالت آئی خشک سالی اور فراوانی اور خیر اور شر کی وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کی نحوست وہ ہے جو ان پر فیصلہ کیا اور ان کی تقدیر میں لکھ دیا اور انہی سے ایک رویات ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اور اسی کی جانب سے ہے۔ یعنی ان پر نحوست ان کے اللہ کا کفر کرنے کی وجہ سے آئی ہے اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ بڑی نحوست جوان کے لئے اللہ کے پاس ہے وہ جہنم کا عذاب ہے۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

تفسیر 132 (وقالوا ) یعنی قطیوں نے موسیٰ علیہ السام کو کہا ” مھما “ کہا ” ما “ یہ کلمہ شرط اور جزا کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ” تاتنا بہ من آیۃ “ علامت۔ (مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا) تاکہ ہمیں ہمارے دین سے ہٹا دے (فما نحن لک بمئومنین) تصدیق نہ کریں گے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں مگر تکبر ہی کرتے رہے۔ اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔

فرعون کی قوم پر مختلف قسم کے عذاب نازل ہوئے۔ 132(فار سلنا علیھم الطوفان) ابن عباس ، سعید بن جبیر ؓ قتادہ، محمد بن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں ان سب کے اقوال آپس میں ملتے جلتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادوگر ایمان لے ائٓے اور فرعون مغلوب ہوگیا تو اس نے اور اس کی قوم نے اسلام لانے سے انکار کردیا اور کفر پر ڈٹ گئے اور شر پھیلانے میں خوب کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لگا تار کئی نشانیاں بھیجیں اور ان پر قحط اور پھلوں کے نقصان کا وبال آیا لیکن ان چار نشانیوں عصا، ید بیضاء ، قحط اور پھلوں کے نقصان کے بعد بھی انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر بد دعا کی اور کہا اے میرے رب ! تیرے بندے فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کی قوم نے آپ سے کیا ہوا وعدہ توڑا۔ اے میرے رب ! ان کو ایسی سزا میں پکڑ جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم کے لئے نصیحت اور ان کے بعد والوں کے لئے نشانی اور عبرت ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان بھیجا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر پانی بھیجا۔ بنی اسرائیل اور قبطیوں کے گھر آپ س میں ملے ہوئے اور قریب تھے۔ قبطیوں کے گھر پانی سے اتنے بھر گئے کہ وہ گردن تک پانی میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان میں سے جو بیٹھتا تھا وہ ڈوب جاتا تھا اور ادھر بنی اسرائیل کے گھروں میں ایک قطرہ بھی پانی کا داخل نہ ہوا اور پانی قبطیوں کی زمینوں میں بھی ٹھہر گیا جس کی وجہ سے وہ نہ کاشت کرسکے اور نہ کوئی دوسرا کام۔ اور یہ طوفان سات دن رہا ایک ہفتہ کے دن آیا اگلے ہفتہ کے دن تک رہا۔ مجاہد اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ طوفان سے مراد موت ہے اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ یمن کی لغت میں طوفان اک معنی طاعون ہوتا ہے۔ ابوقلابہ (رح) فرماتے ہیں کہ طوفان سے مراد چیچک ہے دنیا میں چیچک کا عذاب سب سے پہلے انہی پر آیا تھا اس کے بعد زمین میں باقی رہ گیا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ طوفان سے مراد پانی ہے جو ان کی کھیتوں کے اوپر بلند ہوگیا۔ ابن ظبیان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ طوفان سے مراد اللہ کا امر ہے جس نے ان کا چکر لگایا پھر یہ آیت پڑھی ” فطاف علیھا طائف من ربکم وھم نائمون “ کوفہ کے نحوی فرماتے ہیں کہ طوفان مصدر ہے اس کی جمع نہیں آتی جیسے رجحان اور نقصان ہیں اور اہل بصرہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جمع ہے اس کا واحد ” طوفانۃ “ ہے۔ اس طوفان کے آنے کے بعد ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کریں کہ ہم سے بارش کو دور کردیں ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ (علیہ السلام) کے ساتھ بھیج دیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے رب تعالیٰ سے دعا کی، ان سے طوفان ہٹا لیا گیا۔ پھر اس سال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اتنا چارہ اور فصلیں اور پھل اگائے کہ اس سے پہلے اتنی فرا انی نہ ہوئی تھی ان کے شہر سرسبز ہوگئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ پانی تو ہمارے لئے نعمت اور خوش حالی تھا ۔ پھر بھی ایمان نہ لائے اور ایک مہینہ عافیت سے گزر گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈیوں کو بھیجا، انہوں نے ان کی کھیتیاں اور پھل اور درختوں کے پتے کھال لیے یہاں تک کہ دروازے اور گھروں کی چھتیں اور لکڑیاں اور کپڑے اور سامان اور دروازوں کی لوہے کی میخیں تک کھا گئیں۔ یہاں تک کہ ان کے گھر گرگئے اور ٹٹڈیاں بھوکی رہنے لگیں کہ کھانے کو کچھ نہ تھا اور بنی اسرائیل کو ان میں سے کوئی تکلیف نہ پہنچی تو وہ چیخنے چلانے لگے اور کہنعے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ اگر آپ ہم سے تکلیف کو دور کردیں تو ہم ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو خوب عہد و میثاق دیئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ٹڈیوں کا عذاب دور کردیا۔ یہ عذاب بھی سات دن ہفتہ کے دن سے ہفتہ تک رہا اور یہ بھی خبر ہے کہ ہر ٹڈی کے سینے پر لکھا ہوا ہوتا تھا ” جند اللہ الاعظم “ اللہ کا بڑا لشکر اور کہا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کھلے میدان میں گئے اور اپنے عصا سے مشرق و مغرب کی طرف اشارہ کیا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہاں چلی گئیں اور ان کے غلہ جات اور کھیتوں میں سے کچھ باقی رہ گیا تھا وہ کہنے لگے کہ ہمیں اتنی مقدار کافی ہے ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ سکتے تو انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا اور اپنے برے اعمال کی طرف لوٹ گئے اور ایک مہینہ عافیت سے رہے۔ قمل کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ” فمل “ کو بھیجا۔ اس کی تفسیر میں اختلفا ہے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ ” فمل “ وہ کیڑا ہے جو گندم سے نکلتا ہے اور مجاہد، سدی، قتادہ اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” فمل “ چھوٹی ٹڈی جس کے پر نہ ہوں اور جرا د بڑی ٹڈی جس کے پر ہوں اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ : حمنان ہے یعنی چھوٹی چچڑی۔ عطاء خراسانی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جوں ہے اور اسی وجہ سے ابوالحسن نے ” القمل “ کو قاف کے فتحہ اور میم کے سکون سے پڑھا ہے۔ مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ مصر کے قریب ایک بستی عین شمس کے ایک ٹیلے پر جائیں تو موسیٰ (علیہ السلام) اس ٹیلہ پر گئے اس کو عصا مارا تو اس پر چچڑیاں امڈ آئیں اور قبطیوں کے باقی پھل اور کھیتیاں بھی کھا گئیں اور زمین تک کو بھی چاٹ لیا اور وہ ان کے کپڑوں میں گھس کر کپڑے اور جسم کو کاٹ دیتی تھیں کوئی کھانا کھا رہا ہوتا تو وہ کھانا چچڑیوں سے بھر جاتا اور ان پر چچڑیوں سے بڑی کوئی مصیبت نہ آئی تھی، انہوں نے ان کے بال، چمڑے، پلکیں بھنوئیں تک لے لیں اور ان کے جسم پر چیچک کی طرح چمٹ گئیں وہ سو نہ سکتے تھے تو وہ چیختے چلاتے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے کہ ہم توبہ کرتے ہیں اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کریں کہ یہ مصیبت دور کر دے تو موسیٰ علیہ لاسلام نے دعا کی، یہ چچڑیاں چلی گئیں لیکن انہوں نے پھر وعدہ توڑا اور اپنے خبیث اعمال کی طرف لوٹ گئے اور کہنے لگے کہ آج سے پہلے ہمیں آپ (علیہ السلام) کے جادو گر ہونے کا یقین نہ تھا کہ آج تو آپ نے ریت کو کیڑے مکوڑے بنادیا ہے اور کہنے لگے فرعون کی عزت کی قسم ! ہم آپ کا کہنا نہ مانیں گے اور نہ آپ کی تصدیق کریں گے تو وہ عافیت سے ایک ماہ رہے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈک بھیجے جس سے ان کے گھر، صحراء ، کھانے اور برتن بھ رگئے جو کوئی بھی برتن کا کھانا کھولتا تو اس میں مینڈک ملتے اور آدمی مینڈکوں میں اپنی ٹھوڑی تک ڈوبا رہتا اور اس کو یہ ڈر ہوتا کہ اگر میں نے کسی سے بات کی تو مینڈک میرے منہ میں داخل ہوجائیں گے۔ وہ مینڈک ان کی ہانڈیوں میں کو دجاتے، کھانا خراب کردیتے، آگ بجھا دیتے، کوء سونے کے لئے پہلو پر لیٹا تو اس پر اتنے مینڈک سوار ہوجاتے کہ وہ پہلو نہ بدل سکتا تو اس سے ان کو سخت تکلیف پہنچی۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مینڈک خشکی کے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو الٓ فرعون پر بھیجا تو انہوں نے اطاعت کی اور اپنے آپ کو جوش مارتی ہوئی ہانڈیوں اور بھڑکتے ہوئے تندروں میں ڈال دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کی اطاعت سے خوش وہو کر پانی کو ٹھنڈا کردیتے۔ جب آل فرعون نے یہ معاملہ دیکھا تو رونے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو شکایت کی اور کہا کہ اس مرتبہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتے ہیں اور اب دوبارہ غلطی نہ کریں گے اور بڑے عہد و پیمان لئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو مینڈک ان سے ہٹا لئے۔ یہ بھی سات دن رہے۔ ہفتے سے ہفتہ کے دن تک۔ پھر ایک مہینہ عافیت سے رہے۔ پھر عہد توڑا اور کفر کی طرف لوٹ گئے تو موسیٰ علیہ اسللام نے ان پر بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا تو دریائے نیل خون بن گیا اور ان کے پانی خون بن گئے اور وہ کنوئوں اور نہروں سے پانی نکالتے تو وہ سرخ خون بن جاتا تو انہوں نے فرعون کو شکایت کی اور کہا کہ ہمارے لئے پینے کا پانی نہیں ہے اس نے کہا کہ یہ تمہارا جادو ہے تو قوم کہنے لگی کہ ہمارا جادو کہاں سے آگیا ؟ ہم اپنے برتنوں میں پانی نہیں پاتے، صرف خون ہوتا ہے۔ فرعن ایک برتن پر قبطی اور اسرائیلی کو جمع کردیتا تھا جو حصہ قبطی کے سامنے ہوتا وہ خون ہوتا اور جو اسرائیلی کے سامنے ہوتا وہ پانی ہوتا اور وہ مٹکے پر جاتے تو اسرائیلی نکالتا تو پانی ہوتا قبطی نکالتا تو خون ہوتا یہاں تک کہ قبطی عورت پیاس سے بےتاب ہو کر اسرائیلی عورت کے پاس آتی اور کہتی کہ اپنے منہ میں پانی لے کر میرے منہ میں کلی کر دے۔ تواسرائیلی عورت ایسا کرتی جب اس کے منہ میں کلی کرتی تو وہ خون بن جاتا اور فرعون کو پیاس ستاتی تو وہ تر درختوں کو چباتا تو اس کا رس اس کے منہ میں جا کر نمکین کھارا بن جاتا۔ اسی حالت میں سات دن رہے صرف خون پیتے تھے۔ زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ جو خون ان پر مسلط کیا گیا وہ نکسیر تھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور دعا کا کہا کہ اب ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عذاب دور کردیا لیکن وہ ایمان نہ لائے۔ یہ تفصیل ہے اس آیت کی (والجراد والقمل والضفادع و الدم ایت مفصلت) اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر عذاب ایک ہفتہ رہتا اور دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا وقفہ ہوتا۔ (فاستکبروا وکانوا قوماً مجرمین)
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے۔

تفسیر 134(ولما وقع علیھم الرجز) یعنی جو پچلھی آیت میں عذاب بیان ہوئے ان میں سے کوئی عذاب آتا۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ رجز سے مراد طاعون ہے۔ یہ ان پانچ عذابوں کے بعد چھٹا عذاب آیا تھا جس سے ایک دن میں شام تک ستر ہزار بندے مرگئے ان کو دفن نہ کیا جاسکا (قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھدک عندک) یعنی تجھے وصیت کی ہے اور عطاء رحمہ الل ہفرماتے ہیں اس کے ساتھ جو تجھے خبر دی ہے اور بعض نے کہا ہے جو آپ کے ساتھ عہد کیا ہے، آپ کی دعا قبول کرے گا۔ (لئن کشفت عنا الرجز لنومن لک ولنرسلن معک بنی اسرآئیل) عذاب سے مراد طاعون ہے۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو سنا کہ انہوں نے اسامہ بن زید ؓ سے سوال کیا کہ کیا آپ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ تو اسامہ بن زید ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ طاعون سزا ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجی گئی تھی یا تم سے پہلے لوگوں پر۔ پس جب تم کسی زمین کے بارے میں طاعون کی خبر سنو تو وہاں نہ جائو اور جب تم کسی زمین میں ہوا اور وہاں طاعون آجائے تو اس سے ڈر کر نہ نکلو۔
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کریتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔

135(فلما کشفنا عنھم الرجز الی اجل ھم یلغوہ) یعنی دریا میں غرق ہونے تک (اذا ھم ینکثون) عہد توڑتے تھے۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

136(فانتقمنا منھم فاغرقنھم) ہم نے ان کو دریا میں (فبی الیم بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) عذاب کے آنے سے پہلے اور بعض نے کہا کہ ہماری آیات سے اعراض کرتے تھے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

تفسیر 137(واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون) مغلوب تھے اور ذلیل کئے جاتے تھے بیٹوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں سے خدمت کروا کر۔ یہ قوم بنی اسرائیل ہے (مشارق الارض ومغاربھا) یعنی مصر اور شام (التی برکنا فیھا) پانی اور درختوں اور پھلوں اور خوشحالی اور وسعت دے کر (وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرآئیل) یعنی اللہ کا کلمہ پورا ہوگیا اور وہ کلمہ اللہ کا ان سے مدد اور زمین پر قدرت دینے کا وعدہ ہے (بما صبروا) ان کے دین پر اور فرعون کے عذاب پر (ودمرن) ہم نے ہلاک کردیا (ماکان یصنع فرعن وقومہ) مصر کی عمارتیں (وما کانوا یعرشون) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مکان اور محل بنایا کرتے تھے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ درختوں ، پھلوں اور انگوروں سے محل بناتے تھے اور ابوبکر اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” یعرشون “ راء کے پیش کے ساتھ یہاں اور النحل میں پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے راء کی زیر کے ساتھ
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار آتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچتے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لئے بیٹھے رہتے تھے (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی ایک معبود بنادو موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔

138(وجورنا بنی اسرآئیل البحر) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ عاشوراء کے دن دریا عبور کیا فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا روزہ بطور شکر رکھا ” فاتوا “ پس وہ گزرے ” علی قوم یعکفون “ مقیم تھے۔ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” یعکفون “ کاف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے کاف کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے ، یہ دونوں لغتیں ہیں۔” علی اصنام “ بتوں پر ” لھم “ جن کی وہ اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہیں اور یہ بچھڑے کے واقعہ کی ابتداء ہے۔ قتادہ رحمہ الل ہفرماتے ہیں کہ یہ لوگ لخم قبیلہ کے تھے اور رقتہ مقام پر رہتے تھے تو بنی اسرائیل نے جب ان کو عبادت کرتے دیکھا تو (قالا یموسی اجعل لنا الھا) کوئی صورت یا مورتی جس کی ہم عبادت کریں (کما لھم ایھۃ) یہ بات بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں شک کی وج ہ سے نہیں کہی تھی اس کا معنی یہ ہے کہ ہمارے لئے کوئی ایسی چیز بنادیں جس کی ہم تعظیم کریں اور اس کی تعظیم کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں اور ان کا خیال تھا کہ یہ بات دین کو نقصان نہ دے اور یہ بات انہوں نے سخت جہالت کی وجہ سے کہی تھی (قال ) موسیٰ (علیہ السلام) نے (انکم قوم تجھلون) اللہ کی عظمت سے جاہل ہو۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔

139(ان ھولآء متبر) ہلاک کرنے والے ہیں (ماھم فیہ) اور تتبیر بمعنی ہلاک کرنا (وبطل ) زائل ہونے والا ہے (ما کانوا یعملون) ۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے ؟

140(قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے (اغیر اللہ ابغیکم الھا وھو فضلکم علی العلمین) تمہارے زمانے کے جہان والوں پر ۔ حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نکلے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حنین کی جانب تو ہمارا گزر ایک بیری پر ہوا تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لئے چیزیں لٹکانے کے لئے کوئی جگہ مقرر کردیں جیسا کہ کفار کے لئے ذات انواط تھی کہ کفار اپنے ہتھیار ایک بیری کے ساتھ لٹکا دیتے تھے اور اس کے اردگرد چکر لگاتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر یہ فرمائش ایسے ہے جیسے بنی اسرائیل نے کہا تھا ” اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ “ البتہ تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔

تفسیر 141(واذا انجینکم) ابن عامر نے ” واذا انجاکم “ پڑھا ہے اور اہل شام کے مصاحف میں بھی اسی طرح ہے (من ال فرعون یسومونکم سواء العذاب یقتلون ابنآء کم) نافع (رح) نے تاء کو بغیر شد کے پڑھا ہے قتل سے اور باقی حضرات نے تاء کو شد کے ساتھ پڑھا ہے تقیل مصدر سے کہ کثرت کے معنی میں ہے۔ (ویستحیون نسآء کم و فی ذلکم بلآء من ربکم عظیم)
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے راستہ نہ چلنا۔

142(ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ) مکمل ذوالقعدہ (واتممنھا یعشر) ذوالحجہ کے دس دن (فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ وقال موسیٰ ) دعا کے لئے پہاڑ پر جانے کے وقت (لاخیہ ھرون اخلفی فی قومی واصلح ) ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھار کر ان کی اصلاح کرتے رہنا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ ان کیساتھ نرمی کرنا اور ان کی طرف احسان کرنا (ولا تتبع سبیل المفسدین) یعنی جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی ان کی اطاعت نہ کرنا اور ان کے حکم کی موافقت نہ کرنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جب وہ مصر میں تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جب تمہارے دشمن کو ہلاک کردیں گے تو ان کو ایسی کتاب دیں گے جس میں ساری تفصیل ہوگی کہ کیا کام وہ کریں اور کیا چھوڑ دیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کتاب مانگی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ تیس روزے رکھیں، جب تیس دن مکمل ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ سے آنے والی بدبو ناپسند ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے خرنوب کی لکڑی سے مسواک کرلیا تو فرشتے کہنے لگے ہم آپ (علیہ السلام) سے کستوری (مشک) کی خوشبو سونگھا کرتے تھے، آپ ع لیہ السلام نے مسواک کر کے اس کو زائل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ذو الحجہ کے دس دن روزے رکھیں اور فرمایا کہ کیا آپ (علیہ السلام) کو معلوم نہیں کہ روز ہ دار کے منہ کی بدبو مجھے مشک سے زیادہ پسند ہے ان کی آزمائش ان دس روزوں میں تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ کیا۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر (کوہ طور پر) پہنچنے اور ان کے پروردگار نے ان کے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ (پروردگار نے) فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ جب انکا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انور ربانی نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر پڑے جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانیوالے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔

143(ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ) یعنی اس وقت جس کے بارے میں ہم نے طے کردیا تھا کہ وہ اپنے رب سے کلام کریں گے اس وقت کلام کیا۔ مفسرین رحمہما الل ہفرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جسم پاک کیا اور کیڑے پاک کئے اپنے رب کے وعدہ کے لئے۔ پس جب طور سینا پہاڑ آئے۔ باقی قصہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار فرسخ دور تاریکی اتاری اور اس سے شیطان کو بھگا دیا اور زمین کے حشرات کو بھی بھگا دیا اور اس سے دونوں فرشتے الگ ہوگئے تو مسویٰ (علیہ السلام) نے فرشتوں کو آسمان میں ٹھہرے ہوئے دیکھا اور عرش کو بالکل واضح دیکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام کی اور آپ (علیہ السلام) سے سرگوشی کی جس کو آپ نے تو سنا لیکن جبرئیل (علیہ السلام) ساتھ تھے انہوں نے اپنے رب کی کلام کو نہیں سنا اور آپ (علیہ السلام) کو اپنے سے قریب کیا یہاں تک کہ آپ نے قلم کے چلنے کی آواز سنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے رب کی کلام بہت لذیذ محسوس ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی رئویت کا اشتیاق بڑھ گیا (قال رب ارنی انظر الیک) زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں اختصار ہے۔ اصل عبارت یہ ہے کہ تو مجھے اپنا آپ دکھائیں تیری طرف دیکھوں۔ اگر یہ سوال ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے رئویت کا سوال کیسے کیا حالانکہ آپ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ جواب یہ ہے کہ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ شوق اتنا غالب ہوا کہ رئویت کا سوال کردیا اور بعض نے کہا رئویت کا سوال اس وجہ سے کیا کہ آپ (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ دنیا میں رئویت ممکن تو ہے (قال) اللہ تعالیٰ نے (لن ترانی) کسی بشر کے لئے یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا میں میر طرف دیکھے جو میری طرف دنیا میں دیکھنے کی کوشش کرے گا مرجائے گا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا، اے میرے معبود میں نے تیری کلام کو سنا تو تیری طرف نظر کرنے کا شوق ہوا اور میں تیری طرف دیکھ کر مر جائوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ زندہ رہوں اور آپ کو نہ دیکھوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لن ترانی ولکن انظر الی الجبل ) یہ مدین کا سب سے بڑا پہاڑ تھا۔ اس کو زبیر کہا جاتا تھا۔ سدی (رح) فرماتے کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی تو شیطان نے زمین میں غوطہ لگایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قدموں کے نیچے سے نکل آیا اور آپ کو وسوسہ ڈالا کہ ابھی آپ (علیہ السلام) سے شیطان نے کلام کی ہے تو اس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے رئویت کا سال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لن ترانی “ جن لووگں نے رئویت باری تعالیٰ کے امکان کی نفی کی ہے انہوں نے آیت کے ظاہر سے استدلال کیا ہے کہ ” لن نفی کی تابید یعنی ہمیشگی کا معنی دیتا ہے۔ لیکن آیت میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ آیت کے ظاہر سے استدلال کیا ہے کہ ” لن نفی کی تابید یعنی ہمیشگی کا معنی دیتا ہے۔ لیکن آیت میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ آیت کا معنی یہ ہے کہ فی الحال یا دنیا میں آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الحال رئویت کا سوال کیا تھا اور ” لن “ بھی تابید کے لئے نہیں آتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں خبر دی ” لن یتمنوہ ایدا “ (وہ اس موت کی تمنا کبھی نہ کریں گے) اور آخرت میں ان کے بارے میں خبر دی کہ وہ موت کی تمنا کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ونادوا یا مالک لیقض علینا ربک “ اور ” یالیتھا کانت القاض یۃ “ اور اس رئویت کے امکان پر یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں ان کی نسبت جہل کی طرف نہیں کی آپ (علیہ السلام) کو اتنی بات نہیں معلوم کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اگر ایسا کہتے تو ان مخالفین کی دلیل ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو رئویت کو معلق کردیا پہاڑ کے استقرار پر اور اللہ تعالیٰ کی رئویت کے وقت پہاڑ کا اپنی جگہ ٹھہرا رہنا کوئی محال نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس میں اس رئویت کی قوت پید ا کردیں اور جس چیز کو غیر محال چیز کے ساتھ معلق کیا جائے وہ بھی محال نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولکن انظر الی الجبل فان استقرمکانہ فسوف ترانی) فلما تجلی ربہ للجبل کی تفسیر وہب اور ابن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے رئویت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مویشیوں، بجلیوں اور تاریکی اور گرج اور بجلی کو بھیجا، انہوں نے چار فرسخ کے فاصلے تک اس پہاڑ کو چاروں طرف سے گھیر لیا جس پر موسیٰ (علیہ السلام) تھے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر آئیں تو آسمان دنیا کے فرشتے موسیٰ (علیہ السلام) پر گزرے، گائیوں ک ریوڑ کی طرح ان کے منہ سے تسبیح اور تقدیس کی بلند آوازیں آرہی تھیں جیسے سخت بجلی کی آواز۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوسرے آسمان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اتر و تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اترے ان کی تسبیح اور تقدیس کی بلند آوازیں تھیں تو کمزور بندے عمران کے بیٹے گھبرا گئے ان فرشتوں کو دیکھ کر اور ان کی آوازیں سن کر اور آپ (علیہ السلام) کے سر اور جسم کے بال کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنے سوال پر شرمندہ ہوں، کیا اب مجھے اس جگہ کوئی چیز نجات دے سکتی ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) کو فرشتوں میں سے بہتر اور سردار نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ اپنے سوال پر صبر کریں جو آپ نے دیکھا ہے وہ بہت تھوڑا ہے اور جو باقی ہے وہ بہت زیادہ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیسرے آسمان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اتر و تو وہ گدھوں کی مثل اترے ان کی وجہ سے زمین کانپنے لگی اور سخت آوازیں آنے لگیں ان کے منہ سے تسبیح و تقدیس کی آوازیں آرہی تھیں جیسے بہت بڑا لشکر نعرے لگا رہا ہو ان کے رنگ آگ کے شعلوں کی طرح تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) بہت زیادہ گھبرا گئے اور زندگی سے ناامید ہوگئے تو بہترین فرشتے نے کہا اے عمران کے بیٹے ! اپنی جگہ ڈٹے رہیں حتیٰ کہ وہ چیز دیکھ لیں جس پر آپ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھے آسمان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم اترو تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اترے تو پہلے والے فرشتوں سے ان کی کوئی مشابہت نہ تھی، ان کے رنگ آگے کے شعلوں کی طرح تھے اور باقی جسم سفید اولوں کی طرح، ان کی آوازیں تسبیح و تقدیس میں اتنی بلند تھیں کہ ان سے پہلے والوں کی آوازیں ان کی آواز کے قرب کو بھی نہ پہنچ سکتی تھیں تو آپ (علیہ السلام) کے گھٹنے تھک گئے اور دل کانپنے لگے اور بہت زیادہ رونے لگے تو بہترین فرشتے نے کہا اے عمران کے بیٹے ! صبر کریں اپنے سوال پر یہ جو کچھ آپ نے دیکھا یہ تھوڑا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانچویں آسمان کے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم اترو تو وہ اترے ان کے سات رنگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان کو دیکھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے نہ ان جیسے پہلے دیکھے تھے اور ان کی آوازوں جیسی پہلی آوازیں نہیں سنی تھیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غم بہت زیادہ ہوگیا اور بہت زیادہ رونے لگے تو فرشتوں کے سردار نے کہا اے عمران کے بیٹے ! اپنی جگہ ٹھہرے رہیں حتی کہ بعض وہ چیزیں دیکھ لیں جس پر آپ صبر نہ کرسکیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چھٹے آسمان والوں کو حکم دیا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) پر اترو تو وہ اترے ان میں سے باز ایک کے ہاتھ میں آ گ تھی جس کی روشنی سورج سے زیادہ تھی اور ان کا لباس آگ کے شعلوں کی طرح تھا جب وہ تسبیح و تقدیس کرتے تو ان کی موافقت ان سے پہلے والے آسمان کے فرشتے بھی کرتے تھے، سارے بلند آواز سے یہ تسبیح کہتے ” سوح قدوس رب الملائکۃ و الروح رب العزۃ ابداً لایموت “ ان میں سے ہر ایک کے چار چہرے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دیکھا تو اپنی آواز ا نک یساتھ تسبیح کہتے ہوئے بلند کی اور روتے رہے اور کہنعے لگے اے میرے رب ! مجھے یا د رکھ اپنے بندے کو بھول نہ جانا مجھے خبر نہیں کہ اس حالت میں میں چھٹکارا پا سکوں گا یا نہیں ؟ اگر نکلتا ہوں تو جل جائوں گا اور اگر ٹھہرنا ہوں تو مر جائوں گا تو فرشتوں کے سردار نے کہا اے عمران کے بیٹے ! قریب ہے کہ تیرا خوف شدید ہوجائے اور تیرا دل نکل جائے۔ آپ اپنے سوال پر صبر کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے عرش کو ساتویں آسمان کے فرشتے اٹھاءیں جب عرش کا نور ظاہر ہوا تو اللہ جل ج اللہ کی عظمت کی وجہ سے پہاڑ کھل گیا اور تمام آسمانوں کے فرشتوں نے آوازوں کو بلند کیا اور کہنے لگے ” سبحان الملک القدوس رب العزۃ ابداً لایموت “ یہ بلند آوازوں سے کہنے لگے تو پہاڑ تو کانپنے لگا اور اس پر جتنے درخت تھے اور اکھڑ گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرپڑے کہ ان کی روح بھی نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے روح کو بھیجا، اس نے ان کو ڈھانپ لیا اور جس پتھر پر موسیٰ (علیہ السلام) تھے اس کو پلٹ کر ان پر سائبان بنادیا تاکہ وہ جل نہ جائیں تو موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اے میرے رب ! میں تجھ پر ایمان لایا اور میں تصدیق کرنا ہوں کہ تجھے کوئی زندہ آدمی نہیں دیکھ سکتا جس نے تیرے فرشتوں کو دیکھا اس کا دل نکل گیا پس تیری اور تیرے فرشتوں کی عظمت کی کیا نسبت تو پالنے والا، معبودوں کا معبود بادشاہوں کا بادشاہ ہے، تیرے برابر کوئی چیز نہیں ہوسکتی اے میرے رب ! میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، تمام تعریفیں تیرے لئے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ (فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے رب کا نور جبل زبیر پر ظاہر ہو اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حجاب کے نور میں سے بیل کے نتھنے کے برابر نور ظاہر کیا۔ عبداللہ بن سلام ؓ اور کعب احبار (رح) کہتے ہیں ہیں سوئی کے ناکے کے برابر اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ چھوٹی انگلی کے برابر اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا اسی طرح اور انگوٹھے کو چھوٹی انگلی کے اوپر والے جوڑ پر رکھ کر اشارہ کیا۔ سھل بن سعد سا عدی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار نور کے پردوں میں سے ایک درہم کی مقدار ظاہر کیا تو پہاڑ برابر ہوگیا یعنی زمین کے برابر ہوگیا۔ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے (دکائ) الف محدودہ کے ساتھ بغیر تنوین کے ڑھا ہے۔ یہاں اور سورة کہف میں ۔ عاصم (رح) نے سورة کہف میں موافقت کی ہے اور دیگر حضرات نے (دکائ) الف مقصورہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس جس نے الف مقصودہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس کا معنی ہوگا کہ اس کو کو ٹا ہوا بنادیا اور دک اور دق ایک ہیں اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی ”’ کہ اللہ دکا “ اس کو پھاڑ دے گا جیسا کہ فرمایا ہے ” اذا دکت الارض دکا “ اور جنہوں نے الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس کو زمین کے برابر کردیا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو دکاء بنادیا اور دکاء ایسی اونٹنی جس کی کوہان نہ ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کو مٹی بنادیا اور سفیان (رح) فرماتے ہیں پہاڑ کو زمین میں گاڑھ دیا۔ یہاں تک کہ وہ سمندر میں چلا گیا اور وہ اس کو بہا لے گیا اور عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں وہ ریت بن گیا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” جعلہ دکا “ یعنی توڑ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر یدئے اور بعض تفاسیر میں واقع ہوا ہے کہ اس کی عظمت کے لئے چھ پہاڑ ہیں تین مدینہ میں واقع ہیں، احد، ودقان، رضوی اور تین مکہ میں۔ ثور، ثبیر اور حرائ۔ (وخر موسیٰ صعقا) ابن عباس ؓ اور حسن (رح) فرماتے ہیں غشی کھا کر اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں مردہ حالت میں ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) جمعرات کے دن یوم عرفہ کو بیہوش ہوئے اور یوم نحر بروز جمعہ کو آپ (علیہ السلام) کو توریت دی گئی۔ واقدی (رح) فرماتے ہیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش کر کر گرے تو آسمان کے فرشتوں نے کہا ابن عمران اور رئویت کے سوال کو کیا ہوا ؟ اور بعض کتابوں میں ہے کہ آسمان کے فرشتے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے وہ بیہوش تھے ان کو پائوں سے ہلانے لگے اور کہنے لگے اے حائضہ عورت کے بیٹے ! کیا آپ کو رب العزت کی رئویت کی طمع ہوئی تھی ؟ (مناسب نہ تھا۔ (قال سبحنک تبت الیک وانا اول المومنین) کہ تو دنیا میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں میں بنی اسرائیل میں پہلا شخص ہوں جو آپ پر ایمان لایا۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجا لاؤ

تفسیر 144(قال یموسی انی اصطفینک علی الناس) یعنی میں نے آپ کو اختیار کیا۔ ابن کثیر اور ابو عمرو رحمہما اللہ نے ” انی “ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ” اخی اشد ”‘ کو اپنے پیغام بھیجنے کا ) اہل حجاز نے ” برسالائی “ مفرد اور باقی نے جمع پڑھا ہے (وبکلامی فخذما اتینک وکن من الشکرین) اللہ کا اس کی نعمتوں پر۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تو دیگر رسول بھی بنائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ” اصطفیتک علیالناس برسالائی “ کا کہنے کا کیا مطلب ہوا ؟ تو جواب یہ ہے کہ رسالت تمام لوگوں کے حق میں عام نہیں ہے تو تمام لوگوں میں سے چند حضرات کو امتیاز دیا ہے یہ ایسے ہے جیسے کوئی کسی کو کہے میں نے اس بات کے مشورہ میں آپ کو خاص کیا ہے۔ تو یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جہاں میں اور کسی سے مشورہ دی نہیں کیا۔ اس واقعہ میں یہ بھی ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس آگئے تو نور نے آپ کے چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا جس کی وجہ سے آپ کے چہرے کو کوئی نہ دیکھ سکتا تھا۔ آپ وفات تک اسی حالت رپ رے صرف آپ (علیہ السلام) کی بیوی نے شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آپ (علیہ السلام) کا چہرہ کھول دیا اور ان کو سورج کی شعاع کی طرح کسی چیز نے پکڑا تو انہوں نے ہاتھ چہرے پر پھیرلیا اور سجدہ کیا اور موسیٰ علیہ اسللام کو کہنے لگیں کہ اللہ سے دعا کریں کہ جنت میں بھی میں آپ (علیہ السلام) کی بیوی رہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میرے بعد نکاح نہ کیا تو یہ اعزاز ملے گا کیونکہ عورت اپنے آخری خاوند کو ملے گی۔ کعب احبار سے روایت ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات میں نیک بخت لوگوں کا تذکرہ دیکھا اور کہا کہ توریت میں میں نے پایا کہ ایک امت تمام امتوں سے بہتر ہے جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالی گئی ہے نیکی کا حکم دیتے ہیں، منکر سے روکتے ہیں اور اللہ پر اور پہلی کتابوں اور آخری کتاب پر ایمان اتے ہیں اور گمراہ لوگوں سے جہاد کریں گے یہاں تک کہ کانے دجال سے لڑائی کریں گے۔ اے میرے رب ! ان کو میری امت بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! (علیہ اسللام) وہ محمد ﷺ کی امت ہے تو آپ (علیہ السلام) ن عرض کیا کہ اے میرے رب تو ریت میں ایک امت کا تذکرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والے ہوں گے جب کسی کام کا ارادہ کریں گے تو کہیں گے ہم یہ کام کریں گے ان شاء اللہ تو اے اللہ ! اس امت کو میری امت بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ پھر عرض کیا کہ اے میرے رب ! ایک امت کا تذکرہ ہے کہ وہ اپنے کفارے اور صدقات خود کھا سکیں گے حالانکہ پہلے لوگوں کے صدقات آگ سے جلا دیئے جاتے تھے اور ان کی دعائیں قبول ہوں گی اور سفارش کریں گے ان کی فارش قبول ہوگی تو اے اللہ ! ان کو میری امت بنا دے تو اللہ نے فرمایا یہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ایک امت کا تذکرہ ہے کہ جب وہ بلندی پر چڑھیں گے تو اللہ اکبر کہیں گے اور جب نیچے اتریں گے تو اللہ کی تعریف کریں گے، مٹی ان کے لئے پاکی کا ذریعہ ہوگی اور تمام زمین ان کے لئے سجدہ کی جگہ جہاں چاہیں سجدہ کریں، وہ جنابت سے خوب اچھے طریقے سے پاکی حاصل کریں گے اور جب وہ پانی نہ پائیں گے تو مٹی سے پاکی حاصل کرنا ان کے لئے پانی کے حکم میں ہوگا۔ ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پائوں روشن ہوں گے، وضو کے اثر سے تو اس امت کو میری امت بنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کی امت ہے تو آپ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے ایک امت کا تذکرہ پایا کہ ان میں سے کوئی جب نیکی کا ارادہ کرے گا اور نیکی نہ کرسکے گا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر نیکی کرلے گا تو اس کے لئے اس کی دس مثل سے سات سو گنا تک لکھا جائے گا اور جب گناہ کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر گناہ کرلے تو اس کے لئے اس کی مثل گناہ لکھا جائے گا تو ان کو میری امت بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ پھر عرض کیا اے میرے رب ! میں نے ایک امت کا تذکرہ پڑھا کہ اس پر رحم کیا گیا ہے کہ وہ کتاب کے وارث ہوں گے ان لوگوں سے جن کو تو نے امتیاز دیا ہے۔ بعض ان میں سے ظالم ہیں اور بعض ان میں سے میانہ روی اختیار کرنے والے اور بعض نیکیوں پر سبقت کرنے والے، میں ان تینوں طبقوں میں سے ہر ایک کو مرحوم (رحمت کیا ہوا پاتا ہوں تو آپ ان کو میری امت بنادیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ پھر عرض کیا اے میرے رب ! میں نے ایسی امت کا تذکرہ پایا کہ ان کے مصاحف ان کے سینوں میں ہوں گے وہ جنت والوں کے کپڑوں کے رنگ جیسے کپڑے پہنیں گے وہ اپنی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائیں گے، مساجد میں ان کی آوازیں شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوں گی ان میں سے کوئی ہمیشہ کے لئے جہنم میں داخل نہ ہوگا تو ان کو میری امت بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ محمد ﷺ کی امت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تعجب ہوا کہ محمد ﷺ اور ان کی امت کو اتنی خیر مل رہی ہے تو انہوں نے کہا اے کاش ! میں محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو راضی کرنے کے لئے تین آیات ان کی طرف وحی کیں۔ ” یا موسیٰ ان اصطفیتک علی الناس برسالاتی ویکلامی “ الی قولہ ” ساریکم دارالفاسقین، ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق ویہ یعدلون “ تو موسیٰ (علیہ السلام) بالکل راضی ہوگئے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔

الواح کی مختلف تفاسیر تفسیر 145(وکتبنا لہ فی الالواح) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ توریت کی تختیاں مراد ہیں اور حدیث میں ہے کہ یہ تختیاں جنت کی بیری کی تھیں، تختی کی لمبائی بارہ گز تھی اور احادیث میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور طوبیٰ درخت کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ لکڑی کی تختیاں تھیں ۔ کلبی رحمہ الل ہفرماتے ہیں کہ سبز زمرد کی تھیں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ سرخ یاقوت کی تھیں ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ زمرد کی تھی، اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا وہ ان کو عدن سے لائے اور اس قلم سے لکھا جس سے ذکر لکھا تھا اور نور کی نہر کی سیاہی استعمال کی۔ وہب رحمہ الل ہفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سخت چٹان سے تختیاں توڑنے کا حکم دیا اور اس چٹان کو نرم کردیا تو ان کو اپنے ہاتھ سے توڑا اور تخیاں بنائیں اور مسویٰ (علیہ السلام) دس کلمات لکھنے کے لئے قلم چلنے کی آواز سن رہے تھے یہ ذی قعدہ کے پہلے دن ہوا اور یہ تختیاں موسیٰ (علیہ السلام) کی قامت کے مطابق دس گز تھیں اور مقاتل اور وہب رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” وکتبنا فی الانواح “ انگوٹھی کے نقش کی طرح اور ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں تو ریت نازل ہوئی تو وہ ستر اونٹں کے بوجھ کے برابر تھی، اس کا ایک جزء ایک سال میں پڑھا جاتا تھا، اس کو مکمل صرف چار افراد نے پڑھا ہے۔ موسیٰ یو شع عزیز اور عیسیٰ (علیہما السلام) نے اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ آیت توریت میں ہزار آیتیں تھیں۔ یعنی ” وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء “ جو ان کو حکم دیا گیا اور جن کاموں سے منع کیا گیا۔” موعظۃ “ جہالت سے نہی اور موعظت کی حقیقت اس چیز سے ڈرانا جس کا انجام خوفزدہ ہو۔ (موعظۃ) جو ان کو حکم دیئے اور جن کاموں سے روکا) (وتفصیلاً لکل شیئ) یعنی امر، نہی، حلال، حرام، حدود، احکام وغیرہ ہر چیز کا بیان۔ (فلخھا بقوۃ) کوششوں کے ساتھ اور بعض نے کہا دل کی قوت اور صحیح ارادے کے ساتھ (وامر قومک یاخذوا باحسبنھا) عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کے حلال کو حلال سمجھیں اور حرام کو حرام جانیں اور اس کی مثالوں پر غور و فکر کریں اور اس کے محکمہ پر عمل کریں اور متشابہ سے رک جائیں موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے اس لئے ان کو وہ حکم دیئے گئے جو قوم کو نہیں دیئے گئے تھے۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں ” باحسنھا “ یعنی اس کا حسن اور یہ تمام حسن تھا اور بعض نے کہا ہے ” احسبنہ “ سے فرا ئض اور نوافل مراد ہیں اور یہ وہ ہیں جن پر ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور اس کے علاوہ مباح ہیں کیونکہ وہ ان پر ثواب کا مستحق نہیں ہوتا اور بعض نے کہا ہے ” یاحسنھا “ یعنی دو کاموں میں سے اچھا اکم ہر چیز میں جیسے درگزر کرنا قصاص لینے سے احسن ہے اور صبر کرنا اتنقام لینے سے احسن ہے۔” ساریکم دار الفاسقین “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا آخرت میں ٹھکانا ، حطن اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی جہنم، تم کو ڈراتا ہے کہ تم اس جیسے ہو جائو اور قتادہ (رح) وغیرہ فرماتے ہیں عنقریب میں تمہیں شام میں داخل کروں گا تو تم کو گزشتہ امتوں کی جگہیں دکھائوں گا جنہوں نے اللہ کے امر کی مخالفت کی تاکہ تم اس سے عبرت حاصل کرو۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں مراد فرعون اور اس کی قوم کا گھر ہے وہ مصر ہے اس پر قسامہ بن زہیر کی قرأت دلالت کرنی ہے۔ (ساوریکم دارلفسقین) سدی (رح) فرماتے ہیں ”’ ار الفاسقین “ کفار کے مرنے کی جگہ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں جس پر وہ گزرتے ہیں جب وہ عاد اور ثمود کے مکانات سے سفر کرتے ہیں اور پہلی امتوں کے مکانات سے جن کو ہلاک کیا گیا ہے۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

تفسیر 146(ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرتے ہیں اور اس کے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں کہ وہ مجھ پر ایمان نہ لاسکیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حق سے عناد ہے اس لئے ان کو ہدایت سے محروم رکھوں گا اور قرآنی آیت کو قبول کرنے اور ان پر ایمان لانے سے پھیر دوں گا۔ دوسری آیت میں بھی اسی طرح کا مضمون آیا ہے۔ فرمایا فلما زاغوا زاغ اللہ قلوبھم سفیان ساصرف کی تشریح اس طرح کی کہ میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے عجائبات کو جاننے سے روک دوں گا۔ ابن جریح فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی پیدائش اور اس میں جو کچھ ہے اس میں غور و فکر و تدبر کرنے سے روک دوں گا۔ بعض نے کہا کہ یہ حکم خاص کر کے مصر والوں کے لئے ہے اور آیات سے مراد نو معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے تھے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کو اپنے عموم پر رکھا ہے۔ (وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بھا وان یروا ) اس سے مراد متکبرین لوگ ہیں۔ ” سبیل الرشد “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” الرش ”‘ راء اور شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے راء کے پیش اور شین کے سکون کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ ” السقم “ اور ” السقم، بالبخل “ اور ” البخل “ اور ” الحزن “ اور ” الحزن “ کی طرح اور ابو عمران دونوں میں فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” الرش ” ذ پیش کے ساتھ کسی کام میں درستگی اور زبر کے ساتھ دین میں استقامت ۔ (وان بروا کل ایۃ لا یو منوا بھا وان یروا) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھ لیں اور پالیں (لایتخلوہ ) اس لئے یہ اپنے لئے اس کو اتخیار نہیں کرتے (سبیلا) (وان یروا سبیل الغی) گمرایہ والا راستہ (یتخلوہ سبیلاً ط ذلک بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین) اور اگر دیکھ لیں ساری نشانیاں ایمان نہ لائیں ان پر اور اگر دیکھیں) یہ متکبرین (ہدایت کا راستہ تو نہ ٹھہرائیں اسکو راہ اور اگر دیکھیں رستہ گمراہی کا تو اس کو ٹھہرا لیں راہ یہ اس لئے کہ انہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور رہے ان سے بیخبر ) ان میں غور و فکر کرکے نصیحت حاصل کرنے سے بیخبر اور غافل ہے۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔

تفسیر 147(والذین کذبوا (بایتنا ولقآء الاخرۃ) آخرت کے گھر کی ملاقات کی جو ثواب اور سزا کے وعدہ کی جگہ ہے (حبطت اعمالھم ) وہ اعمال ضائع ہوگئے گویا کہ انہوں نے وہ اعمال کئے ہی نہیں (ھل یجزون) کیا ان کو آخرت میں بدلہ دیا جائے گا (الا مکانوا) مگر جس بدلے کا یہ سوچ رہے ہیں (یعملون) دنیا میں۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

148(واتخذ قوم موسیٰ من م بعدہ) ان کے پہاڑ پر چلے جانے کے بعد (من حلیھم) جو انہوں نے قوم فرعن بطور عاریت لیا تھا (عجلاً ) اور اس کے منہ میں جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے نشان قدم کی مٹی ڈال دی تو وہ بچھڑا تبدیل ہوگیا (حسداً ) زندہ اور گوشت و خون (لہ خوار) گائے کی آواز کو خوار کہتے ہیں۔ یہ ابن عباس ؓ، حسن، قتداہ، اور مفسرین رحمہما اللہ کی ایک جماعت کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ وہ جسم بنایا گیا تھا اس میں رو ح نہ تھی اس سے آواز سنی جاتیھی اور بعض نے کہا اس کے پیٹ میں ہوا داخل ہو کر نکلتی تو اس سے ہلکی آواز نکلتی تھی اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ب عض نے کہا اس نے ایک ہی دفعہ آواز نکالی اور بعض نے کہا بہت دفعہ آواز نکالی، جب آواز نکالتا وہ لوگ سجدہ میں گرجاتے اور جب خاموش ہوتا تو سجدہ سے اٹھ جاتے وہب (رح) فرماتے ہیں اس کی آواز آتی تھی لیکن حرکت نہ کرتا تھا اور سدی (رح) فرماتے ہیں آواز نکالتا اور چلتا تھا۔ (الم یروا) یعنی جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی (انہ لا یکلمھم ولا یھدیم سبیلاً اتخذوہ وکانوا ظلمین) یعنی انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ کافر تھے۔