7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

149(ولما سقط فی ایدیھم) یعنی بچھڑے کی عبادت پر نادم ہوئے، عبر ہر نادم شخص کو کہتے ہیں ” قط سقط فی یدیہ “ (وراو انھم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا) ہمارا رب ہماری توبہ کو قبول کرے (ویغفر لنا) اور ہماری خطائوں کو معاف کرے (لنکونن من الخسرین) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ ” ترحمنا “ اور ” تغفرلنا “ دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” ربنا “ باء کے زبر کے ساتھ۔ یہ ندامت اور استغفار موسیٰ (علیہ السلام) کے لوٹنے کے بعد ہوا تھا۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

150(ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضیان اسقاً ) ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں ” اسف “ سخت غصہ کو کہتے ہیں اور ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ” اسفاً کا معنی ہے غمگین ہونا اور اسف سخت غم اور افسوس (قال بئسما خلقتمونی من بعدی) یعنی میرے جانے کے بعد تم نے برا عمل کیا۔ کہا جاتا ہے خلقہ بخیر اور بشر جب اس کے جانے کے بعد گھر والوں سے خیر یا شر پہنچے۔ (اعجلتم امر ربکم) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے رب نے جو چالیس دن کا وعدہ کیا تھا اس میں جلدی کیوں کی ؟ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کے حکم آنے کے بغیر بچھڑے کی عبادت کی۔ (والقی الا لواح) جن میں توریت تھی اور آپ (علیہ السلام) نے ان کو اٹھایا ہوا تھا اور شدت غضب سے ان کو زمین پر ڈال دیا راوی کہتے ہیں تو ریت کی سات تختیاں تھیں جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان ک وپھینکا تو وہ ٹوٹ گئیں اور چھ حصے اٹھا لئے گئے اور ساتواں حصہ باقی رہ گیا تو غیب کی خبریں اٹھا لی گئیں اور نصیحت، احکام اور حلال و حرام کی آیات باقی رہ گئیں۔ (واخذ براس اخیہ) ان کی مینڈھیوں اور داڑھی سے (بخرۃ الیہ اور ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور مسویٰ (علیہ السلام) سے زیادہ بنی اسرائیل کو محبوب تھے کیونکہ وہ نرم مزاج تھے (قال) ہارون (علیہ السلام) (ابن ام) اہل کوفہ اور شام نے یہاں اور طہ میں میم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ مراد یہ ہے یا ابن امی تو اضافت کی یاء کو حذف کردیا گیا اور زیر کو باقی رکھا گیا ہے تاکہ اضافت پر دلالت کرے جیسے باری تعالیٰ کا قول ” یاعبا ” ذ ہے اور اہل حجاز اور اہل بصرہ اور حفص رحمہما اللہ نے میم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ’ ’ یا ابن اماہ “ کے معنی کی بناء پر اور بعض نے اس کو اسم اور مبنی علی الفتحہ قرار دیا ہے جیسے حضر موت اور خمستہ عشر وغیرہ اور ہارون موسیٰ (علیہما السلام) کے حقیقی بھاء تھے لیکن ہارون علیہ اسللام نے ماں کا بیٹا کہا تاکہ وہ ان پر نرمی کریں اور بعض نے کہا ہے کہ ماں شریک بھائی تھے ۔ (ان القوم استصعفونی وکادوا یفتلوننی) لوگوں مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں گے (فلا تشمت بی الاعدآء ولا نجعلنی مع القوم الظلمین) بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کے ساتھ میرا مواخذ نہ کیجیے۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر 151 (قال) موسیٰ (علیہ السلام) جب ان پر بھائی کا عذر واضح ہوگیا (رب اغفرلی) مجھے معاف کیجیے جو کچھ میں نے بھائی کے ساتھ کیا (ولا خی) اگر اس سے بچھڑے کے پجاریوں کے روکنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے صواد خلنا فی رحمتک وانت ارحم الرحمین)
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

152(ان الذین اتخذوا العجل ) جنہوں نے اس کو اپنا معبود بنایا (سینا لھم غضب من ربھم) آخرت میں (وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا) ابو اعالیہ فرماتے ہیں کہ جو ان ک واپنے آپ کو مارنے کا حکم دیا گیا وہ مراد ہے۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے نبی کریم ﷺ کے زمانے کے یہود مراد ہیں ان کو ان کے آباء کے کاموں سے عار دلائی جا رہی ہے اور غضب اور ذلت سے مراد جو بنو قریظہ اور بنو نضیر کو قتل اور جلا وطنی پیش آئی وہ مراد ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ذلت سے جزیہ مراد ہے (وکذلک نجزی المفترین) ابو قلابہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم قیامت تک ہر جھوٹ بولنے والے کی سزا یہی ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل کریں گے۔ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر بدعت ایجاد کرنے والے کی قیامت تک یہی سزا ہے۔
Ayahs 7:153–154

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

تفسیر 154(ولما سکت) ساکن ہوگیا (عن موسیٰ الغضب اخذ الالواح) جو انہوںں نے پھینک دی تھیں اور ان میں سے چھے حصے چلے گئے تھے۔ (وفی نسختھا) اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے تختیاں مراد ہیں۔ ان سے دوسرا نسخہ لکھا گیا اور یہی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وفی نسختھا “ سے اور بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو اس میں سے منسوخ کردیا گیا تھا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں جو اس میں سے باقی رہا تھا اور ابن عباس ؓ اور عمرو بن دینار (رح) فرماتے ہیں جب موسیٰ علیہ اسللام نے تختیاں پھینک دیں تو وہ ٹوٹ گئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن روزہ رکھا تو وہ ان کو دو تختیوں میں لوٹا دی گئی۔” ھدی و رحمۃ “ یعنی گمرایہ سے ہدایت اور عذاب سے رحمت ہے۔ ” للذین کفروا برنھم یرھبون “ یعنی اپنے رب سے ڈرنے والے کے لئے اور ” ربھم “ میں لام تاکید کی زیادتی کے لئے ہے۔ جیسے باری تعالیٰ کا قول ” ردف لکم “ ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں اگر اس کو فعل پر مقدم کیا جاتا تو اچھا وہتا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” للرئوبا تعبرون “ ہے۔ قطرب (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ” من ربھم یرھبون “ اور بعض نے کہا ہے راہبون ڈرنے والے اور بعض نے کہا ہے ” راھبون لربھم “ مراد ہیں۔ (ھدی و رحمۃ للذین ھم لربھم یرھبون)
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

155(واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلاً لمیقاتنا) اسی میں دلیل ہے کہ تمام لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ لائیں جو بچھڑے کی عبادت کی معذرت کریں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی چنے (فلما) وہ اس جگہ آئے تو کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو ان کو زلزلہ نے پکڑا تو وہ سب مرگئے اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ان کو اختیار کیا تاکہ یہ لوگ اپنے فعل کی توبہ کریں اور جن کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں ان کے لئے توبہ کا سوال کریں تو یہ دلالت کرتا ہے کہ ان سب نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ قتادہ اور ابن جریج اور محمد بن کعب رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” اخذتھم الرجفہ “ اس لئے کہ انہوں نے قوم کو بچھڑے کی عبادت کرنے سے نہیں روکا تھا ار نہ امر بالمعروف کیا اور نہی عن المنکر کیا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ ستر (70) لوگ جنہوں نے کہا تھا ” لن نئومن لک حتی نری اللہ جھرۃ لاخلتھم الصاعقۃ “ وہ ان ستر (70) سے پہلے تھے۔ مسویٰ (علیہ السلام) نے ان کو چنا تھا تاکہ وہ اپنے رب سے دعا کریں تو ان کی دعا میں یہ تھا کہ دعا میں یہ تھا کہ انہوںں نے کہا ” اے اللہ ! ہمیں وہ عطا کر جو تو نے ہم سے پہلے سکی کو نہیں دیا اور اس کو ہم سے پہلے اور بعد میں کسی کو نہ دینا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا نپاسند کی تو ان کو زلزلہ نے آپکڑا۔ “ وہب (رح) فرماتے ہیں یہ رجفہ آواز نہیں تھی لیکن جب قوم نے یہ ہیبت دیکھی تو ان کو کپکپی طاری ہوگئی اور دل کانپ گئے حتی کہ قریب تھا کہ ان کے اعضاء جدا ہو ہوجاتے ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے خیر کے وزیر اور مطیع و فرمانبردار تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے روتے ہوئے دعا کی اور اپنے رب سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ رجفہ ان سے دور کردیا تو وہ مطمئن ہوگئے اور رب تعالیٰ کی کلام سنی۔ (اخذتھم الرجفہ قال) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے (رب لوشئت اھلکتھم من قبل) یعن بچھڑے کی عبادت سے پہلے ہلاک کردیتا (وایای ) قبطی کے قتل کرنے سے پہلے (اتھلکنا بما فعل السفھآء منا) یعنی بچھڑے کی عبادت کرنے والوں نے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا گمان یہ تھا کہ ان پر یہ سزا بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے آئی ہے۔ مبرو (رح) فرماتے ہیں کہ ” اتھلکنا “ میں استفہام استعطاف یعنی شفقت طلب کرنے کے لئے ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیجیے اور موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے جرم میں دوسرے کو نہ پکڑیں گے صانھی الا فتنک) جس میں یہ کم عقل لوگ واقع ہوئے ہیں یہ آپ کی آزمائش و امتحان ہے۔ آپ نے اس کے ذریعے ایک قوم کو گمراہ کیا اور ایک قوم کو ہدایت دی اور ان کو محفوظ رکھا، حتی کہ وہ آپ کے دین پر ثابت قدم رہے۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ۔ (تضل بھا من تشآء وتھدی من تشآء ط آنت ولینا) گمراہ کر دے اس میں جس کو تو چاہے اور سیدھا رکھے جس کو چاہے تو وہی ہمارا تھامنے والا (فاغفر لنا وارحمنا وانت خیر الغفرین)
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

تفسیر 156 (واکتب لنا) واجب کر دے (ی ھذہ الدنیا حسنۃ) نعمت و عافیت (وفی الاخرۃ) مغفرۃ اور جنت ہے (انا ھدنا الیک قال) ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا) اللہ تعالیٰ نے (غذابی اصیب بہ من اشآء رحمتی وسعت کل شیئ) حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی رحمت دنیا میں ہر نیک اور گناہ گار کو شامل ہے اور قیامت کے دن متقین کے ساتھ خاص ہے۔ عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں ہر چیز پر وسیع ہے لیکن واجب صرف تقویٰ والوں کے لئے ہے کیونکہ کافر بھی مئومنین کے ساتھ دنیا میں رزق دیئے جاتے ہیں کیونکہ اللہ کی رحمت وسیع ہے تو وہ اس میں زندگی گزارتے ہیں تو جب آخرت میں جائیں گے تو یہ خاص مئومنین کے لئے ہوگی۔ جیسے کوئی شخص دوسرے کی آگ سے روشنی حاصل کر رہا ہو جب چراغ والا چلا جائے اور روشنی بھی چلی جائے گی۔ ابن عباس ؓ قتادہ اور ابن جریج رحمہما اللہ فرماتے ہیں اب آیت نازل ہوئی ” ورحمتی وسعت کل شیئ “ تو ابلیس نے کا میں اس شئی میں سے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فما کتبھا للذین ینفقون ویوقون الزکو ۃ والذین ھم باتینا یومنون) یہود نے اس کی تمنا کی اور کہنے لگے کہ ہم تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے یہ انعام بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

157 (الذین یتبعون الرسول النبی الامی) نوفل بکالی حمیری فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمیوں کو لے کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ میں تمہارے لئے ساری زمین کو سجدہ گاہ اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دوں گا جب نماز کا وقت ہو جہاں دل کرے نماز پڑھ لو مگر بیت الخلاء حمام یا قبر کے پاس نہ پڑھ سکو گے اور میں تمہارے دل میں سکینہ ڈال دوں گا تم اپنی یادداشت سے تو ریت کو پڑھ لو مگر بیت الخلاء حمام یا قبر کے پاس نہ پڑھ سکو گے اور میں تمہارے دل میں سکینہ ڈال دوں گا تم اپنی یادداشت سے تو ریت کو پڑھو گے، مرد و عورت، آزاد ، غلام، بچہ، بڑا سب پڑھیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات قوم کو بتائی۔ تو وہ کہنے لگے تو یہی چاہتے ہیں کہ صرف کنیسوں میں نماز پڑھیں اور سکینہ کو دل میں اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اور تو ریت کو زبانی پڑھنے کی ہم میں طاقت نہیں، ہم تو اس کو دیکھ کر پڑھنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اس امت میں نہیں ہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! میں بنی اسرائیل کا وفد لایا اور آپ نے ہمارا انعام دوسروں کو دے دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعذلون “ تو موسیٰ (علیہ السلام) راضی ہوگئے۔” النبی الامی “ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں تمہارے نبی ﷺ مراد ہیں کیونکہ وہ امی تھے نہ لکھتے تھے اور نہ پڑھتے تھے اور نہ حساب و کتاب جانتے تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہم امی امت ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب۔ (رواہ البخاری) اُمی کی نسبت اُم بمعنی ماں کی طرف ہے یعنی وہ اسی حالت پر ہے جس پر اس کی ماں نے جنا تھا۔ بعض نے کہا یہ ام القریٰ یعنی مکہ کی طرف منسوب ہے (الذی یجدونہ) اس کی صفات اور نبوت کا ذکر پاتے ہیں (مکتوباً عندھم فی التورۃ والانجیل) عطاء یسار (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کو ملا تو میں نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ کی توریت میں کیا صفات بیان ہوئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے اللہ کی قسم اتوریت میں ان کی بعض وہ صفات ہیں جو قرآن مجید میں بھی ہیں۔ اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے اولا بنا کر اور امیوں کے لئے حرز بنایا تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا نہیں ہے سخت مزاج، نہ بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا لیکن عفو و درگزر سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض نہ کرے گا جب تک اس کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کر دے کہ وہ ” لا الہ الا اللہ “ کہنے لگیں اور اس کے ذریعے اندھی آنکھیں، بہرے کان اور بند دل کھل جائیں۔ اس حدیث میں متابع عبدالعزیز بن ابی سلمتہ ہیں۔ کعب (رح) سے روایت ہے کہ میں نے توریت میں لکھا ہوا پایا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نہ سخت مزاج نہ ترش دوا اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں لیکن معاف کرتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں۔ ان کی امت حمادون ہے کہ ہر مرتبہ میں اللہ کی تعریف کرتی ہے اور ہر اونچی جگہ پر اس کی بڑائی بیان کرتی ہے۔ وہ اپنی نصف پنڈلی پر تہبذ رکھتے ہیں اور اپنے اعضاء کا وضو کرتے ہیں، ان کی نماز کی صفیں اور جہاد کی صفیں برابر ہیں۔ ان کا منادی آسمان کی فضا میں آواز لگاتا ہے۔ رات میں ان کی بھنبھناہٹ شہد کی مکھیوں کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی پیدائش مکہ میں اور ہجرت طابہ میں اور حکومت شام میں ہوگی (یامرھم بالمعروف) ایمان کا (وینھھم عن المنکر) یعنی شرک سے۔ بعض نے کہا معروف شریعت اور سنت ہے اور منکر وہ کام جو شریعت اور سنت میں نہ ہو (ویحل لھم الطیبت) یعنی جو وہ جاہلیت میں حرام کرتے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام۔ (ویحرم علیھم الخبیث) یعنی مردار، خون، خنزیر کا گوشت، زنا وغیرہ حرام چیزیں (ویضع عنھم اصرھم) ابن عامر (رح) نے ” اصارھم “ جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور اصر ہر وہ قول یا فعل جو انسان پر بوجھل ہو۔ ابن عباس ؓ، حسن، ضحاک ، سدی اور مجاہد رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ یعنی و ہ پختہ عہد جو نبی اسرائیل سے لیا گیا تھا تو ریت پر عمل کرنے کا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ سختی جوان پر دین کے معاملہ میں ہوئی تھی (والا غلل التی کانت علیھم) جیسے اپنے آپ کو قتل کرنا اور گناہگار اعضاء کو کانٹا اور کپڑے سے نجاست کو کاٹ کر اتارنا اور قتل کی صورت میں صرف قصاص متعین ہونا اور دیت کا لینا حرام ہونا اور ہفتہ کے دن کا حرام ہونا اور ان کی نماز کنیسہ کے علاوہ جائز نہیں ہوتی اور اس کے علاوہ دیگر سختیاں ان کو بیڑیوں سے تشبیہ دی گئی جو ہاتھ گردن پر باندھ دیتی ہیں (فالذین امنوا بہ) محمد ﷺ پر ایمان لائے (وعزروۃ) اور ان کی توقیر کی (ونصروہ) اور دشمنوں پر ان کی مدد کی۔ (والبعوا النور الذی انزل معہ) یعنی قرآن (اولئک ھم المفلحون)
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

تفسیر 158 (قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیغان الذی لہ ملک السموت والارض لا الہ الا ھو یحی ویمیت فامنوا باللہ و رسولہ النی الامی الذی یومن باللہ وکلمہ) یعنی آیات پر اور وہ قرآن ہے اور مجاہد، سدی رحمما اللہ فرماتے ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور دلیل میں یہ آیت پڑھی ” کلمۃ القھا الی مریم “ (واتبعوہ لعلکم تھتدون)
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

159 (ومن قوم موسیٰ ) یعنی بنی اسرائیل میں (امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون) حق کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں کلبی اور ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قوم چین کے پیچھے اقصیٰ مشرق میں نہر اردن پر آباد تھی ان میں کسی کے پاس اپنے ساتھی سے کم مال نہ تھا، رات کو بارش ہوتی اور دن کو جانوروں کو وہی پانی پالتے اور کاشت کرتے۔ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) معراج کی رات نبی کریم ﷺ کو لے گئے تو راستے میں ان سے کلام کیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے پوچھا، تمہیں علم ہے کہ کس سے بات کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ محمد ﷺ نبی امی ہیں تو وہ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیں وصیت کی تھی کہ تم میں سے جو محمد ﷺ کو پائے تو ان پر میری طرف سے سلام پڑھے تو نبی کریم ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سلام کا جواب دیا۔ پھر ان کو قرآن کی دس سورتیں پڑھائیں جو مکہ میں اتری تھیں اور ان کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا اور ان کو حکم دیا کہ اپنی جگہ رہیں، یہ لوگ ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو اس کے چھوڑنے کا حکم دیا اور فرمایا جمعہ کے دن عبادت کیا کرو بعض نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں یہود میں سے ایمان لے آئے تھے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

تفسیر 160 (وقطعنھم اثنی عشرۃ اسیاطاً امما) ہم نے نے بنی اسرائیلیوں کو فرقہ فرقہ کردیا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ ” النتی عشرہ “ مئونث ذکر کیا ہے حالانکہ سبط مذکر ہے اس وجہ سے کہ اس کا تعلق ” امما “ سے ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو بارہ مختلف جماعتوں میں جدا جدا کردیا اور ” اسباطا امما “ جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے حالانکہ دس سے اوپر کی تفسیر جمع کے ساتھ نہیں کی جاتی۔ پس ” اتالی النا عشر رجالا نہیں کہا جئے گا ؟ جواب یہ ہے کہ اسباط حقیقت میں مفسر محذوف کی صفت ہے اور وہ فرقتہ ہے یعنی ” وقطعناھم اثنتی عشرۃ فرقہ امما “ اور بعض نے کہا ہے اس میں تقدیم اور تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے ” وقطعداھم اسباطا امما اثنتی عشرہ “ اور الاسباط قبائل اس کا واحد سبط ہے۔ (واوحینآ الی موسیٰ اذا مستقہ قومۃ) وادی تیہ میں (ان اضرب بعضاک الحجر فاء تبحست منہ) اور ابو عمرو بن علاء کہتے ہیں جاری ہوئے پھر پھٹو پڑے۔ (الثناء عشرۃ عیناً ) ہر جماعت کا ایک چشمہ (قدعلم کل اناس مبشربھم) ہر جماعت ایک باپ کی اولاد تھی (وظللنا علیھم الغمام) وادی تیہ میں جو ان کو سورج کی گرمی سے بچاتا تھا (وانزلنا علیھم اتمن و السلوی ط کلوا من طیبت مارزفنکم ط وما ظلمونا ولکن کانوآ انفسھم یظلمون)
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

161 (واذ قیل لھم اسکتوا ھذہ القریۃ وکلوا منھا حیث شئتم وقولوا حطۃ وادخلوا الباب سجداً تغفرلکم) اہل مدینہ ابن عامر اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” تعظر “ تاء پر پیش کے ساتھ اور فاء کے فتحہ کے ساتھ اور باقی حضرات نے نون اور اس پر زبر پڑھی ہے اور فاء کے کسرہ کے ساتھ (خطیتتکم) اہل مدینہ اور یعقوب نے ” خطیئاتکم “ جمع اور پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے جمع کا صیغہ اور تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ (سنرید المحسنین)
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

تفسیر 162 (وسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر) یعنی اے محمد ﷺ آپ اپنے پڑوسی یہودیوں سے اس بستی کے بارے میں سوال کریں جو دریا کے کنارے تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس بستی کا نام ایلہ تھا۔ مدین اور طور کے درمیان دریا کے کنارے آباد تھی اور زہری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ طبریۃ الشام ہے (ادیعدون فی السبت) یعنی مچھلی کا شکار کر کے اللہ کے حکم سے تجاوز کیا (اذتاتیھم حیتالھم یوم سبتھم شرعاً ) یعنی پانی کے اوپر ظاہر ہو کر کثیر تعداد میں یہ شارع کی جمع ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ لگاتار آتیں اور قصہ میں یہ بات منقول ہے کہ ہفتہ کے دن سفید موٹے مینڈھوں کی طرح موٹی مچھلیاں ان کے سامنے آتیں۔ (ویوم لایستبون لاتآتیھم) حسن (رح) نے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ ہفتہ میں داخل نہ ہوتے تھے اور معروف قرأت یاء کے نصب کے ساتھ اور اسی کا معنی یہ ہے کہ وہ ہفتہ کی تعظیم نہ کرتے تھے (کذلک نبلوھم بما کانوا یقسقون) تو ان کو شیطان نے وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن شکار سے منع نہیں کیا بلکہ مچھلی کھانے سے منع کیا ہے تو تم شکار کرلو اور بعض نے کہا کہ ان کو یہ وسوسہ ڈالا کہ تمہیں پکڑنے سے منع کیا گیا ہے تو تم سمندر کے کنارے ایک کھالا بنا لو اس میں ہفتہ کے دن مچھلیاں ہانک دیا کرو، پھر اتوار کے دن پکڑ لیا کرو تو کافی عرصہ وہ یہ کام کرتے رہے۔ پھر ہفتہ کے دن شکار کرنے پر ان کی جرأت بڑھ گئی اور کہنے لگے کہ ہمارا خیال ہے کہ ہفتہ کا دن ہمارے لئے حلال کردیا گیا ہے تو ان کو پکڑ کر کھا جاتے یا بیچ دیتے تو بستی والے تین جماعتوں میں بٹ گئے اور یہ ستر ہزار کے قریب تھے۔ ایک تہائی نے ان کو منع کیا اور ایک تہائی نے منع نہیں کیا بلکہ سکوت کیا اور کہنے لگے تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور ایک تہاء گناہ گار لوگوں کی تھی جب وہ باز آگئے تو منع کرنے والے کہنے لگے کہ ہم ایک بستی میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتے تو انہوں نے بستی کو دیوار کھڑی کر کے تقسیم کردیا۔ مسلمانوں کے لئے ایک دروازہ اور ان لوگوں کے لئے ایک دروازہ ہے اور ان کو دائود (علیہ السلام) نے لعنت کی تو منع کرنے والوں نے ایک دن صبح کی تو حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے کوئی نہ نکلا تو وہ کہنے لگے کہ شاید شراب کا نشہ ان پر غالب آگیا ہے تو وہ دیوار پھلانگ کر ان کے حصہ میں گئے تو دیکھا کہ وہ سب بندر اور خنزیر بنے ہوئے تھے تو بندوں نے اپنے رشتہ دار انسانوں کو پہچان لیا لیکن انسان اپنے بندر رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے تو بند راپنے رشتہ داروں کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھ کر روتے تو وہ انسان کہتے کیا ہم نے تمہیں روکا نہیں تھا ؟ تو وہ سربلا کر ہاں کرتے تو اس قوم میں سے صرف منع کرنے والے بچے باقی سب کی شکلیں بگڑ گئیں۔ یا سب ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 7:163–164

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

164 (واذ قالت امۃ منھم لم تعظون قوما اللہ مھلکھم) اس قول کے قائلین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ ہلاک ہونے والے فرقہ کے لوگ تھے کیونکہ جب ان کو کہا جاتا کہ تم اس برے عمل سے باز آ جائو عذاب آنے سے پہلے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرنے والا ہے اگر تم باز نہ آئے تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جن کو اللہ چاہتا ہے کہ ہلاک کرے (او معدبھم عذاباً شدیداً ط قالوا) ای منع کرنے والے کہنے لگے (معلبوۃ الی ربکم) یعنی ہم یہ کام اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت کرنے کے لئے کر رہے ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ ساکن فرقہ کا قول ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور مطلب یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینا ہم پر واجب ہے۔ پس ہم پر نصیحت لازم ہے یہ عذر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف (ولعلھم یتقون) یعنی اللہ سے ڈریں اور معصیت چھوڑ دیں، اگر خطاب حد سے تجاوز کرنے والوں کو ہوتا تو ” لعلکم تتقون “ کہتے۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

تفسیر 165 (فلما نسوا ما ذکروا بہ) یعنی جوان کو نصیحت کی گئی تھی اس کو چھوڑ دیا (انجیدالذین ینھون عن السوء واخدنا الذین ظلموا) یعنی نافرمان جماعت کو (بعذاب بئین) یعنی سخت تکلیف دینے والے میں الباس سے ہے یعنی سختی اس کی قرأت میں اختلاف ہے۔ اہل مدینہ اور ابن عامر نے (بئیس) باء کی زیر کے ساتھ فعل کے وزن پر پڑھا ہے مگر ابن عامر اس کو ہمزہ دیتے ہیں اور ابو جعفر اور نافع ہمزہ نہیں پڑھتے اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں باء کے زبر اور باء کے سکون کے ساتھ اور ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ فیصل کے وزن پر صیقل کی طرح اور دیگر حضرات نے فصیل کے وزن پر بصیر اور صغیر کی طرح پڑھا ہے (بما کانوا یقسقن) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے نافرمان اور فرمانبردار فرقہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تو سنا ” انجینا الذین ینھون عن السوء واخدنا الذین ظلموا بعذاب بئیس “ لیکن یہ معلوم نہیں کہ خاموش فرقہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ؟ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول سن کر عرض کیا کہ اللہ مجھے آپ پر فدا کر دے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس خاموش فرقہ نے ان کے اس فعل کو ناپسند کیا اور کہنے لگے تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والے ہیں۔ اگرچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دینے کا ذکر نہیں کیا تو ان کو ہلاک کرنے کا بھی ذکر نہیں تو ابن عباس ؓ کو میرا قول بڑا اچھا لگا اور میری رائے سے راضی ہوگئے اور مجھے دو چادریں پہنائیں اور فرمایا کہ خاموش فرقہ بھی نجات پا گیا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ منع کرنے والے نجات پا گئے اور باقی دونوں فرقے ہلاک ہوگئے اور یہ سخت ترین آیت ہے۔ ” نھی عن المنکر “ کے چھوڑنے میں۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

166 (فلما عفوا عن مانھوا غدہ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے معصیت کو چھوڑنے سے انکار کردیا (قلنا لھم کونوا فردۃ حسئین) دور کئے ہوئے تو وہ تین دن ٹھہرے رہے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور لوگ ان کو دیکھتے تھے پھر وہ ہلاک ہوگئے۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

167 (واذ تاذن ربک) یعنی اطلاع کردی۔ کہا جاتا ہے کہ ” تاذن اور ” اذن توعد “ اور ” اوعد “ کی طرح ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” تادن قال “ کے معنی میں ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حکم دیا تیرے رب نے ۔ (لیغن علیھم الی یوم القیمۃ من یسومھم سوء العذاب) اللہ تعالیٰ نے ان پر محمد ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کی امت کو بھیجا جو ان سے اس وقت تک قتال کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ دینے لگیں۔ (ان ربک تسرئع العقاب وانہ لغفور رحیم)
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

168 (وقطعنھم فی الارض امماً ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرقوں میں تقسیم کردیا تو ان کی قوت منتشر ہوگئی (منھم الصلحون) ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور ایمان لے آئے (ومنھم دون ذلک) یعنی جو کفر پر باقی رہے (ویلونھم بالحسنت) ہریالی اور عافیت دے کر (والسیات ) خشک سالیا ور سختی کے ساتھ (لعلھم یرجعون) تاکہ وہ اپنے رب کی اطاعت کی طرف آجائیں اور توبہ کرلیں۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسکو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

تفسیر 169 (فخلف من بعدھم) یعنی ان لوگوں کے بعد آئے جن کی ابھی ہم نے صفات بیان کیں (خلف) خلف زمانہ جو زمانہ کے بعد آئے۔ ابو حاتم (رح) فرماتے ہیں کہ خلف لام کے سکون کے ساتھ بمعنی اولاد واحد اور جمع اس میں برابر ہیں۔ ” خلف “ لام کے فتحہ کے ساتھ بمعنی بدل خواہ اولاد ہو یا مسافر۔ ابن الاعرابی (رح) فرماتے ہیں خلف لام کے فتحہ کے ساتھ نیک اور لام کے جزم کے ساتھ بد اور نضر بن شمیل کہتے ہیں الخلف لام کی حرکت اور سکون کے ساتھ ہو تو اس سے برا قرن مراد ہے اور اگر لام کی حرکت کے ساتھ ہو تو پھر نیک قرن ہوتا ہے اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں اکثر مدح میں لام کے زبر کے ساتھ آتا ہے اور ذم میں لام کے سکون کے ساتھ کبھی ذم میں لام کے سکون کے ساتھ کبھی ذم میں حرکت دی جاتی ہے اور مدح میں سکون۔ (ورفوا الکتب) ان کی طرف ان کے آیاء سے کتاب یعنی توریت منتقل ہوئی۔ (یاخدون عرض ھذا الادلی) عرض دنیا کا سامان اور ” غرض “ راء کے سکون کے ساتھ دراہم ودنانیر کے علاوہ مال اور ادنیٰ سے مراد جہاں یعنی یہ فانی دنیا۔ یہ یہود توریت کے وارث ہوئے، اس کو پڑھا اور اس پر عمل کو ضائع کردیا اور اس کے حکم کی مخالفت کی اللہ کے حکم میں اور اس کے کلمات کو تبدیل کرنے میں رشوت لیتے تھے (ویقولون سیغفرلنا) ہمارے گناہ۔ اللہ پر باطل تمنا کرتے ہیں۔ شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو جانا اور موت کے بعد کے لئے عمل کیا اور عاجز وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہش کے پیچھے لگا دیا اور اللہ پر جھوٹی تمنائیں کرنے لگے (وان یاتھم عرض مثلہ یاخدوہ) یہ ان کے دنیا کے حرص اور گناہوں پر اصرار کی خبر دی ہے کہ جب ان کے سامنے دنیا کی کوئی چیز آجائے تو اس کو لے لیں گے حلال ہو یا حرام اور اللہ سے مغفرت کی تمنا کرنے لگیں اور اگلے دن پھر کوئی چیز ملے تو اس کو لے لیں گے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جس کو قاضی بناتے وہ فیصلہ کرنے کے لئے رشوت لیتا تو اس کو کہا اجتا تو رشوت کیوں لیتا ہے ؟ تو وہ کہتا میری مغفرت ہوجائے گی تو دوسرا اس پر طعن کرتا۔ پھر وہ قاضی جب مرجاتا اور دوسرا جو اس پر طعن کرتا تھا وہ قاضی بنتا تو وہ بھی رشوت لیتا۔ (الم یوخذعلیھم میثاق الکتب ان لایقولوا علی اللہ الا الحق ) یعنی تورات میں ان سے عہد لیا ہے کہ وہ اللہ پر باطل نہ کہیں اور وہ گناہ پر ڈٹے رہنے کے باوجود مغفرت کی تمنا کرتے ہیں اور تورات میں گناہ پر اصرار کے ساتھ مغفرت کا وعدہ نہیں کیا گیا (ودرسوا مافیہ) اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ جو اس میں ہے اس نے پڑھا ہے اور ان کو یہ یاد بھی ہے اور اگر وہ اس کو سمجھ لیتے تو آخرت کے گھر کے لئے عمل کرتے اور درس الکتاب اس کا پڑھنا اور بار بار اس میں غور و فکر کرتا۔ اس میں لکھا ہے (والدار الاخرۃ خیر للذین یعفون ط افلا تعقلون)
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (انکو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

تفسیر 170 (والذین یمسکون بالکتب) ابوبکر (رح) نے عاصم سے ” یمسکون “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر کی قرأت شد کے ساتھ ہے اس لئے کہ کہا جاتا ہے ” مسکت بالشیئ “ اور ” امسکت بالشیء نہیں کہا جاتا صرف ” امسکئہ “ کہا جاتا ہے۔ اور ابی بن کعب ؓ نے ” والذین تمسکوا بالکتاب ‘ ماضی کا صیغہ پڑھا ہے اور یہ قرأت عمدہ ہے کیونکہ آگے ” وقاموا الصلوۃ “ ماضی ہے اور ماضی کا مستقبل پر عطف بہت کم ہے ہاں معنی کے اعتابر سے ہو تو وہ کثیر ہے اور مراد وہ لوگ ہیں جو کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اہل کتاب کے مئومنین ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی کہ انہوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے تھاما جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری نہ اس میں تحریف کی اور نہ اس کو چھپایا اور اس کو کمائی کا ذریعہ بھی نہیں بنایا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ محمد ﷺ کی امت ہیں (وقاموا الصلوۃ انا لانضیع اجر المصلحین)
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا) ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔

171 (واذا نعفنا الجبل فوقھم) یعنی ہم نے اکھاڑا (کانہ ظلہ وظنوا انہ واقع بھم خدوا مآ اتینکم بقوۃ و اذکروا مافیہ) مورج کا قول ہے کہ ہم نے پہاڑ کو ان سے جدا کیا۔ قراء کا قول ہے کہ ہم نے ان پر معلق کیا۔ بعض نے کہا کہ ہم نے اسے بنلد کیا (کانہ ظلۃ) عطاء کا قول ہے کہ ظلتہ سے مراد چھت ہے بعض نے کہا ہر وہ چیز جو سایہ کرے (وظنوا انھم واقع بھم خدوا) اور ہم نے ان کو کہا کہ پکڑ لو۔ (ما اتینا کم بقوہ) کوشش اور اجتہاد سے (واذکروا مافیہ) مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے) اور اس کے ساتھ عمل کرو (لعلکم تتقون) اور یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے تو رات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر پہاڑ اٹھا دیا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے پہاڑ کی طرف دیکھا تو ان میں سے ہر ایک سجدہ میں گرگیا بائیں پہلو پر اور اپنی دائیں آنکھ سے پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے اس خوف سے کہ وہ ان پر گرپڑے۔ اسی وجہ سے یہودی اپنے بائیں پہلو پر سجدہ کرتے ہیں۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

ذریت آدم کو پشت آدم سے نکالنے اور عہد کا واقعہ 172 (واذا اخذ ربک من م بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم) مسلم بن یسار جہنی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ (علیہ السلام) سے بھی یہی سوال کیا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور اس سے کچھ مخلوق نکالی اور فرمایا کہ ان کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے کام کریں گے۔ پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اس سے مخلوق نکالی تو فرمایا کہا ن کو میں نے جہنم کے لیء پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں والے کام کریں گے تو ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) پھر عمل کی کیا ضرورت ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو جنت کے لئے پیدا کرتے ہیں تو اس کو جنتیوں کے کام کرنے کی توفیق دیتے ہیں حتیٰ کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے تو اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور جب کسی بندہ کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس کو جہنمیوں والے کاموں پر لگاتا ہے حتی کہ وہ جہنمیوں کے عملوں میں سے کسی عمل پر مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کردیتا ہے۔ ابو عیسیٰ (امام ترمذی) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسلم بن یسار کا حضرت عمر ؓ سے سماع ثابت نہیں۔ (اور بعض حضرات نے اس سند میں مسلم بن یسار اور حضرت عمر ؓ کے درمیان ایک آدمی کا واسطہ ذکر کیا ہے مقاتل (رح) و دیگر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت کے دائیں پہلو کو چھوا تو سفید اولاد نکالی، چیونٹیوں کی طرح حرکت کرتے تھے، پھر بائیں پہلو کو چھوا تو اس سے سیاہ اولاد نکالی، چیونٹیوں کی طرح اور فرمایا اے آدم ! یہ تیری اولاد ہے۔ پھر فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کیوں نہیں تو سفید کے بارے میں فرمایا کہ یہ جنت میں جائیں گے میری رحمت کے ساتھ اور مجھے پرواہ نہیں۔ یہ اصحاب الیمین ہیں اور سیاہ کے بارے میں فرمایا یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے پرواہ نہیں ہے، یہ اصحاب الشمال ہیں، پھر ان سب کو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں لوٹا دیا۔ پس قبروں والے محبوس ہیں یہاں تک کہ میثاق والے تمام لوگ مردوں کی پشتوں اور عورتوں کے رحموں سے نکل آئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں جنہوں نے پہلا عہد توڑا ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ اور بعض مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سعادت والوں نے خوش دلی سے اقرار کیا اور کہا بلی کیوں نہیں اور اہل شقاوت نے تقیہ کرتے ہوئے اور مجبور ہو کر کہا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” ولہ اسلم من فی السماوات والارض طوعا اوکرھا “ کا معنی ہے اور میاثق کی جگہ میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عرفہ کی ایک جانب بطن نعمان نامی وادی میں ہوا تھا اور ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ ہندوستان کی زمین بدھناء میں ہوا۔ یہی وہی جگہ ہے جہاں آدم (علیہ السلام) اترے تھے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں مکہ اور طائف کے درمیان اور سدی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتارا لیکن آسمان سے نہیں اتارا، پھر ان کی پیٹھ کو چھوا اور ان کی اولاد نکالی اور روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو نکالا اور ان کی صورت بنائی اور سمجھنے کے لئے عقل اور بولنے کے لئے زبان دی۔ پھر ان سے آمنے سامنے گفتگو کی اور فرمایا ” الست بربکم “ اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چیونٹیوں جیسا بنایا ہو اور وہ عقل و شعور رکھتے ہوں۔ جیسا کہ باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قالت نملۃ یا ایھا النمل ادخلوا مساکنکم “ اور روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا تم عمل کرو میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے میں تمہارا رب ہوں میرے سوا تمہارا کوئی رب نہیں ہے تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو، عنقریب اپنے ساتھ شرک کرنے والوں سے انتقام لوں گا جو مجھ پر ایمان نہیں لائے اور میں تمہاری طرف رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد و میثاق یاد دلائیں گے اور تم پر کتابیں نازل کروں گا تو ان سب نے کہا ہم نے گواہی دی کہ آپ ہی ہمارے رب اور معبود ہیں، ہمارا آپ کے علاوہ کوئی رب نہیں ہے تو اس پر ان سے پختہ عہد لیے، پھر ان کی عمریں اور مصائب لکھے تو آدم (علیہ السلام) نے ان کو دیکھا تو ان میں فقیر و مال دار اور اچھی و بری صورتوں والے دیکھے تو کہا اے میرے رب ! آپ نے ان کو برابر کیوں نہیں بنایا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے جب انہوں نے توحید کا اقرار کرلیا اور ایک دوسرے پر وگاہ بن گئے تو ان کو آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ میں لوٹا دیا۔ پس قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک عہد کرنے والے تمام لوگ پیدا نہ ہوجائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” واذا اخذ ربک من بنی آدم من ظھورھم “ کا مطلب ہے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو۔ اہل مدینہ، ابو عمرو اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” ذریاتھم “ جمع کا صیغہ اور تاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” ذریتھم “ واحد پڑھا ہے اور تاء کے زبر کے ساتھ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ” واذا اخذ ربک من بنی آدم من ظھورھم “ کا کیا معنی ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو آدم (علیہ السلام) یک پشت سے نکالا تھا ؟ جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو ایک دوسرے کی پشت سے اسی ترتیب سے نکالا تھا جیسے دنیا میں نسل کا طریقہ ہے کہ پہلے باپ، پھر یٹا پھر پوتا، تو آدم (علیہ السلام) کی پشت ذکر کر کے ان سب سے استغناء ہوگیا کیونکہ یہ سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی “ یعنی ایک دوسرے پر گواہ بنایا۔ قولہ ” شھدنا ان تقولوا “ ابوعمرو (رح) نے ” ان یقولوا “ اور ” یقولوا “ دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” شھدنا “ میں اختالف ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور فرشتوں کی خبر دی ہے کہ وہ بنو آدم کے اقرار پر گواہ ہیں اور بعض نے کہا ہے یہ بنو آدم کے قول ” اشھد اللہ بعضھم علی بعض “ کی خبر ہے تو انہوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے ان کو گواہ بنادیا ہے اور کلبی (رح) کہتے ہیں یہ فرشتوں کا قول ہے اس میں عبارتم حذوف ہے اصل عبارت یہ ہے جب اولاد آدم نے کا ” بلی “ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا تم گواہ ہو جائو۔ انہوں نے کہا ہم گواہ ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ان یقولوا “ یعنی ان کو ان کے نفس پر گواہ بنایا کہ وہ کہیں یعنی تاکہ وہ یہ نہ کہیں، یا یہ کہنے کو ناپسند کیا اور جس نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو کلام کی اصل یہ ہے میں نے تم سے خطاب کیا (کہ وہ کہیں یعنی تاکہ وہ یہ نہ کہیں، یا یہ کہنے کو ناپسند کیا اور جس نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو کلام کی اصل یہ ہے میں نے تم سے خطاب کیا (کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں) تاکہ تم نہ کہو ” یوم القیامۃ انا کنا عن ھذا غافلین “ یعنی اس میثاق اور اقرار سے۔ (واشھد ھم علی انفسھم الست بربکم ط قالوا بلی شھدناً ) س دی (رح) فرماتے ہیں کہ ” شھدنا “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بنی آدم کے اقرار پر گواہ ہیں صان تقولوا یوم القیمۃ) یعنی تاکہ تم قیامت کے دن نہ کہو (انا کنا عن ھذا غفلین) یعنی اس عہد اور اقرار کی۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ان پر حجت کیسے لازم ہوگئی حالانکہ کسی کو میثاق یاد ہی نہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر دلائل واضح کردیئے اور رسولوں نے جو خبر دی ان کی تصدیق کی۔ اب اس کے بعد جو انکار کرے وہ ضدی اور عہد کو توڑنے والا ہے اس کو حجت لازم ہوگئی اور ان کے بھول جانے اور یاد نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سچے مخبر معجزات والے خبر دے چکے ہیں۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

تفسیر 173 (اوتقولوا انمآ اشرک ابآئونا من قبل وکنا ذریۃ من م بعدھم) یعنی تم سے میثاق اس لئے لیا گیا تاکہ تم یہ نہ کہو کہ شرک تو ہمارے آباء و اجداد نے کیا اور انہوں نے عہد توڑا اور ہم ان کی اولاد ان کے بعد آئے ہیں ہم نے ان کی اقتداء کی اور اس کو اپنے لئے عذر اور کہنے لگو (افتھلکنا بما فعل المبطلون) یعنی کیا آپ ہمیں ہمارے آباء کے جرم کی سزا دیں گے تو ایسی دلیلیں لانے سے ان کو فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ توحید کے میثاق کو کئی دفعہ یاد دلوا چکے ہیں۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

174 (وکذلک نفصل الایت) یعنی آیاتک وبیان کرتے ہیں تاکہ ان میں نبدے تدبر کریں (ولعلھم یرجعون) کفر سے توحید کی طرف۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

175 (واتل علیھم نبا الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطن فکان من الغوین) اس میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ” بلعم بن باعورائ “ ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” بلعام بن باعور “ عطہی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ علی بن ابی طلحہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ کنعانی لوگوں میں سے تھا جبار ین کے شہر میں سے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بلقاء شہر کا تھا۔ بلعم بن باعور کا واقعہ اس کا واقعہ ابن عباس ؓ، ابن اسحاق، سدی رحمہما اللہ و دیگر حضرات کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین سے لڑائی کا ارادہ کیا اور ملک شام میں بنی کنعان کی زمین میں پڑائو ڈالا تو وہ قوم بلعم کے پاس آئی۔ اس کے پاس اسم اعظم تھا تو یہ لوگ کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑا طاقتور بندہ ہے اور اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے۔ وہ آیا ہے تاکہ ہمیں ہمارے شہر سے نکال دے اور ہمیں قتل کر کے بنی اسرائیل کو وہاں ٹھہرا دے۔ تیری دعا قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا کر کہ وہ لوگ یہاں سے چلے جائیں تو بلعم نے کہا تم ہلاک ہو اللہ کا نبی اس کے ساتھ فرشتے اور مئومنین ہیں، میں ان پر بد دعا کیسے کرسکتا ہوں حالانکہ میں اللہ سے علم رکھتا ہوں اگر میں نے ایسا کیا تو میری دنیا اور آخرت چلی جائے گی تو وہ آ ہ وزاری کرنے لگے اور بار بار اصرار کرنے لگے تو بلعم نے کہا میں اپنے رب سے مشورہ کروں گا اور وہ تب تک دعا نہ کرتا تھا جب تک خواب میں اس کو اس دعا کا حکم نہ دیا جاتا تو اس نے ان پر بد دعا کرنے کا مشورہ کیا تو خواب میں کہا گیا کہ ان پر بد دعا نہ کرنا تو اس نے اپنی قوم کو جواب دیا کہ میں نے اللہ سے مشورہ کیا، مجھے بد دعا سے روک دیا گیا ہے تو انہوں نے ہدیہ دیا، اس نے قبول کرلیا، پھر انہوں نے وہی مطالبہ کیا تو اس نے کہا میں اپنے رب سے مشورہ کرلوں، جب مشورہ کیا تو کوئی اشارہ نہ ہوا تو اس نے کہا مجھے مشورہ میں کوئی اشارہ نہیں ہوا تو انہوں نے کہا اگر آپ کے رب کو ناپسند ہوتا آپ کا بد دعا کرنا تو جیسے پہلی مرتبہ آپ کو منع کردیا تھا ویسے ہی اب بھی منع کردیتے تو وہ گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہوگیا اور اپنی گدھی پر سوار ہو کر پہاڑ کی طرف چل پڑا کہ بنی اسرائیل کے لشکر پر جھانک سکے جب تھوڑا سا چلا تو وہ گدھی گھٹنے کے بل بیٹھ گئی۔ توبلعم اس سے اترا، اس کو مارا تو وہ کھڑی ہوگئی۔ وہ سوار ہوا تھوڑا سا چلا کر پھر گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی تو اس نے دوبارہ وہی کام کیا وہ پھر کھڑی ہوئی، ایسا کئی مرتبہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے گدھی کو بات کرنے کی اجازت دی تو اس نے کہا تیرا ناس ہو اے بلعم ! تو کہاں جا رہا ہے ؟ کیا تو فرشتوں کو میرے آگے نہیں دیکھ رہا کہ وہ مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں ؟ کیا تو مجھے لے کر اللہ کے نبی اور مئومنین پر بد دعا کرنے جا رہا ہیڈ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا تو وہ چل پڑی۔ جب وہ حسان پہاڑ پر چڑھی تو وہ ان پر بد دعا کرنے لگا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان اس کی قوم کی طرف پھیر دی کہ ان پر بد دعا کر بیٹھا اور اپنی قوم کے لئے خیر کی دعا کرنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان کو بنی اسرائیل کی طرف پھیر دیا تو اس کی قوم نے کہا اے بلعم ! تجھے پتہ ہے کہ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ تو ہم پر بد دعا اور بنی اسرائیل کے لئے دعا کر رہا ہے۔ تو وہ کہنے لگا میں اپنی زبان پر قادر نہیں رہا، اللہ تعالیٰ اس پر غالب آگئے ہیں پھر اس کی زبان باہر نکل کر سینہ پر آگئی تو اس نے کہا اب میری دنیا اور آخرت برباد ہوگئی۔ اب صرف مکر اور حیلہ باقی رہ گیا ہے۔ میں تمہارے لئے حیلہ کروں گا تم عورتوں کو خوب سنوار کر ان کو سامان بیچنے لشکر میں بھیجوا اور ان کو کہو کہ کوئی آدمی اگر کچھ کرنا چاہے تو نہ روکیں کیونکہ اگر ان میں سے ایک آدمی نے بھی زنا کیا تو تمہیں کافی ہے۔ انہوں نے ایسا کیا جب عورتیں لشکر میں گئیں تو ایک کنعانی عورت کشتی بنت صور بنی اسرائیل کے ایک بڑے آدمی زمری بن شلزم پر گزری۔ یہ شمعون بن یعقوب قبیلہ کا سردار تھا تو اس کو اسی عورت کا حسن بڑا اچھا لگا تو اس نے اس عورت کا ہاتھ پکڑا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ اس کو کہیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں یہ تجھ پر حرام ہے تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں اس بات میں آپ (علیہ السلام) کی اطاعت نہ کروں گا۔ پھر اس عورت سے زنا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون بھیج دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے خاص آدمیوں میں سے فخاص بن عیز ار بن ہارون کہیں گیا ہوا تھا وہ آیا تو طاعون کی وجہ پوچھی اور ان کے خیمہ میں گیا تو وہ دونوں مرد و عورت لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے ہتھیار سے ان کے سر اڑا دیئے اور ہتھیار پر بلند کر کے باہر لے آیا اور کہنے لگا، اے اللہ ! جو تیری نافرمانی کرے گا ہم اس کے ساتھ ایسا ہی کریں گے تو طاعون ان سے دور کردیا گیا۔ زمرے اور اس عورت کے برے کام اور فخاص کے ان کو قتلک رنے کی مدت میں بنی اسرائیل کے ستر ہزار آدمی طاعون سے مرگئے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل جو ذبیحہ کر کے ان کا دست جبر اور پہلو فیحاص کی اولاد کو دیتے تھے کیونکہ فیحاص نے زمری اور عورت کو نیزے میں پر وکرنیز ہاتھ میں اٹھا کر کہنی کو اپنے پہلو سے ٹیکا تھا اور لاشوں کو اپنے جبڑوں سے لگا کر روک رکھا تھا اور بنی اسرائیل اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھی فیحاص کی اولاد کو دیتے ہیں کیونکہ فیحاص عیزاء کا جیٹھا بیٹا تھا۔ بلعم کے بارے میں یہ آیت اتری تھی ” واتل علیھم نبأ الذی آتیناہ آیاتنا “ مقاتل کا بیان ہے کہ شاہ بلقاء نے بلعم سے کہا کہ موسیٰ کے لئے بد دعا کرو۔ بلعم نے کہا وہ میرے ہم مذہب ہیں۔ میں ان کے لئے بد دعا نہیں کروں گا۔ بادشاہ نے صلب کے تختے نصب کرائے (اور حکم دیا کہ بد دعا کرو ورنہ تم کو صلیب پر لٹکا دوں گا) بلعم نے یہ حالت دیکھی تو خچر پو سوار ہو کر بد دعا کرنے کے لئے بستی سے باہر نکلا۔ بنی اسرائیل کے لشکر کے سامنے پہنچا تو خچر رک گیا۔ بلعم نے خچر کو مارا خچر نے کہا تو مجھے کیوں مارتا ہے۔ مجھے تو حکم ہی یہ ملا ہے میرے آگے یہ آگ ہے جو مجھے چلنے سے روک رہی ہے۔ بعلم لیٹ آیا اور بادشاہ سے واقعہ بیان کردیا۔ بادشاہ نے کہا تم کو بد دعا تو کرنی ہوگی ورنہ میں صلیب پر لٹکا دوں گا۔ آخر بلعم نے اسم اعظم پڑھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بد دعا کی کہ وہ اس شہر میں داخل نہ ہوں بد دعا قبول ہوگئی اور اس کی بد دعا کی وجہ سے بنی اسرائیل تیہ میں پھنس گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار ہم کس جرم کی وجہ سے تیہ میں پھنس گئے۔ اللہ نے فرمایا بلعم کی بد دعا کیوجہ سے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار جس طرح تو نے اس کی بد دعا میرے متعلق قبول فرمائی۔ میری بد دعا اس کے متعلق بھی قبول فرمائے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بد دعا کی بلعم سے اسم اعظم اور ایمان چھن لیا جائے۔ موسیٰ کی بد دعا سے اس کی معرفت سلب کرلی اور ایمان اس طرح کھینچ لیا ۔ جیسے بکری کی کھال کھینچ لی جاتی ہے۔ سفید کبوتر کی شکل میں ایک صورت اس کے اندر سے نکل گئی۔ آیت فانسلخ منھا سے یہی مراد ہے۔