5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت (تم مسلمانوں میں) سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر مسلمان نہ ملیں اور جب تم سفر کر رہے ہو اور اس وقت تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو شخصوں کو گواہ کرلو اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو عصر کی نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ بھی عوض نہ لیں گے گوہ ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے اور اگر ایسا کرینگے تو گناہ گار ہونگے

آیت نمبر 106 تفسیر : (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اے ایمان والو ! گواہ درمیان تمہارے) یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم کا شان نزول اس آیت کا شان نزول وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ تمیم بن اوس واری اور عدی بن زید مدینہ سے تجارت کے لیے شام کی طرف گئے ، یہ دونوں نصرانی تھے اور ان دونوں کے ساتھ عمرو بن عاص ؓ کے مولیٰ بدیل تھے جو کہ مسلمان ہوچکے تھے۔ شام پہنچ کر حضرت بدیل ؓ بیمار ہگئے تو انہوں نے ایک خط میں اپنے تمام سامان کی تفصیل لکھ کر اس کو تھیلے میں ڈال دیا اور اپنے دونوں ہم سفروں کو اس بات کی خبر نہیں کی۔ جب مرض نے شدت پکڑی تو حضرت بدیل ؓ نے تمیم اور عدی کو وصیت کی کہ ان کا سامان ان کے گھر والوں کو واپس جا کر دے دیں اور حضرت بدیل ؓ انتقال کرگئے ان دونوں نے سامان کی تلاشی لی اور اس میں سے چاندی کا ایک برتن ملا جس پر سونے کے نقش و نگار تھے ۔ اس برتن میں تین سو مقال چاندی تھی۔ انہوں نے وہ چھپالی اور اپنی تجارتی ضرورت پوری کرکے واپس مدینہ جاکر سامان ان کے گھر والوں کو دے دیا انہوں نے تلاشی لی تو اس میں وہ خط مل گیا جس میں سامان کی تفصیل تھی تو وہ لوگ تمیم اور عدی کے پاس آئے اور کہنے لگے کیا بدیل نے اپنے سامان میں سے کوئی چیز بیچی تھی ؟ ان دونوں نے کہا نہیں ۔ انہوں نے کہا کیا کوئی تجارت کی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا مرض اتنا لمبا ہوا تھا کہ اپنے مال میں سے کچھ مرض پر خرچ کیا ہو ؟ ان دونوں نے جواب دیا نہیں تو گھر والے کہنے لگے ہمیں ان کے سامان میں ایک خط ملا ہے جس میں سامان کی تفصیل ہے لیکن اس سامان میں سے چاندی کا ایک برتن جس پر سونے کے نقش و نگار ہیں اور اس میں تین سو مثقال چاندی تھی وہ نہیں ہے تو وہ دونوں کہنے لگے اس برتن کا ہمیں علم نہیں ہمیں انہوں نے سامان پہنچانے کی وصیت کی تھی وہ ہم نے کردیا۔ اس برتن کا علم نہیں تو یہ لوگ یہ جھگڑا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئے وہ دونوں نصرا انی انکار پر ڈٹ گئے اور قسم کھالی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ (یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا خضرا حدکم الموت حین الوصیۃ اے ایمان والو ! گواہ درمیان تمہارے جبکہ پہنچے کسی کو تم میں موت وصیت کے وقت دو شخص معتبر ہونے چاہئیں) یعنی چاہیے کہ وہ شخص گواہی دیں اس کے الفاظ خبر کے ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے امر ہے اور کہا گیا ہے کہ بیشک آیت کا معنی یہ کہ تمہارے درمیان وصیت پر گواہی موت کے وقت دو آدمی ہیں۔ ان دو آدمیوں کی تعیین میں اختلاف ہے۔ ایک قوم نے کہا کہ وہ دو گواہ مراد ہیں جو موصی کی وصیت پر گواہی دیں اور دیگرحضرات نے کہا کہ خود وصی مراد ہیں اس لیے کہ آیت دو وصی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس لیے کہ آگے فرمایا ( کہ کھڑا کرو ان دونوں کو نماز کے بعدوہ دونوں قسم کھائیں) اور گواہ پر قسم لازم نہیں ہوتی اور وصی کو دو بنانا تاکید کے لیے ہے۔ اس صورت میں شہادت حاضر ہونے کے معنی میں ہوگی۔ ( ذواعدل منکم تم میں سے ) یعنی اے مومنو ! تمہارے گروہ میں سے (او اخرن من غیر کم یا دو گواہ اور ہوں تمہارے سوا) یعنی تمہارے دین اور ملت کے علاوہ سے۔ یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ اسی کے ابن عباس اور ابو موسیٰ اشعری ؓ قائل ہیں۔ شعبی (رح) سے روایت ہے کہ ایک مسلمان شخص دقوق علاقہ میں مرگیا اور کوئی مسلمان اپنی وصیت پر گواہ بنانے کے لیے نہ ملا تو اس نے اہل کتاب کے دو آدمیوں کو گواہ بنادیا، وہ دونوں اس کا ترکہک لے کر کوفہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس آئے اور اس کی وصیت اور ترکہ کے بارے میں ان کو بتایا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرمنے لگے کہ یہ ایسا معاملہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ والے معاملہ کے بعد نہیں ہوا تو ان دونوں سے قسمیں اٹھوائیں اور ان کی گواہی کو جاری کردیا ا ور دیگر حضرات نے فرمایا کہ ” ذوا عدل منکم “ کا مطلب یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کے خاندان یا قبیلے کے لوگ یا اس کے خاندان اور قبیلے کے علاوہ دو لوگ گواہ ہوں اور یہی حسن ، زہری اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور یہ حضرات فرماتے ہیں کہ کافر کی گواہی کسی حکم میں بھی جائز نہیں ہے۔ ( ان انتم ضربتم فی الارض فاضباتکم مصیبۃ الموت اگر تم نے سفر کیا ہو زمین میں پھر پہنچے تم کو مصیب موت کی) پھر تم نے ان دونوں کو وصیت کی ہو اور اپنا مال ان کو دے دیا ہو اور ان دونوں پر تمہارے بعض وارث خیانت کی تہمت لگائیں تو اس میں حکم یہ ہے کہ (تحبسو نھمامن م بعد الصلوٰۃ کھڑا کرو ان دونوں کو بعد نماز کے) اور ” من صلۃ “ ہے۔ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔ یہی شعبی ، نجعی ، سعید بن جبیر، قتادہ اور اکثر مفسرین رحمہما اللہ کا قول ہے اس لیے کہ تمام دین والے اس وقت کی تعظیم کرتے ہیں اور اس میں جھوٹی قسم سے بچتے ہیں۔ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے دین والوں کی نماز کے بع کا وقت مراد ہے کیونکہ وہ کافر لوگ عصر کی نماز کی پرواہ نہیں کرتے ( فیقسمن باللہ ان ارتبتم وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی اگر تم کو شبہ پڑے) یعنی اگر تمہیں ان گواہوں کے قول اور سچائی میں شک ہو جو تمہارے دین والے نہیں تو ایسا کرو لیکن اگر گواہ مسلمان ہوں تو ان پر قسم نہیں ہے۔ ( لانتشری ثمنا کہیں کہ ہم نہیں لیتے قسم کے بدلے مال) یعنی ہم اللہ کی جھوٹی قسم نہیں کھا رہے کہ اس کے بدلے کوئی عوض یا مال ہم حاصل کریں یا حق کا انکار کریں۔ (ولو کان ذاقربی اگرچہ کسی کو ہم سے قرابت بھی ہو) اگرچہ جس کے حق میں گواہی دی گئی ہے وہ ہمارا قریبی رشتہ دار ہو۔ ( ولا نکتم شھادۃ اللہ اور ہم نہیں چھپاتے اللہ کی گواہی ) یہاں گواہی کی نسبت اللہ کی طرف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس گواہی کے دینے کا حکم دیا ہے اور اس کے چھپانے کو منع کی ہے۔ (انا اذا لمن الاثمین نہیں تو ہم بیشک گناہ کار ہیں) یعنی اگر ہم نے اس کو چھپایا تو ہم گناہ گاروں میں ہوجائیں گے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور تمیم اور عدی کو بلاکر منبر کے پاس ان الفاظ سے قسم اٹھوائی کہ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ان دونوں نے کوئی خیانت نہیں کی اس چیز میں جو ان کو دی گئی انہوں نے اس پر قسم اٹھائی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ پھر برتن ظاہر ہوگیا اور اس کے ظاہر ہونے کے طریقے میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ سے سعید بن جبیر ؓ نے روایت کیا ہے کہ وہ برتن مکہ میں پایا گیا، ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ جب کافی عرصہ گزر گیا تو انہوں نے اس برتن کو ظاہر کیا تو بنو سھم ان کے پاس پہنچے کہ یہ کہں سے آیا ؟ ان دونوں نے کہا کہ یہ ہم نے حضرت بدل ؓ سے خریدا تھا تو انہوں نے کہا کہ تم نے کہا تھا کہ بدیل نے اپنے سامان میں سے کوئی چیز نہیں بیچی تھی تو وہ دونوں کہنے لگے کہ اس خریداری پر ہمارے پاس گواہی نہیں تھی تو ہم نے تمہارے سامنے اقرر کرنا نامناسب سمجھا۔ اس لیے چھپالیا تو یہ حضرات ان دونوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 5:107–108

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹ بول کر گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں ان کی جگہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت سے قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت سچی ہے۔ اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح گواہی دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں اب کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کی حکموں کو گوش وہوش سے سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت نمبر 108, 107 تفسیر : (فان عثیر ان کی خیانت پر مطلع ہوجائو۔ عشورکا اصل معنی کسی شے پر گرنا ہے ( علی الھما) یعنی وصی (سنحفا اثما) اپنی خیانت اور جھوٹی گواہی کی وجہ سے گناہ کے مستحق ہوئے ( فاخرن) میت کے اولیاء میں سے (یقومن مقامھمامن الذین استحق) ان میں سے کہ جن کا حق وبا ہے۔ میں اکثر حضرات کی قرأت تاء کے پیش کیساتھ مجہول کے صیغہ پر ہے اور علیٰ بمعنی فی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” علی ملک سلیمان “ یعنی سلیمان کے ملک میں اور حفص نے ” استحق “ پڑھا ہے تاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ اور یہی علی اور حسن رحمہما اللہ کی قرأت ہے یعنی ان پر گناہ ثابت ہوگیا۔ ( علیھم الاولین جو سب سے زیادہ قریب ہوں میت کے) یہ آخر ان کی صفت ہے۔ یعنی دوسرے دومیت کے قریبی رشتہ دار آخر ان نکرہ ہے اور اولیان معروفہ یہ اس وجہ سے ٹھیک ہ کے کہ آخر ان معنی کے اعتبار سے معرفہ کی طرح ہے کیونکہ اس کے بعد ” من الذین “ کا لفظ ہے۔ اولیان اولیٰ کا تثنیہ ہے۔ اس کا معنی قریب ترین۔ حمزہ، ابوبکر نے عاصم اور یعقوب سے ” الاولین “ پڑھا ہے جمع کا صیغہ بنا کر تو یہ اس صورت میں ” الذین “ سے بدل ہوگا اور اس جمع سے بھی مراد میت کے اولیاء ہی ہوں گے اور آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جب قسم اٹھانے والوں کی خیانت ظاہر ہو تو میت کے قریبی رشتہ داروں میں سے دو آدمی کھڑے ہوں ( فیقسمن باللہ لشھادتنا احق من شھادتھما) یعنی ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ حق ہے۔ ( وما اغتدینا) اپنی قسموں میں (انا اذا لمن الظلمین) جب یہ آیت نازل ہوئی تو عمرو بن عاص اور مطلب بن ابی وداعۃ ؓ دونوں حصہ دار کھڑے ہوئے اور عصر کے بعد قسم اٹھائی تو برتن ان حضرات کو اور میت کے اولیاء کو دے دیا گیا۔ حضرت میم داری ؓ اسلام لانے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا میں نے برتن چھپایا تھا ، میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ یہاں قسم اولیاء کی طرف اس وجہ سے منتقل ہوئی کہ ان دونوں وصی حضرات نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے اس کو خریدا ہے اور وصی جب میت کے مال سے کوئی چیز لے اور کہے اس چیز کی میت نے میرے لیے وصیت کی ہے تو انکار کی صورت میں وارث سے قسم لی جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی کسی کے قبضہ میں موجود سامان کا دعویٰ کرے کہ یہ میرا ہے اور وہ شخص اقرار کرلے کہ اس کا تھا لیکن میں نے اس سے خرید لیا تھا تو مدعی سے قسم لی جائے گی کہ اس نے یہ چیز اس کو نہیں بیچی تھی۔ ابن عباس ؓ سے تمیم داری ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ خود فرماتے تھے کہ ہم نے اس برتن کو ہزار درہم کے بدلے میں بیچا تھا اور میں نے اور عدی نے اس کو تقسیم کرلیا۔ پھر جب میں اسلام لایا تو اس کو گناہ سمجھا اور میت کے رشتہ داروں کے بدلے میں بیچا تھا اور میں نے اور عدی نے اس کو تقسیم کرلیا۔ پھر جب میں اسلام لایا تو اس کو گناہ سمجھا اور میت کے رشتہ داروں کے پاس آیا اور ان کو خبر دی کہ اتنا ہی مال میرے ساتھی کے پاس بھی ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عمرو اور مطلب ؓ نے قسم اٹھائی تو عدی سے پانچ سو درہم لیا گیا اور میں نے بھی پانچ سو درہم واپس کردیا۔ (ذلک ادنی ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا) یہ جو ہم نے دوبارہ قسم اٹھوانے کا فیصلہ کیا ہے یہ زیادہ مناسب ہے کہ وصی اور تمام لوگ ٹھیک طرح گواہی دیں گے یعنی یہ واقعہ کے مطابق گواہی دینے کا زیادہ قریب طریقہ ہے۔ اویخافو ان تردد ایمان م بعد ایمانھم یعنی یہ یزادہ قریب ہے کہ وہ ڈریں قسم کے الٹا پڑنے سے مدعی پر کیونکہ جب وہ لوگ ان کی قسم کے بعد قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے خیانت کی اور جھوٹ بولا تو یہ رسوا بھی ہوں گے اور تاوان بھی دینا پڑے گا تو اس ڈر سے جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ( واتقواللہ) جھوٹی قسم کھانے اور خیانت کرنے سے (واسمعوا) نصیحت کو (واللہ لایھدی القوم الفسقین)
Ayahs 5:109–110

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب خدا عیسیٰ سے فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کروں جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے۔ جب میں روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی طریق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی۔ اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کردیتے تھے اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا۔ جب انکے پاس کھلے ہوئے نشان لیکر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

آیت نمبر 110, 109 تفسیر : (یوم یجمع اللہ الرسل) اور وہ قیامت کا دن (فیقول) ان پیغمبروں کو (ماذا اجبتم) یعنی تمہاری امت نے تمہیں کیا جواب دیا تھا اور جب تم نے ان کو میری توحید اور اطاعت کی طرف بلایا تو تمہاری قوم نے کیا جواب دیا ؟ (قالو الا علم لنا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو علم ہے آپ کو اس سے زیادہ علم ہے اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سوال کی حکمت معلوم نہیں کیونکہ آپ کو تو اس کا ہم سے زیادہ علم ہے اور ابن جریج کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہمارے بعد انہوں نے دین میں کیا باتیں ایجاد کیں اور ان کا نجام کیا ہوا اس کا ہمیں علم نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انک انت علام العیوب) یعنی آپ ہی پوشیدہ اور غیب کا علم رکھتے ہیں ہم تو صرف مشاہدہ کا علم رکھتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے لوگ حوض پر آئیں گے حتیٰ کہ میں ان کو پہچان لوں گا لیکن وہ مجھ سے دور روک دیئے جائیں گے تو میں کہوں گا میرے ساتھی تو کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں گھڑ لی تھیں۔ ابن عباس ؓ ، حسن ، مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کی بڑی ہولناکیاں اور جھٹکے ہیں کہ ان میں دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے تو اس ہولناکی کی وجہ سے جواب دینا بھول جائیں گے پھر جب حواس واپس آجائیں گے تو اپنی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ (اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک) حسن (رح) فرماتے ہیں کہ نعمت کے ذکر سے اس کا شکر کرنا مراد ہے اور آیت میں ” نعمتی مفرد “ لفظ کے اعتبار سے واح ہے لیکن معنی جمع کا ہے کہ میرے احسانات کا شکر کریں ( وعلی والدتک) پھر آگے نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (اذ ایدتک بروح القدس) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) سے ( تکلم الناس فی المھد وکھلا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تیس سال کی عمر میں رسول بنایا اور تیس سال رسالت کے بعد وہ دنیا میں رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اپنی طرف زندہ اٹھالیا (واذ علمعک الکتب) لکھنا (والحکمۃ) یعنی علم اور سمجھ ( والتورۃ والا نجیل واذ تخلق من الطین کھتۃ الطیر باذنی طتفخ فیھا) یعنی زندہ ہوکر اڑ جاتا ( لفکون ظیرام باذنی) تندرست کرتے تھے ( وتری الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتی) ان کی قبروں سے زدہ کرکے (باذنی واز کففت بنی اسرآیل عنک) جب انہوں نے آپ (علیہ السلام) کے قتل کا پختہ ارادہ کرلیا ( اذ جنتھم بالبینت) یعنی معجزات اور واضح نشایاں جو ابھی ذکر ہوئیں آیت میں (فقال الذین کفروا منھم ان ھذا الا سحر مبین) یعنی جو نشانیاں عیسیٰ (علیہ السلام) لائے۔ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” ساحرمبین “ پڑھا ہے۔ یہاں بھی اور سورة ہود اور صف میں بھی تو اس صورت میں یہاں ساحر کا لفظ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹے گا اور سورة ہود میں محمد ﷺ کی طرف۔
Ayahs 5:111–112

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔

آیت نمبر 112, 111 تفسیر : (واذا او حیت الی الحوارین) یعنی ان کو الہام کیا اور ان کے دل میں ڈال دیا اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا حکم دیا اور ” الی صلۃ “ ہے اور حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص ساتھی کو کہتے ہیں۔ (ان امنوا بی وبرسولی) رسول سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) پر (قالوا) جب میں نے ان کو توفیق دی (امنا واشھد بافنا مسلمون) ۔ (اذ قال الحواریون یعیسیٰ ابن مریم ھل یستطیع) کسائی (رح) نے ” ھل تستطیع “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ” ربک “ کو باء کے زبر کے ساتھ اور یہی حضرت علی ؓ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ابن عباس ؓ ، مجاہد (رح) کی قرأت ہے یعنی کیا آپ کو یہ طاقت ہے کہ اپنے رب سے دعا اور سوال کریں اور دیگر حضرات نے ” یستطیع “ کو یاء کے ساتھ اور ” ربک “ کو باء کے پیش کے ساتھ پڑا ہے اور یہ لوگ اللہ کی قدرت میں شک کرنے والے نہیں تھے بلکہ معنی یہ ہے کیا آپ کے رب ایسا دستر خوان اتاریں گے یا نہیں ؟ جیسے آدمی اپنے دوست کو کہتا ہے کہ کیا تو یہ طاقت رکھتا ہے کہ میرے ساتھ کھڑا ہو ؟ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کام کی طاقت رکھتا ہے۔ صرف یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ یہ کام تو کرے گا یا نہیں ؟ اور بعض نے کہا کہ ” یستطیع “ مطیع کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا کہ اطاع اور استطاع کے ایک ہی معنی ہیں ۔ جیسے اجاب اور استجاب کے۔ نزول مائدہ کے متعلق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا سوال اب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کا رب آپ (علیہ السلام) کے سوال کو قبول کرکے آپ کی اطاعت کرے گا ؟ اور آثار میں بھی ہے کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کرے اللہ اس کی اطاعت کرتا ہے اور بعض مفسرین نے آیت کا ظاہری معنی ہی مراد لیا ہے کہ اس قوم سے غلطی سے یہ بات ہوگئی تھی ابھی اللہ تعالیٰ کی معرفت مستحکم نہ ہوئی تھی تو بشریت سے یہ غلطی ہوگئی تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی اس غلطی کے وقت اس قول کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے فرمایا یعنی اس کی قدرت میں شک نہ کرو ( ان ینزل علینا مائدہ من السماء ) مائدہ وہ دسترخوان جس پر کھانا ہو۔ یہ فاعلۃ کے وزن پر ہے۔ ؟؟ مادہ بعیدۃ “ سے یہ بولا جاتا ہے جب کوئی کسی کو کھانا دے اور اس کو کھلا دے اور مائدہ کھانے والوں کو کھانے کی دعوت کو کہتے ہیں اور مجازاً کھانے کو بھی مائدۃ کہہ دیتے ہیں کیونکہ وہ بھی دستر خوان پر کھایا جاتا ہے۔ اہل کوفہ کہتے ہیں اس کا نام مائدہ رکھا گیا کیونکہ یہ کھانے والوں پر مائل ہوتا ہے اور اہل بصرہ کہتے ہیں فاعلۃ کا وزن تو مفعولۃ کے معنی میں ہے۔ یعنی اس کو کھانے والوں کی طرف مائل کیا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان (عیشۃ راضیۃ) یعنی پسندیدہ ہے۔ (قال) عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو جواب میں ( اتقوا اللہ ان کنتم مومنین) تو اس کی قدرت میں شک نہ کرو اور کہا گیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرو اس چیز کے مانگنے سے تو تم سے پہلے کی امتوں نے نہیں مانگی تو ان کو ایمان لانے کے بعد نشانیوں کا مطالبہ کرنے سے منع کردیا۔
Ayahs 5:113–115

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ تم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے (سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

تب عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کیلئے۔ اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

آیت نمبر 115, 114, 113 تفسیر : (قالوا نرید) یعنی ہم نے یہ سوال اس وجہ سے کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ (ان نکل منھا) بطور تبرک نہ کہ ضرورت کی وجہ سے تاکہ اللہ کی قدرت کا یقین ہوجائے ( وتطمین (پر سکون ہوجائیں) قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں یعنی ہمارا ایمان و یقین بڑھ جائے اور بعض نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ تیس دن روزے رکھیں جب وہ ان کے بعد افطار کریں گے تو اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا تو انہوں نے تیس دن بعد مائدہ کا سوال کیا اور کہنے لگے کہ ہم جان لیں کہ آپ اپنے اس قول میں سچے تھے کہ تس روزوں کے بعد جو کچھ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے وہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیں گے ( وتکون علیھا من الشھدین) اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر اور آپ کی رسالت اور نبوت پر اور کہا گیا ہے کہ اور رہیں ہم گواہ آپ کے بنی اسرائیل کے سامنے جب ہم ان کی طرف لوٹیں گے۔ (قال عیسیٰ ابن مریم) اس وقت (اللھم ربنا انزل علینا مائدہ من السمائ) بعض حضرات نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے غسل کیا اور ٹاٹ کا لباس پہنا اور دو رکعت نماز پڑھی اور اپنا سرجھکا لیا اور آنکھیں پست کرلیں اور روتے ہوئے یہ دعا کی (تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا) یعنی ہم پ لوٹے اللہ کی طرف سے حجت اور واضح نشانی بن کر اور عید خوشی کے دن کو کہتے ہیں۔ اس دن کو عید اس وجہ سے کہتے ہیں کہ رنج سے خوشی کی طرف لوٹتا ہے اور یوم الفطر اور یوم الاضحی کو عید اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ ہر سال میں لوٹ کر آتے ہیں۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جس دن میں یہ اترے گا ہم اس کو عید بنالیں گے اور ہم اور ہمارے بعد والے لوگ اس دن کی تعظیم کریں گے اور سفیان (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ہم اس دن میں نماز پڑھیں گے۔ ” لاولنا “ سے مراد اس زمانے کے لوگ اور ” آخرنا “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان کے بعد آئیں گے۔ (وایتہ منک) جو آپ کیلئے دلالت اور حجت ہو ( وارفنا وانت خیرً الرزقین) (قال اللہ) عیسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیتے ہوئے (انی منزلھا علیکم) الہ مدینہ، ابن عامر اور عاصم نے ” منزلھا “ کو شد کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ کئی مرتبہ اتارا گیا تھا اور باب قلعیل تکرار پر دلالت کرتا ہے اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ (فمن یکفر بعد منکم) خوان کے اترنے کے بعد ( فانی اعلہۃ عذاباً لااعلمۃ احدًا من العلمین) اس زمانہ کے لوگوں کو تو انہوں نے خوان کا انکار اور ناشکری کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کی شکلیں بگاڑ کر بندر اور خنزیر بنادیا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سخت ترین عذاب منافقین اور اصحاب مائدہ میں سے کافروں اور آل فرعون کو ہوگا۔ نزول مائدہ کا واقعہ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا یا نہیں ؟ مجاہد اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے خوان کے انکار پر وعید بیان کی تو لوگوں کو خوف ہوا کہ کہیں ہم میں سے بعض لوگ کافر نہ ہوجائیں اس لیے وہ لوگ باز آگئے اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے تو وہ نہیں اتارا گیا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم سوال کرو گے تو یہ اور صحیح قول جس کی طرف اکثر مفسرین گئے ہیں یہ ہے کہ مائدہ اتارا گیا تھا کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اور اللہ تعالیٰ اپنی خبر کے خلاف نہیں کرتے اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین سے متواتر خبریں موجودہیں۔ پھر اس مائدہ کی کیفیت میں اختلاف ہوا ہے تو خلاس بن عمرو نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے ک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں گوشت روٹی اترتے تھے اور ان کو کہا گیا تھا کہ جب تک تم خیانت نہ کرو اور اس میں سے کچھ نہ چھپائو تو تم پر اترتا رہے گا لیکن ایک دن بھی نہ گزرا کہ انہوں نے خیانت کی اور چھپالیا تو ان کی شکلیں بگڑ کر بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا تھا کہ تیس دن روزے رکھو پھر اللہ تعالیٰ سے جو چاہو مانگو تمہیں دے گا تو انہوں نے روزے رکھے اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! اگر ہم کسی کے لیے کام کرتے تو وہ میں کھانا نہ کھلاتا ؟ اور اللہ تعالیٰ سے مائدہ کا سوال کیا تر فرشتے مائدہ لائے اس پر سات روٹیاں اور سات مچھلیاں تھیں وہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو اس سے تمام لوگوں نے سیر ہوکر کھایا۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ مائدہ منکوس شکل میں لایا گیا۔ اس کو فرشتے آسمان و زمین کے درمیان اڑا کرلے آئے اس پر گوشت کے علاوہ تمام کھانے تھے اور سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مائدہ پر ہر چیز اتاری گئی سوائے روٹی اور گوشت کے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر جنت کے پھل تھے اور عطیہ عوفی (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان سے مچھلی اتاری گئی جس میں ہر چیز کا ذائقہ تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر روٹی، حاول اور سبزی تھی اور ہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنو کی روٹیاں اور مچھلیاں اتاریں اور یہ لوگ باری باری کھاتے رہے یہاں تک کہ سب کا پیٹ بھر گیا اور کھانا بچ گیا اور کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ روٹیاں اور مچھلی اتاری تو انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا اور وہ لوگ ایک ہزار سے زائد تھے جب وہ اپنی بستیوں کی طرف لوٹے اور یہ باتیں بتلائیں تو جو لوگوہاں نہیں گئے تھے وہ ہنسنے لگے اور کہنے لگے تمہارا ناس ہو تمہاری آنکھوں پر جادو کیا گیا ہوگا۔ پس جن لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا تھا ان کو اپنی بصیرت پر قائم رکھا اور جن کی آزمائش کا ارادہ کیا وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے اور شکلیں بگاڑ کر خنزیر بنا دیئے گئے۔ ان میں کوئی بچہ اور عورت نہ تھی۔ تین دن اسی حالت میں رہے پھر ہلاک ہوگئے۔ آگے نہ ان کی نسل چلی اور نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ اسی طرح ہر مسخ شدہ قوم کی آگے نسل چلی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مائدہ صبح ، شام وہ جہاں ہوتے وہیں اترتا جیسے بنی اسرائیل کے لیے من وسلویٰ اترتا تھا۔ عطاء بن ابی رباح (رح) نے سلمان فارسی ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب حواریوں نے مائدہ کا سوال کیا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اون کا لباس پہنا اور رونے لگے اور دعا کی تو سرخ چمڑے کا دستر خوان آسمان سے اترا جس کے اوپر اور نیچے بادل تھا، لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور وہ آہستہ سے نیچے اتر رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے سامنے بچھ گیا تو عیسیٰ (علیہ السلام) رو پڑے اور فرمانے لگے اے اللہ ! مجھے شکر گزار بندوں میں بنا۔ اے اللہ ! اس کو رحمت بنا سزا نہ بنا اور یہود وہ کھانے دیکھ رہے تھے انہوں نے نہ ان جیسے کھانے پہلے دیکھے نہ ایسی عمہ خوشبو پہلے کبھی سونگھی تھی تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میں سے اچھے اعمال والا کھڑا ہو اور اس کو کھولے اور اللہ کا نام لے تو حواریوں کے سردار شمعون صفار کہنے لگے کہ اس کام کے ہم سے زیادہ آپ لائق ہیں تو عیسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہوئے ، وضو کیا اور بہت لمبی نماز پڑھی اور بہت زیادہ روئے اور پھر کھانے پر سے رومال ہٹا لیا اور فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ جو بہتر رزق دینے والا ہے۔ جب کھولا تو وہ بھنی ہوئی مچھلی تھی نہ اس کے سفنے تھے اور نہ کانٹے اس کے سر کی طرف نمک اور دم کی طرف سر کہ تھا۔ اس کے ارد گرد سبزیوں کی اقسام تھیں گندنے کے علاوہ اور پانچ روٹیاں تھیں یک پر زیتون دوسری پر شہد، تیسری پر گھی اور چوتھی پر پنیر اور پانچویں پر خشک گوشت کے ٹکڑے تو شمعون نے سوال کیا اے روح اللہ ! (علیہ السلام) یہ دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا آخرت کے کھانوں میں سے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو نہ دنیا کے کھانوں میں سے ہے نہ آخرت کے کھانوں میں سے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی غالب قدرت سے وجود دیا ہے۔ کھائو اس سے جو اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تم کو اپنے فضل سے زیادہ دے۔ تو وہ کہنے لگے اے روح اللہ ! آپ (علیہ السلام) اس کھانے کی ابتداء کریں تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں اس کو کھائوں جس نے سوال کیا ہے وہ خود کھائے تو وہ لوگ ڈر گئے تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فاقہ کش لوگوں اور مریضوں اور برص اور جزام والے لوگوں اور اپاہجوں کو بلایا اور کہا اللہ کے رزق سے کھائو تمہارے لیے نعمت ہے اور تمہارے علاوہ کے لیے آزمائش ہے تو ان لوگوں نے کھایا اور تیرہ سو مردو عورت جن میں فقیر، مریض وغیرہ بھی تھے سیر ہوگئے اور مچھلی ویسی رہی جیسے نازل ہوئی تھی۔ پھر مائدہ آسمان کی طرف اڑا وہ لوگ اس کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ پردہ میں چھپ گیا۔ اس سے جس مریض اور اپاہج نے کھایا تھا وہ تندرست ہوگیا اور جس فقیر نے کھایا غنی ہوگیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا وہ نادم ہوئے۔ یہ خوان چالیس دن چاشت کے وقت اترتا رہا۔ جب یہ اترتا تو غنی، فقیر، بچے ، بڑے مردو عورت سب جمع ہوجاتے اور اس سے کھاتے لیکن جب سایہ لوٹتا تو یہ اڑ جاتا ۔ یہ دستر خوان ایک دن چھوڑ کر اتارتا جس طرح قوم ثمود کی اونٹنی ایک دن چھوڑ کر دودھ دیتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ میرے دستر خوان کو فقراء کے ساتھ خاص کردیں، اغنیاء کو نہ کھانے دیں۔ یہ بات مال داروں کو ناگوار گزری اور خود بھی شک میں مبتلا ہوئے اور لوگوں کو شک میں ڈالنے لگے اور کہنے لگے کہ کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ دستر خوان حق ہے جو آسمان سے اترتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ میں نے یہ شرط کی تھی کہ جو شخص دستر خوان کے اترنے کے بعد انکار کرے گا میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جیسا جہاں والوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا (اگر آپ ان کو عذا بدو تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ معاف کردیں تو بیشک آپ غالب حکمت والے ہیں) تو ان میں سے تین سو تینتیس کی شکل بگاڑ دی گئی وہ رات کو اپنی بیویوں کے ساتھ سوئے تھے صبح کو سور بن کر گلیوں اور گندگیوں میں دوڑتے پھرتے تھے اور گندگی کھاتے پھرتے تھے۔ جب لوگوں نے یہ معاملہ دیکھا تو گھبرا کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے اور رونے لگے اور ان خنزیروں نے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو یہ بھی رونے لگے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے اردگرد چکر لگانے لگے عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ہر ایک کا نام لے کر پکارتے تھے تو وہ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے اور روتے تھے لیکن بات کرنے پر قادر تھے تین دن بعد ہلاک ہوگئے۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو ؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا۔ (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علامّ الغیوب ہے۔

آیت نمبر 116 تفسیر : (واذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ) اذقال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم والا قول کب ہوا مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ قول کب ہوگا ؟ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھایا اس وقت یہ کہا کیونکہ ” اذ “ ماضی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور تمام مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہیں گے کیونکہ آگے اللہ تعالیٰ نے کہا ( یوم یجمع اللہ الرسل) اور اس کے بعد کہا ( یوم ینفع الصادقین) تو ان دو سے بالاتفاق قیامت کا دن مراد ہے تو یہاں بھی ایسے ہے اور ” اذ “ کھی ” اذا “ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے آیت کریمہ ” ولو تری اذ فزعوا “ میں ” اذا “ کے معنی میں ہے اور قیامت کا ہونا کیونکہ یقینی ہے اس لیے اس کو ماضی کے ساتھ ذکر کردیا جاتا ہے۔ (انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ) اس سوال کا مقصد عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو ڈرانا ہے جیسا کہ کوئی شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ کیا تونے یہ یہ کام کیا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہک اس نے یہ کام نہیں کیا لیکن صرف اطلاع دینے اور اس کام کے بہت بڑے ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے کہت ہے اس سے استفہام مقصود نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خود عہدیت کا اقرار کریں تو ان کی قوم یہ بات سن لے اور ان ک جھوٹا ہونا ظاہر ہوجائے۔ اس بات میں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اس حکم دیا تھا۔ ابو روق کہتے ہیں کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس خطاب کو سنا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور جسم کے ہر بال سے خون کے آنسو نکل پڑے اور اللہ تعالیٰ کو جواب میں عرض کیا۔ ( قال سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ط ان کنت فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ میرے غیب کو جانتے ہیں میں آپ کے غیب کو نہیں جانتا اور کہا گیا ہے کہ آپ میرے راز کو جانتے ہیں اور میں آپ کے راز کو نہیں جانتا اور ابوروق کہتے ہیں کہ آپ جو کچھ مجھ سے دنیا میں ہوا اس کو جانتے ہیں اور میں جو کچھ آخرت میں آپ سے ہوگا اس کو نہیں جانتا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نفس نام ہے مکمل چیز اور اس کی حقیقت کا۔ یعنی آپ تو میرے معاملہ کی حقیقت کو جنتے ہیں اور میں آپ کے معاملہ کی حقیقت نہیں جانتا۔ ( انک انت علام العیوب) جو ہوچکا اور جو آئندہ ہوگا۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت اور جو میرے تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا۔ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا۔ اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔

آیت نمبر 117 تفسیر :( ماقلت نھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم) تنہا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو (وکنت علیھم شھیدًا مدمت فیھم فلماً توفیتی) اپنی طرف اٹھا لیا (کنت انت الرقیب علیھم) ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ( وانت علی کل شیء شہید)
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انکو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بیشک تو غالب (اور) حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 118 تفسیر : (ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم) شبہ اور اس کا ازالہ اگر یہ اعتراض ہو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے کافر ہونے ک باوجود ان کی مغفرت کا مطالبہ کیسے کردیا۔ جواب 1 ۔ مطلب یہ ہے ہے کہ اگر کفر پر قائم ہونے کی حالت میں عذاب دے اور اگر ایمان لانے کے بعد ان کی مغفرت کردے۔ یہ جواب سدی (رح) کے قول پر درست ہے کہ یہ سوال قیامت کے دن سے پہلے ہوچکا کیونکہ قیامت میں ایمان نفع نہ دے گا۔ جواب 2 ۔ یہ دیا گیا کہ یہ قول دو جماعتوں کے متعلق ہے اگر ان میں سے کافروں کو آپ عذاب دیں اور مغفرت کریں ان کی جو ان میں سے ایمان لائے اور کہا گیا ہے کہ یہ مغفرت کو طلب کرنے کے لیے نہیں کہا گیا اگر اس طرح ہوتا تو یوں کہتے ” انت الغفورالرحیم “ لیکن یہ تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم پر سر جھکانیخ اور معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کے لیے کہا ہے اور دوسرا سوال تو ابن مسعود ؓ اس کو ” ان تغفرلھم فانک انت الغفور لھم فانک انت الغفور الرحیم “ پڑھتے تھے اور ان کے مصحف میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور مشہور قرأت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت یوں ہے ” ان تغفرلھم فانھم عبادک وان تعذبھم فانک انت العزیز حکیم “ اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ اگر آپ ان کو عذاب دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ ان کی مغفرت کریں تو آپ اپنے ملک میں غالب اور اپنے فیصلہ میں حکیم ہیں۔ آپ کی عزت میں سے کچھ کم نہ ہوگا اور آپ کے حکم سے کوئی چیز خارج نہیں ہے اور آپ کی حکمت ، مغفرت وسعت رحمت میں کفار داخل ہوں گے لیکن آپ نے خبر دی کہ کفار کی مغفرت نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی خبر کیخلاف نہیں کرتے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا فرمان ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں تلاوت کیا ( رب انھن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی) اے میرے رب ، بیشک ان لوگوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا، پس جو میرے پیچھے چلا پس بیشک وہ مجھ سے ہے) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ” ان تعلمھم فانھم عبادک الخ “ تلاوت کیا اور اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا اے اللہ ! میری امت اور رو پڑے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا اے جبرئیل محمد ﷺ کے پاس جائو حالانکہ تیرا رب جانتا ہے ان سے پوچھو کس چیز نے آپ کو رلایا ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے جو کہا تھا اس کی خبر دی تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل ! محمد ﷺ کے پاس جائو اور ان کو کہہ دو کہ آپ کی امت کے بارے میں عنقریب ہم آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رسوا نہ کریں گے۔
Ayahs 5:119–120

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچّائی ہی فائدہ دے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ابد الآ باد ان میں بستے رہیں گے۔ خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آیت نمبر 120, 119 تفسیر : (قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم) نافع نے یوم کو میم کے زبر سے پڑھا ہے اور یہ اصل میں ” فی یوم “ تھا فی کو حذف کرکے یوم کو زبر دیا گیا اور باقی حضرات نے یوم کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ ” ھذا “ کی خبر ہے یعنی سچوں کو دنیا میں نفع دے گا ان کا سچ آخرت میں او اگ وہ جھوٹ بولیں گے تو اللہ تعالیٰ انکے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے اعضاء بول پڑیں گے جس کی وجہ سے وہ رسوا ہوجائیں گے اور کہا گیا ہے کہ صادقین سے مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین کو ان کا ایمان نفع دے گا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو گفتگو کرنے والے غلطی نہ کریں گے۔ 1 ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا واقعہ خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا۔ 2 ۔ اللہ کا دشمن ابلیس اور وہ اللہ کے فرمان (وقال الشیطان لما اقضی الامر اور کہے گا شیطان جب معاملہ کا فیصلہ کردیا جائے گا) میں مذکر ہے تو اس دن اللہ کا دشمن سچ بولے گا اور اس سے پہلے جھوٹا تھا تو اس کا سچ اس کو نفع نہ دے گا اور عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں سچے ہیں تو ان کا سچ ان کو نفع دے گا۔ (لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خالدین فیھا ابداً ط رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ط ذلک الفوز العظیم) (للہ ملک السموت والارض وما فیھن ط وھو علی کلی شیء قدیر)