5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو۔ اور سر کا مسح کرلیا کرو۔ اور ٹخنوں تک پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہاکر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو، اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مِٹّی لو اور اس منہ اور ہاتھو کا مسح (یعنی تیمم) کرلو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے۔ تاکہ تم شکر کرو۔

آیت نمبر 6 تفسیر : (یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ اے ایمان والو ! جب تم اٹھو نماز کو) یعنی جب تم ارادہ کرو نماز کی طرف کھڑا ہونے کا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے جب تو قرآن کی قرأت کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ اور آیت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی نماز کے قیام کا ارادہ ہو تو وضو واجب ہے لیکن سنت کے بیان اور نبی کریم ﷺ کے فعل سے یہ بات ہمیں معلوم ہوئی کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ جب تم نماز کی طرف کھڑے ہو اور تم پاکی پر نہ ہو تو وضو کرو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز ناپاکی کی حالت میں قبول نہیں کرتے جب تک وہ وضو نہ کرے۔ (البخاری کتاب الحیل، الترمذی کتاب الطہارۃ) اور بیشک نبی کریم ﷺ نے خندق کے دن چار نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھیں۔ سلمان بن بریدہ ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ جب تم نیند سے اٹھ کر نماز کی طرف قیام کا ارادہ کرو اور بعض نے فرمایا کہ ” فاغلسوا “ کا امراستحباب کے لیے ہے یعنی کہ جو شخص نماز کا ارادہ کرے تو اگرچہ پہلے سے وضو ہو پھر بھی دوسرا وضو کرنا مستحب ہے۔ ابن عمر ؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے پاکی کی حالت میں دوبارہ وضو کیا اللہ تعالیٰ اس کو دس نیکیاں دیں گے۔ ( ابودائود ، ترمذی، ابن ماجہ) اور عبداللہ بن حنظلہ بن عامر نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے وقت وضو کا حکم دیا ہے خواہ پہلے سے پاک ہو یا نہ ہو۔ پھر جب یہ حکم آپ (علیہ السلام) کو گراں معلوم ہوا تو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا۔ (الترمذی کتاب الطہارۃ) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں حضور ﷺ کو اطلاع دی گئی ہے کہ آپ (علیہ السلام) پر صرف نماز کے لیے وضو لازم ہے دیگر اعمال کے لیے نہیں۔ پس آپ (علیہ السلام) کو یہ اجازت دی کہ حدث کے بعد آپ ﷺ نماز کے علاوہ افعال ادا کرسکتے ہیں۔ سعید بن حویرث (رح) نے ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے سنا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تھے تو آپ (علیہ السلام) قضائے حاجت سے تشریف لائے تو آپ (علیہ السلام) کے پاس کھانا لایا گیا تو عرض کیا گیا آپ (علیہ السلام) وضو نہیں کریں گے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں نماز نہیں پڑھ رہا کہ وضو کروں۔ وضو کے مسائل (فاغسلوا وجو ھکم) (پس تم دھوئو اپنے چہروں کو) اور چہرے کی حد لمبائی میں سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں دونوں کانوں کے درمیان ہے اس تمام حصہ کا وضو میں دھونا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ پانی کو بھنوئوں کے نیچے اور پلکوں کے اطراف میں اور مونچھوں و بچہ داڑھی کے نیچے تک پہنچائے۔ اگرچہ وہ گھنی ہو اور داڑھی اگر اتنی گھنی ہو کہ اس کے نیچے کی جلد نہ نظر آتی ہو تو اس کے اندر والے حصہ کا دھونا واجب نہیں ہے بلکہ ظاہر حصہ کا دھونا واجب ہے اور جو بال ٹھوڑی سے نیچے لٹک جاتے ہیں ان کو دھونے کا کیا حکم ہے ؟ اس میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ ان لٹکے ہوئے بالوں کا دھونا واجب نہیں ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اس لیے کہ جو بال سر سے لٹکے ہوئے ہوں مسح کے جائز ہونے میں ان کا حکم سر والا نہیں ہے اس لیے صرف ان کا مسح کرنے سے سر کا مسح نہ ہوگا۔ یہی حکم چہرے کی حد سے لٹکے ہوئے بالوں کا ہے کہ ان کو بھی چہرے کا حکم نہ ملے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان بالوں کے ظاہر پر پانی بہانا واجب ہے کیونکہ وجہ یعنی چہرہ اس کو کہتے ہیں جس سے آمنا سامنا ہو اور لغت میں بھی جب کسی کی داڑھی نکل آئے تو اس داڑھی پر وجہ کا لفظ بولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ” بقل وجہ فلان یاخرج وجھہ “ (وایدیکم الی المرافق) ( اور دھوئو اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک) یعنی کہنیوں کے ساتھ یہاں الی بمعنی مع کے ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” ولاتاکلوا موالھم الی اموالکم “ مراد مع اموالکم کے ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ نہ کھائو اور فرمایا ” من انصاری الی اللہ “ یہاں پر الی ” مع “ کے معنی میں ہے۔ کون ہ کے میرا مدد گار اللہ کے ساتھ اور اکثر علما اس بات کی طرف گئے ہیں کہ کہنیوں کا دھونا واجب ہے اور پائوں میں ٹخنوں کا دھونا واجب ہے اور امام شعبی اور محمد بن جریررحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا واب نہیں ہے اس لیے کہ الی کا حرف انتہا اور حد بتانے کے لیے آتا ہے تو یہ خود حد میں داخل نہ ہوگا۔ ہم کہتے ہیں کہ حد کے لیے نہیں بلکہ مع کے معنی میں ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ شے کی حد جب اس کی جنس سے ہو تو انتہا اس میں داخل ہوگی اور جب حد اس کی جنس سے نہ ہو تو انتہا داخل نہ ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” اتموا الصیام الی اللیل “ اب یہاں رات روزے کے وقت میں داخل نہیں ہے کیونکہ یہ دن کی جنس سے نہیں ہیص وامسحوابرئوسکم اور مسح کرو اپنے سروں کا) سر کے مسح کی مقدار کا حکم سر کے مسح میں کتنی مقدار واجب ہے اس میں علماء رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں مکمل سر کا مسح واجب ہے جیسا کہ تیمم میں تمام چہرے کا مسح واجب ہے۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں سر کی چوتھائی کا مسح واجب ہے اور امام شافعی (رح) کے نزدیک سر کی اتنی مقدار کا مسح واجب ہے جس پر مسح کا اطلاق ہوسکے اور جن حضرات نے سر کے بعض حصے کے مسح کو جائز قرار دیا۔ انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث سے استدلال کیا کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی اور عمامہ اور موزوں پر مسح کیا تو بعض اہل علم نے عمامہ پر مسح کو اس حدیث کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے اور اسی بات کے قائل ہیں۔ امام اوزاعی، اما احمد و اسحق رحمہما اللہ اور اکثر اہل علم نے سر کے بدلے عمامہ پر مسح کو جائز قرار نہیں دیا اور حدیث مغیرہ ؓ کے جواب میں کہا کہ پیشانی پر مسح کرنے کی وجہ سے حضور ﷺ کا فرض مسح پورا ہوگیا تھا اور اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ مکمل سر کا مسح واجب نہیں ہے (وارجلکم الی الکعبین اور اپنے پائوں کو دھوئو ٹخنوں تک) نافع، ابن عامر، کسائی، یعقوب اور حفص رحمہما اللہ نے ” ارجلکم “ کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے لام کی زیر کے ساتھ۔ پھر جن حضرات نے زبر پڑھی ہے تو اس کا عطف ” وجوھکم وایدیکم “ پر ہوگا یعنی ” اغسلوا ارجلکم “ اپنے پائوں کو دھوئوں اور جنہوں نے لام پر زیر پڑھی ہے تو بہت تھوڑے اہل علم اس بات کی طرف گئے ہیں کہ پائوں پر مسلح کرے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہ کے کہ وضو میں دونوں چیزیں غسل اور مسح ہے اور یہی بات حضرت عکرمہ و قتادہ رحمہما اللہ سے مروی ہے اور امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ جبرئیل (علیہ السلام) مسح کا حکم لے کر اترے۔ کیا آپ خود نہیں دیکھتے کہ تیمم کرنے والا جن اعضا کو دھویا جاتا ہے ان کا مسح کرتا ہے اور جن کا مسح کیا جاتا ہے ان کو چھوڑ دیتا ہے اور محمد بن جریر طبری (رح) فرماتے ہیں کہ وضو کرنے والے کو اختیار ہے کہ موزوں پر مسح کرے یا پائوں دھولے اور صحابہ کرام ؓ وتابعین اہل علم کی ایک بڑی جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ پائوں کا دھونا واجب ہے اور یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ” ارجلکم “ کے لام پر زیر ” برئو وسکم “ کے پڑوس کی وجہ سے ہے نہ کہ حکم میں موافقت کی وجہ سے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” عذاب یوم الیم “ اب الیم عذاب کی صفت ہے لیکن یوم کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے اس کا اعراب لے لیا ہے اور اسی طرح اہل عرب کا قول ہے ” جحر ضب خرب “ اب ” خرب جحر “ کی صفت ہے لیکن ضب کا اعراب پڑوس کی وجہ سے لے لیا ہے۔ پائوں کا دھونا واجب ہے اس پر دلیل حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث ہے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں پیچھے رہ گئے تو ہمیں اس حالت میں پایا کہ عصر کی نماز کا وقت قریب تھا اور ہم وضو کررہے تھے ، جلدی میں ہم اپنے پائوں کا مسح کرنے لگے تو حضور ﷺ نے بلند آواز سے ہمیں پکارا ” ہلاکت ہے پائوں کی ایڑیوں کے لیے آگ سے “ حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ وضو کررہے ہیں تو اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ پھر تین بار چہرہ دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دائیں پائوں کو تین بار دھویا۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ میرے وضو کی طرح وضو کیا۔ پھر ارشاد فرمایا جس نے میرے وضو کی طرح وضو کیا پھر دو روکعتیں اس طرح پڑھیں کہ اپنے آپ سے ان میں کوئی بات نہ کی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ” ارجلکم “ سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ بیشک نبی کریم ﷺ جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور یہ مراد نہیں ہے کہ ان ہاتھوں اور گھٹنوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی تھی۔ جیسا کہ کوئی کہے فلاں نے امیر کے سر اور ہاتھ کو بوسہ دیا تو اگرچہ اس کے سر پر پگڑی ہو اور ہاتھ پر آستیں ہو لیکن کہا جاتا ہ کے کہ سر اور ہاتھ کو بوسہ دیا اسی طرح پائوں پر مسح کو موزوں پر مسح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ عرو بن مغیرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی، تو آپ (علیہ السلام) اپنی سواری سے اتر آئے اور ایک طرف چل پڑے اور رات کی تاریکی میں مجھ سے چھپ گئے ، پھر تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ (علیہ السلام) پر پانی ڈالا، آپ (علیہ السلام) نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے ، آپ (علیہ السلام) پر اون کا ایک جبہ تھا تو آپ (علیہ السلام) اس کی آستین سے بازو نہ نکال سکے تو جبہ کے نیچے سے بازو نکال کر دھوئے۔ پھر سر کا مسح کیا پھر میں جھکا تاکہ آپ (علیہ السلام) کے موزے اتار لوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ان کو چھوڑ دو میں نے ان میں پائوں پاکی کی حالت میں داخل کیے تھے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے ان پر مسح کیا۔ ” الی الکعبین “ (ٹخنوں تک) کعبان وہ ہڈیاں ہیں جو پائوں کی جانب سے ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ان دو ہڈیوں میں پائوں اور پنڈلی کا جوڑ جمع ہوتا ہے۔ ان کا دھونا پائوں کے ساتھ واجب ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہنیوں میں ذکر کیا اور وضو کے فرائض تین اعضاء کو دھونا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا اور سر کا مسح کرنا ہے۔ نیت کے واجب ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اکثر اہل علم نیت کے واجب ہونے کی طرف گئے ہیں اس لیے کہ وضو ایک عبادت ہے تو تمام عبادات کی طرح نیت کی ضرورت ہے اور بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ وضو میں نیت واجب نہیں ہے اور یہی ثوری (رح) کا قول ہے اور علماء کا وضو کی ترتیب کے وجوب میں بھی اختلاف ہے اور وہ ترتیب یہ ہے کہ وضو کے اعضاء کو پے درپے اس ترتیب سے دھوئے جس سے اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ایک جماعت اس کے جواب ہونے کی قائل ہے اور یہی امام مالک ، امام شافعی، امام احمد و اسحاق رحمہما اللہ کا قول ہے اور یہی بات حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ سے استدلال کیا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے سعی کی ابتداء صفا سے کی اور فرمایا ہم اس سے ابتداء کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے تذکرہ میں ابتداء کی اور ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ ترتیب وضو میں سنت ہے اور یہ حضرات فرماتے ہیں کہ آیت میں جو حرف وائوذکر کیے گئے ہیں یہ جمع کے لیے ہیں ترتیب کے لیے نہیں جیسا کہ دوسری آیت ” انما الصدقات للفقراء والمساکین الآیۃ “ میں وائو جمع کے لیے ہے اور اس بات پر تمام علماء متفق ہیں کہ صدقہ کے حق داروں میں صدقات خرچ کرنے کے لیے ترتیب کی رعایت واجب نہیں ہے اور جس نے وجوب کا قول کیا ہے انہوں نے جواب دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے کبھی بھی صدقات کی تقسیم میں ترتیب کی رعایت کی ہو لیکن وضو کی روایت میں یہ منقول نہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے کبھی بغیر ترتیب کے وضو کیا ہو اور کتاب اللہ کا بیان اور وضاحت سنت سے لی جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” یا یھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رکوع کے ذکر کو سجدہ پر مقدم کیا ہے اور نبی کریم ﷺ سے یہ منقول نہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے اس ترتیب کے علاوہ کبھی نماز پڑھی ہو تو ترتیب کی رعایت جس طرح نماز میں واجب ہے اسی طرح وضو میں بھی واجب ہے۔ ( وان کنتم جنبا فاطھروا اور اگر تم جنبی ہو تو خوب طرح پاک ہو) یعنی غسل کرلو۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب جنابت کے غسل کی ابتداء کرتے تو اپنے ہاتھوں دھوتے پھر وضو کرتے۔ جیسا کہ نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ پھر اپنی انگلیوں کو پانی میں داخل کرتے۔ پھر ان کے ذریعے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ، پھر اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین دفعہ پانی بہاتے پھر اپنے تمام جسم پر پانی بہاتے۔ (وان کنتم مرضیٰ…وایدیکم منہ) اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی ملنا واجب ہے۔ ( مایرید اللہ لیجعل علیکم اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ تم پر) وضو، غسل اور تیمم کے فرض کرنے میں (من حرج یہاں سے مراد تنگی ہے۔ ولکن یرد لیطھرکم لیکن وہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے) حدث، جنابت اور گناہوں سے (ولیتم نعمتہ علیکم لعلکم تشکرون اور پورا کرے اپنا احسان تم پر تاکہ تم احسان مانو) محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں نعمت کو پورا کرنا یہ ہے کہ وضو کے ساتھ گناہوں کو معاف کردے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ تاکہ اللہ بخش دے آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مکمل نعمت گناہ معاف کرنے کو قرار دیا ہے۔ حمران (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا۔ تین تین مرتبہ تمام اعضاء کو دھویا۔ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے گناہ اس کے چہرے اور دونوں ہاتھوں اور پائوں سے نکل جائیں گے۔ حضرت عثمان ؓ کے غلام حمران سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ مقاعد جگہ پر ایک دن بیٹھے تھے تو آپ ؓ کے پاس موذن آیا اور عصر کی نماز کی اطلاع دی۔ آپ ؓ نے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ پھر فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اگر قرآن مجید کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں وہ حدیث تمہیں کبھی بیان نہ کرتا۔ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ جو مسلمان اچھے طریقے سے وضو کرے پھر نماز پڑھے تو اس کے اس نماز سے دوسری نماز تک کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ دوسری نماز پڑھ لیتا ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے آیت ” اقم الصلوٰۃ لذکری “ کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسی بات کو ابن شہاب (رح) نے روایت کیا ہے اور حضرت عروہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آیت ” ان الذین یکتمون ماانزلنا من البینات “ ہے۔ نعیم المجمر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ آپ ؓ نے وضو کیا پھر کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میری امت قیامت کے دن اس حال میں پکاری جائے گی کہ ان کی پیشانی اور وضو کے اعضاء خوب روشن ہوں گے وضو کی وجہ سے۔ پس جو شخص تم میں سے اپنی روشنی کو لمبا کرنا چاہے تو ضرور کرے۔
Ayahs 5:7–9

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں انکو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ تم نے (خدا کا حکم) سُن لیا اور قبول کیا۔ اور خدا سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمکو اس بات ہر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

آیت نمبر 9, 8, 7 تفسیر :(واذکروانعمۃ اللہ علیکم اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر) یعنی تمام نعمتوں کا یاد کرو (ومیثاقہ الذی والقکم بہ اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا) یعنی وہ وعدہ جو تم سی کیا تھا اے مومنو ! (اذ قلتم سمعنا واطعنا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا) اور اس وقت کی بات ہے جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ ہر چیز کی اطاعت پر خواہ پسند ہو یا ناپسند اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ وعدہ جو تم سے اس وقت لیا تھا جب تم کو آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا تھا۔ ( واتقوا اللہ ان اللہ علیم بذات الصدور اور تم ڈرتے رہو اللہ سے اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات) یعنی ہر خیرو شر جو دل میں ہو اس کو جانتا ہے۔ (یایھا الذین امنوا کونوا قوامین للہ شھداء بالقسط) (اے ایمان والو ! کھڑے ہوجا یا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی) یعنی انصاف کے ساتھ کھڑے ہوجائو اس حال میں کہ سچ بات کہنے والے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اعمال میں عدل کا حکم دیا اور اقوام میں سچ کہنے کا حکم دیا ہے۔ (ولا یجرمنکم شنان قوم اور نہ ابھارے تم کو کسی قوم کی دشمنی اس بات پر کہ انصاف نہ کرو) یعنی ان کے معاملہ میں انصاف چھوڑنے پر ان کی دشمنی کی وجہ سے۔ پھر فرمایا (علی ان لاتعدلوا عدل کرو) یعنی اپنے دوستوں اور دشمنوں کے معاملہ میں (اعدلو اھو اقرب للتقویٰ یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ کے ) یعنی تقویٰ کی طرف۔ (واتقواللہ ان اللہ خبیر بماتعملون اور اللہ سے ڈرتے رہو اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ) (وعداللہ الذین امنوا وعملوا لصالحات لھم مغفرہ واجرً عظیم ) (وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں سے اور جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے واسطے بخشش اور بڑا ثواب ہے) اور یہ نصب کی جگہ میں ہے اس لیے کہ ” وعد “ فعل مغفرت پر واقع اور اس کا مرفوع ہونا عبارت کے مقدر ہونے کی وجہ سے ہے یعنی ” وقال لھم مغفرۃ واجر عظیم “
Ayahs 5:10–11

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

آیت نمبر 11, 10 تفسیر : (والذین کفروا وکذبوا بایتا اولتک الجحیم) ( اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے) (یایھا الذین امنوا اذکرو انعمت اللہ علیکم ) ( اے ایمان والو ! یاد رکھو احسان اللہ کے اپنے اوپر) جو تم سے دشمن کو ہٹا کر احسان کیا۔ ( اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم) (جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلادیں) قتل کے ساتھ۔ اذھم قوم ان یبسطوا کا شان نزول اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ بطن نخل میں تھے تو بنو ثعلبہ اور بنو محارب نے ارادہ کیا کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جب نماز میں م شغول ہوں تو ان کو قتل کردیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو اس ارادہ پر مطلع کردیا اور خوف کی نماز کا حکم نازل کیا۔ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بنو غطفان کا نخل مقام پر محاصرہ کیا ہوا تھا تو مشرکین میں سے ایک آدمی نے کہا کیا تمہیں یہ گوارا ہے کہ میں محمد کو قتل کردوں ؟ انہوں نے کہا تو ان کو کیسے قتل کرے گا ؟ اس نے کہا میں ان کو غفلت میں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا ہم دل سے چاہتے ہیں کہ تو اس کام کو کرلے تو وہ شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور نبی کریم ﷺ اپنی تلوار کو لٹکائے ہوئے تھے تو اس نے کہا اے محمد ! (ﷺ) مجھے اپنی تلوار دکھائیے تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو وہ تلوار دے دی تو وہ آدمی اس تلوار کو حرکت دینے لگا اور کبھی تلوار کی طرف دیکھتا اور کبھی نبی کریم ﷺ کی طرف دیکھتا اور کہنے لگا کہ کون آپ کو مجھ سے بچائے گا۔ اے محمد ! آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ ! تو صحابہ کرام ؓ نے اس کو ڈرایا، اس نے تلوار پھینکی اور چلا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور مجاہد ، عکرمہ، کلبی اور ابن یسار رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منذر بن عمرو الساعدی کو بھیجا۔ یہ منذر بیعت عقبہ کے افراد میں سے ایک ہیں۔ ان کو حضور ﷺ نے تیس انصار اور مہاجرین سواروں کا امیر بناکر بنو عامر بن صبعصعہ کی طرف بھیجا تو یہ حضرات جب مدینہ سے نکلے تو ان کی ملاقات عامر بن الطفیل سے بیئر معونہ پر ہوئی۔ یہ بنو عامر کا ایک کنواں ہے ان کی آپس میں لڑائی ہوئی تو حضرت منذر ؓ اور ان کے سب ساتھی شہید ہوگئے ، صرف تین آدمی بچے جو ایک گمشدہ اونٹ کو تلاش کرنے گئے ہوئے تھے۔ ان تین میں ایک عمرو بن امتۃ الضمری ؓ تھے۔ ان حضرات نے پرندوں کو آسمان میں چکر لگاتے دیکھا۔ ان کی چونچوں سے خون کے لوتھڑے کررہے تھے تو اس منظر نے ان کو خوفزدہ کیا تو ان تین میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے ساتھی شہید کردیئے گئے ہیں۔ پھر ان صاحب نے پیٹھ پھیری اور دوڑے حتیٰ کہ ایک آدمی سے مڈبھیڑ ہوئی ، دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ پس جب ان صحابی ؓ کو تلوار لگی تو انہوں نے سرآسمان کی طرف بلند کیا اور اپنی آنکھیں کھول کر کہا اللہ اکبر ! جنت اور تمام جہانوں کا رب۔ باقی دو حضرات واپس لوٹے تو ان کی ملاقات قبیلہ بنو سلیم کے دو آدمیوں سے ہوئی۔ نبی کریم ﷺ اور بنو سلیم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ یہ دو صحابی ان کو بنو عامر کا فرد سمجھے اور ان کو قتل کردیا تو ان کی قوم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور دیت کا مطالبہ کیا تو آپ (علیہ السلام) حضر ابوبکر ، حضرت عمر، عثمان، علی، طلحہ، عبدالرحمن بن عوف ( ؓ ) کے ساتھ نکلے اور کعب بن اشرف اور بنو نضیر کے پاس گئے۔ ان سے دیت کی ادائیگی میں مدد لینے کیونکہ بنو نضیر کا حضور ﷺ سے یہ معاہدہ تھا کہ ہم قتال نہیں کریں گے اور دیت کی ادائیگی میں مدد کریں گے تو انہوں نے کہا کہ اے ابو القاسم ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) پر ایسا وقت آگیا ہے کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور اپنی ضرورت کا سوال کیا آپ تشریف رکھیں ہم آپ (علیہ السلام) کو کھانا کھاتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کو وہ رقم دیتے ہیں جو آپ (علیہ السلام) نے مانگی تو آپ (علیہ السلام) اور صحابہ کرام ؓ بیٹھ گئے تو وہ یہودی ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے کہ محمد ﷺ کو آج کے دن سے زیادہ قریب تم نہیں پائو گے۔ پس کوئی ہے جو اس مکان کی چھت پر چڑھ جائے اور ان پر پتھر کی چٹان گرا کر ہم کو ان سے راحت دے ؟ تو عمر بن حجاش نے کہا میں ! تو وہ ایک بڑی چکی کو لایا تاکہ اس کو حضور ﷺ پر پھینک دے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ روک دیا اور جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر آپ (علیہ السلام) کو خبر دی تو حضور ﷺ مدینہ کی طرف لوٹے اور حضرت علی ؓ کو بلایا کہ آپ ؓ اسی جگہ کھڑے رہو اور صحابہ کرام ؓ میں سے جو بھی آئے اور میرے بارے میں سوال کرے تو آپ کہنا کہ مدینہ کی طرف گئے ہیں تو حضرت علی ؓ نے ایسا کیا یہاں تک کہ سب صحابہ کرام ؓ حضور ﷺ تک پہنچ گئے اور آپ (علیہ السلام) کے پیچھے چل پڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور فرمایا (فکف ایدیھم …المومنون) (پھر روک دیئے تم سے ان کے ہاتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہیے بھروسہ ایمان والوں کو)
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

آیت نمبر 12 بارہ نقیبوں کی تفصیل تفسیر : (ولقد اخد اللہ میثاق بنی اسرائیل بوعثنا منھم اثنی عشرنقیبا) (اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں بارہ سردار) اور یہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو اور ان کی قوم کو مقدس زمین یعنی شام کا وارث بنائیں گے۔ اس سے پہلے وہاں کنعانی رہتے تھے جب بنی اسرائیل کے لیے ٹھکانہ مصر میں بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ شام کے علاقہ ریحاء کی طرف کوچ کریں یہی ارض مقدس ہے۔ اس ارض مقدس کی ایک ہزار بستیاں تھیں ہر بستی میں ایک ہزار باغ تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے اس علاقہ کو تمہارے لیے گھر اور ٹھکانہ مقرر کیا ہے۔ آپ (علیہ السلام) اس علاقہ کی طرف نکلیں اور وہاں جو دشمن ہیں ان سے جہاں کریں۔ بیشک میں تہاری مدد کروں گا اور آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ہر قبیلہ سے ایک سردار لیں، کل بارہ سردار ہوجائیں گے، ہر سردار اپنی قوم کے وعدہ کا ضامن ہوگا کہ وہ اللہ کے حکم کو پورا کریں گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے سردار چن لیے اور بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے۔ جب ایرحاء کے قریب پہنچے، یہ جبارین کا شہر تھا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سرداروں کو جاسوسی کے لیے آگے بھیجا تاکہ ان کی خبر لائیں تو ان کی مڈبھیڑ جبارین کے ایک آدمی سے ہوئی جس کا نام عوج بن عنق تھا۔ اس کی لمبائی تین ہزار تین سو تینتیس گز تھی۔ وہ شخص بادل سے منہ چھپا لیتا تھا اور بادل سے پیاس بجھا لیتا تھا اور مچھلی کو سمندر کی تہہ سے پکڑ کر سورج کی طرف بلند کرکے بھون کر کھا جاتا تھا اور یہ بات روایت کی گئی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پانی کے تمام پہاڑوں کے لیے پردہ بن گیا تھا لیکن عوج کے گھٹنوں سے اوپر نہیں ہوا تھا یہ شخص تین ہزار سال زندہ رہا حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کرایا اور یہ ہلاکت اس طرح ہوئی کہ اس نے پہاڑ کی بہت چٹان اکھاڑی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پورے لشکر کو گھیر لیتی۔ تقریباً تین میل لمبی اور چوڑی تھی اور اس کو اٹھایا تاکہ اس لشکر کے اوپر رکھ دے تو اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کو بھیجا۔ اس نے اپنی چونچ سے اس چٹان کو گول کاٹ دیا تو وہ اس کی گردن پر گری اور وہ اوندھے منہ گرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اور اس کو گرے ہوئے دیکھ کر قتل کردیا۔ اس کی ماں آدم (علیہ السلام) کی ابتدائی بیٹیوں میں سے تھی اور یہ جب بیٹھتی تو زمین کا ایک جریب گھیر لیتی تھی۔ جب عوج نے ان سرداروں کو دیکھا تو اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا تو اس نے ان بارہ سرداروں کو پکڑ کر اپنی تہبند میں اڑس لیا اور اپنی بیوی کے پاس لے گیا اور کہنے لگا ان لوگوں کو دیکھ ان کو وہم ہوا ہے کہ یہ ہم سے جنگ کریں گے اور ان کو اپنے سامنے پھینک کر کہنے لگا کہ تمہیں اپنے پائوں سے پیس کے رکھ دوں ؟ تو اس کی بیوی کہنے لگی ایسا نہ کر ان کو چھوڑ دے تاکہ یہ اپنی قوم کو اس منظر کی خبردیں تو اس نے ایسا کیا اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ اس نے ان کو اپنی آستین میں ڈال لیا تھا اور بادشاہ کے پاس لے گیا تھا اور اس کے سامنے پھینک دیا تھا تو بادشاہ نے ان حضرات کو کہا واپس چلے جائو اور جو کچھ دیکھا ہے اس کی خبر اپنی قوم کو دو ۔ ان کے انور کے خوشہ کو پانچ آدمی ایک لکڑی کے ساتھ اٹھاتے تھے اور انار کے خالی چھلکے کے ایک حصہ میں پانچ آدمی داخل ہوجاتے تھے تو وہ سردار لوٹ گئے اور ان کے احوال اچھے طریقے سے معلوم کرتے گئے اور آپس میں ایک دوسرے کو کہنے لگے اگر اس قوم کی خبر بنی اسرائیل کو دے دی تو وہ اللہ کے نبی سے مرتد ہوجائیں گے تم ان سے یہ باتیں چھپالو اور صرف موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو خبر دو وہ ان کے بارے میں جو رائے قائم کریں ٹھیک ہے اور ایک دوسرے سے اس بات پر پختہ عہد لے لیا۔ پھر انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا اور ہر ایک اپنے قبیلے کو اس قوم سے لڑنے سے روکنے لگا اور جو عجیب منظر دیکھا تھا اس کی خبر دینے لگا ، سوائے دو آدمیوں کے سب نے عہد توڑ دیا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان میں بارہ سردار بھیجے ۔ (وقال اللہ انی معکم) (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک میں تہارے ساتھ ہوں) تمہارے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کرے گا۔ پھر کلام کی ابتداء کی اور فرمایا (لئن اقمتم الصلاۃ) (اگر تم نماز کو قائم کرو) اے بنی اسرائیل کی جماعت (واتیتم … وعزر تموھم) (اور زکوٰۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لائو اور ان کی مدد کرو) یعنی ان کی مدد کرو تم اور بعض نے کہا کہ معنی یہ ہے کہ تم ان کی تعظیم کرو (واقرضتم اللہ قرضاً حسنا) (اور قرض دو گے اللہ کو اچھی طرح کا قرض) کہا گیا ہے کہ قرض سے مراد زکوٰۃ نکالنا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد گھر والوں پر خرچ کرنا ہے ( تو البتہ دور کروں گا میں تم سے گناہ تمہارے) میں ضرور مٹا دوں گا تم سے تمہارے گناہوں کو (لاکفرن عنکم میاتکم ) (اور داخل کروں گا تم کو تو ہم تمہارے گناہوں کو مٹا دیں گے) ۔ ( ولادخلتکم …السبیل) ( باغوں میں کہ جس کے نیچے بہتی ہیں نہریں پھر جو کوئی کافر ہوا اس کے بعد تو وہ بیشک گمراہ ہوا سیدھے راستے سے ) یعنی سیدھے راستے سے چوک گیا اس سے مراد حق راستہ ہے اور سواء سے مراد ہر چیز کا درمیان مراد ہوتا ہے۔
Ayahs 5:13–14

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور ( ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

آیت نمبر 14, 13 تفسیر :(فیما نقضھم) (سو ان کے توڑنے پر) ان کے توڑنے کی وجہ سے اور ماصلہ ہے ( میثاقھم ) ( اپنے عہد کو) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے کئی طرح سے عہد کو توڑا اس لیے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تمام رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل چھوڑ دیا اور اس کے فرائض کو ضائع کردیا (لعناھم) (ہم نے ان پر لعنت کی) عطاء (رح) فرماتے ہیں لعنت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو شکلیں مسخ کرکے عذاب دیا۔ (وجعلنا قلوبھم قاسیۃ) ( اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے قاسیۃ کو الف کے بغیر ” قسیٔہ “ پڑھا ہے یاء کی شد کے ساتھ اور یہ دونوں لغتیں ٹھیک ہیں جیسے ذاکیہ اور ذکیہ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں قاسیۃ کا معنی خشک۔ اور بعض نے کہا کہ ایسے سخت جس میں نرمی بالکل نہ ہو اور بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ ان کے دل ایمان کے لیے خالص نہیں ہیں بلکہ ان کا ایمان کفرو نفاق کے ساتھ ملا ہوا ہے اور اسی سے کہا جاتا ہے ” الدراھم القاسیۃ “ یعنی کھوٹے دراہم۔ (یخرفون الکلم عن مواضعہ) (پھیرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے ) اور یہ کہا گیا ہے کہا اس سے مراد نبی کریم ﷺ کی صفات جو تورات میں ہیں ان کو تبدیل کرنا مراد ہے اور بعض نے کہا اس سے مراد تورات میں بری تاویلات کرنا ہے۔ (ونسواحظاً مما ذکروا بہ) (اور بھول گئے اس نصیحت سے نفع اٹھانا جو ان کو کی گئی تھی) یعنی اور چھوڑ دیا حکامات کا وہ حصہ جس میں محمد ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی صفات بیان کرنے کا ان کو حکم دیا گیا تھا (ولا نزال) (اور ہمیشہ) اے محمد ! (تطلع علیٰ خائنۃ منھم) (آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کے کسی دغا پر) یعنی خیانت پر یہاں فاعلۃ کا وزن مصدر کے معنی میں ہے جیسے ” کاذبۃ “ اور ” لاغیہ “ وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ فاعل کے معنی میں ہے اور ھاء مبالغہ کے لیے ہے جیسے ” روابۃ، علامۃ، حسابۃ “ میں اور بعض نے کہا ہے کہ خائن جماعت پر آپ مطلع ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” خائنۃ “ کا معنی معصیت ہے اور ان کی خیانت عہد کو توڑنا اور مشرکین کی مدد کرنا رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ اور حضور ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کرنا اور آپ (علیہ السلام) کو زہر دینا اور اس کے علاوہ بہت سی خیانات جو ان سے ظاہر ہوئیں ۔ ( الاقلیلا منھم) ( مگر تھوڑے لوگ ان میں سے) انہوں نے خیانت نہیں کی اور عہد نہیں توڑا اور وہ ایسے لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے اسلام لے آئے تھے ( فاعف عنھم) (سو معاف کرو اور درگزر کرو ان سے) یعنی ان سے اعراض کریں ان کو کچھ نہ کہیں ۔ (ان اللہ یحب المحسین) (اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) یہ آیت قتال کی آیات سے منسوخ ہوگئی ہے۔ (ومن الذین قالوا انا نصریٰ اخذنا میثاقھم) ( اور وہ جو کہتے ہیں اپنے آپ کو نصاریٰ ان سے بھی لیا تھا ہم نے عہد) بعض نے کہا ہے کہ اس سے یہود و نصاریٰ دونوں مراد ہیں لیکن ان میں سے ایک ذکر کرنے پر اکتفاء کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ آیت میں خاص نصاریٰ مراد ہیں کیونکہ یہود کا تذکرہ تو گزر چکا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ آیت میں اس پر دلیل ہے کہ نصاریٰ نام ان لوگوں نے خود رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ نام نہیں رکھا۔ ہم نے ان سے عہد لیا توحید اور نبوت کے بارے میں۔ (فنسوا … یوم القیامۃ) (پھر بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی پھر ہم نے ان کی آپس میں دشمنی لگادی اور کینہ قیامت کے دن تک) مختلف نفسانی خواہشات اور دین میں جھگڑے کے ذریعے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ کے درمیان دشمنی مراد ہے اور ربیع (رح) فرماتے ہیں کہ صرف نصاریٰ کی آپس میں دشمنی مراد ہے کیونکہ یہ کئی فرقے ہوگئے ان میں سے ” یعقوبیۃ ، نسطوریۃ ، ملکانیۃ “ ہیں یہ ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے تھے۔ (وسوف… یصنعون) ( اور آخر اللہ تعالیٰ ان کو خبر دیں گے جو کچھ وہ کرتے تھے) آخرت میں۔
Ayahs 5:15–17

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں ( ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

آیت نمبر 17, 16, 15 تفسیر :(یاھل الکتاب) ( اے کتاب والو ! ) یہاں دونوں اہل کتاب کو خطاب ہے۔ ( یاھل الکتب قد جاء کم ومولنا یبئن لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب) ( تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے) یعنی تورات و انجیل میں جو باتیں چھپاتے ہو جیسے نبی کریم ﷺ کی صفات اور رجم کی آیت وغیرہ ۔ ( ویعفواعن کثیر) ( اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے) یعنی بہت ساری چیزیں جو تم چھپاتے ہو ان سے درگزر کرتا ہے اور کوئی مواخذہ نہیں کرتا۔ ( قدجاء کم من اللہ نور وکتب مہین) ( بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی) یعنی محمد ﷺ اور بعض نے کہا اسلام مراد ہے ( وتکاب مبین) (اور کتاب ظاہر کرنے والی) یعنی قرآن۔ (یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام) ( جس سے اللہ ہدایت کرتا ہے اس کو جو تابع ہوا اس کی رضا کا سلامتی کی راہیں) اور بعض نے کہا السلام سے مراد خود اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ کے راستے سے مراد وہ دین ہے جو بندوں کے لیے مقرر کیا ہے اور اسی کے ساتھ رسولوں کو بھیجا ہے اور بعض نے کہا السلام سے سلامتی مراد ہے جیسے لذاذ اور لذاذۃ کا معنی ایک ہے اور اس سے مراد سلامتی کے راستے ہیں۔ (ویخرجھم من ظلمت الی النور) ( اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی میں ) یعنی کفر کی تاریکیوں سے ایمان کے نور کی طرف ( باذنہ) (اپنے حکم سے) اپنی توفیق اور ہدایت سے۔ (ویھدیھم الی صراط مستقیم) ( اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ پر) اور وہ سیدھی راہ اسلام ہے۔ (لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ھوالمسیح ابن امریم) ( بیشک کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا ) او یہ نصاریٰ کا یعقوبیۃ فرقہ ہے جو کہتا ہے کہ مسیح خدا ہے۔ (قل فمن یملک من اللہ شیتا) ( آپ کہہ دیجیے پھر کسی کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے ) یعنی کون اس بات پر قادر ہے کہ جب اللہ کسی شے کا فیصلہ کردے تو اس کو ٹال سکے۔ (ان اراد…شیء قدیر) ( اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا کرتا ہے جو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
Ayahs 5:18–20

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو۔ وہ جیسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

آیت نمبر 20, 19, 18 تفسیر :(وقالت …واحباء ہٗ ) (اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ کے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے) بعض نے کہا نصاریٰ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ شفقت اور رشتہ داری میں ہمارے باپ کی طرح ہیں اور ہم قرب او مرتبہ میں اس کی اولاد کی طرح ہیں اور ابراہیم نخعی (رح) نے فرمایا کہ یہود نے تورات میں لکھا ہوا پایا کہ اے میرے علماء کی اولاد تو انہوں نے احباری کے لفظ کو ابکاری سے تبدیل کردیا۔ اسی وجہ سے خود کو اللہ کا بیٹا کہنے لگا اور بعض نے کہا انباء اللہ کا معنی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے یبٹے ہیں۔ (قل فلم یعذبکم بذنوبکم) ( تو پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر) یعنی اگر معاملہ تمہارے گمان کے مطابق درست ہے کہ تم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہوت و کوئی باپ اپنی اولاد کو عذاب نہیں دیتا، کوئی حبیب اپنے محبوب کو عذاب نہیں دیتا اور تم خود اپنے عذاب میں ہونے کا اقرار بھی کرتے ہو کہ اللہ نے تم کو عذاب دیا اور بعض نے کہا ” فلم یعذبکم “ کا معنی ہے کہ تم سے پہلے آباء کو ان کے گناہوں کی وجہ سے بندر اور خنزیر بنانے کا عذاب کیوں دیا۔ (بل انتم بشر ممن علق) ( کوئی نہیں بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں سے) تمام بنی آدم کی طرح تم کو برے و اچھے اعمال کا ب دلہ دیا جائے گا۔ (یغفرلمن یشاء ) ( بخشے جس کو چاہیے) اپنے فضل سے ۔ (یوعذب من یشاء ) (اور عذاب دے جس کو چاہے) انصاف سے۔ ( وللہ ملک السموت والارض وما بینھماوالیہ المصیر) ( اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ) (یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا) ( اے کتاب والو ! آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا) محمد ﷺ (بین لکم ) ( کھولتا ہے تم پر) ہدایت کی علامات اور دین کی بڑی علامات ۔ (علی فترۃ من الرسل ) ( رسول کے انقطاع کے بعد) یعنی رسولوں کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اور علماء کا اختلاف ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان انقطاع کی مدت کتنی ہے۔ ابو عثمان نہدی (رح) فرماتے ہیں چھ سو سال۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں پانچ سو ساٹھ سال۔ معمر اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں پانچ سو چالیس سال۔ اس زمانے کو فترت اس لیے کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تک لگاتار رسول آتے رہے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبی کریم ﷺ تک کوئی رسول و نبی نہیں آیا۔ (ان تقولوا) ( کبھی تم کہنے لگو) تا کہ تم یہ نہ کہو۔ (ماجاء نا من بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیر ونذیر ط واللہ علی کل شیء قدیر) ( کہ ہمارے پاس کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا نہ آیا سو آپ کا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) (واذ قال موسیٰ بقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذجعل فیکم) ( اور جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب پیدا کیے تم میں نبی) یعنی تم میں سے انبیاء (علیہم السلام) پیدا کیے۔ (وجعلکم ملوکا) ( اور کرد یا تم کو بادشاہ یعنی تم میں بادشاہ بھی بنائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نوکر چاکر والے لوگ پیدا کیے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پہلے لوگ ہیں جن کے خادم تھے ان سے پہلے کسی کے خادم نہیں ہوتے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور نبی اسرائیل کے کسی آدمی کے پاس نوکر، بیوی، جانور ہوتے تو اس کو بادشاہ لکھا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم فقراء مہاجرین نہیں ہیں ؟ آپ ؓ نے پوچھا کیا تیری بیوی نہیں ہے جس کی طرف تو ٹھکانہ پائے ؟ اس نے کہا ہے۔ آپ ؓ نے پوچھا کیا تیرے لیے رہائش کا مکان ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ ؓ نے فرمایا تو مالداروں میں ہے ؟ اس نے کہا ایک خادم بھی ہے۔ آپ ؓ نے فرمایا تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں اور بنایا تم کو آزاد بادشاہ کہ اپنی ذات کے مالک ہو اس سے پہلے تم قبطیوں کے قبضہ میں تھے وہ تم کو غلام بناتے تھے اور صحاک (رح) فرماتے ہیں کہ انکے گھر وسیع تھے ، ان میں جاری پانی ہوتا تھا جس کا گھر وسیع ہو اور اس میں نہر جاری ہو تو وہ بادشاہ ہے ۔ ( اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں) یعنی تمہارے زمانے میں کسی کو یہ چیزیں نہیں دی تھیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ترنجبین، بٹیر، بادلوں کا سایہ وغیرہ۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

آیت نمبر 21 تفسیر : (یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ) (اے قوم ! داخل ہو پاک زمین میں جو مقرر کردی ہے اللہ نے تمہارے واسطے) ارض مقدسہ کی تعیین میں مفسرین کے اقوال ارض مقدس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ طور اور اس کے اردگرد کا علاقہ ہے۔ اور صحاک (رح) فرماتے ہیں ایلیاء اور بیت المقدس ہے۔ اور عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اریحاء ہے۔ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ دمشق، فلسطین اور اردن کا کچھ حصہ ہے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مکمل شام ہے۔ کعب فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کی اتاری ہوئی کتاب میں پایا کہ شام اس زمین میں اللہ کا خزانہ ہے اور اس میں اللہ کے اکثر خاص بندے ہیں۔ ( مقرر کردیا ہے اللہ نے تمہارے واسطے) یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ یہ تمہاری رہائش گاہ اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے اللہ نے ھبہ کیا ہے اور بعض نے کہا کہ تمہارے لیے مقرر کردیا ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں اللہ نے تمہیں اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور اقتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو اس جگہ رہنے کا ایسا حکم دیا تھا جس طرح نماز کا حکم دیا گیا یعنی ان پر وہاں رہنا فرض کردیا۔ (ولا ترتدوا علی ادبار کم) ( اور نہ لوٹو اپنی پیٹھ کی طرف) ایڑیوں کے بل اللہ کے حکم کے خلاف ( فنقلبوا خاسرین) ( پھر جاپڑو گے نقصان میں) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) لبنان کے پہاڑ پر چڑھے، ان کو کہا گیا آپ نگاہ دوڑائیں جہاں تک آپ کی نگاہ جائے گی وہ پاک علاقہ ہے اور آپ کی اولاد کی میراث ہے۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

آیت نمبر 22 تفسیر : (قالو یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین) (بولے اے موسیٰ ! وہاں ایک قوم ہے زبردست) اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ سردار جاسوسی کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور اپنے مشاہدہ کی خبردی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ان کی خبر کو چھپالو اور لشکر میں کسی کو خبر نہ دو یہ لوگ بزدل پڑجائیں گے تو ان سرداروں میں سے ہر ایک نے اپنے قریبی دوستوں اور چچا زاد بھائیوں کو خبر کردی۔ صرف دو آدمیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔ ان میں سے ایک یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف (علیہم السلام) اور دوسرے کالب بن یوقنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بہنوئی تھے جو حضرت مریم موسیٰ علیہ اسلام کی بہن کے خاوند تھے اور یہود کے قبیلوں میں سے حقیقی سردار یہی دو تھے۔ اب جب بنی اسرائیل نے یہ بات جان لی تو دھاڑیں مار کر رونے لگے کہ کاش ہم مصر میں ہوتے ہم اس جنگل میں مرجائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی زمین میں داخل نہیں کریںے تو ہماری عورتیں ، اولاد، مال ان کے لیے مال غنیمت بن جائیں گے تو ہر آدمی اپنے ساتھی کو کہنے لگا کہ آئو ہم مصر کی طرف لوٹ جائیں تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی خبردی ہے کہ (انہوں نے کہا اے موسیٰ وہاں ایک قوم ہے زبردست (قالو یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین وانا لن ندخلھا حتیٰ یخرجوا منھا فان یخرجوا منھا فانا دخلون) اور ہم ہرگز وہاں نہ جاویں گے یہاں تک کہ وہ نکل جائیں اس میں سے پھر اگر وہ نکل جاویں گے اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہوں گے) جبار کا اصل معنی ایسا بڑا جو اپنے غلبہ کی وجہ سے دوسرے کو روکنے والا ہو۔ جب کھجور کا درخت اتنا لمبا ہو کہ اس تک ہاتھ کسی طرح نہ پہنچ سکے تو اس کو کہتے ہیں ” نخلۃ جبارۃ “ اس قوم کو جبارین بھی اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ان کے قد بہت بڑے اور جسم بہت مضبوط تھے اور یہ قوم عمالقہ میں سے تھے اور قوم عاد کے بچے ہوئے افراد تھے۔ جب بنو اسرائیل نے یہ بات کی اور مصر جانے کا ارادہ کیا تو موسیٰ ہارون (علیہم السلام) فوراً سجدہ میں چلے گئے اور یوشع و کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ دیئے اور انہی دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبردی ہے اپنے آئندہ قول میں ہے۔