Ayahs 5:23–26آیت نمبر 26, 25, 24, 23
تفسیر :(قال رجلن من الذین یخافون) (کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے) یعنی اللہ سے ڈرنے والوں نے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ” یخافون “ کو یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا کہ یہ دو آدمی ان جبارین میں سے تھے جو السلام لے آئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے۔ (انعم اللہ علیھما) (کہ خدا کی نوازش تھی ان دونوں پر) توفیق اور گناہوں سے بچانے کے ساتھ۔ (ادخلوا علیھم الباب) (گھس جائو ان پر حملہ کرکے دروازہ میں) یعنی جبارین کی بستی میں داخل ہوجائو۔ (فاذا دخلتموہ فانکم غالبون) (پھر جب تم اس میں داخل ہوجائوگے تو تم ہی غالب ہوگے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا ہے اور ہم نے ان کو دیکھا ہے کہ ان کے جسم تو بہت بڑے ہیں لیکن دل کمزور ہیں تو ان سے نہ ڈرو۔ ( وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین ) ( اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم یقین رکھتے ہو) پھر بنی اسرائیل نے یہ ارادہ کیا کہ ان کو پتھر ماریں۔
(قالوا یموسیٰ انا لن ندخلھا ابداً ماداموا فیھا فاذھب انت وربک فقاتلاً انا ھھنا قعدون) ( بولے اے موسیٰ ! ہم ہرگز نہ جاویں گے ساری عمر جب تک وہ رہیں گے اس میں سو تو جا اور تیر ارب اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں) ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں مقداد بن اسود ؓ کے ساتھ ایک واقعہ میں موجود تھا اگر میں ان کا ساتھی ہوتا تو یہ مجھے بہت پسند ہوتا۔ مقداد ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (علیہ السلام) مشرکین کے خلاف بددعا کررہے تھے تو مقداد ؓ نے کہا ہم آپ (علیہ السلام) کو وہ جواب نہیں دیں گے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے دیا کہ ” تو اور تیرا رب جائو اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں “ لیکن ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ اس بات سے آپ (علیہ السلام) کا چہرہ انور چمک اٹھا اور بہت خوش ہوئے۔ جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی اور یوشع اور کالب کو تکلیف دینے کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی۔
(قال رب انی لااملک الا نفسی واخی) (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! میرے اختیار میں نہیں مگر میری جان اور میرا بھائی؛ بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ میں صرف اپنی ذات کا مالک ہوں اور بعض نے کہا کہ قوم میں میری اطاعت میرے سوا میرا بھائی کررہا ہے۔ (فافرق بیننا) ( سو جدائی کردے تو ہم میں) یعنی ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ (وبین قوم الفاسفین) (اور اس نافرمان قوم میں) گنہگار قوم میں۔
(قال فانھا محرمۃ علیھم) (فرمایا تحقیق وہ زمین حرام کی گئی ہے ان پر) بعض نے کہا ہے کہ یہاں کلام مکمل ہوگئی ہے اور معنی یہ ہے کہ یہ شہر ان پر حرام کردیا گیا ہے ہمیشہ کے لیے ۔ یہاں تحریم تعبدی مراد نہیں ہے بلکہ تحریم منع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی کہ میں ان سب پر اس مقدس زمین میں داخلہ حرام کردوں گا۔ سوائے میری بندوں یوشع اور کالب کے اور میں اس جنگل میں ان کو چالیس سال رکھوں گا، ان کی جاسوسی کے چالیس ایام میں سے ہر ایک دن کے بدلہ ایک سال اور میں ان کے مردہ جسموں کو اسی جنگ بیابان میں دال دوں گا ۔ ان کی اولاد نے کیونکہ کوئی برائی نہیں کی تو وہ اس ارض مقدس میں داخل ہوجائیں گے۔ پس یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان (اربعین سنۃ) (تحقیقن وہ زمین حرام کی گئی ہے ان پر چالیس سال)… (یتیھون فی الارض) (سرمارتے پھریں گے) حیران و پریشان پھریں گے۔ (فلا تاس علی القوم الفاسقین) (ملک میں سو تو افسوس نہ کرنا فرمان قوم پر) یعنی ان جیسے لوگوں پر آپ (علیہ السلام) افسوس نہ کریں۔ پس یہ چھے لاکھ جنگجو لوگ صرف چھ فرسخ (تقریباً اٹھارہ میل جگہ) جگہ پر پ چالیس سال رہے اور یہ لوگ ہر روز سفر کرتے تھے اور شا کو اسی جگہ پہنچ جاتے تھے جہاں سے سفر شروع کیا ہوتا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ اس وقت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ان کے ساتھ نہیں تھے اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرات بھی ان کے ساتھ تھے لیکن یہ سزا ان حضرات کے لیے نہیں تھی بلکہ قوم کے لیے تھی۔ اسی وادی تیہ میں بیس سال سے زائد کا ہر آدمی مرگیا سوائے حضرت یوشع (علیہ السلام) اور کالب کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو انکار کرنے والوں میں سے کوئی شخص بھی اریحاء مقام میں داخل نہ ہوسکا۔ پھر جب سب منکرین ہلاک ہوگئے اور چالیس سال گزر گئے اور ان کی نئی نسل جوان ہوگئی تو یہ لوگ جبارین سے لڑائی کے لیے چل پڑے۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ اس لڑائی کا امیر و کمانڈر کون تھا اور کس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے فتح دی تو ایک قوم نے یہ کہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اریحاء کو فتح کیا اور مقدمۃ الجیش کے کمانڈر حضرت یوشع (علیہ السلام) تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے باقی ماندہ افراد کو لے کر چلے۔
پہلے حضرت یوشع (علیہ السلام) داخل ہوئے اور جبابرۃ سے لڑائی کی۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) داخل ہوئے اور کچھ عرصہ قیام فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ سب سے صحیح قول ہے اس لیے کہ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ عوج بن عنق کو موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا اور دیگر حضرات نے کہا کہ جبارین سے جنگ حضرت یوشع (علیہ السلام) نے کی اور یوشع (علیہ السلام) اس جنگ کے لیے لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد لے گئے تھے اور ان حضرات نے یہ بھی کہا کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) وادی تیہ میں انتقال کرگئے تھے۔
ہارون (علیہ السلام) کی وفات کا تذکرہ
سدی (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ میں ہارون (علیہ السلام) کو موت دینا چاہتا ہوں، آپ (علیہ السلام) ان کو فلاں پہاڑ پر لے جائیں تو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اس پہاڑ پر تشریف لے گئے وہاں انہوں نے ایک ایسا خوبصورت درخت دیکھا اس جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا اور وہاں ایک خوبصورت گھر بنا ہوا تھا اس میں ایک تخت تھا جس پر بستر بچھا ہوا تھا اور بڑی عمدہ خوشبو آرہی تھی۔ جب ہارون (علیہ السلام) کی اس پر نگاہ پڑی تو وہ سارا منظر ان کو اچھا لگا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا میرا دل چاہتا ہے کہ اس سخت پر سو جائوں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سو جائو تو ہارون (علیہ السلام) کہنے لگے مجھے خوف ہے کہ اس گھر کا مالک آگیا تو بہت ناراض ہوگا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ فکر مت کریں اگر مالک آگیا تو میں اس کو سنبھال لوں گا، آپ سوجائیں۔ ہارون (علیہ السلام) کہنے لگے آپ بھی ساتھ لیٹیں تاکہ اگر مالک آئے تو ہم دونوں پر غصہ ہو۔ جب دونوں حضرات سونے کے لیے لیٹے تو ہارون (علیہ السلام) کی روح قبض ہونے لگی تو ان کو جیسے ہی یہ بات محسوس ہوئی کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ نے مجھ سے بات چھپائی جب ان کی روح قبض ہوگئی تو وہ گھر اٹھا لیا گیا اور درخت چلا گیا اور وہ تخت ہارون (علیہ السلام) کو لے کر آسمان کی طرف بلند ہوگیا۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) تنہا بنی اسرائیل کی طرف آئے تو وہ کہنے آپ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔ بنی اسرائیل کیونکہ ان سے زیادہ محبت کرتے تھے آپ کو حسد ہونے لگا تھا ان سے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہارا ناس ہو وہ میرے بھائی تھے میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں لیکن جب انہوں نے بار بار یہی بات کہی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دو رکعت پڑھ کر دعا کی تو وہ تخت نیچے اتر آیا اور لوگوں نے آسمان و زمین کے درمیان اس تخت پر ہارون (علیہ السلام) کو دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی۔
حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) پہاڑ پر چڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام) زندہ بچے اور ہارون (علیہ السلام) انتقال کرگئے تو بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کو کہنے لگے آپ نے ان کو قتل کیا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دینے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا وہ ہارون (علیہ السلام) کو اٹھا کر بنی اسرائیل پر گزرے اور فرشتوں نے ان کی موت کے بارے میں گفتگو کی تو بنی اسرائیل نے پہچان لیا کہ وہ مرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے الزام سے بری کردیا۔ پھر فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور دفن کردیا اور رخم کے علاوہ کسی کو بھی ان کی قبر کا پتہ نہ لگ سکا لیکن رخم کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرہ بنادیا اور عمر بن میمون کہتے ہیں کہ ہارون و موسیٰ (علیہم السلام) کی زندگی میں وادی تیہ میں وفات پا گئے تھے یہ دونوں حضرات پہاڑ کی کسی غار میں گئے وہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) وفات پاگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو وہیں دفن کردیا اور بنی اسرائیل کے پاس چلے آئے۔ بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ نے ان کو ہماری محبت کی وجہ سے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بنی اسرائیل کو بہت محبوب تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے آہ و زراری کی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ان کو ہارون (علیہ السلام) کی قبر پر لے جائیے میں ان کو اٹھا دوں گا تو موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر ہارون (علیہ السلام) کی قبر پر گئے وہاں جاکر موسیٰ (علیہ السلام) نے آواز دی تو ہارون (علیہ السلام) قبر سے اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے نکل آئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا میں نے آپ کو قتل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ میری موت کا وقت آگیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ اپنی آرام گاہ میں واپس چلے جائیں۔ بنی اسرائیل کی تسلی ہوگئی اور واپس چلے گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بارے میں ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) موت کو ناپسند سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ ان کو اس کی رغبت دلائیں تو یوشع بن نن کو خبر دی۔ یوشع بن نون صبح شام موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاتے تھے تو جب وہ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ کے نبی اللہ نے کیا نئی وحی آپ کی طرف بھیجی ؟ یوشع نے کہا اے اللہ کے نبی میں آپ کی بحت میں اتنے سال رہا، میں نے آپ سے کبھی اللہ کی بھیجی ہوئی وحی کے بارے پوچھا جب تک آپ (علیہ السلام) نے خود بتانے کی ابتداء نہیں کی، یہ کہہ کر کچھ بھی نہیں بتایا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات دیکھی تو موت کو پسند کرنے لگے اور زندگی کو ناپسند۔
ھمام بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوہریرہ ؓ نے خبردی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ملک الموت موسیٰ بن عمران کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے رب کو جواب دیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے موت کے فرشتے کی آنکھ پر طمانچہ مارا جس سے آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے مجھے اپنے ایسے بند کے پاس بھیج دیا جو موت کو نہیں چاہتا اور میری آنکھ پھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ ٹھیک کردی اور کہا میرے بندے کے پاس واپس جائو اور ان سے پوچھو کیا آپ زندگی چاہتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیں تو آپ کا ہاتھ جتنے بالوں کو چھپالے گا اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔
آپ (علیہ السلام) نے پوچھا اس کے بعد ؟ ملک الموت نے کہا کہ آپ کو موت آجائے گی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اب ٹھیک ہے۔ اے میرے رب ! مجھے ارض مقدس سے اتنا قریب کردے جتنا ایک پتھر پھینکنے کی مسافت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر میں وہاں ہوتا تو میں تم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر دکھاتا جو راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ہے اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی ضرورت سے گھر سے نکلے تو فرشتوں کی ایک جماعت پر گزر ہوا جو ایک قبر کھود رہے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اچھی اور اس جیسی قبر کبھی نہ دیکھی تھی کیونکہ اس میں سبزہ ، رونق اور ترو تازگی تھی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا اے اللہ کے فرشتو ! اس قبر کو کیوں کھود رہے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کے ایک معزز بندے کے لیے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اس بندے کا اللہ کے ہاں بہت مرتبہ ہوگا ؟ میں نے آج تک ایسی آرام گاہ نہیں دیکھی تو فرشتوں نے کہا اے اللہ کے چنے ہوئے نبی کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ یہ آپ (علیہ السلام) کی ہوجائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایاں ہاں۔ تو فرشتوں نے کہا اس میں اتر کر سو جائیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہوکرسو گئے پھر آسانی سے سانس لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی اور فرشتوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بند کردی اور بعض نے کہا کہ ملک الموت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جنت کا سیب لائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سونگھا تو ان کی روح قبض کرلی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) وفات پاگئے اور چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ اللہ نے جبابرہ سے جنگ کا حکم دیا ہے تو انہوں نے تصدیق اور اتباع کی تو یوشع (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر ایرحاء کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کے ساتھ میثاق کا تابوت تھا۔ انہوں نے اریحاء کا چھ ماہ محاصرہ کیا، ساتویں ماہ سینگوں میں پھ ونک مار کر پورے قبیلے نے ایک ساتھ آواز لگائی اور شور مچایا اور مدینہ کی دیوار گرگئی اور شہر میں داخل ہوئے اور جبارین نے جنگ کی اور ان کو شکست دی اور ان کو گھیر کر قتل کیا اور بنی اسرائیل کی ایک جماعت جبارین کے ایک آدمی کی گردن پر جمع ہوکر وار کرتے اور اس کے کٹنے تک لگے رہتے۔ یہ قتال جمعہ کے دن شروع ہوا تھا اور باقی چند افراد رہ گئے اور سورج غرب ہونے لگا اور ہفتہ کی رات داخل ہونے لگی تو یوشع (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ ! تو سورج کو واپس کردے اور سورج کو کہا کہ تو بھی اللہ کی اطاعت میں ہے اور ہم بھی تو ٹھہر جا اور چاند کو کہا ہم ہفتہ کا دن آنے سے پہلے اللہ کے دشمنوں سے انتقام لے لیں تو سورج واپس کردیا گیا اور دن میں کچھ گھڑی کا اضافہ کردیا گیا حتیٰ کہ ان سب کو قتل کردیا گیا۔
اور شام کے بادشاہوں کا ارادہ کیا اور ان میں سے اکتیس کو تباہ و برباد کردیا اور تمام ملک شام پر غلبہ حاصل کرلیا اور تمام ملک شام بنی اسرائیل کا ہوگیا۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) نے اپنے عاملین کو ملک کے اطراف میں بھیج کر تمام مال غنیمت جمع کرایا لیکن اس پر آسمان سے آگ نہیں اتری تو اللہ تعالیٰ نے یوشع (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ اس مال میں خیانت ہوئی ہے تو آپ ان سب کو حکم دیں کہ وہ آپ کی بیعت کریں۔ جب سب نے بیعت کی تو اس خائن کا ہاتھ یوشع (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جڑ گیا تو حضرت یوشع (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو کچھ چھپایا ہے وہ لے آئو تو سونے کا بنا ہوا بیل کا سر لایا جس پر یاقوت اور ہیرے موتی جڑے ہوئے تھے۔ اس نے اس کی خیانت کی تھی۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) نے اس آدمی کو بھی مال غنیمت میں ڈال دیا اور آگ آئی اور اس آدمی سمیت سب مال کو جلا دیا۔ پھر یوشع (علیہ السلام) بھی وفات پاگئے اور جبل افرائیم میں دفن کیے گئے۔ ان کی عمر ایک سو چھبیس سال تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ستائیس سال تک بنی اسرائیل کی ذمہ داری سنبھالی۔
Ayah 5:27آیت نمبر 27
تفسیر : (واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق) ( اور آپ سنائیں ان کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حقیقی حال) اور وہ دونوں ہابیل اور قابیل تھے اور اس کو قابین بھی کہا جاتا ہے۔
ہابیل و قابیل کا واقعہ
(اذقربا قربانا) (جب نیاز کی ان دونوں نے کچھ نیاز) اور ان کی اس قربانی کا سبب اہل علم نے یہ ذکر کیا ہے کہ حوا (علیہا السلام) سے ہر بطن میں ایک لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی اور ان کی تمام اولاد چالیس بچے تھے۔ بیس بطن سے ان میں سے پہلا قابیل اور اس کی جڑواں بہن اقلیما تھی اور آخری عبدالمغیث اور اس کی جڑواں بہن امۃ المغیث تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں برکت دی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آدم کی زندگی میں ان کی آل اولاد چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ علماء کا ہابیل اور قابیل کی جائے پیدائش میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آدم و حوا (علیہم السلام) کے زمین پر اترنے کے سو سال بعد قابیل اور اس کی جڑواں بہن اقلیما ایک بطن سے پیدا ہوئے پھر ہابیل اور اس کی جڑواں بہن لبودا پیدا ہوئی اور محمد بن اسحاق (رح) نے پہلی کتابوں کے بعض اہل علم سے نقل کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کے شجرہ ممنوعہ کھانے سے قبل جنت میں ملاپ سے قابیل اور اس کی اقلیما حوا (علیہا السلام) کے پیٹ میں آچکے تھے تو حضرت حوا (علیہا السلام) سے بغیر کسی کمزوری اور خون اور تکلیف کے یہ پہلی اولاد ہوئی۔
اور بعد میں معاملہ برعکس رہا۔ آدم (علیہ السلام) کی اولاد جب جوان ہوجاتی تو ایک بطن کے لڑکے کا دوسرے بطن کی لڑکی سے نکاح کردیتے۔ اس وقت آدمی کا نکاح اپنی بہنوں میں سے کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا سوائے جڑواں بہن کے۔ اس لیے کہ اس وقت اپنی بہنوں کے علاوہ اور کوئی عورت تھی ہی نہیں۔ جب قابیل اور اقلیما پیدا ہوئے اور کلبی کے قول کے مطابق دو سال بعد ہابیل اور لبود اور جب یہ بالغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ قابیل کا نکاح لبودا سے اور ہابیل کا نکاح اقلیما سے کردیں۔ قابیل کی جڑواں بہن اقلیما لبودا سے زیادہ خوبصورت تھی۔ آدم (علیہ السلام) نے یہ حکم بیٹوں کو سنایا تو ہابیل راضی ہوگیا اور قابیل ناراض اور کہنے لگے یہ میری بہن ہے اس پر میرا حق زیادہ ہے اور ہم جنت کی اولاد ہیں اور یہ زمین کی۔ تو آدم (علیہ السلام) نے کہا وہ تیرے لیے حلال نہیں اس نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ اللہ نے یہ حکم نہیں دیا یہ آپ کی اپنی رائے ہے تو آدم (علیہ السلام) نے ان دونوں کو کہا کہ تم کوئی قربانی دو جس کی قبول ہوگئی وہ اس لڑکی کا زیادہ حق دار ہے۔ اس وقت صدقہ وق ربانی کی قبولیت کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ اتر کر اس کو کھا جاتی تھی اور جو قبول نہ ہو اس کو آگ نہیں بلکہ پرندے اور درندے کھاتے تھے۔ یہ دونوں قربانی دینے گئے ، قابیل کاشتکار تھا اس نے اپنی گھٹیا گندم کی ڈھیری رکھ دی اور دل میں کہا کہ مجھے کیا قبول ہو یا نہ میں تو اپنی جڑواں بہن سے ہی نکاح کروں گا اور ہابیل بکریوں والا تھا اس نے عمدہ مینڈھا تلاش کیا ریوڑ میں سے اور دل میں اللہ کی رضا کی نیت کرلی، انہوں نے اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھ دیں اور آدم (علیہ السلام) نے دعا کی تو آسمان سے آگ اتری اور ہابیل کی قربانی کو کھایا مگر قابیل کی قربانی کو کچھ نہ کہا۔ یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (فتقبل من اجدھما) مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی) یعنی ہابیل ۔ (ولم یتقبل من الاخر) ( اور نہیں قبول کی گئی دوسرے کی) یعنی قابیل کی۔ جب یہ پہاڑ سے اتر آئے تو قابیل اپنی قربانی قبول نہ ہونے کی وجہ سے بہت غصہ میں تھا اور اپنے دل میں حسد چھپالیا۔ ایک دن آدم (علیہ السلام) مکہ آئے بیت اللہ کی زیارت کے لیے تو ان کی عدم موجودگی میں قابیل ہابیل کے پاس آیا وہ اپنے ریوڑ میں کھڑے تھے ۔ ( قال لاقتلنک) (کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی قبول اور میری رد کردی تو میری خوبصورت بہن سے نکاح کرے اور میں تیری بدصورت بہن سے۔ اس وجہ سے لوگ یہ باتیں کریں گے کہ تو مجھ سے بہتر ہے اور تیری اولاد میری اولاد پر ان باتوں کی وجہ سے فخر کرے گی۔ ہابیل نے کہا اس میں میرا کی گناہ ہے۔ ( قال انما یقبل اللہ من المتقین) ( اللہ تعالیٰ تو صرف پرہیز گاروں سے قبول کرتے ہیں۔ )
Ayahs 5:28–30آیت نمبر 30, 29, 28
تفسیر : (لئن م بسطت الی یدک لتقتلنی ماانا بباسط یدی الیک لاقتلک انی اخاف اللہ رب العلمین) (اگر تو ہاتھ چلائے گا) میری طرف مارنے کو میں نہ ہاتھ چلائوں گا تجھ پر مارنے کو میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا) ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہابیل اپنے بھائی سے زیادہ طاقتور تھے لیکن ان کو یہ شرم آئی کہ میں اپنے بھائی پر ہاتھ کیسے اٹھائوں اور شریعت میں یہ جائز ہے کہ کسی کو قتل کیا جارہا ہو تو وہ ثواب کے لیے مزاحمت نہ کرے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس وقت یہ بات فرض کی تھی کہ کوئی شخص کسی کو قتل کرنے لگے تو وہ بصر کرے مزاحمت نہ کرے۔
(انی ارید ان تبوئ) (میں چاہتا ہوں کہ تو حاصل کرے) تو لوٹے اور بعض نے کہا تو اٹھائے ( باثمی و الملک) (میرا گناہ اور اپنا گناہ) یعنی میرے قتل کا گناہ اپنے دیگر گناہوں کے ساتھ جو اس سے پہلے تو کرچکا ہے۔ یہ اکثر مفسرین کا قول ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ تجھ پر میری خطائوں کا بھی بوجھ ہو جب تک مجھے قتل کرے گا اور اپنے گناہ اس کے علاوہ تو اس طرح تو میرا خون اور گناہ دونوں اٹھائے گا اور بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ تو میرے قتل کا گناہ اور اپنی اس نافرمانی کا گناہ بھی حاصل کرے جس کی وجہ سے تیری قربانی قبول نہیں ہوئی یا اپنے حسد کا گناہ بھی حاصل کرے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ہابیل نے یہ کیسے کہہ دیا کہ میرا ارادہ ہے کہ تو میرے اور اپنے گناہ کو حاصل کرے حالانکہ گناہ کا ارادہ کرنا تو جائز نہیں ہے تو جواب یہ ہے کہ یہ حقیقتاً ارادہ ان کا ارادہ نہیں تھا لیکن جب ان کو یقین ہوگیا کہ بھائی مجھے ہر حال میں قتل کرے گا تو ثواب کی امید پر انہں نے اپنے نفس کو راضی کرلیا تو مجازاً یوں کہا جاسکتا ہ کے کہ انہوں نے اپنے قتل کا ارادہ کیا اگرچہ حقیقتاً یہ مراد نہیں تھی اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ تو میر یقتل کی سزا کو حاصل کرے تو یہ صحیح ارادہ ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہے اور یہ قتل کا ارادہ نہیں بلکہ قتل کی سزا و گناہ کا ارادہ ہے ۔ ( فتکون من اصحاب النار وذلک جزائو الالظلمین) ( پھر تو ہوجائے دوزخ والوں میں سے اور یہی ہے ظالموں کی سزا)
(فطوعت لہ نفسہ) ( پھر راضی کیا اس کو اس کے نفس نے) یعنی اس کو تیار کیا اور اس کی مدد کی اور ابھارا ( قتل اخیہ) ( اپنے بھائی کے خون پر) اپنے بھائی کے قتل کرنے میں اور مجاہد کتے ہیں کہ اس کو نفس نے خوب ابھارا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں نفس نے بھائی کا قتل بڑا خوبصورت کرکے دکھایا اور یمان کہتے ہیں کہ اس کو آسان بتلایا یعنی اس کے نفس نے اس بات پر آمادہ کیا کہ تیرے بھائی کا قتل بہت آسان ہے۔ پھر قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کردیا جب اس نے پکا ارادہ کیا تو قتل کا طریقہ معلوم نہیں تھا تو ابن جریج فرماتے ہیں کہ شیطان انسانی شکل میں آیا اور ایک پرندہ پکڑ کر اس کو ایک پتھر پر رکھ کر دوسرا پتھر اٹھا کر اس کے سر پر مارا وہ مرگیا۔ قابیل نے یہ طریقہ سیکھ لیا اور ہابیل کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر پھاڑ دیا۔ بعض نے کہا ہابیل قتل کے وقت مطیع تھے اور بعض نے کہا وہ سوئے ہوئے تھے اس نے غفلت میں ان کا سر پھاڑ کر قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( فقتلہ فاصبح من الخسرین) ( پھر اس کو مار ڈالا سو ہوگیا نقصان اٹھانے والوں میں)
Ayah 5:31آیت نمبر 31
(فبعہ اللہ غراباً یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سوء ۃ اخیہ) ( پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا جو زمین کو کریدتا تھا تاکہ اس کو دکھلا دے کہ کیسے چھپانی ہے اپنے بھائی کی لاش) جب قابیل نے کوے کو یہ کرتے دیکھا تو (قال …سواۃ اخی) (بولا اے افسوس ! مجھ سے اتنا نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہو جائوں کہ اپنے بھاء ی کی لاش کو چھپائوں) یعنی بھائی کی لاش چھپائوں بعض نے کہا اس کی شرمگاہ کو چھپائوں کیونکہ قابیل نے ان کے کپڑے اتار لیے تھے۔ (فاصبح من النادمین) (پھر پچھتانے لگا) اس کی لاش کندھے پر اٹھانے پر شرمندہ ہوا نہ کہ قتل پر اور بعض نے کہا کہ بھائی کی جدائی پر افسوس ہوا اور بعض نے کہا اس کے قتل سے فائدہ کم ہوا کیونکہ والد ناراض ہوگئے اس لیے شرمندہ ہوا کیونکہ اس قتل سے نفع کچھ نہ ہوا۔ اس قتل پر شرمندگی نہ ہوئی تھی۔ عبدالمطلب بن عبداللہ بن حنطب ؓ فرماتے ہیں کہ جب قابیل نے بھائی کو قتل کردیا تو زمین سات دن پیاسی رہی اور پھر ہابیل کا خون پیا پان کی طرح۔ آدم (علیہ السلام) نے قابیل سے پوچھا کہ تیرا بھائی ہابیل کہاں ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں ، میں اس کا نگران نہیں ہوں تو آدم (علیہ السلام) نے فرمایا تیرے بھائی کا خون مجھے زمین سے پکار رہا ہے۔ تو نے بھائی کو کیوں قتل کیا ؟ تو قابیل نے کہا اگر میں نے قتل کیا ہے تو خون کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت سے زمین پر خون کا پینا حرام کردیا ہے۔
ہابیل کے قتل ہوجانے پر ہر چیز کا ذائقہ کڑوا ہوگیا
ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے مکہ جانے پر قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو درختوں کے کانٹے نکل آئے اور کھانے خراب ہوگئے اور میوے کھٹے اور پانی چل پڑا اور زمین غبار آلود ہوگئی تو آدم (علیہ السلام) نے سوچا کوئی نئی بات ہوگئی ہے تو ہندوستان تشریف لائے تو قابیل ہابیل کو قتل کرچکا تھا تو انہوں نے شعر کہا اور آدم (علیہ السلام) نے دنیا میں پہلا شعر کہا :
تغیرت البلاد ومن علیھا
تغیر کل ذی طعلم ولون
فوجہ الارض مغیر قبیح
وقل بشاشۃ الوجہ الملیح
شہر اور ان پر آباد لوگ تبدیل ہوگئے۔ پس زمین کا چہرہ غبار آلود بدصورت ہوگیا۔ ہر ذائقہ اور رنگ والی چیز تبدیل ہوگئی۔ خوبصورت چہرہ کی تروتازگی کم ہوگئی۔ میمون بن مہران نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جس نے یہ کہا کہ آدم (علیہ السلام) نے شعر کہا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ کہا کیونکہ محمد ﷺ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) شعر کی ممانعت میں برابر ہیں لیکن جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو آدم (علیہ السلام) نے سریانی زبان میں ان کا مرثیہ کہا اور حضرت شیث (علیہ السلام) کو کہا اے میرے بیٹے آپ میرے وصی ہو اس کلام کو بصور وراثت محفوظ کرلو تاکہ لوگوں کے دل اس سے نرم ہوں یہ مرثیہ نسل درنسل چلتا ہوا یعرب بن قحطان تک پہنچ گیا۔ اس کو عربی اور سریانی پر مہارت تھی۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے عربی کو لکھا یہ شاعر تھا اس نے اس مرثیہ میں تقدیم و تاخیر کرکے شعر کے وزن پر کردیا اور چند اشعار کا اضافہ کردیا۔
ومالی لا اجبودبسکب دمع
اری طول الحیاۃ علی غما
وھابیل تضمنہ الضریح
فھل انا من حیاتی مستریح
” مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں آنسو بہانے میں سخاوت نہیں کرتا حالانکہ ہابیل تو قبر میں ہے۔ میں لمبی زندگی کو اپنے اوپر غم خیال کرتا ہوں۔ کیا میں اپنی زندگی سے راحت حاصل کرسکتا ہوں۔ “
پھر جب ہابیل کے قتل کو پانچ سال گزر گئے اور آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو تیس سال ہوگئی تو حضر حوا (علیہا السلام) سے حضرت شیث (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ ان کا نام عبداللہ تھا اور یہ ہابیل کے اچھے جانشین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو رات و دن کی گھڑیوں کا علم دیا اور ہر گھڑی میں مخلوق کی عبادت کا بھی علم دیا اور ان پر پچاس صحیفے نازل کیے تو یہ آدم (علیہ السلام) کے وصی اور ولی عہد ہوئے۔
آگ کی پوجا کی ابتداء قابیل نے کی
بہرحال قابیل کو کہا گیا کہ تو یہاں سے چلا جا دھتکارا ہوا گھبرایا ہوا اور مرعوب تو جس کو دیکھے گا اس سے بےخوف نہ ہوگا۔ اس نے بہن اقلیما کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر عدن یمن کی طرف بھاگ گیا۔ وہاں اس کے پاس شیطان آیا اور اس کو کہا کہ آگ نے ہابیل کی قربانی اس وجہ سے کھائی کہ وہ آگ کی عبادت کرتا تھا تو تو بھی آگ کو خدا بنالے یہ تجھے اور تیری اولاد کو نفع دے گا تو اس نے ایک گھر بنایا، آگ کی عبادت کے لیے یہ پہلا شخص ہے جس نے آگ کی پوجا کی۔ قابیل کی اولاد میں جس کا بھی اس پر گزر ہوتا اس کو پتھر مارتے۔ ایک دن قابیل کا نابینا بیٹا اپنے بیٹے کے ساتھ آیا اس کے بیٹے نے نابینا کو کہا ابا جان ! یہ آپ کے والد ہیں اس نابینا نے پتھر مار کر قابیل کو قتل کردیا۔ بیٹے نے کہا ابا جان آپ نے اپنے والد کو مار دیا ؟ تو اس نابینا نے غصہ میں بیٹے کو تھپڑ مارا وہ بھی مرگیا۔ اب وہ نابینا کہنے لگا کہ میرے لیے ہلاکت ہے کہ میں نے ایک پتھر سے باپ کو اور تھپڑ سے بیٹے کو قتل کردیا۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ قابیل کی ایک ٹانگ اور پائوں باندھ کر اس کو لٹکا دیا گیا اور قیامت تک لٹکا رہے گا۔ اس کا چہرہ سورج کی طرف ہے جہاں جہاں سورج گھومتا ہے وہ بھی ساتھ گھومتا ہے اور فرمایا کہ قابیل کی اولاد نے بینڈ باجے طبلے وغیرہ آلات لہو بنائے اور شراب پینے ، کھیل کود اور زنا آگ کی پوجا اور دیگرے بےحیائیوں میں سست ہوگئے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کو طوفان سے غرق کردیا اور صرف شیث (علیہ السلام) کی نسل باقی رہ گئی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص ظلماً قتل کیا جاتا ہے تو آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر اس کے خون کا گناہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ جاری کیا۔
Ayah 5:32آیت نمبر 32
تفسیر : (من اجل ذلک) (اسی سبب سے ) ابو جعفر (رح) نے ” من اجل ڈالک “ کو نون کے کسرہ کے ساتھ ملا کر پڑھا ہے اور اکثر قراء نے نون کے جزم اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ جدا کرکے۔ یعنی اس قاتل کی سزا اور چٹی کی وجہ سے (کتبنا علیٰ بنی اسرآء یل انہ من قتل نفساً بغیر نفس) ( لکھا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے) قتل کیا اس کو تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ ( اوفساد فی الارض) (یا ملک میں فساد کرنے کے بغیر) یعنی بغیر قصاص لینے اور کفر ، زنا ، ڈاکہ وغیرہ کے ذریعے ملک میں فساد کرنے کے بغیر قتل کیا۔ (فکانما قتل الناس جمیعاً ) ( تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو) اس کی تفسیر میں اختلاف ہے۔
نبی یا عادل بادشاہ کو قتل کرنا پوری امت کو قتل کرنے کے برابر ہے
عکرمہ کی روایت میں ابن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ جس نے نبی یا عادل بادشاہ کو قتل کیا تو اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے نبی یا امام عادل کی قوت بڑھائی اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کیا۔ مجاہد (رح) اللہ فرماتے ہیں جس نے ناحق کسی کو قتل کیا تو ایسی آگ بھڑکتی ہے جیسے اگر تمام لوگوں کو قتل کرتا تو بھڑکتی ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اجر کو بڑا کیا اور گناہ کو بہت زیادہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے کسی مسلمان کے ناحق قتل کو حلال سمجھا گویا کہ اس کو تمام لوگوں کے قتل کرنے کا گناہ ہوا اس لیے کہ ایک کو قتل کردیا تو باقی بھی اس سے محفوظ نہ ہوئے (ومن احیاھا) (اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو) اور اس کے قتل سے پرہیز کیا۔ ( فکانما احیا الناس جمیعا) ( تو گویا زندہ کردیا سب لوگوں کو) کیونکہ سب لوگ اس سے محفوظ ہوگئے تو ثواب ملے گا۔
حسن (رح) فرماتے ہیں کہ سب لوگوں کو قتل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ایسا قصاص لینا واجب ہے جیسا اگر سب لوگوں کو قتل کرتا تو لیا جاتا اور ” ومن احیاھا “ کا مطلب یہ ہے کہ جس پر قاص واجب تھا اس کو معاف کردیا اور قتل نہیں کیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ کردیا۔ سلیمان بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو کہا اے ابو سعید ! کیا یہ حکم بنی اسرائیل کی طرح ہمیں بھی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں بنی اسرائیل کے خون ہمارے خون سے اللہ کے ہاں زیادہ مرتبہ والے نہیں تھے ( ولقد جاء تھم رسلنا بالبینت ثم ان کثیرا منھم بعد ذلک فی الارض لمسرفون اور لاچکے ہیں ان کے پاس ہمارے رسول کھلے ہوئے حکم پھر بہت سے لوگ ان میں سے اس پر بھی دست درازی کرتے ہیں۔ )
Ayah 5:33آیت نمبر 33
تفسیر : (انما جزوا الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا) ( یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو۔ الخ)
ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل کتاب کی ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ان کے اور نبی کریم ﷺ کے مابین عہد تھا۔ انہوں نے عہد توڑ دیا اور ڈاکہ مار کر زمین میں فساد مچانے لگے۔
اور کلبی (رح) کہتے ہیں یہ ہلال بن عویمر کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہلال بن عویمر جو کہ ابوبردۃ الاسلمی ہیں سے یہ معاہدہ تھا کہ نہ ان کی کوئی مدد کریں گے اور نہ ان کے کسی دشمن کی ان کے خلاف اور جو شخص ہلال بن عویمر کے علاقہ سے گزر کر حضور ﷺ کی طرف آن چاہے وہ امن و الا ہوگا اس کو کوئی تنگ نہ کرے گا تو بنی کنانہ کی ایک جماعت اسلام لانے کے ارادہ سے ہلال بن عویمر کی قوم کے چند مسلمانوں کے ساتھ چل پڑی۔ اس وقت ہلال وہاں موجود نہ تھے تو ان کی قوم نے ان کو لوٹ کر قتل کردیا تو جبرئیل (علیہ السلام) ان کے بارے میں یہ فیصلہ لے کر آئے۔
قبیلہ عرینہ کا قصہ
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ آیت قبیلہ عرینہ اور عکل کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کے چند لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام پر بیعت کی لیکن یہ لوگ جھوٹے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ان کو صدقہ کے اونٹوں کی طرف بھیجا تو یہ مرتد ہوگئے اور چرواہے کو قتل کرکے اونٹ ہانک کرلے گئے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عکل کے چند لوگ آئے اور مسلمان ہوگئے اور مدینہ کی آب و ہوا ان کے ناموافق تھی تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کے پاس جاکر ان کا دودھ اور پیشاب پی لیں۔ انہوں نے ایسا کیا تو تندرست ہوگئے اور مرتد ہوکر ان کے چرواہوں کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کرلے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے تعاقب میں لشکر بھیجا جو ان کو گرفتار کرکے لایا۔ آپ (علیہ السلام) نے ان کے ہاتھ پائوں کٹوا دیئے اور آنکھیں نکلوا دیں اور ان کے خون روکنے کا انتظام نہیں کیا۔ اسی حال میں وہ مرگئے اور ابوقلابہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے ہاتھ پائوں کا ٹدیئے گئے پھر ان کی آنکھوں میں میخیں پھیری گئیں اور ان کو حرۃ میں پھینک دیا گیا وہ پانی مانگتے تھے ان کو پانی نہ دیا گیا حتیٰ کہ وہ مرگئے۔ ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے قتل، چوری، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ اور زمین میں فساد جیسے جرائم کیے۔ ان عرینہ والوں کے حکم میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا یہ حکم منسوخ ہے اس لیے کہ اب مثلہ (شکل بگاڑ دینا) جائز نہیں اور بعض نے کہا یہ حکم اب بھی ہے صرف مثلہ اور آنکھیں نکالنا منسوخ ہوگیا ہے۔
قتادہ (رح) نے ابن سیرین (رح) سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ حد شرعی کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے اور ابو الزناد فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حد کا حکم نازل کیا اور مثلہ سے روک دیا، دوبارہ ایسا نہیں کیا گیا اور قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ ﷺ صدقہ کی ترغیب دیتے تھے اور ” مثلہ “ سے منع کرتے تھے۔
مثلہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
سلیمان التیمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کی آنکھیں اس وجہ سے پھوڑی تھیں کہ انہوں نے بھی چرواہوں کی آنکھیں پھوڑی تھیں اور لیث بن سعد فرماتے ہیں کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تعلیم دی گئی ہے کہ ان کو یہ سزا دی جانی چاہیے تھی نہ کہ مثلہ اس لیے جب نبی کریم ﷺ جب خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو مثلہ سے منع کیا اور علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ اس حد کے کون لوگ مستحق ہیں تو ایک قوم نے کہا یہ حد ان لوگوں کے لیے ہے جو ڈاکہ ڈالیں اور مسلمانوں پر اسلحہ اٹھائیں اور شہروں میں فساد ڈالیں اور یہی اوزاعی، امام مالک، لیث بن سعد اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ شہر میں فساد مچانے اور غلبہ کرنے والوں کا یہ حکم نہیں ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور لڑائی کرنے والوں کی سزا اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی ہے :( ان یقتلوا او فصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف اوینفوا من الارض) (کہ ان کو قتل کیا جائے یا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف جانب سے یا دور کردیئے جائیں اس جگہ سے) ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ امام کو جنگجو لوگوں کے بارے میں اختیار ہے کہ ان کو قتل کرے یا ہاتھ پائوں کاٹے یا سولی چڑھائے یا جلاوطن کرے جیسا کہ آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے اور یہی سعید بن مسیب، حسن ، نخعی اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے اور اکثر حضرات اس جانب گئے ہیں کہ یہ سزائیں جرائم کے مطابق ہیں اختیاری نہیں ہے۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو ابن عباس ؓ سے ڈاکوئوں کے بارے میں مروی ہے کہ جب ڈاکو قتل بھی کریں اور مال لوٹیں تو ان کو قتل کرکے سولی پر لٹکا دو اور اگر صرف قتل کریں مال نہ لیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے سولی پر نہ لٹکایا جائے اور جب وہ صرف مال لوٹیں قتل نہ کریں تو ان کے ایک ہاتھ اور ایک پائوں مخالف جانب سے کاٹے جائیں اور جب صرف مسافروں کو ڈرائیں اور مال نہ لیں تو ان کو جلا وطن کیا جائے اور یہی قتادہ، اوزاعی، امام شافعی رحمہما اللہ اور اصحاب الرأی کا قول ہے اور جب ڈاکو کسی کو قتل کردیں تو مقتول کے ورثا اگر معاف بھی کردیں۔ تب بھی اس ڈاکو کو قتل کیا جائے اور اگر نصاب کی مقدار مال لیں یعنی ایک دینار کا چوتھا حصہ تو دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں کاٹا جائے گا اور جب مال لوٹ کر قتل کردے تو قتل اور سولی چڑھایا جائے گا لیکن اس کی کیفیت میں اختلاف ہے۔
امام شافعی (رح) کا ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس کو پہلے قتل کیا جائے ، پھر سولی چڑھایا جائے اور بعض نے کہا زندہ حالت میں سولی پر چڑھا کر نیزہ مار کر زخمی کیا جائے اور اسی حالت میں مرجائے اور یہی لیث بن سعد (رح) کا قول ہے اور بعض نے کہا تین دن زندہ حالت میں سولی پر لٹکایا جائے پھر اتار کر قتل کیا جائے اور جب ڈاکو صرف ڈرائے دھمکائے تو جلاوطن کیا جائے گا۔ پھر اس جلاوطنی کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ امام اس کی تلاش جاری رکھے گا جب بھی جس شہر میں مل جائے وہاں سے جلاوطن کردیاجائے گا اور سعید بن جبیر ؓ اور عمر بن عبدالعزیز کا یہی قول ہے اور بعض نے کہا اس کو حد جاری کرنے کے لیے تلاش کیا جائے گا اور یہی ابن عباس ؓ اور لیث بن سعد کا قول اور امام شافعی (رح) اسی کے قائل ہیں اور اہل کوفہ فرماتے ہیں کہ آیت میں نفی سے مراد قید کرنا ہے اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ اپنے شہر سے دوسرے شہر کی طرف نکال کر وہاں اس کو قید کیا جائے گا جب تک توبہ نہ کرلے اور مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے جیلوں میں قید کیا اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ جب تک اس سے توبہ ظاہر نہ ہوجائے قید رہے، میں اس کو دوسرے شہر نہیں بھیجوں گا کہ وہاں تکلیف دے (ذلک یہ) جو حد ذکر کی گئی ہے (لھم خزی ان کی رسوائی ہے) عذاب اور ذلت و رسوائی ہے ( فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے)
Ayah 5:34آیت نمبر 34
تفسیر : (الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جن حضرات کے نزدیک یہ آیت کفار کے بارے میں نازل ہوئی ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ مگر جن لوگوں نے اپنے شرک سے توبہ کی اور ان پر قابو پانے سے پہلے اسلام لے آئے اور مطیع ہوگئے تو ان پر کوئی حد جاری نہ ہوگی اور کفر کی حالت میں جو خون بہائے اور مال لوٹے وہ معاف ہوں گے اور بہرحال مسلمان جنگجو جوان میں سے پکڑے جانے سے قبل توبہ کرلیں تو ان سے حقوق اللہ تو معاف ہوجائیں گے اور ان حقوق اللہ میں کوتاہی کی سزائیں بھی لیکن حقوق العباد میں تفصیل یہ ہے کہ اگر ڈاکہ کے دوران کسی کو قتل کردیا ہو اور پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرلیں تو ان سے قتل کا پختہ حکم تو ٹل جائے گا لیکن قصاص کا معاملہ اولیاء مقتول کے سپرد ہوگا۔ اگر وہ چاہیں تو قصاص لیں ورنہ معاف کردیں اور دیت لے لیں اور اگر توبہ سے قبل صرف مال لیا تھا تو قطع یدساقط ہوجائے گا اور اگر مال لے کر قتل کیا تھا پھر توبہ کی اور پکڑے گئے تو قتل اور سولی کا حتمی حکم ختم ہوجائے گا اور مال کی ضمان واجب ہوگی۔ یہی امام شافعی (رح) کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ مسلمان ڈاکو جب پکڑے جانے سے پہلے خود توبہ کرکے آجائے تو اس پر مال اور خون کا کوئی تاوان نہ ہوگا۔ ہاں ار کسی کا مال اس وقت اس کے پاس موجود ہو تو وہ واپس کرنا ہوگا اور حضرت علی ؓ سے حارثہ بن زید کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے خون بہایا اور مال لوٹا اور پکڑے جانے سے پہلے خود توبہ کرکے آگیا تو حضر علی ؓ نے اس سے کوئی تاوان نہ لیا تھا لیکن اگر پکڑے جانے کے بعد کوئی توبہ کرلے تو اس سے کوئی چیز معاف نہ ہوگی اور بعض نے کہا کہ حقوق کی وجہ سے جو سزا واجب ہوئی ہو مثلاً ڈاکہ کی سزا، چوری کی سزا، زنا کی سزا، شراب پینے کی سزا وغیرہ تو یہ توبہ کی وجہ سے ہر حال میں معاف ہوجائے گی لیکن اکثر علماء کے نزدیک پکڑے جانے کے بعد معاف نہ ہوں گی۔
Ayahs 5:35–38آیت نمبر 38, 37, 36, 35
تفسیر : (یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اور طل کرو ( الیہ الوسیلۃ) اس تک وسیلہ) یعنی قرب کا ذریعہ یہ فعیلتہ کے وزن پر ہے تو سل الی فلان سے لیا گیا ہے یعنی فلاں کی طرف قریب ہوگیا اس کی جمع وسائل آتی ہے ( وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون اور جہاد کرو اس کے راستہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو)
(ان الذین کفروا لوان لھم ما فی الارض جمیعاً و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیمۃ ماتقبل منھم جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سارا ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ ہوگا) اس آیت میں خبر دی ہے کہ کافر اگر تمام دنیا اور اس کے مثل کا مالک ہو اور عذاب سے چھٹکارے کے لیے سب کچھ دے تو اس سے یہ فدیہ قبول نہ ہوگا ( ولھم عذاب الیم اور ان کے واسطے درد ناک عذاب ہے)
(یریدون ان یخرجوا من النار وما ھم بخر جین منھا چاہیں گے کہ نکل جاویں آگ سے اور وہ اس سے نکلنے والے نہیں) اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ ارادہ کرکے اس سے نکلنے کا مطالبہ کریں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کلما ارادو ان یخرجوامنھا) جب بھی وہ اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اور دوسری یہ کہ صرف دل میں تمنا کریں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کی خبر دی ( ربنا اخرجنا منھا) اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال دے (ولھم عذاب مقیم اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے)
(والشارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما) اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت، کاٹ ڈالو ان کے ہاتھ) اس سے مراد ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں لکھا ہوا ہے اور مکمل حکم یہ ہے کہ جو شخص مال کی ایک خاص مقدار ایسی حفاظت کی جگہ سے چوری کرے جس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو تو اس کے پہونچے سے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اہل علم کے نزدیک نصاب سے کم مال کی چوری پر قطع ید نہیں ہے۔ ابن زبیر سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ تھوڑی سی چیز کی چوری پر ہاتھ کا ٹدیتے تھے اور اکثر علماء اس کے خلاف ہیں۔
کتنی مقدار میں قطع ید ہوگا ؟
مال کی کتنی مقدار پر ہاتھ کاٹا جائے گا اس میں اختلاف ہے۔ اکثر اہل علیم کے نزدیک ایک دینار کے چوتھے حصہ سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اگر دینار کا چوتھا حصہ یا سامان چرایا جس کی قیمت ربیع دینار کو پہنچ جاتی ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہی حضرت ابوبکر، حضرت عمرو عثمان و علی ؓ کا قول ہے اور عمر بن عبدالعزیز، امام اوزاعی، امام شافعی رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اس حدیث کی وجہ سے جو عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قطع ید دینار کی چوتھائی یا زائد میں ہوگا اور ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال چوری کرنے والے کا ہاتھ اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی اور حضرت عثمان ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے لیموں چوری کرنے والے کا ہاتھ کٹوایا۔ اس کی قیمت لگائی گئی تو تین درہم تھی اور امام مالک (رح) کا یہی قول ہے کہ تین درہم یا اس کی مالیت کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ایک دینار یا دس درہم یا اس کی مالیت سے کم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور یہی بات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے اور اسی طرف سفیان ثوری اور اصحاب رائے گئے ہیں اور ایک جماعت نے کہا پانچ درہم پر کاٹا جائے گا اور یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے اسی کے ابن ابی لیلیٰ قائل ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ چور پر لعنت کرے کہ وہ انڈہ اور رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ امام اعمش (رح) فرماتے ہیں علماء کے نزدیک اس حدیث میں لوہے کا انڈہ اور لوہے کی رسی مراد ہے اور یہ تین درہم کے برابر ہوئی تھی۔ اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جن کے نزدیک تھوڑی مالیت کی چیز پر بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور اکثر علماء کے نزدیک حدیث کا وہ مطلب ہے جو امام اعمش (رح) نے بیان کیا ہے کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص غیر محفوظ جگہ سے چوری کرے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا جیسے کسی باغ میں چوکیدار نہ ہو اور پھل چرائے یا جنگل بیابان میں چرواہا نہ ہو تو ریوڑ جانور چرالے یا ایسے گھر سے مال چوری کرے جو آبادی سے ہٹ کر ہو اور رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا لٹکے ہوئے پھل میں اور رسی سے بندھے ہوئے ریوڑ کی بکری چرانے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ حضرت جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ خیانت کرنے والے ، مال غنیمت کو لوٹنے والے اور اچک کر مال لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اگر ایسا مال چور کیا جس میں چور کا شبہ تھا جیسے غلام اپنے سردار کا مال چرالے یا بیٹا اپنے والد کا یا والد اپنی اولاد کا مال چرالے یا دو پارٹنرز میں سے ایک مشترک مال میں سے کچھ چرالے تو اس پر ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
چور بار بار چوری کرے تو اس کا کیا حکم ہے
جب چور پہلی دفعہ چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کلائی سے کاٹا جائے گا۔ پھر جب دوبارہ چوری کرے تو پائوں کے جوڑ سے بایاں پائوں کاٹا جائے گا اور تیسری دفعہ چوری کرے تو اس میں اختلاف ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک تیسری دفعہ بایاں ہاتھ اور چوتھی دفعہ دایاں پائوں کاٹ دیاجائے گا۔ پھر اگر اس کے بعد چوری کرے تو مناسب سزا دے کر قید کردیا جائے گا۔ جب تک توبہ نہ کرے اور یہی بات حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے اور یہی قتادہ، امام مالک و شافعی رحمہما اللہ کا قول ہے ان کی دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر چوری کرے تو پائوں کا ٹدو، پھر اگر چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ، پھر اگر چوری کرے تو پائوں کاٹ دو (الطبرانی) اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اگر تیسری دفعہ چوری کرے اور اس سے پہلے دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں کاٹ دیگ گیا ہو تو اب کوئی عضو نہ کاٹا جائے گا بلکہ اس کو قید کیا جائے گا اور یہی بات حضرت علی ؓ سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ مجھ یاس بات سے حیاء آتی ہے کہ میں استنجاء کے لیے اس کا کوئی ہاتھ نہ چھوڑوں اور چلنے کے لیے کوئی پائوں نہ چھوڑوں اور یہی امام شعبی اور امام نخعی رحمہما اللہ کا قول ہے اور اسی بات کے قائل امام اوزاعی اور احمد اور اصحاب رائے ہیں۔ ( جزاء بما کسباان کی کمائی کی سزا میں) یہ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے اور نکالا بھی اسی طرح حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (تنبیہ ہے) یعنی سزا ہے ( من اللہ ط واللہ عزیز حکم اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب ہے حکمت والا)