Ayah 5:89آیت نمبر 89
تفسیر : (لایواخذ کم اللہ باللغوفی ایمانکم نہیں پکڑتا تم کو اللہ تمہاری بیہودہ قسموں پر) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (لاتحرمواطیبات مااحل اللہ لکم نہ تم حرام کرو ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں) نازل ہوئی تو صحابہ ؓ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم جو قسمیں کھاچکے ہیں ان کا ہم کیا کریں ؟ کیونکہ یہ حضرات باہمی مشورہ سے اتفاق کرکے قسمیں کھاچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(ولکن یواخذ کم بما عقد تم الایمان لیکن پکڑتا ہے اس پر جس قسم کو تم نے مضبوط باندھا) حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” عقدتم “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر نے ” عاقدتم “ الف کے ساتھ اور باقی حضرات نے ” عقدتم “ شد کے ساتھ اور آیت میں معنی یہ ہے کہ تم اپنے عمد سے اراد کرچکے ہو ( فکفارتہ سو اس کا کفارہ) یعنی جو تم نے مضبوط قسم اٹھائی اور اس سے حانث ہوگئے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ (اطعام عشرۃ مسکین دس مسکینوں کو کھانا دینا)
دس مسکینوں کو کھانا دینے کی مقدار اور تفصیل
اس کی مقدار میں علماء کا اختلاف ہے۔ ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ہر مسکین کو نبی کریم ﷺ کے مد کے برابر ایک مد دے اور یہ مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور اس طرح تمام کفارات میں ہے اور یہی زید بن ثابت، ابن عباس ، ابن عمر ؓ کا قول ہے اور اسی کے قائل ہیں۔ سعید بن مسیب ، قاسم ، سلیمان بن یسار، عطاء ، حسن اور اہل عراق فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد دے اور یہ نصف صاع بنتا ہے اور یہی مروی ہے۔ حضرت عمر و علی ؓ سے اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر گندم دے تو نصف صاع اور اگر اس کے علاوہ سے دے تو ایک صاع دے اور یہی شعبی، تخعی ، سعید بن جبیر، مجاہد حکم کا قول ہے اور اگر ان کو صبح اور شام کا کھانا کھلادے تو یہ جائز نہیں ہے۔
اور امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور یہی حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔ کفارہ میں دراہم، دینار، روٹی اور آٹا دینا جائز نہیں ہے بلکہ گندم دینا واجب ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) نے ان تمام چیزوں کو جائز قرار دیا ہے اور اگر سارا کفارہ ایک کو دے تو یہ جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو جائز کہا ہ کے کہ دس مسکینوں کی جگہ ایک مسکین کو دس دن کھانا ہے۔ یہ کفارہ صرف آزاد ، محتاج مسلمانوں کو دینا جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے زمیوں کو کفارہ دینا جائز کہا ہے اور اس بات پر تمام علماء متفق ہیں کہ زکوٰۃ ذمیوں کو دینا جائز نہیں ہے ( من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوسط درجہ کا کھانا جو دیتے ہو اپنے گھر والوں کو) یعنی اپنے گھر والوں کی روزی میں سے بہترین۔ عبیدہ سلمانی فرماتے ہیں کہ اوسط سے روٹی اور سرکہ مراد ہے اور اعلیٰ روٹی اور گوشت اور ادنیٰ صرف روٹی ان میں سے جو بھی دے کافی ہے ( اوکسوتھم یا کپڑا پہنا دینا دس محتاجوں کو) جس آدمی کو قسم کا کفارہ لازم ہو تو اس کو اختیار ہے۔ اگر چاہے دس مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے اور اگر چاہے تو گردن آزاد کرے۔
پس اگر وہ کپڑے پہنانے کو اختیار کرے تو اس کپڑے کی مقدار میں اختلاف ہے۔ ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ہر مسکین کو ایک پکڑا پہنائے اتنی مقدار جس کو کپڑا کہا جاسکے جیسے تہبند یا چادر یا قمیض یا پگڑی وغیرہ اور یہی ابن عباس ؓ ، حسن، مجاہد ، عطاء اور طائوس رحمہما اللہ کا قول ہے اور اسی طرف امام شافعی (رح) گئے ہیں اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ہر انسان کے لیے اتنی مقدار واجب ہے جس میں نماز جائز ہو تو مردوں کو ایک کپڑا اور عورتوں کو دو کپڑے قمیض اور اوڑھنی دے اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ہر مسکین کو دو کپڑے دے (اوتحریر رقبۃ یا ایک گردن آزاد کرنی ہے) اور اگر غلام آزاد کرنا چاہے تو مومن غلام کو آزاد کرنا واجب ہے۔
قسم کے کفارے میں مومن غلام آزاد کرنا شرط ہے یا نہیں
اس طرح تمام کفارات میں مومن کی شرط ہے جیسے قتل، ظہار رمضان کے دن میں جماع کا کفارہ ان سب میں مومن غلام آزاد کرنا واجب ہے اور امام ابوحنیفہ اور مام ثوری رحمہما اللہ نے کافر غلام کے آزاد کرنے کو تمام کفارات میں جائز قرار دیا ہے سوائے قتل کے کفارے کے کیونکہ قتل کے کفارہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی قید لگائی ہے۔ ہم (شوافع) کہتے ہیں کہ مطلق حکم کو مقید پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن میں گواہی پر عدل کی قید لگائی اور فرمایا تم (واشھدوا ذری عدل منکم گواہ بنائو اپنے میں سے عدل والے دو لوگ اور دوسری جگہ گواہی کو عدل کی قید کے بغیر ذکر کیا اور فرمایا واستھدو شھدین من رجالکم تم گواہ بنائو دو گواہ اپنے مردوں میں سے۔ حالانکہ تمام گواہوں میں عدل شرط ہے مطلق کو مقید پر محمول کرتے ہوئے۔ اسی طرح یہ کفارہ بھی ہے۔
تمام علماء کا اتفاق ہے کہ مرتد غلام کو کفارہ میں آزاد کرنا جائز نہیں ہے اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ غلام مکمل غلام ہو حتیٰ کہ اگر اپنے کفارہ سے مکاتب یا ام ولد یا ایسے غلام کو آزاد کردیا جو آزادی کی شرط کے ساتھ خریدا گیا ہے یا ایسے قریبی رشتہ دار کو کفارہ کی نیت سے خریدا جو اس کے خریدتے ہی آزاد ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں غلام تو آزاد ہوجائے گا لیکن کفارہ ادا نہ ہوگا اور اصحاب رائے نے اس مکاتب کے آزاد کرنے کو جائز قرار دیا ہے جس نے اپنے بدل کتابت کی کوئی قسط ادا نہ کی ہو اور قریبی رشتہ دار کی آزادی کو بھی جائز قرار دیا ہے اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ غلام ہر اس عیب سے پاک ہو جو کام بہت سے نقصان دے۔ اس لیے ہاتھ کٹا ہو اور ایک پائوں کٹا ہو اور نابینا اور اپاہج اور پاگل غلام آزاد کرنا جائز نہیں اور کانا اور بہرہ اور کان کٹا، ناک کٹا غلام جائز ہے اس لیے کہ یہ عیب عمل سے واضح نقصان نہیں دیتے، اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر ایسا عیب جس کی وجہ سے منفعت کی کوئی جنس فوت ہوجائے تو اس عیب والے غلام کو آزاد کرنا جائز نہیں تو اس لیے آپ (رح) نے ایک ہاتھ کٹے ہوئے کی آزادی کو جائز قرار دیا لیکن دونوں کان کٹے ہوئے کو ناجائز کہا ( فمن لم یجد فصیام ثلاثۃ ایام پھر جس کو میسر نہ ہو تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے) یعنی جس پر کفارہ واجب ہے جب وہ کھنا دینے ، کپڑے پہنانے اور غلام آزاد کرنے سے عاجز آجائے تو اس پر تین دن کے روزے واجب ہیں۔
اور عجزیہ ہے کہ اس کے پاس اپنے مال میں سے گھر والوں اور اپنا راشن نکال کر اتنی مقدار نہ بچے کہ کھانا کھلا سکے یا کپڑے پہنا سکے یا غلام آزاد کرسکے تو وہ تین دن کے روزے رکھے اور بعض نے کہا کہ جب اتنے مال کا مالک ہو کہ کھانا کھلا سکے اگر اپنی ضرورت کا نہ بچے تو روزہ رکھنا جائز نہیں اور یہی حسن اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ کا قول ہے۔
قسم کے کفارے کے روزے لگاتار رکھے یا وقفہ سے
اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ روزے لگاتار رکھے یا نہ۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ لگاتار روزے رکھنا واجب نہیں لیکن افضل ہے اور یہ امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ لگاتار روزے رکھنے واجب ہیں۔ انہوں نے کافرہ ظہار اور قتل پر قیاس کیا ہے اور یہی سفیان ثوری اور ابوحنیفہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور ابن مسعود ؓ کی قرأت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں الفاظ یہ ہیں ” صیام ثلاثۃ ایام متنابعات “ (ذلک یہ) جو میں نے ذکر کیا ( کفارۃ ایمانکم اذا خلفتم کفارہ ہے تمہارے قسموں کا جب قسم کھا بیٹھو) اور حانث ہو جائو کیونکہ کفارہ تو حانث ہونے کے بعد ہی واجب ہوتا ہے حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات اس کے جائز ہونے کی طرف گئی ہے اس حدیث کی وجہ سے جو ہم تک پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی نے کسی کام کی قسم اٹھائی پھر اس کے علاوہ کو بہتر دیکھا تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور جو کام بہتر ہے وہ کرے۔ ( مسلم کتاب الایمان)
اور یہی ابن عمر، ابن عباس، عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے اور حسن اور ابن سیرین رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں اور امام مالک ، اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں مگر امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر حانث ہونے سے پہلے کفارہ روزہ کے ذریعے ادا کیا تو یہ جائز نہیں کیونکہ یہ بدنی کفارہ ہے۔ کھانے ، کپڑے اور آزادی کا کفارہ حانث ہونے سے پہلے دینا جائز ہے۔ جیسا کہ سال مکمل ہونے سے پہلے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
اور رمضان کا روزہ وقت سے پہلے رکھنا جائز نہیں اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ کفارہ کو حنث قر مقدم کرنا جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) بھی اسی کے قائل ہیں ( واحفظوا ایمانکم اور حفاظت رکھو اپنی قسموں کی) بعض نے کہا کہ اس سے قسم کا ترک مراد ہے یعنی قسم نہ کھائو اور کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جب تم قسم اٹھائو تو اس کو نہ توڑو۔ یہی قول زیادہ صحیح ہے تو اس صورت میں قسم کے ٹوٹنے سے حفاظت مراد ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جب کسی مستحب کام کے چھوڑنے اور مکروہ کام کے کرنے پر قسم نہ اٹھائی ہو لیکن اگر کسی مکروہ کام کے کرنے یا کسی مستحب کے چھوڑنے پر قسم کھائی ہو تو افضل یہ ہے کہ قسم توڑ کر کفارہ دے۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ ( ؓ ) ! تو امارت کا سوال نہ کر کیونکہ اگر وہ مانگنے سے دے دی گئی تو معاملہ تیرے سپرد کردیا جائے اور اگر بغیر مانگے دی گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کیا جائے گا اور جب تو قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر سمجھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کر جو بہتر ہے۔ ( کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تشکرون اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے حکم تاکہ تم احسان مانو)
Ayahs 5:90–91آیت نمبر 91, 90
تفسیر : (یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والا نصاب اے ایمان والو ! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت) یعنی بت۔ ان بتوں کو انصاب اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مشرکین ان کو گاڑھتے تھے۔ اس کا مفرونصب ہے نون کے زبر اور صاد کے سکون کے ساتھ اور نصب نون کے پیش کے ساتھ خفیف اور ثقیل ( والا زلام اور پانسے) یعنی وہ تیر جس کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ( رجس من عمل الشیطان سب گندے کام ہیں شیطان کے مزین کردہ ہیں ، فاجتنبوہ لعلکم تفلحون سوا ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پائو)
(انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب اور جوئے کے) شراب میں دشمنی یہ ہے کہ شرابی لوگ جب نشہ میں ہوتے ہیں تو اول فول بکتے ہیں اور باہم جھگڑتے ہیں جیسا کہ ان انصاری ؓ نے کیا جنہوں نے اونٹ کے جبڑے سے سعد بن ابی وقاص ؓ کا سر پھاڑا تھا اور بہرحال جوئے میں دشمنی تو قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ آدمی گھر والوں اور مال پر جوا کھیلتا تھا پھر جب ہار جاتا تو نہ مال رہتا اور نہ گھر والے تو غمزدہ رہتا ( ویصد کم عن ذکر اللہ وعن الصلوٰۃ اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے ) اور یہ اس طرح کہ جو شخص شراب پینے اور جوا کھیلتے میں مشغول ہوتا ہے تو یہ اس کو اللہ کی یاد سے غافل کردیتی ہیں اور نماز میں تشویش اور غلطی ہوتی ہے جیسا کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ کے مہمانوں نے کیا اور ایک آدمی آگے ہوا تاکہ مغرب کی نماز پڑھائے ، شراب پینے کے بعد تو سورة الکافرون پڑھی، لا کے بغیر صیغے پڑھے یعنی ” ابعد ماتعبدون …الخ “ ( فھل انتم منتھون سو اب بھی تم باز آئو گے ؟ ) یعنی باز آجائو لفظ سوال کے ہیں لیکن معنی حکم کا ہے جیسے اللہ کا فرمان ” فھل انتم شاکرون “ ہے۔
Ayahs 5:92–94آیت نمبر 94, 93, 92
تفسیر :(واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واحذروا اور حکم مانو اللہ کا حکم مانو رسول اللہ ﷺ کا اور بچتے رہو) حرام چیزوں اور جن کاموں سے روکا گیا ان کے کرنے سے ( فان لولیتم فاعلموا انما علی رسولنا البغ المبین پھر اگر تم پھر جائو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر) شراب پینے والے کی وعید میں ابن عمر رضی ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اور اللہ پر پختہ بات ہے کہ جو آدمی دنیا میں اس کو پئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو طینۃ الخبال پلائیں گے اور تم جانتے ہو کہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ جہنمیوں کا پسینہ اور ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہیں کی تو آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ وہ فرما رہے تھے اللہ نے لعنت کی شراب اور اس کے پینے والے اور پلانے والے اور اس کے بیچنے والے اور اس کے خریدنے والے اور اس کے نچوڑنے والے اور نچڑوانے والے اور اس کے اٹھانے والے اور جس کی طرف اٹھائی جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر۔
(لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کیے ان پر گناہ نہیں اس میں جو پہلے کھاچکے) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد سوال کیا۔ اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ہمارے جو بھائی وفات پا گئے اور وہ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے تو ان کا کیا معاملہ ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ (جو پہلے کھاچکے) اور شراب پی چکے اور جوئے کا مال کھاچکے ( اذا مااتقوا جب کہ آئندہ کو ڈر گئے ) شرک سے (وامنوا اور ایمان لائے یعنی تصدیق کی) (وعملوا الصلحت ثم اتقوا اور عمل نیک کیے پھر ڈرتے رہے) شراب اور جوئے سے ان کے حرام ہوجانے کے بعد (وامنو ثم اتقوا پھر یقین کیا پھر ڈرتے رہے) ان چیزوں سے جن کا کھنا پینا اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کیا ( واحسنوا ط واللہ یحب المحسنین اور نیکی کی اور اللہ دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو) اور کہا گیا ہے کہ پہلے کا معنی یہ ہے کہ جب شرک سے ڈرے اور یقین کیا اور تصدیق کی پھر ڈرتے رہے یعنی اس تقویٰ پر ہمیشگی رکھی اور ایمان لائے اور ایمان میں اضافہ ہوا پھر تمام گناہوں سے ڈرے اور نیک کام کیے اور کہا گیا ہے کہ وہ ڈرے احسان کے ساتھ اور ہر نیک کام کرنے والا متقی ہے اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
(یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید اے ایمان والو ! البتہ تم کو آزمائے گا اللہ ایک بات سے اس شکار میں ) یہ آیت حدیبیہ کے سال نازل ہوئی کہ صحابہ کرام ؓ احرام میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی شکار سے آزمائش کی وہ اس طرح کہ نیل گائے وہاں اتنی کثرت سے تھیں کہ ان کے کجاوں کو گھیر لیتی تھیں تو صحابہ کرام ؓ نے ان کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آزمائش کا فائدہ اپنی اطاعت کرنے والے کو ظاہر کرنا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو شکار میں آزمائش کی حاجت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ” بشیئ “ کی قید لگائی کیونکہ صحابہ ؓ کی آزمائش صرف خشکی کے شکار سے ہوئی تھی ( تنالہ ایدیکم جس پر پہنچتے ہی ہاتھ تمہارے) یعنی پرندوں کے بچے اور انڈے اور وہ چھوٹے شکار جو بھاگ نہ سکیں ( ورما حکم اور تمہارے نیزے) یعنی بڑے شکار ( لیعلم اللہ تاکہ معلوم کرے اللہ) تاکہ لوگوں کو دکھا دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے ( من یخافہ بالغیب کون اس سے ڈرتا ہے بن دیکھے) یعنی اس کو دیکھ بغیر ڈرتا ہے اور احرام کی حالت میں شکار نہیں کرتا ( بمفن اعتدی بعد ذلک پھر جس نے زیادتی کی اس کے بعد) یعنی حرمت نازل ہونے کے بعد شکار کیا ( فلہ عذاب الیم تو اس کے لیے عذاب درد ناک ہیض ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس کے کپڑے اتار لیے جائیں اور اس کی پیٹھ اور پیٹ پر کوڑے مارے جائیں۔
Ayah 5:95آیت نمبر 95
تفسیر : (یایھا الذین امنوا لاتقتلوا الصید وانتم حرم اے ایمان والو ! نہ مارو شکار جس وقت تم ہو احرام میں)
حالت احرام میں شکار کا حکم
یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو اور یہ حرام کی جمع ہے۔ یہ ایک شخص ابوالیسر کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے حالت احرام میں ایک نیل گائے کا شکار کیا تھا ( ومن قتلہ منکم متعمدا اور جو کوئی تم میں اس کو مارے جان کر) اس عمد کی مراد میں اختلاف ہے۔
ایک جماعت نے کہا کہ اس سے شکار کے قتل کا ارادہ مراد ہے جب اپنے احرام کی حالت کو بھول گیا ہو لیکن اگر احرام کی حالت یاد ہو اور شکار کرے تو اس پر کوئی حکم نہیں ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کیونکہ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کا کفارہ نہیں ہوسکتا۔ یہی مجاہد اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے اور دیگر حضرات نے کہا کہ عمد یہ ہے کہ محرم جان بوجھ کر شکار کرے اور اپنا احرام یاد ہو تو اس پر کفارہ ہے۔ اگر شکار کو بھول کر مار دے تو اس میں اختلاف ہے۔
اکثر فقہاء رحمہما اللہ کی رائے یہ ہے کہ عمد اور خطاء کا حکم برابر ہے کہ کفارہ لازم ہوگا اور زہری (رح) فرماتے ہیں کہ جان بوجھ کر شکار کرنے والے پر کتاب اللہ کی وجہ سے کفارہ ہوگا اور بھول کر کرنے والے سنت رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے۔
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ بھول کر شکار کرنے کی وجہ سے شکار کا کفارہ واجب نہ ہوگا بلکہ یہ کفارہ صرف عمد کے ساتھ خاص ہے ( فجزآء مثل تو اس پر بدلہ ہے برابر) اہل کوفہ اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” فجزائ “ کو تنوین اور ” مثل “ کو پیش کے ساتھ پڑھا ہ کے کہ یہ بدل ہے ” فجزائ “ سے اور باقیوں نے اضافت کے ساتھ ” فجزاء مثل “ پڑھا ہے ( ماقتل من النعم اس مارے ہوئے کے مویشی میں سے) اس کا معنی یہ اس مقتول شکار کی خلقت کے اعتبار سے جو چاپایہ قریب ہوگا وہ دینا پڑے گا قیمت کا اعتبار نہ ہوگا ( یحکم بہ ذوا عدل منکم جو تجویز کریں دو آدمی معتبر تم میں سے ) یعنی بدلہ کا فیصلہ دو عادل آدمی کریں گے اور مناسب یہ ہے کہ دونوں فقیہ ہوں ، یہ اس جانور کے زیاہ مشابہ کسی چوپایہ کو دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کریں گے اور جو لوگ گئے ہیں چوپایوں میں سے مثل واجب کرنے کی طرف ان میں عمر، عثمان، علی ، عبدالرحمن بن عوف، ابن عمر، ابن عباس (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) اور ان کے علاوہ صحابہ کرام ؓ ہیں ان حضرات نے مختلف شہروں ، مختلف زمانوں میں چوپایوں کی مثل کا فیصلہ کیا ۔
ان کے حاکم نے شتر مرغ میں اونٹ کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ قیمت میں مساوی نہیں ہے اور جنگلی گدھے میں گائے کا حالانکہ یہ قیمت میں گائے کے برابر نہیں ہوتا اور بجو میں مینڈھے کا حالانکہ وہ قیمت میں مینڈھے کے برابر نہیں ہوتا تو ان فیصلوں نے دلالت کی کہ ان حضرات نے شکار کی خلقت کی مشابہت کی طرف نظر کی اور کبوتر میں بکری واجب ہوگی۔ حضرت عمر ، عثمان اور ابن عباس رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ انہوں نے مکہ کہ کبوتر میں ایک بکری کا فیصلہ کیا ۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہ کے کہ عمر بن خطاب ؓ نے بجو میں ایک مینڈھے کا فیصلہ کیا اور ہرنی کے بچہ میں بکری کا اور خرگوش میں بکری کا سال سے کم بچہ ( ھدیا م بلغ الکعبۃ اس طرح سے کہ وہ جانور بدلے کا بطور نیاز پہنچایا جاوے کعبہ تک) یعنی وہ کفارہ کا جانور کعبہ کی طرف لایا جائے اور مکہ میں ذبح کرکے اس کا گوشت حرم کے مساکین پر صدقہ کیا جائے ( او کفارہ طعام مسکین او عدل ذلک صیاماً اس کفارہ ہے چند مساکین کو کھلانا یا اس کے برابر روزے)
فراء (رح) فرماتے ہیں کہ عدل عین کی زیر کے ساتھ کسی چیز کی جنس سے اس کی مثل اور عدل زبر کے ساتھ شی کی خلاف جنس سے اس کی مثل۔ آیت میں مراد یہ ہے کہ شکار کی جزاء میں اختیار ہے کہ چوپایوں میں سے اس کی مثل کوئی جانور ذبح کرکے گوشت حرم کے محتاجوں پر صدقہ کردے یا اس مثل کی قیمت لگا کر اتنے دراہم کا کھانا گندم وغیرہ مساکین پر صدقہ کردے یا گندم کے ایک مد کے بدلے ایک روزہ رکھے اور روزہ جس علاقہ میں چاہے رکھ سکتا ہے کیونکہ اس میں محتاجوں کا کوئی نفع نہیں ہے اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اس جانور کی کوئی مثل نہ نکالی جاسکتی ہو تو اس کی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت کی گندم خرید کر صدقہ کی جائے گی یا وہ روزہ رکھ لے اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ چوپایوں سے کوئی مثل واجب نہیں بلکہ ابتداء شکار کی قیمت لگائی جائے گی۔ پھر اگر چاہے تو اس قیمت کو کسی چوپایہ کے ذبح کرنے میں خرچ کرے یا گندم لے کر صدقہ کردے اور اگر چاہے تو گندم کے نصف صاع کے بدلے یا جو کے ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے اور امام شعبی اور نخعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شکار کی جزاء ترتیب وار ہے کہ اگر پہلی پر قادر نہ ہو تو دوسری جزاء دے۔ لیکن یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو شکار کی جزاء میں ترتیب کے قائل ہیں ( لیذوق وبال امرہ تاکہ چکھے سزا اپنے کام کی ) یعنی اس کی نافرمانی کی جزاء ( عفا اللہ عما سلف اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہوچکا) یعنی حرمت نازل ہونے اور آیت نازل ہونے سے پہلے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہوچکا جاہلیت میں ( ومن عاد فینتقم اللہ منہ اور جو کوئی پھر کرے گا اس سے بدلہ لے گا اللہ ) آخرت میں (واللہ عزیز ذوانتقام اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا) اور جب محرم کئی دفعہ شکار قتل کرے تو اس پر جزاء بھی اتنی ہی دفعہ آئے گی۔ اکثر اہل علم کے نزدیک ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب محرم جان بوجھ کر شکار کو مار ڈالے تو اس سے پوچھا اجئے گا کہ اس سے پہلے تونے کوئی شکار مارا ہے ؟ اگر وہ اقرار کرے تو اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو کہا جائے گا کہ تو جا اللہ تعالیٰ تجھ سے خود انتقال لے گا اور اگر کہے اس سے پہلے میں نے کوئی شکار نہیں کیا تو اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے بعد پھر شکار کیا تو اس پر فیصلہ نہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیٹھ اور سینہ پر تکلیف دو مار لگائی جائے گی۔
محرم کیلئے شکار کا گوشت کھانے کا حکم
پھر اس میں اختلاف ہے کہ شکار کا گوشت محرم کے لیے کھانا حلال ہے یا نہیں ؟ تو ایک قوم اس جانب گئی ہے کہ کسی صورت میں بھی حلال نہیں ہے اور یہ یبات ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہی طائوس (رح) نے کہا قول ہے اور سفیان ثوری (رح) بھی اس کے قائل ہیں۔ ان حضرات نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو صعب بن جثامہ لیثی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو حماروحشی ہدیہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے واپس کردیا اور جب حضرت صعب ؓ کے چہرہ پر افسوس کے آثار محسوس کیے تو فرمایا کہ ہم نے اس وجہ سے واپس کیا ہے کہ ہم احرام میں ہیں اور اکثر علماء رحمہم اللہ اس جانب گئے ہیں کہ محرم کے لیے اس شکار کا کھانا حلال ہے جو نہ اس نے خود کیا ہو اور نہ اس کی وجہ سے شکار کیا گیا ہو اور نہ اس نے اس کی طرف اشارہ کیا ہو اور یہی حضرت عمر، عثمان، ابوہریرہ (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کا قول ہے اور عطاء مجاہد ، سعید بن جبیر رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں اور یہی امام مالک، شافعی ، احمد ، اسحاق اور اصحاب رائے رحمہما اللہ کا مذہب ہے اور صعب ؓ کو حضور ﷺ نے شکار اس وجہ سے واپس کردیا کہ آپ ﷺ کا گمان تھا کہ یہ شکار آپ (علیہ السلام) کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ اس کے جواز کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابوقتادہ بن ربعی انصاری ؓ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین احرام کی حالت میں آپ ﷺ سے کچھ پیچھے تھے اور حضرت ابوقتادہ ؓ احرام میں نہ تھے تو انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سیدھے ہوگئے اور ساتھیوں سے کہا مجھے میرا کوڑا دو ، انہوں نے اٹھا کردینے سے انکار کردیا تو ان سے نیزہ مانگا، انہوں نے وہ بھی نہیں دیا تو انہوں نے خود پکڑا اور اس کے پیچھے لگ گئے، اس کا شکار کیا اور اس کا گوشت بعض صحابہ کرام ؓ نے کھایا اور بعض نے انکار کردیا۔ جب نبی کریم ﷺ تک پہنچے تو آپ (علیہ السلام) سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ کھانا تو تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا ہے۔
مطلب بن حنطب نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شکار کا گوشت تمہارے لیے احرام کی حالت میں حلال ہے جب تم نے اس کو شکار ن ہ کیا ہو اور تمہارے لیے بھی شکار نہ کیا گیا ہو۔ ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مطلب کا حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سماع ہمیں معلوم نہیں ہے اور جب محرم کسی ایسے شکار کو ضائع کردے جس کی مثل چوپایوں میں سے نہ ملے تو مثلاً انڈہ یا کبوتر سے چھوٹا بچہ تو اس کی قیمت لگا کر اتنی گندم صدقہ کی جائے گی یا ایک مد کے بدلے ایک روزہ رکھے۔ ٹڈی کے شکار میں اختلاف ہے۔ ایک قوم نے محرم کے لیے اس کے شکار کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ یہ سمندر کے شکار میں سے ہے۔ یہی بات کعب احبار (رح) سے روایت کی گئی ہے اور اکثر حضرات کے نزدیک اس کا شکار حلال نہیں ہے۔ اگر شکار کیا تو اس پر صدقہ لازم ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ٹڈی میں ایک کھجور ہے اور حضر عمر ؓ اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ گندم کی ایک مٹھ صدقہ کرے۔
Ayah 5:96آیت نمبر 96
تفسیر : (احل لکم صید البحر وطعامہ متاعا لکم وللسیارۃ حلال ہوا تمہارے لیے دریا کا شکار اور دریا کا کھانا تمہارے فائدہ کے واسطے اور سب مسافروں کے ) آیت میں بحر سے تمام پانی مراد ہیں۔
سمندری مخلوق میں کون کون سا شکار حلال ہے
حضرت عمر ؓ نے فرمایا سمندر کا شکار وہ ہے جو شکار کیا جائے اور سمندر کا کھانا وہ ہے جو اس کے ساتھ پھینکا جائے اور ابن عباس ؓ ، ابن عمر، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ سمندر کا کھنا وہ ہے جس کو پانی ساحل کی طرف مردہ حالت میں پھینک دے اور پانی کے تمام حیوانات دو قسم پر ہیں۔ 1 ۔ مچھلی۔ 2 ۔ اس کے علاوہ جانور۔ مچھلی کی تمام اقسام مری ہوئی ہوں تو بھی حلال ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے لیے دومردہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ 1 ۔ مچھلی۔ 2 ۔ ٹڈی۔ (ابن ماجہ)
کسی سبب سے مرے یا بغیر سب سے اس کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مردہ مچھلی اس وقت حلال ہے جب کسی سبب سے مری ہوئی مثلاً کسی پتھر پر گری ہو یا پانی اس سے ہٹ گیا ہو وغیرہ۔
مچھلیے کے علاوہ جانور دو قسم کے ہیں۔ 1 ۔ وہ جانور جو اپنی زندگی خشک میں بھی گزارتے ہیں جیسے مینڈک اور کیکڑا، ان کا کھانا حلال نہیں ہے۔ 2 ۔ جو جانور پانی میں زندگی گزارتے ہیں خشکی میں زندہ نہیں رہ سکتے، اگر ان کو خشکی میں نکالا جائے تو ذبح شدہ جانور کی طرح تڑپنے لگتے ہیں تو ان میں اختلاف ہے ایک قوم اس طرح گئی ہے کہ مچھلی کے علاوہ کسی سمندری جانور کا کھانا حلال نہیں ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ پانی کا مردار حلال ہے اس لیے کہ سب مچھلی ہی ہیں۔ اگرچہ ان کی صورت مختلف ہے۔ جیسا کہ جریث اس کو مار ماہی یعنی پانی کا سانپ کہا جاتا ہے۔ اس کی صورت بھی سانپ جیسی ہوتی ہے لیکن اس کا کھانا بالاتفاق حلال ہے۔ یہی حضرت عمر، ابوبکر، ابن عباس، زید بن ثابت، ابوہریرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا قول ہے۔
شریح، حسن اور عطاء رحمہما اللہ اسی کے قائل ہیں اور یہی امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا ظاہر مذہب ہے اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ جس سمندری جانور کی نظیر خشکی کا جانور کھایا جاتا ہو اس کو کھانا حلال ہے جیسے پانی کی گائے وغیرہ اور جس سمندری جانور کی مثال خشکی کا جانور نہ کھایا جاتا ہو تو وہ سمندری جانور بھی حلال نہ ہوگا جیسے پانی کا کتا اور خنزیر اور گدھا وغیرہ اور امام اوزاعی (رح) فرماتے ہیں کہ جس جانور کی زندگی پانی میں گزرتی ہو تو وہ حلال ہے ان سے پوچھا گیا مگرمچھ ؟ انہوں نے فرمایا ہاں وہ بھی اور امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر میرے گھر والے سمندی مینڈک کھاتے تو میں ان کو کھلاتا اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ کیکڑے کے کھانے میں کوئی گناہ نہ ہوگا اور آیت کا ظاہری مفہوم ان حضرات کے حق میں حجت ہے جنہوں نے تمام سمندری جانوروں کو مباح قرار دیا اور اسی طرح حدیث بھی حجت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں۔ اگر ہم اس پانی سے وضو کریں اور پیاس سے مرجائیں تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر نے خبردی کہ میں نے ان سے حضرت جابر ؓ کو کہکتے ہوئے سنا کہ میں جیش الخیط کی لڑائی میں شریک ہوا، ہمارے امیر ابوعبیدہ ؓ تھے ہم سخت بھوکے تھے تو سمندر نے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے اس کی مثل کبھی نہیں دیکھی تھی اس کو عنبر کہا جاتا تھا، ہم نے اس میں سے پندرہ دن کھایا۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے اس کی ایک ہڈی پکڑ کر سیدھی کی تو سواری پر ایک آدمی اس کے نیچے سے گزر گیا اور مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر ؓ سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ ابو عبیدہ ؓ نے فرمایا کہ اس کو کھائو جب ہم مدینہ واپس آئے تو یہ بات ہم نے نبی کریم ﷺ کو ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا تم وہ رزق کھائو جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف نکالا ہے اور ہمیں بھی کھلائو اگر تمہارے پاس ہے تو اس کا کچھ گوشت آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو تناول فرمایا۔
(وحرم علیکم صید البرمادمتم حرما ط واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون اور حرام ہوا تم پر جنگل کا شکار جب تک تم احرام میں رہو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے پاس تم جمع ہوگے) سمندر کا شکار محرم کے لیے بھی اسی طرح حلال ہے جس طرح غیر محرم کے لیے لیکن خشکی کا شکار محرم پر حرم میں حرام ہے اور صید اس وحشی (جنگلی) جانور کو کہتے ہیں جس کا کھانا حلال ہو لیکن جس جانور کا کھانا حلال ہو یہ احرام کی وجہ سے حرام نہیں ہوجاتا بلکہ احرام میں صرف اس کو پکڑنا اور شکار کرنا حرام ہے اور اس کے مارنے والے پر کوئی جزاء نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ جانور ایسے دو جانوروں سے پیدا ہوا جن میں ایک حلال تھا اور ایک حرام مثلاً بھیڑیا اور ہرنی سے بچہ پیدا ہوا تو اس کا کھانا بھی حلال نہیں اور اگر محرم اس کو قتل کردے تو محرم پر جزاء واجب ہوگی۔ اس لیے کہ اس میں شکار کی جزاء ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ پانچ چوپائے ایسے ہیں کہ ان کے قتل کرنے پر محرم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹ کھانے والے درندے ہیں۔ حضرت اب سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محرم نقصان پہنچانے والے درندے کو قتل کردے (ابودائود) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ چیزوں کا قتل حرم میں حلال ہے۔ 1 ۔ سانپ۔ 2 ۔ بچھو۔ 3 ۔ چیل۔ 4 ۔ چوہا۔ 5 ۔ کاٹ کھانے والا درندہ۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ” الکلب العقود “ سے ہر درندہ مراد ہے اور اسی کی مثل امام مالک (رح) سے مروی ہے اور اصحاب رائے اس طرف گئے ہیں کہ جن جانوروں کا کھانا حلال نہیں ان کو مارنے میں جزاء واجب ہوگی جیسے چیتا، تیندوا، سور وغیرہ صرف وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کے قتل کی حدیث میں اجازت دی گئی ہے اور ان پر بھیڑیئے کو قیاس کیا ہے اور اس میں کفارہ واجب نہیں کیا اور امام شافعی (رح) نے ان پانچ پر ان تمام جانوروں کو قیاس کیا ہے جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا کیونکہ حدیث شریف میں بعض ایسے درندے بیان کیے گئے ہیں جو نقصان دینے والے ہیں اور بعض حشرات جو قتل کرنے والے ہیں اور بعض ایسے پرندے ذکر کیے گئے ہیں جو نہ درندے ہیں اور نہ حشرات ہیں صرف وہ ایسے حیوان ہیں جن کا گوشت خبیث ہے تو کھانا حرام ہونا ان تمام جانوروں کو جمع کرتا ہے تو اس علت کو معیار بناکر جن جانوروں کا کھانا حرام ہے ان پر حدیث والے حکم کو مرتب کردیا ہے۔
Ayahs 5:97–98آیت نمبر 98, 97
تفسیر : (جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام اللہ تعالیٰ نے کردیاکعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی والا)
کعبہ کی وجہ تسیمہ
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام کعبہ اس کے چوکور ہونے کی وجہ سے رکھا گیا کیونکہ اہل عرب ہر مربع شکل والے گھر کو کعبہ کہتے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی منفرد تعمیر کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا اور کہا گیا ہے کہ زمین سے بلند ہونے کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا ہے اور اس کا اصل معنی نکلنا اور بلند ہونا ہے ٹخنے کی ہڈی کو کعب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ بلند ہوتی ہے اور پائوں کی دونوں جانب سے نکلی ہوئی ہوتی ہے اور اسی مادہ سے مشتق کرکے ” تکعبت “ کا لفظ بولا جاتا ہے اس لڑکی کے لیے جو بالغ ہونے کے قریب ہو اور اس کے پستان نکل رہے ہیں۔ کعبہ کا نام بیت الحرام اس وجہ سے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو محترم بنایا اور اس کی حرمت کو بڑھایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمان و زمین کو پیدا کیا اسی دن مکہ کو حرام کردیا۔ (رواہ البخاری)
(قیاماً للناس قیام کے باعث لوگوں کے لیے) ابن عامر (رح) نے ” قیما “ پڑھا ہے بغیر الف کے اور باقی حضرات نے الف کے ساتھ یعنی ان کے دنیاوی و دینی امور کے انتظام کا سبب بنایا ہے۔ دینی امور میں تو اس طرح کے حج اور مناسک یہاں ادا کیے جاتے ہیں اور دینی امور میں اس طرح کہ ہر طرح کے پھل اور منافع یہاں کھنچے چلے آتے ہیں اور لوگ حرم میں قتل و غارت گری سے محفوظ ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ( اولم یروانا جعلنا حرما آمنا ویتخطف الناس من حولھم کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا حالانکہ لوگ ان کے اردگرد سے اچک لیے جاتے ہیں)… (والشھر الحرام اور بزرگی والے مہینوں کو) اس سے مراد حرام مہینے ہیں اور وہ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو بھی لوگوں کے قیام کا باعث بنایا کہ ان میں قتال سے محفوظ رہتے ہیں ( والھدی والقلابد اور قربانی کو جو نیاز کعبہ کی ہو اور جن کے گلے میں پٹہ ڈال کرلے جائیں) مراد یہ ہے کہ وہ لوگ ہدی کے گلے میں پٹہ ڈال کر بےخوف ہوجاتے تھے (ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض وان اللہ بکل شیء علیم یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ بیشک اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے) ۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس کلام کو پچھلے کلام سے کیا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث اس وجہ سے بنایا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی خیر خواہی کو خوب اچھی جانتے ہیں جیسے زمین و آسمان کی تمام باتیں جانتے ہیں اور امام زجاج (رح) نے یہ جواب دیا کہ اس صورت میں کئی غیب کی خبریں دی گئیں اور پوشیدہ راز کھولے گئے جیسے کہا گیا ” سماعون للکذب سماعون لقوم آخرین “ اور یہود کی تورات میں تحریف اور دیگر کئی باتیں بیان کی گئیں تو اس حصہ کا تعلق ان جیسی خبروں سے ہے کہ یہ چند خبریں تمہیں بتائیں (ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان اور زمین میں)
(اعلموا ان اللہ شدید العقاب وان اللہ غفور رحیم جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے اور بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے)
Ayahs 5:99–101آیت نمبر 101, 100, 99
تفسیر :(ما علی الرسول الا البلغ رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچا دینا تبلیغ کے ذریعے واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر میں کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو)
(قل لا یستوی الخبیث والطیب آپ کہہ دیجئے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک) یعنی حلال اور حرام (ولو اعجبک اگرچہ تجھ کو بھلی لگے کثیرۃ الخبیث ناپاک کی کثرت) یہ آیت شریح بن ضبعہ الجکری اور حجاج بن بکر بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی ( فاتقوا اللہ سو ڈرتے رہو اللہ سے) اور حاجیوں کو نہ چھیڑو اگرچہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں اور یہ قصہ سورت کی ابتداء میں گزر چکا ہے ( یاولی الالباب لعلکم تفلحون اے عقلمند ! تاکہ تمہاری نجات ہو)
(یایھا الذین امنوا لاتسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسوکم اے ایمان والو ! مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جائیں تو تم کو بری لگیں)
لاتسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم کی تفسیر
قتادہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کئی سوالات کیے یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) کو زچ کردیا تو آپ (علیہ السلام) ناراض ہوگئے اور منبر پر چڑھے اور فرمایا آج کے دن تم مجھ سے جس چیز کا پوچھو گے میں تم کو جواب دوں گا تو میں دائیں اور بائیں دیکھنے لگا۔ اچانک ایک آدمی اپنے سر کو کپڑے میں لپیٹ کر رو رہا تھا اور ایک شخص کا جب بھی آدمیوں سے جھگڑا ہوتا تو لوگ ان کی نسبت ان کے والد کے علاوہ کی طرف کرتے کہ تو فلاں کا بیٹا ہے تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ) میرا با پ کون ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا خدا فہ۔ تو حضرت عمر ؓ کہ نے لگے کہ ہم راضی ہوئے اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر۔ ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں فتنوں سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں آج کے دن کی طرح خیر اور شر میں کوئی دن نہیں دیکھا یہاں تک کہ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت لائی گئی۔ حتیٰ کہ میں نے ان و دیوار کے پیچھے دیکھ لیا اور قتادہ (رح) جب اس کو بیان کرتے تو اس کے ساتھ یہی آیت پڑھتے ( اے ایمان والو ! مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جائیں تو تم کو بری لگیں)
ابن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبردی کہ عبداللہ بن حذافہ کے والد نے ان کو کا کہ میں نے تجھ سے بڑا نافرمان آج تک نہیں سنا۔ کیا تو اس بات سے بےخوف ہوگیا ہ اگر تیری ماں نے بھی جاہلیت کی عورتوں کی طرح کچھ کردیا ہو تو تو اس سوال سے اس کو لوگوں پر رسوا کردے گا ؟ تو عبداللہ بن حذافہ ؓ نے جواب دیا اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ میرانسب کسی کالے غلام کے ساتھ ملا دیتے تو میں اس کے ساتھ مل جاتا۔ حضرت عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم جاہلیت کے زمانہ سے نئے نئے آئے ہیں آپ (علیہ السلام) ہم سے درگزر کیجئے اللہ تعالیٰ آپ (علیہ السلام) سے درگزر کریں گے تو آپ (علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے ” استھزاء “ کچھ سوال کرتے تھے کوئی کہتا میرا باپ کون ہے ؟ اور ایک آدمی کہتا جس کی اونٹنی گم ہوگئی ہوتی کہ میری اونٹنی کہاں ہے ؟ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب آیت کریمہ (واللہ علی الناس حج البیت) اور اللہ کے لیے ہے لوگوں پر بیت اللہ کا حج) تو ایک شخص کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ ! کیا ہر سال میں حج ہے ؟ تو نبی کریم نے اعراض کیا۔ ان صحابی ؓ نے دو یا تین مرتبہ پھر پوچھا۔
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے ہاں کہنے تک آپ کو اطمینان نہ ہوگا ؟ اللہ کی قسم اگر میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال واجب ہوجائے گا اور اگر ہر سال واجب ہوگیا تو تم اس کی طاقت نہ رکھو گے تو جو بات میں چھوڑ دوں اس کو تم بھی چھوڑ دو تم سے پہلے لوگ اپنے کثرت سوال اور انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پس جب میں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی طاقت رکھتے ہو اس پر عمل کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اس سے باز آجائو ( رواہ البخاری) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فمائی (اور اگر تم پر کھولی جائیں تو بری لگیں تم کو) یعنی اگر تمہارے لیے ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اگر تم کو ان پر عمل کرنے کا حکم دے دیا جائے کیونکہ جس نے حج کا سوال کیا وہ اس بات سے بےخوف نہیں تھا کہ ہر سال میں حکم کردیا گیا تو برا لگے گا اور جس نے نسب کا سوال کیا اگر اس کو کسی دوسرے کے ساتھ ملا دیا جاتا تو اس رسوائی سے وہ بےخوف نہ تھا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب صحابہ کرام ؓ نے بحیرہ سائبۃ اور حام کے بارے میں سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی آپ خود بعد والی آیت کو دیکھ لیں کہ اس میں ہے کہ (وان تسئلوا عنھا حین ینزل القرآن تبدلکم اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی) مطلب یہ ہے کہ تم صبر کروں یہاں تک کہ خود قرآن میں فرض یا نہی یا کوئی اور حکم اتر آئے کیونکہ ظاہر آیات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ جس کی شرح کی تم کو ضرورت ہو۔ اگر اب بھی سوال کرو گے تو تمہارے سامنے ظاہر کردی جائے گی۔ (عفا اللہ عنھاط واللہ غفور حلیم اللہ نے ان سے درگزر کی ہے اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے)
Ayahs 5:102–103آیت نمبر 103, 102
تفسیر : (قدس سالھا قوم من قلبکم ایسی باتیں پوچھ چکی ہے ایک جماعت تم سے پہلے) جیسے قوم ثمود نے اونٹنی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے دستر خوان کا سوال کیا ( ثم اصبحوا بھا کفرین پھر ہوگئے ان باتوں سے منکر) پس ہلاک کیے گئے۔ ابوثعلبہ خشنی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں ان کو ضائع نہ کرو اور کئی اشیاء سے منع کیا۔ ان کو نہ کرو اور کئی حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کئی چیزوں سے بغیر نسیان کے درگزر کیا ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔
(ماجعل اللہ من م بحیرۃ نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ) نہ اللہ نے اتارا اور نہ اس کا حکم دیا ( ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا خام اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حامی کو)
بحیرہ سائبہ وصیلہ حام کی تفسیر
ابن عباس ؓ نے ان اشیاء کا بیان یہ کیا کہ بحیرہ اور اونٹنی کہ جب پانچ بچے جن لیتی تو اس کے کان کو کاٹ دیتے اور اس پر نہ بوجھ لادتے اور نہ خود سوار ہوتے اور اس کی اون نہ کاٹتے اور اس کو پانی اور چراگاہ سے بھی نہ روکتے اور اس کے پانچویں بچے کو دیکھتے اگر وہ نر ہوتا تو اس کے نحر کرکے مرد و عورت کھاتے اور اگر مادہ ہوتا سو اس کا کان کاٹ کر چھوڑ دتے، اب اس کا دودھ اور دیگر منافع عورتوں پر حرام ہوتے صرف مردوں کے لیے خاص ہوتے اور جب یہ مرجاتی تو عورتوں اور مردوں کے لیے حلال ہوجاتی اور کہا گیا ہے کہ اونٹنی جب لگاتار بارہ سال مادہ بچے دیتی تو اس کو چھوڑ دیا جاتا اس کی پیٹھ پر سوار نہ کی جاتی اور اس کی اون نہ کاٹی جاتی او اس کا دودھ صرف مہمان پی سکتا تھا۔ اس کے بعد کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے کان کاٹ کر چھوڑ دیا جاتا اور اس کو بھی ماں کی طرح اونٹوں میں چھوڑ دیا جاتا اور اس پر نہ کوئی سواری کرسکتا اور نہ اون کاٹ سکتا اور دودھ صرف مہمان پی سکتا تھا تو یہ بحیرہ بنت السائبۃ ہے۔
اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ سائبہ وہ اونٹ جس کو چھوڑ دیا جائے اس کی صورت یہ تھی کہ اہل جاہلیت میں جب کوئی شخص مریض ہوجاتا یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار گم ہوجاتا تو وہ منت مانتا کہ اگر اللہ مجھے شفا دے یا میرے مریض کو شفا ہوجائے یا میرا غائب لوٹ آئے تو میرا یہ اونٹ آزاد ہے۔ پھر اس کو چھوڑ دیتا اور اس کو چرا گاہ، پانی سے نہ روکا جاتا اور اس پر کوئی سواری بھی نہ کرتا تو یہ بحیرہ کے مرتبہ میں ہے اور علقمہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ غلام ہو جس کو چھوڑا جاتا تھا کہ اس پر نہ ولاء ہے اور نہ دیت اور نہ میراث۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولاء اس شخص کو ملے گی جس نے غلام آزاد کیا ( رواہ البخاری) اور سائبہ فاصلۃ کے وزن پر ” مفعولۃ “ کے معنی میں ہے یعنی وہ جانور جس کو چھوڑا گیا ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ماء دافق “ میں دافق مدفوق کے معنی میں ہے اور بہرحال وصیلۃ تو جو بکری سات بچے جن لیتی تو وہ دیکھتے کہ ساتواں بچہ نر ہے یا مادہ، اگر نر ہوتا تو اس کو ذبح کرکے مردو عورت سب کھاتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور اگر ساتواں بچہ نر اور مادہ دونوں پیدا ہوتے تو اس نر کو اس مادہ کی وجہ سے زندہ چھوڑ دیتے اور کہتے کہ اس مادہ نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملالیا ہے اور ذبح نہ کرتے اور اس مادہ کا دودھ عورتوں پر حرام تھا۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی مرجاتا تو اس کو مردو عورت سب کھاتے اور حام وہ نر جانور جس کے بچے کے بچے سواریکے قابل ہوجائیں اور کہا گیا ہے کہ جس کی پیٹھ سے دس بچے پیدا ہوچکے ہوں اس پ نہ سواری کی جاتی ہے اور نہ بوجھ لادا جاتا اور نہ گھاس اور پانی سے روکا جاتا۔ پھر جب یہ مرجاتا تو مرد اور عورتیں اس کو کھالیتے۔
سعید بن مسیب (رح) سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ بحیرۃ وہ جانور جس کا دودھ بتوں کے لیے روکا گیا ہو لوگ اس کا دودھ نہ نکالتے ہوں اور سائبۃ وہ جانور جس کو اپنے بتوں کے لیے لوگ چھوڑ دیں کہ اس پر کوئی بوجھ نہ ڈالیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں اپنی انتڑیوں کو گھسیٹ رہا ہے۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے جانور کو بتوں کے لیے چھوڑا۔ (رواہ البخاری)
عمرو بن لحی کا دوزخ میں اپنی انتڑیوں کا کھینچنا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکتم بن جون خزاعی کو ارشاد فرمایا کہ اے اکتم ! میں نے عمرو بن لحی بن قمعۃ بن خندق کو دیکھا کہ اپنی انتڑیاں جہنم میں گھسیٹ رہا تھا میں نے تجھ سے زیادہ کسی کو اس کے مشابہ نہیں دیکھا اور اس سے زیادہ کسی کو تیرے مشابہ نہیں دیکھا۔ (رواہ البخاری) اور یہ پہلا شخص ہے جس نے اسماعیل (علیہ السلام) کے دین کو تبدیل کیا اور بت گاڑھے اور بحیرۃ اور سائبۃ وصیلہ اور حام جانوروں کا معاملہ کیا۔ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا کہ وہ جہنمیوں کو اپنی انتڑیوں کی بدبو سے تکلیف دے رہا تھا تو حضرت اکتم ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اس کی مشابہت مجھے نقصان دے گی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں بیشک تو مومن ہے اور وہ کافر تھا ( ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب اور لیکن کافر باندھتے ہیں اللہ پر بہتان اور ان میں سے اکثر کو عقل نہیں) بعنی یہ کہنے میں بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں ان کاموں کا حکم دیا ہے۔ ) واکثرھم لایعقلون
Ayahs 5:104–105آیت نمبر 105, 104
تفسیر : (واذا قیل لھم تعالو الی ماانزل اللہ والی الرسول اور جب کہا جاتا ہے ان کو آئو اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف) کھیتی اور چوپایوں کے حلال کرنے اور شرائع اور احکام کے بیان کرنے میں (قالوا حسبنا ما رجلنا علیہ اباء نا تو ہم کہتے ہیں ہم کو کافی ہے وہ جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو) یعنی دین (اولو کان ابائوھم لایعلمون شیئا والا یھتدون بھلا اگر ان کے باپ دادے نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ راہ جانتے ہوں تو بھی ایسا ہی کریں گے ؟ )
(یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہوا جبکہ تم ہوئے راہ پر) ہمیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہ روایت کی گئی کہ انہوں نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو ( اے ایمان والو ! تم پر لازم ہ کے فکر اپنی جان کا تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہوا جبکہ تم ہوئے راہ پر) اور تم اس آیت کو غلط جگہ منطبق کرتے ہو اور تم جانتیخ نہیں کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے اور بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک لوگ جب کسی گناہ کے کام کو دیکھیں اور اس کو تبدیل نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے عام عذاب میں پکڑلیے۔ ( رواء امام احمد)
اور ایک روایت میں ہے تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور گناہ سے روکتے رہو یا اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے بدترین لوگوں کو مسلط کردیں گے جو تم کو برا عذاب پہنچائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے تمہارے بہترین لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا تمہارے حق میں قبول نہ کی جائے گی ( ذکرہ الحافظ السیوطی فی الجامع الصغیر) ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ خوف ہوا کہ کہیں لوگ اس آیت کی باطل تاویل نہ شروع کردیں۔ پھر یہ تاویل ان کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ترک تک نہ پہنچا دے تو ان کو پہلے ہی خبردار کردیا کہ معاملہ اس طرح نہیں بلکہ جس منکر کے تبدیل کرنے سے روکا گیا ہے وہ ان لوگوں کا شرک ہے جن سے معاہد ہوگیا ہو کہ وہ اپنے دین پر قائم رہیں گے لیکن مسلمانوں سے صلح کرچکے ہوں۔ بہرحال مسلمانوں سے جو فسق اور معاصی صادر ہوں وہ اس آیت کے تحت داخل نہیں ہیں اور مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی تم پر اپنا آپ لازم ہے اہل کتاب میں سے جو گمراہ ہوگیا وہ تمہیں نقصان نہ دے گا تم ان سے جزیہ لے کر ان کو چھوڑ دو اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نیکی کا حکم دو اور گناہ سے روکو جب تم سے قبول کیا جائے۔ پس اگر تم پر لوٹا دیا جائے تو تم پر اپنا آپ لازم ہے۔
ابوامیہ شعبانی (رح) فرماتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی ؓ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ اے ابو ثعلبہ ؓ آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کون سی آیت ؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ” علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس آیت کے بارے میں باخبر ہستی سے پوچھا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بلکہ تم نیکی کا حکم دو اور گناہ سے روکو حتیٰ کہ جب تو دیکھے کہ بخل کی اطاعت کی جارہی ہے اور خواہش نفس کے پیچھے چلا جارہا ہے اور دنیا کو ترجیح دی جارہی ہے اور ہر صاحب رائے کو اپنی رائے اچھی لگتی ہے اور آپ ایسا کام دیکھیں کہ جس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو اپنے آپ کو لازم پکڑو اور عوام کا معاملہ چھوڑ دو کیونکہ تمہارے سامنے اب صبر کے ایام ہیں۔ پس جو شخص ان ایام میں صبر کرے گا تو اس نے جلتے ہوئے انگارے کو ہاتھ میں لیا۔ اس زمانے میں نیک کام کرنے والے کو اس جیسا کام کرنے والے پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ملے گا۔ ابن مبارک (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) اس وقت کے پچاس آدمیوں کے برابر اجر ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمیوں کے برابر اجر ہوگا۔
بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول اہل البدعث کے بارے میں ہوا۔ ابو جعفر رازی نے ذکر کیا کہ صفوان بن محرز کے پاس ایک بدعتی نوجوان آیا اور اپنی کسی بات کا ذکر کرنے لگا۔ صفوان نے کہا میں تم کو کلام اللہ کی ایک خاص آیت سناتا ہوں جس میں اللہ نے اپنے اولیاء کا مخصوص طور پر ذکر کیا ہے اور وہ یہ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لایضرکم من فضل اذا اھتلیتم الی اللہ مرجعکم جمیعا) اس سے مراد گمراہ ور ہدایت یافتہ سب اللہ کی طرف لوٹیں گے۔ فیتیکم بما کنتم تعملون۔