5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 5:39–41

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

آیت نمبر 41, 40, 39 تفسیر : (فمن تاب من بعد ظلمہ پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد) یعنی اپنی چوری کے بدع (واصلح اور اصلاح کی) اپنے عمل کی (فان اللہ یتوب علیہ ط ان اللہ غفور رحیم تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہیض یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ اس سے آخرت میں پکڑ نہ ہوگی۔ بہرحال دنیا میں ہاتھ کٹنا تو اکثر علماء کے نزدیک توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ چور کو توبہ کی ضرورت نہیں جب ہاتھ کاٹا جائے گا تو توبہ حاصل ہوجائے گی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ کاٹنا جرم کی سزا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ ” یہ اس کے عمل کی سزا ہے “ اس کے بعد بھی توبہ کی ضرورت ہے اور چور کی توبہ یہ ہے کہ جو گناہ ہوگیا اس پر شرمندہ ہو اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔ جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو چوری کیے ہوئے مال کا تاوان بھی اس پر واجب ہوگا۔ اکثر اہل علیم کے نزدیک اور سفیان ثوری رحمہم اللہ اور اصحاب رائے فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی مالی تاوان نہیں ہے۔ لیکن اگر چوری شدہ مال اس کے پاس موجود ہو تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ وہ مال اس کو واپس کرنا پڑے گا اور ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اس لیے ہاتھ کاٹنا اللہ کا حق ہے اور تاوان بندہ کا حق ہے تو ایک حق ادا ہوجانے سے دوسرا ادا نہ ہوگا جیسا کہ اگر مال اس کے پاس موجود ہو تو صرف قطع ید کافی نہیں بلکہ مال بھی واپس کرنا ضروری ہے۔ (الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموت والارض کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمان اور زمین کی سلطنت) اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد تمام لوگ ہیں اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ” اے انسان تو نہیں جانتا “ اس صورت میں یہ خطاب ہر انسان کو ہوگا (یعذب من یشاء ویغفرلمن یشاء عذاب کرے جس کو چاہے اور بخشے جس کو چاہے) سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر پر مرگئے ان میں سے جس کو چاہے عذاب دے اور جو کفر سے توبہ کرے ان میں سے جس کو چاہے بخش دے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جس کو چاہے صغیرہ گناہوں پر عذاب دے اور جس کے چاہے کبیرہ گناہ بخش دے ( واللہ علیٰ کل شیء قدیر اور اللہ سب چیز پر قادر ہے) (یایھا الرسول لایحزنک الذین یسارعون فی الکفر اے رسول غم نہ کر ان کو جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں) یعنی کفار کی دوستی میں کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا عاجز نہیں کرسکتے (من الذین قالوا امنا بافو اھھم ولم تومن وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے منہ سے اور ان کے دل مسلمان نہیں) اور یہ لوگ منافقین ہیں۔ (ومن الذین ھادوا سمعون للکذب اور وہ جو یہودی ہیں جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے ) یعنی جھوٹ کو قبول کرتے ہیں جیسے نماز پڑھنے والا کہتا ہے ” سمع اللہ لمن حمدہ “ یعنی اللہ نے قبول کرلی اور بعض نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس لیے سنتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) پر جھوٹ بول سکیں کیونکہ یہ آپ (علیہ السلام) کی مجلس سے اٹھ کر ایسی باتیں بیان کرتے تھے جو آپ (علیہ السلام) سے سنی نہیں ہوتی تھیں ۔ ( سمعون قلوم اخرین لم یاتوک وہ جاسوس ہیں دوسری جماعت کے جو آپ تک نہیں آئی) یعنی بنو قریظہ والے اہل خیبر کے جاسوس ہیں۔ یہود کے ایک مرد اور عورت کے زنا اور رجم کا واقعہ واقعہ اس طرح ہے کہ خیبر کے مالدار و معزز لوگوں میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا اور یہ محصن تھے اور محصن کی حد تورات میں سنگسار کرنا تھا تو یہودیوں نے ان کے رتبہ کی وجہ سے ان کے رجم کو ناپسند کیا اور یہ کہا کہ یثرب میں جو آدمی (نبی کریم ﷺ) ہے اس کی کتاب میں صرف مارنے کا حکم ہ کے سنگساری کا حکم نہیں ہے تو اپنے بنی قریظہ کے بھائیوں کے پاس پیغام بھیجو کیونکہ وہ ان کے پڑوسی ہیں اور آپس میں صلح ہے وہ اس کا حکم معلوم کرلیں اور اپنی ایک خفیہ جماعت بھی ان کے ساتھ بھیج دی اور ان کو کہا کہ محمد ﷺ سے محصن مرد و عورت کے زنا کا حکم معلوم کرو۔ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو قبول کرلیں اور اگر سنگسار کرنے کا حکم دیں تو اس سے پرہیز کرنا اور قبول نہ کرنا اور اس جماعت کے ساتھ اس زانی مرد و عورت کو بھی بھیج دیا۔ وہ جماعت مدینہ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر کے پاس آئی اور ان کو سارا معاملہ سنایا کہ اب تم محمد ﷺ سے سوال کرو کہ اس کا فیصلہ کریں تو وہ قریظہ اور نضیر کے لوگوں نے کہا اللہ تمہیں وہی حکم دے گا جس کو تم ناپسند کرتے ہو پھر ان دونوں قبیلوں کی ایک جماعتحضور ﷺ کی خدمت میں گئی جس میں کعب بن اشرف، کعب بن اسد ، سعید بن عمرو، مالک بن صیف، کنانہ بن ابی الحقیق وغیرہ تھے اور کہنے لگے اے محمد ! (ﷺ) ہمیں محصن زانی مرد اور عورت کا حکم بتائیں کہ آپ (علیہ السلام) کی کتاب میں کیا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم میرے فیصلے پر رضای ہوجائو گے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں تو جبرئیل (علیہ السلام) رجم کا حکم لے کر آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کو اس حکم کی خبر دی تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا آپ اس معاملہ کا فیصلہ ابن صوریا کو سپرد کردیں اور ابن صوریا کے تما اوصاف بیان کردیئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم فدک کے بےریش کانے نوجوان ابن صوریا کو جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا وہ تم میں کیسا آدمی ہے ؟ تو انہوں نے کہا تورات کا اس وقت اس دنیا میں وہ سب سے بڑا عالم ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو ابن صوریا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا تو یہود کا سب سے بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا لوگوں کا گمان اس طرح ہے، اس نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم اپنے درمیان مجھے فیصل بناتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تجھے اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا اور تم لوگوں کو مصر سے نکالا اور تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ کر راستہ بنایا اور تم کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کیا۔ اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلویٰ کو اتارا اور تم پر اپنی کتاب اتاری جس میں حلال و حرام کی باتیں ہیں۔ کیا تم اپنی کتاب میں محصن مرد و عورت پر رجم کا حکم پاتے ہو ؟ ابن صوریا نے کہا جی ہاں اس ذات کی قسم جس کا آپ نے تذکرہ کیا۔ اگر مجھیج یہ خوف نہ ہوتا کہ تورات مجھے جلادے گی اگر میں نے جھوٹ بولنا یا کوئی تبدیلی کی لیکن اے محمد ! (ﷺ یہ حکم آپ کی کتاب میں کیسے ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جب چار عادل گواہ یہ گواہی دیں کہ اس نے اس طرح معاملہ کیا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے تو اس پر رجم واجب ہوجائے گا تو ابن صوریا کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات میں اسی طرح حکم اتارا گیا تھا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا تم نے اللہ کے اس حکم میں رخصت نکالنے کی ابتداء کب سے کی ؟ وہ کہنے لگا ہم جب کسی معزز بندہ کو اس معاملہ میں پکڑتے تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کرتے تو ہمارے معزز لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی یہاں تک کہ ہمارے بادشاہ کے چچا کے بیٹے نے زنا کیا لیکن ہم نے اس کو رجم نہیں کیا، پھر دوسرے شخص نے زنا کیا عام لوگوں میں سے تو بادشاہ نے اس کے رجم کا ارادہ کیا تو اس کے حق میں بہت سے لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اس کو تب تک سنگسار نہیں کرنے دیں گے جب تک بادشاہ کے چچا کے بیٹے کو رجم نہ کیا جائے تو ہم نے کہا آئو ہ مل کر رجم کے علاوہ کوئی اور ایسی سزا ایجاد کرتے ہیں جو ہر طرح کے لوگوں کو دی جاسکے تو ہم نے کوڑے اور گدھے کی سواری کو مقرر کیا کہ چالیس کوڑے ایسی رسی کے مارے جائیں گے جس پر تارکول چڑھا ہوا ہو، پھر ان دونوں کے چہروں کو کالا کرکے ان کود وگدھوں پر بٹھا دیاجائے اور ان کے منہ گدھے کی دم کی طرف کردیا جائے اور ان کو لوگوں میں چکر لگایا جائے تو یہ سزا رجم کی جگہ تجویز کی گئی۔ یہ سن کر یہود نے ابن صوریا کو کہا کہ کتنی جلدی تونے ساری بات ان کو بتادی ہے، ہم نے تیری پیٹھ پیچھے تعریف اس وجہ سے نہیں کی تھی کہ تو اس کے لائق ہے بلکہ ہم نے آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی غیبت کرنا ناپسند سمجھا تو ابن صوریا نے کہا محمد ﷺ نے مجھے تورات کی قسم دی اگر تورات کے ہلاک کردینے کا خوف نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ بات ان کو نہ بتاتا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان دونوں مرد و عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ان کو مسجد نبوی کے دروازے کے پاس سنگسار کردیا گیا اور آپ (علیہ السلام) نے دعا مانگی اے اللہ ! ان لوگوں نے تیرے حکم کو مردہ کردیا تھا میں اس کو زندہ کرنے والا پہلا شخص ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (یا یھا الرسول لایحزنک الذین یسارعون فی الکفر اے رسول ! غم نہ کر ان کا جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں) ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ یہود رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور یہ بات چھیڑی کہ ان کے ایک مردو عورت نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تورات میں ان کے بارے میں کیا حکم ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کو رسوا کریں اور ان کو کوڑے مارے جائیں تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا تم نے جھوٹ بوالا، تورات میں رجم کی آیت ہے تو وہ تورات لائے اس کو کھولا اور ایک شخص نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کی عبارت پڑھ دی تو عبداللہ ؓ نے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھا۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت لکھی ہوئی تھی تو وہ کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ نے سچ کہا اس میں رجم کی آیت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان مردو عورت کے رجم کا حکم دیا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھک جاتا تھا اور بعض حضرات نے کہا اس آیت کے نزول کا سبب قصاص ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنونضیر کو بنو قریظہ پر فضیلت حاصل تھی تو بنو قریظہ نبی کریم ﷺ کو کہنے لگے اے محمد ! (ﷺ) ہمارے بھائی بنو نضیر کا اور ہمارا باپ ایک ہے اور ہمارا دین اور نبی ایک ہ کے لیکن جب وہ ہمارا کوئی آدمی قتل کردیں تو ہمیں قصاص نہیں دیتے اور اس کی دیت کھجور کے ستر وسق دیتے ہیں اور جب ہم ان کے کسی آدمی کو قتل کردیں تو وہ قاتل کو بھی قتل کرتے ہیں اور ہم سے دگنی دیت یعنی ایک سو چالیس وسق کھجور وصول کرتے ہیں اور جب مقتول عورت ہو تو اس کے بدلے ہمارے ایک مرد کو اور اگر مرد ہو تو اس کے بدلے ہمارے دو مردوں کو قتل کرتے ہیں اور اپنے غلام کے بدلے ہمارے آزاد کو اور ہم کوئی زخم لگادیں تو اس سے دگنا تاوان دینا پڑتا ہے جو وہ ہمیں زخم لگانے پر ادا کرتے ہیں، آپ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو یہ آیت نازل ہوئی لیکن پہلا شان نزول زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ یہ آیت رجم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” سماعون للکذب “ میں لام ” الی “ کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا یہ لام ” کی “ ہے یعنی اس لیے سنتے ہیں تاکہ آپ پر جھوٹ بول سکیں اور ” لقوم “ میں لام علت کے لیے ہے یعنی دوسری قوم کے لیے سنتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئی اور وہ اہل خیبر ہیں ( یحرفون الکلم بدل ڈالتے ہیں بات کو) کلمۃ کی جمع ہے ( من بعد مواضعہ اس کا ٹھکانہ چھوڑ کر)… (یقولون ان اوتیتم ھذا فخذوہ کہت ہیں اگر تم کو یہ حکم ہ کے تو قول کرلینا) یعنی اگر محمد ﷺ تمہیں کوڑے مارنے اور منہ کالا کرنے کا حکم دیں تو اس کو قبول کرلیو (وان لم توتوہ فاحذروا ط ومن یرد اللہ فتنتہ اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا اور جس کو اللہ نے گمراہ کرنا چاہا) یعنی اس کے کفر اور گمراہی کا۔ صحاک (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کو عذاب دینے کا ارادہ کیا (فلن تملک لہ من اللہ شیئا سو تو اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا اللہ کے ہاں ) یعنی تو اللہ کے امر کو دور کرنے پر بالکل قادر نہ ہوگا (اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھر قلوبھم یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہ چاہا کہ دل پاک کرے ان کے ) اس میں تقدیر کا انکار کرنے والوں کی تردید ہے (لھم فی الدنیا خزی ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے) یعنی منافقین اور یہود کے لیے ۔ منافقین کی رسوائی ان کی ذلت اور ان کے نفاق کو ظاہر کرکے پردہ دری کرنا ہے اور یہود کی رسوائی جزیہ ادا کرنا یا قتل یا قید یا جلاوطنی ہے اور ان کا محمد ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے اپنے بارے میں وہ چیزیں دیکھنا جو ان کو ناپسند تھیں (ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم اور ان کو آخرت میں بڑا عذاب ہے) جہنم میں ہمیشہ رہنے کا۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

آیت نمبر 42 تفسیر :(سمعون للکذب الکون للسحت جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے اور بڑے تمام کھانے والے ہیں) ابن کثیر، ابو جعفر، اہل بصرہ اور کسائی نے ” للسحت “ کو حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے حاء کے سکون کے ساتھ۔ ” سحت “ کا اصل معنی ہلاکت اور سختی ہے اور یہاں مراد ” حرام “ ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد باری ہے ” فسحتکم بعذاب “ (پس تم کو عذاب سے ہلاک کردے گا) سمعون للکذب کا شان نزول یہ آیت یہود کے حکام کعب بن اشرف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ کسی سے رشوت لے کر اس کے حق میں فیصلہ کردیتے تھے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے حاکم کے پاس جب کوئی رشت لاتا تو اپنی آستین میں چھپا کر لاتا اور چپکے سے حاکم کو دکھا دیتا اور اپنی ضرورت بیان کرتا جس کو وہ توجہ سے سنتا اور اس کے مدمقابل کی طرف توجہ نو کرتا اور جھوٹ سنتا اور رشوت کھاتا اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ حرست اس وقت ہے جب اس لیے رشوت دے کہ وہ قاضی اس کے لیے باطل کو حق بنادے اور دوسرے کے حق کو باطل کردے لیکن اگر آدمی کو کسی قاضی یا حاکم سے ظلم کا خوف ہو اور اس ظلم کو دور کرنے کے لیے رشوت دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حسن (رح) کے قبول کے مطابق ” سحت “ سے فیصلہ کرنے میں رشوت لینا مراد ہے اور مقاتل، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہر چیز میں رشوت لینا مراد ہے۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا جو شخص کسی کی سفارش کرے تاکہ اس سے ظلم کو دور کرے یا اس کا حق دلائے اور اس کے بدلے میں اس کو ہدیہ دیاجائے اور وہ سفارش کرنے والا قبول کرلے تو یہ ” سحت “ ہے تو ان کو عرض کیا گیا کہ اے اب عبدالرحمن ہم تو ” سحت “ صرف فیصلہ کرنے میں رشوت لینے کو سمجھتے تھے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے کے لیے رشوت لینا تو کفر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو نہ فیصلہ کرے اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق تو یہی لوگ کافر ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے اور لینے والے پر اور ہر حرام کمائی ” سحت “ ہے۔ ( فان جائوک فاحکم بیتھم اواعرض عنھم وان تعرض عنھم فلن بضروک شیئا سو اگر آئیں وہ تیرے پاس تو آپ فیصلہ کردیں ان میں یا منہ پھیرلیں ان سے اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں گے تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اختیار دیا ہے کہ اہل کتاب کے معاملات میں فیصلہ کریں یا نہ کریں۔ لیکن علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ اس زمانہ میں اگر ذمی لوگ اپنے مسائل لائیں تو حاکم کو فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ اکثر اہل علم فرماتے ہیں یہ حکم اب بھی ثابت ہے اور اس سورة مائدہ میں کوئی حکم منسوخ نہیں ہے اور مسلمانوں کے حکام کو اہل کتاب کے فیصلوں میں اختیار ہے اگر چاہیں تو فیصلہ کریں اور اگر چاہیں تو فیصلہ نہ کریں لیکن اگر فیصلہ کریں صرف شریعت اسلامیہ کے مطابق کرسکتے ہیں۔ یہی نخعی، شعبی، عطاء اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور ایک قوم نے کہا کہ مسلمان حاکم واجب ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اور یہ آیت منسوخ ہے اس کی ناسخ اللہ تعالیٰ کا فرمان (وان احکم بینھم بما الزل اور آپ فیصلہ کیجئے ان کے درمیان اس کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے) یہی مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول اور ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے اور ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ سورة مائدہ کی صرف دو آیتیں منسوخ ہیں ایک ” لاتحلوا شعائر اللہ “ اس کو اللہ تعالیٰ کے فرمان ” اقتلوا المشرکین “ نے منسوخ کردیا ہے اور وسری آیت ” فان جاء وک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “ ہے اس کو اللہ کے فرمان ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “ نے منسوخ کردیا ہے لیکن اگر ہمارے پاس مسلمان اور ذمی فیصلہ لائیں تو سب کا اتفاق ہے کہ فیصلہ کرنا واجب ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔ اس لیے کہ مسلمان کے لیے ذمیوں کے فیصلہ کو مان لینا جائز نہیں (وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط اور اگر تو فیصلہ کرے تو فیصلہ کر ان میں انصاف کے ساتھ۔ ان اللہ یحب المقسطین بیشک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو) نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ انصاف کرنے والے اللہ کے پاس ن ور کے منبروں پر ہوں گے۔ ( مسلم کتاب الامارۃ)
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

آیت نمبر 43 تفسیر : وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ اور وہ آپ کو کس طرح منصف بنائیں گے اور ان کے پاس تو تورات ہے) یہ تعجب ہے نبی کریم ﷺ کے لیے اور اس میں اختصا رہے یعنی وہ آپ کو اپنا منصف بناکر آپ کے فیصلہ پر کیسے راضی ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تو تورات ہے (فیھا حکم اللہ جس میں اللہ کا حکم ہے) یعنی رجم کا حکم ہے ( لم یتولون من م بعدذلک ط وما اولئک بالمومنین) پھر اس کے پیچھے پھرے جاتے ہیں اور وہ ہرگز ماننے والے نہیں ہیں) یعنی آپ کی تصدیق نہیں کریں گے۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے ' یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

آیت نمبر 44 تفسیر :(انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے ) یعنی اللہ کے حکم کو ماننے والے اور اس کی اطاعت کرنے والے تھے جیسا کہ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر دی (اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین کہ جب ان کو ان کے ربنے کہا آپ مطیع ہوجائیں تو انہوں نے کہا میں مطیع ہوا جہان والوں کے رب کا) اور اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا (ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعاً و کرھا اور اسی کے فرمانبردار ہیں آسمان اور زمین والے خوشی اور ناپسندی سے) اس آیت میں وہ انبیاء مراد ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھیجے گئے تاکہ تورات کے مطابق فیصلے کریں یہ حضرات تورات کے کم کے فرمانبردار ہوئے اور اسی کے مطابق فیصلے کیے کیونکہ بعض انبیاء (علیہم السلام) کو تورات کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ اللہ سبحان و تعالیٰ کا فرمان۔ لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا حسن اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آیت میں انبیاء (علیہم السلام) سے محمد ﷺ مراد ہیں کیونکہ آپ (علیہ السلام) نے یہود پر رجم کا فیصلہ کیا ۔ آپ (علیہ السلام) کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں ان ابراہیم کان امۃ قانتا ابراہیم (علیہ السلام) کو امت کہا گیا ہے حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک ہیں۔ ( للذین ھادوا یہود کو) بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اصل عبارت یوں تھی ” ھدی و نورللذین ھادوا یحکم بھا النبیون الذین اسلموا والربانیون “ اور بعض نے کہا عبارت میں کوئی تقدیم تاخیر نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے ان لوگوں پر جو یہودی ہیں۔ یعنی ” للذین ھادوا “ میں لام علیٰ کے معنی میں ہے جیسے ” وان اساتم فلھا “ میں لام علیٰ کے معنی میں ہے یعنی اگر تم برا کرو گے ت اس کا نقصان تم پر ہے۔ ( والربانیون والاحبار اور حکم کرتے تھے دریش اور عالم) یعنی علماء اور احبار حبر کی جمع ہے اور حبر حاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے لیکن کسرہ زیادہ صحیح ہے۔ حبر کسی شے کے پختہ عالم کو کہتے ہیں۔ کسائی اور ابو عبیدہ کہتے ہیں حبر کا لفظ دوات سے لیا گیا ہے اور قطرب فرماتے ہیں کہ حبر اس حبر سے لیا گیا ہے جس کا معنی خوبصورتی ہے۔ حدیث میں ہے ” قد ذھب حبرہ وسمرہ “ کہ جہنم سے ایک ایسا شخص نکلے گا جس کا حسن اور ہیئت ختم ہوچکی ہوگی اور اسی سے تحبیر کا لفظ ہے جس کا معنی خوبصورت کرنا ہے عالم کو حبر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس پر علم کی خوبصورتی اور رونق ہوتی ہے اور بعض نے کہا آیت میں ” ربانیون “ نصاریٰ کے اور احبار یہود کے مراد ہیں۔ (بما امتحفظوا من کتاب اللہ اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر) اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے کتاب میں ودیعت رکھا ہے ( وکانو علیہ شھداء اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے) ( فلاتخشوا الناس …ھم الکافرون) سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور نہ خریدو میری آیتوں پر تھوڑی سی قیمت اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا سو وہی لوگ کافر ہیں) قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ تین آیات یہود کے بارے میں اس امت کے برے لوگوں کے بارے میں نہیں ہے۔ براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ آیات میں ” ظالمون “ اور ” فاسقون “ سے کافر مراد ہیں اور بعض نے کہا یہ حکم تمام لوگوں پر ہے۔ ابن عباس ؓ اور طائوس فرماتے ہیں کہ آیت میں ایسا کفر مراد نہیں جو دین سے نکال دے بلکہ جب کسی نے اللہ کے اتارے ہوئے حکم سے فیصلہ نہ کیا تو اس حکم کا انکار کردیا لیکن یہ اللہ اور آخرت کے انکار کرنے والے کی طرح نہیں ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے اتارے ہوئے حکم کا انکار کرکے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ کافر ہوگیا اور جس نے اس حکم کو مانا لیکن اس کے ساتھ فیصلہ نہ کیا تو وہ ظالم اور فاسق ہے۔ عبدالعزیز بن یحییٰ کنانی سے ان آیات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے تمام احکامات ہیں اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے تمام حکموں پر فیصلہ نہ کرے تو وہ کافر، ظالم ، فاسق ہے اور جو شخص توحید کو مانے اور شرک کو چھوڑ دے لیکن شریعت کے بعض احکامات کے ساتھ فیصلہ نہ کرسکے تو وہ ان آیات کا مستحق نہیں ہے اور علماء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جو اللہ کے حکم کو جانتے بوجھتے رد کردے لیکن کسی پر کوئی حکم مخفی رہ گیا ہو یا کسی حکم کو تاویل میں غلطی کردی جائے تو وہ مراد نہیں۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

آیت نمبر 45 تفسیر : (وکتبنا علیھم فیھا اور لکھ دیا ہم نے ان پر اس کتاب میں ) یعنی بنی اسرائیل پر تورات میں ہم نے یہ حکم واجب کیا (ان النفس بالنفس کہ جانے کے بدلے جان) یعنی مقتول کی جان کے بدلے میں قاتل کی جان لی جائے گی (والعین بالعین اور آنکھ کے بدلے آنکھ) پھوڑی جائے گی (والانف بالانف اور ناک کے بدلے ناک) کاٹی جائے گیا (والاذن بالاذن اور کان کے بدلے کان) کاٹا جائے گا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تورات کے احکام کی خبر دی کہ وہ یہ تھا کہ ایک جان کے بدلے ایک جان لی جائے گی تو ان یہود کو کیا ہوگیا ہے کہ اس حکم کی کھلی مخالفت کرکے ایک جان کے بدلے دو جانیں لیتے ہیں او ایک آنکھ کے بدلے دو آنکھیں پھوڑتے ہیں (والسن بالسن اور دانت کے بدلے دانت) اکھاڑا جائے گا اور باقی زخموں کو اسی پر قیاس کیا جائے گا ( والجروح قصاص اور خموں کا بدلہ ان کے برابر) خاص حکم بیان کرنے کے بعد عام حکم بیان کردیا ہے کیونکہ آیت میں صرف آنکھ، کان، ناک، دانت کا حکم بیان کیا گیا اور باقی اعضاء ہاتھ ، پائوں ، زبان وغیرہ کے بارے میں فرمایا کہ جس زخم میں قصاص ممکن ہو تو قصاص لیا جائے اور جس زخم میں قصاص ممکن نہ ہو جیسے ہڈی کا توڑنا یا گوشت کا زخم جیسے پیٹ میں زخم لگ جائے تو اس میں قصاص نہیں ہے۔ کسائی (رح) ” والعین “ اور اس کے بعد سب پر رفع پڑھا ہے اور ابین کثیر، ابن عامر، ابو جعفر، ابو عمرو رحمہما اللہ نے صرف ” والجروح “ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی تمام قراء نے سب کو ” النفس “ کی طرح نصب کے ساتھ پڑھا ہے (فمن تصدیق بہ پھر جس نے معاف کردیا) یعنی بدلے کو معاف کردیا ( فھو کفارۃ لہ تو وہ گناہ سے پاک ہوگیا) بعض نے کہا کہ ” لہ “ میں ھاء زخمی اور مقتول کے ولی سے کنایہ ہے یعنی اس معاف کرنے والے کے لیے کفارہ ہے اور یہی عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ ، حسن ، شعبی اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے جسم کے کسی حصہ کو صدقہ کردیا تو اتنی مقدار اس کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ ھاء جارح اور قاتل سے کنایہ ہے یعنی جس پر جنایت ہوئی ہے اگر وہ جنایت کرنے والے کو معاف کردے تو اس کا معاف کرنا اس جنایت کرنے والے کے گناہ کا کفارہ ہے جس کی وجہ سے اس سے آخرت میں پکڑ نہ ہوگی۔ جیسا کہ قاتل کے لیے قصاص بھی کفارہ ہے اور معاف کرنے والے کا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ کہ جس نے معاف کردیا اور نیک کام کیے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ یہی تفسیر ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہی ابراہیم، مجاہد ، زید بن اسلم رحمہما اللہ کا قول ہے ( ومن لم یحکم بما انزل اللہ فائولئک ھم الظالمون) اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے سو وہی لوگ ہیں ظالم)
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

آیت نمبر 48, 47, 46 تفسیر : (وقفینا علی اثارھم اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کے قدموں پر) یعنی ان حکم بردار انبیاء کے پیچھے (بعیسی ابن مریم مصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ واتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور ومصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ وھدی وموعظۃ للمتقین عیسیٰ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو تصدیق کرنے والے ہیں تورات کی جو پہلے سے تھی اور ان کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور راہ بتانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو ) مصدقاً سے مراد انجیل ہے۔ (ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا) اعمش او حمزہ نے ” لیحکم “ کو لام کی زیر اور میم کی زبر سے پڑھا ہے یعنی تاکہ وہ فیصلہ کریں اور باقی حضرات نے لام کے سکون اور میم کے جزم کے ساتھ امر کا صیغہ پڑھا ہے۔ مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے درویشوں اور علماء کو حکم دیا کہ تورات کے مطابق فیصلہ کریں اور نصاریٰ کے علماء اور راہبوں کو حکم دیا کہ وہ انجیل کے مطابق فیصلہ کریں لیکن ان لوگوں نے کفر کیا اور کہنے لگے عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں (ومن لم یحکم بماانزل اللہ فائولئک ھم الفسقون) اور جو کوئی حکم نہ کریں اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق سو وہی لوگ ہیں نافرمان ) اللہ کے حکم سے نکلنے والے ہیں۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

آیت نمبر 48 تفسیر : (انزلنا الیک اور تجھ پر اتاری ہم نے ) اے محمد ! (الکتاب) کتاب سے مراد قرآن (بالحق مصدقا لمابین یدیہ من الکتاب سچی تصدیق کرنے والی سابق کتابوں کی ومیعنا علیہ اور ان کے مضامین پر نگہبان) ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس پر گواہ اور یہی مجاہد ، قتادہ ، سدی اور کسائی رحمہما اللہ کا قول ہے۔ حسان فرماتے ہیں کہ کتاب ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے گواہ ہے اور حق کا معقل والے پہچانتے ہیں اور عکرمہ فرماتے ہیں ” مھیمنا “ کا معنی دلالت کرنے والی۔ سعید بن جبیر اور ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں اس پر اعتماد والی بعض نے ” میھمن “ کی اصل ” مویمن “ ہے ” مفیعل “ کے وزن پر امین سے لیا گیا ہے جیسے ” مبیطر بیظار “ سے لیا گیا ہے۔ پھر ہمزہ کو دھاء سے تبدیل کردیا گیا جیسا کہ ” ارقت الماء “ کو ” ھرقتہ “ پڑھتے ہیں اور ” ایھات “ کو ” ھیھات “ وغیرہ۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ قرآن کے امانت ہونے کا معینی یہ ہے کہ قرآن اپنے سے پہلے کی کتب کے مضامین کا امین ہے۔ اب اگر اہل کتاب اپنی کتاب سے کوئی خبر دیں اگر وہ قرآن میں ہو تو اس کی تصدیق کردو ورنہ تکذیب کردو۔ سعید بن مسیب اور ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن قاضی ہے اور خلیل فرماتے ہیں نگہبان اور حافظ ہے اور یہ سب معنی قریب قریب ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کتاب قرآن کی سچائی کی گواہی دے وہ اللہ کی کتاب ہے ورنہ نہیں ( فاحکم سو تو حکم کر) اے محمد ﷺ ! (بینھم ان میں) لواتتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق اور ان کی خوشی پر مت چلیں چھوڑ کر سیدھا راستہ جو آپ کے پاس آیا) یعنی آپ (علیہ السلام) کے پاس جو حق آیا اس سے اعراض نہ کریں اور ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں ( لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا تم میں سے ہر ایک کو ہم نے دیا دستور اور راہ) ابن عباس ؓ ، مجاہد حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی دینی راستہ اور راہ سنت دی۔ پس شرعۃ اور منہاج سے مراد واضح راستہ اور جو کام اس دین میں جائز ہے وہ شریعت اور شرعۃ ہے اور اسی سے شرائع الاسلام کا لفظ ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ شریعتیں مختلف ہیں اور ہر دین والوں کی الگ شریعت ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں خطاب صرف تین امتوں کو ہے (1) موسیٰ (علیہ السلام) کی امت (2) عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت (3) محمد ﷺ کی امت ۔ پس تورات، انجیل ، قرآن الگ الگ شیعت (راستے) ہیں لیکن دین (منزل) ایک ہے اور وہ توحید ہے۔ (ولو شاء اللہ لحعلکم امۃ واحدۃ اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک دین پر کردیتا) اس سے مراد ملت واحدہ ہے (ولکن لیبلو کم فی مااتا کم لیکن تم کو آزمانا چاہتا ہے اپنے دیئے ہوئے حکموں میں) یعنی کتابوں میں جو حکم دیئے اور تمہارے لیے جو احکام بیان کیے تاکہ مطیع نافرمان سے اور موافق مخالف سے الگ ہوکر واضح ہوجائے (فاستبقوا الخیرات تو تم دوڑ کرلو خوبیاں) یعنی نیک اعمال کی طرف جلدی کرو ( الی اللہ مرجعکم جمیعا فیبئکم بما کنتم فیہ تخلفون اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے پھر تم کو خبر دے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا)
Ayahs 5:49–50

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

آیت نمبر 50, 49 تفسیر : (وان احکم بینھم بما انزل اللہ اور یہ فرمایا کہ آپ فیصلہ کریں ان میں اس کے موافق جو اللہ نے اتارا) آپ کی طرف (والا تتبع اھواء ھم واحدرھم ان یفتوک عن م بعض ماانزل اللہ الیک اور نہ چلیں ان کی خوشی پر اور ان سے بچتے رہیں کہ آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے اتارا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کعب بن اسید، عبداللہ بن صوریا، شاس بن قیس یہود کے سردار آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ ہم محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں ان کو ان کے دین سے بہکاتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ خوب جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور ان کے معزز لوگ ہیں اگر ہم آپ کی اتباع کریں تو یہود ہماری مخالفت نہ کریں گے، ہمارے لوگوں سے کچھ جھگڑے ہیں ہم ان کو آپ کے پاس لاتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کو حاکم بناتے ہیں آپ ﷺ ہمارے حق میں فیصلہ کردیں ہم آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں گے اور دوسرے لوگ بھی ہماری دیکھا دیکھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ان کا مقصد ایمان لانا نہ تھا یہ صرف نبی کریم ﷺ سے فیصلہ کرنے سے اعراض کریں (فاعلم انما یرید اللہ ان بصیبھم ببعض ذنوبھم تو جان لے کہ اللہ نے یہی چاہا ہے کہ پہنچائے ان کو کچھ سزا ان کے گناہوں کی) یعنی آپ خوب جان لیں کہ ان کا اعراض اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں کی سزا دنیا میں ہی دینا چاہتے ہیں (وان کثیرا من الناس اور لوگوں میں بہت ہیں) یعنی یہود ( لفاسقون نافرمان) (افحکم الجاھلبۃ یبغون اب کیا حکم چاہتے ہیں کفر کے وقت کا) ابن عامر نے ” تبغون “ کو تاء کے ساتھ اور باقی نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ طلب کرتے ہیں (ومن احسن من اللہ حکماً لقوم یوقنون اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا یقین کرنے والے کے واسطے۔ )
Ayahs 5:51–52

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

آیت نمبر 52, 51 تفسیر : (یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الیھود والنصریٰ اولیاء اے ایمان والو ! مت بنائو یہود اور نصاریٰ کو دوست) اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے۔ آیت لاتتخذو الیھود و النصاری اولیاء کا شان نزول اگرچہ اس کا حکم عام ہے تمام مومنین کو شامل ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان دونوں کا جھگڑا ہوا تو حضرت عبادہ ؓ نے فرمایا میرے کئی یہودی دوست ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ اور قوت بہت ہے۔ میں ان سے برأت ظاہر کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کی طرف اب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا میرا کوئی دوست نہیں ہے لیکن عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ میں یہود کی دوستی سے برأت ظاہر نہیں کرتا کیونکہ میں پریشانیوں کے آنے سے ڈرتا ہوں اور اس وقت ان کی ضرورت پڑے گی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوالحباب تو نے عبادہ ؓ کی دوستی پر یہود کی دوستی کو ترجیح دی ہے تو تیرے لیے صرف انہی کی دوستی ہوگی نہ کہ عبادہ ؓ کی۔ اس نے کہا میں اس کو قبول کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جب جنگ احد ہوئی تو بعض لوگوں کو شدید خوف ہوا کہ کفار ہم پر غلبہ حاصل نہ کرلیں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ میں فلاں یہودی کے ساتھ مل جاتا ہوں اور اس سے امان لیتا ہوں کیونکہ یہ خوف ہے کہ کل کو یہود ہم پر غلبہ حاصل کرلیں اور دوسرے شخص کہنے لگے کہ میں ملک شام کے فلاں نصرانی کے ساتھ مل جاتا ہوں اور ان سے امان لیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور ان دونوں حضرات کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایت البولبابہ بن عبدالمنذر کے بارے میں نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے جب بنو قریظہ کا محاصرہ کیا تھا تو ابو لبابہ ؓ کو ان کے پاس بھیجا تھا تو ان لوگوں نے ہتھیار ڈالنے کے بارے میں حضرت ابولبابہ ؓ سے مشورہ کیا اور پوچھا اگر ہم ہتھیار ڈال دیں ہمارے ساتھ کیا حشر ہوگا ؟ تو ابو لبابہ ؓ نے اپنی انگلی حلق پر پھیر کر اشارہ کیا کہ قتل کیے جائوں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (بعضھم اولیاء بعض وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں) مدد کرنے میں اور مسلمانوں کے خلاف یہ سب ایک ہیں (ومن یتولھم منکم اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے) تو پھر ان کی موافقت اور مدد کرے (فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظالمین تو وہ انہی میں ہے اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو) (فتری الذین فی قلوبھم مرض اب آپ دیکھیں گے ان کو جن کے دل میں بیماری ہے) یعنی نفاق ہے اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں جو یہود سے دوستی رکھتے تھے (یاسرعون فیھم دوڑ کر ملتے ہیں ان میں ) ان کی مدد اور دوستی میں (یقولون نخشی ان تصیبنا دائرۃ کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ نہ آجائے ہم پر گردش زمانہ کی) یعنی زمانہ کی کوئی مصیبت ہم پر آجائے اور ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑجائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں خوف ہے کہ محمد ﷺ کا دین کامیاب نہ ہو اور مصیبت ہم پر آجائے اور بعض نے کہا کہ ان کو یہ ڈر تھا کہ کوئی شک سالی یا قحط آجائے تو یہ لوگ ہمیں قرض اور خوراک نہ دیں گے (فعسی اللہ ان یاتی بالفتح سو قریب ہے کہ اللہ جلد ظاہر فرمائے فتح) قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی مخالفین پر مدد کرکے کھلا فیصلہ کردے اور کلبی و سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں فتح مکہ مراد ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہود کے علاقہ خیبر ، فدک وغیرہ کی فتح مراد ہے (اوا مومن عندہ یا کوئی حکم اپنے پاس) بعض نے کہا : محمد ﷺ کا معاملہ مکمل کرکے اور بعض نے کہا ان کے لیے عذاب مراد ہے اور بعض نے کہا بنو نضیر کی جلاوطنی مراد ہے ( فیصحبوا تو لگیں ) یہ منافین (علی مااسروافی الفسھم اپنے نفس کی چھپی بات پرپچھتانے ) یعنی یہود کی دوستی اور ان کی طرف خبریں پہنچانے پر۔ (نادمین)
Ayahs 5:53–54

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

آیت نمبر 54, 53 تفسیر :(و) اور اس وقت (یقول الذین امنوا کہتے ہیں مسلمان) اہل کوفہ نے ” ویقول “ کو وائو کے ساتھ اور لام کے رفع سے پڑھا ہے کہ یہ نیا جملہ ہے اور اہل بصرہ نے وائو کے ساتھ اور لام کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس کا عطف ” ان یاتی “ پر ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ قریب ہے کہ مومن لوگ یہ بات کہیں گے اور باقی حضرات وائو کو حذف کرکے لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل عالیہ کے مصاحف میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ اس صورت میں حرف عطف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آیت اپنے ماقبل سے متصل ہے یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ منافقین کا نفاق ظاہر کریں گے اس وقت مومنین کہیں گے (اھولاء الذین اقسموا باللہ جھد ایمانھم کیا یہ وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی تاکید سے) یعنی پختہ قسمیں کھائیں (انھم لمعکم کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ) یعنی وہ مومنین ہیں یعنی اس دن مومن ان کے جھوٹ اور باطل قسموں سے تعجب کریں گے (حبطت اعمالھم برباد گئے ان کے عمل) جو نیک اعمال انہوں نے کیے وہ باطل ہوگئے (فاصبحوا خاسرین پھر رہ گئے نقصان میں ) رسوائی کی وجہ سے دنیا کا نقصان ہوا اور عذاب اور ثواب ختم ہونے کی سے اخرت کا۔ (یایھا الذین امنوا میں یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحیھم ویحبونۃ اے ایمان والو ! جو کوئی تم میں پھرے گا اپنے دین سے تو اللہ عنقریب لائے گا ایسی قوم کو کہ اللہ ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں) اہل مدینہ اور شام ” یرتدد “ پڑھا ہے دو دال کے ساتھ (اپنے دین سے) پس کفر کی طرف لوٹ جائے۔ حسن فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک ایسی قوم کی خبردی جو نبی کریم ﷺ کے بع اپنے دین سے پھر جائے گی اور اللہ تعالیٰ ان کے بدلے ایسی قوم لائیں گے جن کو اللہ چاہتا ہے اور وہ اللہ کو۔ یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ کی تفسیر۔ اس سے کون سی قوم مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ حضرت علی ؓ ، حسن ، قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ پسندیدہ قوم حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے مرتدین اور زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کیا۔ اس جہاد کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رحلت کے بعد مکہ ، مدینہ اور بحرین کے قبیلہ عبدالقیس کے علاوہ اکثر عرب مرتد ہوگئے اور بعض نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے قتال کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام ؓ کو یہ بات ناگوار گزری اور حضرت عمر ؓ نے کہا کہ ہم ان سے لڑائی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے ” لاالہ الا اللہ “ کہنے تک قتال کروں جس نے ” لاالہ الا اللہ “ کہہ دیا تو مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تو حضرت ابوبک صدیق ؓ نے فرمایا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا اللہ کی قسم میں اس سے قتال کروں گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم اگر وہ مجھے بکری کا بچہ نہ دیں گے جو رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے تو میں اس کے نہ دینے کی وجہ سے ان سے قتال کروں گا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے زکوٰۃ دینے والوں کے قتال کو ناپسند سمجھا اور کہا کہ یہ اہل قبلہ ہیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنی تلوار گلے میں ڈال کر تنہا نکل کھڑے ہوئے تو صحابہ کرام ؓ کے پاس ان کے ساتھ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ابتداء میں ہم نے اس بات کو ناپسند سمجھا پھر بعد میں اسی کام کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خوب تعریف کی۔ ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے ابوحصین کو یہ کہتے سنان کہ انبیاء (علیہم السلام) کے بعد حضرت ابوبکر ؓ سے افضل کوئی پیدا نہیں ہوا۔ تحقیق انہوں نے مرتدین کے قتال میں انبیاء عہلیم السلام والی جرأت و حوصلہ دکھایا۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں تین جماعتیں مرتد ہوگئی تھیں۔ پہلا فرقہ ان میں سے ایک فرقہ بنو مدلج تھا۔ ان کا سردار ذوالحمار عیھلۃ بن کعب عنسی تھا۔ اس کا لقب اسود تھا یہ کاہن اور شعبدہ باز تھا۔ اس نے یمن میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یمن کے شہروں پر قبضہ کرلیا تو نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ اور وہاں کے مسلمانوں کی طرف خط لکھا اور ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ اپنے دین کو مضبوطی سے تھام لیں اور اسود کے لشکر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اسود کو حضرت فیروز ویلمی ؓ نے اس کے بستر پر قتل کردیا ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس رات اسود قتل کیا گیا اسی رات نبی کریم ﷺ پر آسمان سے ان کی موت کی خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گزشتہ رات اسود مارا گیا ہے اور اس کو ایک بابرکت آدمی نے قتل کیا ہے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا وہ کون ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا فیروز اور صحابہ کرام ؓ کو اسود کی ہلاکت کی خوشخبری دی اور اگلے دن نبی کریم ﷺ دنیا سے رحلت فرما گئے اور سود عنسی کے قتل کی خبر ماہ ربیع الاول کے آخر میں مدینہ اس وقت آئی جب حضرت اسامہ ؓ کا لشکرن کل چکا تھا اور یہ پہلی فتح تھی۔ دوسرا فرقہ یمامہ کا بنو حنیفہ قبیلہ تھا۔ ان کا سردار مسلیمہ کذاب تھا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں سن دس ہجری میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ گمان کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک ہے اور نبی کریم ﷺ کی طرف خط بھیجاجس کا عنوان تھا۔ یہ خط اللہ کے رسول مسلیمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف ہے۔ امابعد : بیشک زمین آدھی میر ہے اور آدھی آپ کی اور اس خط کے ساتھ اپنے دو آدھی بھیجے ۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اگر قاصدوں کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔ پھر خط کا جواب دیا۔ یہ خط اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے جھوٹے مسلیمہ کی طرف ہے۔ حمد وصلٰوۃ کے بعد۔ اس زمین کا مالک اللہ ہے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے ہے اس کے بعد نبی کریم ﷺ مریض ہوئے اور وفات پاگئے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں ایک بہت بڑا لشکر مسلیمہ کذاب کی طرف بھیجا، اللہ تعالیٰ نے مسلیمہ کو حضرت وحشی ؓ کے ہاتھ پر ہلاک کردیا۔ یہ وحشی وہی ہیں جنہوں نے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کو شہید کیا تھا یہ مطعم بن عدی کے غلام تھے ۔ مسلیمہ کے لشکر سے بڑی زور دار لڑائی ہویئ۔ حضرت وحشی ؓ فرماتے تھے کہ جاہلیت میں میں نے لوگوں میں سے بہترین کو قتل کیا اور اسلام لانے کے بعد لوگوں میں سے بدترین شخص کو قتل کیا۔ تیسرا فرقہ بنو اسد ہے اور ان کا سردار طلیحۃ بن خویلد تھا۔ ان تین فرقوں میں آخری مرتد طلیحۃ تھا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کی حیات مبا کہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد مرتدین میں یہ سب سے پہلے مارا گیا۔ اس کی سرکوبی کے لیے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھیجا۔ حضرت خالد ؓ نے بڑی سخت جنگ کے بعد ان کو شکست دی۔ طلیحہ وہاں سے غائب ہوگیا اور شام کی طرف بھاگ گیا پھر بعد میں اسلام لے آیا اور بڑا اچھا مسلمان بنا۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت میں بہت سارے لوگ مرتد ہوگئے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کافی ہوگیا اور اپنے دین کی مدد حضرت ابوبکر ؓ کے سہاتھ سے کرائی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ وفات پاگئے اور عرب مرتد ہوگئے اور نفاق سر اٹھانے لگا اور حضرت ابوبکر ؓ پر اتنی ذمہ داریاں آگئیں کہ اگر ٹھوس پہاڑوں پر آتیں تو ریزہ ریزہ ہوجاتے اور ایک قوم نے کہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم سے اشعری لوگ مراد ہیں کیونکہ حضرت عیاض بن غنم الاشعری ؓ سے مروی ہے کہ جب ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم الخ “ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ وہ ان کی قوم ہے اور اشعر یمن کا قبیلہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آرہے ہیں ان کے دل بڑے نرم اور کمزور ہیں ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے یمن کے اس وقت زندہ لوگ مراد ہیں۔ وہ ہزار قبیلہ نخع کے اور پانچ ہزار کندہ اور بجیلہ کے اور تین ہزار دیگر اطراف کے قادسیہ کی لڑائی میں۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں انہوں نے جہاد کیا۔ (اذلۃ علی المومنین نرم دل ہیں مسلمانوں پر) یعنی نرم دل، شفیق ہی۔ لفولہ عزوجل واخفض جناح الذل من الرحمۃ اس سے ان کی کمزوری مراد نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ ان کے پہلو مسلمانوں پر نرم ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ” ذل “ سے لیا گیا ہے یعنی عاجزی انکساری کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان وعبادالرحمن الذین بمشون علی الارض ھونا۔ (اعزۃ علی الکافرین زبردست ہیں کافروں پر) یعنی سخت مزاج ہیں کافروں پر ان سے دشمنی رکھتے ہیں اور ان پر غالب آجاتے ہیں۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین پر ایسے نرم دل ہیں جیسے بچہ اپنے والد اور غلام اپنے آقا کے لیے اور کافروں پر ایسے زبردست ہیں جیسے درندہ اپنے شکار پر (یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی کے الزام سے) یعنی للہ کے معاملہ میں کسی کی ملامت سے نہیں ڈرتے یہ اس وجہ سے کہا کہ منافقین کفار کی ملامت کا خوف کرتے تھے اور ان سے ڈرتے تھے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، سننے اور اطاعت کرنے پر اور اس بات پر کہ حق پر قائم ہوں گے اور حق بات کہیں گے ہم جہاں بھی ہوں ، اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کر کی ملامت سے نہ ڈریں گے ( ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یہ فضل ہے اللہ کا دے گا جس کو چاہے) یعنی ان کا اللہ سے محبت کرنا اور مسلمانوں کے لیے نرم ہونا اور کافروں پر سخت ہونا اللہ کے فضل کی وجہ سے ہے (واللہ واسع علیم اور اللہ کشادگی کرنے والا ہے خبردار)
Ayah 5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

آیت نمبر 55 تفسیر : (انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا تمہارا رفیق تو وہی اللہ ہے اور اس کا رسول اور جو لوگ ایمان والے ہیں) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی عبادہ بن صامت ؓ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب انہوں نے یہود سے برأت ظاہر کی اور کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کو ولی بناتا ہوں تو یہ چھ آیات نازل ہوئیں ” یایھا الذین امنو الا تتخذوا الیھود الخ سے انما ولیکم اللہ ورسولہ “ تک۔ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! بیشک ہماری قوم قریظہ اور نضیر نے ہم کو چھوڑ دیا ہے اور ہم سے جدا ہوگئے ہیں اور قسمیں اٹھائی ہیں کہ ہمارے ساتھ نہ بیٹھیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ان کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کی دوستی پر راضی ہیں۔ اس تفسیر پر اللہ تعالیٰ کے قول ” وھم راکعون “ سے رات اور دن کی نفل نماز مراد ہعے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (الذین یقمون الصلوٰۃ ویوتون الذکرا وھم راکعون (اور جو کہ قائم ہیں نماز پر اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں) ” راکعون “ سے حضرت علی ؓ مراد ہیں کیونکہ حضرت علی ؓ پر ایک سائل کا گزر ہوا اور نماز کے رکوع میں تھے تو اپنی انگوٹھی اتار کر دے دی۔
Ayah 5:56

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

آیت نمبر 56 تفسیر : (ومن یقول اللہ ورسولہ والذین امنوا اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو ) یعنی دوستی قائم رکھے اللہ کی اطاعت پر قائم رہنے اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کی مدد کرکے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مہاجرین اور انصار ہیں (فان حزب اللہ تو اللہ کی جماعت) یعنی اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ( ھم الغالبون وہی سب پر غالب ہیں)