Ayah 7:200(7:200) اما۔ ان شرطیہ اور ما زائدہ سے مرکب ہے۔ اگر ۔ یا۔ ملاحظہ ہو 7:115 ۔
ینزغنک۔ مضارع واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ نزغ سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ نزغ کے معنی انگلیوں کے پودوں سے کسی کو گدگدانا۔ کسی کو برائی پر اکسانا۔ اور کسی گناہ پر آمادہ کرنا۔ النزغ الضرب برؤس الاصابع والمراد ھھنا التحریک الی الشر والاغواء والوسوسۃ (مظہری)
المفردات میں ہے النزغ کے معنی کسی کام کو بگاڑنے کے لئے اس میں دکل انداز ہونا۔ من بعد ان نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی (12:100) بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا۔ یہاں بمعنی وسوسہ میں ڈالے، برائی پر اکسائے
فاستعذ۔ تو پناہ مانگ۔ استعاذۃ (استفعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔
Ayah 7:201(7:201) مسھم۔ من یمس (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو چھوجائے۔ وہ ان کو پہنچائے۔ وہ ان کو الگ جائے۔ کبھی اس سے مراد قربت صنفی (جماع) بھی ہوتی ہے۔ مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دیدو۔ لازم اور متعدی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔
طئف۔ وسوسہ۔ خطرہ ۔ پھرجانے والا۔ پھیرے جانے والا۔ پہلے معنی مجازی ہیں۔ اور دوسرے حقیقی طئف طوف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ طوف کے معنی کسی چیز کے گرد چکر کاٹنا۔ قرآن میں ہے ۔ فلا جناھ علیہ ان یطوف بھما (2:158) اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (اسی طرح خانہ کعبہ کے گرد چکر کاٹنے کو طواف کہتے ہیں ) اسی طرح جو شخص گھروں کے گرد اگر حفاظت کے لئے چکر لگاتا رہتا ہے اسے طائف کہتے ہیں۔ اور اسی سے جن، خیال ، حادثہ وغیرہ کو بطور استعارہ طائف بولتے ہیں ۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اذا مسہم طئف من الشیطن۔ جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے یا جہاں پڑگیا ان پر شیطان کا گزر۔ یعنی جو شیطان انسان پر چکر کاٹتا رہتا ہے اور اس کو شکار کرنا چاہتا ہے اس کا وسوسہ اور خطرہ اثر کر گیا۔ اور فطاف علیہم طئف من ربک (68:19) پھر پھیرا کر گیا اس پر کوئی پھیرا کرنے والا ۔ تیرے رب کی طرف سے۔ یعنی اس پر آفت پھر گئی۔
تذکروا۔ تذکر (باب تفعل) سے ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ چونک گئے۔ انہوں نے یاد کیا۔ (ما امر اللہ بہ ونہی ونہ جس کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہوا تھا اور جس سے اس نے منع فرمایا ہوا تھا) یا وہ پاگئے۔ سمجھ گئے۔ شیطان کے وسوسہ کو اور اس کی چال کو۔
مبصرون (تو فورا) ان کی آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ حقیقت کو جان گئے۔
Ayah 7:202(7:202) اخوانھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ الشیاطین کی طرف راجع ہے۔ ما قبل میں اگرچہ الشیطان (مفرد) استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں اس سے مراد جنس شیطان ہے اس لئے یہاں ضمیر جمع لائی گئی ہے۔ یعنی اخوان الشیاطین ۔ وہ گروہ جو متقین کے متضاد ہے۔
یمدونھم۔ یمدون کا فاعل الشیاطین ہے اور ھم ضمیر کا مرجع اخوانھم (اخوان الشیاطین ہے) ۔
الغی۔ اسم فعل۔ گمراہی۔ بدراہی۔ غ و ی مادہ۔
ثم لا یقصرون۔ (انہیں پھر گمراہ کرنے میں وہ کوتاہی نہیں کرتے) مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب افعال) اقصار سے وہ باز نہیں رہتے۔ وہ کمی نہیں کرتے ۔ وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ اقصر عن الشیء کے معنی ہیں وہ اس چیز سے رک گیا۔
Ayah 7:203(7:203) لم تاتہم۔ تو نہیں لاتا ان کے پاس۔ نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔
لولا۔ کیوں نہ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 6:43 ۔
اجتبیتھا۔ جبی (ضرب) جبی الماء فی الحرض۔ اس نے حوض میں پانی جمع کیا۔ بڑے حوض کو جابیۃ کہتے ہیں اور اس کی جمع جواب ہے قرآن میں ہے وجفان کالجواب (34:13) اور (ایسے) لگن جیسے بڑے بڑے حوض۔ باب افتعال سے اجتباء انتخاب کے طور پر کسی چیز کو جمع کرنا۔ جیسے المجتبی منتخب شدہ۔ برگزیدہ۔
آیت ہذا میں اجتبیت بمعنی اخترت واخلفت کے ہے۔ کیوں نہیں تم خود گھڑ لیتے ۔ کیوں نہیں تم خود بنا لیتے۔ کیوں نہیں تم خود اختراع کرلیتے (جیسا کہ بقول کافرین کے وہ یعنی رسول اکرم ﷺ قرآن حکیم کو ازخود گھڑ کر پیش کرتے تھے) ۔
ھا ضمیر کا مرجع ایۃ ہے۔ اتبع۔ میں اتباع کرتا ہوں اتباع (افتعال) مضارع صیغہ واحد متکلم۔
یوحی۔ وحی کی جاتی ہے۔ ایحاء (افعال) سے مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ ھذا۔ ای القران۔
بصائر۔ بصیرۃ کی جمع ۔ کھلی دلیں۔ ظاہر نصیحتیں۔ واضح براہین۔
Ayah 7:204(7:204) استمعوا تم کان لگا کر (غور سے) سنو ۔ استماع (افتعال) سے امر۔ جمع مذکر حاضر۔
ینصت (ضرب) چپ رہنا۔ خاموش رہو۔ چپ سے سنتے رہو۔ انصات (باب افعال) سے نصت ینصت (ضرب) چپ رہنا۔ خاموشی سے سننا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
Ayah 7:205(7:205) تضرعا بروزن تفعل مصدر ہے۔ عاجزی کرنا۔ گڑگڑانا۔
خیفۃ۔ خاف یخاف (فتح) کا مصدر ہے۔ خوف۔ ڈر۔
امام راغب لکھتے ہیں کہ خیفۃ کے معنی ہیں خوف کی حالت۔ قرآن میں ہے کہ : فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی۔ قلنا لاتخف (20:67) (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا (اے موسیٰ ) مت ڈر۔ کبھی خیفۃ بمعنی خوف بھی آتا ہے۔ مثلاً والملئکۃ من خیفتہ (13:13) اور فرشتے سب اس کے خوف سے۔
دون الجھر۔ چپکے چپکے۔ بغیر بلند آواز کئے۔
اتعدو صبح صبح کا نکلنا، صبح صبح کو پہنچنا، فجر اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت۔ دن کا ابتدائی حصہ میں چلنا۔ یہ الغدوۃ کی جمع بھی ہے
الاصال۔ شام ۔ شام کا وقت۔ اصل کی جمع ہے۔ جس کے معنی شام کے وقت کے ہیں۔
Ayah 7:206(7:206) ان الذین عند ربک۔ بیشک وہ جو تیرے رب کے قرب میں ہیں۔ یہاں مراد فرشتے ہیں۔