7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsانوار البیان

Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

(7:160) قطعنہم۔ ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تقطبع مصدر (باب تفعیل) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں ۔ خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام وغیرہ۔ یا بصیرت سے ہو جیسے معنوی چیزیں۔ قرآن میں ہے : السارق والساقۃ فاتطعوا ایدیہما (5:38) اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ اور دوسری جگہ ہے : فالذین کفروا قطعت لہم ثیاب من النار (22:19) جو کافر ہیں ان کیلئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے۔ یہاں اس آیۃ میں جملہ کا مطلب ہے : کہ ہم نے ان کو بانٹ دیا۔ ہم نے ان کو تقسیم کردیا۔ اسباطا۔ سبط کی جمع۔ قبیلے۔ ایک داد ا کی اولاد۔ اثنتی عشرۃ کا بدل ہے۔ امما۔ فرقے ۔ قبیلے۔ جماعتیں۔ امتیں۔ انواع۔ امۃ کی جمع ۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہو۔ اسے امت کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورت میں یہ رابطہ مشترکہ ان کا ایک ہی جدا مجد حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ہونا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 7:159) امما بدل ہے اسباطا سے۔ یعنی ہم نے بانٹ دیا ان کو بارہ قبیلوں میں۔ ہر ایک کی الگ الگ جماعت بنادی گئی۔ استسقہ۔ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (باب استفعال) اس نے اس سے پانی مانگا۔ سقی مادہ۔ ساقی پلانے والا۔ انجست۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ پھوٹ نکلی۔ ابنجاس سے جس کے معنی کسی تنگ مصام سے پانی کے بہ نکلنے کے ہیں۔ بجس وانجیس المائ۔ پانی پھوٹ کر بہ نکلا۔ انفجر کا ہم معنی ہے۔ جیسا (2:60) میں آیا ہے۔ فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا۔ اس (تنگ مقام یعنی پتھر) سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اناس لوگ ۔ نوس سے ماخوذ ہے۔ مثریہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اسم ظرف مکان ۔ پینے کی جگہ ۔ چشمہ۔ ظللناہم نے سایہ کیا، ہم نے سائبان کیا۔ ہم نے سایہ فگن کردیا۔ ہم نے سایہ کیا (ان پر ابرکا) ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ باب تفعیل
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

(7:161) القریۃ۔ یہاں اور 2:58 میں القریۃ سے مراد بیت المقدس ہے۔ منھا۔ ای من اثمار القریۃ وزروعھا۔ یعنی شہر میں پائے جانے والے پھل وغیرہ ۔ حطۃ۔ ہم بخشش مانگتے ہیں۔ تو ہمارے گناہ چھوڑ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:58)
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

(7:162) رجزا۔ عذاب ۔ بلا۔ عقوبت۔ الرجز کے اصل معنی اضطراب کے ہیں۔ اس سے رجزالبعیر۔ جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپانے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

(7:163) القریۃ۔ مدین اور کوہ طور کے درمیان سمندر کے ساحل پر ایک بستی۔ حاضرۃ البحر۔ لب دریا۔ سمندر کے کنارے۔ حاضرۃ۔ حضور سے اسم فاعل ہے۔ مضاف البحر مضاف الیہ۔ بحر سے بحیرۂ قلزم مراد ہے۔ یعدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عدوان مصدر۔ باب نصر۔ حد شرعی سے تجاوز کر رہے تھے۔ زیادتی کر رہے تھے۔ السبت۔ سنیچر کا دن۔ یوم شنبہ۔ سنیچر کے دن کی تعظیم کرنا۔ کام کاج سے چھٹی کرنا۔ شرعا۔ الشرع۔ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔ چناچہ واضح راستہ کو شرع شرع شریعۃ کہا جاتا ہے پھر استعارہ کے طور پر طریق الٰہیہ پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ شرعا شارع کی جمع اسم فاعل ہے۔ شارعۃ الطریق کی جمع شوارع آتی ہے۔ جس کے معنی کھلی سڑک ہے۔ آیہ ہذا میں شرعا کے معنی ہیں کہ (مچھلیاں ان کے سامنے) پانی کے اوپر واضح طور پر آجاتیں۔ لایسبتون۔ جب وہ سنیچر نہیں مناتے تھے۔ یعنی جس دن سنیچر کا دن نہ ہوتا تھا (اور ان کو مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت نہ ہوتی تھی) مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ لاتاتیھم۔ وہ ان کے سامنے (بےدھڑک اور نمایاں) نہ آتی تھیں۔ نبلوہم۔ مضارع مجزوم جمع متکلم۔ بلاء سے باب نصر۔ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

(7:164) امۃ منھم۔ ان میں سے کا ایک گروہ۔ ایک جماعت۔ سنیچر کے دن مچھلیوں کے شکار نہ کرنے کے متعلق اس بستی کی آبادی تین مختلف الخیال گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ کھلم کھلا نافرمانی کا مرتکب تھا۔ اور بےدھڑک اس روز شکار کرتا تھا۔ دوسرا گروہ خود تو شکار کرنے کے حق میں نہ تھا اور نہ شکار کرتا تھا ۔ لیکن شکار کرنے والوں کو روکتا بھی نہ تھا۔ تیسرا گروہ نہ صرف شکار سے اجتناب کرتا تھا بلکہ شکار کرنے والوں کو اس حکم عدولی سے منع بھی کرتا تھا۔ لم تعظمون۔ تم کیوں نصیحت کرتے ہو۔ وعظ سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ یہاں مخاطب تیسر اگر وہ ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اور متکلم دوسرا گروہ ہے۔ معذرۃ الی ربکم۔ سوال کا جواب ہے۔ ای ان موعظتنا ایاھم معذرۃ الی ربکم لان الامر بالمعروف والنہی عن المنکر واجب علینا۔ یعنی ہمارا ان کو نصیحت کرنا اپنے اللہ کے حضور اپنی معذرت کے طور پر ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم ہم پر واجب ہے (ہم اس حکم کی تعمیل میں ایسا کر رہے ہیں)
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

(7:165) نسوا ماضی معروف جمع مذکر غائب نسیان مصدر (باب سمع) وہ بھول گئے۔ یعنی انہوں نے چھوڑ دیا (متذکرہ بالا پہلے گروہ کے افراد مراد ہیں) ۔ بئیس۔ شدید۔ سخت۔ بروزن فعیل۔ باس اور بؤس سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

(7:166) عنوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ نافرمانی کی۔ سرتابی میں حد سے گزر گئے۔ شرارت میں انتہاء کو پہنچ گئے۔ عتو سے۔ نھوا۔ نہی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو منع کیا گیا۔ قردۃ۔ جمع۔ قرد واحد۔ بندر۔ لنگور۔ خسئین۔ ذلیل ۔ خوار۔ خسنا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

(7:167) تاذن۔ اس نے اعلان کیا۔ اس نے خبر دی۔ اذن سے باب تفعل تاذن جس سنا دینے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ لیبعثن۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ جواب قسم کے لئے ہے بعث سے وہ ضرور ہی بھیجے گا۔ یسومہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سوم مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو تکلیف دیتا ہے یا تکلیف دیگا۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:49 ، 3:14) ہم کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے۔ اس میں علماء میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر اس گروہ کے افراد کے لئے جنہوں نے متواتر حکم عدولی کرتے ہوئے سبت کے روز بھی مچھلیوں کا شکار کیا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد پوری یہودی امت ہے۔ اور بعض کے نزدیک حضور ﷺ کے ہمعصر یہودی مراد ہیں۔ اس آیت میں خطاب حضور ﷺ سے ہے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

(7:168) قطعنہم۔ ملاحظہ ہو 7:160 ۔ ہم نے ان کو بانٹ دیا۔ تقسیم کردیا۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسکو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(7:169) خلف۔ وہ نانشین ہوا۔ وہ پیچھے آیا (باب نصر) اول معنی میں خلافۃ۔ جانشین ہونا۔ اور دوسرے معنی میں خلف (پیچھے آنا) سے ہے۔ خلف۔ ناخلف۔ برے جانشین۔ امام بغوی لکھتے ہیں خلف اس قرن (نسل) کو کہتے ہیں جو دوسرے قرن کے بعد آتا ہے۔ ابن لاعرابی کا قول ہے کہ خلف (لام کے زیر کے ساتھ) نیک کیلئے آتا ہے اور خلف (لام کے جزم کے ساتھ) بد کے لئے آتا ہے۔ ورثوا الکتب۔ جو کتاب الٰہی (توریت) کے وارث ہوئے یعنی پہلی نسلوں کے بعد اب جن پر اس کتاب الٰہی پر گامزن رہنا فرض ٹھہرا۔ عرض۔ مال و متاع۔ سامان و اسباب۔ امام راغب لکھتے ہیں العرض۔ ہر وہ چیز جسے ثبات نہ ہو۔ ابو عبیدہ کے نزدیک جملہ متاع دنیا اس میں شامل ہے۔ یہ جو بولا جاتا ہے الدنیا عرض حاضر (کہ دنیا تو پیش افتادہ سامان کا نام ہے) یہ بھی دنیا کی بےثباتی ہی بتانے کے لئے ہے۔ قرآن مجید میں ہے تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ (8:67) تم لوگ پیش افتادہ سازوسامان کے طالب ہو۔ اور اللہ آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔ ادنی۔ زیادہ نزدیک (مذکر کے لئے بولا جاتا ہے) دان ودنی کا اسم تفضیل ہے دنیا (مؤنث ہے) یہاں یہ لفظ دنیا کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ یاخذون عرض ھذا الادنی۔ وہ اس دنیا کا مال و دولت لیتے ہیں۔ سیغفرلنا۔ وہ ہمیں ضرور بخش دیا جائیگا۔ یعنی جو مال حلال و حرام ہم حاصل کر رہے ہیں اس کا ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا۔ وان یاتھم عرض مثلہ۔ واؤ حالیہ ہے یعنی حال یہ ہے کہ بجائے حرام مال کے ہتھیانے پر توبہ کرنے اور مغفرت طلب کرنے کے ویسے ہی طریقہ کا مزید مال حاصل کرنے پر مصر ہیں۔ میثاق الکتاب۔ ای المیثاق المذکور فی الکتاب۔ وہ وعدہ جو کتاب (تورات ) میں مذکور ہے یعنی ان لا بقولوا علی اللہ الا الحق۔ درسوا۔ انہوں نے پڑھا۔ درس اور دراسۃ سے ماضی جمع مذکر غائب۔ مافیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ الکتاب کی طرف راجع ہے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (انکو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

(7:170) یمسکون۔ جمع مذکر غائب تمسک (باب تفعل) سے ۔ وہ پکڑے ہوئے ہیں وہ پابند ہیں۔ امساک الشیٔ کے معنی کسی چیز سے چمٹ جانا۔ اور اس کی حفاظت کرنے کے ہیں۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا) ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔

(7:171) نتقنا۔ ماضی جمع متکلم نتق سے (باب نصر) ہم نے اٹھایا۔ (سیوطی) ہم نے اکھاڑ دیا (بغوی) ہم نے معلق کردیا (فرار) نتق (باب ضرب و نصر) کھینچنا۔ ہلانا۔ بات کہنا کسی چیز کو کھینچنا اور بلانا اس طرح کہ وہ ڈھیلی پڑجائے (راغب) لسان العرب میں ہے کہ النتق۔ الزمزعۃ۔ والھز والجذب والنقص یعنی نتق کا معنی جھٹکا دینا۔ روز سے بلانا۔ کھینچنا اور جھاڑنا ہے۔ جب پہاڑ میں زلزلہ آتا ہے تو یہ کیفیت رونما ہوتی ہے۔ اور جو لوگ پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوتے ہیں انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ ان پر ابھی گرا چاہتا ہے۔ اس قسم کی صورت حال سے بنی اسرائیل کو دو چار کردیا گیا۔ ظلۃ۔ سائبان کی طرح سایہ دار بدلی۔ پھر ہر چیز پر جو سئیبان کی طرح چھانیوالی ہو اس پر استعمال ہوتا ہے۔ جیسے واذا غشیہم موج کا الظلل (31:32) جب (بادلوں کی طرح) سمندر کی بڑی بڑی موجیں انہیں ڈھانپ لیتی ہیں۔ الجبل سے مراد کوہ طور ہے۔ واقع۔ گرپڑنے والا۔ وقع سے (باب فتح) اسم فاعل واحد مذکر۔ خذوا۔ قلنا لہم خذوا۔ ما اتینکم۔ یعنی تورات۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

(7:172) ظھورھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ظھور۔ ظھر۔ کی جمع ہے ۔ پیٹھیں۔ پشتیں۔ نسلیں۔ ذریۃ۔ کے اصل معنی چھوٹی اولاد کے ہیں۔ مگر عرف میں مطلق اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اصل میں یہ لفظ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے ذریۃ بعضھا من بعض (3:34) ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے ذریۃ کے اصل کے متعلق تین قول ہیں۔ (1) بعض کے نزدیک یہ ذرء اللہ الخلق سے ہے یعنی اصل میں مہموز اللام ہے مگر کثرت استعمال کے سبب دوتۃ وبریۃ کی طرح ہمزہ کو ترک کردیا گیا۔ اور ذریۃ ہوگیا۔ (مادہ ذرئ) ۔ (2) بعض کے نزدیک یہ اصل میں ذرویۃ بروزن فعلیۃ تھا اور ذر (ذرر) سے مشتق ہے جیسے قریۃ قر سے۔ (3) کہ آیت کریمہ ولقد ذرأنا لجھنم (7:79) اور ہم نے جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں ذرانا ذریت الحنطۃ (گیہوں کو ہوا میں صاف کرنا) سے مشتق ہے۔ اس صورت میں مادہ ذرو ہے۔ واذاخذ ۔۔ ذریتہم۔ میں من ظہورہم بدل ہے من بنی ادم کا اور ذریتہم (مضاف مضاف الیہ) مفعول ہے اخذ کا ترجمہ : اور جب تیرے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ (یعنی اپنے روبرو لاحاضر کیا) اشھدہم۔ اس نے ان کو گواہ بنایا۔ اس نے ان کی شہادت لی۔ ان تقولوا عم غفلین۔ یہ جملہ مفعول لہ ہے فعلنا زلک کا جو محذوف ہے۔
Ayahs 7:173–174

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

(7:173) اوتقولوا۔ عطف ہے ان تقولوا (آیہ سابقہ پر) افتھلکنا۔ الف لام استفہام کے لئے ہے۔ تہلک مضارع واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ کیا تو ہمیں ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ مبطلون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ غلط گو۔ جھوٹے۔ اہل باطل۔
Ayahs 7:175–176

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

(7:175) اتل۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تلاوۃ سے جس کے معنی پڑھنے ۔ تلاوت کرنے اور معنی میں تدیر کرنے کے ہیں۔ امر واحد مذکر حاضر۔ (خطاب حضرت رسول کریم سے ہے) ۔ نبأ خبر ۔ حال ۔ نبا الذی حال اس شخص کا۔ اتینہ ایتنا۔ ہم نے اس کو اپنی نشانیاں دیں۔ ہم نے اس کو اپنی نشانیوں کا علم دیا۔ فانسلخ منھا۔ وہ چھوڑ نکلا۔ وہ گزر گیا۔ السلخ کے اصل معنی ہیں کھال کھینچنا۔ (باب انفعال) سے۔ جیسے محاورہ ہے سلختہ فانسلخ میں نے اس کی کھال کھینچی تو وہ کھنچ گئی۔ اسی سے ہے سلخت درعہ۔ میں نے اس کی زرہ کھینچی یعنی اتارلی۔ گزرجانے کے معنی میں قرآن میں آیا ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم (9:5) جب حرمت کے مہینے گزر جائیں۔ سانپ کی کنچلی اتار دینے کو عربی میں کہتے ہیں انسلخت الحبۃ من جلدھا (سانپ پنی جلد سے نکل گیا) پس فانسلخ منھا کا یہ مطلب ہوا کہ : اس شخص نے ان آیات و ہدایات کو چھوڑ دیا۔ اور گمراہی میں چلا گیا۔ اتبعہ۔ وہ اس کے پیچھے لگ گیا۔ غوین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ غاوی واحد ۔ گمراہ کج رو۔ بھا۔ میں ضمیر ایتنا کی طرف راجع ہے۔ اخلد الی الارض۔ ای مال الی الدنیا ورغب فیہا (لیکن وہ دنیا کی طرف مسائل ہوگیا اور اس کی رغبت اس میں رچ بس گئی۔ تحمل علیہ۔ تو اس پر حملہ کرے۔ یلھث۔ ہانپنا۔ زبان باہر نکالنا۔ وہ زبان باہر نکال دیتا ہے (باب فتح) لہث ولہاث کتے وغیرہ کا عاجزی اور پیاس سے زبان باہر نکالنا۔ لہاث۔ پیا کی گرمی۔ موت کی سختی ۔ باب سمع۔ پیاسا ہونا۔ لہثان پیاس ۔ التھاث (باب افتعال) پیاس و تکان وغیرہ سے زبان باہر نکال دینا۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

(7:177) ساء مثلان القوم میں مثلا تمیز ہے۔ یعنی مثال کے لحاظ سے بری ہے وہ قوم ۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

(7:178) المھتدی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ معرفہ۔ ہدایت یاب۔ ومن یضلل۔ ای ومن یضلل اللہ۔ اور جن کو اللہ گمراہ کر دے
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

(7:179) ذرانا۔ ہم نے پیدا کیا۔ ماضی جمع متکلم۔ لجہنم۔ میں لام عاقبت کا ہے۔ غایت کا نہیں۔ یعنی ان کو پیدا کرنے کی غایت ان کو جہنم میں ڈالنے کی نہ تھی۔ بلکہ اپنے کفر و نافرمانی کے انجام کے طور پر وہ جہنمی بن گئے۔ قرآن میں اس کی اور مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا۔ پس فرعون کے آدمیوں نے اس کو اٹھالیا تاکہ بڑا ہو کر وہ ان کا دشمن بنے اور طاعث زحمت ہو۔ تو یہاں انہوں نے اس نیت اور اس غرض کے لئے نہیں اٹھایا تھا کہ واقعی ان کا دشمن نکلے۔ بلکہ ان کی نیت اور مقصد تو یہ تھا کہ جب یہ بڑا ہوگا تو ہمارے کام آئیگا لیکن ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انجام کار وہی موسیٰ (علیہ السلام) ان کی اور فرعون کی بربادی کا باعث بنا۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

(7:180) ذروا۔ تم چھوڑ دو ۔ وذر سے امر۔ جمع مذکر حاضر۔ یلحدون فی اسمائہ۔ جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء الحسنیٰ کا اطلاق اس کے سوا کسی غیر پر کرتے ہیں جیسے مسلیمہ کذاب کے پیروکار اس کو رحمن یمامہ کہا کرتے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ کو ایسے ناموں سے پکارنا جو اس نے اپنے لئے نہیں رکھے۔ یا جو اس کی شان کے شایان نہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کو یارفیق کہہ کر پکارنا وغیرہ۔ لحد۔ بغلی قبر۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

(7:181) یعدلون۔ عدل و انصاف کرتے ہیں۔ بہ میں ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

(7:182) سنستدرجھم۔ استدراج (استفعال) سے۔ اس کے معانی علماء نے مختلف پہلوؤں سے کئے ہیں۔ لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں۔ (1) ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑتے ہیں (مولانا تھانوی (رح)) (2) استدراج کے معنی ہیں مخفی طریقہ سے آہستہ آہستہ کسی چیز کی طرف چلنا (معالم) (3) ہم ان کے ساتھ ایسی تدبیریں کرنے والے ہیں جن کا ان کو پتہ بھی نہ ہو۔ (عطار) (4) ہم ان کے اعمال کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنادیں گے پھر ان کو ہلاک کردیں گے ۔ (کلبی) (5) جب وہ کوئی نیا گناہ کرتے ہیں تو ہم ان کو جدید نعمت بخشتے ہیں۔ (ضحاک) (6) ہم ان پر اپنی نعمتوں کو بہاتے ہیں لیکن یہ شکر ادا کرنا فراموش کرا دیتے ہیں ۔ (سفیان) (7) ہم ان کو آہستہ آہستہ پستی میں گرا دیں گے۔ اس طرح کہ ان کو علم تک نہ ہو۔ (کرم شاہ) درجۃ زینہ کی سیڑھیاں تدرج درجہ بدرجہ چڑھنا۔ (8) ہم قلیلا قلیلا ہلاکت کی طرف لے جائیں گے۔ (مظہری) من حیث لا یعلمون۔ اس طرح کہ ان کو علم تک نہ ہوگا۔ املی۔ میں ڈھیل دوں گا۔ میں ڈھیل دئیے جاتا ہوں۔ املاء (افعال) جس کے معنی مہلت میں ڈالنے۔ ڈھیل دینے۔ اور لمبی لمبی امیدیں دلانے کے ہیں۔ مضارع واحد متکلم۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ کید ہر اچھی یا بری تدبیر کو کہتے ہیں قرآن حکیم میں اس کا استعمال بطور مذمت ہوا ہے وہاں اس کے مذموم معنی مراد ہیں جہاں بھی اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہو اس کے محمود معنی مراد ہیں۔ حسن تدبیر۔ ستین۔ صیغہ صفت مشبہ۔ مضبوط ۔ محکم۔ ریڑھ کی ہڈی کے دائیں اور بائیں حصہ کو متن کہتے ہیں ۔ اس سے متن فعل بنا لیا گیا۔ متن اس کی پشت قوی اور مضبوط ہوگئی ۔ اس کے اعضاء سخت اور مضبوط ہوگئے۔ متن مضبوط پشت والا۔ توسیع استعمال سے متن کا م (علیہ السلام) نی قوی اور محکم ہوگیا۔ متانت۔ مضبوطی۔ سنجیدگی۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

(7:184) جنۃ۔ جنون ۔ سودا۔ دیوانگی۔ جن سے مشتق ہے چونکہ دیوانگی عقل کو چھپا دیتی ہے اس لئے اسے جنۃ کہتے ہیں۔ ان ھو میں ان نافیہ ہے۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

(7:185) ملکون۔ ملک فعل مبالغہ کے لئے تا بڑھا دی گئی ہے۔ اقتدا رکامل ۔ غلبہ تامہ۔ حکومت حقیقۃ۔ بقول راغب ملکوت اللہ کی بادشاہی و حکومت کے لئے خاص ہے۔ اقترب۔ وہ قریب آلگی۔ اقتراب (افتعال) اے ماضی واحد مذکر غائب۔ اجلہم۔ ان کی مدت مقررہ۔ ان کی موت۔ اولم ینظروا میں تین امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (1) ملکوت ارض و سمائ۔ (2) مختلف النوع مخلوق جو اس ارض و سماء میں ہے۔ (3) اجل کا کسی وقت بھی آلگنا۔ بعدہ میں ہ ضمیر (واحد مذکر غائب) قرآن کی طرف راجع ہے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

(7:186) یذرہم۔ وہ چھوڑ دیتا ہے ان کو ۔ وذر سے مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ طغیانھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گمراہی۔ سرکشی۔ نافرمانی۔ یعمھون۔ وہ سرگردان و گمراہ پھرتے ہیں۔ عمہ۔ مصدر۔ (باب فتح ۔ سمع) عمہ سرگردانی عمہ۔ عامہ۔ سرگردان و حیران۔ متردد۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

(7:187) ایان۔ کب ۔ متی کے قریب المعنی ہے اور کسی شے کا وقت معلوم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اس کی اصل ای اوان بمعنی کونسا وقت بتاتے ہیں ۔ الف کو حذف کر کے واؤ کو یاء کیا گیا پھر اس یاء کو ای کی یاء میں مدغم کیا گیا۔ ایان ہوگیا۔ مرسھا۔ مرسا مضاف ھا مضاف الیہ۔ (مصدر میمی ہے) ٹھہرانا۔ جمانا۔ مادہ رسو ہے۔ رسا یرسو (نصر) ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا۔ اس سے مصدر میمی مرسا آتا ہے لیکن ثلاثی مزید فیہ میں باب افعال سے ارساء مصدر۔ اور مصدر میمی مرسا آتا ہے۔ ٹھہرانا۔ جمانا۔ کشتی کا لنگر انداز ہونا۔ ایان مرسھا۔ اس کا وقع کب ہوگا۔ لایجلیہا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب تجلیۃ (تفعیل) مصدر۔ اس کو نمودار نہیں کرے گا۔ لا یجلیہا لوقتھا۔ ای لایظھر لوقتھا المعین الا اللہ۔ ولا یقدر علی ذلک غیرہ۔ اس کا وقت معین وہی ظاہر کرسکتا ہے (بتا سکتا ہے) اور کسی اس کے سوا قدرت نہیں ہے۔ ثقلت۔ (باب کرم) ثقل مصدر۔ وہ بھاری ہوئی۔ ماضی بمعنی مضارع۔ وہ بھاری ہوگی۔ حسن کہتے ہیں کہ جب قیامت آئے گی اہل ارض و سماء پر بہت بھاری گزرے گی۔ (بوجہ متعدد اسباب کے کہ آسمان پھٹ جائیں گے۔ ستارے ٹوٹ پڑیں گے۔ پہاڑ اڑ جائیں گے۔ زمین متزلزل ہوجائے گی) ۔ وغیرہ وغیرہ۔ بغتۃ۔ اک دم ۔ اچانک۔ یکایک۔ آنا فاناً ۔ حفی۔ باخبر۔ جو تحقیق و تدقیق کرچکا ہو۔ بڑا مہربان ۔ متلاشی۔ محقق۔ کانک حفی عنھا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے یسئلونک عنھا کانک حفی بہم۔ وہ تم سے یوں پوچھتے ہیں گویا تم ان کے بڑے دوست ہو۔ یا وہ تم سے اس انداز میں پوچھتے ہیں کہ تاریخ وقوع سے تم واقف ہو۔ یا تم اس کی خوب تحقیق کرچکے ہو۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

(7:188) لا استکثرت۔ میں ضرور بہت جمع کرلیتا ۔ استکثار (استفعال) سے جس کے معنی کسی چیز کو کثیر سمجھنے یا کسی کام کو بہت زیادہ کرنے کے ہیں۔ یہاں اگر غیب سے مراد وقت موت لیا جاوے تو لاستکثرت کا مطلب ہوگا کہ میں بہت نیکیاں جمع کرلیتا ۔ عمل صالح کرکے اور اعمال سوء سے اجتناب کرکے۔ اور اگر عام معنی لئے جاویں تو مطلب ہوگا کہ نقصان سے بچتے ہوئے اور نفع کو اختیار کرتے ہوئے میں بہت کچھ جمع کرلیتا۔ اور ایذا وغیرہ سے بچ جاتا۔
Ayahs 7:189–190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

(7:189) زوجھا۔ اس (مؤنث ) کو جوڑا یعنی خاوند اور زوجہ اس (مذکر) کا جوڑا ۔ یعنی اس کی بیوی۔ گویا زوج کا مطلب ہوا بالمقابل صنف سے ساتھی۔ لیسکن تاکہ تسکین پائے۔ اطمینان حاصل کرے۔ اس میں فاعل نفس ہے جو کہ مؤنث استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہاں صیغہ مذکر کا لایا گیا۔ نفس کے معنی کے لحاظ سے کیونکہ اس سے مراد یہاں آدم (مرد) ہے۔ اور اسی مناسبت سے زوج کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اس سے مراد بیوی ہے۔ تغشھا۔ اس (مرد) نے اس (عورت) کو ڈھانکا۔ کنایہ۔ اس مرد نے اس عورت سے ہمبستری کی۔ تغشی المرأۃ۔ وہ عورت کے پاس گیا۔ (اس سے مجامعت کی) غشاوۃ سے پردہ جس سے کوئی شے ڈھانپ دی جائے۔ فمرت بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ حملا کی طرف راجع ہے وہ اس حمل کو لئے پھرتی ہے۔ دعوا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب (اگرچہ تثنیہ میں ایک مرد اور ایک عورت شامل ہیں لیکن مرد کی جنس کے غلبہ کی وجہ سے تثنیہ مذکر لایا گیا) ان دونوں نے پکارا۔ ان دونوں نے دعا کی۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

(7:191) مالا یخلق۔ میں ما موصولہ ہے۔ لا یخلق اور ہم یخلقون میں دونوں ضمیروں کا مرجع ما موصولہ ہے۔ لیکن یخلق میں ھو (مستتر) ضمیر واضد ہے اور یخلقون میں ہم ضمیر جمع ہے اس کی توضیح علماء نے یوں کی ہے کہ ما موصولہ کی دو حیثیتیں ہیں۔ لفظی اعتبار سے وہ واحد ہے اور لا یخلق میں اس کی اسی حیثیت کو معتبر رکھا گیا ہے اور معنوی لحاظ سے جمع ہے اور ہم یخلقون میں اسی معنوی حیثیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ دوسری بات جو یہاں غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ شرکاء سے یہاں مراد بت ہیں۔ اور وہ بےجان تھے قاعدہ کے مطابق تو ان کے لئے ضمیر مؤنث ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کی توجیہہ یوں کی گئی ہے کہ کفار و مشرکین کا عقیدہ ان کے متعلق یہ تھا کہ یہ بت عقل و حیات رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے عقیدہ کے مطابق ان کا ذکر کیا گیا۔
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

(7:192) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال ) وہ استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔ طوع مادہ۔ لہم میں ہم کا مرجع مشرکین ہیں اور انفسہم میں ضمیر ہم وہ بت ہیں جن کو مشرکین نے اللہ کا شریک بنایا ہوا تھا۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

(7:193) تدھوہم۔ تم ان کو پکارتے ہو۔ تم ان کو بلاتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تدعون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اصنام و اوثان کے لئے ہے۔ ان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم۔ ای الیٰ ما ھو ھدی ورشاد والیٰ ان بھدوکم والمعنی وان تطلبوا منھم کما تطلبون من اللہ الخیر والھدیٰ لا یتبعوکم الی مرادکم طلبتکم ولا یجیبوکم کما یجیبکم اللہ الی الھدی رشد و ہدایت کی طرف اس واسطے کہ تمہیں راہ ہدایت دکھائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان سے خیروہدایت کے لئے دعا کرو۔ جیسا کہ تم اللہ تعالیٰ سے خیر و ہدایت کی دعا کرتے ہو تو جس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری پکار کو سن کر پورا کرتا ہے یہ تمہاری مراد یا طلب کو پورا نہیں کرسکتے۔ یا اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے اگر تم ان کو ہدایت کی طرف پکارو تو وہ تمہاری پیروی کریں۔ ادعوتمومہم۔ خواہ تم ان کو پکارو۔ ان کو دعوت دو ۔ دعوتم۔ دعاء سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ واؤ شباع کا ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب اصنام کے لئے ہے۔ صامتون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ خاموش۔ چپ۔ صحت سے جس کے معنی خاموش ہونے کے ہیں ۔ صمت یصمت (نصر) خاموش رہنا۔ باطق کی ضد ہے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

(7:194) تدعون۔ تم پکارتے ہو۔ ای تعبدون۔ (جن کی) تم عبادت کرتے ہو۔ وتسمونہم الھۃ۔ جنہیں تم الہٰ کا نام دیتے ہو۔ عبار امثالکم۔ تم ہی جیسے بندے۔ بت اگرچہ پتھر اور لکڑی کے بےجان مجسمے ہوا کرتے تھے ان کو تمہارے جیسے بندے کہنا وجوہ ذیل کی بناء پر ہوسکتا ہے : (1) مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ زندہ ہیں اور سنتے سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان کے اعتقاد کے مطابق ان سے بات کی گئی۔ (2) بہ الفاظ بطور استہزاء استعمال کئے گئے ہیں کہ اے عقل کے دشمنو ! اگر تمہاری بات کو مان بھی لیا جاوے کہ یہ زندہ ہیں اور سنتے سمجھتے ہیں تو پھر بھی زیادہ سے زیادہ تمہاری طرح کے انسان ہی ہوں گے ۔ تو پھر اپنے جیسے انسان کی بندگی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈالنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ (3) بتوں کی عباد کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اس کے ملوک ہی ہیں۔ جس طرح تم مخلوق ہو اس طرح پر یہ بھی مخلوق ہیں۔ فادعوھم فلیستجیبوالکم۔ پس پکار دیکھو ان کو۔ انہیں چاہیے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم اپنے اعتقاد پر سچے ہو (لیکن بھلا یہ ایسا کرتے ہیں ہرگز نہیں )
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

(7:195) قل۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ کیدون۔ میرے خلاف تدبیریں کرلو۔ میرے خلاف سازش کرلو۔ (تم سب اور تمہارے شرکائ) فلا تنظرون۔ تم مجھے ڈھیل مت دو ۔ تم مجھے مہلت نہ دو ۔ انظار (افعال) سے مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ ی ضمیر واحد متکلم ۔ محذوف ہے (یعنی تم جو دھمکی دیتے ہو کہ تمہارے بت اگر ناراض ہوگئے تو میری خیر نہیں تو بلا لو اپنے ان شرکاء کو اور خود بھی ان کے ساتھ مل کر میرے خلاف جو سازش چاہو تیار کرلو تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ مجھے اللہ کی حمایت پر یقین ہے) ۔
Ayahs 7:196–197

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

(7:196) ولی۔ میرا حمایتی۔ میرا مددگار۔ میرا ناصر۔ الکتاب۔ القرآن۔ یتولی۔ جو مدد کرتا ہے ۔ جو دوست رکھتا ہے۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

(7:198) وان تدعوہم الی الھدی۔ ملاحظہ ہو (7:193) ۔ اگر یہاں ہم کی ضمیر مشرکون کی طرف راجع ہے جیسا کہ الحسن کا قول ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ اگر تم ان (مشرکین) کو ہدایت کی طرف پکارو تو وہ نہیں سنیں گے اور تو ان کو دیکھے گا کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ دیکھ پا نہیں رہے (یونہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں پکار کو سمجھ نہیں رہے) ۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک ہم کی ضمیر کا مرجع وہ اصنام و اوثان ہیں جن کو مشرکین اللہ کے شریک ٹھہرا رہے تھے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ (یا ہدایت کے لئے بلاؤ) تو اپنی مصنوعی آنکھوں سے معلوم دیں گے کہ دیکھ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس قابل ہی نہیں کہ دیکھ سکیں۔ یہ مضمون آیت 1:53 کے بعد دوبارہ لایا گیا ہے کہ ان بتوں کی لاچارگی اور بےبسی ان کے ذہن نشین کرائی جائے۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

(7:199) خذ۔ تو پکڑ۔ تو لے۔ تو اختیار کر۔ اخذ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ العفو۔ آسان ۔ حاجت سے زیادہ ۔ معاف کردینا ۔ عفا یفعوا (باب نصر) کا مصدر ہے اور اسم بھی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں خذ ما عفالک جو تمہیں بآسانی بغیر مشقت کے ملے وہ لے لو۔ اور قرآن میں ہے : وسیئلونک ماذا ینفقون قل العفوا (2:219) (اے محمد) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کیا مال خرچ کریں۔ تو ان سے کہہ دو جو تمہاری حاجت سے زیادہ ہو (جس کے خرچ سے تمہیں تکلیف نہ ہو (جس کے خرچ سے تمہیں تکلیف ہو) اور معاف و درگزر کرنے کے معنوں میں قرآن اکثر استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے عفو ہے۔ ان اللہ کان عفوا غفورا (4:43) بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ اور ثم فعونا عنکم (2:52) پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا۔ اور من عفاواصلح (42:40) مگر جو دوگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے ۔ آیہ ہذا میں معاف کرنے اور درگزر کرنے کے معنی ہیں۔ العرف۔ عرف بروزن فعل اسم ہے معروف کے معنوں میں ۔ پسندیدہ کام ۔ نیک کام ۔ نیکی۔ معروف ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جو کہ اس کی خوبی شریعت یا عقل سے ثابت ہو۔ منکر کی ضد ہے جس سے مراد ہر وہ بات جو شریعت و عقل کی رو سے بری سمجھی جائے اعرض۔ تو منہ پھیر لے۔ تو کنارہ کش ہوجا۔ اعراض سے امر واحد حاضر۔