7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsانوار البیان

Ayahs 7:81–82

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

(7:81) مسرفون۔ اسم فاعل۔ اسراف مصدر اعتدال سے یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بےجا و بیہودہ صرف کرنے والے۔ لواطت کرنے والے۔ غرض حد حلال سے حد حرام کی طرف بڑھنے والے۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

(7:83) الغابرین۔ الغابر اسے کہتے ہیں جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جائے۔ اسی سے غبرۃ ہے۔ تھنوں میں باقی ماندہ دودھ۔ غبار وہ گردا جو قافلہ کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جاتا ہے۔ مٹی اڑنے کے بعد فضا میں باقی رہ جائے۔ لہٰذا الغابدین پیچھے رہ جانے والے۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

(7:84) امطرنا۔ ہم نے برسایا۔ امطار۔ برسانا۔ (باب افعال) مطر (نصر) (آسمان کا) بارش برسانا۔ مطر بارش۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ مطر کا استعمال باران رحمت میں ہوتا ہے اور امطر کا نزول عذاب میں۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

(7:85) اخاہم۔ ان کا بھائی۔ اس سے قبل ارسلنا محذوف ہے۔ اوفوا۔ تم پور اکرو۔ ایفاء (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حضر۔ لفیف مفروق وفی یفی ایفاء پورا کرنا۔ اوفی یوفی ایفاء (افعال) پورا کرنا۔ اوفی بالوعد۔ وعدہ پورا کیا۔ اوفی الکیل۔ پیمانہ پورا ناپنا۔ اوفوا الکیل پیمانہ پورا ناپو۔ الکیل۔ غلہ سے پیمانہ بھرنا۔ پیمانہ سے غلہ ناپنا۔ المیزان۔ وزن سے وزن کرنا۔ ای اوفوا المیزان۔ وزن کو پورا کرو۔ یعنی پورا پورا تولو۔ لا تبخسوا۔ تم گھٹا کر نہ دو ۔ بخس سے جس کے معنی ظلم سے کسی چیز کے گھٹانے اور کم کرنے کے ہیں۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔
Ayahs 7:86–87

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

(7:86) لاتفعدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم نہ بیٹھو۔ تم نہ بیٹھا کرو۔ قعود سے بمعنی بیٹھنا۔ (باب نصر) ۔ توعدون۔ تم ڈراتے ہو۔ لاتقعدوا۔ توعدون۔ تمام راستوں پر مت بیٹھو کہ لوگوں کو (شعیب (علیہ السلام) اور حق پر ایمان لانے سے) ڈراؤ۔ یعنی شعیب (علیہ السلام) اور احق پر ایمان لانے کے تمام راستوں کو دھمکیوں اور تہدید سے بند مت کرو۔ کل طریق سے مطلب کل طریق من الحق والدین (حق اور دین کی طرف جانے والے تمام راستے) ۔ وتصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ (ای ولا تقعدوا بکل صراط تصدون عن سبیل اللہ من امن بہ۔ ای ولا تمنعوا من یرید الایمان باللہ۔ اور جو اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے اس کو خدا کی راہ سے روکنے کے لئے تمام راستے بند مت کرو۔ تبغونھا۔ تم اس کو چاہتے ہو۔ بغی سے مضارع جمع مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو کہ سبیل اللہ کی طرف راجع ہے۔ عوجا۔ عوج۔ کجی۔ ٹیڑھا پن۔ لا تقعدوا ۔۔ عوجا۔ یعنی راستہ پر ہوا بن کر مت بیٹھ جاؤ۔ کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خدا کی راہ سے روکے رکھو۔ اور طریق حق میں میں میخ نکالتے رہو۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

(7:88) لتعودن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثتیلہ ۔ جمع مذکر حاضر۔ تم پھر آؤ گے۔ تم مڑ آؤ گے۔ تم پلٹ آؤ گے۔ عاد یعود عودا (باب نصر) کسی شے سے پلٹنے کے بعد (پلٹنا خواہ بذات خود ہو یا بذریعہ قول یا بذریعہ عزم و ارادہ) اسکی طرف پھرنے اور لوٹنے کو کہتے ہیں۔ ملتنا۔ ہمارا مذہب۔ (او لتعودن فی ملتنا۔ یا تمہیں واپس ہمارے دین میں لوٹ آنا ہوگا۔ یہ خطاب کفار اور مشرکین کا حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے پیروؤں سے تھا۔ ان کے پیرو قبل ازیں مشرکین ہی کے مذہب سے تھے۔ لہٰذا مشرکین کے مذہب میں واپس لوٹ آنے کا خطاب ان پیروکاروں سے ہے جو بذاتہٖ حضرت شعیب سے نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو کبھی بھی مشرکین کے دین پر نہ تھے) اولوکنا کارھین۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے واؤ برائے حال ۔ تقدیر کلام یوں ہے اتیدوننا فی ملتکم فی حال کر اھتنا ومع کو ننا کارھین۔ کیا تم ہمیں اپنے دین کی طرف لوٹا دو گے حالانکہ ہمیں اس سے کراہت ہے۔ نفرت ہے۔
Ayahs 7:89–91

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

(7:89) افترینا۔ افتراء سے ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بہتان باندھا۔ قد افترینا ۔۔ منھا۔ تقدیر کلام یوں ہے ان عدنا فی ملتکم بعد اذ بجنا اللہ منھا قد افترینا علی اللہ کذبا۔ باوجود اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس (تمہارے دین) سے ہمیں نجات بخشی ہے اگر ہم تمہارے دین کی طرف لوٹتے ہیں تو ہماری طرف سے یہ اللہ تعالیٰ پر صریحاً جھوٹا بہتان ہوگا۔ وما یکون لنا۔ اور نہیں ہے (کوئی وجہ) ہمارے لئے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ملت مشرکین کی طرف راجع ہے۔ الا ان یشاء اللہ ربنا۔ یعنی ماسوائے اس کے کہ مشیت ایزدی ہی یہی ہو اور یہ ہمارا مقدر ہوچکا ہو۔ وسع ربنا کل شیء علما۔ تمیز اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ افتح۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ تو فیصلہ کر دے۔ الفتاح۔ قاضی ۔ فیصلہ کرنے والا۔ الفتاحۃ۔ حکومت۔ فتح سے۔ فتح کے معنی فتح و نصرت بھی ہیں۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے گویا کبھی آباد ہی نہ تھے غرض جنہوں نے شعیب کو چھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

(7:92) لم یغنوا فیہا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ غنی مصدر (باب سمع) انہوں نے قیام نہیں کیا (گویا وہ کبھی بستے ہی نہ تھے) غنیت بالمکان۔ میں مکان میں ٹھہرا ۔ قیام کیا۔ غنی القوم فی وارھم۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں مدت تک قیام کیا۔ مغنی۔ قیام گاہ۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیوں ! میں نے تم کو پروردگار کے پیغام پہنچا دئے ہیں اور تمہاری خہر خواہی کی تھی تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں ؟

(7:93) اسی۔ میں افسوس کروں۔ میں غمگین ہوں۔ میں غم کھاؤں۔ اسی سے (باب سمع) مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ اسی اصل میں اء سی تھا۔ دوسری ہمزہ الف میں بدل گئی۔ اسی ہوگیا۔ کیف اسی۔ میں کیسے غم کھاؤں ۔ میں کیوں غم کھاؤں۔ (یعنی اس قدر نصیحت و وعظ کے بعد ان کے مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی کی جو ان کو یہ سزا ملی ہے وہ کسی رنج و ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں) ۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو جو ایمان نہ لائے دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔

(7:94) الباسائ۔ اسم مؤنث ہے بؤس سے مشتق ہے۔ باس بؤس اور باسأ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقر وفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولا جاتا ہے۔ اور الباس والباساء جسمانی زخم۔ بدنی تکلیف۔ جسمانی امراض اور نقصان کے لئے آتے ہیں۔ الضرائ۔ ضرر سے وہ تکلیف مراد ہے جو فقر و حاجت سے ہوتی ہے۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ الباساء والضرائ۔ دونوں اسم مؤنث ہیں ان کا مذکر نہیں آتا۔ یضرعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نضرع (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتضرعون تھا۔ ت کو ض میں مدغم کردیا گیا۔ (تاکہ وہ زاری کریں۔ عاجزی کریں)
Ayahs 7:95–96

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے اس طرح کا رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اپنے حال میں بیخبر تھے

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔

(7:95) السیئۃ اصل میں سوأۃ تھا واؤ کو ی سے بدل کر ی کو ی میں مدغم کردیا گیا ہے ۔ بمعنی برائی۔ خطاکاری۔ گناہ۔ فعل بد۔ ہر وہ شی جو فی نفسہ یا نتیجہ آسائش۔ فرحت و اطمینان کا باعث بنے۔ نیکی۔ نیکوکاری۔ خوشحالی۔ سلامتی۔ عفوا۔ عفا یعفوا (نصر) وہ بڑھ گئے۔ وہ زیادہ ہوگئے۔ عفو سے جس کے معنی زیادہ ہونے کے ہیں۔ عفوا۔ ای کثروا فی انفسھم واموالہم۔ مال و جان میں کثرت ہونا۔ السرائ۔ نعمت ۔ فراخی۔ خوشی۔ اصل میں حالت شادمانی کا نام سرا ہے۔ بغتۃ۔ اچانک۔ ایک دم۔ یکایک۔ دفعۃً ۔ آیات 94، 95 میں بعض کے نزدیک نبی کے بعد فکذبوہ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے جب کبھی کسی بستی میں نبی بھیجا تو انہوں نے اسے جھٹلایا۔ تو ہم نے ان کو محتاجی اور بیماری میں پکڑ لیا۔ لیکن بعض کے نزدیک یضرعون کے بعد اضمار ہے یعنی ولکن لم یضرعوا محذوف ہے کہ ہم نے ان پر محتاجی اور بیماری عائد کردی کہ وہ سرکشی سے باز آئیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔ تو ہم نے ان کو دوسرا موقع دیا اور ان کی تنگی اور بیماری کو فراخی اور مال و جان کی کثرت میں بدل دیا۔ کہ شاید اب اللہ کی طرف جھکیں گے اور ہمارے رسولوں کا اتباع کریں گے۔ لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو اچانک سزا کے طور پر ہم نے ان کو اپنی گرفت میں جکڑ دیا۔
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں ؟

(7:97) امن۔ وہ بےخوف ہوگیا۔ وہ نڈر ہوگیا۔ امن سے (باب سمع) ماضی واحد مذکر غائب۔ امن بمعنی امن ۔ بےخوفی۔ دلجمی۔ باسنا۔ ہمارا عذاب۔ بیانا۔ رات کے وقت۔ راتوں رات۔
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا اہل شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں ؟

(7:98) ضحی۔ چاشت کے وقت۔ دوپہر کے وقت۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے ؟ سو خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں

(7:99) مکر۔ چال۔ المکر کے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں۔ اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے اور اگر اس سے کوئی برا فعل مقصود ہو تو مذموم ہوتا ہے۔ اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ محمود ہے۔ جیسے واللہ خیر المکرین ۔ (3:54) اور خدا خوب چال چلنے والا ہے۔ اور ولا یحیق المکر السییٔ الا باہلہ (35:142) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر ہوتا ہے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے مرجانے کے بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ؟ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

(7:100) لم یھد۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لم۔ ھدایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ اصل میں یھدی تھا۔ لم کی وجہ سے مضارع بمعنی ماضی ہوا۔ کیا ہدایت نہیں کی ۔ کیا موجب ہدایت نہیں ہوا۔ جب لازم کو حرف صلہ یا حرف جر لگا کر متعدی بنایا جائے تو معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً ذھب گیا۔ ذھب بہ لے گیا۔ موجودہ صورت میں ھدی یھدی پر اللام حرف صلہ لایا گیا ہے۔ یھدی ل واضح کرنا۔ اولم یھد للذین ۔۔ بذنوبھم۔ کیا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں اس امر واقعی نے واضح نہیں کردیا۔ کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں۔ ونطبع ۔۔ لایسمعون ۔ اگر یہ جملہ پہلے پر عطف ہے تو مطلب یہ ہوگا۔ ” اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا سکتے ہیں کہ وہ کچھ سنیں ہی نہیں۔ اور اگر یہ نیا جملہ ہے تو اس کا معنی ہوگا۔ (اگر یہ حقائق سے سبق نہ سیکھیں گے تو) ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے کہ وہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔ (انسان دھیان دے کر نصیحت تبھی سنتا ہے اگر اس کا دل اثر قبول کرنے کی خواہش رکھتا ہو۔ اگر دل پر مہر لگی ہوئی ہے تو پھر سنتا کون ہے) ۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

(7:101) ابنائھا۔ ابنائ۔ بنأ کی جمع ہے۔ خبریں۔ بنأ اس خبر کو کہتے ہیں جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ جس خبر میں یہ باتیں نہ ہوں اس کو بنأ نہیں کہتے۔ کوئی خبر اس وقت تک بنأ کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔ جب تک کہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو بطریق تواتر ثابت ہو۔ یا جس کو اللہ اور اللہ کے رسول نے بیان فرمایا ہو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کی طرف راجع ہے۔ بستیوں سے یہاں مراد حضرت نوح۔ لوط۔ ہود۔ شعیب علیہم الاسلام کی قوموں کی بستیاں ہیں۔ فما کانوا لیؤمنوا۔ لام تاکید کے لئے۔ اور ہرگز نہ ہوا یہ کہ وہ ایمان لاتے۔ یعنی وہ ہرگز ایمان نہ لائے۔ (اس پر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے) نیز ملاحظہ ہو 7:89 ۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو دیکھا تو بدکار ہی دیکھا

(7:102) فما وجدنا ۔۔ من عھد۔ اور ہم نے ان سے اکثر کو عہد کا پابند نہ پایا۔ ما نافیہ ہے۔ ان مخففہ ہے ان سے۔ انا وجدنا ضرور پایا ہم نے۔ فاسقین۔ حکم عدولی کرنے والے۔ نافرمانی کرنے والے۔ حدود شریعت سے نکل جانے والے۔
Ayahs 7:103–104

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

(7:103) فظلموا بھا۔ فکفروا عنھا۔ انہوں نے ان آیات سے انکار کردیا۔ ظلم کہتے ہیں کسی شے کو اس کی مخصوص جگہ سے ہٹا کر نقصان کے ساتھ یا زیادتی کے ساتھ یا وقت بدل کر یا جگہ بدل کر بےجگہ رکھ دینے کو ۔ یہاں ظلم اس لئے استعمال ہوا کہ بجائے ان آیات پر ایمان لانے کے انہوں نے انکار کردیا۔
Ayahs 7:105–106

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جائے۔

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تم نشانی لیکر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لے آؤ دیکھاؤ

(7:105) حقیق۔ سزا دار۔ لائق۔ ثابت۔ قائم ۔ حق سے برازن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ حق کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں۔ جیسے کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں۔ اس طرح میں فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے۔ لفظ حق کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے۔ اس معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً ثم ردوا الی اللہ مولہم الحق (6:62) پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق اللہ تعالیٰ کے پاس بلائے جائیں گے۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل برحق ہے۔ مثلاً ما خلق اللہ ذلک الا بالحق (10:5) (اس نے سورج ۔ چاند کو منور بنایا۔ ان کی منزلیں مقرر کیں) ۔ یہ سب کچھ اس نے حکمت کے تقاضوں کے عین مطابق پیدا کیا ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اس طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے۔ چناچہ ہم کہتے ہیں کہ بعث۔ ثواب۔ عقاب اور جنت و دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر اس کا ہونا ضرور ہے اور اس مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے۔ چناچہ قرآن میں آیا ہے : وکذلک حقت کلمۃ ربک (10:33) اسی طرح خدا کا ارشاد ثابت ہو کر رہا۔ یا حق القول منی لاملئن جہنم (32:13) میری طرف سے یہ بات طے پاچکی ہے کہ میں دوزخ بھر دوں گا ۔۔ حقیق علی ان۔ حق یہی ہے کہ۔ (میرے لئے) واجب یہی ہے کہ (میرے لئے) سزاوار یہی ہے۔
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا ہوگیا

(7:107) القی۔ القی یلقی القاء (افعال) ماضی واحد مذکر غائب اس نے زمین پر پھینکا ۔ فاذا۔ اذا یہاں دفعۃ۔ ناگہاں۔ فوراً ۔ کے معنوں میں آیا ہے۔ ویسے اس کا معنی جب اس وقت۔ بھی ہے۔ ثعبان۔ بہت بڑا سانپ۔ ازدھا۔ اسم ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ مبین۔ صاف۔ ظاہراً ۔ کھلا ۔ سچ مچ کا۔
Ayahs 7:108–110

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کی نظر میں سفید براق تھا

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے یہ بڑا علامہ جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے بھلا تمہاری کیا صلاح ہے ؟

(7:108) نزع۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب فتح) نزع سے باہر نکالا۔ بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث بیاض سے۔ اس کی جمع بیض ہے۔ اور مذکر ابیض۔
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھئے اور شہروں میں نقیب روانہ کردئجے

(7:111) ارجد۔ ارجہ تو اس کو ڈھیل دے۔ تو اسے مہلت دے۔ ارجاء (افعال) سے جس کے معنی ڈھیل دینے یا مہلت دینے کے ہیں یا ملتوی کرنے کے۔ رجاء مادہ۔ ارج امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ آیات 109، 110، 111 میں مختلف اقوال ہیں : (1) ان ھذا سے لے کر فماذا تامرون تک سردار ان قوم فرعون کا کلام ہے اور خطاب جملہ حاضرین دربار سے ہے۔ (2) یہ کلام سرداران قوم فرعون کا ہے لیکن خطاب فرعون سے ہے۔ اور جمع کا صیغہ برائے تعظیم لایا گیا ہے۔ (3) ان ھذا سے لے کر من ارضکم تک سرداران قوم کا خطاب فرعون سے ہے اور فماذا تامرون فرعون کا خطاب سرداران قوم سے ہے کہ تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ اسی طرح آیت 111 میں قالوا کے متعلق مختلف صورتیں ہیں : (ا) اگر خطاب جملہ حاضرین دربار سے ہے تو جمع مذکر غائب ان حاضرین کی طرف راجع ہے۔ (ب) اگر خطاب سرداران کا فرعون سے ہے (نمبر 2 مذکور بالا) تو قالوا سے مراد انہی سرداروں سے ہے جنہوں نے خطاب کے بعد فرعون کو ازخود تجویز پیش کی۔ (ج) مذکروہ نمبر 3 کی صورت میں ضمیر فاعل سرداروں کی طرف راجع ہے۔ مندرجہ بالا صورتوں میں نمبر 3 اور (ج) سے عبارت زایدہ واضح ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک اور امر حل طلب ہے وہ یہ ہے کہ آیات نمبر 109، 110 ۔ میں ان ھذا سے لے کر من ارضکم تک کلام سرداران قوم عرعون کی طرف منسوب ہے لیکن سورة الشعراء (22:34-35) میں یہ خطاب فرعون کی طرف سے سرداران کو ہے۔ عبارت یوں ہے قال للملأ حولہ ان ھذا الساحر علیم ۔ یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ فما ذا تامرون (35) لیکن حقیقت میں ہر دو میں کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر جب ناظرین (فرعون اور اس کے سرداران و دیگر حاضرین) بھونچکے رہ گئے تو باہمی چہ میگوئیوں میں یہ خدشہ ہر ایک کے دل میں تھا جو وہ اپنی اپنی زبانوں سے ادا کرنے لگے کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر معلوم دیتا ہے جس کا راداہ اپنے جادو کے زور سے قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکالنے اور حکومت پر خود قبضہ کرنے کا ہے۔ المدائن۔ مدینۃ کی جمع ۔ مدینہ کی جمع مدن بھی ہے۔ معرف بہ ال ۔ حشرین۔ ہر کارے اکٹھے کرنے والے۔ جمع کرنے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ حاشر واحد۔
Ayahs 7:112–114

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ضرور اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کئے جاؤ گے

(7:112) یاتوک بکل ساحر علیم۔ کہ وہ لے آئیں تمہارے پاس تمام سرکردہ ماہر جادو گروں کو ۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جب فریقین روز مقرر پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

(7:115) اما۔ یہ کئی معنی دیتا ہے۔ (1) حرف تفصیل ہوتا ہے جیسے انا ھدینہ السبیل اما شاکرا واما کفروا (76:3) ہم نے انسان کو راستہ دکھلا دیا۔ اب وہ شکرگزار بندہ بنے یا ناشکرا۔ (2) شک و ابہام کے موقع پر بھی آتا ہے جیسے جاء اما زید واما عمرو۔ یا تو زید آیا ہے یا عمرو گویا یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں میں سے کون آیا ہے۔ (3) اباحت اور تخییر کے معنی بھی دیتا ہے۔ جیسے آیۃ ۃذا۔ نیز ملاحظہ ہو 7:35
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالی تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا یعنی نظر بندی کردی اور لاٹھیوں اور رسیوں کے ساتھ بنا بنا کر انہیں ڈرا ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دیکھایا

(7:116) واسترھبوھم۔ انہوں نے ان کو ڈرایا۔ دہشت زردہ کردیا۔ استرھاب (استفعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب الناس کے لئے ہے۔ الرھب۔ الرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی ہو جیسے لانتم اشد رھبۃ (59:13) تمہاری ہیبت تو (ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے) بڑھ کر ہے۔
Ayahs 7:117–118

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بیھجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو تو وہ فوراً سانپ بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں ایک ایک کر کے نگل جائیگی۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پھر تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے باطل ہوگیا

(7:117) تلقف۔ وہ نگل جاتی ہے۔ وہ نگل جائے گی۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی وہ نکل گئی (باب سمع) لقف سے جس کے معنی پھرتی سے لے لینے اور جھٹ اتار لینے کے ہیں خواہ منہ میں نکلنے کی صورت میں ہو یا ہاتھ سے لے لینے کی شکل میں۔ یافکون ۔ مضارع جمع مذکر غائب افک سے (باب ضرب) جس کو وہ پلٹ رہے تھے۔ جس کو وہ جھوٹے طور پر بنا رہے تھے۔ انک جھوٹ۔
Ayah 7:119

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے

(7:199) ھنالک۔ اسم ظرف زمان و مکان۔ وہاں ۔ اس جگہ۔ اس وقت۔ صغرین۔ ذلیل۔ بےعزت۔