7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsانوار البیان

Ayahs 7:120–122

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور یہ کیفیت دیکھ جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان آئے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

(7:120) القی۔ وہ ڈالا گیا ۔ وہ پھینک دیا گیا۔ القاء سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقت کو دیکھ کر وہ اس طرح بےاختیار سجدہ میں گرگئے گویا کسی بیرونی طاقت نے ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ وہ اس طرح فوراً سجدہ میں گرے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے پکڑ کر ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے سورۂ ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے (یعنی وہ یوں دوڑ کر آئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کو پیچھے سے کوئی ہانک کر بھگائے لا رہا ہے۔ یعنی ان کی شدت جذبات اور سرعت کار سے یوں نظر آرہا تھا کہ ان کو اس فعل پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس اظہار کے لئے فعل مجہول لایا گیا ہے۔
Ayahs 7:123–125

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ بیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دو تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ فریب ہے جو تم نے ملکر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو سو عنقریب اس کا نتجہ معلوم کرلو گے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں پہلے تو تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

تو وہ بولے ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

(7:123) مکر۔ چال۔ نیز ملاحظہ ہو 7:99 ۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور اس کے سوا تم کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے ؟ اے پروردگار ! ہم پر صبر و استقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

(7:126) تنقم۔ توبیر کرتا ہے۔ تو انکار کرتا ہے۔ تو عیب دیتا ہے۔ تو پسند کرتا ہے (باب ضرب، سمع) نقم سے جس کے معنی غصہ ہونے ۔ ناپسند کرنے اور انکار کرنے کے ہیں خواہ اس کا اظہار زبان سے ہو یا سزا دے کر۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ ما استفہامیہ ہے۔ افرغ علینا۔ تو ہم پر بہا دے۔ تو انڈیل دے۔ دہانہ کھول دے۔ افرغ (افعال) جس کے معنی بہانا یا دہانہ کھولنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ یہاں ایک مادی چیز کے طور پر صبر کے بہانے اور دہانہ کھولنے کا سوال کیا جا رہا ہے ۔ یعنی صبر ان پر اس طرح بہایا جائے کہ وہ سب سے چھا جائے گویا بمنزلہ ظرف کے ہو اور مانگنے والے بمنزلہ مظروف فیہ کے۔
Ayahs 7:127–128

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجئے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہوجائیں ؟ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو تو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشبہہ ہم ان پر غالب ہیں۔

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد ما نگو اور ثابت قدم رہو زمین تو خدا کی ہے۔ (اور) وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اسکا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے۔

(7:127) تذر۔ تو چھوڑتا ہے۔ تو چھوڑے گا۔ وذر سے۔ اس فعل کی ماضی مستعمل نہیں۔ یذرک۔ وہ تجھے چھوڑ دیتا ہے اس میں فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ادرک ضمیر مفعول فرعون کے لئے ہے۔ قاھرون۔ غالب ۔ مسلط۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچنی رہی ہیں اور آنے کے بعد بھی موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

(7:129) اوذینا۔ ہم کو ستایا گیا۔ ہم کو سزا دی گئی۔ ایذاء (افعال) ماضی مجہول جمع متکلم ۔ اذی ماضی معروف۔ اوذی۔ ماضی مجہول۔ اذی مادہ۔ فینظر۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب نصر) کہ وہ دیکھے۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔

(7:130) السنین۔ قحط۔ سال ۔ برس۔ سنۃ کی جمع۔ قحط سالی۔ نقص۔ مصدر ۔ کم کرنا۔ اسم کمی۔ (باب نصر) ۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں (مقدر) ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔

(7:131) لنا ھذہ۔ یہ ہمارا حق تھا۔ اس کے ہم مستحق تھے۔ تصبھم۔ ان کو پہنچے۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) کسی کو تکلیف کا آلینا۔ تکلیف پہنچنا۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ یطیروا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تطیر (تفعل) سے اصل میں یتطیرون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ یتطیروا ہوگیا۔ ت کو ط میں مدغم کرکے ط کو مشدد کردیا یطیروا ہوگیا۔ معنی وہ برا شگون لیتے تھے۔ وہ بدشگونی کرتے تھے۔ یتطیروا بموسی ومن معہ۔ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بدشگون ٹھہراتے۔ طئرھم۔ ان کا شگون بد۔ ان کی فال بد۔ ان کی بری قسمت۔ ان کی نحوست۔ ان کی نامبارکی اصل میں ۔ طائر کے معنی اڑنے والا کے ہیں۔ طار یطیر طیران کا استعمال اسی معنی میں ہوتا ہے لیکن عرب جاہلیت کا معمول تھا کہ جب وہ کسی اہم کام کا ارادہ کرتے تو پرندوں کو للکارتے اور ان سے فال لیتے۔ اگر پرندے دائیں سے بائیں نکل جاتے تو اسے برا سمجھتے اور منحوس تصور کرتے اور پھر اس کام کو نہ کرتے۔ چناچہ اس طرح اس کا استعمال پرندوں سے برا شگون لینے کے معنی میں ہونے لگا۔ پھر ہر اس شے کے لئے کہ جس سے بدفالی لی جائے ۔ یا اسے منحوس سمجھا جائے اس کا استعمال ہونے لگا۔ الغرض چونکہ عرب پرندے کو شوم اور نحوست کی دلیل سمجھتے تھے اس لئے مدلول کو دلیل کا نام دے کر خود طائر اور طیر کو شوم سے موسوم کردیا۔ طائر کا استعمال حصہ اور نصیب میں بھی کرتے ہیں۔ عند اللہ۔ من جانب اللہ۔ اللہ کی طرف سے ہے (مکافات عمل کے قانون کے مطابق ان کے نصیب میں کردیتا ہے)
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

(7:132) مھما۔ جو کوئی بھی۔ جو کچھ بھی۔ جب کبھی۔ مھما تفعل افعل۔ جو کچھ تم کرو گے میں بھی کروں گا۔ مھما تاتنا من ایۃ۔ تو کوئی بھی نشانی لائے گا۔ تو جب کبھی بھی کوئی نشانی لائے گا۔ زمخشری (رح) نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ بہ کی ضمیر لفظ کی رعایت سے اور بھا کی مؤنث ضمیر معنی کے لحاظ سے لائی گئی ہے۔ ہر دو میں ضمیر آیۃ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں مگر تکبر ہی کرتے رہے۔ اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔

(7:133) الجراد۔ اسم جنس۔ ٹڈی۔ ملخ۔ جرارۃ واحد۔ القمل۔ اسم جنس۔ غلہ کو کھا جانے والا کیڑا۔ چچڑی کی جنس سے۔ جوئیں۔ الضفادع۔ مینڈک۔ جمع ۔ اس کی واحد ضفدع ہے۔ مفصلت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ تفصیل مصدر۔ جدا جدا ۔ کھلی ہوئی ۔ واضح
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے۔

(7:134) الرجز۔ عقوبت۔ بلا۔ عذاب۔ کپکپا دینے والا۔ اور لرزا دینے والا عذاب۔ ادع۔ تو مانگ۔ تو دعا کر۔ تو بلا ۔ (باب نصر) دعوۃ سے۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ بما عھد عندک۔ اس عہد کے واسطے سے جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔ کشف عنا۔ تو نے ہم پر سے ہٹا دیا۔
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کریتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔

(7:135) الی اجل۔ ایک مقررہ مدت کے لئے۔ ایک مقررہ مدت تک۔ ھم مالغوہ۔ جس کو انہوں نے مکمل کرنا ہی تھا۔ اس مدت تک انہوں نے پہنچنا ہی تھا۔ یعنی جب ان کو لامحالہ عذاب عظیم آنا ہی تھا۔ یہ عذاب عظیم ان کا دریائے قلزم میں غرق ہونا تھا۔ ان کو جو مہلت دی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں وہ ایک مقررہ وقت تک تھی اور وہ وقت مقررہ ان کی غرقابی کا وقت تھا۔ اس وقت تک ان کا زندہ رہنا۔ بہرکیف ان کا مقدر تھا۔ اور اس درمیانی عرصہ کے لئے ان کو پہلے عذاب سے (یعنی جراد۔ قمل۔ ضفادع۔ دم سے) نجات دی گئی۔ اس وقت مقررہ کو وہ پہنچنے والے تھے کہ انہوں نے پھر توبہ کا عہد جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا توڑ دیا۔ اور وہ اس طرح اپنی کرتوت پر غرقابی کے عذاب کے مستحق ہوگئے اور کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ اذا۔ یکلخت۔ نیز ملاحظہ ہو 7:107 ۔ ینکثون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ یکث مصدر (باب نصر) وہ توڑنے لگتے ہیں۔ وہ توڑ دیتے ہیں۔
Ayahs 7:136–137

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

(7:136) فانتقمنا۔ ماضی جمع مذکر متکلم۔ پس ہم نے انتقام لیا۔ بدلہ لیا۔ الیم۔ اسم جنس۔ دریا ۔ یم۔ مصدر۔ دریا میں ڈالنا۔ دریا کا ساحل پر چڑھ آنا۔
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار آتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچتے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لئے بیٹھے رہتے تھے (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی ایک معبود بنادو موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔

(7:138) جوزنا۔ جاوز ۔ یجاوز۔ مجاوزۃ۔ پار کرنا۔ آگے گزر جانا۔ یا پار کرنا۔ پار اترنا۔ یم نے پار کرادیا۔ ہم نے پاراتار دیا۔ ہم نے پار اکرادیا۔ ہم نے پار اتار دیا۔ جوز سے جس کے معنی وسط کے ہوتے ہیں۔ جرز الطریق راستے کا وسط۔ جاوزہ۔ کسی چیز کے وسط سے آگے گزرجانا۔ فلما جاوزہ ھو۔ (2:249) پھر جب وہ (حضرت طالوت) اس دریا کے وسط سے آگے گزر گئے۔ یعنی پار ہوگئے۔ آیۃ ہذا میں :۔ ہم نے نبی اسرائیل کو سمندر سے پار کردیا۔ جائز۔ جواز۔ جائزہ ۔ مجاز۔ سب جوز سے مشتق ہیں ۔ فاتوا علی قوم۔ تو ان کا ایک قوم پر گزر ہوا۔ وہ ایک قوم پر جا نکلے۔ یعکفون۔ عکف یعکف (باب نصر) عکوف سے جس کے معنی تعظیماً کسی چیز پر متوجہ ہونا اور اس سے وابستہ رہنا۔ شریعت کی اصطلاح میں الاعتکاف کے معنی ہیں عبادت کی نیت سے مسجد میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا۔ یعکفون علی اصنام لہم۔ اپنے بتوں کی عبادت میں مگن بیٹھے رہتے تھے۔
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔

(7:139) ھؤلاء قوم کی طرف اشارہ ہے۔ متبر اسم مفعول ۔ واحد۔ تتبیر (تفعیل) مصدر۔ ٹوٹ جانے والا۔ ٹوٹا ہوا۔ تباہ برباد۔ ہر ٹوٹے ہوئے برتن کو بھی متبر کہتے ہیں تبات۔ ہلاکت، متبر۔ کلہاڑا۔ (جس سے ہلاک کیا جاسکتا ہے) قرآن میں ہے ولیتبروا ما علوا تتبیرا (17:7) اور جس چیز پر غلبہ پاویں اسے تباہ کردیں۔ ولاتزد الظالمین الاتبارا۔ (71:28) اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی لا۔ ما ھم فیہ۔ جس (کام) میں وہ لگے ہوئے ہیں۔ (وہ ہلاک و برباد ہونے والا ہے)
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے ؟

(7:140) ابغیکم۔ میں تمہارے لئے تلاش کروں۔ ابغی مضارع واحد متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔

(7:141) اذ بمعنی اذکروا۔ یاد کرو۔ یسومونکم۔ وہ تم کو تکلیف دیتے تھے۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سوم۔ مصدر۔ نیز ملاحظہ ہو۔ 2:49 اور 3:14 ۔ بلائ۔ آزمائش۔ مصدر ہے۔ جب باب نصر سے ہو تو بمعنی آزمائش آتا ہے۔ اور جب باب سمع سے آئے تو بمعنی زائل ہونا۔ بوسیدہ ہونا آتا ہے۔ جیسے ہل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لایبلی (20:120) کیا میں تم کو ایک ایسا درخت نہ بتاؤں جو ہمیشہ رہے اور ایسی بادشاہت جو کبھی زائل نہ ہو۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے راستہ نہ چلنا۔

(7:142) فاتممناھا بعشر۔ اور پورا کیا ہم نے ان (تیس راتوں) کو (مزید) دس راتوں سے۔ فتم۔ پس تمام ہوا۔ یعنی پورا ہوگیا۔ میقات۔ ظرف زمان ۔ مقررہ وقت۔ میعاد۔ وہ میعاد وقت جس میں مقررہ کام کیا جاوے۔ امام راغب نے اس کو اسم آلہ (بروزن مفعال) کہا ہے۔ اربعین لیلۃ۔ چالیس راتیں۔ یہی مدت چلہ کشی کی اصل ہے۔ وضاحت کے لئے کتب تفسیر کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر (کوہ طور پر) پہنچنے اور ان کے پروردگار نے ان کے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ (پروردگار نے) فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ جب انکا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انور ربانی نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر پڑے جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانیوالے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔

(7:143) ارنی۔ ای ارنی ذاتک اونفسک۔ مجھے اپنی ذات اقدس دکھائیں۔ انظر الیک۔ کہ میں تجھے دیکھ سکوں۔ تیرا دیدار کرسکوں۔ استقر۔ وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا۔ استقرار (استفعال) سے جس کے معنی ٹھہرے رہنے اور قرار پکڑنے کے ہیں۔ تجلی۔ اس نے تجلی کی۔ وہ روشن ہوا۔ وہ ظاہر ہوا۔ وہ جلوہ افروز ہوا۔ تجلی سے جس کے معنی دیدار اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب تفعل۔ دکا۔ ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھاکر برابر کرنا۔ کوٹ کوٹ کر ہموار کرنا۔ دک سے جس کا معنی ہموار اور نرم زمین کے ہیں۔ چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے اسی لئے اسی مناسبت سے اس کے مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ دکۃ (باب نصر) مصدر۔ خر۔ وہ گرپڑا۔ خر (باب ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ صعقا۔ بےہوش۔ صعق یصعق صعق صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ صعق۔ قرآن میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً (1) فصعق من فی السموت ومن فی الارض (39:68) تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور زمین میں ہیں سب کے سب مرجائیں گے۔ (2) نقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود (41:13) میں تم کو مہلک عذاب سے ڈراتا ہوں جیسے عاد اور ثمور پر وہ عذاب آیا تھا۔ (3) ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء (13:13) اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ یہ تینوں دراصل صاعقہ کے آثار میں سے ہیں کیونکہ اس کے اصل معنی تو فضا میں سخت آواز کے ہیں۔ پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے (بجلی کی کڑک) اور کبھی وہ عذاب اور موت کا سبب بن جاتی ہے۔ قتادہ نے یہاں موت کے معنی ہی لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ یہاں بیہوشی اور غشی مراد ہے (لیکن یہ بھی نیند کی طرح ایک قسم کی موت ہے) ۔ افاق۔ وہ ہوش میں آیا۔ اسے افاقہ ہوا۔ افاقۃ سے (باب افعال) نشہ یا غشی کے بعد ہوش آنایا مرض کے بعد قوت پانا۔ فوق مادہ
Ayahs 7:144–145

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجا لاؤ

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔

(7:144) اصطفیتک۔ میں نے تجھ کو امتیاز دیا۔ میں نے تجھ کو برگزیدہ کردیا۔ میں نے تجھ کو سرفراز کیا۔ اصطفاء (افتعال) صفو مادہ۔ الصفاء کے اصل معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا کے ہیں۔ الاصطفاء کے معنی پاک اور صاف چیز کا لے لینا۔ جیسے الاجتباء کے معنی عمدہ چیز کا منتخب کرلینا اسی سے ہے المصطفیٰ اور المجتبیٰ ۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

(7:146) ساصرف۔ میں عنقریب پھیردوں گا۔ فعل بافاعل۔ الذین یتکبرون مفعول فی الارض بغیر الحق۔ الذین یتکبرون سے حال۔ عن ایاتی۔ متعلق فعل ۔ جو لوگ زمین پر بغیر حق کے تکبر و نخوت سے کام لیتے ہیں عنقریب میں ان کو (اس پاداش میں) اپنی آیات (کی پیروی) سے پھیردوں گا۔ اور تصریف کیا ہوگی ؟ اس کا بیان وان یروا کل ایۃ ۔۔ سبیل الغی یتخذوہ سبیلا۔ میں کیا گیا ہے کہ اگر وہ تمام معجزات و حقائق کو دیکھ بھی لیں تو بھی ایمان نہ لاویں۔ اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ بھی لیں تو اختیار نہ کریں۔ (اس کے برعکس) اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو جھٹ اپنا لیں (وائے محرومی) ذلک۔ اشارۃ ہے تصریف کی طرف ۔ یعنی یہ تصریف اس لئے ہے کہ بانھم ۔۔ غفلین۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔

(7:147) ہل۔ استفہام انکاری۔ (نہیں دی جائے گی ان کو جزاء مگر اس فعل کی جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے)
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

(7:148) اتخذ۔ بنا لیا۔ اختیار کرلیا۔ پسند کرلیا۔ ٹھہرا لیا۔ حلیم۔ ان کے زیورات۔ ان کے گہنے۔ حلی حلی کی جمع ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ حلی حلی (سمع) آراستہ ہونا۔ حلی آراستہ کرنا۔ یحلون فیہا اساور من ذھب (18:31) ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ عجلا۔ گائے کا بچھڑا۔ گوسالہ۔ جسدا۔ خون و گوشت رکھنے والا۔ یا ڈھانچہ بغیر روح کے۔ لہ خوار۔ گائے کی آواز (اس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی) ۔ (جب حضرت موسیٰ میقات رب کی خاطر طور پر گئے ہوئے تھے تو سامری نے بنی اسرائیل سے زیورات لے کر بچھڑے کا سا مجسمہ بنایا۔ جو گائے کی سی آواز نکالتا تھا) اتخذوہ۔ ای اتخذوہ الہا۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

(7:149) سقط۔ گرا دیا گیا۔ (باب نصر) سقوط سے جس کے معنی گر پڑنے کے ہیں۔ سقط فی ایدیہم۔ محاورہ ہے۔ جس کے معنی ہیں وہ نادم ہوئے۔ اصل میں تھا سقط الندم فی ایدیہم۔ ندامت ان کے ہاتھوں میں ڈال دی گئی۔ ولما سقط فی ایدیہم۔ جب حقیقت پاکر کہ نہ تو وہ عجل بات کرسکتا ہے اور نہ کوئی راہ ہدایت دکھا سکتا ہے۔ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے۔
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

(7:150) غضبان۔ صیغہ مبالغہ۔ سخت غضبناک۔ غضبان وہ شخص جس کے غصہ میں شدت ہو۔ غضبۃ وہ شخص جس کو جلد غصہ آجائے۔ اسفا۔ مصدر ہے ۔ افسوس کرنا ۔ پچھتاوا۔ شدید الغضب (شدید غصہ میں) ۔ حرینا متاسف۔ بئسما۔ برا ہے جو کچھ ۔ بری ہے وہ چیز۔ ما بمعنی شیٔ کے تمیز ہے بئس کے فاعل مضمر کی یا ما موصولہ ہے بمعنی الذی اور بئس کا فاعل ہے۔ خلفتمونی۔ تم نے میری جانشینی کی۔ تم نے میرے بعد کیا۔ اعجلتم۔ اَ استفہامیہ۔ عجلتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے جلدی کی۔ تم نے جلد بازی کی۔ عجل اور عجلۃ سے۔ اعجلتم امر ربکم۔ کیا تم نے اپنا رب کا حکم آنے سے پہلے ہی یہ جلدی کر ڈالی ۔ یعنی میں جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے احکام وصول کرنے کے لئے گیا ہوا تھا ۔ تاکہ تمہارت پاس لاؤں اور تم ان احکام کے مطابق عمل کرو۔ لیکن تم نے اس کا انتظار کئے بغیر اتنی شتابی سے ایک گوسالہ کو خدا بنا ڈالا۔ یجرہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ جر مصدر (باب نصر) ہ ضمیر مفعول اس کو کھینچتے ہوئے۔ ابن ام۔ یا حرف ندا محذوف۔ ابن ام مضاف مضاف الیہ مل کر منادیٰ ۔ یا ابن ام میں بعض نے میم کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اصل میں ابن امی تھا ۔ ی کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا۔ میم کو مفتوح پڑھنے والوں کے نزدیک بھی میم پر فتح زیادہ تخفیف کی وجہ سے ہے۔ استضعفونی۔ انہوں نے مجھے کمزور سمجھا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ باب استفعال۔ ن وقایہ۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ لاتشمت بی۔ تو نہ ہنسا۔ تو نہ خوش کر۔ الشماتہ کے معنی دشمن کی مصیبت پر خوش ہونے کے ہیں۔ اشمت اللہ بہ العدو۔ کے معنی ہیں۔ اللہ اسے مصیبت پہنچائے جس سے اس کے دشمن خوش ہوں۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

(7:152) سینالہم۔ س۔ مستقبل قریب کے لئے ہے۔ ینال مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول۔ جمع مذکر غائب۔ عنقریب ان کو آپہنچے گا۔ عنقریب ان کو آلیگا۔ نیل مصدر۔ نال ینال (باب سمع) ۔ المفترین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ افتراء پرداز۔ بہتان باندھنے والے۔ افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ افتراء کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فسادی کے معنوں میں ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ ۔ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما (4:48) جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا۔ ان انتم الا مفترون (11:50) تم (شرک کرکے خدا ہر) محض بہتان باندھتے ہو۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

(7:153) من بعدھا۔ ای من بعد السیئات (من بعد التوبۃ) ھا ضمیر سیئات کے لئے ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

(7:154) سکت۔ وہ تھم گیا۔ اس نے سکوت (خاموشی) اختیار کیا۔ (باب نصر) سکوت سے ماضی واحد مذکر غائب۔ السکوت۔ سکوت ترک کلام کے ساتھ مخصوص ہے اور چونکہ سکوت۔ سکون کی بھی ایک قسم ہے۔ اس لئے یہاں اس آیۃ میں اس کا استعمال بطور استعارہ سکون ہی کے معنوں میں ہوا ہے۔ نسختھا۔ نسخہ یعنی کتاب۔ لکھی ہوئی تحریر۔ مضامین۔ ان کے مضامین میں (رحمت اور ہدایت تھی) یرھبون۔ وہ ڈرتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ رھب (باب فتح) سے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

(7:155) اختار قومہ۔ ای اختار من قومہ۔ اختیار (افتعال) سے اس نے اپنی قوم سے چن لئے۔ لیمقاتنا۔ ہمارے مقررہ وقت پر۔ مضاف مضاف الیہ۔ میقات اسم ظرف زمان۔ طے شدہ ۔ مقرر دشہ وقت۔ الرجفۃ۔ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ الرجف (باب نصر) اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ رجفت الارض۔ زمین زلزلہ سے ہل گئی بحررجاف۔ تلاطم سمندر (نیز دیکھو 7:91) من قبل۔ من بعد کی ضد ہے۔ قبل اور بعد کو اضافت لازمی ہے جب بغیر اضافت کے آئے گا ۔ یا تو اس پر ضمہ ہوگا یا اس پر دوزبر ہوں گے۔ بعداً ۔ قرآن مجید میں بعداً استعمال نہیں ہوا ہے۔ ان ہی ۔ میں ان نافیہ ہے۔ فتنتک۔ فتنۃ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ ۔ تیری آزمائش ۔ فتنہ کے معنی عذاب کے بھی ہیں جسے ذوقوا فتنتکم (51:14) اپنی شرارت کا مزہ چکھو یعنی عذاب کا مزہ چکھو۔ یا یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جس دن ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

(7:156) انا ھدنا الیک۔ بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کرلیا ہے۔ ھاد یہود (باب نصر) سے۔ ھدنا ماضی جمع متکلم کا صیغہ ہے ھاد بمعنی رجع ہے۔ اس کا معنی تبنا ہوسکتا ہے۔ ہم (اپنے کئے پر) تائب ہیں۔ اصیب بہ۔ جسے میں اس کو دیتا ہوں (جسے میں چاہوں) اصاب یصیب اصابۃ (افتعال) سے مضارع واحد متکلم۔ ساکب تھا للذین۔ میں اس کو لکھ دوں گا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ رحمۃ کی طرف راجع ہے ۔ میں اس کو مقدر کر دوں گا۔ اسے ( رحمت کو ان کی تودیر میں) لکھ دوں گا۔
Ayahs 7:157–158

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

(7:157) الذین یتبعون الرسول النبی بدل ہے الذین یتقون کا۔ فساکن تھا ۔۔ کانت علیہم۔ کا ترجمہ ہوگا : میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کی قسمت میں لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں اس رسول اور نبی امی کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ حلال کرتا ہے ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزوں کو۔ اور ان پر سے اس بوجھ کو اتارتا ہے (جس میں وہ دبے ہوئے ہیں) اور وہ بندش یا زنجریں کھولتا ہے۔ جنہوں نے ان کو جکڑ رکھا ہے۔ الرسول۔ پیغمبر۔ بھیجا ہوا۔ رسالۃ سے بروزن فعول۔ اور یہ مرسل بروزن مفعل سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ کو رسول کہا گیا ہے۔ النبی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اصل میں نبئی تھا ۔ ہمزہ کو یاء سے بدل کر یاء میں مدغم کردیا گیا۔ نبی ہوا۔ بمعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی بنا پر رغبت کی باتیں بتانے والا خدا تعالیٰ کے متعلق خبریں دینے والا۔ مخلوق کی طرف مبعوث ہونے کے باعث النبی کہا گیا ہے الامی۔ جو نہ لکھ سکے نہ کتاب پڑھ سکے۔ حدیث شریف میں ہے : حضور ﷺ نے فرمایا : انا امۃ امیۃ لانکتب ولا تحسب۔ ہم امی جماعت ہیں نہ لکھنا جانیں، نہ حساب کرنا۔ بعض کے نزدیک امی ام کی طرف منسوب ہے جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ بھی لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ امی ام القریٰ (مکہ) کی وجہ سے ہے ۔ چونکہ اہل مکہ یعنی قریش من حیث القوم بےپڑھے لکھے تھے۔ اس لئے بےپڑھے لکھے شخص کو امی کہا جانے لگا۔ لفظ امی آپ کے حق میں صفت مدح ہے دوسروں کے حق میں نہیں۔ جس طرح صفت تکبر ذات باری تعالیٰ کے لئے صفت مدح ہے اور غیر کے لئے مذموم۔ اصرھم۔ ان کا بوجھ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ یہاں مراد ان سخت احکام سے جو یہودیوں پر عائد تھے۔ اضر بھاری بوجھ۔ تکلیف شاقہ۔ دشوار امر۔ یضع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وضع مصدر۔ باب فتح وہ اتارتا ہے۔ وہ دور کرتا ہے۔ الاغلال۔ قیدیں ۔ طوق۔ ہتھکڑیاں۔ زنجیریں۔ غل کی جمع ۔ غل اس شے کے ساتھ مخصوص ہے جس سے قید کیا جائے اور اس میں اعضا باندھ دئیے جائیں۔ امنوا بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب راجع ہے۔ عزروہ۔ ماضی جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب راجع الی الرسول النبی۔ تعزیر (تفعیل) اے انہوں نے اس کی تعظیم کی۔ انہوں نے اس کو قوت دی۔ انہوں نے اس کی رفاقت کی۔ النور۔ ای القرآن العظیم۔ آیاے 156 - 157 میں انا ھدنا الیک پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ختم ہوئی اور قال کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دعا کا جواب شروع ہوا۔ بعض نے یہ جواب آیت 157 کے اختتام المفلحون پر ختم کیا ہے۔ اس صورت میں آیت 157 میں حضرت محمد ﷺ کے متعلق پیشینگوئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ نبی امی ان صفات کا حامل ہوگا جو کہ یامر بالمعروف سے لے کر کانے علیہم تک مذکور ہیں۔ اور اس کا مبارک ذکر تورات ۔ انجیل (جو ابھی تک یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں نازل نہیں ہوئی تھیں) میں ملے گا۔ پس اس نبی امی کی پیروی کا حکم فالذین امنوا سے لے کر انزل معہ تک ارشاد ہوا۔ شروع میں ارشاد ہوا۔ الذین یتبعون الرسول النبی الامی (اتباع رسول) اور پھر ارشاد ہوا۔ واتبعوا النور الذی انزل معہ۔ (اتباع القرآن) لہٰذا یہ اشارہ ہے اتباع القرآن و اتباع السنۃ کی طرف۔ بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا جواب آیت 156 کے ساتھ ختم ہوگیا اور آیت نمبر 157 میں نبی اسرائیل کو جو حضور ﷺ کے زمانہ میں تھے ان کو حضرت رسول مقبول ﷺ کی اتباع کی دعوت دی گئی ہے۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

(7:159) امۃ گروہ ۔ جماعت، نیز اس کے معنی مدت، طریقہ، دین بھی ہیں ۔ امۃ بمعنی گروہ۔ باعتبار لفظ واحد ہے اور باعتبار معنی جمع ہے یھدون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ وہ ہدایت کرتے ہیں۔ ھدایۃ مصدر (باب ضرب) ھدی یھدی۔ وبہ یعدلون۔ اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتے تھے۔ ہ ضمیر الحق کی طرف راجع ہے۔ یعدلون۔ عدل یعدل (ضرب) سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔