7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsانوار البیان

Ayahs 7:41–42

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں اور عمل نیک کرتے رہیں اور ہم عملوں کیلئے کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں کہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

(7:41) مھاد۔ بچھونا۔ ٹھکانہ۔ قرار گاہ۔ مھد گہوارہ۔ پالنا۔ زمین۔ مھد مصدر (باب نصر) بچھانا۔ اختیار کرنا۔ کام کرنا۔ تمہید۔ کام کو ہموار کرنا۔ عذر سننا۔ عذر قبول کرنا ۔ غواش۔ غاشیۃ کی جمع۔ اصل میں غواشی تھا۔ حالت رفع کے سبب ی کو ساقط کردیا گیا۔ معنی آگ کے پردے۔ ہر طرف سے ڈھانک لینے والی آگ۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کینے ان کی دلوں میں ہونگے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ انکے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ اور کہیں خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔ اور اگر خدا ہمیں یہ راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے خدا کے رسول حق بات لیکر آئے تھے۔ اور اس روز منادی کردی جائے گی کے تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنادئے گئے ہو

(7:43) نزعنا۔ ماضی معروف۔ جمع متکلم۔ نزع۔ مصدر۔ (باب فتح) ہم نکال دیں گے ۔ چھین لیں گے۔ ملاحظہ ہو آیت 7:27 غل۔ اسم فعل۔ دلی کدورت۔ قلبی عداوت۔ غل یغل (باب ضرب) کینہ سے سینہ کا پر ہونا۔ غلا و غلیلا مصدر غل یغل غلولا۔ دھوکہ دینا۔ تحتم۔ ان کے نیچے۔ تحت قصورھم۔ ان کے محلوں کے نیچے ۔ یا ان کے حکم پر۔ یعنی نہریں ان کے حکم پر چلیں گئ۔ فرعون نے کہا تھا۔ وھذہ الانھر تجری من تحتی (43:52) بیضاوی نے اس کے معنی لکھے ہیں۔ تحت قصری۔ تحت امری۔ اوبین یدی۔ نوروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ نداء مصدر۔ باب مفاعلہ۔ ان کو پکارا جائیگا (ماضی بمعنی مستقبل) اور ثتموھا۔ تم اس کے وارث بنائے گئے۔ تمہیں وہ میراث میں دی گئی۔ واؤ اشباع کا ہے۔ اصل میں صیغہ اور ثتم ہے جو ایراث (افعال) سے ہے۔
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا اس کو ہم نے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچ پایا ؟ وہ کہیں گے ہاں تو اس وقت ایک پکارنے والاپکار دے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت۔

(7:44) نادی۔ ماضی واحد مذکر غائب ندائ۔ مصدر (باب مفاعلۃ) اس نے پکارا یہاں ماضی بمعنی مضارع ہے۔ اذن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے پکارا۔ الاذن سے مشتق ہے۔ اذن بمعنی کان۔ استعارہ کے طور پر وہ شخص جو ہر ایک کی بات سن کر اسے مان لیتا ہے جیسے قرآن میں ہے ویقولون ھو اذن (9:61) اور کہتے ہیں کہ وہ نرا کان ہے یعنی ہر ایک کی بات سن کر مان لینا ہے۔ اذن سے دیگر مشتقات اذن حکم۔ اجازت ۔ ارادہ ۔ مشیت۔ اذن اس سے سنا اس نے حکم دیا۔ واذنت لربھا وحقت (84:2) اور وہ اپنے رب کا فرمان سنے گی۔ اور اسے واجب بھی ہے۔ اور لایتکلمون الا من اذن لہ الرحمن (78:38) نہیں کلام کریں گے۔ مگر وہ (کلام کرسکیں گا) جسے اسی کا رحمن (اللہ تعالیٰ ) حکم سے گا۔ واذن (باب تفعیل) وہ پکارا۔ مؤذن۔ پکارنے والا۔ اور (باب تفعل) سے واذتاذن ربک (7:167) اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا۔ مؤذن۔ سے مراد بعض نے اسرافیل (صاحب صور) لیا ہے بہرکیف اس سے مراد کوئی فرشتہ ہے جو اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کو سن سکتا ہے۔
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس کی کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔

(7:45) یبغونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو چاہتے ہیں۔ بغی مصدر عوجا۔ ٹیڑھا۔ عوج۔ کجی۔ ٹیڑھا پن۔ عوج یعوج (سمع) سے۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

ان دونوں بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان اعراف کا نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف پر کچھ آدمی ہونگے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہونگے مگر امید رکھتے ہونگے۔

(7:46) الاعراف۔ سے مراد وہ دیوار ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان حائل ہے۔ اعراف عرف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مکان مرتفع۔ بلند جگہ۔ عرف الفردوس۔ گھوڑے کی گردن کے بال ۔ عرف الدیک۔ مرغے کی کلغی۔ سیمہم۔ ان کا چہرہ۔ ان کی نشانی۔ سیما کے معنی نشانی اور علامت کے ہیں۔ یہ اصل میں وسمی تھا۔ واؤ کو فاء کلمہ کی بجائے عین کلمہ پر رکھا گیا ۔ تو سومی ہوا پھر واؤ کے ساکن اور ماقبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے واؤ کو باء کرلیا گیا تو سیمی ہوگیا۔ سیمی مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ نادوا ماضی جمع مذکر غائب نداء مصدر باب مفاعلہ۔ انہوں نے پکارا (یا ماضی بمعنی مضارع) وہ پکاریں گے۔ اس کا فاعل رجال لم یدخلوھا۔ (ابھی) وہ اس میں (جنت میں) داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ وہم یطمعون۔ اور وہ (جنت میں داخل ہونے کے) خواہش مند ہوں گے۔ لم یدخلوھا وھم یطمعون (ای اصحاب الاعراف) ۔ اصھاب اعراف کے بارے میں کہ یہ کون ہوں گے ؟ مفسرین میں اختلاف ہے لیکن راجح قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہونے کی وجہ سے ابھی خداوند کریم نے ان کو بہشت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی ہوگی۔ لیکن وہ داخل ہونے کی خواہش رکھتے ہوں گے۔ جیسا کہ آگے چل کر بیان ہوتا ہے کہ وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے :۔ اے ہمارے رب ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجئے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان نگاہیں پلٹ کر اہل جھنم کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں میں داخل نہ کیجئے۔

(7:47) صرفت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب وہ پھیری گئی۔ (ماضی بمعنی مضارع وہ پھیری جائیں گی) یعنی جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گی۔ یا پھیریں گے۔ تلقائ۔ طرف۔ لقاء سے۔ جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ اسم ہے۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کہ جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف اہل جھنم میں سے جن کی صورت سے پہچانیں گے پکاریں گیں اور کہیں گے کہ آج کے دن نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کوئی کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی سودمند ہوا

(7:48) اغنی عن۔ فائدہ بخشنا۔ کام آنا۔ غنی بنادینا۔ ما اغنی عنکم وہ تمہارے کسی کام نہ آیا۔ اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ جمعکم۔ تمہاری جمعیت۔ تمہاری جماعت۔ تمہارا جمع ہونا۔ ما اغنی میں ما نافیہ ہے اور ما کنتم تستکبرون میں ما بیانیہ ہے۔ ما کنتم تستکبرون۔ جس کا تم گھمنڈ کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

پھر مومنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا ؟ تو مومنوں تم بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تم کو کچھ خوف نہیں اور نہ تم کچھ رنج واندوہ ہوگا۔

(7:49) اھولاء الذین میں أ استفہامیہ ھولاء اسم اشارہ قریب (مبتدا ) اسکا مشار الیہ اصحاب الجنۃ محذوف ہے۔ الذین خبر۔ اقسمتم (تم قسمیں کھاتے تھے) ۔ لا ینالہم اللہ برحمۃ۔ الذین کے صلہ میں داخل ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ أھولاء ھم الذین اقسمتم علیہم بان لاینالہم اللہ برحمۃ۔ کیا یہ (جنتی) لوگ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کو نہیں نوازے گا۔ ادخلوا ۔۔ تحزنون۔ (کلام متذکرہ بالا کے بعد اہل جنت کی طرف متوجہ ہوکر وہ یہ کہیں گے یا ان کا کلام برحمۃ پر ختم ہوگیا اور یہ جملہ اصحاب اعراف کے حق میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا کہ اب تم نے اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار کا حال دیکھ لیا۔ تم بھی جنت میں جاؤ داخل ہوجاؤ ۔۔ الخ۔ یا اصحاب اعراف یہ کہیں گے کہ (دیکھو انہیں تو حکم مل گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں ۔۔ الخ۔ یہاں اصحاب اعراف کا کلام ختم ہوا۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی بہشتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کرو وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے

(7:50) افیضوا علینا من المائ۔ افیضوا۔ تم بہاؤ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ افاضۃ سے۔ افاض المائ۔ کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا۔ آنسؤں کے بہنے کے لئے بھی آتا ہے جیسے فرمایا تری اعینھم تفیض من الدمع (5:83) تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے ثم افیضوا من حیث افاض الناس (2:199) پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو۔ یہاں افاضۃ کے معنی مجمع کثیر کے یکبار گی لوٹنے کے ہیں۔ اور یہ فیضان الماء (یعنی پانی کا زور سے بہ نکلنا) کے ساتھ تشبیہ سے کر بولا جاتا ہے۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

(7:51) الذین ۔۔ یہ نیا جملہ ہے اور یہاں سے کلام اللہ کی طرف سے ہے۔ اصحاب النار کی التجا اور اہل جنت کا جواب علی الکافرین پر ختم ہوگیا۔ الذین بمعنی جن لوگوں ۔ ما کانوا یجحدون۔ ما بمعنی کما۔ کانوا یجحدون۔ ماضی استمراری۔ وہ انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو علم دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور وہ مومنون کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(7:52) فصلناہ۔ ماضی جمع متکلم۔ تفصیل (تفعیل) مصدر۔ ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا۔ ہم نے اس کی الگ الگ (مختلف پہلؤں سے) تفصیل (وضاحت) کردی ۔ علی علم۔ یہ اللہ کا حال بھی ہوسکتا ہے اور کتب کا بھی۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے : ہم نے اپنے علم کامل سے اس کی وضاحت کردی۔ دوسری صورت میں معنی ہوں گے : ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے اور وہ تمام علوم پر مشتمل ہے۔ ھدی ورحمۃ۔ حال ہے فصلناہ کا۔ یعنی درآں حال یہ کہ وہ ہدایت اور رحمت ہے۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس کے وعدہ عذاب کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ وعدہ آئے گا تو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہونگے وہ بول اٹھے گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا آج ہمارے کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں۔ یا ہم دنیا میں پھر دوبارہ لوٹادیئے جائیں کہ جو عمل بد ہم پہلے کیا کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا کوئی نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

(7:53) ینظرون۔ ای ینظرون۔ وہ انتظار کرتے ہیں۔ یا انتظار کر رہے ہیں۔ ہل۔ یہ حرف استخبار اور کبھی استفہام کے لئے آتا ہے۔ قل ہل عندکم من علم فتخرجوہ لنا (6:149) کہہ دو تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے لاؤ۔ اور کبھی تنبیہ۔ تبکیت یا نفی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے ہل تعلم لہ سمیا (9: 65) بھلا تم اس کا کوئی ہمنام جانتے ہو۔ (نفی) ہل تری من فطور (37:3) کیا تجھے کوئی شگاف نظر آیا۔ (نفی) ہل ھذا الابشر مثلکم (21:3) ہل ھذا الا بشر مثلکم۔ یہ شخص (کچھ بھی) نہیں ہے مگر تمہارے جیسا آدمی ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تنبیہ اور اس کی سطوت پر تخویف۔ ہل ینظرون الا تاویلہ ان کو کسی بات کا انتظار نہیں مگر صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ۔ کیا یہ اس کی دھمکی یا اس کی تعبیر کے سچ مچ وقوع پذیر ہوجانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کس بات کے منتظر ہیں۔ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ قرآن میں جو وعید آئی ہیں وہ فی الواقع انجام کار ٹھیک بیٹھتی ہیں یا نہیں (تنبیہ) یوم یاتی تاویلہ۔ جس روز آجائے گا اس کا انجام ۔ یعنی جس دن اس کتاب کے وعدے وعید کے عواقب اور نتیجے ظاہر ہوں گے نرد۔ ہم لوٹائے جائیں۔ مضارع مجہول رد مصدر۔ (باب نصر) فتعمل۔ تاکہ ہم عمل کریں۔ مضارع منصوب بوجہ جواب استفہام صیغہ جمع متکلم۔ خسروا انفسہم۔ ملاحظہ ہو (7:9) ضل عنہم۔ گم ہوگئے ان سے۔ چھوڑ گئے ان کو۔ (یعنی جو بہتان بازی وہ کیا کرتے تھے اور جن معبودان باطل کی وہ پرستش کیا کرتے تھے وہ ان کو چھوڑ گئے) ۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر ٹھہرا۔ وہی دن کو رات کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اسی کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے یہ خدائے رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔

(7:54) استوی علی۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھا۔ متمکن ہوا ملاحظہ ہو (2:29) استوی کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کا یہ معنی نہیں کہ خداوند تعالیٰ عرش پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ مکان اور جلوس سے پاک ہے۔ اس کے استویٰ کی جو کیفیت ہے وہ ہمارے فہم سے بالاتر ہے۔ عرش کے معنی کے لئے ملاحظہ ہو (10:3) یغشی۔ مضارع واحد مذکر غائب اغشی یغشی (باب افعال متعدی بدو مفعول) یغشی اللیل النھار۔ وہ رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے۔ غشی یغشی (سمع) چھا جانا۔ ڈھانک لینا۔ حثیثا۔ دوڑتا ہوا۔ شتاب۔ جلد ۔ حث سے جس کے معنی کسی کام پر ابھارنے اور رغبت دلانے کے ہیں۔ فعیل بمعنی حاث (رغبت کرتے ہوئے) یا بمعنی مفعول یعنی محثوث (جیسے رغبت دلائی گئی ہو) صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جس کا استعمال سریع یعنی جلد اور شتاب کے معنی میں ہوتا ہے۔ یطلبہ حثیثا۔ اگر یطلبہ کا فاعل لیل ہے تو یہ الیل کا حال ہے یعنی وہ دن کو جلد پالینے کی کوشش میں ہے۔ اور اگر اس کا فاعل النھار ہے تو یہ النہار کا حال ہے یعنی دن رات کو جلد پالینے کی کوشش میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں رات اور دن سرعت سے ایک اور دوسرے کے پیچھے پیہم رواں دواں ہیں۔ مسخرات۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔ مسخرۃ واحد تسخیر مادہ باب تفعیل ۔ تابع تسخیر میں۔ زیر فرمان۔ تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ ما ضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ اور صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے۔ اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

(7:55) ادعوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم پکارو دعوۃ سے ۔ باب نصر۔ تضرعا۔ عاجزی سے۔ گڑگڑاکر۔ بروزن تفعل مصدر ہے۔ خفیۃ۔ پوشیدہ۔ چھپا ہوا۔ یہاں بمعنی چپکے چپکے۔ آہستہ آہستہ۔ معتدین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ حد سے آگے بڑھنے والے حد سے تجاوز کرنے والے۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنے اور خدا سے خوف کھاتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

(7:56) طمعا۔ توقع۔ امید۔ رکھتے ہوئے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی سی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینہ برساتے ہیں پھر مینہ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کر کے باہر نکالیں گے یہ آیات اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

(7:57) بشرا۔ خوشخبری دینے والی بشر بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے (ہوائیں آنے والی بارش کی خوشخبری دیتی ہیں) بین یدی۔ بین۔ درمیان ۔ بیچ۔ جب اس کی اضافت ایدی (ہاتھوں ) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسے ثم لاتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں ضرور آؤں گا ان پر سامنے سے۔ یا اس کے معنی قبل (پہلے) کے ہوتے ہیں۔ مثلاً آیۃ ہذا۔ بین یدی رحمتہ۔ اس کی رحمت سے پہلے (یہاں رحمت سے مراد بارش ہے) اقلت۔ قلت اور کثرت اصل وضع کے لحاظ سے صفات عدد سے ہیں جس طرح کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں۔ بعدہ کثرت و قلت اور عظم و صغر میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے۔ مثلاً قم الیل الا قلیلا (73:2) رات کو قیام کرو مگر تھوڑی رات۔ اس میں قلیل کا استعمال تعداد کے لئے نہیں بلکہ وقت کی کمی کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ باب (افعال) سے اقلال کے معنی قلیل پانے یا ہلکا سمجھنے کے ہیں۔ کسی چیز کو ہلکا سمجھنا محض حکمی ہوتا ہے مثلاً اقللت ما اعطیتنی میں نے تمہارے دیئے کو حقیر سمجھا۔ اور کبھی اس شے کی قوت کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے آیۃ ہذا میں ہے۔ اذا اقلت سحابا ثقالا جب وہ بھاری بھاری پتھروں کو اٹھا لاتی ہے۔ یہاں اقلت کہہ کر اشارہ فرمایا ہے کہ وہ بادل جن کو اٹھا لاتی ہے اگرچہ فی نفسہ بھاری ہوتے ہیں لیکن ہوا کی قوت کے اعتبار سے نہایت ہلکے ہیں اقلت بمعنی حملت ہے۔ سقنہ۔ ساق یسوق سوق (باب نصر) سے ماضی جمع متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہم اسے بانک لیجاتے ہیں۔ (ماضی بمعنی مضارع) ۔ لبلد میت۔ ویران بستی۔ خشک و بےگیاہ علاقہ۔ فانزلنا بہ۔ پھر ہم اس سے اتارتے ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) یہ بلد میت کی طرف بھی راجع ہوسکتا ہے اور معنی ہوں گے ہم پانی کو ویران بستی پر اتارتے ہیں۔ (2) یا یہ سحاب کے لئے ہے کہ ہم ان بادلوں سے پانی اتارتے ہیں۔ (3) یا یہ سوق کے لئے ہے۔ کہ ہمارا ان کا ہانک کر لیجانا ویران بستی پر پانی برسانے کے لئے ہے۔ اکرجنا بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الماء کے لئے ہے۔ لعلکم تذکرون۔ تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ یعنی یہ مثال تمہیں اس لئے دی ہے کہ اس سے تم یہ نصیحت قبول کرلو کہ اسی طرح وہ تم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیگا اور قیامت وقوع ہوگی ۔
Ayahs 7:58–59

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اس کو کہا اے میری برادری کے لوگوں خدا کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا بہت ہی ڈر ہے۔

(7:58) خبت۔ وہ خبیث ہوا۔ وہ خراب ہوا۔ الذی اسم موصول البلد کے لئے ہے یعنی وہ بستی جو خبیث اور خراب ہے۔ نکدا۔ اسم صفت منصوب۔ بےفائدہ ۔ قلیل النفع۔ گھٹیا۔ شعر ہے ؎ باراں کہ در لطافت طبعش کلام نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم وخس نصرف۔ ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ ہم پھیر پھیر کر بیان کر رتے ہیں۔ تصریف۔ مصدر۔ مضارع جمع متکلم۔
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

(7:60) الملا۔ اسم جمع ۔ معرف باللام ۔ سرداروں کی جماعت۔ بڑے لوگوں کی جماعت۔ ملا یملا۔ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار چونکہ قوم کے دلوں کو اپنی خوبیوں اور محاسن سے بھر دیتے ہیں اس لئے انہیں ملا کہتے ہیں۔ ملا الارض زمین کی وسعتوں کو مقدار بھر بھر دینا ۔ (نیز ملاحظہ ہو : 11:97)
Ayah 7:61

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! مجھ میں کسی قسم کی کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

(7:61) لیس بی ضلالۃ۔ لیس فعل ناقص۔ واحد مذکر غائب۔ بمعنی نہیں۔ ضلالۃ۔ گمراہی۔ لیس بی ضلالۃ مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے۔
Ayah 7:62

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

(7:62) ابلغکم۔ بلغ یبلغ تبلیغ (تفعیل) سے مضارع واحد متکلم ۔ میں تم کو پہنچاتا ہوں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ رسلت۔ رسالۃ کی جمع ۔ پیغامات۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

(7:63) علی رجل ۔ علی لسان رجل۔ (تم میں سے) ایک شخص کی زبان سے یا اس کے ذریعہ سے۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

(7:64) عمین۔ عم کی جمع ۔ بحالت نصب۔ عم۔ عمی سے بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ اصل میں عمی تھا۔ چان کہ ناقص یائی میں صفت مشبہ کا ی حذف ہوجاتا ہے۔ اس لئے یاء حذف ہوگی۔ اور عم وہ گیا۔ حالت رفع میں جمع عمون آئیگی۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

(7:65) الی عاد سے پہلے۔ ارسلنا محذوف ہے۔ یہ عطف بھی ہوسکتا ہے نوح پر آیت 59 ۔ عاد سے مراد قوم عاد ہے۔ عاد حضرت نوح کی قوم میں ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی نسل اسی کے نام سے موسوم ہوئی۔ عاد بن عوص بن ارم بن شالح بن ار فخشذ بن سام بن نوح ۔
Ayahs 7:66–68

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

(7:66) سفاھۃ۔ سفہ یسفہ (سمع) کا مصدر۔ بےعقلی۔ بےوقوفی۔ جہالت۔ امین۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔ امانۃ اور امن سے۔ اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم فعول کا بھی کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

(7:69) بصطۃ۔ بسطۃ۔ کشادگی ۔ وسعت۔ کشائس۔ بسیط۔ کشادہ۔ وسیع۔ الای ۔ الیٔ کی جمع۔ احسانات۔ نعمتیں۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

(7:70) اجئتنا۔ الف استفہامیہ ۔ جئت ماضی واحد واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تم (اس لئے) ہمارے پاس آئے ہو۔ نذر۔ مضارع منصوب۔ (بوجہ عمل لام تعلیل لنعبد) جمع متکلم۔ وذر۔ مصدر (باب سمع) دراخواعتنا نہ سمجھ کر چھوڑ دینا۔ ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دینا۔ اس کا ماضی مستعمل نہیں صرف مضارع اور امر مستعمل ہیں۔ نذر۔ ہم ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دیں۔ بما تعدنا۔ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ وعد یعد (ضرب) سے مضارع واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ تم ہمیں دھمکاتے ہو۔ وعد یعد۔ وعدہ کرنے کے لئے بھی آتا ہے لیکن یہاں وعید کے معنی مراد ہیں۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(7:71) وقع۔ واجب ہوگیا۔ لازم ہوگیا۔ (باب فتح) وقوع۔ مصدر وقع الشیٔ من یدی۔ چیز کا ہاتھ سے گرنا۔ وقع القول علیہم۔ قول کا ان پر واجب ہونا۔ وقع الحق۔ حق کا ثابت ہونا۔ وقع الامر۔ کسی امر کا واقع ہونا۔ وقوع پذیر ہونا۔ رجس۔ عقوبت۔ عذاب۔ ارجاس۔ جمع ۔ ناپاک ۔ پلید ۔ گندہ۔ اتجادلوننی۔ الف استفہامیہ۔ تجادلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) سے۔ کیا تم مجھ سے جھگڑا کرتے ہو۔ ما نزل اللہ۔ میں ما نافیہ ہے۔ (نہیں اتاری اللہ نے ان ناموں کے لئے کوئی سند)
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

(7:72) دابر۔ جڑ۔ بیج۔ بنیاد۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ دبور سے جس کا معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے یعنی یہی خدا کی اونٹی تمہارے لئے معجزہ ہے۔ تو اسے آزاد چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ عذاب الیم تم کو پکڑلے گا۔

(7:73) الی ثمود۔ الی قوم ثمود۔ ثمود بن عاد بن ارم سام بن نوح علیہ السلام۔ لکم ایۃ۔ ای ایۃ لکم ناقۃ کا حال ہے۔ فذروھا۔ ف۔ پس۔ ذروا۔ امر صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وذر سے ۔ ملاحظہ ہو 7:70 لا تمسوھا۔ اس کو مت چھوؤ۔ ای لاتضربوھا۔ لاتعقروھا۔ اولا تطردوھا۔ اس کو مت گزند پہنچاؤ۔ فیاخذکم عذاب الیم۔ جواب نہی۔ اور اسی لئے مضارع منصوب ہے۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنایا۔ اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے مٹی لے کر محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

(7:74) بوأکم۔ تم کو جگہ دی۔ تبویۃ (تفعیل) سے جس کے معنی ٹھکانا دینے اور من اس جگہ فروکش کرنے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی (سازکار، موافق) ہونے کے ہیں۔ مکان بواء اس جگہ کو کہتے ہیں جو اس جگہ پر اترنے والے کے سازگار اور موافق ہو۔ بوات لہ مکانا۔ میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا۔ آیۃ ہذا میں معنی یہ ہوگا۔ تم کو ٹھکانہ کے لئے عمدہ اور مناسب جگہ دی۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولقد بوأنا بنی اسرائیل سبوأ صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ دی۔ یا تبوی المؤمنین مقاعلہ للقتال (3:121) ایمان والوں کو لڑائی کے لئے مورچوں پر (مناسب جگہ) متعین کرنے لگے تتخذون من سھولہا۔ ای تتخذون قصودا من سھولہا۔ اس کے میدانی علاقوں میں عالیشان محل بناتے ہو۔ سہول سہل کی جمع ہے جس کے معنی نرم زمین کے ہیں جملہ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم نرم زمین سے (مٹی لے کر) محل تعمیر کرتے ہو۔ لیکن رجل سہلی کے معنی ہیں میدانی علاقہ کے رہنے والا آدمی۔ تنحتون۔ نحت (باب ضرب) سے۔ تم تراشتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ لا تعثوا۔ تم فساد نہ کرو۔ العیث والعثی (سخت سفاد پیدا کرنا) دونوں تقریباً ہم معنی ہیں لیکن عیث کا لفظ زیادہ تر فساد حسی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور العثی حکمی یعنی ذہنی یا فکری فساد کے لئے آتا ہے۔ آیۃ ہذا میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ آیۃ (2:60) میں بھی یہ جملہ انہی معنوں کے لئے آیا ہے۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور تھے غریب لوگوں جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یہ یقین کرتے ہو صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز وہ دے کر بھجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو سرداران مغرور کہنے لگے جس چیز پر ایمان لائے ہو اہم اس کو نہیں مانتے۔

(7:75) استضعفوا۔ وہ ضعیف سمجھے گئے۔ وہ کمزور خیال کئے گئے۔ استضعاف (استفعال) سے ماضی مجہول ۔ جمع مذکر غائب۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

(7:77) فعقروا۔ پس انہوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عتوا۔ انہوں نے سرکشی کی۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ سرتابی کی حد سے گزر گئے۔ وہ شرارت میں انتہا کو پہنچ گئے۔ عتو سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عتا یعتوا عتو وعتی۔ حکم عدولی کرنا ۔ (باب نصر) ملاحظہ ہو 5:44 اور 25:21 ۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

(7:78) الرجفۃ۔ الرجف۔ اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ رجفت الارض۔ زمین متزلزل ہوئی۔ یا جیسا کہ قرآن میں ہے۔ یوم ترجف الارض والجبال۔ جب زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے۔ الرجفۃ۔ بمعنی زلزلہ۔ بھونچال۔ کپکپاہٹ۔ لرزش۔ جثمین۔ جثم (باب ضرب۔ نصر) جثم جثوم۔ پرندہ کا زمین پر سینہ کے بل بیٹھنا۔ اور اس کے ساتھ چمٹ جانا۔ اسی سے استعارہ کے طور پر آیہ ہذا میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہیں : صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے ۔ یعنی منہ کے بل گرے پڑے تھے۔
Ayahs 7:79–80

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

(7:80) ولوطا۔ ای وارسلنا لوطا۔ اتاتون الفاحشۃ۔ کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو۔ ملاحظہ ہو 7:28 ۔