Ayah 37:159(37:159) سبحن اللہ عما یصفون ۔ اللہ کی ذات ان لغویات سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں (کہ قرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں)
یہ جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 37:160(37:160) الا عباد اللہ المخلصین ۔ المحضرون سے استثناء منقطع ہے۔ ای ولکن المخلصون ناجون لیکن اللہ کے برگزیدہ بندے (عذاب) سے بچے رہیں گے۔
المخلصین : اخلاص سے اسم مفعول جمع مذکر ہے۔ خالص کئے ہوئے۔ مخصوص لوگ چنے ہوئے بندے۔ برگزیدہ بندے۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ۔ المخلصین ان کی صفت ہے۔ عباد اللہ میں مضاف منصوب ہے۔ کیونکہ مستثنیٰ منقطع ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے سجد الملئکۃ الا ابلیس۔
Ayah 37:161(37:161) فانکم میںجزائیہ ہے۔ جواب شرط میں آیا ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای اذا علمتم ھذا فانکم ۔۔ الخ جب تم یہ جانتے ہو کہ خدا کی ملائکہ سے رشتہ داری محض افتراء ہے اور ایسا کہنے والے لوگ عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔ اور اللہ کے مخلص بندے محفوظ رکھے جائیں گے۔ تو (جان لو) کہ تم اور ۔۔ الخ۔
وما تعبدون۔ واؤ عطفیہ ہے اور ما تعبدون معطوف ہے ضمیر انکم پر یعنی : پس تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو۔
Ayahs 37:162–163(37:162) ما انتم علیہ بفاتنین : ما نافیہ ہے انتم سے مراد کفار اور ان کے معبود ان باطل ہیں۔ علیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے بفاتنین باء زائدہ ہے فاتنین اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر۔ فتنۃ مصدر واسم فعل فتون مصدر۔ بہکانے والے۔ گمراہ کرنے والے۔ یہ جملہ ان (آیت 161 ) کی خبر ہے۔
فانکم ۔۔ بفاتنین۔ پس تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو تم سارے (کسی کو) اللہ کے معاملہ میں نہیں بہکا سکتے۔
فائدہ : انتم میں پھر صیغہ خطاب استعمال ہوا ہے یہ برسبیل یغلیب ہے جیسے کہتے ہیں انت وزید تخرجان تو اور زید دونوں نکلو گے !
Ayah 37:164(37:164) وما منا الا لہ مقام معلوم۔ سابقہ مضمون سے آیات 164-165، 166 کا ربط یہ ہے کہ اوپر ذکر ہو رہا ہے تھا۔ کفار مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ حالانکہ وہ فرشتے ازخود کہتے ہیں وما منا الخ
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں :۔ فھو من کلامہ تعالیٰ لکنہ حکی بلفظہم واصلہ وما منھم الالہ ۔۔ الخ اصل میں کلام اللہ تعالیٰ کا ہی ہے لیکن ان کی (فرشتوں کی) زیادتی بیان کیا گیا ہے اصل میں یہ اس طرح تھا ۔ وما منھم الا ۔۔ اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر ۔۔ الخ۔
ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک متعین مقام ہے (164 اور ہم (سب) صت بستہ کھڑے رہتے ہیں (165) تو جب ان کا یہ حال ہے تو وہ خدا کے بیٹے یا بیٹیاں کیسے ہوئے ؟ اور ہم سب (اللہ کی) تسبیح و تحمید میں لگے رہتے ہیں (166) ۔
مراد یہ ہے کہ فرشتے تو عبد محض اور محکوم خالص ہیں اپنی رائے سے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ تو پھر وہ اللہ کی اولاد کیسی اور ان میں الوہیت اور معبودیت کی شان کیسی ؟
Ayah 37:165(37:165) الضافون : صفت سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے اس کا واحد صاف ہے۔ صف مصدر جس کے معنی قطار باندھنے کے ہیں۔ بطور اسم بمعنی قطار بھی مستعمل ہے۔
Ayah 37:166(37:166) المسبحون : تسبیح (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر۔ تسبیح پڑھنے والے۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہ کہنے والے۔ اللہ کی پاکی بیان کرنے واے اللہ کا ذکر کرنے والے۔
Ayah 37:167(37:167) ان کانوا لیقولون : ان ان سے مخفف ہے اور لام فارقہ ہے (تشریح کے لئے ملاحظہ ہو 37:56 ۔ لتردین) تحقیق وہ کہا کرتے تھے (ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے یعنی یہ کفار مکہ بعثت نبوی سے قبل کہا کرتے تھے) ۔
Ayah 37:168(37:168) ذکرا۔ پندو نصائح کی کتاب، نصحیت، بیان ، یہاں مراد کتاب منزل مین اللہ ہے۔ ای کتابا من جنس الکتب التی نزلت علیہم ومثلہا فی کونہ من عند اللہ تعالیٰ ۔ یعنی پہلے لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئیں تھیں اگر ایسی ہی کوئی کتاب ہمارے پاس بھی آئی ہوتی۔
قرآن مجید کو بھی کئی جگہ ذکر ہی کہا گیا ہے مثلا انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظوں ۔ (15:9) اس نصیحت نامہ (قرآن) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اور اگلی آیت اس کی جزا ہے۔
Ayah 37:169(37:169) لکنا عباد اللہ المخلصین : لا جواب شرط کے لئے ہے عباد اللّٰہ مضاف مضاف الیہ مل کر کنا کی خبر۔ بوجہ خبر عباد منصوب ہے۔
المخلصین اسم مفعول جمع مذکر عباد اللہ کی صفت ہے۔ تو ہم اللہ کی خاص بندے ہوتے۔
Ayah 37:170(37:170) فکفروا بہ :فصیحت کا ہے جیسے آیت ان اضرب بعصاک البحر فانفلق (26:63) میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔
ای فجاء ہم ذکر ای ذکر سید الاذکار وکتاب مھین علی سائر الکتب والاخبار فکفروابہ۔ پس جب ان کے پاس وہ ذکر جو سید الاذکا ہے اور وہ کتاب جو جملہ کتب و اخبار کی نگران و مشاہد ہے ان کے پاس آئی تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ (جملہ جواب شرط ہے)
فاسوف یعلمون ای فسوف یعلمون عاقبۃ کفر ھو پس عنقریب ہی ان کے اپنے کفر کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 37:171(37:171) سبقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ سبق (باب ضرب) سے پہلے سے ہوچکی۔ پہلے سے ہی ٹھہر چکی۔
کلمتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری بات، ہمارا وعدہ۔ یہاں مراد وعدہ نصرت ہے ۔ ولقد سبقت کلمتنا اور تحقیق ہمارا وعدہ (نصرت اپنے مرسلین بندوں کے ساتھ) پہلے ہی ہوچکا ہے۔
اگلی دونوں آیات میں اس کلمہ کی (وعدہ کی) تعریف ہے یا کلمتنا کا بدل ہے۔
عبادنا المرسلین۔ عبادنا مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف ہمارے بندے المرسلین ارسال (افعال) سے اسم مفعول جمع مذکر۔ صفت۔ ہمارے ارسال کردہ بندے۔ ہمارے مرسلین بندے۔
Ayah 37:172(37:172) انھم لہم المنصورون ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ بیشک ان کی ضرور مدد کی جائے گی۔ یا بیشک وہی غالب کئے جائیں گے۔
Ayah 37:173(37:173) ان جند نالہم الغلبون ۔ ان تحقیق کے لئے ہے جندنا کے بعد ہم اور تخصیص کے مفہوم پر دال ہے، یعنی بیشک صرف ہماری ہی فوج غالب آیا کرتے ہے۔
Ayah 37:174(37:174) تول۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر سے عن کے صلہ کے ساتھ۔ اس کا مطلب ہے تو منہ پھیر لے۔ تو اعراض کر۔ تو پھر آ۔ جب اس کا تعدیہ بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی دوستی رکھنے، کسی کام کو اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے :۔
(1) ومن یتونھم منکم فانہ منھم۔ (5:15) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔
(2) والذی تولی کبرہ منہم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔
(3) فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں فساد کرنے لگو
حتی حین۔ ایک مدت تک۔ ایک وقت تک۔ تھوڑے زمانہ تک ای الی مدۃ یسیرۃ۔
Ayah 37:175(37:175) ابصرہم فسوف یبصرون۔ تو ان کو دیکھتا رہ۔ سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے۔ یعنی آپ ذرا اتنظار فرما دیں اور دیکھیں جس دن ان کو عذاب آلے گا اور یہ بھی اس وقت دیکھ لیں گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ حین سے مراد یوم بدر۔ یوم فتح مکہ۔ وقت الموت یوم القیامت۔ ہوسکتا ہے۔
Ayah 37:176(37:176) افبعذابنا استفہام توبیخی ہے۔
یستعجلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استعجال (استفعال) مصدر سے۔ وہ جلدی چاہتے ہیں۔ وہ جلدی مانگتے ہیں۔ چاہ رہے ہیں جلدی آجائے۔
Ayah 37:177(37:177) ساحتہم مضاف مضاف الیہ ساحۃ سوح مادہ سے ہے۔ صحن۔ کھلی جگہ۔ چوک۔ اس کی جمع ساح وسوح وساحات ہے۔ ان کا صحن۔ فاذا نازل بساحتھم۔ جب وہ (عذاب) ان کے گھر کے صحن میں آنازل ہوگا۔ یعنی ان کے روبرو آنازل ہوگا۔
فساءترتیب کا ہے۔ ساء یسوء سواء ۔۔ الشیئ۔ کسی چیز کا قبیح ہونا۔ برا ہونا۔
صباح۔ صبح۔ دن کا ابتدائی حصہ۔ مضاف المنذرین۔ اسم مفعول جمع مذکر جن کو ڈرایا گیا ہو۔ مضاف الیہ۔
فساء صباح المنذرین ۔ سو جن کا ڈرایا جا چکا ہے ان کی وہ صبح بہت بری ہوگی۔
Ayah 37:178(37:178) ملاحظہ ہو 37:174 ۔
Ayah 37:179(38:179) ملاحظہ ہو 37:175 ۔
صاحب تفسیر ماجدی رقمطراز ہیں :۔ مفسرین نے کہا ہے کہ :۔ ابھی ابھی مضمون جو اوپر گزرا ہے وہاں اس کا تعلق غلبہ اہل حق سے تھا۔ اور یہاں اس کا تعلق عذاب اہل باطل سے ہے۔ اس لئے مضمون کی تکرار صرف صورۃ ہے معنی نہیں۔
Ayah 37:180(37:180) سبحان۔ پاک ہے۔ یہ مصدر ہے بمعنی تسبیح (یعنی پاکی بیاں کرنے کے) آتا ہے اس کا نصب لازم ہے نیز اس کی مفرد کی طرف اضافت ضروری ہے مفرد خواہ اس میں ظاہر ہو جیسے سبحان اللّٰہ یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنک لاعلم لنا (2:32) اس سے فعل کا کوئی صیغہ نہیں آتا۔
ربک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا رب۔ بمعنی پروردگار۔ مالک، صاحب، یہاں بمعنی پروردگار ہے۔ ربک موصوف اس کی صفت آگے آتی ہے۔ رب العزۃ۔
رب العزۃ۔ مضاف مضاف الیہ صفت (ربک موصوف) یہاں رب بمعنی مالک، صاحب۔ آیا ہے۔ العزۃ بمعنی غلبہ۔ عزت، قوت۔ رب کی اضافت عزت کی طرف بتارہی ہے کہ عزت اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔
عما ۔ عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے اور یصفون اس کا صلہ ہے ۔
یصفون جمع مذکر غائب مضارع۔ وصف مصدر (باب ضرب) وہ بیان کرتے ہیں۔ عما یصفون۔ (اللہ پاک ہے مشرکوں کی ان ناروا باتوں سے) جو وہ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 37:181(37:181) وسلام علی المرسلین۔ اور سلامتی ہو سب رسولوں پر۔ (جو کفار کی انتہائی مخالفت اور حالات کی نامساعدت کے باوجود تبلیغ رسالت کے فرائض کما حقہ بجا لائے) ۔ اور پھر جن پر حق تعالیٰ خود سلام بھیجیں ۔ ان کا ہر ایک کے لئے واجب اتباع ہونا ظاہر ہے۔
Ayah 37:182(37:182) والحمدللّٰہ رب العلمین میں ال استغراق کا ہے ۔ یعنی ہر قسم کی تعریف، ستائش صرف اللہ تعالیٰ ہی کو سزا وار ہے۔
فائدہ : حدیث شریف میں ہے :۔ من قال دبر کل صلوۃ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللّٰہ رب العلمین، ثلاث مرات فقد اکتال بمکیال الاوفی من الاجر۔
یعنی جس شخص نے ہر نماز کے بعد یہ تین آیتیں تین بار پڑھیں گویا اس نے اجر کا بہت بڑا پیمانہ بھر لیا۔