Ayahs 37:80–81(37:80) انا کذلک تجزی المحسنین۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ ذلک کا اشارہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر خدا کے انعامات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔
Ayah 37:82(37:82) ثم اغرقنا الاخرین ۔ اس جملہ کا عطف نجینہ (آیۃ 76) پر ہے ثم تراخی الذکر کے لئے ہے الاخرین اخر کی جمع۔ بمعنی دوسرے ۔ یعنی حضرت نوح اور ان کے پیروئون کو ہم نے نجات دی (ڈوبنے سے بچا لیا) پھر اور ون کو ہم نے ڈبو دیا۔
Ayah 37:83(37:83) شیعتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا گروہ ۔ اس کا فرقہ۔ شیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینے کے ہیں۔ مثلاً شاع الخبر۔ خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی اور شاع القوم قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی۔ الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ یہاں آیت ہذا کا مطلب ہے :۔
کہ انہی (یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) ) کے پیروکاروں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے شیعہ کا اطلاق واحد، تثنیہ ، جمع، مذکر، مؤنث سب پر ہوتا ہے۔ اس کی جمع شیع اور اشیاع ہے۔
لابراہیم۔ لام تحقیق کے لئے ہے بمعنی بےشک۔ بلا شبہ۔
Ayah 37:84(37:84) اذ جاء ربہ۔ اذ متعلق بہ فعل محذوف ای اذکر اذ جاء ربہ اذ جاء ربہ بمعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا۔
قلب سلیم۔ موصوف وصفت، ایسا دل جو مفسد عقائد، قبیح صفات اور دنیاوی آلائش سے پاک وصاف تھا۔ یاد کرو جب وہ اپنے پروردگار کی طرف قلب سلیم کے ساتھ متوجہ ہوا۔
Ayah 37:85(37:85) اذ۔ پہلے اذ کا بدل ہے یا جاء کا ظرف زمان۔ ماذا۔ اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں :۔
(الف) یہ لفظ مرکب ہے اور
(1) ما استفہامیہ اور ذا موصولہ ہے جیسے ویسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (قرات ابو عمرو (2:219) ۔
(2) ما استفہامیہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔ (3) ما زائدہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔
(4) ما استفہامیہ اور ذا فصل کے لئے ہے تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں امتیار ہوجائے۔ (5) ما استفہامیہ ہے اور ذا زائدہ ہے :
(ب) یہ لفظ بسیط ہے اور پورا :۔
(1) اسم جنس ہے۔ (2) اسم موصول۔ (3) پورا حرف استفہام ہے۔ جیسے ویسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (2:219) ۔
ماذا۔ کیا چیز ہے ۔ کیا ہے۔ یہاں استفہام توبیخ کے لئے ہے ! یعنی تمہیں شرم نہیں آتی تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟
Ayah 37:86(37:86) ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون ۔ اتریدون الھۃ دون اللہ افکا۔ ا ہمزہ استفہام ہے تریدون فعل مضارع جمع مذکر حاضر۔ انتم ضمیر مستتر فاعل الھۃ مفعول بہ دون اللہ صفت الھۃ کی افکا مفعول لہ (یہاں بھی استفہام توبیخی ہے) مفعول بہ کی تقدیم فعل پر مفعول کی اہمیت کو ظاہر کر رہی ہے اور مفعول لہ کو سب سے پہلے ذکر کرنا اس امر کو ظاہر کر رہا ہے کہ ان کی ساری پوجا پاٹ غلطی اور جھوٹ پر مبنی تھی ۔ (اس کے اندر کوئی حقیقت یا سچائی نہیں تھی) ۔ تفسیر مظہری۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا تم اللہ کے سوا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو چاہتے ہو ؟
Ayah 37:87(37:87) فما ظنکم برب العلمین۔ ما استفہام کے لئے ہے۔ ظنکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا گمان ۔ تمہارا خیال۔
امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔
الظن۔ کسی چیز کے علامات سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے ظن کہتے ہیں ۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو اس سے علم کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے مگر جب کمزور ہو تو یہ نتیجہ وہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ نتیجہ قوی ہوجائے اور علم کا درجہ حاصل کرلے یا اسے علم کے درجہ میں فرض کرلیا جائے تو اس کے بعد ان یا ان کا استعمال ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ ظن کمزور ہو اور وہم کے درجہ سے آگے نہ بڑھے تو پھر اس کے ساتھ (صرف) ان استعمال ہوتا ہے جو کسی قول یا فعل کے ساتھ مختص ہے ۔ چناچہ آیت یظنون انہم ملقوا اللہ (2: 249) جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہوتا ہے ۔ میں ظن کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے !
اور آیت کریمہ وذا النون اذ ذھب مغاضبا فظن ان لن نقدر علیہ (21:87) اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دئیے اور خیال کیا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں ظن بمعنی وہم لینا بہتر ہے یعنی ان کے دل میں یہ وہم گزرا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے ہم اس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔۔
فما ظنکم برب العلمین۔ آخر اللہ رب العالمین کے بارے میں تمہارے کیا گمان ہے ؟ لغات القرآن (شائع کردہ ندوۃ المصنفین) میں ہے حسب تصریح امام راغب (رح) یہاں بھی ظن اس اعتقاد ہی کے معنی میں ہے جو یقین کا حکم رکھتا ہے :
Ayah 37:88(37:88) فنظر نظرۃ فی النجوم۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے پھر اس نے ستارون کو ایک نظر بھر کر دیکھا۔
یہاں ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات سورة الانبیاء (آیات 51:73) اور سورة عنکبوت (آیات 16 ۔ 27) میں گذر چکی ہیں۔ قوم (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک سالانہ تہوار اور میلہ ہوا کرتا تھا۔ اور قوم کا قاعدہ تھا کہ تہوار کے موقعہ پر بتون کے پاس جا کر ان کے سامنے فرش بچھاتے اور میلے میں جانے سے پہلے ان کے سامنے لذیذ کھانے مختلف قسم کے رکھتے تھے اور اس کو متبرک فعل سمجھتے تھے۔
پھر جب میلہ سے واپس لوٹتے تھے تو بتوں کے سامنے رکھے ہوئے کھانے اور مٹھائیان بطور تبرک خود بھی کھاتے تھے اور یار دوستوں میں بھی تقسیم کرتے تھے۔
یہاں بھی پھر ایک ایسے ہی تہوار کا ذکر ہے قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو میلے پر چلنے کے لئے کہا لیکن ان کے دل میں بتوں سے نپٹنے کا ایک منصوبہ تھا لہٰذا انہوں نے معذرت کردی۔ فنظر نظرۃ فی النجوم۔ کے یہ معانی ہوسکتے ہیں :۔
(1) قوم ابراہیم سورج چاند اور ستارون کی پرستش میں مبتلا تھی ان کے عقیدہ کے مطابق جملہ حوادث ارضی ستاروں کی گردش کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوتے تھے۔ لہٰذا جب حضرت ابراہیم نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا انی سقیم تو انہوں نے خیال کیا کہ حضرت ابراہیم نے بھی ستاروں کے مطالعہ سے یہ نتیجہ لیا ہے لہٰذا انہوں نے یقین کرلیا۔
(2) یہ جملہ بطور محاورہ استعمال ہوا ہے یقال للرجل اذا فکر فی الشیء یدبرہ نظر فی النجوم یعنی جب کوئی آدمی کسی معاملہ پر غور کرتا ہے تو کہتے ہیں نظر فی النجوم اس صورت میں اس کا مطلب ہوگا کہ جب قوم نے میلہ پر جانے کے لئے آپ سے کہا تو آپ نے تدبر کیا اور کہا کہ انی سقیم۔
یہ مؤخر الذکر معنی ہی قابل ترجیح ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :۔
حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی امر میں غور و فکر کرے تو عرب کہتے ہیں کہ :۔ اس نے ستاروں پر نظریں ڈالیں۔ مطلب یہ ہے کہ غور و فکر کے ساتھ تاروں کی طرف نظر اٹھائی اور سوچنے لگے کہ میں انہیں کس طرح ٹالوں۔ سوچ سمجھ کر فرمایا کہ میں بیمار ہوں۔
ویسے بھی یہ بات اکثر مشاہدہ میں آتی ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے کوئی غور طلب بات آتی ہے تو وہ آسمان کی طرف یا اوپر کی طرف کچھ دیر دیکھتا رہتا ہے پھر سوچ کر جواب دیتا ہے !
Ayah 37:89(37:89) انی سقیم۔ میں سقیم سقم سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ دکھی، بیمار۔ مضمحل، ناساز، محاورۃ بیزار کے معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔
السقم والسقم خاص کر جسمانی بیماری کو کہتے ہیں۔ بخلاف مرض کے کہ وہ جسمانی وقلبی دونوں قسم کی بیماریوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فی قلوبہم مرض (2:10) ان کے دلوں میں بیماری ہے۔
فقال انی سقیم میں لفظ سقیم یا تو تعریض کے طور پر (کنایۃ) استعمال ہوا ہے یا زمانہ ماضی یا مستقبل کی طرف اشارہ کے لئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ہلکی سی بدنی تکلیف کی طرف اشارہ ہو جو اس وقت ان کو عارض تھی کیونکہ انسان بہرحال کسی نہ کسی عارجہ میں مبتلا ہی رہتا ہے اگرچہ وہ اسے محسوس نہ کرے۔
انی سقیم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں بیزار ہوں جیسا کہ انگریزی کہتے ہیں میں اس سے بیزار ہوں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہو کہ میں تمہارے غلط عقائد سے بیزار ہوں لیکن مخاطبین نے اس سے علیل کا مطلب لے لیا ہو۔ الفاظ کا اس طرح ذومعنی استعمال عام ہے۔
Ayahs 37:90–91(37:90) فتولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے منہ موڑا۔ انہوں نے پشت پھیری تولی مصدر۔ المراد انہم ترکوہ وذھبوا انہوں نے اس کو چھوڑا۔ اور چلے گئے۔
مدبرین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب وجر۔ پیٹھ موڑنے والے ادبار (افعال) مصدر۔ ضمیر فاعل تولوا سے حال ہے۔ پیتھ موڑنے والے مطلب : پیٹھ دکھا کر چلتے بنے :
راغ الی۔ راغ یروغ (نصر) روغ وروغان الی کے صلہ کے ساتھ۔ چپکے سے کسی طرف مائل ہونا۔ چپکے سے کسی کی طرف جانا اور علی کے صلہ کے ساتھ جملہ کرنا ٹوٹ پڑنا۔ راغ علیہ بالضرب مارنے کے لئے کسی پر ٹوٹ پڑنا۔
Ayah 37:92(37:92) تنطقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ نطق ینطق (ضرب) نطق ونطوق مصدر بولنا۔ لا تنطقون۔ تم بولتے نہیں ہو۔
Ayah 37:93(37:93) راغ علیہم۔ وہ ان پر پل پڑا ۔ وہ ان پر ٹوٹ پڑا۔
ضربا۔ یا تو معنی کے اعتبار سے راغ علیہم کا مصدر ہے۔ یا فعل مضمر کا مصدر ہے ای فراغ علیہم یضربہم ضربا۔ وہ ان پر پل پڑا اور مارنے لگا۔ یا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے۔ ای ضاربا۔ اور اس صورت میں یہ ضمیر فاعل راغ سے حال ہے یا یہ مفعول لہ ہے ای لاجل ضرب۔ مارنے کے لئے۔
بالیمین۔ دائیں ہاتھ کے ساتھ ۔ پوری قوت کے ساتھ۔ فراغ علیہم ضربا بالیمین پھر وہ ان پر ٹوٹ پڑا اور اپنی پوری قوت کے ساتھ مارنے لگا۔
بعض کے نزدیک یمین سے مراد یہاں قسم ہے یعنی اپنی قسم کی وجہ سے بتوں پر ضرب لگائی۔ اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قسم کی طرف اشارہ ہے وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین (21:57) اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جائو گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا۔ (اغلب ہے کہ یہ بات انہوں نے زیر لب کہی ہو) ۔
Ayah 37:94(37:94) اقبلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اقبال (افعال) مصدر۔ انہوں نے رخ کیا۔ وہ متوجہ ہوئے۔
یزقون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ دوڑتے ہوئے۔ زف یزف (باب ضرب) زف وزفیف وزفون مصدر۔ یزفون حال ہے اقبلوا کی ضمیر مرفوع متصل ذوالحال ہے یہ زف النعام سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے : شتر مرغ تیزی سے چلا۔
فائدہ : معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس فعل کی خبر اس کے ہم قوموں کو ہوگئی اور وہ تیزی سے گھبرائے ہوئے اور غصہ سے بھرے ہوئے واپس اس کی طرف آتے ہیں اور ان سے دریافت کرتے ہیں۔ ان کے درمیان اس بارہ میں گفتگو کی تفصیل الانبیاء میں ملاحظہ ہو۔
یا جب واپسی پر انہوں نے بتوں کی حالت غیر دیکھی اور دریافت پر معلوم ہوا کہ یہ کام حضرت ابراہیم نے کیا ہے تو کہا کہ :۔ فاتوا بہ علی اعین الناس (21:61) ان کو لوگوں کے سامنے لائو۔
Ayah 37:95(37:95) ما تنحتون۔ ما موصولہ ہے تنحتون صیغہ جمع مذکر حاضر نحت (ضرب) سے مصدر۔ تم تراشتے ہو۔
Ayahs 37:96–97(37:96) واللہ خلقکم وما تعملون۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور جملہ سابقہ اتعبدون۔ ما تنحتون جو جملہ انکاریہ ہے اس کی مزید تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 37:98(37:98) کیدا خفیہ تدبیر۔ چالاکی۔ دائو۔ کاد یکید (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ برا ارادہ کرنا۔ خفیہ تدبیر کرنا۔
الکید (خفیہ تدبیر) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں جسے دوسروں سے مخفی رکھا جائے۔ یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ اچھے معنوں میں فرمایا :۔ کذلک کدنا لیوسف (12:76) اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کردی۔ اور برے معنوں میں فان کان لکم کید فکیدون (77:39) اگر تم کو کوئی دائو آتا ہے تو مجھ پر کر چلو۔ یا آیت ہذا (37:98) فارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاسفلین۔ غرض ان لوگون نے ان کے ساتھ برائی کرنا چاہی سو ہم نے ان کو نیچا دکھا دیا۔
اسفلین۔ اسفل کی جمع ہے اسم تفضیل کا صیغہ ہے سب سے نیچے۔ سفل (باب سمع) اور سفل (باب کرم) سفول وسفال مصدر بمعنی پست ہونا۔ حقیر ہونا۔
Ayah 37:99(37:99) قال۔ ای قال ابراہیم۔ سیھدین۔ اس میں س تاکید وقوع کے لئے ہے۔ اور فعل کو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرتا ہے والسین لتاکید الوقوع فی المستقبل (روح المعانی) ۔
یھدین مضارع واحد مذکر غائب نون وقایہ ی متکلم کی محذوف ۔ وہ میری ضرور رہنمائی کرے گا۔
Ayah 37:100(37:100) رب ھب لی من الصالحین۔ ای رب ھب لی ولدا صالحا اے میرے رب مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔ ای یا ربی اے میرے رب۔ ھب۔ وھب یھب (فتح) ھبۃ مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حضر ہے۔
Ayah 37:101(37:101) غلم۔ لڑکا۔ بیٹا۔ نرینہ اولاد۔
حلیم۔ بردبار۔ تحمل والا۔ باوقار حلم سے جس کے معنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے یعنی بردباری اور تحمل کرنے کے ہیں۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayah 37:102(37:102) بلغ معہ السعی۔ اس کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچ گیا۔ ای یسعی معہ فی اعمالہ اس کے ساتھ کام کاج میں دوڑ دھوپ کرنے لگا۔ او یسعی معہ ویعینہ اس کے ساتھ دوڑنے پھیرنے اور اس کی مدد کرنے کے قابل ہوگیا اس جملہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے پوری کلام یوں ہے :۔ بشارت کے بعد (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام ) کے ہاں لڑکا پیدا ہوا پھر جب وہ بڑا ہو کر اس کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔
قال : ای قال ابراہیم۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا۔
یبنی۔ یا حرف ندا ہے بنی۔ ابن سے اسم تصغیر ہو کر مضاف ہے ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ اضافت کے باعث واحد متکلم کی ی، ی میں مدغم ہوگئی۔ بنی (میرے پیارے بیٹے) مضاف مضاف الیہ مل کر یا حرف ندا سے منادی ہوا۔ اے میرے پیارے بیٹے۔
ابن کی اصل بنو ہے ( یا بنی) اس کی جمع ابناء ہے ( بنون بھی ابن کی جمع ہے جیسے یوم لا ینفع مال ولا بنون (26:77) جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد) بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے کیونکہ باپ کو اللہ تعالیٰ نے بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تخلیق میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب، اس کی تربیت اس کی دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے۔ جیسے (فلان ابن حرب فلاں جنگجو ہے یا مسافر کو ابن السبیل اور چور کو ابن الیل کہتے ہیں۔ (راغب) ۔ فانظر۔ انظر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے نظر سے ۔ تو دیکھ۔ تو غور کر۔ تو سوچ لے۔
ماذا۔ ملاحظہ ہو (37:75) ۔ کیا۔ ماذا تری۔ تیری کیا رائے ہے تری رای مصدر سے مشتق ہے رؤیۃ مصدر سے نہیں۔ ما ذا تری۔ تمہارا کیا خیال ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا (8:50) اور کاش تم اس وقت کی کیفیت خیال میں لائو جب ۔۔ کافروں کی جانین نکالتے ہیں۔
قال یابت ای قال اسمعیل : یا حرف ندا ابت مضاف مضاف الیہ مل کر منادی اب باپ۔ اصل میں ابو تھا۔ بروزن فعل۔ ندا کی حالت میں تاء زیادہ کر کے یا ابت (اے میرے باپ) کہا جاتا ہے۔
ستجدنی۔ س تاکید کے لئے اور فعل کے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ تجد۔ مضارع واحد مذکر حاضر ۔ وجود (باب ضرب ) سے مصدر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تو ضرور مجھے پائے گا۔
Ayah 37:103(37:103) اسلما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب ۔ دونوں نے حکم مانا۔ دونون نے سر تسلیم خم کردیا۔ دونوں (امر خدا وندی کے آگے ) جھک گئے
قتادہ (رح) نے کہا ہے اسلم کا معنی ہے سپرد کردینا۔ یعنی (حضرت) ابراہیم ( (علیہ السلام) ) نے اپنے بیٹے کو اور (حضرت) اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنی جان کو اللہ کے سپرد کردیا۔
تلہ۔ تل ماضی واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع (حضرت) اسماعیل ہے۔ اس کا معنی ہے زمین پر پچھاڑنا۔ (اور) حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو زمین پر لٹا دیا۔ للجبین۔ پیشانی کے بل۔
Ayah 37:104(37:104) ونادینہ۔ جملہ نادینہ بزیادۃ الواو لما کا جواب ہے۔
Ayah 37:105(37:105) قد صدقت۔ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ صدقت ماضی واحد مذکر حاضر۔ تصدیق (تفعیل) مصدر سے، بیشک تو نے سچ کر دکھایا۔
الرؤیا۔ واحد ۔ خواب۔ رؤی جمع۔ مادہ رء ی۔ یہ لفظ اکثر خواب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کبھی جاگتے میں آنکھ سے یکھنے کے لئے بھی آتا ہے (ای بمعنی رؤیۃ ) مثلا وما جعلنا الرؤیا التی ارینک الا فتنۃ للناس (17:60) اور ہم نے جو منظر تجھ کو دکھایا تھا اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کا سبب بنادیا۔ یا متنبی کا شعر ہے :۔
ورؤیاک احلی فی العیون من الغمض۔
نیم باز آنکھوں کی نسبت تو تیرا (نگاہ بھر کر) دیکھنا آنکھون کو زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے۔
کذلک نجزی المحسنین۔ ہم مخلصوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں ! قد صدقت الرؤیا پر ندائیہ کلام ختم ہوگیا۔
بیان القرآن میں ہے :۔ یعنی جو خواب میں حکم ہوا تھا (تم نے) اپنی طرف سے اس پر پورا عمل کیا۔ اب ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ بس ان (حضرت اسماعیل) کو چھوڑ دو ۔ وہ وقت بھی عجیب تھا۔ غرج ان کو چھوڑ دیا۔ جان کی جان بچ گئی اور مراتب علیا مزید برآں عطا ہوئے۔ مطلب یہ کہ خدا وندتعالیٰ نے حضرت اسماعیل کے ذبح ہوجانے سے قبل فعل ذبح کی تیاری و آمادگی ذبح کو خواب کی تکمیل کے لئے کافی قرار دیا۔ اور ان کو اس امتحان میں کامیابی پر پورے انعام کا مستحق قرار دیا۔ اس احسان و اکرام کی طرف اگلے جملے کذلک نجزی المحسنین میں اشارہ ہے۔
Ayah 37:106(37:106) البلؤا المبین۔ موصوف وصفت۔ کھلا امتحان۔ کھلی آزمائش۔
Ayah 37:107(37:107) فدینہ : فدینا ماضی جمع متکلم فدی یفدی (ضرب) فدی وفدی وفداء مصدر بمعنی مال وغیرہ دے کر قید وغیرہ سے چھڑانا۔ الفدی والفداء کے معنی ہیں کسی کی جانب سے کچھ دے کر اسے مصیبت سے بچا لینا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب (کا مرجع حضرت اسماعیل ہیں) ہم نے فدیہ دے کر اس کو بچا لیا۔ فدینہ بذبح عظیم ہم نے ایک بڑی قربانی کو اس کا فدیہ دے کر اسے بچا لیا۔
Ayahs 37:108–111(37:108 ۔ 109 ۔ 110) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ آیات (78، 79، 80) مذکورہ بالا ملاحظہ ہوں۔
آیت 110 میں کذلک سے پہلے انا (تاکید و تحقیق کے لئے) اس لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ تکرار سے کوئی فائدہ نہ تھا۔ آیت سابقہ نمبر 105 میں انا مذکور ہے۔ وہی کافی ہے (یعنی معنی یہاں بھی وہی مراد ہے جو سابق آیت میں مراد تھی) ۔
Ayah 37:112(37:112) بشرنہ۔ بشرنا ماضی جمع متکلم تبشیر (تفعیل) مصدر سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو بشارت دی۔ خوشخبری دی
باسحق۔ اسحاق غیر منصرف ہے بوجہ علمیت اور عجمہ۔ اسی لئے باء حرف جار آنے کے باوجود اس کے نیچے کسرہ نہیں آئی۔
نبیا۔ اسحاق سے حال ہے اور اسی طرح من الصلحین بھی اسحاق سے حال ہے۔ یعنی ہم نے اس (حضرت ابراہیم) کو بشارت دی اسحاق کی (اور حال یہ ہوگا) کہ وہ نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا۔
Ayah 37:113(37:113) برکنا علیہ۔ ہم نے اس پر برکتیں نازل فرمائیں یعنی دنیاوی برکتیں کہ ان کی نسل کی کثرت اور دینی برکتیں کہ ان کی اولاد سے بکثرت انبیاء پیدا کئے گئے۔
وعلی اسحاق یہاں علی کو مکرر تخصیص کے لئے لایا گیا ہے : اور خصوصیت کے ساتھ اسحاق (علیہ السلام) کو بھی برکتین عطا کیں۔ کہ آپ کی نسل سے ایک ہزار نبی پیدا ہوئے۔ سب سے پہلے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سب سے آخر میں (آپ کی نسل سے ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
ذریتھما۔ مضاف مضاف الیہ ان دونوں کی ذریت (اولاد) ضمیر تثنیہ مذکر غائب حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) کی طرف راجع ہے۔
محسن۔ اسم فاعل واحد مذکر احسان (افعال) مصدر سے۔ موحد فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والا۔ ہر قسم کی خوبی پیدا کرنے والا
ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان (16:90) خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے۔ کیونکہ دوسرے کا پورا پورا حق ادا کر دیانا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے۔ لہٰذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے۔ انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے۔ (جس کی طرف کسی کو متوجہ کیا جائے یا اکسایا جائے) ۔
اسی بناء پر فرمایا :۔ ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن (4:125) اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے خدا کے حکم کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے۔
احسان یہ بھی ہے کہ اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو اور اس میں کچھ نہ کچھ شرعی خوبی ہو اس کو بھی ادا کرنا۔
ظالم لنفسہ مبین۔ ظالم مبین موصوف وصفت صریح ظالم۔ لنفسہ اپنے نفس کے لئے۔ یعنی اپنے مذموم افعال و کردار سے اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں کی اولاد سے نیکوکار بھی ہوں گے اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والے بھی۔ اس آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ ہدایت و گمراہی پر نسب اثر انداز نہیں ہوتا اور اولاد ونسل کے ظالم ہونے سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہم السلام) کا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا۔
Ayah 37:114(37:114) مننا۔ ماضی جمع متکلم من مصدر (باب نصر) ہم نے بڑا احسان کیا۔ ہم نے بڑی نعمت دی۔
مادہ م ن ن سے من مصدر مندرجہ ذیل معنی میں مستعمل ہے۔
(1) من یمن (نصر) من مصدر۔ نیز ( منۃ وامتنان) احسان جتانا۔ جیسے من علیہ بما صنع۔ اپنے کئے کا احسان جتانا۔ یا قرآن میں ہے :۔ لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقون کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر ضائع نہ کرو۔
(2) من یمن (باب نصر) من وامن وتمنن سے بمعنی کم کرنا۔ منقطع کرنا۔ ختم کرنا۔ اس معنی میں قرآن مجید میں ہے فلہم اجر غیر ممنون (95:6) تو ان کے لئے اجر غیر منقطع ہے (یعنی جو نہ ختم کیا جائے گا اور نہ کم کیا جائے گا) ۔
(3) من یمن (باب نصر) مصدر بھلائی کرنا۔ انعام کرنا۔ احسان کرنا۔ مننا اسی مصدر سے باین معنی آیا ہے ۔ اسی معنی میں منجملہ دیگر متعدد جگہوں کے سورة یوسف میں ہے۔ قال انا یوسف وھذا اخی قد من اللہ علینا (12:90) فرمایا۔ (ہاں ) میں یوسف ہی ہوں اور یہ ہے میرا بھائی۔ بیشک ہم پر اللہ نے بڑا احسان کیا ہے۔
Ayah 37:115(37:115) من الکرب العظیم۔ موصوف وصفت بہت بڑی مصیبت ، بہت سخت تکلیف۔ عظیم غم۔ کرب عظیم سے وہ تکلیفیں اور ایذائیں مراد ہیں جو فرعون ان کو دیا کرتا تھا۔ بعض کے نزدیک غرق ہونے سے محفوظ رکھنا مراد ہے۔
Ayah 37:116(37:116) نصرنہم : ہم نے ان کی مدد کی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم ہے۔
Ayahs 37:117–118(37:117) اتینھما ہم نے ان کو دی ہما ضمیر تثنیہ مذکر غائب کا مرجع حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ہیں۔
الکتب المستبین۔ موصوف وصفت۔ واضح کتاب، توراۃ۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ استبانۃ (استفعال) مصدر سے۔ بین مادہ ہے۔ البین کے معنی دوچیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعلنا بینہما زرعا (18:32) اور ہم نے ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔ محاورہ ہے بان کذا۔ کسی چیز کا الگ ہوجانا۔ اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہے۔ اس کا ظاہر ہوجانا۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس آیت میں ظہور کے معنی میں آیا ہے۔ بان یبین (باب ضرب) بین یبین (باب تفعیل) تبین یتبین (باب تفعل) استبان یستبین (باب استفعال) سے بمعنی واضح ہونا۔ ظاہر ہونا ہے۔ مستبین۔ ظاہر کرنے والا۔ واضح کرنے والا۔ الکتب المستبین (احکام الٰہی کو ) واضح کردینے والی کتاب ۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وکذلک نفصل الایت ولتستبین سبیل المجرمین (6:55) اور اس طرح ہم کھول کو بیان کرتے رہتے ہیں نشانیون کو تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہو کر رہے۔