Ayah 37:41(37:41) رزق معلوم۔ موصوف وصفت۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) ایسا رزق جس کی مقدار معلوم ہو۔ لیکن اور جگہ ارشاد ہے :۔ یرزقون فیھا بغیر حساب (40:40) ان کو بیشمار رزق ملے گا۔ لہٰذا جو رزق بغیر حساب و شمار ہو اس کی مقدار مقرر نہیں کی جاسکتی۔ اور جس رزق کی مقدار متعین کی جاسکے وہ بغیر حساب کے کیسا ؟
(2) ایسا رزق کہ جس کی خصوصیات بلحاظ لذت و کیفیت معلوم ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وفاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ (56:32:33) اور میوہ ہائے کثیر جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے یا۔ وفاکھۃ مما یتخیرون ولحم طیر مما یشتھون۔ (56:20:21) اور میوے جن کو وہ پسند کریں اور پرندوں کا گوشت جو انہیں بھائے مطلب ایسا رزق جو کہ اس کا حال دوسری آیات سے معلوم ہوچکا ہے۔
(3) جس رزق کی عطا کا وقت معلوم ہو جیسا کہ ارشاد ہے :۔ ولہم رزقہم فیھا بکرۃ وعشیا (19:62) اور اس میں ان کو رزق ملے گا صبح وشام (یعنی ہر وقت جب وہ چاہیں گے) ۔
(4) قتادہ کے نزدیک الرزق المعلوم سے مراد الجنۃ ہے ؟
(5) یا ایسا رزق کہ جس کی ماہیت وخصوصیت اللہ ہی کو معلوم ہیں۔
Ayah 37:42(37:42) فواکہ۔ پھل، میوے۔ فاکھۃ واحد۔ یہ رزق کا بدل ہے۔ لفظ فواکہ کے استعمال کے متعلق صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں :۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جنت میں کھانا غذا کے طور پر نہیں بلکہ لذت کے لئے ہوگا۔ یعنی وہاں کھانا اس غرض کے لئے نہیں ہوگا کہ جسم کے تحلیل شدہ اجزا کی جگہ دوسرے اجزا غذا کے ذریعے فراہم کئے جائیں کیونکہ اس ابدی زندگی میں سرے سے اجزائے جسم تحلیل ہی نہ ہوں گے ! نہ آدمی کو بھوک لگے گی جو اس دنیا میں تحلیل کے عمل کی وجہ سے لگتی ہے اور نہ جسم اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے غذا مانگے گا۔ اسی بنا پر جنت کے ان کھانوں کے لئے ” فواکہ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں تغدیہ کے بجائے تلذذ کا پہلو نمایاں ہے :۔
مکرمون۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ مرفوع اکرام (افعال) مصدر سے معزز۔ ان کی عزت کی جائے گی ! ان کی تعظیم و تکریم کی جائے گی۔ اس عزت و تکریم کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین ثواب اور ان گنت نعمتون کی شکل میں۔
(2) رزق (جس کا ذکر اوپر ہوچکا ) کا بغیر کسی کسب وکد وبغیر کسی تگ ودو، اور بغیر کسی سوال کے حاصل ہوجانے کی صورت میں۔
(3) روحانی نعمتوں کی عطائیگی سے۔ لعل ھذا اشارۃ الی النعم الروحانی بعد النعیم الجسمانی۔
Ayah 37:43(37:43) جنت النعیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ال۔ اختصاص کے لئے ہے ای جنۃ لیس فیھا الا النعیم۔ ایسے باغات جہاں راحتیں ہوں گی کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہوگی نہ محنت نہ مشقت نہ دوڑ دھوپ نہ کسی سے سوال کرنے کی ضرورت۔
Ayah 37:44(37:44) سرر۔ سریر کی جمع۔ تخت۔ وہ جس پر کہ ٹھاٹھ سے بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں۔
متقبلین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر، منصوب، متقابل واحد تقابل (تفاعل) مصدر۔ آمنے سامنے (بیٹھنے والے) ۔
فی جنت النعیم مضاف مضاف الیہ مل کر مکرمون کا ظرف ہے اور اسی طرح علی سرر متقبلین ظرف ہے مکرمون کا۔ یعنی راحتوں کے باغ میں ہونگے آمنے سامنے تختوں پر متمکن ہوں گے ، یا۔ یہ دونوں جملے مکرمون سے حال ہیں۔ یعنی :۔ درآنحالیکہ ” وہ راحتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ اور تختوں پر آمنے سامنے متمکن ہوں گے یا یہ دونوں جملے اولئک کی خبر بعد از خبر ہیں۔
فی جنت النعیم ” یجوز ان یکون ظرفا وان یکون حالا وان یکون خبرا بعد خبر۔ وکذا (علی سرر متقبلین) ۔ مدارک التنزیل۔
Ayah 37:45(37:45) یطاف علیہم۔ یطاف مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ اطافۃ (افعال) مصدر۔ الطوف مصدر (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے گرد چکر لگانا۔ اور گھومنا کے ہیں۔ الطائف بمعنی چوکیدار جو رات کو حفاظت کے لئے چکر لگائے۔ طاف علی کسی کے گرد چکر لگانا۔ یطاف علیہم ان کے اردگرد پھرایا جائے گا۔ ان کے درمیان پھرایا جائے گا۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ اور یہ ضمیر متقبلین سے حال ہے یا یہ مکرمون کی صفت بھی ہوسکتا ہے۔ الطواف کا فاعل کون ہے ؟ روح المعانی میں ہے !
وفاعل الطواف علی ما قیل من مات من اولاد المشرکین قبل التکلیف فی الصحیح انہم خدام اھل الجنۃ۔ الطواف کا فاعل مشرکین کی وہ اولاد جو مکلف ہونے سے قبل (یعنی صغر سنی میں) ہی فوت ہوگئی ہو۔ صحیح یہی ہے کہ وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :
ویطوف علیہم ولدان مخلدون (56:17) نوجوان خدمت گذار جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہیں گے۔ ان کے پاس پھریں گے۔ یا۔ ویطوف علیہم غلمان لہم کانہم لؤلؤ مکنون۔ (52:24) اور ان کے آس پاس لڑکے پھریں گے جو ان کے لئے ہیں اور جو ایسے ہوں گے جیسے چھپائے ہوئے موتی۔
کاس۔ اس پیالہ کو کہتے ہیں جو شراب سے بھرا ہوا ہو۔ خالی پیالہ کو قدح کہتے ہیں یا انائ۔ ان کان فارغا فلیس بک اس۔ اگر خالی ہو تو وہ کاس نہیں ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کاس کا ذکر آیا ہے اس سے مراد شراب سے بھرا ہوا پیالہ ہی ہے
معین۔ یہ کاس کی صفت ہے اگر یہ عان یعین (ضرب) عین سے ہے جس کے معنی ہیں پانی کا اس طرح سطح زمین پر جاری ہونا کہ نظر آسکے تو معین بمعنی معیون صفت مفعولی ہے یعنی ایسا چلتا ہوا پانی جو آنکھوں کو نظر آسکے۔
بصورت دیگر یہ معن یمعن (فتح) معن سے بروزن فعیل صیغہ صفت ہے اس صورت میں میم حرف اصلی ہے !
بغوی نے اس آیۃ کی توضیح میں لکھا ہے ! خمور جاریۃ فی الانھار ظاہرۃ تراھا العیون یعنی جنت کی نہروں میں بہنے والی شراب جو آنکھوں کے سامنے ہوگی !
Ayah 37:46(37:46) بیضائ۔ سفید۔ بیاض سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے اس کا واحد مذکر ابیض آئے گا اور بیض جمع ہے جو مذکر ومؤنث دونوں کے لئے ہے۔ بیضاء کاس کی صفت ہے جسے بطور مؤنث استعمال کیا گیا ہے۔ سفید ہونے کی صفت پیالہ میں شراب کی ہے۔
الحسن کا قول ہے :۔ ان خمر الجنۃ اشد بیاضا من اللبن۔ جنت کی شراب دودھ سے بھی زیادہ سفید ہوگی۔
لذۃ للشربین۔ لذۃ یا تو مصدر ہے اور زیادہ لذیذ ہونے کی وجہ سے اسے (شراب کو) بعینہ لذت قرار دیا ہے۔ یا لذۃ مؤنث ہے لذ (فعل) سے اور یہ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جیسے لذیذ صیغہ صفت ہے۔
Ayah 37:47(37:47) لا فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب خمر کی طرف راجع ہے (جو پیالہ میں ہوگی) ۔
غول۔ غال یغول سے مصدر ہے بمعنی شراب میں مدہوش ہونا۔ درد سر مدہوشی۔ لا فیھا غول۔ اس شراب میں نہ کوئی مدہوشی ہوگی نہ درد سر نہ کوئی اور بگاڑ جنت کی شراب کے متعلق تو اور جگہ ارشاد الٰہی ہے :۔
وسقہم ربہم شرابا طھورا (76:21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔
ینزفون عنھا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نزف مصدر (باب ضرب) نہ اس (شراب) سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ نزف الماء کے معنی کنویں سے تدریجا سارا پانی کھینچ لینے کے ہیں۔ اسی سے نزف (مجہول ) عقل کا بتدریج زائل ہونا۔ بیہوش ہوجانا۔ خبطی ہوجانا ہے۔ یہ باب افعال (انزف۔ ینزف) سے بھی مضارع مجہول کا صیغہ ہوسکتا ہے۔ بہرکیف معنی ایک ہی ہے۔
Ayah 37:48(37:48) قصرت الطرف۔ مضاف مضاف الیہ (یہ حوروں کی صفت ہے ) اسم فاعل جمع مؤنث ۔ قصرۃ واحد۔ قصر یقصر (باب نصر) قصور۔۔ عن الشیء کسی چیز سے رک جانا۔ اور قصر یقصر (ضرب) فی بیتہ گھر میں روکے رکھنا۔ قصر نفسہ علی کذا۔ کسی چیز پر قناعت کرلینا اور دوسری چیز کی طرف نگاہ نہ اٹھانا۔
الطرف۔ نظر۔ نگاہ۔ قصرت الطرف۔ اپنی نگاہ کو روک رکھنے والیاں۔ نگاہوں کو نیچا رکھنے والیاں۔ جن کی نگاہیں غایت عفت کے سبب اوپر کو نہ اٹھیں، جو اپنے شوہروں کے بغیر کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتی ہوں۔
وعندہم قصرت الطرف۔ یہ جملہ معطوف ہے جس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے یا یہ موضع الحال میں ہے۔ یعنی شراب سے لبریز پیالے ان کے درمیان گردش کر رہے ہوں گے درآں حالیکہ ان کے حضور ایسی حوریں ہوں گی جو اپنی نگاہیں انہی پر مرکوز رکھیں گی اور کسی دوسری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گی۔
عین بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والیاں، زنان فراخ چشم۔ اعین۔ عیناء سے عین جمع مذکر ومؤنث۔
Ayah 37:49(37:49) کانہن۔ کان حرف مشابہ بفعل ہن ضمیر جمع مؤنث غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب۔
بیض مکنون۔ موصوف وصفت بیض بیضۃ کی جمع ہے بمعنی انڈے بیضہ کو بیضہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں بیاض (سفیدی) مکمل طور پر پائی جاتی ہے۔ الحسن کے قول کے مطابق بیض بمعنی شتر مرغ کے انڈے کے ہیں۔ شتر مرغ اپنے انڈوں کو ہوا اور غبار سے بچانے کے لئے پروں میں چھپا لیتا ہے اور شتر مرغ کے انڈوں کا رنگ سفید مائل بزردی ہوتا ہے اہل عرب کے نزدیک عورتون کا یہ رنگ حسین ترین رنگ ہے اسی لئے عورتوں کو شتر مرغ کے انڈوں سے تشبیہ دی ہے ۔
مکنون اسم مفعول واحد مذکر ہے۔ کن وکنون (باب نصر) مصدر سے ۔ چھپایا ہوا۔ محفوظ ۔ گویا کہ وہ سب شتر مرغ کے انڈوں کی مانند گردوغبار سے محفوظ ہوں گی۔
مکنون بمعنی مصئون عن الکسر۔ شکست سے محفوظ، بےداغ (بالکل صحیح و سالم بہمہ وجوہ ) والعرب تقول لکل مصئون مکنون : عرب ہر محفوظ چیز کو مکنون کہتے ہیں۔
Ayah 37:50(37:50) ملاحظہ ہو (37:27) جہاں گمراہ کرنے والے پیشوائوں اور ان کے پیروئوں کے درمیان سوال و جواب کا ذکر ہے۔ یہاں اہل جنت کے درمیان مکالمہ ہے۔
Ayah 37:51(37:51) قال قائل منہم۔ ای قال قائل من اھل الجنۃ۔ آپس میں گفتگو کرنے والے اہل جنت میں ایک بولے گا۔ یا کہے گا۔ اس جملہ کا عطف یطاف علیہم پر ہے دونوں کے درمیان کی عبارت بطور کلام معترضہ ہے۔
قرین۔ الاقتران۔ ازدواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ قرنت البعیر مع البعیر میں نے دو اونٹوں کو ایک رسی سے باندھ دیا۔
وہ آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری وقوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہو اسے اس کا قرن کہتے ہیں۔ اور ہم پلہ یا ہمسر یا ہمنشین کو قرین کہتے ہیں۔ یہاں آیہ ہذا میں بمعنی ساتھی یا ہمنشین ہی آیا ہے۔ قرین کی جمع قرناء ہے۔
Ayah 37:52(37:52) یقول۔ ای کان یقول (جو) کہا کرتا تھا۔ ائنک ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ کیا تو بھی۔ مصدقین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر۔ تصدیق کرنے والے۔ سچ ماننے والے۔ مصدق واحد۔ صدق یصدق یصدیق (تفعیل) سے کیا تو بھی حشر پر ایمان لانے والوں میں سے ہے۔
Ayah 37:53(37:53) ء اذا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اذا۔ ظرف زمان ۔ کیا جب۔
ء انا ہمزہ استفہامیہ ہے اور انا دراصل اننا ہے ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم۔ جملہ میں استفہام کی تکرار تاکید کے لئے لائی گئی ہے ۔ یعنی کیا جب ہم مرجائیں گے اور (محض) مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا اس صورت میں بھی ہمارا حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور جزا وسزا ملے گی۔
لمدینون۔ لام تاکید کا ہے مدینون دین سے مشتق ہے اسم مفعول جمع مذکر کا صیغہ بحالت رفع ہے۔ بدلہ دئیے ہوئے۔ مجزیون (جن کو اپنے اعمال کی جزا یا سزا دی گئی ہو ) محاسبون (جن کا محاسبہ کیا گیا ہو) ۔ المدین غلام بدلہ دیا ہوا۔ وہ جس سے حساب لیا گیا ہو، المدینۃ مؤنث۔ (نیز ملاحظہ ہو 37:20)
یہ لفظ قرآن مجید میں دوسری جگہ (56:86 ۔ 87) میں استعمال ہوا ہے ارشاد ہے فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا ۔۔ اگر تمہارا حساب وکتاب ہونے والا نہیں تو تم اس (روح ) کو پھر کیوں نہیں لوٹا لاتے۔۔
دین مادہ سے متذکرہ مشتقات الدین (بکسر الدال) سے ہیں۔ اسی مادہ سے الدین بمعنی قرض دینا ہے جس سے الدائن بصفت فاعلی قرض دینے والا۔ اور المدیون بصفت مفعولی قرض لینے والا ہے۔
Ayah 37:54(37:54) قال ھل انتم مطلعون۔ مطلعون اسم فاعل جمع مذکر مطلع واحد ۔ اطلاع (افتعال) مصدر۔ اصل میں مطتلعون تھا۔ تاء کو طاء میں مدغم کیا گیا ہے مطلعون جھانک کر دیکھنے والے۔ قال کے فاعل کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں !
(1) یہ ارشاد خداوندی ہے ۔ جب القائل اپنے دنیا کے ہمنشین کے متعلق بات کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا :۔ ” کیا تم اپنے ساتھی کو جو عذاب دوزخ میں مبتلا ہے دیکھنا چاہتے ہو ؟ (تم اور تمہارے دوسرے اہل جنت رفیق)
(2) یہ قول فرشتوں کا ہے جو القائل کے بات کرتے وقت وہاں موجود ہوں گے وہ القائل اور اس کے ساتھیوں سے کہیں گے کیا تم القائل کے دنیا کے ساتھی کا حال دیکھنا چاہتے ہو جو اس وقت عذاب دوزخ میں مبتلا ہے اور پھر دیکھو کہ اس کا مقام تمہارے مقام کے مقابلہ میں کیسا ہے ؟
(3) قال کا فاعل خود القائل ہی ہے جو اپنے مخاطبین اہل جنت سے کہے گا کہ کیا تم اس کو جھانک کر دیکھنا چاہو گے ؟ (کہ اب میرے اس ساتھ کا دوزخ میں کیا حال ہے ؟ )
Ayah 37:55(37:55) فاطلع۔تعقیب کا ہے ۔ اطلع۔ اطلاع (افتعال) ماضی (بمعنی مستقبل) کا صیغہ واحد مذکر غائب کا ہے۔ سو وہ جھانک کر دیکھے گا (یعنی دوسروں کے ساتھ وہ بھی دوزخیوں کو جھانک کر دیکھے گا) ۔
فراہ۔تعقیب کا ہے۔ رای رای ورؤیۃ (باب فتح) مصدر سے ماضی (بمعنی مستقبل) کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ! پس وہ اس کو دیکھے گا۔ اس کو پائے گا ۔ سواء الجحیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ جہنم کے وسط (میں) ۔
Ayah 37:56(37:56) قال۔ ای قال القائل۔ یعنی بات شروع کرنے والا۔ اپنے دنیا کے ساتھی کو مخاطب کر کے کہے گا۔
علامہ زمخشری (رح) آیت وتا اللہ لاکیدن اصنامکم۔۔ (21:57 ۔ اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کی گت بنا ڈالوں گا) کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔
حروف قسم میں باء تو اصل ہے اور وائو اس کا بدل۔ اور وائو کا بدل تا ہے لیکن تاء میں تعجب کے معنی زائد ہیں (آیت مذکورہ میں) گویا اس بات پر تعجب ہے کہ باوجود نمرود کی سرکشی اور زور آوری کے میرے لئے ان (بتوں) کا علاج کردینا اور اس کام کو سرانجام دینا کتنا آسان ہے “۔
آیت ہذا میں تعجب اس بات پر ہے کہ باوجود تو نے مجھے ہلاکت میں قریبا ڈال ہی دیا تھا۔ لیکن اپنے پروردگار کے فضل سے میں سلامت بچ نکلا۔ ان : ان سے مخففہ ہے۔
کدت۔ کاد یکید کید (باب ضرب) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ قریب تھا کہ تو (مجھے ہلاک کردیتا) ۔ کاد افعال مقاریہ میں سے ہے ۔ اگر یہ بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا ۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسا کہ آیت ہذا میں قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کر ڈالے لیکن میں پروردگار کے فضل سے ہلاکت سے بچ گیا۔
یا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ :۔ کاد یزیغ قلوب فریق منہم ثم تاب علیہم۔۔ (9:117) ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہوچلا تھا پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمادی (اور وہ متزلزل ہونے سے بچ گئے) ۔
لتردین۔ لام فارقہ ہے۔ اللام الفاصلہ : یا ۔ اللام الفارقہ : جب ان (مخفف) کو ان (ثقیلہ ) کی جگہ استعمال کیا گیا ہو تو مسند سے قبل لام لایا جائے گا تاکہ اس ان کو ان نافیہ سے تمیز کیا جاسکے۔ مثلاً وان کنا عن دراستہم لغفلین (6:156) اور ہم نے تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے نرے بیخبر ہی رہے ) ۔
تردین۔ تردی ارادء (افعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے ن وقایہ ی متکلم محذوف ہے ردی مادہ۔ الروی (باب سمع) کے معنی ہلاکت کے ہیں التردی (باب تفعل) کے معنی ہیں اپنے آپ کو ہلاکت کے سامنے پیش کرنا۔ جیسے ارشاد باری ہے وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی (92:11) اور جب وہ جہنم میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔
یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلا یصدنک من لا یؤمن بھا واتبع ھوہ فتردی (20:116) سو تمہیں اس کی طرف سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش (نفسانی) کی پیروی کرتا ہے ورنہ تم بھی تباہ ہو کر رہو گے۔ لتردین : تو نے مجھے ہلاک ہی کر ڈالا تھا۔
Ayah 37:57(37:57) المحضرین۔ اسم مفعول ، جمع مذکر منصوب وہ لوگ جن کو (عذاب کے لئے ) حاضر کیا جائے گا۔
Ayah 37:58(37:58) افما نحن بملیتین۔۔ وما نحن بمعذبین۔
(1) یہ کلام القائل کا ہے جو اپنے ساتھی سے کلام کر کے اپنے جلساء کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے۔
(2) یہ کلام جملہ متسائلین کا ہے جو باہم گفتگو کر رہے تھے۔
(3) یہ کلام القائل کے کلام کا تتمہ ہے جو وہ اپنے قرین سے کر رہا تھا اور یہ کلمات بطور زجر وتوبیخ کے اس نے کہے۔
افما میں ہمزہ استفہامیہ ہے تقریر کے لئے ہے اور اس میں تعجب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ (تقریر کے معنی مخاطب سے ایسی بات کا اقرار کرانا جو متکلم کے نزدیک مظنون اور مخاطب کے نزدیک ثابت ہو۔ جیسے اضربت زیدا)عطف کے لئے ہے اس کا عطف کلام مقدرہ پر ہے ای انحن مخلدون فما نحن بمیتین کیا ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے اور نہیں مریں گے۔ ب ۔ حرف جار ہے اور میتین اسم صفت جمع مذکر مجرور مرنے والے۔ میت واحد۔
Ayah 37:59(37:59) الا موتتنا الاولی۔ الا استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) اس کا مستثنیٰ منہ مصدر مقدر موتۃ ہے۔ ای افما نحن یمیتین موتۃ الا موتتنا الاولی کیا ہم (اب) موت نہیں مریں گے سوائے ہماری پہلی موت کے (جو ہم پر دنیا میں گذر چکی) ۔
موتتنا مضاف مضاف الیہ (ہماری موت ) الاولی موت کی صفت ہے ہماری پہلی موت۔
بمعذبین۔ ب حرف جار۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر مجرور ۔ عذاب دئیے گئے، عذاب یافتہ۔ آیات 58 ۔ 59 کا مطلب ہوگا :
کیا ہم بجز پہلی بار مر چکنے کے پھر (کبھی) نہیں مرنے کے۔ اور نہ ہم کو کبھی عذاب ہوگا یہ استفہام تقریری ہے یعنی مخاطب کو اس کے اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے۔
Ayah 37:60(37:60) ان ھذا لھو الفوز العظیم ۔۔ یہ کلام القائل کے کلام کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے یا جملہ سائلین کے کلام کا تتمہ۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ ھذا سے مراد جنت کی نعمتیں، وہاں دوامی مقام، موت سے نجات، عذاب سے مستقل رہائی۔ وغیرہ ہیں
یہ القائل کے کلام کا تمتہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی جو رسول اکرم ﷺ اور ان کی امت سے مخاطب ہو کر القائل کے کلام کی تصدیق میں فرمایا گیا ہے یعنی حیات خلد و استمرار، نفی عذاب ایک عظیم کامیابی ہے۔
Ayah 37:61(37:61) لمثل ھذا فلیعمل العاملون۔ ایسی ہی کامیابی کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ یہ بھی القائل کے کلام کا تمتہ ہوسکتا ہے یا یہ اللہ کا کلام ہوسکتا ہے بہر حال یہاں القائل اور اس کے قرین (ساتھی) کا قصہ ختم ہوا۔ لمثل جار مجرور کو حصر کے لئے متقدم لایا گیا ہے ” ایسی ہی کامیابی کے لئے “۔ لیعمل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب : چاہیے کہ وہ عمل کرے۔
Ayah 37:62(37:62) ذلک۔ جنت کی نعمتیں۔ ان کی فراوانی، وہاں ہمیشہ ہمیشہ کا قیام، ابدی زندگی۔ ہر قسم کے عذاب سے خلاصی اور جملہ نعتیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ آیات 41:49) میں۔
نزلا۔ بطور مہمانی، مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت، ذلک کی تمیز ہے ۔ یعنی نعمتیں جنتیوں کو بطور ضیافت ملیں گی ! النزل (طعام مہمانی) جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے (راغب) نزل۔ وہ چیز جو مہمان کے آتے ہی اس کے سامنے لائی جاتی ہے (ابتدائی پیش کش) ۔ اس لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ بالا نعمتیں تو اہل جنت کو ابتدائی پیشکش کے طور پر دی جائیں گی۔ اس کے بعد کیا کیا عطا ہوگا اس کو سمجھنے سے عقل قاصر ہے۔ (تفسیر مظہری) ۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
Ayah 37:63(37:63) جعلنھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب شجرۃ کی طرف راجع ہے۔
فتنۃ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات کو مختلف معانی میں استعمال کیا گیا ہے مثلاً آزمائش یا آزمائش کرنا۔ مصیبت ، ایذا، فساد۔ تختہ مشق، عبرت، وغیرہ یہاں آخرت کی نسبت سے اس کا معنی عذاب آئے گا۔
Ayah 37:64(37:64) اصل الجحیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اصل ۔ جڑ، تہ، گہرائی۔
Ayah 37:65(37:65) طلعھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا گابھا۔ اس کا خوشہ، شگوفہ،
کانہ۔ گو یا کہ وہ (خوشہ یا شگوفہ) کان حرف مشبہ بالفعل ، ہ ضمیر واحد مذکر غائب کان کا اسم۔
رء وس الشیطین۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیطانوں کے سر۔ الزجاج اور الفراء کہتے ہیں کہ شیطان سے مراد سانپ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ شیطان سے مراد معروف شیطان ہو۔ جس طرح خوبصورتی کے لئے فرشتے سے تشبیہ دی جاتی ہے جیسے ان ھذا الا ملک کریم (12:31) یہ تو کوئی نورانی فرشتہ ہے۔ اسی طرح بدصورتی کے لئے شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Ayah 37:66(37:66) فانہم۔ فاء تعقیب کا ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع ظلمین (آیتہ 63) ہے۔
لاکلون۔ لام تاکید کا ہے اکلون اسم فاعل جمع مذکر بحالت رفع (باب نصر) سے اکل مصدر۔ کھانے والے۔ فانہم لاکلون پس ان کو ضرور کھانا ہوگا۔ پس وہ ضرور کھائیں گے۔ یعنی بھوک کی وجہ سے یا جبر کے تحت وہ ضرور کھائیں گے۔
منھا۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ای من ثمرھا او من طلعھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الشجرۃ ہے۔
فمالئون۔ الفاء عطف وتعقیب کا ہے۔ مالؤن اسم فاعل جمع مذکر مرفوع مالی واحد ملأ۔ ملأۃ۔ ملأۃ مصدر (باب فتح) بھرنے والے، ملأ برتن کو اتنا بھرنا کہ اس سے زیادہ ممکن نہ ہو۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود زقوم کے مکروہ الصورت، بدذائقہ، اور اثر میں زہریلا ہونے کے وہ اسے پیٹ بھر کر کھانے پر مجبور ہوں گے (بوجہ بھوک کے یا جبر کے) ۔
Ayah 37:67(37:67) ثم۔ پھر۔ حرف عطف ہے۔ ما قبل سے ما بعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا بلحاظ زمانہ ہو (التراخی الزمانی) خواہ باعتبار مرتبہ کے ہو (التراخی الریتی) ۔ یہاں ہر دو معنی ممکن ہوسکتے ہیں :۔
پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا۔ کہ زقوم پیٹ بھر کر کھا لینے کے بعد (جب ان کو پیاس ستائے گی) تو ان کو کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا۔
دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے ! کہ ان کو بدصورت ، بدمزہ، زہریلا زقوم کھانا ہوگا۔ اور جب ان کو پیاس لگے گی تو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا یعنی کھانا تو مکروہ ہوگا ہی مگر پینا اس سے زیادہ مکروہ اور ناگوار ہوگا۔
علیھا۔ ای علی الشجرۃ التی ملؤا منھا بطونہم۔ اس (زقوم کے) درخت کے بعد جس سے انہوں نے اپنے پیٹ بھر لئے ہوں گے۔ یا مزید برآں اس درخت زقوم کی کراہت قباحت سے بھی بڑھ کر۔
شوبا۔ شوب، ملاٹ، آمیزش، شاب یشوب (نصر) کا مصدر ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو کسی چیز میں ملا دینا۔ خلط ملط کردینا۔ حمیم۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ سخت گرم پانی۔ اس کی جمع حمائم ہے۔ قریبی جگری دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے :۔ ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔
Ayah 37:68(37:68) مرجعہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا مرجع۔ لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ رجع یرجع (ضرب) سے مصدر میمی ہے۔ رجوع مرجعۃ۔ رجعی ورجعان بھی مصدر ہیں۔
لا الی الجحیم۔ لا میں لام کے بعد الف زائد ہے۔ پڑھا نہیں جاتا۔ یہ قرآن مجید میں کئی جگہ اس صورت میں آیا ہے مثلاً ۔ لا اوضعوا (9:47) قواریرا (76:16) وغیرہ۔ لا الی الجحیم۔ جہنم کی طرف۔
فائدہ : 62 تا 68 آیات کی تشریح۔ جہنمیوں کو پہلے وسط جہنم میں لے جایا جائے گا۔ جہاں زقوم کا درخت اپنی بدصورتی ، بد ذائقی، زہریلی خاصیت کے ساتھ اگتا ہے وہاں بھوک کی شدت سے وہ پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ پھر ان کو نہایت سخت گرم پانی کا محلول پلایا جائے یہ گرم پانی مقام جحیم سے باہر ہوگا :۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد خداوندی ہے :۔
یطوفون بینھا وبین حمیم ان (55:44) وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے۔ گرم پانی پلانے کے بعد ان کو لوٹا کر پھر جحیم میں لایا جائے گا۔ اور اسی طرح وہ چکر کاٹتے رہیں گے۔
Ayah 37:69(37:69) الفوا۔ الفاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے بمعنی پانا۔ انہوں نے پایا۔ لفی مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :
بل نتبع ما الفینا علیہ اباء نا (2:170) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔
Ayahs 37:70–71(37:70) اثرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے نشانات ۔ ان کے نشانات قدم ان کے پیچھے پیچھے۔ اثر واحد۔
یھرعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ اھراع (افعال) مصدر بمعنی سختی اور تخویف سے ہانکنا۔ اور چلانا۔ ھریع تیز رو اور چلا کر رونے والا۔ ھرع برمحہ فتھرع : کے معنی نیزے کو سرعت کے ساتھ سیدھا کرنا کے ہیں۔ اھراع میں تیزی یا تیز رفتار کا مفہوم پایا جاتا ہے خواہ وہ تیزی شدت جذبات سے ہو یا کسی بیرونی طاقت کی سختی کی وجہ سے یا کسی خوف کی وجہ سے۔
یہاں فہم علی اثرہم یھرعون کے معنی ہیں وہ (جذبہ تقلید کی شدت کے زیر اثر) ان کے (یعنی اپنے آبائو اجداد کے ) نقش قدم پر چلے جارہے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ اس کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔
مجہول کا صیغہ اندرونی قوت متحرکہ کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے یعنی یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس اندرونی قوت کے آگے وہ لاچار ہانکے چلے جا رہے تھے۔ روح المعانی میں ہے :۔
وبناء الفعل للمفعول اشارۃ الی مزید الی مزید رغبتہم فی الاسراع علی اثارہم کانہم یزعجون ویحثون حثا علیہ۔ اور فعل کا بحالت مفعولی لانا اپنے آبائو اجداد کے نقش قدم پر بسر عت چلنے پر ان کی شدت رغبت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 37:72–73(37:72) فیہم۔ ای فی الاولین پہلے لوگوں میں۔ منذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ ڈرانے والے یعنی پیغمبر۔ انذار (افعال) سے (انجام ان لوگوں کا) جن کو سرکشی اور نافرمانی کی سزا سے ڈرایا گیا۔
Ayah 37:74(37:74) الا حرف استثناء ۔ اگر المنذرین سے مراد مخصوص گروہ مراد ہے تو یہ استثنائے منقطع ہے اور اگر اس کا اطلاق عمومی ہے تو یہ استثنائے متصل ہے ۔
المخلصین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ اخلاص (افعال) سے۔ خالص کئے گئے ، خالص کئے ہوئے۔ اور اخلاص کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک وصاف کردینا اصطلاح شرع میں اخلاص کے معنی یہ ہیں کہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیا جاوے اور اس کے علاوہ کسی اور جذبہ کی آمیزش نہ ہو۔
Ayah 37:75(37:75) یہاں بعض قصص کا تفصیلاً بیان شروع ہوتا ہے جن کا مجملاً پہلے بیان ہوچکا ہے۔ مولانا ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔
سابق آیت میں فرمایا تھا :۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین۔ اس میں عموما سارے پیغمبروں کا ذکر ہوگیا۔ اب خصوصیت کے ساتھ حضرت نوع (علیہ السلام) کا ذکر شروع فرمایا۔
مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے ایک زمانہ میں قوم نوح گمراہ ہوگئی تھی۔ ہم نے ان کی ہدایت کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ قوم نے دعوت نہ مانی۔ اور (حضرت ) نوح (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا کہ جو لوگ ایمان لانے والے تھے وہ لا چکے۔ آئندہ قوم کا کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا۔ (حضرت) نوح (علیہ السلام) جب مایوس ہوگئے تو انہوں نے ہم کو پکارا۔ ہم سے دعا کی۔ کہ ان کی قوم کو تباہ کردیا جائے۔ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ہم (اپنے خاص بندون کی دعا) اچھے قبول کرنے والے ہیں۔
(37:75) ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون وائو عاطفہ ہے جس کا عطف مضمون رفتہ پر ہے لام قسم محذوف کے جواب میں ہے الفاء للفصیحۃ ای وت اللہ لقد دعانا نوح حین ایس من ایمان قومہ بعد ان دعاہم احقابا ودھورا فلم یزدہم دعاء ہ الافرارا ونفورا فاجبنا احسن الاجابۃ فو اللہ لنعم المجیبون نحن۔ خدا کی قسم جب مدتون اپنی قوم کو دعوت الی الحق دینے کے بعد اس قوم میں نفرت اور فرار ہی کا اضافہ ہوا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر ہمیں پگارا۔ اور ہم نے بطریق احسن اس کی فریاد رسی کی بخدا ہم خوب فریاد سننے والے ہیں (اور ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں) ملاحظہ ہو 71:5 ۔ 6 ۔ و 26، 27
نادنا۔ نادی ینادی مناداۃ (مفاعلۃ) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب نا ضمیر جمع متکلم۔ اس نے ہم کو پکارا۔ باب مفاعلہ کے خواص میں سے موافقت مجرد (مجرد کے ہم معنی ہونا) بھی ہے۔ لہٰذا نادی اشتراک کی بجائے مجرد کے معنی میں ہوگا۔ ” اس نے پکارا “ جیسے سافر زید بمعنی سفر زید۔ زید نے سفر کیا۔
المجیبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ المجیب واحد اجابۃ مصدر۔ دعا قبول کرنے والے۔ دینے والے۔
Ayah 37:76(37:76) اہلہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے گھر والے۔ اس کے گھرانے کے۔ یہاں اھل سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کے خاندان والے نہیں ہیں بلکہ ہم عقیدہ اور ایمان والے مرد لئے گئے ہیں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :۔
قال ینوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح (11:46) خدا نے فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے ۔
الکرب۔ اسم مصدر معرفہ۔ بڑی مصیبت، کرب سخت غم۔ دم گھونٹنے والا غم الکرب العظیم بہت بڑی مصیبت، اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کے ہاتھوں پہنچنے والی تکلیفیں اور ایذا رسانی ہے۔
Ayah 37:77(37:77) ذریتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ذریت۔ اس کی اولاد ۔ اس کی نسل۔
البقین : باقی رہنے والے۔ بچے ہوئے۔ باق کی جمع ہے۔ اصل میں فاعل کے وزن پر باقی تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا اس کو ساکن کیا۔ اب ی ساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ باق ہوگیا۔ اسی طرح رمی یرمی۔ ناقص یائی سے اسم فاعل کا صیغہ رام واحد مذکر ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اخصاص کے لئے ہے یعنی ہم نے صرف اسی کی اولاد کو باقی رکھا۔
Ayahs 37:78–79(37:78:79) وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی نوح فی العلمین ترکنا ماضی جمع متکلم ۔ ترک مصدر سے۔ ہم نے چھوڑا۔ علیہ اس کے لئے الاخرین اخر کی جمع ۔ پچھلے ۔ یعنی ان کے بعد آنے والے لوگ۔ ان کے بعد کی نسلیں۔ العلمین۔ تمام جہان ۔ تمام عالم۔ یہ عالم کی جمع ہے بحالت نصب وجر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا سب مخلوق کو عالم کہتے ہیں۔
ترکنا۔۔ العلمین کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) جملہ سلام علی نوح فی العلمین موضع نصب میں ہے اور یہ ترکنا کا مفعول ہے : مطلب ہوگا :۔ ہم نے (حضرت نوح) کے بعد میں آنے والی نسلوں میں حضرت نوح کے حق میں کلام سلام۔۔ العلمین چھوڑا۔ (یعنی کہ وہ ان کے حق میں یہ دعا پڑھا کریں) اس صورت میں یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ جسے وہ پڑھا کریں گے۔
(2) یہ کلام (سلام علی نوح فی العلمین) آئندہ آنے والی نسلوں کا اپنا مقولہ ہے اور وہ ان الفاظ میں حضرت نوح (علیہ السلام) پر سلام بھیجا کریں گے۔ اس صورت میں بھی یہ ترکنا کا مفعول ہوگا۔ یعنی ہم نے آئندہ نسلوں میں ان کا مقولہ (سلام علی نوح فی العلمین) چھوڑا ۔
(3) یہ کلام نہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا۔ نہ یہ ان کا اپنا مقولہ ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا قول ہے اور ترکنا کا مفعول محذوف ہے ای ترکنا علیہ الثنا والحسن وابقینا لہ فیمن بعدہ الی اخر الدھر وقلنا ” سلام علی نوح فی العلمین “ ہم نے اس کے لئے بہترین ذکر اور قابل ستائش شہرت چھوڑی اور اس ذکر اور شہرت کو آنے والی نسلوں میں آخر الدہر تک کے لئے باقی رکھا۔ اور ہم نے کہا۔ سلام علی نوح فی العلمین (تمام جہانوں میں نوح پر سلام ہو) ۔