37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsانوار البیان

Ayahs 37:119–123

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بیشک ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے

(37: 119 ۔ 120 ۔ 121 ۔ 122) مناسب تغیر وتبدل کے ساتھ ملاحظہ ہو آیات نمبر 78 ۔ 79 ۔ 80 ۔ 81 ۔ متذکرہ بالا۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

(37:124) الا تتقون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے۔ بمعنی ڈرنا۔ بچنا۔ الا تتقون۔ کیا تم (اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ہو۔
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

(37:125) اتدعون بعلا۔ ہمزہ استفہامیہ۔ تدعون مضارع جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر سے بمعنی پکارنا۔ مطلب۔ پوجا کرنا۔ اس سے حاجت مانگنا۔ بعلا مفعول ہے تدعون کا۔ ایک بت کا نام ہے جسے جہالت کے زمانہ میں اکثر مشرقی سامی قوموں میں پوجا جاتا تھا۔ بعل بمعنی شوہر بھی آیا ہے مثلاً وھذا بعلی شیخا (11:72) اور یہ میرے شوہر بوڑھے ہیں۔ اور ان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا (4:128) اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے لڑنے کا اندیشہ ہو۔ تذرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ وذر یذر (فتح) وذر مصدر۔ چھوڑنا۔ تم چھوڑتے ہو۔ اس مصدر سے صرف مضارع اور امر ہی مستعمل ہیں۔ احسن الخالقین۔ احسن۔ بہت اچھا ۔ اسم تفضیل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ منصوب بوجہ تذرون کے مفعول ہونے کے ہے۔ الخلقین مفضل الیہ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب۔ پیدا کرنے والے۔ احسن الخالقین۔ پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر
Ayah 37:126

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے

(37:126) اللہ ربکم ورب ابائکم الاولین۔ ربکم مضاف مضاف الیہ تمہارا رب۔ تمہارا پروردگار۔ رب مضاف ابائکم (مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے اگلے آبائو اجداد کا رب) موصوف۔ الاولین صفت ۔ موصوف اور صفت مل کر رب کا مضاف الیہ۔ اللہ۔ اور رب۔ (ربکم ورب ابائکم) منصوب بوجہ احسن الخلقین سے بدل ہونے کے ہیں۔ وہ سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔ جو اللہ (ذاتی اسم ) ہے اور تمہارا پروردگار ہے اور تمہارے بڑون کا بھی پروردگار ہے (صفاتی نام) یعنی لعل کی پوجا کے لئے تم نے چھوڑا بھی تو کس کو چھوڑا۔ جو احسن الخلقین ہے۔ اللہ ہے جو نہ صرف تمہارا پالنے والا ہے (بلکہ) تمہارے اگلے آبائو اجداد کا بھی پالنے والا ہے۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے

(37:127) فکذبوہ۔ یعنی حضرت الیاس کی قوم نے ان کو جھٹلایا۔ ان کی تکذیب کی۔ فانہم میں فاء سببیہ ہے۔ لمحضرون۔ لام تاکید کا ہے صیغہ اسم مفعول جمع مذکر۔ مرفوع ۔ محضر واحد وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ (رسول کو جھٹلانے کی پاداش میں عذاب بھگتنے کے لئے۔
Ayah 37:128

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب) نہیں ہوں گے

(37:128) الا عباد اللہ المخلصین۔ بجز اللہ کے مخلص بندوں کے : کذبوہ کی ضمیر فاعل سے استثناء متصل ہے یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی قوم میں مخلص بندے بھی تھے جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب نہ کی۔ لہٰذا یہ لمحضرون کی ضمیر سے استثناء متصل نہیں ہے کیونکہ محضرون مکذبین کے لئے ہے اور مکذبین میں سے کسی کو مستثنیٰ کرنا بعید از مکان ہے۔
Ayahs 37:129–132

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاسین پر سلام ہے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

(37:129 تا 132) ان کی تشریح اوپر گذر چکی۔
Ayah 37:133

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے

(37:133) یہاں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 26:160 ۔ 175 ۔
Ayah 37:134

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں (کو سب کو) عذاب سے نجات دی

(37:134) اذ۔ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اسم ظرف زمان۔ یاد کر ہمارے اس کو نجات دینے کے وقت کو۔ نجینہ۔ نجینا ماضی جمع متکلم تنجیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں۔ ہم نے اسے نجات دی۔
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

(37:135) عجوزا۔ بڑھیا۔ پیرزن۔ اس کی جمع ع جائز وعجز ہے۔ عجز کے اصل معنی پیچھے رہ جانا ہے کسی چیز سے۔ یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونے کے ہیں جب کہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ کسی کام سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے۔ مثلاً قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب۔ ہائے کمبختی میر ! کہ میں اس سے بھی گیا گذرا ہوا ۔ کہ اس کوے کے ہی برابر ہوتا۔ اور بڑھیا کو عجوز اس لئے کہتے ہیں۔ کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے۔ فی الغبرین۔ ای کانت من الغبرین۔ وہ غابرین (پیچھے رہ جانے والوں) میں سے تھی۔ الغابر اسے کہتے ہیں جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جائے (راغب) اسم فاعل جمع مذکر قیاسی بحالت جر۔ یہاں پیچھے رہ جانے والی سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہے۔
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

(37:136) ثم۔ پھر۔ دمرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ دمر، یدمر تدمیر (تفعیل) مصدر سے۔ ہم نے ہلاک کردیا۔ ہم نے تباہ کردیا۔ ہم نے اکھاڑ مارا۔
Ayah 37:137

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم دن کو بھی (ان کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو

(37:137) انکم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ کا مرجع اہل مکہ ہیں۔ یعنی یا اھل مکۃ ۔ لتمرون۔ لام تاکید کا ہے۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ مر یمر (باب نصر) مرومرور مصدر۔ گذرنا۔ تم ضرور گذرتے ہو۔ علیہم۔ یعنی ان کے کھنڈر شدہ گھروں پر سے گذرتے ہو کیونکہ مکہ سے شام جاتے ہوئے سدوم سرراہ ہے۔ مصبحین۔ اسم فاعل جمع مذکر حاضر۔ صبح کرنے والے۔ صبح کے وقت میں دخل ہوتے ہوئے۔
Ayah 37:138

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

(37:138) وبالیل۔ رات کے وقت۔ مصبحین وبالیل۔ صبح وشام۔ یا۔ دن رات۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

(37:139) حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ سورة الانبیاء میں بھی ملاحظہ ہو (21:87 ۔ 88) ۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے

(37:140) اذ مفعول فعل محذوف ای اذکر وقت اباقہ الی الفلک المشحون بھری ہوئی کشتی کی طرف اس کے بھاگ جانے کا وقت یاد کرو۔ ابق۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ بھاگا اباق سے (باب نصر، ضرب، سمع) جس کے معنی غلام کے اپنے مالک سے بھاگنے کے ہیں :۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنے اللہ کی اجازت کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر بھاگے تھے اس لئے ان کے بھاگنے کو اباق قرار دیا۔ الفلک المشحون۔ موصوف وصفت۔ المشحون اسم مفعول واحد مذکر شحن یشحن (فتح، نصر، سمع) بمعنی بھرنا۔ المشحون بھری ہوئی۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اٹھائی

(37:141) ساہم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ مسامحۃ (مفاعلۃ) سے جس کے معنی کسی ساتھ قرعہ ڈالنے کے ہیں۔ ساہم اس نے قرعہ ڈلوایا۔ المدحضین۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر ۔ مدحض واحد۔ مغلوب۔ شکست خوردہ لوگ۔ ادحاض (افعال) مصدر بمعنی پھسلانا۔ مدحض مزلق عن مقام الظفر۔ جو بلند مقام سے پھسلایا گیا ہو ای مغلوب) دلیل کو باطل کرنا۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے :۔ ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق (18:56) اور جو کافر ہیں وہ (باطل سے استدلال کر کے) جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو اس کے مقام سے پھسلا دیں۔ انہی معنوں میں المدحض سے مراد کامیابی کے مقام سے پھسلا ہوا شخص ہوگا۔ یہاں مراد المدحضین سے قرعہ میں ہارے ہوئے لوگ ہیں (جو ہار کر اپنے مقام سے گرگئے) ۔
Ayahs 37:142–143

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے

(37:142) التقمہ۔ ماضی واحد مذکر غائب التقم یلتقم التقام (افتعال) نگلنا۔ یا لقمہ کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (کا مرجع حضرت یونس علیہ السلام) ۔ الحوت مچھلی (عام طور پر بڑی مچھلی کو حوت کہتے ہیں ) (بڑی مچھلی نے) نگل لیا۔ اس کا لقمہ کرلیا۔ (ثابت نگل لیا) ۔ وھو ملیم۔ وائو حالیہ ہے، جملہ حالیہ ہے۔ ملیم الامۃ (افعال سے ) اسم فاعل واحد مذکر۔ ملامت یا لوم کا مستحق، سزاوار ملامت، ات بما یلام علیہ۔ ایسا کام کرنے والا جس پر ملامت کی جائے۔ لامہ ویلومہ۔ (باب نصر) لوم وملام وملامۃ ملامت کرنا۔ اس باب سے صفت فاعلی لائم۔ اور صفت مفعولی ملیم ہوگی ! باب افعال سے الامۃ سے صفت فاعلی اور صفت مفعولی ملام۔ آیت ہذا میں باب افعال سے آیا ہے۔ وھو ملیم درآنحالیکہ وہ (اپنے آپ کو) ملامت کر رہا تھا۔
Ayah 37:144

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے

(37:144) للبثت میں لام جواب شرط میں سے ہے۔ لبث ماضی واحد مذکر غائب لبث (باب سمع) مصدر سے۔ تو وہ ضرور پڑا رہتا۔ وہ ٹھہرا رہتا ہے۔ فی بطنہ۔ ای فی بطن الحوت۔ الی یوم یبعثون۔ یبعثون مضارع مجہول جمع مذکر غائب بعث مصدر (باب فتح) سے۔ وہ اٹھائے جائیں گے۔ اس دن تک جب وہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ یعنی یوم قیامت تک، یہاں مراد لفظی معنی نہیں ہے بلکہ طویل مدت مراد ہے۔ جیسے روز مرہ کی بول چال میں ہم کہتے ہیں کہ میں اس کا قیامت تک پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ یعنی طویل مدت تک تیرا پیچھا کروں ۔ یا اس سے مراد یہ ہوسکتا ہے کہ انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکلنا نصیب نہ ہوتا اور وہ اس کی غذا بنا دئیے جاتے۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جبکہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا

(37:145) فنبذنہ۔ فاء تعقیب کا ہے یا یہ سببیہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی تسبیح کی وجہ سے ہم نے اسے میدان میں لا ڈالا۔ نبذنا۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ نبذ ینبذ (باب ضرب) نبذ مصدر سے ہم نے پھینک دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ہم نے اس کو ڈال دیا۔ عراء ۔ چٹیل میدان، جس میں گھاس یا درخت نہ ہو۔ کھلی جگہ جہاں کسی قسم کی اوٹ نہ ہو۔ بالکل خالی ہو۔ اس کی جمع اعراء ہے۔ ع ر و یا ع ر ی مادہ ہے۔ اسی سے باب سمع عری یعری عریۃ عری۔ (کپڑے سے) ننگا ہونا ہے۔ وھو سقیم۔ وائو حالیہ ہے۔ سقیم۔ سقم سے جس کے معنی بیمار ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی دکھی، بیمار۔ نیز ملاحظہ ہو (37: 89) درآنحالیکہ وہ آزردہ اور مضحمل تھا۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر کدو کا درخت اگایا

(37:146) وانبتنا علیہ۔ ماضی جمع متکلم۔ انبات (افعال) مصدر سے ہم نے اگایا۔ علیہ اس پر۔ یعنی اس پر سایہ کرنے کیلئے ۔ من یقطین۔ من تبعیضیہ ہے۔ یقطین اسم جنس ہے۔ ایسی نباتات جس کا تنہ نہ ہو۔ مالا ساق لہ من النبات۔ بغوی نے حضرت حسن اور مقاتل کا قول بیان کیا ہے کہ جس درخت کا تنہ نہ ہو اور اس کی بیل زمین پر پھیلتی چلی جائے اور سردی کے زمانہ میں باقی نہ رہے۔ وہ یقطین ہے۔ جیسے کدو۔ کھیرا۔ ککڑی۔ خربوزے کی بیل اکثر علمائے تفسیر نے اس سے مراد کدو کی بیل ہی لیا ہے۔ گو بعج نے اس سے کیلے کا درخت یا انجیر کا درخت بھی مراد لیا ہے۔ یقطین بروزن یفعیل قطن سے ماخوذ ہے۔ قطن بالمکان۔ اس جگہ وہ اقامت پذیر ہوگیا۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا

(37:147) او یزیدون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حکایت حال ماضی (فعل مضارع جو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے۔ ملاحظہ ہو (28:4) یستضعف۔ یذبح) او یزیدون یا وہ زیاددہ تھے (اگر او اپنے اصلی معنی ” یا “ کے استعمال ہوا ہے) او بمعنی بل بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ مقاتل اور کلبی نے کہا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا :۔ ایک لاکھ کی طرف بلکہ اس سے بھی زیادہ کی طرف ہم نے یونس ( علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ او بمعنی وائو بھی ہوسکتا ہے یک صد ہزار و زیادہ بقول علامہ پانی پتی (رح) ۔ ایسا ہی او کا استعمال عذرا او نذرا (77:6) میں ہے۔ لیکن علماء کی اکثریت نے یہاں او بمعنی ” یا “ ہی لیا ہے۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے

(37:148) فامنوا۔ میں فاء سببیہ ہے ضمیر فاعل جمع مذکر غائب قوم یونس (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ (ہم نے حضرت یونس کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) تو وہ لوگ ایمان لے آئے۔ متعنہم۔ متعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے تمتع (تفعیل) مصدر سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو دنیاوی سامان دے کر بہرہ مند کیا۔ الی حین ایک زمانہ تک یا ایک وقت مقررہ تک ای الی اجالہم المسماۃ فی الازل۔ ان کے ازل سے مقررہ وقت تک۔
Ayah 37:149

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے ؟

(37:149) فاستفتہم اس میںعاطفہ ہے اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ فاستفتہم اہم اشد خلقا ام من خلقنا پر ہے آیت (37:11) اللہ تعالیٰ نے پہلے (37:11) میں اپنے رسول کو حکم دیا کہ منکرین قیامت سے انکار قیامت کی وجہ پوچھیں اور تقریری سوال کے طور پر فرمایا :۔ ” کیا ان کی تخلیق مشکل ہے اور سخت ہے یا ان کے علاوہ آسمان و زمین، ملائکہ اور گذشتہ اقوام کی تخلیق سخت اور مشکل ہے تو لازمی طور پر ان لوگوں کو اس ہمہ گیر طاقت والے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہیے ۔ جس نے گذشتہ اقوام سے انتقام لیا اور کفر کی وجہ سے ان کو غارت اور تباہ کردیا۔ وہی ہمہ گیر خدا طاقت و قدرت رکھتا ہے تخلیق پر بھی اور دوبارہ زندہ کرنے پر بھی اور عذاب دینے پر بھی۔ اس کے بعد کچھ پیغمبروں کے واقعات بیان فرمائے (بطور کلام معترضہ کے ) پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے دریافت کریں کہ کیا خدا کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے “۔ (تفسیر مظہری) ۔ فاستفتہم۔ سو ان لوگوں سے پوچھئے ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب قریش مکہ کی طرف راجع ہے (نیز ملاحظہ ہو 37:11) ۔ الربک۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے جو اللہ کے لئے بیٹیاں اور مشرکین کے لئے بیٹوں کے ہونے سے متعلق ہے ۔ اور ہمزہ انکار توبیخی یا انکار ابطالی کا بھی ہوسکتا ہے۔ لام حرف جار ملکیت کے لئے ہے۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا رب۔ تیرا پروردگار کیا تیرے پروردگار کے لئے (تو بیٹیاں ہیں) فائدہ : یہاں رب کی اضافت بجائے ہم کے ک ضمیر واحد مذکر حاضر (جو حضرت رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے) آپ کی عظمت اور شرف کے لئے ہے اور کفار سے نفرت کے اظہار کے لئے ہے ورنہ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی۔ الربہم البنات ولہم البنون۔
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

(37:150) ام۔ یا۔ خواہ ۔ کیا۔ حرف عطف ہے استفہام کے معنی دیتا ہے اور کبھی بمعنی بل (حرف اضراب) یعنی بلکہ، اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہام بھی آتا ہے اور کبھی ام زائدہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں آیت ہذا میں بطور حرف اضراب بمعنی بل آیا ہے ۔ تبکیت (جھڑکی، ڈانٹ، سرزنش) سابقہ (آیت 37:11) پر مزید ڈانٹ پلائی گئی ہے پہلے انکار قیامت پر سرزنش تھی۔ اور اب ان کے اس قول پر کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں : ام خلقنا الملئکۃ اناثا :۔ ای بل خلقنا الملئکۃ الذین ہم من اشرف الخلائق واقواہم واعظمہم تقدسا عن النقائص الطبیعیۃ اناثا والانوثۃ من اخص صفات الحیوان۔ کیا ہم نے فرشتوں کو جو اشرف المخلوقات میں سے ہیں اور بڑے طاقت ور ، وعظیم المرتبت اور نقائص طبیعہ سے پاک ہیں مؤنث پیدا کیا۔ حالانکہ تانیث حیوانی صفات کی خسیس ترین صورت ہے۔ وہم شھدون۔ جملہ حالیہ ہے ای وانہم حاضرون حینئذ اور وہ اس وقت جب کہ ہم نے فرشتوں کو مؤنث تخلیق کیا یہ لوگ موجود تھے۔ یہ سوال استہزا آمیز ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بہت ہی زیادہ جاہل ہیں اور انتہائی جہالت کی وجہ سے ایسی بات کہہ رہے ہیں !
Ayah 37:151

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں

(37:151) الا۔ حرف تنبیہ واستفتاح ہے ۔ حرف بسبط سے مرکب نہیں جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے۔ تنبیہ، استفتاح۔ عرض، تحضیض میں مشترک ہے۔ خبردار ۔ جان لو۔ خوب سن لو۔ من افکہم۔ من حرف جر ہے تعلیل کے لئے آیا ہے ۔ افکہم مضاف مضاف الیہ۔ افک۔ جھوٹ۔ بہتان۔ افترا پردازی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ ان کا جھوٹ۔ بہتان۔ من افکہم۔ ان کی بہتان بازی کی وجہ سے ۔ اپنے جھوٹ کی وجہ سے۔ لیقولون۔ لام ان کے افترا کی تاکید کے لئے ہے۔ الا انہم من افکہم لیقولون ولد اللہ۔ کلام مستانفہ ہے۔ اللہ کی طرف سے ہے۔ کلام استفتاء میں داخل نہیں۔
Ayahs 37:152–153

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹوں کے نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے ؟

(37:152) ولد اللہ۔ ولادۃ مصدر (باب ضرب) سے ولد یلد (عورت کا بچہ ) جننا۔ صاحب اولاد ہونا۔ جملہ ولد اللہ مفعول ہے یقولون کا۔ یعنی وہ یہ بات کہتے ہیں ” اللہ صاحب اولاد ہے “۔ وانہم لکذبون۔ جملہ حالیہ ہے اور حال یہ ہے کہ (اس قول میں) یہ بالتحقیق جھوٹے ہیں۔ لام تاکید کا ہے۔ اصطفے۔ اصل میں أاصطفی تھا۔ أ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے اس کو قائم رکھتے ہوئے ہمزہ وصل کو حذف کردیا گیا ہے : اصفی وصفو مادہ۔ اصطفے یصطفی اصطفاء (افتعال) سے مصدر۔ اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ اصطفی کیا اس نے (اپنے لئے بیٹوں کو چھوڑ کر بیٹیاں) پسند کی ہیں۔
Ayah 37:154

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تم کیسے لوگ ہو کس طرح کہ فیصلہ کرتے ہو ؟

(37:154) مالکم۔ تم کو کیا ہوگیا ہے۔ جیسے ما لھذا الکتاب (18:49) یہ کیسی کتاب ہے ؟ یا ومال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (25:7) یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ! تحکمون۔ مضارع جمع مذکر۔ حکم مصدر (باب نصر) ۔ تم حکم کرتے ہو۔ تم حکم لگاتے ہو۔ تم فیصلہ کرتے ہو۔ غائب سے مخاطب کی طرف التفات ضمائر زیادہ توبیخ کے لئے ہے۔
Ayah 37:155

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

(37:155) افلا تذکرون۔ ہمزہ استفہامیہ ہےجملہ مقدرہ پر عطف کے لئے ہے ای تلاحظون ذلک فلا تذکرون بطلانہ۔ تم اسے دیکھ بھی رہے ہو ۔ پھر اس کے جھوٹ ہونے کو کیوں نہیں سمجھتے۔ یعنی کیا تم غور نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے کہ اللہ اس بہتان سے پاک ہے۔ تذکرون اصل میں تتذکرون تھا (باب تفعل) ایک تاء کو حذف کیا گیا ہے۔ تذکر سوچنا۔ یاد کرنا۔ نصیحت پکڑنا۔ غور و فکر کرنا۔
Ayahs 37:156–157

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے ؟

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

(37:156) ام لکم سلطان مبین۔ ام بطور حرف اضراب استعمال ہوا ہے ای بل ألکم حجۃ واصحۃ نزلت من السماء بان الملئکۃ بناتہ تعالیٰ بلکہ کیا تمہارے پاس کوئی آسمان سے نازل شدہ واضح دلیل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ فائدہ : پہلے فرمایا الربک البنات ولہم البنون یہ صورت عقلاً محال ہے لہٰذا یہ ان کا دعوی عقلا باطل ہوا۔ پھر فرمایا :۔ ام خلقنا الملئکۃ انثا وہم شھدون ۔ یہ صورت عینی شہادت کی ہے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے لہٰذا یہ دعوی بھی باطل ٹھہرا۔ تیری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ :۔ اس امر کی کوئی واضح دلیل کسی معتبر کی طرف سے ہو اور وہ معتبر ذات خدا وند تعالیٰ کی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ :۔ اگر تمہارے پاس کوئی ایسا دستاویزی ثبوت ہے تو پیش کرو۔ ام لکم سلطن امبین ۔ فاتوا بکتابکم ان کنتم صدقین ۔ ایس کوئی کتاب بھی تو ان کے پاس نہیں ہے لہٰذا یہاں بھی وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ لہٰذا ان کا یہ دعوی کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ہر لحاظ سے باطل ہے اور وہ محض ہٹ دھرمی اور جہالت کی بناء پر اس پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے

(37:158) جعلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جعل مصدر ایسی دستاویز جو کہ بمعنی بنانا۔ ٹھہرانا۔ مقرر کرنا۔ انہوں نے ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے قرار دیا ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع کفار قریش ہیں۔ بینہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ الجنۃ : یہ جن یجن جنا (باب نصر) سے مشتق ہے۔ جن بمعنی ڈھانپ لینا چھپا لینا ۔ جو اس سے پوشیدہ ہوجانا۔ الجنۃ۔ الجن کی جمع ہے اور معنی مفعول مستعمل ہے۔ یعنی نظروں سے چھپا ہوا۔ پوشیدہ۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ لفظ جن کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) انسان کے مقابلہ میں ان تمام روحانیوں کو جن کہا جاتا ہے جو اس سے مستور ہیں۔ اس صورت میں جن کا لفظ ملائکہ اور شیاطین دونوں کو شامل ہے لہٰذا تمام فرشتے جن ہیں اور تمام جن فرشتے نہیں۔ اسی اعتبار سے ابو صالح نے کہا ہے کہ سب فرشتے جن ہیں۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ نہیں بلکہ جن روحانیوں کی ایک قسم ہیں۔ کیونکہ دوحانیوں کی تین اقسام ہیں :۔ (1) اخیار (نیک) اور یہ فرشتے ہیں۔ (2) اشرار (بد) اور یہ شیاطین ہیں۔ (3) اوساط (درمیانی) جن میں بعض نیک اور بعض بد ہیں اور یہ جن ہیں۔ چناچہ سورة الجن میں ہے : وانا منا المسلمون ومنا القسطون ۔ (73-1-14) اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ یہاں الجنۃ سے کونسی مخلوق مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں لیکن بہتر قول یہی ہے کہ یہاں الجنۃ سے مراد الملئکۃ ہیں اور جن کا لفظ اپنے لغوی و مفہوم کا یہ اعتقاد ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ نسبا۔ اسم ۔ قرابت دار۔ باپ کے رشتہ دار ۔ یا محض قرابت، رشتہ، نسبۃ و نسبۃ۔ باپ کی قرابت داری۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ھو الذی خلق من الماء بشرا فجعلہ نسبا وصھرا۔ (25:54) اور وہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا (باپ کی طرف سے) اور سسرال والا ( سسر کی طرف سے) بنایا۔ یعنی اس کے ودھیالی (دادا کے گھر کے یا دادا کے خاندان کے) اور ننھیالی (نانا کے گھر یا نان کے خاندان کے) رستے بنائے۔ نسب واحد انساب جمع ددھیالی رشتہ دار۔ اسی سے مناسبت (باب مفاعلۃ) ایک جیسا ہونا۔ اور انساب (افتعال) کسی سے اپنی نسبت کرنا۔ ولقد میں عاؤ قسمیہ ہے لام تاکید کا۔ اور قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے :۔ ولقد علمت الجنۃ ای واللہ لقد علمت الجنۃ۔ انھم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب ان کفار کی طرف راجع ہے جو یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ واؤحالیہ بھی ہوسکتا ہے۔ لمحضرون۔ لام تاکید کا ہے محضرون اسم فعول جمع مذکر حاضر، محضر واحد۔ وہ لوگ جو حاضر لائے جائیں گے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور (کفار قریش نے) اللہ اور فرشتوں کے درمیان نسب کا رشتیہ قرار دے رکھا ہے خدا کی قسم یہ فرشتے خون جانتے ہیں کہ یہ (فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنے والے) لوگ (اللہ کے حضور) پیش کئے جانے والے ہیں (اپنے اس افتراء کی سزا پانے کیلئے) فائدہ : آیت 158 سے خطاب سے غیب کی طرف التفات یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ آیات 156-157 میں کئے گئے سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے لہٰذا ازراہ توبیخ ان کو خطاب کے درجہ سے فرا دیا گیا ہے۔