Ayah 26:197(26:197) اولم یکن لہ ایۃ ان یعلمہ علمؤا بنی اسرائیل الف استفہامیہ انکاری کے لئے ہے واؤ کلام مقدرہ پر عطف کے لئے ہے جیسا کہ کہا ہو اغفلوا عن ذلک ولم یکن لہم ۔۔ الاٰیۃ لم یکن فعل ناقص لہم متعلق بالکون۔ ان یعلمہ علموا بنی اسرائیل (ای معرفۃ علماء بنی اسرائیل القرآن۔ علمائے بنی اسرائیل کا قرآن کے متعلق علم) اس کا اسم اور ایۃ اس کی خبر۔ سو مطلب یہ ہوا کہ :۔ کیا علماء بنی اسرائیل کا قرآن مجید کے متعلق علم جس کا ذکر ان کی کتابوں میں مذکور ہے ان کے لئے کافی دلیل نہیں۔
یعلمہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کے لئے بھی کہ آپ کی نعمت وصفات بھی تورات وغیرہ میں موجود ہیں ۔ لہم کی ضمیر جمع مذکر غائب قریش مکہ کے لئے ہے۔
Ayahs 26:198–199(26:198) الفائدہ : آیۃ 198-199 کو سمجھنے کے لئے یہ امر زیر نظر رہے کہ کفار کا القرآن کو منزل من اللہ تسلیم نہ کرنے ہر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ حضور خود عربی ہیں اور فصیح و بلیغ بھی ہیں اس لئے ان کے لئے ایسا کلام خود بنا لینا کوئی مشکل نہیں یہ ہر دو آیات اس کا رد ہیں۔
علی بعض الاعجمین۔ کسی عجمی (غیر عربی) پر۔ بعض نے عجمی اور اعجمی میں بہ فرق کیا ہے کہ عجمی غیر عربی کو کہتے ہیں اور عجمی غیر فصیح کو خواہ وہ عربی ہی ہو۔ یعنی اگر ہم یہ قرآن پر اتارتے اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو بھی یہ ایمان نہ لاتے۔
Ayahs 26:200–201(26:200) کذلک۔ اول کاف حرف تشبیہ ذا اسم اشارہ ( یہ۔ اس) ل علامت اشارہ بعید آخری کاف حرف خطاب واحد مذکر۔ کذلک سے اشارہ مذکورہ سابق کی طرف ہوتا ہے۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔ مؤنث کے لئے ہو تو کذلک آئے گا۔ اسی طرح کذلکم وکذلکن ہے۔
سلکنہ : سلکنا ماضی جمع متکلم سلک یسلک (باب نصر) سلک مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ ہم نے اس کو چلایا۔ ہم نے اس کو داخل کیا ہم نے اس کو گھسایا۔ ضمیر ہ واحد مذکر غائب تکذیب و تکفیر کے لئے ہے یعنی ہم نے تکذیب و تکفیر کی عادت مجرموں کے دل میں داخل کردی ہے۔
یروا مضارع منصوب جمع مذکر غائب رویۃ (یہاں تک کہ) وہ دیکھ لیں ۔ مضارع کا نصب حتی کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد ان مقدرہ ہوتا ہے اور فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔
Ayah 26:202(26:202) فیاتیہم : یاتی مضارع واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان پر آجائے یاتی میں ضمیر فاعل کا مرجع العذاب الالیم ہے (آیۃ 201) سو وہ عذاب الیم ان پر اچانک آجائے گا۔عطف کے لئے ہے اور یاتی کا عطف یروا پر ہے اور اس عمل کی وجہ سے منصوب ہے۔
بغتۃ۔ اچانک ، ایک دم ۔ یکایک۔
لا یشعرون مضارع منفی جمع مذکر غائب شعور مصدر (باب نصر) وہ شعور نہیں رکھتے ۔ وہ سمجھ نہیں پاتے۔ یعنی ان کو اس کے آنے کی خبر تک بھی نہ ہوگی !
Ayah 26:203(26:203) فیقولوا۔ یہاں بھی الفاء عطفیہ ہے اور یقولوا کا عطف یروا (201) پر ہے مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ پھر وہ کہیں گے۔ منظرون اسم مفعول جمع مذکر منظر واحد۔ انظار (افعال) مصدر مہلت دئیے ہوئے۔ ہل نحن منظرون کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے ؟
Ayah 26:204(26:204) افبعذابنا یستعجلون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے استعجال (استفعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے وہ جلدی مانگتے ہیں ۔ یعنی اب جو ان کو کفر وشرک پر عذاب الیم سے ڈرایا جا رہا ہے تو کبھی کہتے ہیں کہ یہ یوں ہی پچھلوں کی سی باتیں اور ڈراوے ہیں ان میں حقیقت نہیں اور بار بار اپنے رسولوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہارا یہ ڈراوا صحیح ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں لے آتے (اس کا قرآن حکیم میں اور اسی سورة میں بار بار ذکر ہے) اب ان کا یہ حال ہو رہا ہے کہ عذاب کو دیکھتے ہی پکار اٹھے ہیں کہ کیا کوئی مہلت کی صورت نکل سکتی ہے ؟
Ayahs 26:205–208(26:205) افرأیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ بھل اتو نے دیکھا۔ کیا تو نے غور کیا۔ ہمزہ اولیٰ بلفظ استفہام تقریر و تنبیہ کے لئے ہے محض استفہام کے لئے نہیں۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں کہ ارأیت عربی میں اخبرنی (تو مجھے بتا) کے قائم مقام ہے اور اس پر ک داخل ہوتا ہے اور تاء کو تثنیہ جمع اور تانیث میں اسی کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور تغیر و تبدل کاف پر ہوتا ہے تاء پر نہیں ۔ مثلا ارایتک ھذا الذی (17:62) قل ارایتکم (6:40)
متعنھم ماضی جمع متکلم ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ متع یمتع تمیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی سازوسامان دے کر بہرہ مند کیا
سنین : سنۃ کی جمع ۔ کئی سال۔ بھلا بتاؤ تو اگر ہم سالوں ان کو دنیاوی عیش و عشرت کا مزہ اٹھانے دیں پھر جس عذاب کا وعدہ ان سے کیا تھا۔ وہ ان پر آجائے تو وہ عیش و عشرت ان کے کس کام کا ؟
آیت 202 میں ان کے جواب میں یہ کہا گیا کہ اب نہ مہلت ملنے کا وقت ہے اور نہ قبول ایمان کا ۔ آیت نمبر 205، 206، 207 ۔ تم نے دیکھ لیا کہ دنیاوی عیش و عشرت تمہارے کسی کام نہ آیا۔
آیت نمبر 204 جملہ معترضہ ہے اور ارشاد من جانب اللہ تعالیٰ ہے آیت نمبر 205 سے پھر وہی سلسلہ کلام ہے جو کہ آیت 202 میں تھا۔
Ayah 26:209(26:209) ذکری : ذکر یذکر کا مصدر ہے نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد دلانا۔ پندو عظمت۔ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔
یہ یا تو ضمیر منذرون (آیۃ 208) کا حال ہے کہ وہ پندو نصائح کرتے ہوئے انہیں (مشرکین) کو ڈراتے تھے۔ یا یہ خبر ہے جس کا مبتداء محذوف ہے ای ھذہ ذکری یہ پندو موعظت ہے بار بار ذکر کرکے متنبہ کرنا ہلاکت سے۔ اس صورت میں یہ جملہ معترضہ ہے یا منذرین کی صفت بمعنی ذو ذکری اصحاب تذکرہ و موعظت۔
Ayah 26:210(26:210) ما تنزلت بہ : ما نافیہ ہے۔ تنزلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ اس قرآن کو (جماعت) شیاطین لے کر نہیں اتری ۔ تنزل (تفعل) مصدر۔
Ayah 26:211(26:211) ما ینبغی : ما نافیہ ہے ینبغی مضارع واحد مذکر غائب۔ انبغاء (انفعال) سے سزا وار نہیں، لائق نہیں۔ ینبغی لہ اسے چاہیے اس کے لئے مناسب ہے۔ اسے سزاوار ہے۔ فعل ماضی مستعمل نہیں۔ ما ینبغی لہم ان کو زیب نہیں۔ ان کو مناسب نہیں۔ ان کو لائق نہیں ہے۔
ما یستطیعون : ما نفی کے لئے ہے یستطیعون مضارع جمع مذکر غائب ۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔
Ayah 26:212(26:212) لمعزولون لام تاکید کے لئے ہے معزولون اسم مفعول جمع مذکر۔ عزل مصدر (باب ضرب) الگ کئے ہوئے۔ یعنی روکے گئے۔
Ayah 26:213(26:213) لا تدع فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ دعاء دعوۃ سے دعا یدعوا سے۔ لاتدع میں آخر سے واؤ حرف علت محذوف ہے یہ صیغہ حاضر کمال تخویف اور انتہائی اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔
المعذبین ۔ اسم مفعول جمع مذکر عذاب سے۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب یافتہ۔ جن کو عذاب دیا گیا۔
Ayah 26:214(26:214) انذر فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ انذر افعال سے۔ تو ڈرا تو ڈر سنا۔
عشیرتک۔ مضاف مضاف الیہ تیری برادری۔ تیرا قبیلہ۔ تیرا کنبہ ۔ تیرے رشتہ دار۔
اس لفظ کے ماخذ میں اختلاف ہے۔ بعض اس کا ماخذ عشرۃ بناتے ہیں جس کے معنی معاشرت باہمی میل جول کے ہیں۔ یہی ان لوگوں کا نمایاں وصف ہے (بہادری، قبیلہ، کینہ وغیرہ) ۔ یا یہ عشرۃ سے ماخوذ ہے کیونکہ یہی عدد ہی کامل ہوتا ہے گویا وہ انسان کے لئے بمنزلہ عدد کامل کے ہیں بعنی مکمل ہونے میں عدد کامل کی مانند ہیں۔
الا قربین۔ قریبی۔ قرابت والے۔ قریب کے رشتہ دار۔ یہ عشیرتک کی صفت ہے۔ اپنی برادری کے قریبی رشتہ دار۔
Ayah 26:215(26:215) اخفض۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر خفض مصدر باب ضرب ہے جس کے معنی پست ہونے نرم روی اختیار کرنے اور جھکنے کے ہیں۔ یہ رفع کی ضد ہے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واخفض لہما جناح الذل (17:24) اور عجزو نیاز سے ان کے آگے (ماں باپ کے آگے) جھکے رہو۔
واخفض جناحک۔ اور اپنے پروں کو نیچے کیا کیجئے۔ یعنی مشفقانہ اور فروتنی سے پیش آئیے۔
من المؤمنین میں من تبعیضیہ ہے۔ یہاں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ انذر عشیرتک الاقربین کے نیچے میں تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لاکر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت کا رویہ اختیار کریں اور جو تمہاری بات نہ مانیں (آیت 216) ان سے اعلان برأت کردو۔
دوسرے یہ کہ قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے لیکن انہوں نے عملا آپ کی پیروی اختیار نہ کی تھی بلکہ وہ بدستور اپنی گمراہ سوسائٹی میں مل جل کر اسی طرح کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ جیسی دوسرے کفار کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ماننے والوں کو ان اہل ایمان سے الگ قرار دیا۔ جنہوں نے حضور ﷺ کی صداقت تسلیم کرنے کے بعد آپ کا اتباع بھی اختیار کرلیا تھا ۔ تواضح برتنے کا حکم صرف اسی مؤخر الذکر گروہ کے لئے تھا۔ باقی رہے وہ لوگ جو حضور ﷺ کی فرمانبرداری سے منہ موڑے ہوئے تھے ان کے متعلقحضور ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ ان سے بےتعلقی کا اظہار کر دو اور صاف صاف کہہ دو کہ اپنے اعمال کا نتیجہ تم خود بھگتو گے۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:216–217(26:216) عصوک : عصوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ عصوا معصیۃ اور عصیان مصدر سے ہے۔ عصوا دراصل عصیوا تھا یاء متحرک ماقبل مفتوح اس لئے یاء کو الف سے بدلا۔ واؤ اور یاء دو ساکن جمع ہوئے لہٰذا الف جو یاء کے بدل میں تھا گرگیا۔ اور عصوا رہ گیا۔ انہوں نے تیرا کہنا نہ مانا۔ انہوں نے تیری نافرمانی کی۔ انہوں نے تیری اطاعت نہ کی ۔
Ayahs 26:218–220(26:218) تقوم مضارع واحد مذکر حاضر۔ قیام مصدر۔ (باب نصر) تو کھڑا ہوتا ہے تو اٹھتا ہے۔ ای تقوم الی الصلوۃ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔
تقلبک۔ مضاف مجاف الیہ۔ تقلب بروزن (تفعیل) مصدر ہے۔ پھرنا۔ آنا جانا ۔ گھومنا۔ الٹنا پلٹنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرا گھومنا۔ تیرا پھرنا ۔ تیرا آنا جانا۔ تقلب منصوب بوجہ مفعول یری کے ہے۔
السجدین۔ سجدہ کرنے والے بمعنی نمازی۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔
Ayah 26:221(26:221) انبئکم : انبی مضارع واحد متکلم کم ضمیر جمع مذکر حاضر میں تم کو بتاؤں ۔ میں تم کو خبر دوں ۔ یا ۔ خبردوں گا۔
من موصولہ ہے۔
تنزل مضارع واحد مؤنث غائب اصل میں تتنزل تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی تنزل تفعل مصدر وہ اترتی ہے۔ وہ اترے گی۔ یہاں یہ صیغہ الشیطین کے لئے استعمال ہوا ہے۔ علی من تنزل الشیطین۔ شیطان کس پر اترتے ہیں۔
Ayahs 26:222–223(26:222) افاک : افک سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت جھوٹ بولنے والا۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہتے ہیں والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا (یہاں مؤتفکۃ سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں الٹ دیا تھا۔
جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک بولا جاتا ہے مثلاً ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم (24:11) بیشک جنہوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے۔
اتیم : (فعیل بمعنی فاعل) گنہگار۔ بڑا بدکار۔ بڑا ناہنجار۔ کثیر الاثم۔
Ayah 26:224(26:224) یتبعھم : یتبع مضارع واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل الغاون کی طرف راجع ہے) ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب الشعراء کی طرف راجع ہے۔
الغاون۔ اسم فاعل جمع مذکر غی ۔ غوی۔ وغوایۃ مصدر۔ الغاوی واحد۔ اصل میں الغاویون تھا۔ گمراہ۔ خواہش پرست۔ یہاں مراد شعراء کے کج رو اور گمراہ پیرو۔ کج رو مدح سرا ہیں۔
مبالغہ آمیز مدح۔ بیجا مذمت۔ جھوٹا تغزل ، جذبات محبت کی فحش اور غلط تصویر کشی رندی۔ مے نوشی۔ بےحیائی۔ عریانی۔ نسبی فخر۔ شخصی اور قومی شیخی۔ غرض اخلاق ذمیمہ کا ابنار۔ عموما شعراء کے کلام میں ہوتا ہے ۔ ماسوائے اہل حق و صداقت کے، کجراہ۔ بیوقوف۔ سبک سر۔ پڑھے لکھے اور جاہل پرستار ان ادب ایسے کلام کو مزے لے لے کر پڑھتے۔ گاتے سر دھنتے اور جو لان فکر کی سیرگاہ بناتے ہیں اس جگہ ایسے ہی غلط رو۔ کجراہ اور گمراہ مراد ہیں۔ (معجم القرآن)
Ayahs 26:225–226(26:225) واد اصل میں وادی تھا۔ (ودی مادہ) الوادی اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اسی سے وہ پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے اس کی جمع اور یۃ ہے۔ جیسے ناد کی جمع اندیۃ ہے اور ناج کی جمع انجیۃ ہے۔ استعارہ کے طور پر مذہب، طریقہ اور اسلوب بیان کو وادی کہا جاتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے فلان فی واد غیر وادیک۔ کہ فلاں کا مسلک تجھ سے جدا گانہ ہے۔ یہاں اس آیت میں بھی فی کل واد سے مختلف اسالیب سخن مراد ہیں َ جیسے مدح۔ ہجو۔ جدل۔ غزل وغیرہ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے :۔
اذاما قطعنا وادیا من حدیثنا الی غیرہ زدنا الاحادیث وادیا
جب ہم موضوع سخن کی ایک وادی کو قطع کرلیتے ہیں تو دوسری وادی میں داخل ہوجاتے ہیں۔
یہیمون۔ مضارع جمع مذکر غائب ھیم وھیمان (باب ضرب) مصدر۔ سرگشتہ۔ مستھام۔ عشق کی وجہ سے جران و سرگردان۔ بیمار عشق۔ وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
Ayah 26:227(26:227) انتصروا : انتصار (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے بدلہ لیا۔ انہوں نے انتقام لیا۔
ما ظلموا۔ میں ما مصدریہ ہے۔ من بعد ما ظلموا۔ اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا۔ ان پر ظلم کئے جانے کے بعد۔ ان پر زیادتی ہوجانے کے بعد۔ یعنی جب مومن ، صالح اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ ظلم کی اجائے یعنی ان کے ساتھ زیادتی کی جائے (ہجو کرکے یا کسی اور طرح) تو بدلہ لینے کیلئے اشعار میں جواب دینے میں وہ مستثنیٰ ہیں۔ یہ استثناء اس آیت کے مصداق ہے ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل (42:41) اور جو اپنے پر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
اس استثناء میں شعراء اسلام بھی آگئے۔ مثلاً حضرت حسن بن ثابت ؓ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کرب بن مالک ؓ اور صحابہ کرام میں اکثر شعراء تھے۔ ان سب کی شاعری قوتیں اسلام کی خدمت میں اور عقائد حقہ کی تبلیغ میں صرف ہو رہی تھیں۔
ای۔ کس ۔ کسی۔ کیا۔ کونسی۔ استفہام کے لئے ہے۔
منقلب۔ اسم ظرف، مکان و زمان ۔ انقلاب (انفعال) مصدر۔ لوٹنے کی جگہ۔ لوٹنے کا وقت۔ انجام۔ نتیجہ۔
مصدر میمی بمعنی انقلاب بھی ہوسکتا ہے۔ لوٹنا ۔ قلب مادہ۔
ینقلبون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ انقلاب مصدر۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ لوٹیں گے۔ ای منقلب ینقلبون۔ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔