Ayah 26:80(26:80) یشفین۔ مضارع واحد مذکر غائب شفاء مصدر نون وقایہ ی محذوف ضمیر مفعول واحد متکلم۔ وہ مجھے شفاء دیتا ہے۔
Ayah 26:81(26:81) یمیتنی۔ مضارع واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ امانۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ مجھے موت دیتا ہے۔
یحیین۔ مضارع واحد مذکر غائب احیاء افعال نون وقایہ ی متکلم ضمیر مفعول ۔ وہ مجھے زندہ کرتا ہے یا کرے گا۔
Ayah 26:82(26:82) اطمع مضارع واحد متکلم طمع مصدر باب سمع میں توقع رکھتا ہوں۔ الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان۔
فائدہ : آیات 77 تا 82 میں اول رب العالمین کو مستثنیٰ کیا ان اصنام سے جو بہر صورت انسان کے دشمن ہیں پھر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں حمد وثناء کے بعد آیات 83 تا 87 میں اس رب العالمین کے حضور مزید انعام و اکرام کے لئے دعا ہے۔
Ayah 26:83(26:83) رب یا ربی کا مخفف ہے اے میرے رب۔
ھب۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ مصدر (باب فتح) تو بخشش کر۔ تو عطا کر۔
حکما۔ حکم ۔ حکم کرنا حکم یحکم کا مصدر ہے کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے لیکن یہاں مراد علم و عمل کا کمال ہے ای کمالا فی العلم والعمل (مظہری)
الحقنی۔ الحق الحاق (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ تو مجھے ملا دے ۔ تو مجھے شامل کر دے۔
Ayah 26:84(26:84) لسان صدق : لسان اسم مفرد منصوب ۔ مضاف۔ صدق۔ راستی سچائی۔ نیک نامی۔ (صدق یصدق کا مصدر ۔ مضاف الیہ۔ بمعنی ذکر جمیل ۔ اچھا تذکرہ ۔ تعریف۔ سچی ناموری۔
ہر وہ فعل جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے فضیلت کے ساتھ متصف ہو اسے صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے اس بناء پر ایسے فعل کو صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔ جیسے فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54:55) یعنی سچے مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ان لہم قدم صدق عند ربھم (1:2) کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (راغب) اور ولقد بوا بنی اسرائیل مبوا صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا۔
آیت ہذا : واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور میرا ذکر نیک آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ۔ یعنی کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے ایسا صالح بنا دے کہ میری موت کے بعد جب لوگ میری تعریف کریں تو ان کی تعریف غلط نہ ہو۔
Ayahs 26:85–86(26:85) ورثۃ : اسم فاعل جمع مذکر مجرور مضاف وارث کی جمع ۔ مالک۔ حصہ دار۔ ورث یرث (حسب) ورث، ارث، ارثۃ، وراثۃ سے۔
جنۃ۔ مضاف ، مضاف و مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ورثۃ کا جو مضاف ہے جنۃ النعیم کا۔
النعیم۔ نعمت ۔ راحت۔ عیش۔ اسم معرفہ۔ مضاف الیہ۔
Ayah 26:87(26:87) لاتخزنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے رسوا نہ کر۔ ای بتعذیب ابی یوم القیامۃ او یبعثہ فی اعداد الضالین یعنی قیامت کے روز میرے باپ کو عذاب دے کر یا اسے گمراہوں میں اٹھا کر مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔
Ayah 26:88(26:88) یوم لاینفع مال ولا بنون یہ جملہ یوم یبعثون کا بدل ہے اور اس دن کی سختی کی تاکید کے لئے آیا ہے۔
Ayah 26:89(26:89) الا من اتی اللہ بقلب سلیم ۔ مگر وہ شخص جو لے آیا اللہ تعالیٰ کے حضور قلب سلیم۔ قلب سلیم سے مراد مومن کا دل ہے کیونکہ وہ کفر و نفاق کی بیماریوں سے محفوظ ہوتا ہے اور کافر کا دل مریض ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے فی قلوبھم مرض۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ کافر نے نیک کاموں میں جتنا روپیہ بھی صرف کیا ہوا ہے اسے اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ اسی طرح اگر کسی کافر کی اولاد مومن اور صالح بھی ہو تو بھی اس کی شفاعت اس کافر کے حق میں مقبول نہ ہوگی۔ لیکن جس شخص کا دل کفر و نفاق کی بیماری سے محفوظ رہا اس نے راہ حق میں جو مال خرچ کیا ہوگا اس کا کئی گنا اجر روز قیامت اسے دیا جائے گا نیز اس کی نیک اور صالح اولاد کی دعائیں اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔ اور قیامت کے دن ان کی شفاعت اپنے والدین کے حق میں مقبول ہوگی اور انہیں نفع پہنچائے گی۔
واما المؤمن فینفعہ مالہ الذی انفقہ فی الطاعۃ وولدہ بالشفاعۃ والاستغفار۔ (مظہری، ضیاء القرآن)
Ayah 26:90(26:90) ازلفت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ ازلاف (افعال مصدر۔ وہ قریب لائی گئی ۔ یہاں مستقبل کے معنی میں استعمال ہوا ہے بمعنی وہ قریب لائی جائے گی۔
Ayah 26:91(26:91) برزت۔ ماضی مجہول بمعنی مستقبل واحد مؤنث غائب تبریز تفعیل مصدر۔ وہ ظاہر کردی جائے گی۔ برز یبرز (نصر) بروز مصدر۔ کھلم کھلا ظاہر ہونا۔
الغوین۔ اسم فاعل جمع مذکر غاوی واحد حالت نصب۔ الغاو ون۔ بحالت رفع گمراہ۔ کجراہ ۔ غوایۃ مصدر۔ غوی یغوی (ضرب) غی اور غوی یغوی (سمع) گمراہ ہونا۔
Ayah 26:92(26:92) اینما : این اور ما سے مرکب ہے این کہاں۔ ما موصولہ ہے کہاں ہیں (جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے) ۔
Ayah 26:93(26:93) ینصرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (کیا) وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کرتے ہیں۔
ینصرون ۔ (یا) وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ انتقام لے سکتے ہیں ۔ اپنے رب کا بچاؤ کرسکتے ہیں۔ انتصار (افتعال) سے۔
Ayah 26:94(26:94) فکبکبوا :تعقیب کا ہے کبکبوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب الکب کے معنی کسی کو منہ کے بل گرانے کے ہیں جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فکبت وجوہہم فی النار (27:90) تو ان کو منہ کے بل اوندھا آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ الکبکبۃ کسی چیز کو اوپر سے لڑھکاکر گڑھے میں پھینک دینا۔ کب ثلاثی مجرد۔ کبکب رباعی مجرد۔ دونوں ایک ہی معنی میں مستعمل ہیں لیکن رباعی مجرد میں آکر معانی میں مبالغہ کا عنصر پایا جاتا ہے ۔ کبکبوا فیہا۔ ای القوافی الجحیم علی وجوہہم مرۃ بعد اخری الی ان یستقروا فیہا کے معنی ہوئے کہ ان کو بار بار منہ کے بل دوزخ میں گرایا جائے گا۔ تاآنکہ اس کی گہرائی میں جا ٹکیں گے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجحیم (آیت 91) کی طرف راجع ہے۔
ھم : ای الاصنام۔ بت۔ جھوٹے معبود (ماکنتم تعبدون من دون اللہ۔ جنہیں تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجتے تھے) ۔
الغاو ون۔ گمراہ۔ کج رو۔ ( ملاحظہ ہو آیت 91)
Ayah 26:95(26:95) جنود ابلیس۔ مضاف مجاف الیہ۔ ابلیس کی فوجیں۔
اجمعون۔ وہ سب کے سب، تاکید کے لئے ہے یعنی اصنام۔ ان کے پجاری اور ابلیس کے لشکر۔ سب کے سب (جہنم میں اوندھے منہ گرائے جائیں گے) ۔
Ayah 26:96(26:96) قالوا : ای الغاو ون ضمیر کا مرجع گمراہ پجاری ہیں جو معبود ان باطل کی پوجا کرتے رہے تھے۔
وھم فیہا یختصمون۔ میں واؤ حالیہ ہے فیہا میں ھا ضمیر جحیم کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب گمراہ پجاریوں اور شیاطین کی طرف راجع ہے۔ یا گمراہ پجاریوں اور معبوان باطل کی طرف راجع ہے ۔ یا ان تینوں گروہوں کے لئے ہے ۔ یختصمون مضارع جمع مذکر غائب وہ جھگڑا کرتے ہوں گے اختصام (افتعال) سے یہ جملہ حالیہ ہے یعنی جب یہ اصنام اور ان کے پجاری اور شیاطین دوزخ اوندھے بل گرادیئے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے ۔
Ayah 26:97(26:97) تاللہ : ت قسم کے لئے ہے اللہ کی قسم۔ یہاں سے لے کر آیت 102 تک گمراہ پجاریوں کا کالم ہے۔
ان کنا لفی ضلال مبین ۔ میں ان ان سے مخففہ ہے اس کا اسم ضمیر الشان محذوف ہے۔ یعنی انہ شان یہ ہے کہ کنا لفی ضلال مبین : لفی میں لام فارقہ ہے۔ ہم صریح گمراہی میں تھے۔
Ayah 26:98(26:98) اذ۔ جب ۔ جس وقت۔ ظرف زمان ہے۔
نسویکم۔ مضارع جمع متکلم۔ تسویۃ (تفعیل) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تم کو (عبادت میں رب العالمین کے) برابر گردانتے تھے۔ کم ضمیر جمع مذکر اصنام کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 26:99–100(26:99) اضلنا۔ اضل۔ ماضی واحد مذکر غائب، اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ اس نے ہم کو بہکایا۔ اس نے ہم کو گمراہ کیا۔
المجرمین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ معرفہ۔ کافر۔ گنہگار۔ مجرم لوگ۔ یعنی شیاطین جنہوں نے معبودان باطل کی پوجا کے لئے بہکایا
Ayah 26:101(26:101) حمیم : الحمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے وسقوا ماء حمیما (47:15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ گہرے اور قریبی دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کہ اپنے دوست کی حمایت میں بھڑک اٹھتا ہے اور گرم جوشی دکھاتا ہے چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔
صدیق حمیم۔ گہرا دوست، گرم جوش دوست۔
Ayah 26:102(26:102) فلو۔ یہاں لو شرطیہ بھی ہوسکتا ہے یعنی اگر ہمارے لئے ممکن ہوتا دوبارہ (دنیا میں) جانا فنکون (جزائ) تو ہم اہل ایمان سے ہوتے۔ اور لو تمنائی بھی ہوسکتا ہے کاش ہمیں (دنیا میں) دوبارہ جانا ملتا فنکون من المؤمنین (جواب تمنا) تو ہم مومن ہو جاتے
کرۃ : الکر اصل میں مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو بالذات یا بالفعل پلٹانا یا موڑ دینا۔ کر کے بعد ۃ وحدت کی ہے جس کے معنی ہیں ایک بار لوٹنا۔ ایک پھیرا۔ ایک مرتبہ واپسی۔ یہاں اس کے معنی ہیں عالم آخرت سے لوٹ کر ایک بار پھر دنیا میں جانا۔
Ayahs 26:103–104(26:102) ذلک کا اشارہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا قصے اور آخرت کے دن کا نقشہ جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کی طرف ہے۔
لایۃ۔ نشانی (عبرت کی یا اس کی توحید اور قدرت کی) لام تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 26:105(26:105) کذبت قوم نوح ن المرسلین ۔ ۔ کذبت فعل ماضی قوم نوح مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل المرسلین ۔ مفعول
Ayah 26:106(26:106) لہم اخوھم میں ضمیر جمع مذکر غائب قوم نوح کی طرف راجع ہے اور اخوت و بھائی چارہ کا رشتہ نسبی ہے دینی نہیں۔
الا تتقون۔ میں الف استفہامیہ ہے لا نفی کیلئے ہے۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
Ayah 26:107(26:107) امین : امانۃ اور امن سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی۔ کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔
Ayah 26:108(26:108) اطیعون : ای اطیعونی تم میری فرمانبرداری کرو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف۔
Ayahs 26:109–110(26:109) علیہ : ای علی تبلیغ ھذا۔ اس دعوت الی الحق اور وعظ و نصیحت کا ۔
اجر۔ صلہ۔ اجرت۔ معاوضہ۔ بدلہ۔ مزدوری۔
ان۔ نافیہ ہے۔ علی رب العالمین۔ پروردگار عالم کے ذمہ۔
Ayah 26:111(26:111) الارزلون۔ کمین لوگ۔ رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے زیادہ نکما۔ رذیل۔
Ayah 26:112(26:112) ما علمی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے مجھے کیا علم ؟ اور نافیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ مجھے معلوم نہیں۔
بما کانوا یعملون۔ یہ کیا کرتے ہیں یا یہ کیوں ایمان لائے ہیں۔
ترجمہ ہوں ہوگا :۔ (1) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیا کام کرتے ہیں یعنی ان کا پیشہ و حرفہ کیا ہے جس کی بناء پر تم رذیل سمجھتے ہو ان کو۔ (2) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیوں ایمان لائے ہیں اپنی شہرت کے لئے یا دل سے۔
Ayah 26:113(26:113) ان نافیہ ہے۔ ان حسابھم الا علی ربی۔ ان کا حساب و محاسبہ میرے پروردگار کا کام ہے یہ اس کے ذمہ ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے ؟
لو تشعرون۔ کاش تم کو شعور ہوتا۔ کاش تم اتنی عقل رکھتے (کہ ان کے باطن کا محاسبہ میرا کام نہیں۔ میرے رب کا کام ہے)
Ayah 26:114(26:114) طارد۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر طرد۔ ہانکنے والا۔ حقیر سمجھ کر اپنے سے دور کرنے والا۔ طرد یطرد (نصر) ذلیل سمجھ کر ہانکنا اور دور کردینا۔ ( نیز ملاحظہ ہو 11:29) ما انا بطارد المؤمنین میں ان ایمان لانے والوں کو غریب و مسکین و حقیر سمجھ کر) اپنے سے دور کرنے والا نہیں ہوں۔
Ayah 26:115(26:115) ان نافیہ ہے۔
Ayah 26:116(26:116) لم تنتہ۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم واحد مذکر حاضر تنتہ اصل میں تنتھی تھا۔ لم کے آنے سے ی حرف علت حذف ہوگیا۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے بھی مادہ تو باز نہیں آئے گا۔
لتکونن۔ لام تاکید کا۔ تکونن کان سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ تو ضرور ہوجائے گا۔
المرجومین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور۔ مرجوم واحد رجم یرجم (نصر) رجم سے۔ سنگسار کرنا۔ من المرجومین۔ سنگسار کئے جانے والوں میں سے۔
Ayah 26:117(26:117) رب : ای یا ربی۔
کذبون اصل میں کذبونی تھا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ محذوف۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔
Ayah 26:118(26:118) افتح۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو فیصلہ کر دے۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں خواہ اس ازالہ کا ادراک ظاہری آنکھ سے ہو سکے یا اس کا ادراک بصیرت سے ہو مثلاً ولما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔ یا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض (7:96) تو ہم نے ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئیے۔ یعنی ان کو ہر طرح آسودگی اور فارغ البالی کی نعمت سے نوازتے۔
فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملہ کا فیصلہ کردیا۔ اور اس سے مشکل اور پیدگی کو دور کردیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (7:89) اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اسی سے الفتاح العلیم (34:26) ہے یعنی خوب فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا۔
الفاتحہ ہر چیز کے مبداء کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی وجہ سے سورة الفاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے افتح فلان کذا فلاں نے یہ کام شروع کیا۔
نجنی۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضرنی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے بجات دے۔
Ayah 26:119(26:119) الفلک المشحون موصوف صفت۔ المشحون اسم مفعول واحد مذکر۔ شحن مصدر (باب فتح) بھری ہوئی۔ الشحن کشتی یا جہاز میں سامان لادنا یا بھرنا۔