26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsانوار البیان

Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

(26:80) یشفین۔ مضارع واحد مذکر غائب شفاء مصدر نون وقایہ ی محذوف ضمیر مفعول واحد متکلم۔ وہ مجھے شفاء دیتا ہے۔
Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

(26:81) یمیتنی۔ مضارع واحد مذکر غائب ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ امانۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ مجھے موت دیتا ہے۔ یحیین۔ مضارع واحد مذکر غائب احیاء افعال نون وقایہ ی متکلم ضمیر مفعول ۔ وہ مجھے زندہ کرتا ہے یا کرے گا۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا

(26:82) اطمع مضارع واحد متکلم طمع مصدر باب سمع میں توقع رکھتا ہوں۔ الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان۔ فائدہ : آیات 77 تا 82 میں اول رب العالمین کو مستثنیٰ کیا ان اصنام سے جو بہر صورت انسان کے دشمن ہیں پھر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں حمد وثناء کے بعد آیات 83 تا 87 میں اس رب العالمین کے حضور مزید انعام و اکرام کے لئے دعا ہے۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے پروردگار مجھے علم و دانش عطا فرما اور نیکو کاروں میں شامل کر

(26:83) رب یا ربی کا مخفف ہے اے میرے رب۔ ھب۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ مصدر (باب فتح) تو بخشش کر۔ تو عطا کر۔ حکما۔ حکم ۔ حکم کرنا حکم یحکم کا مصدر ہے کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے لیکن یہاں مراد علم و عمل کا کمال ہے ای کمالا فی العلم والعمل (مظہری) الحقنی۔ الحق الحاق (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ تو مجھے ملا دے ۔ تو مجھے شامل کر دے۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

(26:84) لسان صدق : لسان اسم مفرد منصوب ۔ مضاف۔ صدق۔ راستی سچائی۔ نیک نامی۔ (صدق یصدق کا مصدر ۔ مضاف الیہ۔ بمعنی ذکر جمیل ۔ اچھا تذکرہ ۔ تعریف۔ سچی ناموری۔ ہر وہ فعل جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے فضیلت کے ساتھ متصف ہو اسے صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے اس بناء پر ایسے فعل کو صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔ جیسے فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54:55) یعنی سچے مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ان لہم قدم صدق عند ربھم (1:2) کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (راغب) اور ولقد بوا بنی اسرائیل مبوا صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا۔ آیت ہذا : واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور میرا ذکر نیک آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ۔ یعنی کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے ایسا صالح بنا دے کہ میری موت کے بعد جب لوگ میری تعریف کریں تو ان کی تعریف غلط نہ ہو۔
Ayahs 26:85–86

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

(26:85) ورثۃ : اسم فاعل جمع مذکر مجرور مضاف وارث کی جمع ۔ مالک۔ حصہ دار۔ ورث یرث (حسب) ورث، ارث، ارثۃ، وراثۃ سے۔ جنۃ۔ مضاف ، مضاف و مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ورثۃ کا جو مضاف ہے جنۃ النعیم کا۔ النعیم۔ نعمت ۔ راحت۔ عیش۔ اسم معرفہ۔ مضاف الیہ۔
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائینگے مجھے رسوا نہ کیجئیو

(26:87) لاتخزنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے رسوا نہ کر۔ ای بتعذیب ابی یوم القیامۃ او یبعثہ فی اعداد الضالین یعنی قیامت کے روز میرے باپ کو عذاب دے کر یا اسے گمراہوں میں اٹھا کر مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ بیٹے

(26:88) یوم لاینفع مال ولا بنون یہ جملہ یوم یبعثون کا بدل ہے اور اس دن کی سختی کی تاکید کے لئے آیا ہے۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا )

(26:89) الا من اتی اللہ بقلب سلیم ۔ مگر وہ شخص جو لے آیا اللہ تعالیٰ کے حضور قلب سلیم۔ قلب سلیم سے مراد مومن کا دل ہے کیونکہ وہ کفر و نفاق کی بیماریوں سے محفوظ ہوتا ہے اور کافر کا دل مریض ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے فی قلوبھم مرض۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کافر نے نیک کاموں میں جتنا روپیہ بھی صرف کیا ہوا ہے اسے اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ اسی طرح اگر کسی کافر کی اولاد مومن اور صالح بھی ہو تو بھی اس کی شفاعت اس کافر کے حق میں مقبول نہ ہوگی۔ لیکن جس شخص کا دل کفر و نفاق کی بیماری سے محفوظ رہا اس نے راہ حق میں جو مال خرچ کیا ہوگا اس کا کئی گنا اجر روز قیامت اسے دیا جائے گا نیز اس کی نیک اور صالح اولاد کی دعائیں اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔ اور قیامت کے دن ان کی شفاعت اپنے والدین کے حق میں مقبول ہوگی اور انہیں نفع پہنچائے گی۔ واما المؤمن فینفعہ مالہ الذی انفقہ فی الطاعۃ وولدہ بالشفاعۃ والاستغفار۔ (مظہری، ضیاء القرآن)
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

(26:90) ازلفت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ ازلاف (افعال مصدر۔ وہ قریب لائی گئی ۔ یہاں مستقبل کے معنی میں استعمال ہوا ہے بمعنی وہ قریب لائی جائے گی۔
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

(26:91) برزت۔ ماضی مجہول بمعنی مستقبل واحد مؤنث غائب تبریز تفعیل مصدر۔ وہ ظاہر کردی جائے گی۔ برز یبرز (نصر) بروز مصدر۔ کھلم کھلا ظاہر ہونا۔ الغوین۔ اسم فاعل جمع مذکر غاوی واحد حالت نصب۔ الغاو ون۔ بحالت رفع گمراہ۔ کجراہ ۔ غوایۃ مصدر۔ غوی یغوی (ضرب) غی اور غوی یغوی (سمع) گمراہ ہونا۔
Ayah 26:92

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟

(26:92) اینما : این اور ما سے مرکب ہے این کہاں۔ ما موصولہ ہے کہاں ہیں (جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے) ۔
Ayah 26:93

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے) تھے کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں ؟ یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟

(26:93) ینصرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (کیا) وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کرتے ہیں۔ ینصرون ۔ (یا) وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ انتقام لے سکتے ہیں ۔ اپنے رب کا بچاؤ کرسکتے ہیں۔ انتصار (افتعال) سے۔
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے

(26:94) فکبکبوا :تعقیب کا ہے کبکبوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب الکب کے معنی کسی کو منہ کے بل گرانے کے ہیں جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فکبت وجوہہم فی النار (27:90) تو ان کو منہ کے بل اوندھا آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ الکبکبۃ کسی چیز کو اوپر سے لڑھکاکر گڑھے میں پھینک دینا۔ کب ثلاثی مجرد۔ کبکب رباعی مجرد۔ دونوں ایک ہی معنی میں مستعمل ہیں لیکن رباعی مجرد میں آکر معانی میں مبالغہ کا عنصر پایا جاتا ہے ۔ کبکبوا فیہا۔ ای القوافی الجحیم علی وجوہہم مرۃ بعد اخری الی ان یستقروا فیہا کے معنی ہوئے کہ ان کو بار بار منہ کے بل دوزخ میں گرایا جائے گا۔ تاآنکہ اس کی گہرائی میں جا ٹکیں گے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجحیم (آیت 91) کی طرف راجع ہے۔ ھم : ای الاصنام۔ بت۔ جھوٹے معبود (ماکنتم تعبدون من دون اللہ۔ جنہیں تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجتے تھے) ۔ الغاو ون۔ گمراہ۔ کج رو۔ ( ملاحظہ ہو آیت 91)
Ayah 26:95

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)

(26:95) جنود ابلیس۔ مضاف مجاف الیہ۔ ابلیس کی فوجیں۔ اجمعون۔ وہ سب کے سب، تاکید کے لئے ہے یعنی اصنام۔ ان کے پجاری اور ابلیس کے لشکر۔ سب کے سب (جہنم میں اوندھے منہ گرائے جائیں گے) ۔
Ayah 26:96

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

(وہاں) وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

(26:96) قالوا : ای الغاو ون ضمیر کا مرجع گمراہ پجاری ہیں جو معبود ان باطل کی پوجا کرتے رہے تھے۔ وھم فیہا یختصمون۔ میں واؤ حالیہ ہے فیہا میں ھا ضمیر جحیم کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب گمراہ پجاریوں اور شیاطین کی طرف راجع ہے۔ یا گمراہ پجاریوں اور معبوان باطل کی طرف راجع ہے ۔ یا ان تینوں گروہوں کے لئے ہے ۔ یختصمون مضارع جمع مذکر غائب وہ جھگڑا کرتے ہوں گے اختصام (افتعال) سے یہ جملہ حالیہ ہے یعنی جب یہ اصنام اور ان کے پجاری اور شیاطین دوزخ اوندھے بل گرادیئے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے ۔
Ayah 26:97

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے

(26:97) تاللہ : ت قسم کے لئے ہے اللہ کی قسم۔ یہاں سے لے کر آیت 102 تک گمراہ پجاریوں کا کالم ہے۔ ان کنا لفی ضلال مبین ۔ میں ان ان سے مخففہ ہے اس کا اسم ضمیر الشان محذوف ہے۔ یعنی انہ شان یہ ہے کہ کنا لفی ضلال مبین : لفی میں لام فارقہ ہے۔ ہم صریح گمراہی میں تھے۔
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے

(26:98) اذ۔ جب ۔ جس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ نسویکم۔ مضارع جمع متکلم۔ تسویۃ (تفعیل) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تم کو (عبادت میں رب العالمین کے) برابر گردانتے تھے۔ کم ضمیر جمع مذکر اصنام کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 26:99–100

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو ان گنہگاروں نے گمراہ کیا تھا

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے

(26:99) اضلنا۔ اضل۔ ماضی واحد مذکر غائب، اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ اس نے ہم کو بہکایا۔ اس نے ہم کو گمراہ کیا۔ المجرمین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر۔ معرفہ۔ کافر۔ گنہگار۔ مجرم لوگ۔ یعنی شیاطین جنہوں نے معبودان باطل کی پوجا کے لئے بہکایا
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ گرم جوش دوست

(26:101) حمیم : الحمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے وسقوا ماء حمیما (47:15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ گہرے اور قریبی دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کہ اپنے دوست کی حمایت میں بھڑک اٹھتا ہے اور گرم جوشی دکھاتا ہے چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔ صدیق حمیم۔ گہرا دوست، گرم جوش دوست۔
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں (دنیا میں) پھرجانا ہو تو ہم مومنوں میں ہوجائیں

(26:102) فلو۔ یہاں لو شرطیہ بھی ہوسکتا ہے یعنی اگر ہمارے لئے ممکن ہوتا دوبارہ (دنیا میں) جانا فنکون (جزائ) تو ہم اہل ایمان سے ہوتے۔ اور لو تمنائی بھی ہوسکتا ہے کاش ہمیں (دنیا میں) دوبارہ جانا ملتا فنکون من المؤمنین (جواب تمنا) تو ہم مومن ہو جاتے کرۃ : الکر اصل میں مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو بالذات یا بالفعل پلٹانا یا موڑ دینا۔ کر کے بعد ۃ وحدت کی ہے جس کے معنی ہیں ایک بار لوٹنا۔ ایک پھیرا۔ ایک مرتبہ واپسی۔ یہاں اس کے معنی ہیں عالم آخرت سے لوٹ کر ایک بار پھر دنیا میں جانا۔
Ayahs 26:103–104

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

(26:102) ذلک کا اشارہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا قصے اور آخرت کے دن کا نقشہ جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کی طرف ہے۔ لایۃ۔ نشانی (عبرت کی یا اس کی توحید اور قدرت کی) لام تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

تو قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

(26:105) کذبت قوم نوح ن المرسلین ۔ ۔ کذبت فعل ماضی قوم نوح مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل المرسلین ۔ مفعول
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

(26:106) لہم اخوھم میں ضمیر جمع مذکر غائب قوم نوح کی طرف راجع ہے اور اخوت و بھائی چارہ کا رشتہ نسبی ہے دینی نہیں۔ الا تتقون۔ میں الف استفہامیہ ہے لا نفی کیلئے ہے۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
Ayah 26:107

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

(26:107) امین : امانۃ اور امن سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی۔ کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔
Ayah 26:108

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

(26:108) اطیعون : ای اطیعونی تم میری فرمانبرداری کرو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف۔
Ayahs 26:109–110

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو رب العالمین ہی پر ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

(26:109) علیہ : ای علی تبلیغ ھذا۔ اس دعوت الی الحق اور وعظ و نصیحت کا ۔ اجر۔ صلہ۔ اجرت۔ معاوضہ۔ بدلہ۔ مزدوری۔ ان۔ نافیہ ہے۔ علی رب العالمین۔ پروردگار عالم کے ذمہ۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ ہوئے ہیں

(26:111) الارزلون۔ کمین لوگ۔ رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے زیادہ نکما۔ رذیل۔
Ayah 26:112

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

(نوح نے) کہا مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟

(26:112) ما علمی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے مجھے کیا علم ؟ اور نافیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ مجھے معلوم نہیں۔ بما کانوا یعملون۔ یہ کیا کرتے ہیں یا یہ کیوں ایمان لائے ہیں۔ ترجمہ ہوں ہوگا :۔ (1) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیا کام کرتے ہیں یعنی ان کا پیشہ و حرفہ کیا ہے جس کی بناء پر تم رذیل سمجھتے ہو ان کو۔ (2) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیوں ایمان لائے ہیں اپنی شہرت کے لئے یا دل سے۔
Ayah 26:113

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

(26:113) ان نافیہ ہے۔ ان حسابھم الا علی ربی۔ ان کا حساب و محاسبہ میرے پروردگار کا کام ہے یہ اس کے ذمہ ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے ؟ لو تشعرون۔ کاش تم کو شعور ہوتا۔ کاش تم اتنی عقل رکھتے (کہ ان کے باطن کا محاسبہ میرا کام نہیں۔ میرے رب کا کام ہے)
Ayah 26:114

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

(26:114) طارد۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر طرد۔ ہانکنے والا۔ حقیر سمجھ کر اپنے سے دور کرنے والا۔ طرد یطرد (نصر) ذلیل سمجھ کر ہانکنا اور دور کردینا۔ ( نیز ملاحظہ ہو 11:29) ما انا بطارد المؤمنین میں ان ایمان لانے والوں کو غریب و مسکین و حقیر سمجھ کر) اپنے سے دور کرنے والا نہیں ہوں۔
Ayah 26:115

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

(26:115) ان نافیہ ہے۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کر دئیے جاؤ گے

(26:116) لم تنتہ۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم واحد مذکر حاضر تنتہ اصل میں تنتھی تھا۔ لم کے آنے سے ی حرف علت حذف ہوگیا۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے بھی مادہ تو باز نہیں آئے گا۔ لتکونن۔ لام تاکید کا۔ تکونن کان سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ تو ضرور ہوجائے گا۔ المرجومین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور۔ مرجوم واحد رجم یرجم (نصر) رجم سے۔ سنگسار کرنا۔ من المرجومین۔ سنگسار کئے جانے والوں میں سے۔
Ayah 26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

(26:117) رب : ای یا ربی۔ کذبون اصل میں کذبونی تھا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ محذوف۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو تو میرے اور انکے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

(26:118) افتح۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو فیصلہ کر دے۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں خواہ اس ازالہ کا ادراک ظاہری آنکھ سے ہو سکے یا اس کا ادراک بصیرت سے ہو مثلاً ولما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔ یا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض (7:96) تو ہم نے ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئیے۔ یعنی ان کو ہر طرح آسودگی اور فارغ البالی کی نعمت سے نوازتے۔ فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملہ کا فیصلہ کردیا۔ اور اس سے مشکل اور پیدگی کو دور کردیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (7:89) اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اسی سے الفتاح العلیم (34:26) ہے یعنی خوب فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا۔ الفاتحہ ہر چیز کے مبداء کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی وجہ سے سورة الفاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے افتح فلان کذا فلاں نے یہ کام شروع کیا۔ نجنی۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضرنی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے بجات دے۔
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بڑھی ہوئی کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا

(26:119) الفلک المشحون موصوف صفت۔ المشحون اسم مفعول واحد مذکر۔ شحن مصدر (باب فتح) بھری ہوئی۔ الشحن کشتی یا جہاز میں سامان لادنا یا بھرنا۔