26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsانوار البیان

Ayahs 26:157–164

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

(26:157) عقروھا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (اونٹنی کے لئے) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر یعقر (ضرب) عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ فاصبحوا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب) انہوں نے صبح کی۔ وہ ہوگئے۔
Ayah 26:165

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو ؟

(26:165) اتاتون الذکران۔ الف استفہام کے لئے ہے۔ تاتون مضارع جمع مذکر حاضر تم آتے ہو۔ الذکران۔ ذکر کی جمع۔ مرد اتاتون الذکران کیا تم (بدفعلی کے لئے) مردوں کے پاس جاتے ہو۔ من العلمین۔ ساری مخلوق میں سے۔
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو ؟

(26:166) تذرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم چھوڑتے ہو۔ وذر مصدر بمعنی چھوڑنا اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا۔ عادون : عدو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے عاد کی جمع ہے۔ عادون اصل میں عادودن تھا واؤ کلمہ میں چوتھی جگہ آیا ہے اور ماقبل اس کا مضموم نہ تھا لہٰذا اس کو ی سے تبدیل کیا عادیون ہوا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا نقل کرکے ما قبل کو دیا۔ اب دو ساکن جمع ہوگئے ی اور واؤ۔ ی کو حذف کردیا عادون ہوگیا۔
Ayahs 26:167–170

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کر دئیے جاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا میں تمہارے کام کا سخت بیزار ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو انکے کاموں (کے وبال سے) نجات دے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے انکو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی

(26:167) لم تنتہ تو باز نہیں آئے گا۔ ملاحظہ ہو 26:116 ۔ المخرجین اسم مفعول جمع مذکر مجرور معرف باللام اخراج مصدر نکالے گئے۔ نکالے ہوئے ۔ ملک بدر کئے جانے والے۔ القالین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر القالی واحد بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ اصل میں اس کا مادہ واوی ہے قلو جس کا معنی ہے پھینکنا۔ محاورہ ہے قالت الناقۃ براکبھا۔ اونٹنی نے اپنے سوار کو پھینک دیا۔ جس چیز سے دل بوجہ بغض یا بوجہ ناپسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن گھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے گا۔ پھینک دینے میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا القالین کے معنی ہوئے بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ پھینکنے والے۔ انی لعلکم من القالین ۔ میں تمہارے فعل سے بیزار ہوں۔ قلا یقلی (ضرب) اور قلایقلو (نصر) ہر دو سے سورت میں مستعمل ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ماودعک ربک وما قلی (93:3) (اے محمد ﷺ ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا ہے اور نہ تم سے بیزار ہے۔ اگر مادہ قلی ناقص یائی مانا جئے تو بھوننے کے معنی ہوں گے جیسے قلیت السویق بالمقلاۃ میں نے کڑھائی میں ستو بھونے لیکن قرآن مجید میں اسے ناقص واوی ہی استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ گئی

(26:171) عجوزا۔ بڑھیا۔ زن پیر۔ راغب نے لکھا ہے کہ عجز کے اصلی معنی ہیں کسی چیز سے پیچھے رہ جانا۔ یا اس کا ایسے وقت میں حاصل ہونا جب کہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر اس لفظ کو کسی کام سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے اعجزت ان اکون (5:31) مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ میں ۔۔ ہوتا۔ اور بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور میں عاجز ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ا الدوانا عجوز (11:72) کیا میرے بچہ ہوگا ؟ اور میں تو بڑھیا ہوں۔ عجوز کی جمع ع جائز اور عجز ہے۔ وجوزا منصوب بوجہ مفعول کے ہے۔ فی الغابرین : ای کانت من الغابرین۔ باقی رہنے والے۔ پیچھے رہ جانے والے ۔ بجات سے رہ جانے والے۔ ہلاک ہونے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ الغابر واحد یہاں اسم فاعل اسم صفت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ یعنی جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ گئے۔ اسی سے غبار ہے جو اس خاک کو کہتے ہیں جو قافلہ کے گزر جانے کے بعد اڑ کر پیچھے رہ جائے۔
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

(26:172) دمرنا۔ ماضی جمع متکلم دمر یدمر تدمیز (تفعیل) کسی چیز کو ہلاکت میں ڈالنا۔ ہم نے ہلاک کر ڈالا، ہم نے اکھیڑ مارا۔
Ayahs 26:173–175

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے تھے وہ برا تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(26:173) امطرنا : امطار (افعال) سے ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے برسایا۔ امطرنا علیہم مطرا۔ ہم نے ان پر بارش برسائی۔ فسائ۔ پس برا ہے۔ ساء یسوء (نصر) سوء ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ المنذرون ۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ لوگ جو ڈرائے گئے (سرکشی اور نافرمانی کی سزا سے) انذار (افعال) سے۔ ڈرانا۔ فساء مطر المنذرین۔ سو کیسی بری بارش تھی جو ڈرائے ہوؤں پر برسی۔ یعنی بارش کا کام تو مردہ کھیتی کو زندہ کرنا ہے لیکن کیا ہی بری تھی وہ بارش جس نے زندوں کو تہس نہس کردیا۔
Ayahs 26:176–180

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں اس (کام) کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

(26:176) اصحب الئیکۃ۔ اہل ایکہ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Ayah 26:181

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

(دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو

(26:181) اوفوا : ایفاء (افعال) سے ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم پورا کرو۔ الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں کیل واف پورا ماپ۔ اوفی یوفی ایفاء ۔ بالوعد وعدہ پورا کرنا۔ النذر نذر پوری کرنا۔ الکیل پیمانہ پورا ناپنا۔ اوفوا الکیل۔ ناپ پورا کیا کرو المخسرین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور المخسر واحد اخسار (افعال) قول میں کمی کرنے والے۔
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

(26:182) وزنوا : وزن یزن (ضرب) وزن سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تم وزن کیا کرو۔ بالقسطاس المستقیم : القسطاس۔ انصاف کی ترازو۔ یا ہر ترازو انصاف بھی مراد لیا جاتا ہے۔ موصوف صفت بمعنی سیدھی۔ صحیح۔ القسطاس المستقیم۔ صحیح ترازو۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ رومی ہے۔ القسطاس بھی صحیح ہے۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو

(26:183) لا تبخسوا : بخس یبخس (فتح) سے فعل نہی جمع مذکر حاضر تم کم نہ دو ۔ تم گھٹاؤ نہیں۔ الناس، مفعول ثانی۔ اشیاء ھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول۔ تم لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ بخس سے جس کے معنی ظلم سے کسی چیز کے گھٹانے اور کم کرنے کے ہیں۔ لاتعثوا۔ تم فساد نہ کیا کرو۔ فعل نہی کا صیغہ جمع مذکر حاضر باب سمع سے اس کا مصدر عثی وعثی ہیں جس فساد کا ادراک حکمی ہو وہ اسی باب سے ہے۔ جس فساد کا ادراک حسی ہو وہ باب نصر سے مصدر عیث وعثو سے آتا ہے۔ مفسدین۔ حال ہے درآں حالیکہ تم فساد کرنے والے ہو۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلی خلقت کو پیدا کیا

(26:184) الجبلۃ۔ خلقت، خلائق۔ یہ خلق کا مفعول ثانی ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر مفعول اول ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور (تم سے) پہلی مخلوق کو۔ الجبل پہاڑ کو کہتے ہیں جس کی جمع اجبال وجبال ہے پہاڑ کی مختلف صفات کے اعتبار سے استعارۃ ہر صفت کے مطابق اشتقاق کرلیتے ہیں۔ مثلاً معنی ثبات کے اعتبار سے کہا جاتا ہے جبلہ علی کذا۔ اللہ نے اس کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے (یعنی وہ تبدیل نہیں ہوسکتی) ۔ بڑائی اور عظمت کے معنی کے اعتبار سے بڑی جماعت کو جبل کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے ولقد اضل منکم جبلا کثیرا (36:62) اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ جبلا جبلۃ کی جمع ہے۔
Ayahs 26:185–186

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو

(26:185) المسحرین : جادوزدہ۔ ملاحظہ ہو 26:153
Ayahs 26:187–188

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

(شعیب نے) کہا کام جو تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

(26:187) فاسقط : اسقط۔ اسقط یسقط اسقاط (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو گرادے۔ کسفا : کسفۃ کی جمع اکساف کسوف جمع الجمع ٹکڑے۔ کسف الشمس سورج گرہن ہوگیا۔
Ayahs 26:189–191

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا پس سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا بیشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

اس میں یقینا نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(26:189) یوم الظلۃ مضاف مضاف الیہ۔ سائبان والا دن ظلۃ سائبان ظلل جمع ظللۃ وہ بدلی ہے جو سایہ فگن ہو اور اکثر اس کا استعمال بری اور ناپسند صورت حال میں ہوتا ہے جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ (7:171) اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر جیسے کہ سائبان۔ فاخذھم عذاب یوم الظلۃ پھر آن پکڑا ان گو سائبان والے دن کے عذاب نے۔ کہتے ہیں کہ ایک بدلی ان کے سر پر سایہ فگن ہوگئی۔ جب لوگ اس کے نیچے تیش سے پناہ لینے کے لئے جمع ہوئے تو وہ یکایک ان پر آکرگر پڑی اور سب وہیں ڈھیر ہوگئے۔
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ (قرآن خدائے) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

(26:192) انہ۔ ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ (الکتاب المبین سورة ہذا کی آیت 2) صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں سورة کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ کفار قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کے لئے تیار نہیں تھے جس سے حضور ﷺ کو سخت دکھ پہنچتا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مطمئن فرمانے کے لئے متعدد انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بیان فرمائے اب پھر سلسلہ کلام کفار کے انہی اعتراضات کی طرف لوٹتا ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا وضع کردہ نہیں بلکہ اسے اس خدا نے اتارا ہے جو رب العالمین ہے۔ تنزیل۔ اتارنا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے تنزیل اور انزال میں فرق یہ ہے کہ تنزیل میں ترتیب اور یکے بعد دیگرے تفریق کے ساتھ اتارنا ملحوظ ہوتا ہے اور انزال عام ہے ایک دم کسی شے کے اتارنے کے لئے بھی اور یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کیلئے بھی۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانتدار فرشتہ لیکر اترا ہے

(26:193) نزل بہ علی قلبک۔ اس نے اس کو تیرے دل پر اتارا۔ ضمیر فاعل نزل ب الروح الامین کے لئے ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن (تنزیل) کے لئے۔ یعنی روح الامین نے قرآن کو تیرے دل پر نازل کیا۔ یا روح الامین اس کے لے کر تیرے دل پر اترا ۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو روح الامین (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے تجھ پر اتارا۔
Ayahs 26:194–195

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

(اور القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

(26:194) المنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور ڈرانے والے پیغمبر۔ انذار (افتعال) مصدر۔ ہر پیغمبر عذاب الٰہی سے سرکشوں اور نافرمانوں کو ڈراتا ہے اس لئے ہر پیغمبر کو منذر کہا جاتا ہے۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

(26:196) زبر : زبور کی جمع کتابیں۔ انہ سے مراد اس کا ذکر ہے۔