26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsانوار البیان

Ayahs 26:40–42

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلیے جاؤ گے

(26:40) لعلنا نتبع السحرۃ۔ (اگر ہمارے جادوگر غالب رہے یعنی یہ مقابلہ جیت گئے تو) شاید ہم جادو گروں کی راہ پر ہی رہ جائیں (اور موسیٰ کے دین سے بچ جائیں)
Ayah 26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو ڈالو

(26:43) ملقون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ القاء مصدر (باب افعال) اصل میں ملقیون تھا۔ ڈالنے والے۔ پیش کرنے والے۔
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

(26:44) حبالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کی لاٹھیاں۔ ان کے عصا۔ عصی عصا کی جمع ہے۔ بعزۃ۔ باء قسم کے لئے ہے فرعون کے اقبال کی قسم۔
Ayah 26:45

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی

(26:45) فاذا۔ فاء تعقیب کے لئے ہے اور اذا حرف فجائیہ ہے (پس جیسے ہی اس نے عصا کو ڈالا وہ اژدہا بن گیا اور ان کو سحر بافیاں چٹ کرنے لگا۔ ہی ای عصای۔ تلقف مضارع واحد مؤنث غائب لقف مصدر (باب سمع) جس کے معنی کسی چیز کو پھرتی سے لے لینے اور جھٹ اتار لینے کے ہیں۔ خواہ منہ سے نکلنے کی صورت میں ہو یا ہاتھ سے لے لینے کی شکل میں۔ وہ نگل جاتی ہے یا نگل جائے گی۔ بمعنی ماضی یہاں آیا ہے۔ ما : موصلہ ہے۔ یافکون۔ مضارع جمع مذکر غائب افک (باب ضرب) مصدر۔ جس کو وہ جھوٹے طور پر بنا رہے تھے۔ جس کو فریب سے انہوں نے بنا رکھا تھا۔
Ayahs 26:46–48

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تب جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

(26:46) فالقی السحرۃ سجدین۔ سو جادو گر سجدہ میں گرپڑے۔ یہاں صیغہ فعل مجہول لایا گیا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں یہ معجزہ دیکھا تو ان کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہ رہا سوائے سرتسلیم خإ کرلینے کے اور وہ سجدہ کے لئے مجبور ہوگئے۔ (2) معجزہ کو دیکھ کر جب حقیقت ان پر عیاں ہوگئی اور ان کے دلوں پر سے جہالت و ضلالت کے پردے ہٹ گئے تو وفور شوق سے وہ جھٹ سجدہ میں گرپڑے۔ ان کی اندرنی کیفیت کی شدت کے اظہار کے لئے فعل مجہول لایا گیا ہے اس کی مثال سورة ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:78) اور اس کے پاس اس کی قوم کے لوگ کھچے چلے آئے۔
Ayah 26:49

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

(26:49) قبل۔ یہاں پیشتر کے معنی میں نہیں بلکہ بدوں یا بغیر کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اذن لکم : اذن واحد متکلم مضارع۔ نصب بوجہ ان ہے۔ اذن مصدر۔ (باب سمع) اذن یاذن اذن ۔ ل حکم دینا۔ اجازت دینا۔ قبل ان اذن لکم بغیر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ انہ میں ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر۔ دراصل وہی تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ فلسوف تعلمون۔ میںتعقیب کا ہے لام تاکید کے لئے آیا ہے عبارت یوں ہے فلانتم سوف تعلمون وبال ما فعلم سو تم جلدی ہی اپنے کئے کی سزا پولو گے۔ لاقطعن لام تاکید کا اقطعن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم ۔ تقطیع (تفعیل) مصدر میں ضرور کاٹوں گا۔ قطع مادہ۔ من خلاف۔ مخالف طرفوں سے یعنی دایاں بازو اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں۔ ولا صلبنکم۔ لام تاکید کا اصلبن مضارع بانون ثقیلہ واحد متکلم ۔ تصلیب تفصیل سے۔ میں تم کو ضرور سولی پر چڑھا دوں گا کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
Ayah 26:50

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کچھ نقصان (کہ بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

(26:50) ضمیر۔ ڈر۔ ضرر۔ مضرت۔ ضار یضر کا مصدر ہے جس کے معنی نقصان کرنے اور ضرر پہنچانے کے ہیں۔ منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ منقلب واحد انقلاب مصدر قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ لوٹ کر جانے والے۔
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

(26:51) نطمع مضارع متکلم (باب سمع) طمع مصدر۔ ہم امید کرتے ہیں۔ ان کنا۔ یہاں بمعنی لان ہے۔ کیونکہ ۔ اس لئے کہ۔
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعون کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

(26:52) اسر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تورات کو لے کر چل۔ اسراء (افعال) جس کے معنی رات کو لے کر چلنے اور رات کو سفر کرنے کے ہیں۔ سری مادہ۔ سری یسری (ضرب) بھی انہی معنوں میں مستعمل ہے۔ باب افعال سے ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا (17:1) پاک ذات ہے وہ جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ اسری بعبادی۔ تم راتوں رات میرے بندوں کو (یہاں سے) بےجاؤ۔ انکم متبعون۔ یہ وجہ ہے راتوں رات لے جانے کی۔ تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ متبعون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ متبع واحد اتباع (افتعال) مصدر۔ متبع وہ شخص جس کس پیچھا کیا جائے۔
Ayah 26:53

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعونیوں نے شہروں میں نقیب روانہ کئے

(26:53) المدائن حشرین۔ ملاحظہ ہو آیت 36 ۔ مذکورہ بالا۔
Ayah 26:54

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

(26:54) لشرزمۃ۔ تھوڑی سی جماعت جو لوگوں سے الگ ہوگئی ہو۔ اس کی جمع شراذم، شراذیم ہے لام تاکید کا ہے۔ ثوب شراذم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھٹے پرانے چیتھڑوں کے ہیں۔ قلیلون۔ قلیل کی جمع۔ تھوڑے ۔ کم۔ شرزمۃ کی صفت ہے۔
Ayah 26:55

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

(26:55) لغائظون۔ میں لام تاکید کا ہے۔ غائظون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ غائظ واحد غیظ مادہ۔ الغیظ کے معنی سخت غصہ کے ہیں الغائظغصہ دلانے والا۔ غضب پیدا کرانے والا۔ غیظ۔ انتہائی غضب کو کہتے ہیں انھم لنا لغائظون۔ انہوں نے ہم کو بہت غصہ دلایا ہے
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب با سازوسامان ہیں

(26:56) حذرون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر حاذر کی جمع ہے۔ بمعنی ڈرنے والے۔ ہتھیار باندھے والے۔ مسلح محتاط رہنے والے ۔ الحذر باب سمع کے اصل معنی خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنے کے ہیں مثلاً یحذر الاخرۃ (39:9) وہ آخرت سے ڈرتا ہے۔ وانا لجمیع حذرون ۔ میں واؤ حالیہ ہے۔ لیکن ہم سب کے سب (ان کے شر سے) محتاط ہیں (اور ان کے شر کے ڈر سے مسلح اور چاک وچوبند ہیں) ۔
Ayah 26:57

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

(26:57) فاخرجناھم من جنت وعیون۔ پس ہم نے ان کو نکال باہر کیا باغوں اور چشموں سے۔
Ayah 26:58

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

(26:58) وکنوزو مقام کریم۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

(ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا

(26:59) کذلک۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے ۔ ای الامر کذلک بات یوں ہوئی یوں ہی ہوا۔ اور ثنھا بنی اسرائیل۔ میں ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ۔ باغوں، چشموں، خزانوں، عمدہ مکانوں کی طرف راجع ہے۔ بنی اسرائیل مفعول ثانی۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا مالک بنادیا۔
Ayah 26:60

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلتے ہی (یعنی صبح کو) انکا تعاقب کیا

(26:60) فاتبعوھم ماضی جمع مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع بنی اسرائیل ہے۔ وہ ان کے تعاقب میں گئے۔ وہ ان کے پیچھے گئے۔ مشرقین۔ اسم فاعل جمع مذکر اشراق مصدر باب افعال۔ اشراق کے وقت جب سورج طلوع ہو تو عرب کہتے ہیں شرقت الشمس اور جب اس کی روشنی پھیل جائے تو کہتے ہیں اشرقت الشمس۔ اس لئے مشرقین کا مطلب یہ ہوا کہ جب سورج چڑھ آیا اور اس کی روشنی ہر طرف پھیل گئی تو فرعون کا لشکر تعاقب میں نکلا۔ : آیت 54 تا 56 فرعون کا اعلان ہے کہ یہ لوگ حقیر و ذلیل و کمین اور ایک مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن اپنی سرکشی اور شرپسندی سے انہوں نے ہم کو سخت غصہ دلایا ہے (اگرچہ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن پھر بھی) ہم سب محتاط اور مسلح ہیں (اور ان کو ان کی سرکشی اور گستاخی کا مزہ چکھا کے رہیں گے) ۔ آیات 57 تا 59 عبارت جملہ معترضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں کے دل میں بنی اسرائیل کے خلاف حد سے زیادہ انتقام کا جذبہ پیدا کردیا کہ عام فوج کو بھیجنے کی بجائے خود فرعون بمعہ امراء ووزراء لشکر جرار کے ساتھ اپنے باغات و چشمے ، خزانے وعمارتیں خالی کر کے تعاقب میں چل نکلا اور یہ باغات و چشمے و محلات بنی اسرائیل کا مقدر بن گئے۔ یہاں اور ثنھا میں ھا ضمیر مطلق باغوں وچشموں وغیرہ کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد خاص مصر کے باغات و چشمے وغیرہ نہیں جو امراء سلطنت خالی کرکے بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلے تھے۔ آیت 59 میں ان باغات وغیرہ کا اشارہ فلسطین کی بابرکت زمین کی طرف جہاں ایسے باغات و چشموں کی فراوانی تھی بھی ہوسکتا ہے۔ آیت نمبر 60 سے سلسلہ کلام پھر شروع ہوتا ہے۔
Ayah 26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

(26:61) تراء ماضی واحد مذکر غائب وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تراء ی (تفاعل) سے جس کے معنی باہم ایک دوسرے کے اس طرح مقابل ہونے کے ہیں کہ یہ اس کو دیکھ سکے اور وہ اس کو۔ الجمعن : جمع کا تثنیہ ہے دو گروہ، دو فوجیں، دو جماعتیں۔ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ لمدرکون۔ لام تاکید کا مدرکون اسم مفعول جمع مذکر مدرک واحد ادراک افعال۔ ہم پکڑے گئے۔
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

(موسی نے) کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا

(26:62) کلا ہرگز نہیں۔ سیھدین : س حرف ہے۔ فعل مضارع کو مستقبل قریب کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ یہدین مضارع واحد مذکر غائب ھدایۃ مصدر (باب ضرب) نون وقایہ یاء متکلم محذوف (کہ اصل میں بھدینی تھا) وہ مجھے ہدایت کردیگا ۔ وہ میری راہنمائی کرے گا وہ مجھے راہ بتادے گا۔ سیھدین وہ مجھے ابھی راہ بتادے گا۔
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

(26:63) فانفلق :تعقیب کا ہے انفلق ماضی واحد مذکر غائب وہ پھٹ گیا۔ انفلاق (انفعال) مصدر۔ باب ضرب سے الفلق کے معنی کسی چیز کو پھاڑنے اور اس کے ایک ٹکڑے کو دوسرے سے الگ کرنے کے ہیں۔ فالق الاصباح (6:96) وہی رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ فرق اسم فعل۔ مجموعہ میں سے کاٹ کر الگ کیا ہوا ایک ٹکڑا۔ الطور بلند پہاڑ۔
Ayah 26:64

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

(26:64) ازلفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے قریب کردیا۔ ازلاف (افعال) سے الزلفۃ کے معنی قرب اور مرتبہ کے ہیں۔ منازل شب یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا جاتا ہے جیسے وزلفا من اللیل (11:114) اور رات کے کچھ حصوں میں ۔ ثم۔ وہاں۔ اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے۔ وازلفنا ثم الاخرین۔ اور ہم نے دوسروں کو بھی (دوسرے گروہ یعنی لشکر فرعون کو بھی) وہاں پہنچا دیا۔
Ayahs 26:65–68

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور موسیٰ اور ان کے سب ساتھ والوں کو تو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ڈبو دیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(26:65) انجینا ماضی جمع متکلم۔ انجاء مصدر (باب افعال) سے ہم نے بچا لیا ہم نے نجات دی۔ نجو مادہ۔
Ayahs 26:69–70

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو ؟

(26:69) واتل میں واؤ عاطفہ ہے ای واذکر ذلک لقومک واتل علیہم نبأ ابراہیم یہ مثال یاد کرائیے اپنی قوم کو اور بیان کیجئے ان کے سامنے (حضرت) ابراہیم کا قصہ ۔ اتل تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (باب نصر) تو پڑھ۔ تو پڑھ کر سنا۔ تلو مادہ۔ نبأ۔ خبر۔ قصہ۔
Ayah 26:71

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں

(26:71) فنظل میں الفاء عطف کا ہے نظل ، ظل یظل سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے افعال ناقصہ میں سے ہے ظل اگرچہ دن کے فعل کے ساتھ مخصوص ہے جیسے کہ بات کا استعمال فعل شب کے لئے ہوتا ہے لیکن توسیع استعمال سے بمعنی صار مستعمل ہے لہٰذا فنظل لہا عکفین کا ترجمہ ہم دن کو ان بتوں کی پوجا میں لگے رہتے ہیں کی بجائے ” ہم ان بتوں کی پوجا پر جمے رہتے ہیں یا قائم رہتے ہیں۔ زیادہ صحیح ہے۔ عکفین اسم فاعل جمع مذکر۔ عاکف کی جمع۔ معتکف اعتکاف کرنے والے۔ اردگرد جمع ہونے والے۔ مجاور۔ جم کر بیٹھنے والے عکوف مصدر۔ جس کے معنی ہیں تعظیم کے طور پر کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا اور اس کو لازم پکڑ لینا۔ عکوف فی المسجد کے معنی ہیں عبادت کی نیت سے اپنے آپ کو مسجد میں روکے رکھنا۔
Ayah 26:72

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ جب تم انکو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز سنتے ہیں ؟

(26:72) تدعون : دعاء سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے تم پکارتے ہو یا پکارو گے۔
Ayah 26:73

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے ہیں یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

(26:73) یضرون : ضر سے مضارع جمع مذکر حاضر (باب نصر) وہ نقصان پہنچاتے ہیں۔
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے

(26:74) قالوا بل وجدنا ۔۔ الخ ای قالوا لایسمعون ولا ینفعوننا ولا یضرون وانما وجدنا باء نا یفعلوں کذلک انہوں نے کہا کہ یہ بت نہ سنتے ہیں نہ ہمیں کوئی نفع و نقصان پہنچاتے ہیں ہم نے تو اپنے آباء و اجداد کو ایسا کرتے پایا۔
Ayah 26:75

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو

(26:75) افرأیتم۔ الف استفہامیہ توبیخ کے لئے ہے ۔ کیا تم نے کبھی (آنکھیں کھول کر) دیکھا بھی (جن کی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا پرستش کرتے رہے) ۔
Ayahs 26:76–77

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

وہ میرے دشمن ہیں ؟ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے )

(26:76) الاقدمون ۔ : اقدم کی جمع ہے اقدم افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ قدم سے جس کے معنی آگے ہونے اور سبقت کرنے کے ہیں۔ یعنی تم سے اگلے اور پہلے لوگ۔ فانھم عدولی۔ بیشک یہ میرے دشمن ہیں کیونکہ اگر میں اب ان کی عبادت کرتا ہوں تو یوم قیامت ان کی پرستش مجھے عذاب عظیم میں مبتلا کر دے گی۔ یا یہ مرے دشمن بایں وجہ ہیں کہ اس دنیا میں ان کی پرستش گمراہی اور شرک کے دروازے کھول رہی ہے جو انجام کار تباہی اور بربادی کا باعث بنے گی۔ وقیل ھو من المقلوب المراد فانی عدولہم۔ یا یہ ترکیب مقلوب ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ میں ان کا دشمن ہوں۔ عدو۔ انھم کی خبر ہے قاعدہ کے لحاظ سے یہ جمع (اعدائ) چاہیے لیکن عدو کا لفظ صدیق کی طرح واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے جیسا اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے انہ لکم عدو مبین (2:168) وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے اور وھم لکم عدو (18:50) درآں حالیکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ عدو اسم جنس بھی ہوسکتا ہے۔ انھم میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ (ما کنتم تعبدون) الا رب العلمین ۔ : الا حرف استثناء ہے رب العالمین مستثنیٰ اور انھم میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب مستثنیٰ منہ۔ کیونکہ مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے لہٰذا یہ استثناء منقطع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ : جن بتوں کی تم پرستش کیا کرتے ہو وہ میرے دشمن ہیں۔ لیکن رب العالمین میرا دشمن نہیں۔
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے

(26:78) الذی اسم موصول۔ مبتدائ۔ خلقنی۔ ماضی واحد مذکر غائب نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم صفت ہے الذی کی فھو مبتدا ثانی۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب ی ضمیر واحد متکلم محذوف، خبر۔
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے

(26:79) یطعمنی وہ مجھے کھلاتا ہے۔ یسقین۔ مضارع واحد مذکر غائب سقی مصدر (باب ضرب) نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم محذوف ۔ وہ مجھے پلاتا ہے۔