26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsانوار البیان

Ayah 26:120

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

(26:120) بعد : ای بعد انجاء ھم ان کی نجات کے بعد۔ الباقین۔ باقی بچے ہوئے۔ باقی رہنے والے۔ بلقی کی جمع بحالت نصب وجر ہے یہاں مراد ہیں قوم نوح سے وہ افراد جو ایمان نہ لائے تھے۔
Ayahs 26:121–122

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(26:121) اکثرھم۔ میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب قوم نوح کی طرف راجع ہے۔
Ayahs 26:123–127

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے انکے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

(26:123) کذبت عاد ن المرسلین۔ ملاحظہ ہو 26:105 ۔
Ayahs 26:128–129

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

بھلا تم جو ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

(26:128) اتبنون۔ الف استفہام کے لئے ہے تنبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بناتے ہو۔ تم تعمیر کرتے ہو۔ بنی یبنی بناء (ضرب) وبنیان وبنی بنی مادہ۔ ریع۔ بلند جگہ جو دور سے ظاہر ہو۔ ٹیلہ۔ مکان مرتفع۔ تعبثون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم عبث مشغول ہوتے ہو۔ عبث یعبث (سمع) کھیل کود اور بےکار کاموں میں مشغول ہونا۔ ایۃ۔ نشانی۔ یادگار۔ آیت کا ترجمہ : کیا تم ہر اونچی جگہ بےضرورت یادگاریں بناتے ہو۔
Ayahs 26:130–131

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

(26:130) بطشتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ بطش یبطش (ضرب) و بطش یبطش (نصر) بطش مصدر۔ تم نے پکڑا۔ یہاں بمعنی تم پکڑتے ہو۔ جبارین۔ جبار کی جمع ۔ جبر مادہ۔ زبردست۔ زور آور۔ الجبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کے اصلاح کرنے کے ہیں لیکن اس کا استعمال اصلاح اور محض زبردستی کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جبار جیر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الجبار جب انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلیّ سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہوتا ہے جیسے ولم یجعلنی جبارا شقیا (19:32) اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔ کبھی محض دوسرے دوسرے پر استبداد کرنے والے کو جبار کہا جاتا ہے۔ مثلاً وما انت علیہم بجبار (50:45) اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ اور جب الجبار اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کے معنی غالب آنے والا۔ زبردست بڑائی والا کے ہیں۔ جس کا استعمال مخلوق کی اصلاح کے لئے یا اپنے ارادہ کی تکمیل کے لئے (جو سراسر حکمت پر مبنی ہے) ہوتا ہے۔ یہاں اس آیت میں صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی گرفت ہے جس میں نہ رحم ہو اور نہ اس میں تادیب کا قصد ہو اور نہ اس میں انجام پر نظر ہو۔ ترجمہ :۔ جب تم کسی پر داروگیر کرتے ہو تو ظالم اور بےدرد بن کر دارروگیر کرتے ہو۔
Ayahs 26:132–134

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں میں مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

(26:132) امدکم : امد اصل میں امداد تھا پہلے دال کی حرکت حرف ماقبل صحیح م کو دی دال کو دال میں مدغم کیا امد ہوا۔ اس کا مضارع یمد باب افعال امداد سے ہے۔ امدا امداد سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے اس نے تمہاری مدد کی۔ اس نے تم کو پہنچایا۔ امدکم بما تعلمون۔ تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کو تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔ یعنی مویشی، اولاد، باغات، چشمے۔ (آیات 133 - 134)
Ayahs 26:135–136

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

(26:135) عذاب یوم عظیم : عذاب مضاف یوم عظیم موصوف وصف مل کر مضاف الیہ۔ بڑے دن کا عذاب۔
Ayah 26:137

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

(26:137) ان ھذا الا خلق الاولین میں ان نافیہ ہے۔ ھذا یہ پندو نصیحت اور یہ جزاء و سزا کے ڈراوے جو تم ہمیں سنا رہے ہو خلق اطوار و عادات الاولین پرانے لوگوں کی باتوں کی طرح ہیں وہ بھی ایسا ہی ڈرایا کرتے تھے۔
Ayahs 26:138–145

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔
Ayahs 26:146–147

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا جو چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور چشمے

(26:146) اتترکون۔ الف استفہام انکاری کے لئے ہے تترکون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ترک یترک (نصر) ترک مصدر کیا تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ کیا تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ فیما ھھنا۔ ما موصولہ ہے اور ھھنا اشارہ قریب ۔ موجودہ حالت تنعم کی طرف ہے۔ باغات، چشمے ۔ سرسبز کھیت۔ اور پر شگوفہ کھجوروں کے اشجار۔ یعنی کیا تم ان باغات و چشموں اور شاداب کھیتوں اور کھجور کے درختوں میں جن کے شگوفے بڑے نرم و نازک ہیں (عیش کرنے کے لئے) محفوظ و بےخطر چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ امنین : امن کی جمع بےخوف۔ مطمئن، امن میں۔
Ayah 26:148

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف و نازک ہوتے ہیں

(26:148) طلعھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ طلع خوشہ۔ گچھا۔ گابھ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب بخل کی طرف راجع ہے۔ ھضیم : الھضم (باب ضرب) کے اصل معنی کسی نرم چیز کو کچلنے کے ہیں ۔ ونخل طلعھا ھضیم اور کھجوریں کہ جن کے خوشے لطیف اور نازک ہونے کی وجہ سے کچلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
Ayahs 26:149–150

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو خدا سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو

(26:149) تنحتون۔ تم تراشتے ہو۔ نحت سے (باب ضرب) جس کے معنی تراشنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ فرھین اسم فاعل جمع مذکر فارہ واحد۔ مہارت کے ساتھ۔ بمعنی بڑے ماہر اور حاذق ہونے کی حالت میں۔ فرھین کی قرأت پر ترجمہ ہوگا۔ اتراتے ہوئے۔ لیکن پروفیسر عبد الرؤف مصری نے لکھا ہے کہ فرھین یا فرہین میں ھاء ھوز حاء حطی کے عوض آئی ہے اصل میں فرحین یا فارحین تھا جیسے مدحتہ ومدھتہ پڑھنا جائز ہے (معجم القرآن) اور چونکہ فرحین اور فارحین دونوں کے معنی ہیں اترانے والے۔ غرور کے ساتھ خوش ہونے والے اس لئے حاذق اور ماہر کا ترجمہ کسی صورت میں نہ ہوگا۔ سو آیت ہذا کا ترجمہ ہوا۔ اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر مکان بناتے ہو اور اس پر بڑا غرور کرتے ہو اتراتے ہو۔
Ayahs 26:151–152

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

(26:151) لا تطیعوا فعل نہی جمع مذکر حاضر تم اطاعت نہ کرو۔ تم پیروی نہ کرو۔ تم نہ مانو۔ امر المسرفینمضاف مضاف الیہ المسرف کی جمع ۔ حد سے بڑھنے والے۔ تم حد سے بڑھنے والوں کے حکم کی پیروی نہ کرو۔
Ayah 26:153

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

(26:153) المسحرین ۔ اسم مفعول جمع مذکر تسحیر مصدر (باب تفعیل) جادو زدہ جن پر جادو کردیا گیا ہو۔ سحر جادو۔
Ayah 26:154

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم اور کچھ نہیں ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

26:154) فات ب اتی یاتی ب لاناء سے امر کا صیغہ واحد مذکر تو لے آ۔
Ayah 26:155

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

(صالح نے) کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

(26:155) شرب ۔ شرب یشرب ۔ شرب سے اسم ہے پانی پینے کی ایک باری۔ پانی کا ایک حصہ۔ اس کی جمع اشراب ہے۔ شرب یوم معلوم : یوم معلوم موصوف و صفت ہوکر مضاف الیہ ۔ شرب مضاف۔ ایک مقررہ دن کی ایک باری۔ یعنی باری کے ایک دن پر اونٹنی پانی پئے گی کنووں اور چشموں سے اور کوئی دوسرا انسان یا حیوان اس دن ان کنوؤں اور چشموں سے پانی نہیں پئے گا اور دوسری باری کے دن قوم کے جملہ افراد اور حیوان پانی پئیں گے۔
Ayah 26:156

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آپکڑے گا

(26:156) لاتمسوھا بسوئ : لا تمسوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت چھوؤ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث اونٹنی کی طرف راجع ہے۔ سوء ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غم میں ڈال دے۔ برائی۔ آفت۔ گناہ وغیرہ۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال جن معانی میں ہوا ہے امام سیوطی (رح) نے ان کو تفصیل سے قلمبند کیا ہے :۔ (1) شدت کے لئے۔ یسومونکم سوء العذاب (2:49) وہ کرتے تھے تم پر سخت عذاب۔ (2) کونچیں کاٹنے کیلئے۔ ولا تمسوھا بسوئ (26:156) اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا۔ یعنی ناقہ کی کونچیں نہ کاٹ ڈالنا (3) زنا کے لئے۔ ما جزاء من اراد باہلک سوء (12:25) کیا سزا ہے اس کی جو تیری بیوی کے ساتھ زنا کا ارادہ کرے۔ (4) برص کے لئے۔ بیضاء من غیر سوء (20:22) روشن بغیر کسی عیب کے یعنی برص کے۔ (5) عذاب کیلئے ان الخزی الیوم والسوء علی الکفرین (16:27) بیشک آج رسوائی اور سختی (یعنی عذاب) کافروں پر ہے (6) شرک کے لئے۔ ما کنا نعمل من سوء (16:28) اور ہم تو کوئی برائی (یعنی شرک) نہیں کرتے رہے۔ (7) گالی گلوچ کے لئے۔ لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول (4:148) اللہ کسی برائی کی بات (دشنام طرازی) کو منہ پھوڑ کر کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ (8) گناہ کے لئے ۔ یعلمون السوء بجھالۃ (4:17) جو بری حرکت (گناہ) جہالت سے کر بیٹھتے ہیں۔ (9) بئس (برا ہے) کے معنی میں ولہم سوء الدار (13:25) ان کے لئے ہے برا گھر۔ (10) ضرر کے لئے ۔ ویکشف السوء (27:62) اور مصیبت کو دور کردیتا ہے۔ (11) قتل و ہزیمت کے لئے۔ لم یمسسھم سوء (3:174) ان کو کوئی آنچ نہ پیش آئی۔ لا تمسوھا بسوئ۔ اس کو برائی کے ساتھ مت چھونا۔ یعنی اس کو کوئی گزند نہ پہنچانا۔ اس کو کونچیں نہ کاٹنا۔ فیاخذکم۔ الفاء سببیہ ہے ورنہ تم کو آلے گا۔ عذاب یوم عظیم۔ (ملاحظہ ہو 26:135)