6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ لوگ بس اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آجائے جس دن آپ کے رب کی نشانیوں میں سے ایک نشانی آجائے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لایا تھا یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو آپ فرما دیجیے کہ تم انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں

جب مغرب سے سورج طلوع ہوگا تو کسی کا ایمان اور توبہ قبول نہ ہونگے پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس جو واضح حجت آچکی ہے قرآن نازل ہوچکا ہے جو ہدایت ہے اور رحمت ہے، اور اس آیت میں یہ فرمایا کہ محض واضح ہونے کے بعد اور ہدایت سامنے آجانے کے بعد اب کسی انتظار کی ضرورت نہیں حق قبول کرو اور ہدایت پر آؤ۔ اب بھی حق قبول نہیں کرتے تو کیا انتظار ہے (ان کا ڈھنگ ایسا ہے) جیسے اسی انتظار میں ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آجائیں یا اللہ تعالیٰ ہی ان کے پاس پہنچ جائے۔ یا اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی نشانی کے انتظار میں ہیں، لیکن جس دن اس کی ایک نشانی ظاہر ہوجائے گی تو کسی کافر کو اس وقت اس کا ایمان لانانفع نہ دے گا، اور جو کوئی صاحب ایمان بد اعمالیوں میں مبتلا ہو جس نے اپنے ایمان میں کوئی عمل خیر نہ کیا ہو اس کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان بالغیب معتبر ہے جب آنکھوں سے دیکھ لیا تو اس کے بعد ایمان معتبر نہ ہوگا جب قیامت ہوگی تو اس وقت سب مومن ہوجائیں گے مگر اس وقت ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ پچھم سے سورج نکلنا بہت بڑی نشانی ہے۔ اس وقت جو شخص ایمان لائے گا قبول نہ ہوگا۔ جو شخص گناہوں میں مبتلا ہو اور موت کے فرشتے نظر آنے لگیں اس وقت کی توبہ قبول نہیں۔ اس سے پہلے جو توبہ کی جائے وہ مقبول ہے۔ پچھم سے سورج نکل آنے کے بعد جس طرح کسی کا ایمان قبول نہیں اسی طرح توبہ بھی قبول نہیں ہوگی۔ صحیح بخاری ج 2 ص 667 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ پچھم سے سورج طلوع نہ ہو۔ سو جب سورج (پچھم سے) نکلے گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے اور اس وقت کسی شخص کو ایمان نفع نہ دے گا اس کے بعد آپ نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ حضرت صفوان بن عسال ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف ایک دروازہ بنایا ہے جو اتنا چوڑا ہے کہ اس کی دونوں جانبوں کے درمیان ستر سال تک چل سکتے ہیں یہ دروازہ توبہ کا دروازہ ہے۔ جب تک اس کی جانب سے سورج نہیں نکلے گا اس وقت تک بند نہ کیا جائے گا۔ (اور اس وقت تک توبہ قبول ہوتی رہے گی) اللہ عزو جل نے (یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ) حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہجرت منقطع نہ ہوگی جب تک توبہ منقطع نہ ہوگی۔ اور توبہ منقطع نہ ہوگی جب تک پچھم سے سورج نہ نکلے گا۔ (رواہ ابو داؤد و الدارمی) پچھم سے سورج کا نکلنا قیامت کے قریب ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ظاہر ہونے کے اعتبار سے سب سے پہلی نشانی پچھم سے سورج نکلنا اور دابۃ الارض کا ظاہر ہونا ہے جو چاشت کے وقت لوگوں پر ظاہر ہوگا ان دونوں میں سے جو بھی ظاہر ہوگی دوسری نشانی اس کے بعد قریب ہی زمانہ میں ظاہر ہوجائے گی۔ (رواہ مسلم ص 404 جلد 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہوگا تو کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا اور جس نے اپنے ایمان میں کسی خیر کا کام نہ کیا ہوگا (1) پچھم سے سورج کا نکلنا (2) دجال کا ظاہر ہونا (3) دابۃ الارض کا نکلنا (رواہ مسلم ص 88 جلد 1) دابۃ الارض کے بارے میں انشاء اللہ تعالیٰ سورة نمل کی آیت (وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ اَخْرَجْنَاھُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ ) (الآیۃ) کے ذیل میں احادیث نقل کی جائیں گی۔ آخر میں فرمایا (قُلِ انْتَظِرُوْآ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ) اس میں تہدید ہے کہ وہ جو حق کے بعد ایمان نہیں لاتے تو کب ایمان لائیں گے ؟ جب پچھم کی طرف سے سورج نکلنے والی نشانی ظاہر ہوگی کیا اس وقت ایمان لائیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا مقبول نہ ہوگا لہٰذا اس سے پہلے ابھی آجائیں کہ کفر کی وجہ سے اہل کفر عذاب نار میں گرفتار ہوں گے اور مومن جنت میں جائیں گے۔ فائدہ : ہیئت و ریاضی پر ایمان رکھنے والے بعض لوگ مغرب سے سورج نکلنے کو محال سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی جہالت کی باتیں ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہر چیز کا خالق ومالک ہے سورج کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس کو مسخر فرمایا ہے اور اسی نے سورج کا نظام مقرر فرمایا ہے کہ وہ اس طرف سے نکلے اور اس طرف چھپ جائے اسے یہ بھی قدرت ہے کہ سورج کو غروب والی جہت پر پہنچا کر واپس اسی جانب لے آئے جدھر سے وہ گیا ہے۔ اس حقیقت کو (فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ ) میں بیان فرمایا اللہ تعالیٰ ہی اس کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب میں چھپا دیتا ہے۔ بلکہ دونوں جہات کا نام مشرق مغرب اسی طلوع و غروب کی وجہ سے رکھا گیا اگر اللہ تعالیٰ شانہٗ آفتاب کی گردش کا نظام ایسا مقرر فرماتے کہ جس جانب میں غروب ہوتا اسی جانب سے نکلا کرتا تو طلوع ہونے والی جانب کو مشرق اور اس کی مقابل جانب کو مغرب کہا جاتا۔ فائدہ : مفسر ابن کثیر ص (ص 194 جلد نمبر 2) نے بحوالہ ابن مردو یہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ پچھم سے سورج نکلنے سے پہلے ایک رات تین راتوں کے برابر ہوجائے گی۔ لوگ گھبرا اٹھیں گے کہ صبح ہوتی ہی نہیں۔ اور چیخنے لگیں گے۔ گھبرا کر مسجدوں کی طرف چلے جائیں گے۔ اچانک پچھم کی جانب سے سورج نکل آئے گا اور آسمان کے درمیان تک پہنچ کر واپس ہوجائے گا اور اس کے بعد اپنے اسی مطلع سے نکلے گا جہاں سے نکلا کرتا تھا۔ مفسر ابن کثیر نے روایت نقل کر کے کوئی کلام نہیں کیا صرف اتنا کہہ دیا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور صحاح ستہ میں نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کردی اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، بس ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ پھر ان کے وہ کام ان کو جتا دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

دین میں تفریق کرنے والوں سے آپ بری ہیں انسان میں سب سے بڑی بیماری تو یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو نہ مانے یا مانے لیکن اس کے ساتھ شرک کرے اور اس نے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ اپنا دین بھیجا اس کی تکذیب کرے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اس کے دین کو جھٹلائے۔ اور دوسری گمراہی یہ ہے کہ وہ اللہ کو بھی مانے اس کے بھیجے ہوئے دین کو ماننے کا دعویدار بھی ہو لیکن اللہ کے دین میں اپنی طرف سے ایسی باتیں داخل کر دے جو اللہ تعالیٰ کے دین میں نہیں ہیں۔ شیطان کی یہ بہت بڑی چالاکی ہے۔ بہت سے وہ لوگ جو یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے دین کو قبول کیا جو اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ بھیجا۔ ان میں بعض لوگوں پر شیطان اپنا یہ داؤ چلاتا ہے اور ان کو ایسے افکار و آراء اواوہام واہواء پر ڈال دیتا ہے جن کی وجہ سے وہ خداوند قدوس کے بھیجے ہوئے دین کے دائرہ سے باہر ہوجاتے ہیں، وہ اپنے خیال میں دین کے دائرے میں ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں دین سے خارج ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں لیکن وہ بار گاہ خداوندی سے مردود ہوتے ہیں، اس امت سے پہلے جو امتیں گزری ہیں انہوں نے ایسی حرکتیں کیں۔ یہود و نصاریٰ کی گمراہی معروف ہی ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ تھا اور اب بھی ہے کہ ہم اللہ کے مقرب بندے ہیں لیکن اللہ کے دین کو چھوڑ کر جس کی بنیاد ہی توحید پر ہے مشرک ہوگئے اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتادیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے اور ان کے قتل کے درپے ہوگئے۔ پھر سیدنا حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے نیز نصاریٰ بھی دین حق سے ہٹ گئے اور انہوں نے اپنے دین میں شرک ملا دیا۔ انہیں میں سے کسی نے حضرت مسیح بن مریم کے بارے میں یہ عقیدہ بنا لیا کہ ابن مریم اور اللہ ایک ذات کا نام ہے اور بعض لوگوں نے انہیں اللہ کا بیٹا بتایا۔ اور بعض لوگوں نے یوں کہا معبود تین ہیں یعنی اللہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ بھی معبود ہیں۔ پھر بعض یہود نے انہیں عقیدہ تکفیر پر ڈال دیا اب وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قتل (العیاذ باللہ) ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، ان کے نزدیک اتوار کے دن چرچ میں جانے سے اور بعض گناہ پوپ کے سامنے بیان کردینے سے اور بعض یوں ہی عام طور پر معاف ہوجاتے ہیں۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ ) مشرکین عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہونے کے مدعی تھے سب کو معلوم ہے ان کا دین توحید خالص پر مبنی تھا۔ انہوں نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں آگ میں ڈالا جانا تک منظور کیا مگر توحید کی دعوت نہ چھوڑی۔ لیکن ان کے دین کے ماننے والوں نے (جن میں مشرکین عرب بھی تھے) بت پرستی شروع کردی اور عین کعبہ شریف میں بت رکھ دیئے۔ جب ان کے سامنے توحید کی دعوت رکھی گئی تو ان کو اچھوتا معلوم ہوا اور کہنے لگے۔ (اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ الھًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ) اور جب ان پر بت پرستی کی نکیر کی گئی اور بتایا گیا کہ یہ شرک ہے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے تو کہنے لگے کہ (مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفیٰ ) (کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کرتے ہیں) ۔ کبھی کہتے تھے (ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ) (ہم نے جو یہ معبود بنا رکھے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے) یہ ساری باتیں خود تراشیں شرک کیا گمراہ ہوئے اور پھر بھی اسی خیال میں غرق کہ اللہ ہم سے راضی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں یعنی اس کے وجود کا یقین رکھتے ہیں ان میں بہت سے لوگوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو نہیں مانا اور جنہوں نے مانا انہوں نے اللہ کے دین میں اللہ کی ناراضگی کی باتوں کو شامل کردیا اور دین حقیقی میں تفریق کی صورتیں نکال دیں اور بہت سی جماعتوں میں بٹ گئے۔ (صاحب روح المعانی 8 ص 68) نے سنن ترمذی اور حلیہ ابو نعیم اور شعب الایمان للبیہقی سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ اے عائشہ ؓ جن لوگوں نے اپنے دین سے جدائی اختیار کی اور فرقے فرقے بن گئے یہ بدعتوں والے لوگ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اپنی خواہشوں پر چلتے ہیں اور جو اس امت کے گمراہ لوگ ہیں ان کے لئے کوئی توبہ نہیں۔ اے عائشہ ! ہر گناہ والے کے لئے توبہ ہے سوائے اہل بدعت اور اصحاب اہواء کے۔ کیونکہ ان کے لئے توبہ نہیں میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس روایت کے پیش نظر اب یوں کہا جائے گا کہ مشرکین کا حال بیان کرنے کے بعد اہل بدعت کا حال بیان فرمایا کہ اہل بدعت کا حال اہل شرک سے بعید نہیں ہے۔ گمراہ فرقوں کا تذکرہ : شیطان اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ انسانوں کو کیسے گمراہی پر لگاؤں اول تو ایمان قبول کرنے نہیں دے گا۔ دوم جو لوگ مومن ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی طرف سے شکوک ڈالتا ہے۔ پھر جو لوگ استقامت کے ساتھ ایمان پر رہیں اور شکوک و شبہات سے متاثر نہ ہوں ان کو ایسی ایسی باتیں سجھا دیتا ہے جو ایمان کے خلاف ہوتی ہیں۔ پہلی امتوں کے ساتھ جو اس نے حرکتیں کیں۔ اس امت کے ساتھ اس کا وہی طرز عمل ہے۔ اہل ایمان کے دلوں میں ایسی چیزیں ڈالتا ہے جو گمراہی کی چیزیں ہیں اور چیزوں کے اختیار کرنے سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ جتنے ملحد اور زندیق اس امت میں گزرے ہیں اور اب موجود ہیں ایمان کا نام لیتے ہوئے بھی کفر اختیار کیے ہوئے ہیں اور چونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو صحیح راہ پر سمجھتے ہیں۔ اس لیے توبہ بھی نہیں کرتے، جو لوگ اپنے امام کے اندر اللہ تعالیٰ کا حلول مانتے ہیں اور جو لوگ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں اور جو لوگ حضرت علی ؓ کو خدا بتاتے رہے اور جو لوگ خاتم النّبیین ﷺ پر نبوت ختم ہونے کے منکر ہیں اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل کو حجت نہیں مانتے اور جو لوگ عقیدہ بدا کے قائل ہیں یہ سب لوگ سیدنا محمد ﷺ کے دین سے بری ہیں۔ اسلام سے خارج ہیں اور آنحضرت ﷺ ان سے بیزار ہیں۔ پھر اگر کوئی شخص ایسی بدعت اعتقادیہ میں مبتلا نہ ہو جو اسلام سے نکال کر کفر میں داخل کر دے تو شیاطین اسے اعمال بدعت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل بدعت نے طرح طرح کی بدعتیں نکال رکھی ہیں۔ اور ان بدعات کی وجہ سے بہت سے فرقے بنے ہوئے ہیں جو لوگ بدعت کے اعمال میں مبتلا ہیں ان کو بھی توبہ کی توفیق نہیں ہوتی۔ کیونکہ اعمال بدعت کو ثواب سمجھ کرتے ہیں اور جس عمل کو نیکی سمجھتے ہیں اس سے توبہ کیوں کرنے لگے۔ بدعت اعتقادی ہو یا عملی اس کے ایجاد کرنے والوں کو اور اس پر عمل کرنے والوں کو اصحاب الا ہواء کہا جاتا ہے۔ اَھْوَاء ھَوٰی کی جمع ہے ہر خواہش نفس کو عربی میں ہوٰی کہتے ہیں جو لوگ بدعتیں نکالتے ہیں وہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے جو اپنی سمجھ میں آتا ہے اور جو اپنا نفس چاہتا ہے اسے دین میں داخل کرلیتے ہیں۔ انہیں لاکھ سمجھاؤ کہ یہ عمل قرآن و حدیث سے ثابت نہیں لیکن وہ برابر اسی میں لگے رہتے ہیں۔ سنتوں پرچلنے سے ان کے دل خوش نہیں ہوتے۔ بدعتیں ان کے اندر رچ بس جاتی ہیں۔ ان بدعتوں کی وجہ سے بہت سے فرقے وجود میں آجاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت پر ضرور ایسا زمانہ آئے گا جیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا (پوری طرح ان کے مطابق عمل کریں گے) جیسا کہ ایک جوتا دوسرے جوتا کے موافق بنایا ہوا ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ زنا کیا تھا تو میری امت میں سے بھی ایسے لوگ ہوں گے جو ایسا کریں گے۔ (پھر فرمایا) کہ بنی اسرائیل کے 72 فرقے ہوگئے تھے۔ اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ سب فرقے دوزخ میں ہوں گے۔ سوائے ایک ملت کے ! صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ ملت کون سی ہے ہے جو جنت والی ہے ؟ آپ نے فرمایا مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ (کہ جس ملت اور دین پر میں اور میرے صحابہ ہیں وہ جنت والی ہے) (رواہ الترمذی) اب سارے فرقے غور کریں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کس دین پر تھے ؟ اور جو لوگ اس طریقہ سے ہٹے ہوئے ہیں وہ اپنا انجام سوچ لیں۔ اور خاص طور پر وہ لوگ غور کریں جو حضرات صحابہ ؓ کو مسلمان ہی نہیں مانتے اور جو لوگ ان میں کیڑے ڈالتے ہیں اور ان کی بشری کمزوریوں کو تاریخ کی کتابوں سے نکال کر اچھالتے ہیں (جبکہ تاریخی روایات بےسند ہوتی ہیں) ۔ (اِنَّمَآ اَمْرُھُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ) (ان کا معاملہ بس اللہ ہی کے حوالہ ہے وہ انہیں جتا دے گا جو کام وہ کرتے تھے) ۔ فائدہ : بعض لوگ جنہیں قرآن و حدیث کا علم نہیں۔ اور اجتہاد و استنباط کی شرعی ضرورت سے ناواقف ہیں وہ لوگ ائمہ اربعہ کے چاروں مذہبوں کو چار فرقے بتاتے ہیں اور اپنی جہالت سے ان مذاہب کے ماننے والوں کو انہیں بہتر (72) فرقوں میں شمار کرتے ہیں جو گمراہ ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ائمہ اربعہ کے مقلدین سب ایک ہی فرقہ ہیں اور ایک ہی جماعت ہیں اور اسی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کے امام کا ادب سے نام لیتے ہیں۔ اور ایک مذہب کے مقلدین دوسرے مذہب کے علماء کو (رح) کی دعا کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ان میں اعتقادیات میں اختلاف نہیں۔ فروعی مسائل میں اختلاف ہے چونکہ یہ اختلاف حضرات صحابہ میں بھی تھا اس لیے نجات پانے والی جماعت (جس کے بارے میں ما انا علیہ و اصحابی فرمایا) اس سے خارج نہیں ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والے اور حضرات صحابہ کرام ؓ کے طریق کو اپنانے والے عموماً مذاہب اربعہ ہی کے متبعین رہے ہیں اور ہیں۔
Ayahs 6:160–161

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرے سو اسے اس جیسے دس حصے ملیں گے اور جو شخص برائی کا کام کرے تو اسے صرف اس کے برابر ہی سزا ملے گی۔ اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ میرے رب نے مجھے سیدھے راستہ کی ہدایت دی ہے یہ مستحکم دین ہے اور ابراہیم کی ملت ہے جو حق کی راہ اختیار کرنے والا تھا، اور شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔

ایک نیکی پر کم از کم دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اس آیت میں نیکیوں کی جزا اور برائیوں کی سزا کا قانون بتایا ہے اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اس نے اپنے بندوں پر یہ کرم فرمایا کہ ایک نیکی کرنے پر اس جیسی کم از کم دس نیکیاں کرنے کا ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کا اعلان عام فرما دیا اور جو شخص کوئی گناہ کرلے تو اس میں اضافہ نہیں ہے بلکہ ایک گناہ پر ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی۔ پھر یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ گناہ پر سزا مل ہی جائے۔ توبہ استغفار سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیوں سے بھی معاف ہوتے رہتے ہیں۔ اور نیکی کا جو دس گنا ثواب بتایا ہے یہ کم سے کم ہے اس سے زیادہ بھی ثواب ملتا ہے۔ سورۂ بقرہ میں (رکوع 36) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا ثواب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کی ایسی مثال ہے جیسے ایک دانہ ہو اس دانہ سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں پھر اخیر میں (وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے چند در چند اضافہ فرماتا ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ سات سو پر بھی منحصر نہیں اس سے زیادہ بھی اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اضافہ فرما دیتا ہے۔ متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں خرچہ بھیج دیا اور وہ اپنے گھر ہی میں رہا تو اسے ہر درہم کے بدلہ سات سو درہم ثواب ملے گا اور جس نے اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کیا اس کے لیے ہر درہم کے بدلہ سات لاکھ درہم کا ثواب ہوگا پھر آپ نے آیت کریمہ (وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ) تلاوت فرمائی۔ (رواہ ابن ماجہ) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں (کے قانون) کو لکھ دیا ہے سو جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر اسے نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس سے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر ارادہ کرنے کے بعد اس نیکی کو کر بھی لیا تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے اس جیسی دس نیکیاں سات سو گنا تک (بلکہ) اس سے بھی زیادہ چند در چند کر کے لکھ دیتا ہے اور اگر کوئی شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے پھر وہ (اللہ کے ڈر سے اسے چھوڑ دیتا ہے) اور اپنے ارادہ پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر برائی کا ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کرلیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک گناہ لکھ دیتا ہے۔ (رواہ البخاری ص 61 1 و مسلم ج 1 ص 78) دوسری روایت میں ہے کہ جب گناہ کا ارادہ کر کے چھوڑ دیتا ہے اور گناہ کو نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اِنَّمَا تَرَکَہٗ مِنْ جَرَادِءِیْ یعنی اس کے لیے گناہ چھوڑنے کی وجہ سے اس لیے نیکی لکھی گئی کیونکہ اس نے گناہ میری وجہ سے چھوڑا ہے۔ (رواہ مسلم ج 1 ص 78)
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ میری نماز اور میری سب عبادتیں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے

میری سب عبادتیں اور مرنا جینا سب اللہ ہی کے لیے ہے مشرکین کی تردید فرمانے کے بعد اللہ جل شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اپنے بارے میں ان لوگوں کو بتادیں کہ میرے رب نے مجھے ہدایت دی ہے سیدھا راستہ بتادیا ہے اور مجھے اسی پر چلا دیا ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے مضبوط دین ہے مستحکم ملت ہے اور ایسی ملت پر ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے وہ تمام دینوں سے کٹ کر توحید ہی کو اختیار کیے ہوئے تھے اور توحید ہی کی دعوت دیتے تھے (اس میں مشرکین پر تعریض ہے کیونکہ وہ بھی ملت ابراہیم کے دعویدار تھے لیکن شرک میں غرق تھے۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے۔ مشرک نہیں تھے) ۔ اس کے بعد اس ہدایت کی تفصیل بیان فرمائی جس سے اللہ تعالیٰ نے خاتم النّبیین ﷺ کو نوازا ہے اور فرمایا۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَاشَرِیْکَ لَہٗ ) (کہ آپ یہ بھی فرما دیجیے کہ بلاشبہ میری نماز اور میری دوسری تمام عبادتیں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو رب العالمین ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس میں دو باتیں بتائی گئیں۔ اول یہ کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے دوم یہ کہ مومن کی زندگی بھی قیمتی ہے اور موت بھی قیمتی ہے۔ اللہ ہی کے لیے جئے اور اللہ ہی کے لیے مرے پوری زندگی اللہ کے احکام کی پابندی میں گزارے اور فرائض و واجبات کے علاوہ بھی انہیں کاموں میں لگائے جن سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اور جب مرنے لگے تو ایمان ہی پر مرے اس کی یہ موت قیمتی ہوجائے گی کیونکہ موت ہی اخروی نعمتوں کے درمیان حائل ہے۔ جب مومن بندہ موت کے پل سے پار ہوجائے اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر عام مومنانہ زندگی گزارتے ہوئے کسی جہاد شرعی میں شریک ہوگیا اور دشمنان دین کے ہاتھوں شہید ہوگیا تو شہادت کی وجہ سے اس کی موت اور زیادہ قیمتی ہوجائے گی۔ ہر مومن بندہ اپنی موت زندگی کو قیمتی اور سمجھے اپنے مقام کو پہچانے اور قیمتی زندگی کو ضائع نہ کرے۔ مومن اپنا سب کچھ جان اور مال اوقات حیات اور اپنی موت اللہ ہی کی رضا کے لیے خرچ کرے کیونکہ (اللہ رب العالمین ہے پروردگار ہے اس کا حق اس سے بہت زیادہ ہے کہ تھوڑی سی زندگی اس کی راہ میں خرچ ہوجائے۔ )
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں ماننے والوں میں سب سے پہلا فرماں بردارہوں

(وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) (اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا فرماں بردار ہوں) یہ اولیت اس امت کے اعتبار سے ہے یعنی میں امت موجودہ میں جو آخر الامم ہے سب سے پہلا مسلم ہوں اور اللہ تعالیٰ کا فرمانبر دار ہوں۔ دیگر حضرات انبیاء (علیہ السلام) بھی اپنی اپنی امتوں میں سب سے پہلے مسلم اور فرمانبر دار تھے۔ و ھٰذا شان کل نبی بالنسبۃ الیٰ اُمتہٖ (روح المعانی) اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ میں صرف دعوت دینے والا ہی نہیں عمل کرنے والا بھی ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں یوں عرض کیا تھا۔ (سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر نبی ایمان لانے کا اور اپنی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنے کا مکلف ہوتا تھا۔ اور امت کی نسبت ایمان اور اعمال میں اسے اولیت حاصل ہوتی تھی قربانی کی دعا میں بھی آیت بالا کے الفاظ (اِنَّ صَلاَتِیْ ) سے لے کر الْمُسْلِمِیْنَتک وارد ہوئے ہیں لیکن اس میں اول المسلمین نہیں بلکہ (مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) ہے۔ چونکہ امت کو دعا کی تعلیم دینا تھا اور قربانی کے وقت پڑھوانا تھا اس لیے (اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) کی بجائے خود بھی (وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) پڑھا۔ (کماروی ابو داؤد ج 2 ص 30)
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے، اور جو بھی کوئی شخص کوئی گناہ کرے اس کا و بال اسی پر ہے۔ اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے سو وہ تمہیں وہ چیزیں جتا دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے

میں اللہ کے سوا کوئی رب تلاش نہیں کرسکتا یہاں پھر مشرکین سے خطاب کرنے کا حکم فرمایا اور نہ صرف مشرکین بلکہ وہ تمام لوگ اس کے مخاطب ہیں جو اعتقادی یا عملی طور پر غیر اللہ کو رب بناتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے ہیں جو رب جل شانہٗ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ارشاد فرمایا۔ (قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ ھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (آپ فرما دیجیے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے) یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں تو ایسا نہیں کرسکتا اور کر ہی کیسے سکتا ہوں جبکہ اللہ سب کا رب ہے، اپنی بےوقوفی سے تم جن چیزوں کو رب بنائے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کا بھی رب ہے۔ اپنی جیسی مخلوق کو بلکہ اپنے سے بھی کمتر چیزوں کو معبود بناناحماقت اور سفاہت ہے میں تمہاری حماقت کا کیسے ساتھ دے سکتا ہوں ؟ پھر فرمایا۔ (وَ لَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْھَا وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) یعنی جو شخص کوئی بھی عقیدہ رکھے گا یا کوئی بھی گناہ کرے گا تو اس کا و بال اسی پر ہوگا۔ کوئی دوسرا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ جو لوگ دنیا میں کہتے ہیں کہ تم ہمارے ساتھ ہمارے گناہوں میں شریک ہوجاؤ اور ہمارے غیر اسلامی رسم و رواج میں شریک ہوجاؤ اس کا و بال ہم پر ہوگا۔ یہ اس لیے کہہ دیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی وعیدوں پر یقین نہیں ہے قیامت کے دن کوئی کسی کا و بال اپنے سر نہیں لے گا اور کوئی جان کسی کی طرف کچھ بدلہ نہیں دی گئی، پھر آخرت کی حضوری یاد دلائی اور فرمایا۔ (ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے سو وہ تمہیں جتلا دے گا جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے ہو۔ وہاں ان لوگوں کی نجات ہوجائے گی جو اللہ کے دین پر تھے اور سب پر عیاں ہوجائے گا کہ حق بات کون سی تھی اور کس کی تھی۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا اور درجات کے اعتبار سے تم میں ایک کو دوسرے پر فوقیت دی تاکہ وہ تمہیں ان چیزوں کے بارے میں آزمائے جو تم کو عطا فرمائیں، بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے۔ اور بلاشبہ وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے

اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کو دوسرے پر فوقیت دی سورۂ انعام ختم ہو رہی ہے اس میں بار بار دین حق کی دعوت دی، توحید کی طرف بلایا، مشرکین کی بےوقوفی بیان فرمائی اور ان کے عقائد باطلہ اور شرکیہ رسم و رواج کی تردید فرمائی اور توحید پر دلائل قائم کیے۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ کی بعض نعمتوں کی تذکیر فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا پہلی امتیں چلی گئیں ایک دوسرے کے بعد آتی رہیں۔ اب تم ان کے بعد زمین میں آئے ہو۔ زمین میں تمہیں اقتدار سونپ دیا اور سب کو ایک حالت میں نہیں رکھا غنی بھی ہیں فقیر بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، حاکم بھی ہیں محکوم بھی ہیں۔ یہ اقتدار سپرد کرنا اور فرق مراتب رکھنا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آزمائے کہ جو کوئی فوقیت کسی کو مال کے اعتبار سے یا منصب و مرتبہ یا کسی بھی حیثیت سے دی ہے وہ اس کو کس کام میں لگاتا ہے انصاف کرتا ہے یا ظلم کرتا ہے، بیکسوں پر رحم کھاتا ہے یا انہیں ستاتا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہے یا نہیں۔ یہ سب چھوٹے بڑے طبقات قیامت کے دن حاضر ہوں گے، ظالم مظلوم کے درمیان انصاف ہوگا۔ ظالموں کو سزا ملے گی۔ حقوق العباد کی ادائیگی نیکیوں کے ذریعہ ہوگی، جو حقوق اللہ ضائع کیے اللہ جل شانہٗ چاہے ان کی اضاعت پر عذاب دے چاہے معاف فرما دے وہ سریع العقاب ہے، اور بلاشبہ وہ غفور ہے۔ قال القرطبی (ص 158 ج 7) فی تفسیرہٖ قال اللہ تعالیٰ ! (وَھُوَ الَّذِیْ جَعَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ ) ” خَلاَء آف “ جمع خلیفۃٍ کَکَرائم جمع کریمۃٗ و کل من جاء بعد من مضی خلیفہ أی جعلکم خلفا للأمم الماضیۃ و القرون السالفۃ۔ (وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ ) فی الخلق و القوۃ و البسطۃ و الفضل والعلم۔ (درجٰتِ ) نصب باسقاط الخافض، أی الی درجات (لِیَبْلُوَکُمْ ) نصب بلام کَیْ ۔ والابتلاء الاختبار أی لیظھر منکم ما یکون غایتہٗ الثواب و العقاب، و لم یزل بعلمہٖ غنیَّا، فابتلی الموسر بالغنی و طلب منہ الشکر، و ابتلی المعسر بالفقر و طلب منہ ابصرو یقال، (لیبلوکم) ای بعضکم ببعض، ثمہ خوفھم فقال : (اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ) لمن عصاہ (وَ اِنَّہٗٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) لمَنْ اطاعہٗ ، و قال ” سَرِیْعُ الْعِقَاب “ مع وصفہ سبحانہ بالامھال ومع ان عقاب النّار فی الاٰخِرۃ، لان کل اٰت قریب فھو سریع علیٰ ھذا، کما قال تعالیٰ ! وَمَأ اَمْرُ السَّاعَۃِ الاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْھُوَ اَقْرَبُ “ و قال ! ” وَیَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا وَنَرٰہُ قَرِیْبًا “ و یکون ایضًا سریع العقاب لمن استحقہ فی دارالدنیا فیکون تحذیرًا لمواقع الخطیءۃ ھذہ الجھۃ واللہ اعلم و قال صاحب الروح (وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الاَْرْضِ ) ای یخلف بعضکم بعضا کلما مضی قرن جاء قرن حتی تقوم الساعۃ و لا یکون ذالک الا من عالم مدبر، والی ھذا ذھب الحسن أو جعلکم خلفاء اللہ تعالیٰ فی ارضہٖ تتصرفون فیھا۔ کما قیل۔ و الخطاب علیھما عام، و قیل : الخطاب لھذہ الامۃ، وروی ذٰلک عن السدی ای جعلکم خلفاء الامم السالفۃ (وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ ) فی الفضل و الغنی کما روی عن مقاتل (دَرَجات) کثیرۃ متفاوتۃ (لِیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتکُمْ ) اَیْ لیعملکم معاملۃ من یبتلیکم لینظر ما ذا تعملون مما یرضیہ و ما لا یرضیہ (وَاِنَّ رَبَّک) تجرید الخطاب رسول اللہ ﷺ مع اضافۃ اسم الربّ الیہ لا براز مزید اللطف بہٖ ﷺ (سَرِیْعُ الْعِقَاب) أی عقابہ سبحانہ الاخروی سریع الاتیان لمن لم یراع حقوق ما آتاہ لان کل آتٍ قریب، او سریع التمام عند ارادتہ لتعالیہ سبحانہ عن استعمال المبادی و الاٰ لاتِ 1 ھ۔ فائدہ : دنیا میں جو اللہ تعالیٰ نے فرق مراتب رکھا ہے اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جس کسی کے پاس کوئی نعمت ہے ہو اس نعمت پر شکر ادا کرے اور جو اس سے کم حیثیت کے لوگ ہیں ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرے اور بار بار یہ مراقبہ کرے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے تنگدست بےاختیار اپاہج لولا لنگڑا نابینا بنا دیتا ۔ اگر اس طرح غور کرے تو نہ دوسروں کو حقیر جانے گا اور نہ اللہ کی نا شکری کرے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص ایسے شخص کو دیکھے جو مال اور شکل صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اس کو بھی دیکھ لے جو اس سے کم ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 2 ص 447) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم اس کو دیکھو جو تم سے کم ہے اور اس کو نہ دیکھو جو تم سے زیادہ ہے ایسا کرو گے تو تم پر جو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں ان کو حقیر نہ جانو گے۔ (رواہ مسلم ص 407 ج 2) اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں دو باتیں ہوں گی اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھ دے گا۔ دین میں اسے دیکھے جو اس سے بڑھ کر ہے پھر اس کا اقتداء کرے اور دنیا میں اسے دیکھے جو اس سے کمتر ہو پھر اللہ کی حمد بیان کرے کہ اللہ نے اسے اس شخص پر فضیلت دی ہے، ایسے شخص کو اللہ شاکر اور صابر لکھ دے گا اور جس نے اپنے دین میں ایسے شخص کو دیکھا جو اس سے کم ہے اور دنیا میں اسے دیکھا جو اس سے بڑھ کر ہے پھر اسے اس بات پر رنج ہوا کہ دنیا میں مجھے اتنا نہیں ملا تو اللہ اسے نہ شاکر لکھے گا اور نہ صابر لکھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) و لقد تم تفسیر سورة الانعام والحمد للہ اولاً و اٰخرًا و باطنا و ظاھرًا