Ayah 6:89پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب دی اور حکم دیا اور نبوت عطا کی) اس میں جو لفظ کتاب ہے اس سے جنس مراد ہے جس جس نبی کو جو کتاب ملی عموم جنس میں ان سب کا ذکر آگیا۔ اور الحکم جو فرمایا اس سے حکمت یعنی حقائق الاشیاء کی معرفت مراد ہے اور لوگوں کے درمیان صحیح صحیح فیصلے کرنا بھی مراد لے سکتے ہیں کیونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کے درمیان فیصلے بھی فرماتے تھے۔ ان حضرات کو نبوت سے سر فراز فرمایا۔ لفظ نبوت وارد ہوا ہے لفظ رسالت نہیں ہے نبی تو ہر پیغمبر ہے لیکن رسول اللہ کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ وہ ہے جسے نئی شریعت اور نئی کتاب دی گئی ہو۔
لفظ نبوۃ لا کر سب کو مضمون بالا میں شرک فرما لیا۔ پھر فرمایا (فَاِنْ یَّکْفُرْبِھَا ھآؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِھَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْنَ ) سو اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ ان حضرات کی نبوت کا انکار کریں (جس میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کا انکار بھی ہے کیونکہ ان حضرات کی نبوت کی خبر رسول اللہ ﷺ نے اور قرآن مجید نے دی ہے) سو ہم نے اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کردیا جو اس کے منکر نہیں۔ یعنی انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانے والے اور خاتم الانبیاء ﷺ اور آخری کتاب قرآن مجید پر ایمان لانے والے کو کثیر تعداد میں ہم نے مقرر کردیا ہے۔ ایمان لانے والے کثیر تعداد میں ہیں۔
حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس سے صحابہ کرام ؓ مراد ہیں۔ (قَوْمً لَّیْسُوْابِھَا بِکٰفِرِیْنَ ) کی تفسیر میں دیگر اقوال بھی ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں جتنے بھی اہل ایمان ہیں وہ سب مراد ہیں اس قول میں جامعیت ہے جس میں اولین اور آخرین تمام اہل ایمان شامل ہیں۔
Ayah 6:90پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰیھُمُ اقْتَدِہْ ) یہ وہ حضرات ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی۔ سو آپ ان کی ہدات کا اتباع کریں۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اصول ایمان یعنی توحید اور ایمان بالملائکہ اور ایمان بِکِتٰبِ اللہ ورسلہ اور ایمان بالیوم الآخر میں ان حضرات کی اقتداء کا حکم ہے۔
نیز حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی جو صفات تھیں (عبادت زہد، شکر، تواضع اور تضرع) ان چیزوں میں ان کا اقتداء کرنا مراد ہے۔ ان حضرات نے اپنی قوموں کے انکار اور ایذاء رسانی پر صبر کیا۔ حلم سے کام لیا آپ بھی اس کو اختیار کریں۔ سورة ص کے سجدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرات شوافع کے نزدیک سورة ص میں سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے صحیح بخاری ج 2 ص 709 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے سورة ص کی تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ پر سجدہ کیا تو حضرت مجاہد تابعی جو ان کے شاگرد ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے کس دلیل سے یہاں سجدہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ آیت نہیں پڑھتے۔
(وَمِنْ ذُرِّیَّتہٖ دَاوٗدَ وَ سُلیْمٰنَ الیٰ قولہ تعالیٰ اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰیھُمُ اقْتَدِہْ ) حضرت داؤد (علیہ السلام) ان حضرات میں تھے جن کی اقتداء کا تمہارے نبی کو حکم دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں سجدہ کیا (لہٰذا ہم بھی سجدہ کرتے ہیں) حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سورة ص کا سجدہ واجب ہے۔
پھر فرمایا (قُلْ لَّآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا) کہ میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔ (یہ جو تبلیغ اور دعوت کا کام ہے یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے اس کا ثواب مجھے اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے) سورة سبا میں فرمایا (قُلْ مَا سَأَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللَّہِ وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ) (آپ فرما دیجیے کہ میں نے تم سے جو معاوضہ طلب کیا ہے وہ تمہارے ہی لیے ہے بس میرا اجر صرف اللہ پر ہے اور وہ ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے) مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کسی معاوضے کا طلب گار نہیں ہوں۔ بالفرض میں نے تم سے کبھی طلب کیا تو مجھے نہیں چاہیے وہ تم خود ہی رکھ لو۔
آخر میں فرمایا (اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ ) (یہ قرآن جو میں تمہیں سناتا ہوں یہ جہانوں کے لیے محض ایک نصیحت ہے) اس میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عمومی کا ذکر ہے۔ جب قرآن سارے جہانوں، سارے جنات اور سارے انسانوں کے لیے ہے اور کسی خاص قوم کے لیے مخصوص نہیں ہے تو قرآن لانے والا بھی ان سب کے لیے اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔
قال صاحب الروح و استدل بالایۃ علی عموم بعثتہ e
Ayah 6:91یہودیوں کی ضد اور عناد کا ایک واقعہ
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کو ایسا نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھا بہت سے لوگ تو ذات باری تعالیٰ کے منکر ہی رہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ان میں سے بہت سوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا دیئے اور اللہ کی صفات کمالیہ علم وقدرت وغیرہ کو ماننے کی طرح نہ مانا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے موافق حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں بہت سے لوگ ان کے منکر ہوگئے۔ (اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلیٰ بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ) (جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں کیا) حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں جنہوں نے یہ بات کہی، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے یہودی مراد ہیں۔ درمنثور ج 3 ص 29 میں ہے کہ مالک بن صیف ایک یہودی تھا وہ آنحضرت ﷺ سے جھگڑا کرنے لگا۔ یہ علماء یہود میں سے تھا اور بھاری بدن والا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حصرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل فرمائی کیا تو توریت میں یہ مضمون پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھاری جسم والے عالم سے بغض رکھتا ہے یہ سن کر وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ وہ ضد میں آکر یہ بات کہہ گیا۔ اور الفاظ کے عموم سے توریت شریف کے نازل ہونے کی بھی نفی ہوگئی۔ اس کے ساتھی جو موجود تھے انہوں نے احساس بھی دلایا اور کہا کہ افسوس ہے تو ایسی بات کہہ رہا ہے۔ کیا موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی کچھ نازل نہیں ہوا ؟ اس نے پھر وہی اپنی بات دہرائی کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ یہ عناد کی آخری حد ہے کہ ضد میں آکر انسان اپنے مسلمہ عقائد کا بھی انکار کر بیٹھے اور اپنے دین و ایمان کا بھی منکر ہوجائے۔
بعض لوگ بہت ہی نڈر ہوتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں لیکن اللہ کی بطش شدید اور مو اخذہ سے نہیں ڈرتے۔ جوش غضب میں کفریہ باتیں کہ جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ) (کہ انہوں نے اللہ کی ذات وصفات کو ایسا نہیں مانا جس طرح ماننا تھا) اللہ کی ناراضگی اور گرفت کا اندیشہ انہیں بالکل نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اللہ نے کتابیں نازل فرمائی ہیں پھر بھی جرأت جاہلانہ کر کے یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا ان لوگوں کی تردید میں فرمایا۔ (قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّ ھُدًی لِّلنَّاسِ ) (آپ فرما دیجیے کس نے اتاری وہ کتاب جسے موسیٰ لائے جو نور تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی) اس میں بطور استفہام تقریری ان ہی لوگوں سے سوال فرمایا جو منکر ہو رہے تھے اور عناد میں یوں کہہ گئے کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ ان سے سوال فرمایا کہ اب تک تو تم یہ کہتے اور مانتے رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت شریف نازل فرمائی۔ اور اب کہہ رہے ہو کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا کیا یہ حق اور حقیقت کا انکار نہیں ہے ؟
ساتھ ہی علماء یہود کے ایک بد ترین کردار کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ (تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَھَا وَ تُخْفُوْنَ کَثِیْرًا) (کہ تم نے توریت کو بجائے اکٹھی مجموعی یکجا کتاب بنانے کے مختلف اوراق میں رکھ چھوڑا ہے۔ جس میں سے کچھ ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو) ۔ جب ان کے عوام کچھ بات پوچھنے کے لیے آتے تھے تو صندوق وغیرہ میں ہاتھ ڈال کر کوئی سا بھی ایک ورق نکال لیتے تھے اور سائل کے مطلب کے مطابق پڑھ کر سنا دیتے تھے۔ تاکہ اس سے کچھ مال مل جائے نیز توریت شریف میں جو حضور اقدس ﷺ کی نعت و صفت بیان کی گئی تھی جسے وہ جانتے تھے اپنے عوام سے اس کو چھپاتے تھے۔ توریت شریف کے احکام جو اس وقت تک ان کے پاس موجود تھے ان کو بھی چھپاتے تھے۔ اور ان کی بجائے دوسرا حکم بتا دیتے تھے۔ جیسا کہ زانیوں کے رجم کے بیان میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (انورا البیان ج 2)
پھر فرمایا (وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَ لَآ اٰبَآؤُکُمْ ) (اور تم کو وہ باتیں بتائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا جانتے تھے) (قُلِ اللّٰہُ ) آپ فرما دیجیے اللہ نے نازل فرمائی۔ اس کی تفسیر میں اور ترکیب نحوی میں متعدد اقوال ہیں جو صاحب روح المعانی نے ذکر کیے ہیں اقرب ترین تفسیر ہمارے نزدیک وہ ہے جو صاحب بیان القرآن نے اختیار کی۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جس توریت کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولاً تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور اور ہدیٰ ہونے کے ماننے کے قابل بھی ہے۔ تیسرے ہر وقت تمہارے استعمال میں ہے گو استعمال شرم ناک ہے لیکن اس کی وجہ سے گنجائش انکار تو نہیں رہی۔ چوتھے تمہارے حق میں وہ بڑی نعمت اور منت کی چیز ہے۔ اس کی بدولت عالم بنے بیٹھے ہو۔ اس حیثیت سے بھی اس میں گنجائش انکار کی نہیں۔ یہ بتلاؤ کہ اس کو کس نے نازل کیا اور چونکہ اس سوال کا جواب ایسا متعین ہے کہ وہ لوگ بھی اس کے سوا کوئی جواب نہ دیتے اس لیے خود ہی جواب دینے کے لیے حضور کو حکم ہے کہ (قُلِِ اللّٰہُ ) کہ آپ ہی کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب مذکور کو نازل فرمایا ہے۔
پھر فرمایا (ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ ) (پھر ان کو چھوڑ دیجیے اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں گے) مطلب یہ ہے کہ جو کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی یہ لوگ اسے مانتے بھی ہیں اور پھر عناد میں یوں بھی کہہ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ ان سے یہ سوال فرمانے کے بعد کہ توریت کس نے نازل فرمائی خود ہی جواب دیجیے کہ اللہ نے نازل فرمائی۔ پھر یہ جواب سنا کر ان کو چھوڑ دیجیے یعنی ان کے پیچھے نہ لگیے آپ کا فرض منصبی بتادینا ہے منوانا نہیں ہے وہ اپنی خرافات میں لگے رہیں گے۔ اپنا انجام دیکھ لیں گے اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن عاقبت مومنین متقین کے لیے ہے۔ قال ابن کثیر ای ثم دعھم فی جھلھم و ضلالھم یلعبون حتی یاتیھم من اللہ الیقین فسوف یعلمون الھم العاقبۃ اَمْ لعباد اللہ المتقین۔
فائدہ : رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امت پر وہ دور آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا۔ یہ لوگ بھی وہ سب کچھ کریں گے۔ (حذو النعل بالنعل) (مشکوٰۃ المصابیح ص 30) آپ کی پیشین گوئی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے مسلمان بنی اسرائیل کے طور طریقے اختیار کیے ہوئے ہیں اور بہت سے وہ لوگ جو مذہب کی طرف منسوب ہیں پیری مریدی کی گدیاں سنبھالے بیٹھے ہیں ان کا وہی کسب دنیا والا ڈھنگ ہے جو بنی اسرائیل کے لوگوں کا تھا۔ خود ہدایت سے دور، اتباع سنت سے بعد۔ مریدوں کو کیا ہدایت دیں ؟ صرب جلب زر کے لیے گدیاں سنبھالے بیٹھے ہیں اور قبروں کے مجاور بنے ہوئے ہیں۔
جو دنیا کے طلب گار پیروں کا حال ہے وہی جھوٹے مدعیان علم کا طریقہ ہے جنہیں جاہ و مال کی طلب ہے۔ ایسے لوگ جانتے بوجھتے ہوئے صحیح مسئلہ بتانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ عوام ہم سے نہ کٹ جائیں اہل حق سے مناظرہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنے باطل دعوے کو باطل سمجھتے ہوئے حجت بازی کرتے رہتے ہیں اور قرآن و حدیث سے اپنے مطلب کے موافق تحریف کر کے استدلال کرلیتے ہیں۔ جیسے ایک مدعی علم نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے بھرے مجمع میں کہہ دیا کہ قرآن مجید میں لَآ اِلٰہَ اَلَّا اللّٰہُ نہیں ہے۔
اس پر ایک حافظ صاحب اٹھ کر چل دیئے تو اسٹیج سے کہنے لگا کہ وہ دیکھو وہ چلا وہابی ! حافظ صاحب موصوف نے کہا کہ میں اس لیے جا رہا ہوں کہ تو نے غلط بیانی کی ہے کہ قرآن مجید میں لَآ اِلٰہَ اَلَّا اللّٰہُنہیں ہے حالانکہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
مقرر کہنے لگا کہ قرآن میں لا الہ الا اللہ کہاں ہے ؟ حافظ صاحب نے کہا کہ قرآن مجید لاؤ تو میں نکال کر بتاؤں۔ قرآن مجید لایا گیا۔ حافظ صاحب نے نکال کر دکھا دیا (سورۂ صافات رکوع 2) اور سورة محمد رکوع 2 میں لا الہ الا اللہ موجود ہے جب قرآن مجید میں نکال کر دکھایا تو مقرر کہنے لگا کہ یہ وہابیوں کا قرآن ہے۔ ان لوگوں نے اپنے پاس سے لکھ دیا ہوگا۔
اپنی بات کی پچ میں ایسی جسارت کرنا بالکل اسی طرح کی بےباکی ہے جیسے مالک بن صیف یہودی نے نفسانیت کی وجہ سے یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔
روافض میں تو یہ بات بہت ہی زیادہ رواج پذیر ہے کہ خود سے جو اپنا دین تراش لیا ہے اس کے مقابلے میں احادیث شریفہ کی تصریحات کو تو کیا مانتے، قرآن مجید کے صریح اعلانات کے منکر ہیں۔ اپنی بات رکھنے کے لیے قرآن کی تحریف کے قائل ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے سورة توبہ میں سابقین مہاجرین اولین اور ان کے متبعین بالا حسان کے لیے جو (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ) کا اعلان فرما دیا، یہ لوگ اس سے راضی نہیں اور مہاجرین و انصار کو کافر کہتے ہیں جب ان کے سامنے قرآن مجید کی آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں حضرات صحابہ کرام ؓ کی مدح و ستائش ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کریوں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بدا ہوگیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کو پتہ نہ تھا کہ یہ لوگ بعد میں کافر ہوجائیں گے۔ (العیاذ باللہ)
کیسی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جہل کی نسبت کرنے کو تیار ہیں لیکن اپنی خود تراشیدہ بات کو غلط کہنے کو تیار نہیں۔ جتنے بھی گمراہ فرقے گزرے ہیں یا اب موجود ہیں سب کا یہی حال ہے۔
Ayah 6:92قرآن مجید مبارک کتاب ہے سابقہ کتب کی تصدیق کرتی ہے
یہود نے یہ جو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اس سے قرآن مجید کا انکار بھی لازم آگیا۔ لہٰذا قرآن مجید کے نازل فرمانے کا متصلاً ہی تذکرہ فرمایا۔ اور قرآن مجید کی دو صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ مبارک ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی دوسری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔
صاحب روح المعانی ج 7 ص 221 مبارک کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای کثیر الفائدۃ و النفع لاشتمالہ علی منافع الدارین و علوم الاوّلین و الاخرین۔ یعنی یہ کتاب بہت زیادہ فائدہ والی ہے اس لیے کہ اس میں دونوں جہان کے منافع ہیں اور اولین اور آخرین کے علوم ہیں۔
قرآن مجید کی دوسری صفت یہ بیان کی کہ اس سے پہلے جو اللہ کی کتابیں ہیں ان سب کی تصدیق کرنے والا ہے، اس میں یہودیوں کی تنبیہ ہے کہ اس کتاب سے منحرف نہ ہوں جو کتاب تمہارے پاس ہے یہ کتاب اس کے معارض نہیں ہے بلکہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
توریت شریف پر بھی ایمان لاؤ اور اس کتاب پر بھی۔ پھر فرمایا (وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَ مَنْ حَوْلَھَا) اور تاکہ آپ ڈرائیں ام القری کے رہنے والوں کو اور جو اس کے آس پاس کے رہنے والے ہیں۔ ام القری مکہ معظمہ کا ایک نام ہے۔ نزول قرآن کے زمانہ میں چونکہ آس پاس کی بستیوں میں یہ بڑی بستی تھی اور اپنی ضرورتوں کے لیے لوگ یہاں آتے جاتے تھے۔ اس لیے اس کو ام القریٰ (بستیوں کی ماں) کے نام سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اس میں قرآن مجید کا مقصد نزول بیان فرمایا اور وہ یہ کہ اس کے ذریعہ اہل مکہ اور وہاں کی آس پاس کی بستیوں کو حق کی دعوت دی جائے اور مخالفت حق سے ڈرایا جائے۔
لفظ (وَ مَنْ حَوْلَھَا) کا مصداق مکہ مکرمہ کے آس پاس کی بستیاں ہیں۔ اور بعض حضرات نے پوری دنیا مراد لی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام جنات اور انسانوں کے لیے ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ قرآن مجید میں فرمایا۔
(وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَ کُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ ) ( سورة انعام ع 2) ۔ آخر میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ) یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان لاتے ہیں انہیں آخرت کی نجات کا فکر ہے اور وہاں کے عذاب کا ڈر ہے اس لیے ان کا غور و فکر انہیں قرآن پر ایمان لانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور یہ لوگ ایمان لا کر نمازوں کی پابندی کرتے ہیں کیونکہ نماز میں باربار ایمانی تقاضوں پر عمل کرنے کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور نماز ایمان کی سب سے بڑی علامت ہے اور دین کا ستون ہے۔
Ayah 6:93اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والوں اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا ؟
اس سے پہلی آیت میں بعض یہودیوں کا ذکر تھا جنہوں نے ضد اور عناد کے جوش میں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ اب اس شخص کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور اللہ کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ اس نے مجھے نبی بنایا یا کسی اور طرح سے اللہ پر افتراء کرے مثلاً یوں کہے کہ اللہ نے اپنے شریک بنا لیے ہیں یا اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ یا یوں کہے کہ میں بھی ایسا کلام نازل کروں گا جیسا اللہ نے نازل کیا۔ مفسر ابن کثیر ج 2 ص 157 (سَاُنْزِلُ مِثْلَ اَنْزَلَ اللّٰہُ ) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای من ادعی انہ یعارض ماجاء من عند اللہ من الوحی یعنی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو یہ دعویٰ کرے کہ اللہ نے جو کچھ وحی بھیجی ہے میں اس کا معارضہ کروں گا اور اس جیسی عبارت بنا لوں گا۔
علماء نے فرمایا کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوئی جس نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص تک بندی کے طور پر کچھ جملے بنا لیتا تھا اور کچھ شعبدہ بازی بھی کرلیتا تھا جب لوگوں کے سامنے قرآن مجید کا چیلنج آیا کہ اس جیسی ایک سورت بنا کر لاؤ تو اس پر بعض لوگوں نے اپنی جہالت سے کچھ جملے بنائے تھے لیکن خود ہی آپس میں ان کو ناقابل معارضہ تسلیم کرلیا تھا۔
اس کذاب نے بھی کچھ جملے بنائے تھے وہ بھی ایسے ہی جاہلانہ اور احمقانہ تھے۔ قرآن مجید کے مقابلہ میں نہ کوئی لاسکا ہے اور نہ لاسکے گا۔ بعض لوگوں کو قائد بننے اور مشہور ہونے اور عوام الناس کو معتقد بنانے کا شوق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں نے خاتم النّبیین ﷺ کے بعد نبوت کے دعوے کیے۔ آپ کے بعد جتنے بھی مدعیان نبوت گزرے ہیں سب ذلیل و خوار ہوئے۔ بعض لوگوں نے مسیح موعود ہونے کا اور کسی نے مہدی بننے کا دعویٰ کیا۔ جھوٹ کا سہارا کہاں تک لیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے سب لوگ ذلیل ہو کر ناپید ہوگئے۔
کافروں کی ذلت موت کے وقت :
جھوٹے مدعیان نبوت کو سب سے بڑا ظالم بتانے کے بعد ظالموں کی ذلت اور بد حالی اور موت کے وقت کی تکلیف کا تذکرہ فرمایا (وَ لَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلآءِکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْھِمْ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ کُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ ) (اور اگر تو دیکھے اس موقعہ کو جب کہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جانوں کو۔ آج تم کو اس کے بدلہ ذلت کا عذاب دیا جائے گا کہ تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے تھے جو ناحق تھی اور تم اس کی آیات کے قبول کرنے سے تکبر کرتے تھے) ۔
یعنی آیات قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور تمہارے نفسوں کو آیات کے قبول کرنے میں عار اور ذلت محسوس ہوتی تھی اور تم یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی آیات کے سامنے جھکنا ہماری خود داری کے خلاف ہے۔ جس نے اللہ کے ذمہ جھوٹ لگایا اور یہ کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں فرمائی اور جس نے اللہ کے کلام کا معارضہ اور مقابلہ کرنے کی بات کہی اور جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ان لوگوں کا یہ سب عمل دنیاوی بڑائی اور جاہ و اقتدار حاصل کرنے اور حاصل شدہ قیادت اور پیشوائی اور بڑائی کی حفاظت کے لیے تھا ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے جو موت کے وقت سے شروع ہوگا۔
کافروں کو موت کے وقت جو عذاب ہوتا ہے اس کا ذکر سورة محمد میں بھی فرمایا ہے ارشاد فرمایا (فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْھُمُ الْمَلَآءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وَجوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ ) (پس کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانیں نکال رہے ہوں گے، مار رہے ہوں گے ان کے چہروں اور پشتوں کو) ۔
موت کے وقت جو کافروں کو عذاب ہوتا ہے اس کی تفصیلات احادیث شریفہ میں وارد ہوئی ہیں حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے جب کافر کے دنیا سے جانے کا اور آخرت کی طرف پہنچنے کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں۔ وہ اس کے پاس آکر وہاں تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نظر پہنچتی ہے۔ پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں وہ اس کے سرکے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث جان ! تو نکل اللہ کی ناراضگی کی طرف، وہ روح اس کے جسم میں متفرق ہوجاتی ہے (یعنی جسم میں ادھر ادھر پھرتی ہے کیونکہ نکلنا نہیں چاہتی) حضرت ملک الموت (زبردستی) اس کی جان کو اس طرح نکالتے ہیں جیسے بھیگا ہوا اون سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور طاقت کے ذریعے اس اون سے نکالا جائے جب اس کی روح کو ملک الموت اس طرح نکال لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے جو وہاں موجودہوتے ہیں وہ پلک جھپکنے کے برابر ذراسی دیر بھی ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے ان کے ہاتھ سے لے کر ان ٹاٹوں میں رکھ دیتے ہیں جو ساتھ لے کر آئے تھے اور اس روح سے ایسی بد بو نکلتی ہے جیسے زمین پر سب سے زیادہ سٹری ہوئی نعش سے کبھی بد بو آئی ہو۔ اس روح کو لے کر وہ آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ کون خبیث روح ہے ؟ وہ اس کا برے سے برا نام لے کر جس سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا جواب دیتے ہیں کہ وہ فلاں بن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ قریب والے آسمان تک لے جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کردروازہ کھلواتے ہیں تو وہ دروازہ نہیں کھولا جاتا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سورة اعراف کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔
(لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ وَ لَایَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخَیَاطِ ) (نہیں کھولے جائیں گے ان کے لیے آسمان کے دروازے اور نہیں داخل ہوں گے جنت میں یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے) اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہیں ہوسکتا لہٰذا کافر بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتے۔
یہ حدیث طویل ہے جس میں اس کے بعد عذاب قبر کا ذکر ہے جو مشکوٰۃ المصابیح ص 142 پر بحوالہ مسند احمد مذکور ہے۔ پوری حدیث انشاء اللہ تعالیٰ ہم سورة اعراف کی مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں لکھیں گے۔ معلوم ہوگیا کہ کافر کا عذاب موت کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے اور پھر قبر میں بھی عذاب ہے۔ حشر میں بھی ہے اور اس کے بعد دوزخ میں بھی ہے۔ جو دائمی ہے، کافر کے عذاب کی ابتداء تو موت کے وقت سے ہی ہوگی اور اس کی انتہا نہیں ہے۔ ابدالآباد ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہی میں رہے گا۔ ثَبَّتَنَا اللّٰہُ عَلَی اِلْایْمَانِ وَ اَمَاتَنَا عَلَی الْھُدٰی
Ayah 6:94قیامت کے دن ہر ایک علیحدہ علیحدہ آئے گا :
اس کے بعد فرمایا (وَ لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی) اس میں قیامت کے دن کی حاضری کی حالت بتائی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (کہ تم ہمارے پاس تنہا آئے ہو) اور ہر ایک اپنے قبیلے سے اور احباب و اصحاب سے اور ہر جماعت سے علیحدہ ہو کر بالکل تنہا حاضر ہوگا۔ سورة مریم میں فرمایا (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) (بےشک اس نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور ہر ایک اس کے پاس تنہا آئے گا) دنیا میں جو اپنے قبیلوں، جماعتوں لشکروں اور قوموں اور برادریوں پر بھروسہ کر کے زندگیاں گزارتے ہیں اور کفر و شرک و معاصی پر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ان کے آپس کے یہ تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ اور وہاں کوئی کسی کا نہ ہوگا۔ (الّا الْمُتَّقُوْنَ )
پھر فرمایا (کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (یعنی جیسے ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی حالت میں قیامت کے دن آؤ گے۔ ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن تم اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ تن پر کپڑے نہ ہوں گے اور سب بےختنہ ہوں گے اس کے بعد آپ نے سورة انبیاء کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (کَمَا بَدأْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَآ اِنَّا کُنَّافٰعِلِیْنَ ) (جیسے کہ ہم نے ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح ہم لوٹائیں گے۔ ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے بیشک ہم اس کے مطابق کرنے والے ہیں) پھر فرمایا کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ج 2 ص 693)
سب مال و دولت دنیا ہی میں چھوڑ گئے :
پھر فرمایا (وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ ) (اور تم نے اپنے پیچھے چھوڑ دیا جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا) اوپر یہ بتایا کہ دنیا میں جو جماعتوں اور قبیلوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور جو جماعتیں اپنی مدد کے لیے بنائی جاتی ہیں اور جاہ و اقتدار کے لیے اپنے ماننے والے بنائے جاتے ہیں یہ سب کچھ آخرت میں کام دینے والے نہیں کیونکہ وہاں ہر ایک فرداً فرداً آئے گا۔
اب یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے دنیا میں تمہیں جو کچھ (مال و دولت، آل و اولاد، نور چشم و خُدّام) عنایت فرمایا تھا تم وہ سب دنیا ہی میں چھوڑ کر آگئے۔ دنیا میں لوگ مال کماتے ہیں ایک کے دس بناتے ہیں۔ تھوڑے مال کو بہت زیادہ کرلیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال میں آخرت کا حصہ رکھتے ہوں۔ اور مال کے شرعی حقوق ادا کرتے ہوں۔ عموماً مال ہی کو مقصود بنا لیتے ہیں اسی کے لیے مرتے ہیں اور اسی کے لیے جیتے ہیں کماتے ہیں کھانے کے لیے اور کھاتے ہیں کمانے کے لیے۔ ایسے لوگوں کا مال آخرت میں و بال ہوگا۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں۔ اور دنیا کے لیے وہ شخص جمع کرتا ہے جس کو عقل نہیں۔ (رواہ احمد و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص 444)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مرنے والا مرجاتا ہے تو فرشتے آپس میں پوچھتے ہیں (کہ اپنے مال اور اعمال سے) کیا لے کر آیا جو اس نے آگے بھیجا تھا اور دنیا کے لوگ یہ پوچھتے ہیں کیا چھوڑ کر گیا۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان فی المشکوٰۃ ص 445) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ گویا وہ بھیڑ کا بچہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اس سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ میں نے تجھے مال عطا کیا اور تجھ پر انعام کیا سو تو نے کیا کیا ؟ وہ جواب دے گا کہ اے رب ! میں نے اسے جمع کیا اور خوب بڑھایا اور جتنا تھا اس سے خوب زیادہ کر کے چھوڑ آیا۔ مجھے واپس بھیج دیجیے میں سب آپ کے پاس لے کر آتا ہوں۔
اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ مجھے وہ دکھا جو تو نے پہلے سے یہاں بھیجا تھا وہ پھر وہی عرض کرے گا کہ میں نے جمع کیا اور اسے بڑھایا اور جتنا تھا اس سے زیادہ کر کے چھوڑ آیا لہٰذا مجھے واپس بھیج دیجیے میں سب آپ کے پاس لے کر آجاؤں گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ایسا شخص نکلے گا جس نے کوئی بھی خیر نہیں بھیجی ہوگی لہٰذا اس کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ ص 443)
پھر فرمایا (وَ مَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّھُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا) (ہم نہیں دیکھ رہے ہیں تمہارے ان سفارشیوں کو جن کی نسبت تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں) (لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَ ضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (البتہ تمہارا آپس کا تعلق منقطع ہوگیا اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ آئے گئے ہوگئے)
قیامت کے دن اہل دنیا کے آپس کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ اور جن لوگوں کے بارے میں جھوٹا خیال تھا کہ یہ ہماری سفارش کریں گے ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا وہ سب ایک دوسرے سے بیزاری ظاہر کرینگے اور اس وقت علانیہ طور پر واضح ہوجائے گا کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کے خلاف جو عقائد اور خود ساختہ خیالات تھے سب باطل تھے۔
Ayah 6:95مظاہر قدرت الٰہیہ اور دلائل توحید
اس عالم میں اللہ جل شانہٗ کے جو تصرفات ہیں ان آیات میں ان میں سے بعض تصرفات کا تذکرہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جو بندوں پر نعمتیں ہیں ان میں سے بعض یاد دلائی ہیں۔ ان سب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں بھی ہیں، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دانوں اور گٹھلیوں کو پھاڑ دیتا ہے ذرا سا دانہ اور چھوٹی سی گٹھلی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ کوئی دانہ تخم بن جائے جس سے کھیتی کے پودے نکل آئیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ دانہ پھٹ جاتا ہے اس سے پودا نکل آتا ہے۔
اسی طرح جب گٹھلی سے کوئی درخت نکالنا منظور ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ گٹھلی پھٹ جاتی ہے اور اس سے بڑے بڑے درخت نکل آتے ہیں۔ جن کے پھلوں سے زمین پر بسنے والے مستفید اور منتفع ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا (یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیّتِ ) کہ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے (وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ ) اور وہ مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے۔ ان دونوں باتوں کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں ان کا ذکر سورة آل عمران کے رکوع نمبر 3 میں گزر چکا ہے۔ اس کی ایک بہت زیادہ معروف مثال یہ ہے کہ زندہ جانور سے انڈا نکلتا ہے۔ جو بےجان ہوتا ہے پھر اس بےجان انڈے سے چوزہ نکلتا ہے جو زندہ ہوتا ہے۔ درختوں سے خشک دانے نکلنا اور دانوں سے ہر بھرے درختوں کا وجود میں آجانا یہ بھی زندہ کو میت سے اور میت کو زندہ سے نکالنے کا مصداق ہے۔
پھر فرمایا (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ ) (یہ قادر مطلق اللہ ہے سو تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو) اس کی عبادت کو چھوڑ کر شرک میں کیوں مبتلا ہو۔
Ayah 6:96پھر فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ) (اللہ صبح کا پھاڑنے والا ہے) اس کی مشیت اور ارادہ سے رات کی تاریکی چلی جاتی ہے روشنی پھٹتی ہے جس سے صبح نمودار ہوجاتی ہے۔ (وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا) (اور اس نے رات کو آرام کی چیز بنایا) دن میں کام کاج کرنے والے محنت کو ٹنے والے تھکے ماندے رات کو آرام کرتے ہیں۔ نیند تو دن کو بھی آجاتی ہے لیکن رات کی نیند میں جو آرام ہے اور تھکن اترنے کا جو فطری انتظام ہے وہ دن کی نیند میں نہیں ہے، دن بھر میں زیادہ سو بھی نہیں سکتے۔ کام کاج اور کارو بار کے تقاضے بعض مرتبہ آنکھ لگنے بھی نہیں دیتے آنکھ لگ بھی گئی تو کارو بار کا ہجوم جو دماغ پر سوار ہوتا ہے وہ بار بار جگا دیتا ہے۔
(وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا) (اور اللہ تعالیٰ نے چاند اور سورج کو ایک خاص حساب سے مسخر فرما دیا) ان کی گردش سے رات دن اور ہفتے اور مہینے بنتے چلے جاتے ہیں۔ جن سے عبادت کے اوقات اور معاملات کی تاریخیں معلوم ہوتی ہیں۔ جمعہ کا دن کب ہے رمضان المبارک کب آئے گا حج کی تاریخ میں کیا دیر ہے جو کچھ کسی سے قرض لیا ہے اس کی ادائیگی میں کتنی مدت ہے ان سب امور کا جواب چاند اور سورج کی گردش سے معلوم ہوتا رہتا ہے۔
(ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ) (یہ مقرر فرمانا ہے ایسی ذات پاک کا جو عزیز یعنی غالب ہے اور علیم یعنی پوری طرح سے جاننے والا ہے)
Ayah 6:97پھر فرمایا
(وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَھْتَدُوْا بِھَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (اور اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا فرمایا تاکہ تم ان کے ذریعہ راہ پاؤ خشکی کی تاریکیوں میں اور سمندر کی تاریکیوں میں) رات کو جب سفر میں ہوتے ہو اور راستہ بھول جاتے ہو۔ یا سمندر میں ہو اور راستہ بھول جاؤ تو ستاروں کی طرف دیکھ کر پتہ چلا لیتے ہو کہ مشرق کدھر ہے اور مغرب کدھر ہے پھر اپنے اسی علم کی روشنی میں آگے بڑھتے ہو اور صحیح راستہ پا کر منزل مقصود کو پہنچ جاتے ہو۔
(قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (بےشک ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں) جو آیات مذکورہ کو سمجھتے ہیں اور آیات تکوینیہ میں غور کرتے ہیں۔
Ayah 6:98(وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَأَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے انسان کی ابتداء ہوئی اور نسلاً بعد نسل ان کی اولاد بڑھتی ہوئی چلی آئی ہے جس کا سلسلہ تو الد اس طرح سے ہے کہ اول نطفہ باپ کی پشت میں ہوتا ہے پھر ماں کے رحم میں آجاتا ہے پھر وہاں سے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے جیتی جاگتی تصویر باہر آجاتی ہے۔
مُسْتَقَرٌّ سے باپ کی پشت اور مُسْتَوْدَعٌ سے ماں کا رحم مراد ہے باپوں کی پشتیں تو اصل مستقر یعنی ٹھہرنے کی جگہیں ہیں کیونکہ مادہ منویہ وہاں اور کہیں سے نہیں آیا۔ اور ماؤں کے رحموں کو مُسْتَوْدَع فرمایا کیونکہ ان میں نطفہ مرد کی طرف سے آتا ہے اور کچھ مدت کے لیے بطور ودیعت وہاں رکھ دیا جاتا ہے۔
بعض مفسرین مستقر اور مستودع کے وہ معنی لکھے ہیں جیسا ہم نے ابھی بیان کیے لیکن حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے خلاف منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ مستودع سے باپ کی پشت اور مستقر سے ماں کا رحم مراد ہے۔ رحم مادر کو مستقر کہنا تو اس اعتبار سے سمجھ آتا ہے کہ رحم میں نطفہ داخل ہونے کے بعد وہاں ٹھہر جاتا ہے اور مختلف ادوار سے گزر کر انسانی صورت میں باہر آجاتا ہے لیکن باپ کی پشت کو جو مستودع فرمایا یعنی ودیعت رکھنے کی جگہ۔ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی ج 7 ص 236 فرماتے ہیں کہ اس کی تقریر اس طرح ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوم میثاق میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ساری ذریت کو نکالا تھا اور پھر عہد (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) کے بعد ان کو واپس کردیا تھا تو گویا ان کا واپس کرنا ایک طرح ودیعت رکھنا ہوا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس ودیعت کو واپس نکال لے گا۔
مستقر و مستودع کی تیسری تفسیر یوں کی گئی ہے کہ مستقر سے زمین پر ٹھہرنا اور رہنا مراد ہے اور مستودع سے قبر مراد ہے یہ تفسیر بھی الفاظ قرآن سے بعید نہیں۔ (قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَھُوْنَ ) (کہ تحقیق ہم نے آیات بیان کی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں) ۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں نجوم کے تذکرہ میں یَعْلَمُوَنَ فرمایا اور (اَنْشَأَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) کا تذکرہ فرما کر آخر میں (لِقَوْمٍ یَّفْقَھُوْنَ ) فرمایا۔ کیونکہ نفس واحدہ سے پیدا فرمانا اور پیدا ہونے والوں کے احوال مختلفہ میں تصرف فرمانا زیادہ لطیف اور دقیق ہے۔
Ayah 6:99پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ) (اور اللہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا) (فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا) پھر ہم نے نکالا اس کے ذریعہ ہر چیز کے پودوں کو پھر ہم نے نکالا ان سے ہرے بھرے درختوں کو (نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا) ہم اس سے دانے نکالتے ہیں جو ایک دوسرے پر چڑھے ہوتے ہیں۔ (وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ) اور کھجور کے درختوں سے یعنی اس کے گپھوں سے خوشے نکالے جو قریب قریب ہیں۔ (وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ ) (اور ہم نے انگوروں کے باغیچے نکالے) (وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِھًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِہٍ ) اور زیتون اور انار نکالے جو آپس میں دیکھنے میں متشابہ ہیں اور غیر متشابہ۔ یہ زیتون اور رمان دونوں سے متعلق ہے یعنی ان میں سے ایسے پھل ہیں جو دیکھنے میں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں اور ایسے بھی ہیں جو ایک دوسرے کے متشابہ نہیں ہیں۔ (اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَ یَنْعِہٖ ) دیکھ لو ان کے پھلوں کی طرف یعنی اور ان کے پکنے کی طرف (اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے درختوں کے پیدا فرمانے کا ذکر فرمایا ہے جن میں دلائل توحید ہیں اور بندوں پر انعام بھی۔ آسمان سے پانی کا نازل فرمانا پھر اس کے ذریعہ بیل والے اور تنے والے پودے نکالنا اور بالوں میں دانوں کا ایک دوسرے پر چڑھا ہوا ہونا اور کھجوروں کے خوشوں کا جھکا ہوا ہونا اور انگور اور زیتون اور انار کے درخت پیدا فرمانا اور کچے پھلوں کے بعد ان کا پک جانا یہ سب توحید کے دلائل ہیں اور ان میں بندوں کا انتفاع بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، جو بندے مومن ہیں اور جو دلائل آنے کے بعد حق سے منہ نہیں موڑتے ایمان کو قبول کرلیتے ہیں ان سب کے لیے مذکورہ بالا چیزوں میں دلائل توحید ہیں۔
Ayah 6:100اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، وہ معبود برحق ہے، اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے
اوپر اللہ تعالیٰ شانہ ٗکی الوہیت اور خالقیت پر دلائل قائم کیے ہیں اب ان آیات میں مشرکین کی بد اعتقادی کی تردید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں نے جنات کو یعنی شیاطین کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے جنات کے اور شیاطین کے توجہ دلانے سے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور شیاطین کی ایسی اطاعت کرنے لگے جیسی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جاتی ہے نیز شیاطین مشرکین کے پاس بری بری صورتوں میں آتے ہیں اور ان کو خواب اور بیداری میں ڈراتے ہیں لہٰذا وہ ان کے شر اور ضرر کے بچنے کے خیال سے ان کی تصویریں اور مجسمے بنا لیتے ہیں اور پھر ان کی پوجا کرتے ہیں۔
صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ یہ ان زندیقوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور حیوانوں کو پیدا کیا اور ابلیس نے درندے اور سانپ بچھو اور شرور پیدا کیے۔ لہٰذا جن سے ابلیس اور اس کے اتباع مراد ہیں یہ قول اختیار کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے لیکن احقر کے نزدیک جنات کی عبادت بالمعنی المعروف مراد لی جائے تو یہ زیادہ اقرب ہے جیسا کہ اور پر عرض کیا گیا۔
سورۂ جن میں فرمایا (وَاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِِنسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا) مشرکین کی یہ کیسی جہالت اور حماقت ہے کہ پیدا تو کیا اللہ نے اور الوہیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کرنا چاہئے بعض مفسرین نے فرمایا کہ خَلَقَھُمْ کی ضمیر منصوب الجن کی طرف راجع ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے جنات کو کیسے اللہ کا شریک ٹھہرایا حالانکہ ان جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا (وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے گھڑ لیے بیٹے اور بیٹیاں نصاریٰ نے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنایا اور یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا، ان لوگوں نے جہالت کے سبب یہ سب کچھ تجویز کیا۔ اور انہوں نے یہ نہ جانا کہ ہم جس ذات کی طرف اولاد منسوب کر رہے ہیں اس کے لیے اولاد کا ہونا عیب اور نقص ہے اور اس کی شان اس سے بہت برتربلند اور بالا ہے کہ اس کی اولادہو۔ اسی کو فرمایا (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے پاک ہے اور بلند اور بالا ہے جو یہ لوگ اس کے بارے میں بیان کرتے ہیں) ۔
Ayah 6:101مشرکین کے عقائد شرکیہ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی تردید فرماتے ہوئے مزید فرمایا (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا بےمثال پیدا فرمانے والا ہے اس نے عالم سفلی اور عالم علوی کو پیدا فرمایا۔ آسمان و زمین کا مادہ پیدا فرمایا اور آسمان کو سات طبق بنا دیا اور زمین کو پھیلا دیا۔ ایسے خالق اور بےمثال صانع اور مبدع کو اولاد کی کچھ حاجت نہیں۔ کیونکہ اولاد کی ضرورت مدد کے لیے ہوتی ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ سورة سبا میں فرمایا۔
(مَا لَھُمْ فیھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَالَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) مزید فرمایا (اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ) یعنی اس کی اولاد کیسے ہوگی حالانکہ اس کے ساتھ والی یعنی بیوی نہیں ہے۔ اولادبیوی سے پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی نہیں اور نہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں احتیاج الی الغیر ہے جب اس کی بیوی نہیں اور نہ ہوسکتی ہے تو اولاد کیسے ہوسکتی ہے۔ (وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ ) اور اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں وہ مخلوق بھی ہے جسے اللہ کی اولاد بتاتے ہیں۔ خالق مخلوق کے درمیان رشتہ ولادت کہاں ہوسکتا ہے اور مخلوق اپنے خالق کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے لوگوں نے جو اولاد تجویز کی ہے انہوں نے خالق کا مرتبہ نہیں پہچانا اور اپنی جہالت سے اللہ پاک کے لیے اولاد تجویز کر بیٹھے۔ (وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) اسے مشرکین کے عقائد شرکیہ کا علم ہے، اور وہ ان کے اعمال شرکیہ سے بھی باخبر ہے وہ ان سب کا مواخذہ فرمائے گا اور سزا دیگا۔
Ayah 6:102پھر فرمایا (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ ) (یہ اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرو) ان صفات جلیلہ سے جو ذات متصف ہو وہی لائق عبادت ہے۔ مخلوق میں نہ شان ربوبیت ہے نہ شان خالقیت ہے پھر وہ کیسے شریک الوہیت ہوسکتے ہیں۔
(وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے) تمام چیزوں میں جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ تصرف فرمانے کا اس کو پورا پورا اختیار ہے۔ پھر یہ مخلوق کیسے عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے ؟ جو ہر چیز کا خلاق ہے اور ہر چیز میں تصرف فرمانے والا ہے صرف وہی عبادت کے لائق ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی ان صفات سے متصف نہیں اور لائق عبادت نہیں۔
Ayah 6:103پھر فرمایا (لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) (آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرتیں وہ سب نگاہوں کو محیط ہے اور وہ لطیف ہے باخبر ہے) اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کی ایک خاص صفت بیان فرمائی اور وہ یہ کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا احاطہ فرماتا ہے اس صفت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں دنیا میں اس کو نہیں دیکھا جاسکتا اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار الٰہی کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے (لَنْ تَرَانِیْ ) فرما دیا۔ (کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے) وہ نگاہوں کو بھی دیکھتا ہے اور نگاہیں جس چیز کو دیکھتی ہیں وہ ان کو بھی دیکھتا ہے۔ اور جو چیزیں مَرْئیِ (دکھائی دینے والی) نہیں ہیں ان کو بھی اس کا علم محیط ہے۔ جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا جیسا کہ سورة قیامہ میں فرمایا (وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍنَّا ضِرَۃٌ الیٰ رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ) (اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہونگے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے) اللہ تعالیٰ کا جسم نہیں ہے پھر بھی اسے دیکھیں گے اور جب دیکھیں گے تو وہ کسی جگہ میں نہیں ہوگا اور یہ بات وہیں سمجھ میں آئے گی۔ خالق کی رؤیت کو مخلوق کی رؤیت پر قیاس نہ کیا جائے۔
پھر فرمایا (وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) اور وہ لطیف ہے (جسے حواس کے ذریعہ مشاہدہ میں نہ لایا جاسکتا ہے اور وہ باریک بین ہے ہر چیز کو دیکھتا ہے) اور وہ خبیر ہے (جو ہر چیز سے باخبر ہے) ۔
Ayahs 6:104–105اللہ تعالیٰ کی طرف سے بصیرت کی چیزیں آچکی ہیں
توحید کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمانے کے بعد اب دلائل میں غور کرنے کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ اولاً ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس بصیرت کی چیزیں آچکی ہیں اگر اپنی عقل کو متوجہ کرو گے اور ان بصیرت کی چیزوں میں غور و فکر کرو گے تو حقائق کو پہنچ جاؤ گے۔ دلائل توحید بھی سمجھ میں آجائیں گے اور توحید بھی سمجھ میں آجائے گی۔
جو شخص غور و فکر کرے گا بینا بنے گا تو اس کا نفع اسی کی جان کو ہوگا۔ اور جو شخص اندھا بنا رہے گا دلائل و بصائر میں غور کرنے سے گریز کرے گا تو اس کا نقصان اسی کو ہوگا، پھر رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری صرف پہنچانے کی ہے عمل کروانا آپ کے ذمہ نہیں، آپ ان سے فرما دیں کہ میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم اسی طرح مختلف پہلوؤں سے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں پر حجت پوری ہوجائے اور تاکہ وہ یوں کہیں کہ اے محمد ﷺ تم نے پڑھ لیا۔ یعنی جو کچھ تم بیان کرتے ہو دوسروں سے سیکھ لیا ہے (اور کہتے ہو کہ اللہ کی طرف سے ہے) اور تاکہ ہم اس کو بیان کریں ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف پہلوؤں سے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ آپ ان کو پہنچا دیں اور تاکہ منکرین ضد وعناد کی وجہ سے یوں کہیں کہ آپ نے ان مضامین کو کسی سے پڑھ لیا ہے اور تم دوسروں سے سیکھ کر ہم سے خطاب کرتے ہو۔ کمافی سورة النحل (اَنَّمَا یُعَلَِّمُہٗ بَشَرٌ) اس طرح سے وہ لوگ اور زیادہ مجرم بنتے ہیں اور ان دلائل کے بیان کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہم علم والوں کے لیے اچھی طرح کھول کر بیان کردیں۔ (کیونکہ جو اہل علم ہیں وہ ہی منتفع ہوتے ہیں) ۔
Ayahs 6:106–107پھر فرمایا (اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) کہ آپ اس کا اتباع کیجیے جس کی آپ کے رب کی طرف سے آپ کو وحی کی گئی۔ اس کا آپ فکر نہ کیجیے کہ کون راہ راست پر آتا ہے تکوینی طور پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں مانیں گے اور کچھ ایسے ہیں جو مان لیں گے یہ تکوینی فیصلے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہیں اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے لیکن سب کچھ اس کی مشیت اور ارادہ و حکمت کے موافق ہے آپ اپنا کام کریں یعنی پہنچا دیں۔ (وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا) اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا عمل کریں نہ کریں یہ جانیں۔ (وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ) آپ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کیے گئے۔ لہٰذا آپ کو اس فکر میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ منکرین بات نہیں مانتے اور حق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
Ayah 6:108مشرکین کے معبودوں کو برا مت کہو
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو لوگ غیر اللہ کو پکارتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے معبودوں کو برے الفاظ میں یاد مت کرو، چونکہ تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو اور انہیں تم سے دشمنی ہے اس لیے ضد میں آکر اپنی جہالت سے اللہ پاک کو برے الفاظ سے یاد کریں گے، ضد وعناد والے کو یہ ہوش نہیں ہوتا کہ میری بات کہاں لگے گی، یوں تو مشرکین بھی اللہ تعالیٰ کو ماننے کا دعویٰ کرتے اور اس کے بارے میں خالق کائنات ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن جب ضد میں آئیں گے تو صرف یہ دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے ہمارے معبودوں کو برا کہا ہے لہٰذا ہمیں بھی ان کے معبود کو برا کہنا چاہئے، یہ لوگ ضد اور عناد کے سبب حد ادب کے پھاند جائیں گے۔ اور اللہ وحدہٗ لا شریک کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کریں گے، چونکہ یہ حرکت بد ان کی تمہارے عمل کے جواب میں ہوگی۔ اس لیے ان کے معبود ان باطلہ کو برے الفاظ میں یاد کرکے اس کا سبب نہ بنو کہ وہ لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہٗ و تقدس کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کریں۔
لباب النقول ص 103 میں مصنف عبدالرزاق سے نقل کیا ہے کہ کافروں کے بتوں کو اہل ایمان برے الفاظ میں یاد کرتے تھے تو وہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان میں نازیبا کلمات کہہ جاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ ) نازل فرمائی۔ حضرات علماء کرام نے اس سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں اس کا سبب بننا بھی جائز نہیں، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے گا اور کسی کی ماں کو دے گا تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا (اس طرح سے وہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والا بن جائے گا) (مشکوٰۃ المصابیح ص 419 از بخاری و مسلم)
پھر فرمایا (کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْ ) (ہم نے اسی طرح ہر امت کے لیے ان کے عمل کو مزین کردیا) جو لوگ کافر ہیں کفر ہی سے چپکے ہوئے ہیں کفر کو اچھا سمجھتے ہیں دنیاوی زندگی ختم ہوگی تو میدان قیامت میں سب پروردگار عالم جَلَّ مجدہٰ کی طرف لوٹیں گے سو وہ انہیں جتا دے گا کہ وہ کیا کام کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کی جزا بھی دے گا، یہ مزین کرنا تکوینی طور پر ہے اس سے تشریعی اوامر پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو لوگ کافر ہیں اپنے اختیار سے کفر اختیار کیے ہوتے ہیں۔
جب حقانیت اسلام کے دلائل ان کے سامنے آتے ہیں تو اپنے اختیار سے اسلام سے دور بھاگتے ہیں اور قبول نہیں کرتے۔