Ayah 6:109کافروں کی جھوٹی قسمیں کہ فلاں معجزہ ظاہر ہوجائے تو ایمان لے آئیں گے
اس کے بعد فرمایا (وَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ ) (اور انہوں نے بہت زور دار طریقہ پر اللہ کی قسم کھائی کہ ہمارے کہنے کے مطابق فرمائشی معجزہ ظاہر ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے) ان لوگوں کی یہ تاکیدی قسمیں سن کر مسلمانوں کو خیال ہوا کہ جن معجزات کی فرمائش کر رہے ہیں وہ ظاہر ہوجاتے تو اچھا تھا تاکہ یہ لوگ ایمان لے آتے لیکن انہیں تو ایمان لانا نہیں ہے معجزات کی فرمائش ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 164 میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ سے ایمان لانے کے بارے میں بات کی تو کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ آپ ہمیں بتاتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک لاٹھی تھی جسے پتھر میں مارتے تھے تو بارہ چشمے پھوٹ پڑتے تھے اور آپ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور یہ بھی بتایا کہ قوم ثمود کے لیے بطور معجزہ ایک اونٹنی ظاہر کی گئی تھی، آپ ہمارے لیے بھی کوئی ایسی ہی نشانی ظاہر کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کون سی نشانی چاہتے ہو ؟ کہنے لگے کہ صفا پہاڑ سونا بن جائے آپ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو میری تصدیق کرو گے کہنے لگے اگر ایسا ہوگیا تو ہم سب آپ کا اتباع کرلیں گے آپ اللہ جل شانہٗ سے دعا کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آپ غور فرما لیجیے دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار فرما لیں آپ چاہیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئیں (گو اس میں دیر لگے گی) آپ نے فرمایا کہ میں ان کو اسی حال میں چھوڑ دیتا ہوں (جنہیں توبہ کرنا ہو توبہ کر کے ایمان لے آئیں) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریم (وَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ ) سے (وَ لکنَّ اَکْثَرَھُمْ یَجْھَلُوْنَ ) تک نازل فرمائی۔
(قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (آپ فرما دیجیے کہ معجزات سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں) وہ چاہے تو ان کی فرمائشوں کے مطابق معجزات ظاہر فرمائے اور اگر اس کی مشیت نہ ہو تو کوئی بھی معجزہ ظاہر نہ ہو۔ (وَ مَا یُشْعِرُکُمْ اَنَّھَآ اِذَا جَآءَ تْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) یہ اہل ایمان کو خطاب ہے۔
مطلب یہ ہے کہ تمہیں کیا خبر ہے کہ ان کی مطلوبہ نشانی آجائے گی جب بھی وہ ایمان نہ لائیں گے، ان کی قسمیں جھوٹی ہیں خواہ کیسی ہی زور دار ہوں۔
Ayahs 6:110–111آخر میں فرمایا
(وَ نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ ) اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پلٹ دیں گے نہ حق کے طالب ہوں گے نہ حق پر نظریں کریں گے۔ (کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) جیسا کہ یہ لوگ اس قرآن پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے (وَّ نَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) اور ہم ان کو اس حال میں چھوڑے رہیں گے کہ وہ اپنی سر کشی میں اندھے بنے رہیں۔
قال القرطبی فی تفسیرہٖ 7 ص 65 ھذہٖ اٰیۃ مشکلۃ و لا سیما و فیھا ” وَنَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانھِمْ یَعْمَھُوْنَ “ قیل المعنی و نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَاَنْظَارَ ھُمْ یوم القیمۃ علی لھب النار و حرّالجمر، کمالم یومنوا فی الدّنیا وَنَذَرُھُمْ فی الدّنیا، أی نمھلھم ولا نعاقبھم، فبعض الاب فی الاٰخرۃ، و بعضھا فی الدنیا و نظیرھا ” وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ خَاشِعَۃٌ فَھٰذَا فی الاٰخرۃ ” عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ“ فی الدّنیا “
وقیل : ونُقَّلِبُ فی الدّنیا : أی نحول بینھم و بین الایمان لوجَاء تھم تلک الاٰیۃ، کما حلنا بینھم و بین الایمان اوّل مرّۃ لما دعوتھم وأظھرت المعجزۃ، و فی التنزیل ” وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ “ المعنیٰ کان ینبغی ان یؤمنوا اذا جَائتھم الآیۃ فرأوھا بابصار ھم وعرفوھا بقلوبھم، فاذا لم یؤمنوا کان ذٰلٰک بتقلیب اللہ قلوبھم و ابصار ھم کَمَا لَمْ یُؤمِنُوْ ابِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ، ودخلت الکاف علی محذوف ای فلا یومنون کما لم یؤمنوا بہٖ اوّل مرۃ، ای اول مرّۃ اتتھم الآیات التی عجزوا عن معارض تھا مثل القراٰن وغیرہ۔
Ayah 6:112معاندین کا مزید تذکرہ اور شیاطین کی شرارتیں
ان آیات میں معاندین کا مزید عناد بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ فرمائشی معجزے طلب کرنا حق قبول کرنے کے لیے نہیں محض باتیں بنانے اور بہانے تراشنے کے لیے ہے۔ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیں اور مردے ان سے باتیں کرلیں اور ہم ہر چیز ان کے سامنے لے آئیں یعنی غیب کی چیزیں ان کے سامنے ظاہر کردیں۔ مثلاً دوزخ دکھا دیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ایمان لانا مقصود نہیں ہے پھر بھی فرمائشیں کرتے ہیں جو سراپا جہالت ہے پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ ) (الآیۃ) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ یہ لوگ جو دشمنی میں لگے ہوئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آپ سے پہلے جو نبی آئے ہم نے ان کے لیے انسانوں میں اور جنات میں سے دشمن بنا دیئے تھے۔
یہ دشمن ایک دوسرے کو ایسی ایسی باتیں سمجھاتے ہیں جو بظاہر بہت اچھی معلوم ہوتی تھیں۔ جیسے کسی بد صورت چیز پر ملمع کر کے بظاہر خوب صورت بنادی جائے یہ لوگ ایسی باتیں سامنے لا کر اپنے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے تاکہ ایمان قبول نہ کریں۔ جو حال انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے دشمنوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لہٰذا آپ غم نہ کیجیے ایسا ہوتا ہی رہا ہے۔
(وَلَوْشَآءَ رَبُّکَ مَافَعَلُوْہُ ) (اگر آپ کا رب چاہتا تو یہ لوگ ایسا نہ کرتے) ان لوگوں کا وجود اور ان کی مخالفت حکمتوں پر مبنی ہے (فَذَرْھُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ ) (سو جب اس میں اللہ کی حکمتیں ہیں تو آپ فکر مند نہ ہوں ان کو اور یہ جو کچھ افتراء کر رہے ہیں اس کو چھوڑیے) یعنی اس غم میں نہ پڑیئے کہ یہ لوگ مخالفت میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 6:113(وَ لِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْءِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ ) اور وہ لوگ فریب دینے والی باتوں کے وسوسے اس لیے ڈالتے ہیں کہ ان کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہوجائیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ وَلِیَرْ ضَوْہُ تاکہ وہ اسے پسند کرلیں۔ (وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا ھُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ) اور تاکہ ان کاموں کے مرتکب ہوتے رہیں جن کا ارتکاب کرتے ہیں۔
Ayah 6:114اللہ کی کتاب مفصل ہے اور اس کے کلمات کامل ہیں
رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے تھے اور اس کے احکام بتاتے تھے۔ اس کی ذات وصفات کے متعلق عقائد کی تلقین فرماتے تھے کہ وہ خالق ہے مالک ہے قادر مطلق ہے سمیع بصیر ہے علیم خبیر ہے اس کا ہر فیصلہ حق ہے لیکن مشرکین چاہتے تھے کہ آپ ان باتوں کو چھوڑ دیں اور وہ خود اپنے باطل معبودوں کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور آپ کو بھی اپنی گمراہی کی طرف کھینچنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے یوں فرمائیں کہ میں اللہ کو چھوڑ کر اور کس کو فیصلہ کرنے والا مان لوں۔ اس کی ذات تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے جب اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں تو میں اسے چھوڑ کر اور کس کو حکم (فیصلہ کرنے والا) بناؤں، میں تو اسی کو مانتا ہوں اور اسی کے فیصلہ پر راضی ہوں اور کوئی نہیں جس کے فیصلہ پر راضی ہونے کا فیصلہ کروں اس نے تمہاری طرف مفصل کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تفصیل کے ساتھ ہدایت بیان فرما دی ہے۔ جن لوگوں کو اس کتاب سے پہلے اللہ نے کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ وہ واقعی آپ کے رب کی طرف سے ہے لیکن جو معاند ہیں وہ عناد کی وجہ سے شک کرتے ہیں سو آپ شک کرنے والوں سے نہ ہوں۔ چونکہ کسی نبی کو اپنی نبوت میں شک ہونے کا احتمال ہو ہی نہیں سکتا اس لیے یہ خطاب گو بظاہر آپ کو ہے لیکن دوسروں کو سنانا مقصود ہے کہ کتاب اللہ کی حقانیت میں شک نہ کرو۔
Ayah 6:115پھر فرمایا (وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا) (اور آپ کے رب کے کلمات کامل ہوگئے صدق اور عدل کے اعتبار سے) اس میں رب تعالیٰ شانہٗ کے کلمات یعنی کلمات قرآن کے کامل ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے۔
کلمات سے وہ مضامین مراد ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے احکام ہیں جو تفصیل سے بتا دیئے ہیں اور بہت سے احکام رسول اللہ ﷺ کو مفوض کردیئے ہیں۔ آپ کا بتانا اللہ تعالیٰ کا بتانا ہے، آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ یہ سب احکام سچے ہیں اور عدل پر مبنی ہیں ان میں انصاف ہے، کسی پر ظلم و زیادتی اور کسی کی حق تلفی ان احکام میں روا نہیں رکھی گئی اور بعض حضرات نے عدل کو اعتدال کے معنی میں لیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے احکام میں اعتدال ہے نہ ہر چیز مباح ہے اور نہ ہر چیز حرام اور ممنوع ہے۔ کچھ مکروہات بھی ہیں ایسا بھی نہیں کہ سارا دین لوگوں کی خواہش کے مطابق ہو۔ اور ایسا بھی نہیں کہ انسانوں کی خواہشوں اور نفس کے تقاضوں کا بالکل ہی لحاظ نہ کیا گیا ہو۔ اللہ کے دین میں بنی آدم کے نفسوں کے تقاضوں کی بھی رعایت ہے اور کچھ بندشیں بھی ہیں۔ ان بندشوں میں بنی آدم کی خیر مضمر ہے۔ اگر کوئی بھی چیز ممنوع نہ ہو تو انسانوں میں اور چوپاؤں میں کوئی فرق نہ رہے، پھر جو احکام ہیں ان میں استطاعت کی قید ہے۔ (فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) بھی فرمایا اور (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) بتا کر یہ فرما دیا کہ کسی جان کی وسعت اور طاقت سے زیادہ عمل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ عَدْلاً کی تفسیر ہوئی۔
اور ” صِدْقاً “ جو فرمایا یہ قرآن کریم کے بیان فرمودہ واقعات اور قصص اور وعد اور وعید سے متعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا بالکل سچ ہے اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں۔
پھر فرمایا (لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ) (اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں) اس کا کلام لفظی اور معنوی تحریف سے محفوظ ہے اس نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ (اَنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ) جب اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے تو اسے کون بدل سکتا ہے اور کس میں طاقت ہے کہ اس میں تحریف کر دے ؟ دشمن تک یہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن وہی ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا اس وقت سے لے کر اب تک چودہ سو سال ہوچکے ہیں اور وہ ہو بہو اسی طرح موجود ہے جس طرح نازل ہوا تھا۔
پھر فرمایا (وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے، وہ سب کی باتیں سنتا ہے، اسے مخالفوں اور معاندوں کی باتوں کی خبر ہے اور سب باتوں کا علم ہے۔ قرآن کے موافق اور مخالف جو بھی ہیں وہ قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سبحانہٗ اپنے علم کے مطابق سب کے فیصلے فرمائیں گے۔
Ayah 6:116زمین کے اکثر رہنے والے گمراہ کرنے والے ہیں :
اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو لوگ بستے ہیں ان میں اکثر گمراہ ہیں۔ ان اکثریت والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمہیں راہ حق سے ہٹا دیں گے۔
معلوم ہوا کہ اکثریت دلیل حقانیت نہیں ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (قُلْ لَّایَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطِّیِّبُ وَ لَوْاَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ) دنیا میں اکثریت گمراہوں کی ہے جو اللہ کی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں ان کی بات مانو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ حق والوں کے پاس اٹھو بیٹھو اور ان سے حق سیکھو۔
سورة توبہ میں فرمایا (یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ) اللہ کے یہاں محبوبیت کا مدار ایمان اور تقویٰ پر ہے اکثریت پر نہیں ہے۔
Ayah 6:117پھر فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) (بلاشبہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے ان لوگوں کو جو اس کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ (وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ ) اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پرچلنے والوں کو۔ وہ قیامت کے دن اپنے علم کے مطابق فیصلے فرمائے گا۔ اہل ضلال کو ضلال کی سزا اور اہل ہدایت کو ہدایت کی جزا ملے گی۔
Ayah 6:118حلال ذبیحہ کھاؤ، اور حرام جانوروں کے کھانے سے پرہیز کرو
درمنثور ج 3 ص 41 میں ان آیات کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بطور اعتراض یوں کہا کہ جس جانور کو ہم قتل کردیں (یعنی ذبح کردیں) اسے تو آپ کھالیتے ہیں اور جس جانورکو اللہ تعالیٰ قتل کر دے (یعنی اسے موت دیدے اور وہ بغیر ذبح کے مرجائے) آپ اس کو نہیں کھاتے۔
ایک روایت یوں بھی ہے جسے ابن کثیر نے ج 2 ص 169 میں نقل کیا ہے کہ فارس کے لوگوں نے قریش مکہ کو آدمی بھیج کر یہ سمجھایا کہ تم محمد ﷺ سے یوں بحث کرو کہ آپ اپنے ہاتھ میں چھری لے کر جس جانور کو ذبح کرتے ہیں وہ تو آپ کے نزدیک حلال ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ سونے کی چھری سے ذبح کرتے ہیں وہ آپ کے نزدیک حرام ہے۔
امام ترمذی نے تفسیر سورة الانعام میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جسے خودقتل کرتے ہیں اسے کھالیتے ہیں اور جسے اللہ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے (یہ انہوں نے بطور اعتراض کے کہا) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ) نازل فرمائی (قال الترمذی ہذا حدیث حسن غریب)
پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض یہود نے کیا تھا اور دوسری روایت سے معلوم ہوا ہے کہ اہل فارس کے سمجھانے اور سجھانے پر قریش مکہ نے کہا تھا۔ مفسرابن کثیر کہتے ہیں کہ یہودیوں سے اس اعتراض کا صادر ہونا بعید ہے کیونکہ وہ خود میتہ یعنی غیر ذبیحہ کو نہیں کھاتے تھے لیکن اس بات کی وجہ سے روایت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ معترض اندھا تو ہوتا ہی ہے جسے اعتراض کرنا ہو وہ کہاں سوچتا ہے کہ یہ بات مجھ پر بھی آسکتی ہے۔ اعتراض کرنے والے جاہلوں نے صرف موت کو دیکھ لیا اور ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کے درمیان جو فرق ہے اس کو نہیں دیکھا لہٰذا اعتراض کر بیٹھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہر جانور کے کھانے کی اجازت نہیں دی۔ قرآن مجید میں اجمالاً ارشاد فرمایا کہ پاکیزہ جانور حلال ہیں اور خبیث جانور حرام ہیں۔
سورۂ اعراف میں ارشاد ہے (یُحِلُّ لَھُمُ الطّیِبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآءِثَ ) کہ رسول اللہ ﷺ پاکیزہ چیزوں کو حلال اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نیز بھیمۃ الانعام کے کھانے کی اجازت دیدی سوائے ان جانوروں کے جن کا استثناء فرما دیا (اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلیٰ عَلَیْکُمْ ) اور مزید تفسیر کا بیان رسول اللہ ﷺ کی طرف سپرد فرمادیا۔ آپ نے حلال اور حرام جانوروں کی تفسیر بتادی لیکن جن جانوروں کو حلال قرار دیا ہے ان کے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ ان کو ذبح کردیا جائے۔
ذبح کا مطلب یہ ہے کہ گلے کی رگیں کاٹ دی جائیں جن سے جانور سانس لیتا ہے اور کھاتا پیتا ہے اور جن میں خون گزرتا ہے۔ ذبح کرنے سے بھی کسی جانور کا کھانا اس وقت حلال ہوگا جبکہ ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھی گئی ہو۔ (یعنی اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو) ۔ ذبح کرنے والا جو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے مسلمان یا کتابی یعنی یہودی یا نصرانی ہو۔ ان کے علاوہ اور کسی کا ذبیحہ حلال نہیں۔ ذبح کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جانور کے اندر جو خون ہے وہ رگیں کٹنے سے نکل جاتا ہے خون کا کھانا پینا حرام ہے۔ جب خون نکلتا ہے تو اب گوشت بغیر خون کے رہ گیا لہٰذا ذبیحہ کا کھانا حلال ہوگیا۔
اعتراض کرنے والے نے فرق کو تو دیکھا نہیں اور اس بات کو سمجھا نہیں کہ ذبح کرنے میں کیا حکمت ہے اور ذبح کرنے سے جانور کیوں حلال ہوتا ہے اور اپنی موت مرجانے سے کیوں حرام ہوتا ہے یہ خون نکلنے والی بات ان کو سمجھ میں نہ آئی جو ذبیحہ اور غیر ذبیحہ میں فرق کرنے والی چیز ہے۔
اگر کوئی مسلم یا کتابی کسی جانور کو لاٹھی مار مار کر ہلاک کر دے۔ اگرچہ بسم اللہ پڑھ لے تو وہ جانورحلال نہ ہوگا۔ کیونکہ لاٹھیوں سے مارنے سے خون نہیں نکلا جو گلے کی رگوں سے نکل جاتا ہے ایسے جانور کا نام ” موقوذہ “ ہے جس کا ذکرسورۂ مائدہ کے شروع میں گزر چکا۔
جب معترضین نے اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیات بالا نازل فرمائیں اور مسلمانوں کو خطاب فرمایا کہ جب حلال جانور پر اللہ کا نام لیا گیا یعنی اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا اسے کھاؤ۔ اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا گیا اسے مت کھاؤ، دشمنوں کی باتوں میں نہ آؤ اور ان کے اعتراض کو کوئی وزن نہ دو اللہ نے تمہیں حلال کی تفصیل بتادی، اللہ کے حلال کیے ہوئے جانور کو نہ کھانا اور دشمنوں کی باتوں میں آجانا اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔
Ayah 6:119اسی کو فرمایا (وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرکُوْنَ ) اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو شرک کرنے والے ہوجاؤ گے۔ یعنی اللہ کی بات ماننے کے بجائے دوسروں کی بات مان کر مشرکوں کے زمرہ میں آجاؤ گے۔
جس جانور کو اللہ کا نام لے کر مسلم یا کتابی نے ذبح کیا ہو بشرطیکہ وہ جانور حلال ہو اس کے کھانے کی اجازت دیدی اور جو جانور میتہ ہو (یعنی اپنی موت مرگیا ہو یا جسے اللہ کا نام لیے بغیر ذبح کیا گیا ہو) اس کے کھانے کو حرام قراد دیدیا گیا اور اسے فسق یعنی حکم عدولی بتایا۔ ہاں حالت مجبوری میں (غَیْرَ بَاغِ وَّ لاَعَادٍ ) کے ساتھ مشروط کر کے مردار کھانے کی اجازت دیدی۔ (وَ اِنَّ کَثِیْرًا لَّیُضِلَّوْنَ بَاَھْوَآءِ ھِمْ بَغََیْرِ عِلْمٍ ) اور بلاشبہ بہت سے لوگ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے ذریعہ گمراہ کرتے ہیں۔ یعنی جو بھی کوئی بغیر سند بات ان کے خواب و خیال میں آجاتی ہے اس کے ذریعہ لوگوں کو بہکاتے اور گمراہ کرتے ہیں اللہ کے حکم کے پابند نہیں ہوتے۔ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
(اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمَعْتَدِیْنَ ) (بےشک تیرا رب حد سے نکلنے والوں کو خوب جانتا ہے) وہ ان کو سزا دے گا۔
Ayahs 6:120–121ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہوں سے بچنے کا حکم :
(وَ ذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ ) ( اور چھوڑ دو ظاہری گناہ اور باطنی گناہ) اس میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے گناہ چھوڑنے کا حکم فرمایا ہے۔ جو گناہ ظاہری طور پر علانیہ ہے وہ بھی چھوڑو اور جو پوشیدہ ہو اسے بھی چھوڑو اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو جانتا ہے اور وہ گناہوں کی سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ تنہائی میں جو گناہ کرلیا اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر نہیں ہے۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ) بلاشبہ جو لوگ گناہ کرتے ہیں انہیں عنقریب ان کے اعمال کی جزا دیدی جائے گی۔
(وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ ) اور بلاشبہ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔ اہل فارس مشرک تھے اور قریش مکہ بھی مشرک تھے انہوں نے مشرکین مکہ کو یہ بات سمجھائی کہ تم محمد ﷺ پر یہ اعتراض کرو۔ اور یہودیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو سمجھایا کہ تم یہ اعتراض لے کر جاؤ اور مسلمانوں سے جھگڑا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتادیا کہ تم ان کی باتوں میں نہ آؤ۔ اگر تم نے ان کا کہا مانا تو مشرک ہوجاؤ گے یعنی مشرکوں والا کام کرلو گے۔ یعنی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی اور غیروں کی اطاعت کر کے شرک کرنے والے بن جاؤ گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم کو ماننا اور ان کو تحلیل و تحریم کا مختار سمجھنا مشرکوں کا کام ہے۔ (فی معالم التنزیل قال الزجاج فیہ دلیل علی من احل شیئاً مما حرم اللہ او حرم ما احل اللہ فھو مشرک)
مسئلہ : اگر ذبح کرتے وقت قصداً اللہ کا نام لیناچھوڑ دیا تو اس جانور کا کھانا حلال نہیں اگرچہ ذبحہ کرنے والا مسلم یا کتابی ہو۔ اور جس جانور پر ذبح کرنے والا بسم اللہ پڑھنا بھول گیا اس کا کھانا جائز ہے بشرطیکہ ذبح کرنے والا مسلم یا کتابی ہو۔ مذبوحہ اور میتہ جانوروں کے بارے میں متعدد مسائل سورة مائدہ کے پہلے رکوع کی تفسیر کے ذیل میں گزرچکا ہیں۔ (انورا البیان ج 2)
Ayah 6:122مومن زندہ ہے اس کے لیے نور ہے اور کافر اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے
علامہ بغوی معالم التنزیل ج 2 ص 128 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت دو خاص آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر ان دو آدمیوں کے تعین میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ (وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا) سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ( رسول اللہ ﷺ کے چچا) مراد ہیں، اور (مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ ) سے ابو جہل مراد ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ ابو جہل نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر گھوڑے کی لید پھینک دی تھی۔ حضرت حمزہ ؓ کو اس کا پتہ چلا جو شکار کر کے ہاتھ میں کمان لیے ہوئے آ رہے تھے اور ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ابو جہل کی حرکت کا علم ہوا تو غصہ میں بپھر گئے اور ابو جہل کے پاس آکر اس کے سر پر کمان ماری وہ عاجزی کرنے لگا اور کہنے لگا کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ کیسا دین لے کر آئے ہمیں بیوقوف بناتے ہیں اور ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اور ہمارے باپ دادوں کے مخالف ہیں۔ اس پر حضرت حمزہ ؓ نے فرمایا کہ تم سے بڑھ کر بیوقوف کون ہوگا تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہو۔ پھر انہوں نے اسی وقت اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ اس پر آیت کریمہ (اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحیَیْنٰہُ ) نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو۔ آیت کا عموم ہر کافر اور ہر مومن کو شامل ہے۔
جو لوگ پہلے کافر تھے وہ کفر کی وجہ سے مردہ تھے۔ جس نے اسلام قبول کرلیا وہ زندوں میں شمار ہوگیا اور اسے نور ایمان مل گیا۔ وہ اسی نور ایمان کو لے کر لوگوں میں پھرتا ہے اور یہ نور ایمان اسے خیر کا راستہ بتاتا ہے اور اعمال صالحہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا جو مردہ تھا اسے ہم نے زندہ کردیا ایمان کا نور دیدیا وہ اس جیسا کہاں ہوسکتا ہے جو اندھیریوں میں ہے۔ برابر انہیں میں گھرا ہوا ہے وہاں سے نکلنے والا نہیں۔
پھر فرمایا (کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) جس طرح اہل ایمان کے لیے ایمان مزین کردیا گیا ہے۔ اسی طرح کافروں کے لیے ان کے اعمال کفریہ مزین کردیئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور وہ اپنی حرکت بد کو اچھا سمجھ رہے ہیں۔
Ayah 6:123ہر بستی میں وہاں کے بڑے مجرم ہوتے ہیں :
اس کے بعد فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَافِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا) (اور اس طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے بڑوں کو مجرم بنا دیا) مطلب یہ ہے کہ جیسے اہل مکہ میں دنیاوی اعتبار سے بڑے لوگ مجرم بنے ہوئے ہیں اسی طرح ہم نے ہر بستی میں آپ سے پہلے ایسے لوگ مقرر کیے جو ان لوگوں کے سردار تھے اور گناہوں میں پیش پیش تھے۔
(لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا) تاکہ یہ لوگ مکر کریں یعنی اللہ کی ہدایت نہ پھیلنے دیں اور اس کے خلاف شرارتیں کریں۔ (وَ مَا یَمْکُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِھِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ) (اور ان کا مکر ان کی جانوں ہی کے ساتھ ہے اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ اسلام کے خلاف شرارتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس کا وبال انہیں پر پڑتا ہے۔
صاحب معالم التنزیل (لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا) کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اہل مکہ نے مکہ کے اطراف و جوانب میں ہر راستہ پر چار چار آدمی بٹھا دیئے تھے۔ تاکہ وہ لوگوں کو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکتے رہیں۔ جو شخص باہر سے آتا اور مکہ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اس سے یہ لوگ کہتے تھے کہ دیکھنا اس شخص سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ جادو گر ہے جھوٹا ہے۔
درحقیقت ہر بستی اور علاقہ کے رئیس اور چودھری اور اہل اقتدار اور اہل مال ہی عوام الناس کو ہدایت پر نہیں آنے دیتے۔ نہ خود ہدایت قبول کرتے ہیں نہ اپنے عوام کو حق قبول کرنے دیتے ہیں۔ جیسا کہ پورے عالم میں اس کا مظاہرہ ہے۔
Ayah 6:124ولید بن مغیرہ کی اس جہالت کی تردید کہ ہمیں رسالت ملنی چاہئے
معالم التنزیل ج 2 ص 128 میں آیت بالا کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر نبوت واقعی کوئی چیز ہے تو میں تم سے زیادہ اس کا اہل ہوں کیونکہ میری عمر بھی تم سے زیادہ ہے اور میرا مال بھی کثیر ہے اور دوسرا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ بنو عبد مناف نے شرافت کے سلسلے میں ہم سے مقابلہ بازی کی یہاں تک کہ ہم گھوڑ دوڑ کے گھوڑے بن کر رہ گئے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ کی قسم ہم اس مدعی نبوت پر ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک ہمارے پاس بھی اسی طرح وحی نہ آجائے جیسی اس کے پاس آتی ہے۔
اس پر اللہ جل شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں ولید بن مغیرہ کا بھی جواب ہوگیا اور ابو جہل کا بھی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رسالت و نبوت سے سر فراز کرنا یہ اللہ جل شانہٗ کے انتخاب اور اختیار سے متعلق ہے وہ جسے چاہتا ہے اس عہدہ سے سرفراز فرماتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ رسالت اور نبوت کا اہل کون ہے اور اس عہدہ جلیلہ کا تحمل کس میں ہے یہ کہنا کہ میں مستحق رسالت ہوں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کو جہل کی طرف منسوب کرنا ہے۔ جنہوں نے یہ اعتراض کیا ہے انہیں اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور انہیں سخت سزا ملے گی۔
Ayah 6:125صاحب ہدایت کا سینہ کشادہ اور گمراہ کا سینہ تنگ ہوتا ہے
آیت قرآنیہ سن کر اور آیات تکوینیہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوجاتے تھے اور اکثر کفر سے چمٹے رہتے تھے اس آیت میں اللہ رب العزت تعالیٰ شانہٗ نے یہ بتایا کہ اللہ جل شانہٗ جس شخص کو ہدایت دینا چاہیے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ اس کے دل میں اسلام کی طرف سے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ اور بلا پس و پیش سچے دل سے پورے اخلاص کے ساتھ قبول کرلیتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ جسے گمراہی میں باقی رکھنا چاہے اس کے سینہ کو تنگ کردیتا ہے اسلام کی دعوت سن کر اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور اسلام قبول کرنے کی بات سامنے آتی ہے تو یہ ایسا دو بھر اور دشوار معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ بڑی مصیبت کے ساتھ آسمان پر چڑھ رہا ہو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت بالا تلاوت فرمائی پھر ارشاد فرمایا کہ جب نور سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کیا ایسی کوئی نشانی ہے جس کے ذریعہ اس کو پہچان لیا جائے۔ آپ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی یہ ہے کہ دارالغرور (دنیا) سے دور رہے اور دارالخلود (ہمیشہ رہنے کی جگہ) کی طرف رجوع کرے اور موت سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ ص 446)
سینہ کی تنگی کا مطلب بتاتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو دل میں انقباض ہونے لگے اور گھبراہٹ محسوس ہو اور اگر بتوں کی عبادت کا ذکر آئے تو دل خوشی کی کیفیت طاری ہو۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل)
معلوم ہوا کہ مومن کو اپنے ایمان پر شاداں وفرحاں خوب خوش رہنا چاہئے ایمان اور ایمانیات کی وجہ سے دل خوشی کی لہریں دوڑتی رہیں۔
پھر فرمایا (کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) اللہ ایسے ہی عذاب بھیج دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔
علماء تفسیر نے رجس کے کئی معنی کیے ہیں۔ روح المعانی میں اولاً عذاب اور خذلان کا ترجمہ کیا ہے۔ پھر حضرت مجاہد تابعی سے نقل کیا ہے کہ الرجس مالاخیرفیہ یعنی جس میں کوئی خیر نہ ہو وہ رجس ہے۔ پھر علامہ راغب اصفہانی سے نقل کیا ہے کہ الرجس الشئی القذر یعنی گھناؤنی چیز اور زجاج سے نقل کیا ہے۔ ھو اللعنۃ فی الدنیا و العذاب فی الاٰخرۃ۔ یہاں یہ سب معانی مراد ہوسکتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ پاک گمراہ شخص کا سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح ان لوگوں پر رجس ڈال دیتا ہے جنہیں ایمان لانا نہیں ہوتا۔
Ayah 6:126اللہ تعالیٰ کا راستہ سیدھا ہے
مومن اور کافر کا فرق بیان فرمانے کے بعد اب صراط مستقیم کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (دین اسلام) تیرے رب کا راستہ ہے جو سیدھا راستہ ہے اس میں کوئی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں ہے اس کی دعوت بھی واضح ہے، جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے واضح طور پر آیات بیان کردیں۔ پھر صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لیے دو انعام ذکر فرمائے اول یہ کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس دارالسلام ہے۔
Ayah 6:127اہل ایمان کے لیے دارالسلام کا وعدہ :
دارالسلام کا معنی ہے سلامتی کا گھر۔ اور اس سے جنت مراد ہے جنت میں ہر طرح کے مصائب اور تکالیف سے سلامتی ہوگی۔ نہ جسمانی کوئی تکلیف ہوگی نہ روحانی۔ نہ آپس میں بغض ہوگا نہ کینہ ہوگا نہ حسد ہوگا نہ دشمنی ہوگی۔ اور نہ نعمتوں کے ختم ہونے کا یا چھیننے کا اندیشہ ہوگا۔ جب جنت میں داخل ہوں گے تو فرمایا جائے گا (اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ) کہ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ امن وامان کی حالت میں۔ اہل جنت کو اللہ کی طرف سے سلام آئے گا۔ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے سورة یٰسین میں فرمایا (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَبٍّ رَّحِیْمٍ ) فرمایا ہے۔ الحاصل ! جنت دار السلام ہے وہاں سلامتی ہی سلامتی ہے جعلنا اللہ من اھلھا
(وَ ھُوَ وَلِیُّھُمْ بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ ) فرمایا ہے الحاصل ! جنت دارالسلام ہے وہاں سلامتی ہی سلامتی ہے جعلنا اللہ من اھلھا۔
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ولی ہے :
دوسرے انعام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ ھُوَ وَ لِیُّھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) یعنی اللہ ان کا ولی ہے بسبب ان کے عمل کے جو وہ کرتے تھے۔
صاحب معالم التنزیل ج 7 ص 130 لکھتے ہیں یتو لا ھم فی الدنیا بالتوفیق و فی الآخرۃ بالجزاء یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کا ولی یعنی دوست ہے اور مددگار ہے جس نے ایمان کی توفیق دیدی اور آخرت میں بھی ان کا دوست ہوگا وہ انہیں ایمان کا بدلہ دے گا۔
Ayah 6:128قیامت کے دن جنات سے اور انسانوں سے سوال :
اس کے بعد قیامت کے دن جو سوالات ہوں گے ان میں سے ایک سوال کا ذکر فرمایا (وَ یَوْمَ یَحْشَرُھُمْ جَمِیْعًا) کہ جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو یعنی جنات اور انسانوں کو محشر میں جمع فرمائے گا اور جنات سے اللہ تعالیٰ کا یوں خطاب ہوگا۔ (یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ) کہ اے جنات کے گروہ تم نے کثیر تعداد میں انسانوں کو اپنے تابع کرلیا۔ جنات سے شیاطین مراد ہیں۔
جب ابلیس مردود ہوا تھا اس نے کہا تھا (لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًامَّفْرُوْضًا) (کہ میں تیرے بندوں میں سے حصہ مقرر بنا لوں گا) اور یہ بھی کہا تھا۔ (لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآءِلِھِمْ وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ) (کہ میں ان کے لیے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان کے سامنے سے اور پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے آؤں گا اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔ )
ابلیس نے جو کہا تھا وہ برابر اپنی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اس کی ذریت بھی اس کی کوششوں میں اس کی معاون و مددگار ہے۔ اور انسانوں کی غفلت کی وجہ سے شیاطین اپنی محنت میں کامیاب ہیں انہوں نے اکثر انسانوں کو اپنا بنا لیا ہے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہ کردیا شیاطین الجن سے اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے کہ انسانوں میں سے کثیر تعداد کو تم نے اپنا بنا لیا ہے اور ان کو صراط مستقیم سے ہٹا دیا۔
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہٗ کا یہ خطاب توبیخ کے طور پر ہوگا یعنی بطور ڈانٹ ڈپٹ ان سے یہ خطاب ہوگا۔
انسانوں کا جواب اور اقرار جرم :
(وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَا) (اور شیاطین کے دوست جو انسانوں میں سے تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم میں بعض سے بعض نے انتفاع کیا) یعنی انسان جنات سے اور جنات انسانوں سے منتفع ہوئے۔
صاحب روح المعانی نے حضرت حسن اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ انسانوں کا جنات سے نفع حاصل کرنا یوں تھا کہ جب ان میں سے کوئی شخص سفر پر جاتا اور جنات کا خوف ہوتا تو جس منزل پر اترنا ہوتا تو یوں کہتے کہ اَعُوْذُ بِسَیّدِ ھٰذَا الوادی (کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ لیتا ہوں) اللہ کی پناہ لینے کی بجائے شیاطین کی پناہ لیتے تھے۔ اور شیاطین کا انسانوں سے نفع حاصل کرنا یہ تھا کہ جب یہ لوگ اعوذ بِسَید ھٰذا الوادی کہتے تھے توجنات خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ دیکھو انہوں نے ہم کو پناہ دینے پر قادر سمجھا اور جو پناہ اللہ سے مانگنی چاہئے تھی ہم سے مانگی۔ انسانوں کا گروہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع حاصل کرنے کا اقرار کرنے کے بعد یوں کہے گا۔ کہ (وَّ بَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَا) اور ہم پہنچ گئے اس مقرر میعاد کو جو ہمارے لیے آپ نے مقرر فرمائی تھی) اس اجل یعنی مقررہ معیاد سے بعض حضرات نے موت اور بعض نے قیامت کا دن مراد لیا ہے انسانوں کا گروہ یہ بات بطور اقرار جرم کہے گا۔ جس میں اظہار ندامت بھی ہے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا ! حسرت بھی ہے کہ اگر ایسا نہ کرتے تو اچھا ہوتا۔
(قَال النَّارُ مَثْوٰیکُمْ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ دوزخ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ابلیس کو خطاب کر کے بتادیا تھا (لَاَ مْلَءَنَ جَھنَّمَ مِنْکَ وَ مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (کہ میں ضرور دوزخ کو بھر دوں گا۔ تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے جو تیرا اتباع کریں گے) یہ اعلان اسی وقت فرما دیا تھا جب ابلیس نے تکبر کیا اور اس نے بنی آدم کو بہکانے کی قسم کھا کر اپنا مضبوط ارادہ ظاہر کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے دعوے پر اسے اور اس کے ماننے والوں کو دوزخ میں بھیجنے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ اسی کے مطابق آج دوزخ میں شیطان کے ماننے والوں کا ٹھکانا ہوگا۔
(خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ) (یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) (اِلَّا مَا شَآء اللّٰہُ ) (مگر یہ کہ جو اللہ چاہے) یعنی وہ چاہے تو دوزخ سے نکال سکتا ہے۔ مگر کافروں کو نہیں نکالے گا جیسا کہ دوسری آیت میں (خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) فرمایا۔
(اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ) (بےشک تیرا رب حکمت والا جاننے والا ہے اس طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کا ولی بناتے ہیں بسبب ان کے اعمال کے جو وہ کرتے تھے۔
Ayah 6:129نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ کی تفسیر :
نُوَلِّیْ کا یہ ترجمہ جو ابھی لکھا گیا حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے ان سے نقل کیا ہے۔ نَجْعَلُ بَعْضَھُمْ اَوْلِیْآءَ بَعْضٍ کہ ہم ظالموں کو آپس میں ایک دوسرے کا دوست بناتے ہیں۔ یہ معنی بھی صحیح ہے دنیا میں ہر وقت اس کا مظاہرہ ہے اور اسی دوستی کی وجہ سے آپس میں مل کر اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی میں ایک دوسرے کی معاونت کرتے رہتے ہیں۔
اور بعض حضرات نے نُوَلِّیْ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ظالموں کو ایک دوسرے سے قریب کردیں گے۔ یعنی قیامت کے دن ایک ہی قسم کے لوگوں کی جماعتیں بنا دی جائیں گی۔ پھر یہ جماعتیں دوزخ میں چلی جائیں گی۔ جیسا کہ سورة صافات میں فرمایا۔ (اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاھْدُوْھُمْ اِِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ) ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں اور ان معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جمع کرو پھر ان کو دوزخ کا راستہ دکھاؤ اور سورة زمر میں فرمایا (وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا الِیٰ جَھَنَّمَ زُمَرًا) ( اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں گروہ گروہ بنا کر دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا) ۔
آیت کا ایک اور معنی بعض مفسرین نے لکھا ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے ای نسلّط بعض الظالِمین عَلٰی بعض کہ ہم بعض ظالموں کو بعض دوسرے ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں اور ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ہاتھ سے سزا دلوا دیتے ہیں۔
Ayah 6:130جن و انس سے سوال ! کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ اور ان کا اقرار جرم
ان آیات میں اول تو اللہ جل شانہٗ نے اپنے اس خطاب کا ذکر فرمایا جو جنات کی جماعت سے اور انسانوں سے قیامت کے دن ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے مجرمین کافرین جو میدان حشر میں موجود ہوں گے ان سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے جنات اور اے انسانو ! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تمہیں میرے احکام بتاتے تھے اور تمہیں آج کے دن کی حاضری سے اور اعمال کے نتائج سامنے آنے سے باخبر کرتے تھے اور تمہیں ڈراتے تھے کہ دیکھو ایک دن ایسا آنے والا ہے تم اس کے لیے فکر مند ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔
اول تو مجرمین اقرار جرم سے گریز ہی کریں گے۔ اور اپنے کفر و شرک کا انکار ہی کر بیٹھیں گے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ان کا قول (وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ) ذکر فرمایا ہے۔ پھر بعد میں اپنے ہاتھ پیروں کی گواہی سے اور اپنے نبیوں کی گواہی کی وجہ سے مجبور ہو کر اقرار کرلیں گے۔ جس کا تذکرہ اوپر آیت بالا میں فرمایا۔
(قَالُوْا شَھِدْنَا عَلآی اَنْفُسِنَا) وہ کہیں گے کہ اپنی جانوں کے مقابلہ میں ہم گواہی دے رہے ہیں کہ واقعی ہم مجرم تھے اور واقعی ہم کافر تھے۔ درمیان کلام ان لوگوں کی گمراہی کا اور کفر و شرک پر جمنے کا سبب بھی ذکر فرما دیا۔
(وَ غَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا) یعنی دنیا والی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ دنیاوی زندگی کو انہوں نے اصل سمجھا اور اس کے منافع اور ثمرات اور شہوات و لذات ہی کے پیچھے پڑے رہے۔ ایمان کی دعوت دینے والوں اور یوم آخرت کی یاد دہانی کرانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیا۔
Ayah 6:131(ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی) یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو یعنی ان کے رہنے والوں کو ان کے ظلم کے سبب اس طرح ہلاک نہیں فرماتا کہ وہ لوگ اپنے ظلم کے انجام سے بیخبر ہوں۔
اللہ جل شانہٗ پیغمبر بھیجتا ہے جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں۔ توحید اختیار کرنے والوں کا اچھا انجام اور مشرکوں و کافروں کا برا انجام بتاتے ہیں۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ سب کچھ بتادینے کے بعد جب لوگ باز نہیں آتے تو اللہ پاک کی طرف سے ان لوگوں کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ ہلاکت کا سبب بھی بتادیا کہ وہ ظلم ہے ہر گناہ ظلم ہے اور کفر بھی ظلم ہے اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
Ayah 6:132اعمال کے اعتبار سے لوگوں کے درجات مختلف ہیں۔ پھر فرمایا (وَ لِکُلِّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) ( اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے مختلف درجات ہیں) ثواب والوں کے بھی مختلف درجات ہیں اور عقاب والوں کے بھی، اور جس نے جو کچھ کیا اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے جزا اور سزا پالے گا۔
(وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ) ( اور تیرا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں) اس میں یہ بات بتادی کہ حساب لینے والا اور جزا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے علم سے کسی کا کوئی عمل باہر نہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرے سارے اعمال کا بدلہ کیسے ملے گا۔ کسے خبر ہے کہ میں نے کیا کیا کیا ؟ خوب سمجھ لیں کہ جسے جزا دینا ہے اسے سب کچھ معلوم ہے۔
Ayah 6:133اللہ تعالیٰ غنی ہے رحمت والا ہے۔ پھر فرمایا (وَ رَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُوالرَّحْمَۃِ ) (تیرا رب غنی ہے بےنیاز ہے، رحمت والا ہے) اسے کسی چیز کی اور کسی کے عمل کی حاجت نہیں۔ ہاں ! ساری مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اپنی مخلوق پر رحم کرتا ہے اس نے مخلوق کو وجودبھی بخشا، ان کو رزق بھی بخشتا ہے اور ان کی حاجتیں بھی پوری فرماتا ہے، دنیا میں تو سب ہی پر اس کی رحمت ہے اور آخرت میں اہل اطاعت کے لیے مخصوص ہے۔
اللہ چاہے تو تمہیں ختم کر کے دوسرے لوگوں کو لے آئے :
(اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَّا یَّشَآءُ ) (اگر پروردگار عالم جل مجدہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہارے بعد دوسروں کو اپنی زمین پر آباد فرما دے) ۔
(کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ) (جیسا کہ اس نے تمہیں ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا فرما دیا) آج وہ تمہارے دادے پردادے کہاں ہیں جن کی نسل سے تم ہو۔ جس طرح تدریجی طور پر پرانی ایک نسل کے بعد دوسری نسل لانے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے اس طرح سے وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ دفعتہ سب کو ختم کر دے پھر اس کی جگہ دوسروں کو آباد کر دے۔ وہ تو بےنیاز ہے تم تو بےنیاز نہیں ہو تم اپنی بقا میں اس کے محتاج ہو اور حاجات پوری کرنے کے لیے تمہیں اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔
دنیا میں بھی تم اس کے محتاج ہو اور موت کے بعد بھی۔ لہٰذا اپنی ضرورت سے ایمان قبول کرو اور اعمال صالحہ اختیار کرو۔
Ayah 6:134قیامت ضرور آنے والی ہے :
پھر فرمایا (اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ) (بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والی چیز ہے) یعنی قیامت اور حساب و کتاب اور عذاب وثواب اور جنت و دوزخ کی جو خبریں تمہیں دی جا رہی ہیں اور تمہیں جو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومنین کی یہ جزا ہے اور کافروں کی یہ سزا ہے یہ سب کچھ ہونے والا ہے سامنے آجانے والا ہے۔ دیر لگنے کی وجہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ یونہی باتیں ہیں۔
(وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) ( اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے) اور موت سے اور قیامت کے دن پیش آنے والے حالات سے جان چھڑا کر کہیں جا نہیں سکتے۔ سورة مریم میں فرمایا۔ (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَہِ فَرْدًا) (اللہ تعالیٰ نے سب کو خوب اچھی طرح شمار میں رکھا ہے اور سب اس کے پاس ایک ایک ہو کر حاضر ہوں گے) بہت سے جاہل قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ہزاروں سال ہوگئے اب تک تو قیامت آئی نہیں یہ احمقانہ بات ہے خالق ومالک جل مجدہٗ کا وعدہ سچا ہے اس کے علم میں اس کا وقت مقرر ہے وہ اپنے وقت مقررہ پر آئے گی۔ کسی چیز کے وجود میں آنے میں دیر لگنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کا وجود نہ ہوگا۔
Ayah 6:135اپنی اپنی جگہ عمل کرتے رہو انجام کا پتہ چل جائے گا :
پھر فرمایا (قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ) (آپ فرما دیجیے کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں بھی اپنے طور پر عمل کرتا ہوں)
میں تمہیں بتارہا ہوں کہ کفر و شرک کا انجام برا ہے اس وقت تم نہیں مانتے۔ (فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ) (سو عنقریب تم جان لوگے کہ اس عالم میں انجام کار کس کے لیے نفع مند ہوا) جب آنکھیں مچیں گی اس وقت آنکھیں کھلیں گی کہ نفع والا ہم اپنے کو سمجھ رہے تھے لیکن اب پتہ چلا کہ نفع والے ایمان اور اعمال صالحہ والے تھے لیکن وہاں سمجھ میں آنا بےفائدہ ہوگا اسی دنیا میں سمجھ لیں اور ایمان لے آئیں تو نفع والے ہوجائیں اور آخرت کے خسارہ سے بچ جائیں گے۔
ظالم کامیاب نہیں ہوتے :
(اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) (بلاشبہ بات یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے) اس میں قاعدہ کلیہ کے طور پر بتادیا کہ ظالمین یعنی کافر و مشرک کامیاب نہ ہوں گے۔ کفرو شرک والے سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے فائدہ میں ہیں لیکن وہ حقیقت میں نقصان میں جا رہے اور خسارہ میں پڑ رہے ہیں قیامت کے دن جب تباہ حال ہوں گے اس وقت حال کا پتہ چلے گا۔
کیا جنات میں سے رسول آئے ہیں ؟
فائدہ : آیت شریفہ میں یہ جو فرمایا (اَلمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ) اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنات میں بھی رسول انہی میں سے آتے رہے کیونکہ یہ خطاب انسانوں اور جنوں دونوں جماعتوں کو فرمایا ہے۔
حضرات مفسرین نے اس بارے میں علماء سلف کے مختلف اقوال نقل کیے۔ مفسر ابن کثیر نے ج 2 ص 177 بحوالہ ابن جریر، ضحاک بن مزاحم سے نقل کیا ہے کہ جنات میں بھی رسول گزرے ہیں اور لکھا ہے کہ ان کا استدلال اسی آیت کریمہ سے ہے پھر لکھا ہے کہ آیت اس معنی میں صریح نہیں ہے ہاں محتمل ہے۔ کیونکہ مِنْکُمْ کا معنی من جملتکم بھی ہوسکتا ہے۔ جس کا معنی ہوگا کہ مجموعہ انس وجن سے رسول بھیجے گئے جیسا کہ سورة رحمن میں فرمایا ہے۔ (یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ ) اس میں مِنْھُمَا کی ضمیر بحرین کی طرف راجع ہے۔ حالانکہ لؤ لؤ اور مرجان صرف شور سمندر سے نکلتے ہیں۔ اس اعتبار سے مِنْھُمَا بمعنی مِنْ جملتھما ہوا اور (رُسُلٌ مِّنْکُمْ ) سے بھی یہ معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔
مفسر ابن کثیر نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ جنات میں رسول نہیں آئے اور اس قول کو مجاہد اور ابن جریج وغیر واحد من السلف و الخلف کی طرف منسوب کیا ہے اور روح المعانی میں بعض حضرات کا یہ قول نقل کیا ہے کہ (رُسُلٌ مِّنْکُمْ ) میں جو لفظ رُسُل آیا ہے یہ لفظ عام ہے یعنی حقیقی رسولوں کو اور رسولوں کے رسولوں کو شامل ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو حضرات اللہ کے رسول تھے ﷺ وہ اپنے طور پر دین حق کے پہنچانے کے لیے جن افراد کو امتوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ان کو بھی رسول فرمایا یعنی جنات کی طرف جنات میں سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) جو مبلغ بھیجا کرتے تھے ان پر یہ لفظ رسولوں کافرستادہ ہونے کے اعتبار سے صادق آتا ہے، رسول تو بنی آدم ہی سے تھے لیکن رسولوں کے ارسال فرمودہ نمائندے جنات میں سے بھی تھے۔
یہ تو معلوم ہے کہ بنی آدم سے پہلے اس دنیا میں جنات رہتے اور بستے تھے اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ قوم بھی احکام خداوندی کی مکلف ہے۔ جب یہ قوم مکلف ہے تو تبلیغ احکام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس رسول نہ بھیجے ہوں سمجھ میں نہیں آتا۔ بلکہ (اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) کا عموم اس بات کو بتاتا ہے کہ بنی آدم سے پہلے جنات میں انہیں میں سے رسول آتے ہوں گے۔
بنی آدم کے زمین پر آباد ہوجانے کے بعد جنات کو انہیں انبیاء ورسل کے تابع فرما دیا ہو جو بنی آدم میں سے آتے رہے تو یہ ممکن تو ہے لیکن قطعی ثبوت کے لیے کوئی دلیل نہیں۔
بہر حال جو بھی صورت ہو اس بات کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت خاتم النّبیین سروردو عالم رسول الثقلین ﷺ ہیں اور رہتی دنیا تک جس طرح انسانوں کی طرف مبعوث ہیں جنات کی طرف بھی مبعوث ہیں۔
سورۂ احقاف کے آخری رکوع میں حضرت خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں جنات کی حاضری کا تذکرہ پھر ان کا اپنی قوم کی طرف جانا اور ان کو اسلام کی دعوت دینا (اَجِیْیُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ وَ اٰمِنُوْا بِہٖ ) مذکور ہے۔ اور سورة الرحمن میں جنات سے بار بار خطاب ہونا اور آنحضرت ﷺ کا جنات کو سورة الرحمن سنانا اور ان کی دعوت پر ان کی جائے سکونت پر تشریف لے جا کر تعلیم دینا اور تبلیغ فرمانا (جس کا احادیث شریف میں ذکر ہے) اس سے یہ بات خوب ظاہر اور بہت ہی واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ جنات کی طرف بھی مبعوث ہیں جن حضرات نے یہ فرمایا کہ بنی آدم کے دنیا میں آباد ہوجانے کے بعد جنات کی ہدایت کے لیے بھی وہی رسول مبعوث تھے جو بنی آدم کی طرف بھیجے گئے ان کے اس قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ جب جنات کی جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دے کر واپس ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم سے جو باتیں کیں ان میں یہ بھی تھا۔ (یٰقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدیْہِ یَھْدِیْٓ اِلَی الْحَقَّ وَ اِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیمٍ ) ان کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ہم نے ایسی کتاب سنی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس کے سامنے ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جنات توریت شریف پر عمل کرتے تھے۔ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں خود ان میں سے کوئی رسول ہوتا تو وہ اسی کا اتباع کرتے۔