Ayah 6:61اللہ غالب ہے وہ نگرانی کرنے والے فرشتوں کو بھیجتا ہے اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے اسے کوئی عاجز نہیں کرسکتا وہ اپنے بندوں کے بارے میں جو کچھ ارادہ فرمائے اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔
پھر فرمایا (وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ) اور وہ تم پر اپنے نگران بھیجتا ہے۔ اس سے اعمال لکھنے والے فرشتے مراد ہیں جیسا کہ سورة الانفطار میں فرمایا (وَ اِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ) (اور تمہارے اوپر نگران ہیں جو عزت والے کاتب ہیں وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو) بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتے مراد ہیں جو آگے پیچھے آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور بندوں کی حفاظت کرتے ہیں جیسے سورة رعد میں فرمایا (لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ) اگر عموم لفظ سے دونوں قسم کے فرشتے مراد لیے جائیں تو اس میں بھی کوئی بُعد نہیں۔ اعمال لکھنے والے فرشتے حسنات اور سیئات لکھتے ہیں۔ جس میں اقوال و اعمال سب آجاتے ہیں۔
سورة ق میں فرمایا (مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیدٌ) (انسان جو بھی کسی بات کا تلفظ کرتا ہے تو اس کے پاس نگران موجود ہے تیار)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تمہارے پاس رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے جاتے ہیں۔ اور فجر اور عصر کی نماز میں ان کا اجتماع ہوجاتا ہے پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس رہے تھے اوپر چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ ان سے دریافت فرماتے ہیں حالانکہ وہ اپنے بندوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ جواب میں عرض کرتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تو اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 62 از بخاری و مسلم)
پھر فرمایا : (حَتّآی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا) (یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کے پاس موت آجاتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے قاصد اس کو اٹھا لیتے ہیں) یعنی زندگی بھر جو فرشتے بندوں کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں وہ کار مفوضہ انجام دیتے رہتے ہیں پھر جب زندگی کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور مقرر اجل آپہنچتی ہے تو وہ فرشتے روح قبض کرلیتے ہیں جو اس کام پر مقرر ہیں۔
صاحب روح المعانی نے ج 7 ص 116 حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہاں رُسُلُنَا سے ملک الموت کے اعوان یعنی مددگار مراد ہیں۔ (وَ ھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ ) (اور یہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں کچھ بھی کوتاہی نہیں کرتے)
Ayah 6:62(ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ ) (پھر وہ واپس کیے جاتے ہیں اللہ کی طرف جو ان کا حقیقی اور واقعی مالک ہے) ۔
(اَلَا لَہُ الْحُکْمُ وَ ھُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ ) (خبر دار ! اسی کے لیے حکم ہے وہی فیصلے فرمائے گا۔ وہ حساب لینے والوں میں سب سے جلدی حساب لینے والا ہے) جن لوگوں کا حساب لیا جائے گا۔ ان کے مختلف احوال اور مختلف اعمال ہوں گے۔ کسی کا حساب جلدی اور کسی کا دیر میں ختم ہوگا لیکن اگر اللہ تعالیٰ سب ہی کا حساب ذرا سی دیر میں فرمانا چاہیں تو فرماسکتے ہیں۔ فانہ لا یشغلہ حساب عن حساب و لا شان عن شان۔
Ayah 6:63پھر فرمایا (قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (آپ فرما دیجیے کون ہے جو تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ظلمات البرو الجر سے شدائد یعنی سختیاں اور مشکلات و مصائب مراد ہیں۔ جب انسان سختیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اللہ کی طرح رجوع کرتا ہے۔ جو لوگ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں وہ لوگ بھی مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ (تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ) میں بیان فرمایا کہ تم آڑے وقت میں عاجزی کے ساتھ پوشیدہ طور پر اللہ ہی کو پکارتے ہو۔ اور یوں کہتے ہو (لَءِنْ اَنْجٰنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ) (اگر ہمیں اس مصیبت سے نجات دیدے تو ہم ضرور بالضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے) یعنی آئندہ ہمیشہ شکر میں لگے رہیں گے۔
Ayah 6:64(قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْھَا وَ مِنْ کُلِّ کَرْبٍ ) (اللہ تمہیں اس مصیبت سے اور ہر بےچینی سے نجات دیتا ہے) ۔ (ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ) (پھر تم شرک کرنے لگتے ہو) مصیبت میں خالص اللہ کو پکارتے ہو۔ اور شکر گزاری کے وعدے کرتے ہو پھر جب اللہ تعالیٰ مصیبت دور فرما دیتا ہے تو سب وعدے بھول جاتے ہو اور شرک کرنے لگتے ہو۔
سورة یونس میں فرمایا (فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِِّ ) (سو جب ان کو اللہ نے نجات دیدی تو وہ اچانک زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں) سورة عنکبوت میں فرمایا۔
(فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (پھر جب کشتی میں سوار ہوجاتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں اسی کے لیے عبادت کو خالص کرکے، پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دیدیتا ہے تو اچانک شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ وہ نا شکری کریں ہماری دی ہوئی نعمتوں کی اور تاکہ وہ فائدہ اٹھائیں سو عنقریب وہ جان لیں گے) یہ مشرک انسان کا مزاج ہے کہ مصیبت میں اللہ کی طرف اور آرام میں غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:65اللہ اس پر قادر ہے کہ اوپر سے یا نیچے سے عذاب بھیج دے یا آپس میں جنگ کرا دے
انسانوں کو بحرو بر میں جو تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں اور جن مصائب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے دفعیہ کے لیے اخلاص کے ساتھ سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگتے ہیں۔ پھر جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو ساری دعائیں بھول جاتے ہیں یہ تو ان مصیبتوں کا حال ہے جن میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور بیشمار مصیبتیں ایسی ہیں جو پہنچتی ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ اوپر سے عذاب بھیج دے پتھر برسا کر ہلاک کر دے۔ بہت زیادہ بارش بھیج دے یا سخت چیخوں کی آوازیں آجائیں، اور اسے اس پر بھی قدرت ہے کہ بندوں پر نیچے سے عذاب بھیج دے۔ سیلاب آجانا۔ زمین میں دھنس جانا۔ یہ نیچے سے عذاب آنے کی صورتیں ہیں اوپر اور نیچے دونوں جہتیں بیان فرما دیں جن سے عام طور پر عذاب آنے کا تصور ہوسکتا ہے ورنہ اللہ کو ہر چھ جہت سے عذاب بھیجنے کی قدرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں یہ بھی منقول ہے۔
اللّٰھم احفظنی من بین یدی و من خلفی و عن یمینی و عن شمالی و من فوقی وَ اعوذبک بعظمتک ان اغتال من تحتی یعنی الخسف۔ ” اے اللہ ! میری حفاظت فرما ! میرے سامنے سے اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں آپ کی عظمت سے اس کی پناہ لیتا ہوں کہ اپنے نیچے سے ہلاک کردیا جاؤں۔ “ (مشکوٰۃ المصابیح ص 210)
اس روایت میں ان اغتال من تحتی کی تفسیر خسف یعنی زمین میں دھنسا جائیے جانے سے کی ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔
سورة ملک میں فرمایا (ءَ اَمِنتُمْ مَنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ الاَرْضَ فَاِِذَا ھِیَ تَمُوْرُ اَمْ اَمِنتُمْ مَنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیرِ ) (کیا تم اس سے نڈر ہوگئے جو آسمان میں ہے کہ تم پر ایک تند ہوا بھیج دے پھر عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کیسا ہے میرا ڈرانا) ۔
(اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیْعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ) (یا بھڑا دے تم کو گروہ گروہ کر کے اور چکھا دے بعض کو بعض کی سختی) یہ حاصل ترجمہ ہے، مفسر ابو البرکات نسفی اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں ج 2 ص 71 لکھتے ہیں۔
او یخکطلم فرقا مختلفین علی اھواء شتی کل فرقہ منکم مشایعۃ لا مام و معنی خلطھم ان ینشب القتال بینھم فیختلطوا و یشتبکوا فی ملاحم القتال۔
یعنی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تمہارے مختلف فرقے بنا دے جن کے اھواء افکار مختلف ہوں۔ ہر فرقہ اپنے اپنے پیشوا کے پیچھے چلتا ہو۔ خلط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان جنگ کھڑی ہوجائے اور قتل و قتال کے معرکہ میں خلط ملط ہوجائیں اور ایک فریق دوسرے فریق میں گھس جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر قدرت ہے کہ تمہارے بہت سے فرقے بنا کر آپس میں جنگ کرا دے اور بعض کو بعض کی قدرت و طاقت اور دشمنی کا مزہ چکھا دے۔ یہ بھی ایک سزا ہے نہ تو آسمان سے آتی ہے اور نہ زمین سے نکلتی ہے۔ انسانوں کے اپنے افکار و تصورات اور معتقدات کی بناء پر فرقے بن جاتے ہیں اور آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ اور یہ عذاب بہت بڑا عذاب ہے۔ پہلی امتوں پر بھی آتا رہا ہے اور اس امت میں بھی اس کے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔
حضرت زید بن اسلم (تابعی) نے بیان کیا کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض بالسیوف (تم لوگ میرے بعد کافر مت ہوجانا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو تلوار سے قتل کیا کرو گے۔ ) حضرت حسن (تابعی) نے فرمایا کہ
(عَذَاباً مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ ) مشرکین کے لیے ہے (اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیْعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ) مسلمانوں کے لیے ہے۔ (درمنثور ج 3 ص 20)
حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنی معاویہ کی مسجد پر گزرے۔ وہاں آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے لمبی دعا کی اور اس کے بعد فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک کو قبولیت سے منع فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمانا یہ دعا قبول ہوگئی۔ اور میں نے یہ سوال کیا کہ میری امت کو غرق کرکے ہلاک نہ فرمانا۔ میری یہ دعا قبول ہوگئی۔ اور میں نے سوال کیا کہ آپس میں ان کی لڑائی نہ ہو تو اس بات کو قبول نہیں فرمایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 512 ج 2)
کبھی کبھار کہیں سیلاب آجائے کچھ لوگ غرق ہوجائیں یا قحط سے کچھ لوگ مرجائیں یہ دوسری بات ہے قحط سے یا غرق سے پوری امت ہلاک نہ ہوگی۔ اس کی دعا اللہ جل شانہٗ نے قبول فرما لی ہے پھر فرمایا
(اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُوْنَ ) (آپ دیکھ لیجیے ہم کیسے آیات کو مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھیں) اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مختلف طریقوں سے تفصیل کے ساتھ دلائل بیان فرمائے تاکہ سمجھنے والے غور و فکر کریں اور سمجھنے کا ارادہ کریں تو سمجھ لیں۔
Ayah 6:66(وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَ ھُوَ الْحَقُّ ) (اور آپ کی قوم نے اس عذاب کی تکذیب کی حالانکہ وہ حق ہے) (قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ) (یعنی اگر وہ یوں کہیں کہ عذاب کب آئے گا تو آپ جواب دیدیں کہ میں تمہارے اوپر داروغہ بنا کر مقرر نہیں کیا گیا۔ عذاب کا لانا میرے بس میں نہیں ہے اللہ جب چاہے گا لے آئے گا۔
Ayah 6:67پھر فرمایا (لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے) مطلب یہ ہے کہ جو خبریں دی گئی ہیں یہ محض خبریں ہی نہیں ہیں ان کے وقوع اور حصول کا وقت مقرر ہے جو اللہ کے علم میں ہے مقررہ وقت آجائے گا تو اس کا ظہور ہوجائے گا اور تمہیں عنقریب تکذیب کی سزا معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 6:68ان مجلسوں میں بیٹھنے کی ممانعت جن میں اسلام کا مذاق بنایا جا رہا ہو
بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ مسلمین اور مشرکین ایک جگہ بیٹھتے تھے۔ مشرکین کو قرآن مجید کا احترام نہ تھا۔ بیٹھے بیٹھے اہل ایمان کے سامنے قرآن مجید کا مذاق بنانے لگتے تھے اور امور دین پر طعن کرنے لگتے تھے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تم ان ظالموں کو دیکھو تو ان سے اعراض کرو اور کنارہ کشی اختیار کرو۔ ہاں جب اپنی اس حرکت بد کو چھوڑ دیں اور دوسرے کسی کام میں عمل مشغول ہوجائیں تو پھر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہو۔ اگر وہ استھزاء اور تمسخر کر رہے ہوں اور تم بھولے سے ان کے پاس بیٹھے رہو تو جب یاد آجائے اٹھ جاؤ اور ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
یہ مضمون سورة نساء میں بھی گزرا ہے۔ وہاں اس آیت کا حوالہ دے کر فرمایا ہے۔ (وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُ بِھَا وَ یُسْتَھْزَاُ بِھَافَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ) (سورۂ نساء آیت 140)
Ayah 6:69اہل کفر سے اگر بالکل ہی دور رہیں تو ان کو حق بات کیسے پہنچائی جائے۔ اور نصیحت اور موعظت کا راستہ کیسے نکالا جائے۔ اس کے لیے ملنے کی ضرورت ہوتی ہے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (وَ مَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰکِنْ ذِکْرٰی لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ) ( اور جو لوگ احتیاط کرتے ہیں ان پر ظالموں کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں ہے لیکن نصیحت ہے تاکہ وہ ڈرنے لگیں) ۔
اگر دینی یا دنیاوی ضرورت سے ان کے پاس جانا ہوجائے تو جو لوگ ایمان میں مضبوط اور منکر کو منکر جانتے ہوئے اپنی ذات کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب یعنی باز پرس اور طعن کرنے کے گناہ کا کوئی اثر نہ ہوگا جو تمسخر و استہزاء میں مشغول ہوں، یہ لوگ ان کے پاس جائیں ان کو نصیحت کریں۔ ممکن ہے نصیحت ان لوگوں کے حق میں کار گر ہوجائے اور وہ طعن وتشنیع اور عیب جوئی سے پرہیز کریں، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں۔
صاحب روح المعانی ج 7 ص 184 نے ابو جعفر سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا کہ مشرکین جب قرآن کریم کا استہزاء کرنے لگیں اور ہم اسی وقت وہاں سے اٹھ جائیں۔ پھر تو مسجد حرام میں نہیں بیٹھ سکتے۔ اور بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کرسکتے۔ (کیونکہ مشرکین تو اپنی حرکت سے باز آنے والے نہیں) اس پر آیت (وَ مَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ ) نازل ہوئی۔ جس میں یہ بتادیا گیا کہ جب تم اپنے اعمال میں لگے ہوئے ہو ان کی مجلس میں شریک نہیں ہو تو تم پر ان کے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور جب اختلاط ہوجائے تو ان کی نصیحت اور خیر خواہی سے بھی غافل نہ ہونا۔ ممکن ہے نصیحت اثر کر جائے۔
Ayah 6:70لہو و لعب والوں کو چھوڑ دیجیے جنہیں دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈالا :
اس کے بعد فرمایا (وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَعِبًا وَّ لَھْوًا) (الآیۃ) پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ جو لوگ آیات کا تمسخر و استہزاء کر رہے ہیں ان سے اعراض کرو اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔
اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان سے اعراض کرنا کوئی مجلسوں کی شرکت کرنے پر ہی منحصر نہیں ہے۔ بلکہ مستقل یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین کو (یعنی ترک کرنے اس دین اسلام کو جو ان کے لیے اللہ پاک نے بھیجا ہے) لہو و لعب بنا لیا ہے۔ ان کو چھوڑے رکھو ان کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اسی کی لذتوں میں مشغول ہیں اور آخرت سے غافل ہیں لیکن اس اعراض اور ترک تعلقات کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے۔ اس قرآن کے ذریعہ ان کو تبلیغ کرتے رہو۔ تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کی وجہ سے عذاب میں نہ پھنس جائے اور ہلاک نہ ہوجائے۔
دنیا میں جو لوگ ہدایت سے دور ہیں حق قبول نہیں کرتے آخرت میں ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست و سفارش کرنے والا نہ ہوگا۔ رسول کا کام تو دعوت دینا اور واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ تاکہ اس کی دعوت قبول کر کے آخرت کی پکڑا اور عذاب سے محفوظ ہوجائیں لیکن اگر کوئی شخص اس ہدایت کو نہیں مانتا تو وہ اس کی اپنی حماقت ہے۔
میدان قیامت میں نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا ہوگا۔ اور اس وقت جو لوگ عذاب کی مصیبت میں گرفتار ہوں گے وہ چاہیں گے کہ کچھ دے دلا کر چھوٹ جائیں اول تو وہاں فدیہ یعنی جان کا بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہوگا اور بالفرض ہو بھی اور ہر طرح کا عوض دے کر جان چھڑانا چاہے تو کوئی عوض اور بدلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِے الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْھُمْ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) اور بھی کئی جگہ قرآن مجید میں اس مضمون کو بالتصریح بیان فرمایا ہے۔
پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْا) (کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب میں پھنس گئے) (لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ) (ان کے لیے پینا ہے گرم پانی سے) جو بہت گرم ہوگا۔ سورة محمد میں فرمایا (وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْماً فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا) ۔
فائدہ : مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو ایسی مجلسوں اور محفلوں میں جانا اور شریک ہونا ممنوع ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی یا رسول اللہ ﷺ کی یا کتاب اللہ کی یا دین خدا وندی کی یعنی اسلام کی تکذیب کی جاتی ہو یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ جن ملکوں میں مسلمان رہتے اور بستے ہیں ان میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور دشمنان اسلام اپنی اسلام دشمنی میں دین اسلام کا مذاق اڑانے اور رسول اللہ ﷺ اور کتاب اللہ کا تمسخر کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس کے لیے مجلسیں منعقد کرتے ہیں۔ ڈرامے تیار کرتے ہیں، مسلمانوں کو بھی شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
مسلمان جہالت اور حماقت سے ان میں شریک ہوجاتے ہیں اور ملنساری سمجھ کر گوارا کرلیتے ہیں اسی طرح بعض دشمنان اسلام ایسے مضامین اور ایسی کتابیں شائع کردیتے ہیں جن میں اسلام اور قرآن کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کالج اور یونیورسٹیوں کے بےعلم سٹوڈنٹس ریسرچ وغیرہ کے عنوان سے ان کو پڑھتے ہیں۔ حالانکہ ایسے اجتماعات میں شرکت اور ایسے رسائل کا پڑھنا حرام ہے۔ اپنے دین کا مذاق اپنے کانوں سے سننا یا اپنی آنکھوں سے ایسے رسائل پڑھنا نہایت بےغیرتی کی بات ہے اگر کہیں غلطی سے کسی ایسے اجتماع میں شرکت کرلی جس میں دین اسلام کی کسی بھی چیز کا استہزاء کیا جا رہا ہو تو علم ہوجانے پر اسی وقت وہاں سے اٹھ کر چلے جائیں اور (فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) پر عمل کریں۔
البتہ بعض ایسی صورتیں سامنے آجاتی ہیں کہ دشمنوں کی باتوں کا توڑ کرنا ضروری ہوتا ہے اور ان کو منہ توڑ جواب دینا لازم ہوتا ہے ایسی نیت سے وہاں پہنچنا جائز ہے مگر اسی شخص کے لیے جو ان کا جواب دے سکے۔
آج کل مصیبت یہ ہے کہ مسلمان اسلام کو تو پڑھتے ہی نہیں۔ بیس بیس سال دنیاوی علوم کی ڈگریاں حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں لیکن اسلام کے عقائد اور ارکان سے اور قرآن و حدیث اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس لیے دشمن کے اعتراضوں کو پیتے چلے جاتے ہیں ان کے جواب دینے سے عاجز ہوتے ہیں۔ اور بعض تو ان کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کے دلوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات جگہ پکڑ لیتے ہیں اور جہالت کی وجہ سے احساس کمتری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ دشمنوں کے اعتراض سنتے رہتے ہیں۔ اور کافروں پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔
ایسے لوگوں کے لیے بالکل اختلاط اور میل ملاپ حرام ہے۔ عجیب تر بات یہ ہے کہ اسلامیات کی ڈگری لینے مستشرقین کے پاس جاتے ہیں اور وہ ان کے سامنے اسلام پر اعتراض کرتے ہیں اور اعتراضات ہی کا سبق دیتے ہیں اور انہوں نے جو کچھ پڑھایا ہے اس کے مطابق جواب ملنے سے ڈگری ملتی ہے پھر مسلمان طلباء آکر اپنی باتوں کی تبلیغ کرتے ہیں جو دشمنان دین سے سیکھ کر آتے ہیں۔ ایسی یونیورسٹیوں میں داخل ہونا بالکل حرام ہے۔
Ayah 6:71صرف اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے
تفسیر درمنثور ج 2 میں نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اہل ایمان سے کہا کہ تم ہمارے راستہ کا اتباع کرلو اور محمد ﷺ کا راستہ چھوڑ دو ۔ اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا) نازل ہوئی۔
نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بطور مثال ایک شخص کی حالت بیان فرمائی ہے جو کہ راستہ سے بھٹک گیا اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے اسے صحیح راستہ کی طرف بلا رہے ہیں اور جنگل میں جہاں وہ راہ گم کرچکا تھا وہاں شیاطین بھی موجود ہیں انہوں نے اسے پریشان کر رکھا ہے وہ اسے اپنی خواہشوں پر چلانا چاہتے ہیں۔ اس حالت میں وہ حیران کھڑا ہے۔ اگر وہ شیاطین کی طرف جاتا ہے تو وہ ہلاکت میں پڑتا ہے۔ اور اگر اپنے ساتھیوں کی آواز پر جاتا ہے تو ہدایت پا جاتا ہے اور شیاطین سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
اہل ایمان کو کافروں نے واپس گمراہی کی طرف لوٹ جانے کی دعوت دی اور بت پرستی کی ترغیب دی۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ تم ان کو جواب دیدو کیا اللہ کو چھوڑ کر جو پوری طرح نفع و ضرر کا مالک ہے ہم ان کو پکاریں جو کچھ بھی نفع و ضرر نہیں دے سکتے اور کیا اللہ کی طرف سے ہدایت مل جانے کے بعد الٹے پاؤں واپس ہوجائیں ؟ ایسا نہیں ہوگا۔ خدا نخواستہ العیاذ باللہ ! اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری وہی مثال ہو جائیگی جیسے کوئی شخص جنگل میں راہ بھٹکا ہوا کھڑا ہو اسے شیاطین نے حیران و ہلکان کر رکھا ہو وہ اسے اپنی گمراہی میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھی اسے ہدایت کی طرف بلا رہے ہیں۔
خدا نخواستہ اگر ہم کافروں کی بات مان لیں تو ہماری وہی حالت ہوجائے گی جو اس حیران پریشان شخص کی حالت ہوتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
(قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی) (آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے) جب ہمیں اللہ نے ہدایت کی نعمت سے نواز دیا تو اب کفر و شرک کی طرف کیوں جائیں ؟ (وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (اور ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین ہی کے فرماں بردار رہیں)
Ayah 6:72(وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوْہُ ) ( اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز قائم کرو اور رب العالمین سے ڈرو) (وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) (اور وہی رب العالمین ہے جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے) جب اس کی بار گاہ میں حاضر ہوں گے اس وقت سب کے فیصلے ہوجائیں گے۔ ہم اس کی عبادت کو کیسے چھوڑ دیں اور اس کی توحید سے کیسے منہ موڑیں۔
Ayah 6:73پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اور ہمارا رب وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ یعنی بالکل ٹھیک طریقے پر پیدا فرمایا) (وَ یَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ) ( اور جس دن اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ ہوجا بس ہوجائے گا) یعنی قیامت کے دن کا حشر و نشر، کچھ بھی مستبعد نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کن فرما دینا ہی اس کے وجود میں آجانے کے لیے کافی ہے۔
(قَوْلُہُ الْحَقُّ ) (اس کا فرما دینا حق ہے) (وَ لَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ) ( اور جس دن صور پھونکا جائے گا ساری حکومت اسی کی ہوگی) کوئی بھی مجازی با اختیار باقی نہ رہے گا۔ (عٰلِمُ الْغِیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ ) (وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہری چیزوں گا) (وَ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ) (اور وہ حکمت والا، خبر رکھنے والا ہے) وہ حکمت کے مطابق اور اپنے علم کے مطابق جزا وسزا دے گا۔ اور صور پھونکے جانے میں تاخیر ہونا اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا صور پھونکنے کا حکم فرما دے گا۔
Ayahs 6:74–76چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ
حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و ( علیہ السلام) اپنے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے باپ ہیں ان کی قوم بابل کے آس پاس رہی تھی جو آج کل عراق کا ایک شہر ہے اس وقت وہاں کا بادشاہ نمرود نامی ایک شخص تھا وہ خدائی کا دعویدار تھا۔ ساری قوم بت پرست تھی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد جس کا نام آزر تھا وہ بھی بت پرست تھا اور ساری دنیا کفر و شرک میں مبتلا تھی۔ ایسے موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی وہ خالص موحد تھے۔ اللہ پاک کی توحید کی طرف انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو دعوت دی اور اس بارے میں انہوں نے بہت تکلیف اٹھائی۔ نمرود سے آپ کا مناظرہ ہوا۔ (جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت (اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْراھِیْمَ فِیْ رَبِّہٖ ) (میں گزر چکا ہے) اپنی قوم کو انہوں نے طرح طرح سے سمجھایا اور قائل کیا لیکن قوم نے ایک نہ مانی بت پرستی پر جمے رہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا۔ جس کا واقعہ سورة انبیاء (رکوع 5) میں اور سورة صافات (رکوع نمبر 3) میں مذکور ہے۔
اپنے والد سے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خطاب فرمایا یہاں اس کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِھَۃً ) (کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے) ( اِنِّیْٓ اَرٰیکَ وَ قَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں) سورة مریم میں ہے۔ (اِذْ قَلَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْءًا) (جبکہ ابراہیم نے کہا اے میرے باپ تم کیوں ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور تمہیں کوئی فائدہ نہ دے۔ )
اپنے باپ کو صراط مستقیم کی دعوت دی اور بتایا کہ شیطان کی عبادت نہ کرو اور یہ بھی فرمایا تم جس دین پر ہو اس پر قائم رہنے سے اللہ پاک کی طرف سے عذاب پہنچ جائے گا۔ ان کے باپ نے ساری سنی ان سنی کردی۔ اور کوئی بات نہ مانی اور سختی کے ساتھ جواب دیا کہ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَ اھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آجائے تو تجھے ضرور بالضرور سنگسار کر دوں گا۔ یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا اور تو مجھے چھوڑ کر بالکل ہی علیحدہ ہوجا)
Ayahs 6:77–79حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو مختلف عنوانات سے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اس کے ذیل میں ستارہ پرستوں سے بھی خطاب فرمایا۔ علامہ ابن کثیر دمشقی البدایہ والنہایہ ج 1 ص 401 میں لکھتے ہیں کہ دمشق اور اس کے آس پاس کے لوگ کو اکب سبعہ (سات ستاروں) کی عبادت کیا کرتے تھے۔ دمشق کے سات دروازے تھے اور وہاں میلے لگاتے تھے۔ اور بھینٹ اور نذرانے چڑھاتے تھے۔ (کو اکب سبعہ سے شمس۔ قمر۔ زحل۔ عطارد۔ مریخ۔ مشتری۔ اور زہرہ مراد ہیں) ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جو یہاں قرآن مجید میں مذکور ہے۔ اپنے علاقے سے ہجرت کرنے کے بعد دمشق کے آس پاس کہیں پیش آیا واقعہ یہ ہے کہ ان کو ایک چمکدار ستارہ نظر آیا صاحب روح المعانی ج 7 ص 198 نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ستارہ مشتری تھا اور حضرت قتادہ ؓ کی طرف یوں منسوب کیا ہے کہ یہ ستارہ زہرہ تھا۔ بہر حال جو بھی ستارہ ہو خوب چمکدار اور روشن تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے دیکھ لیا تو اس وقت جو ستارہ پرست موجود تھے ان سے بطور فرض بحیثیت ایک الزام دینے والے مناظر کے یوں فرما دیا کہ یہ میرا رب ہے خود تو موحد تھے غیر اللہ کو رب نہیں مانتے تھے لیکن ان کو آخر میں قائل کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا، وہ ستارہ کچھ دیر کے بعد چھپ گیا تو آپ نے فرمایا کہ چھپ جانے والوں اور غروب ہونے والوں سے میں محبت نہیں کرسکتا، جو چھپ گیا وہ کہاں اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے
ابھی صاف بات نہ کہی حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا۔ اس کے بعد چاند نظر آیا جو بہ نسبت ستاروں کے بڑا تھا اور خوب زیادہ روشنی والا تھا۔ اس کو دیکھ کر اسی پہلے انداز کے مطابق فرما دیا کہ یہ میرا رب ہے پھر وہ بھی غروب ہوگیا تو اس مرتبہ فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں گمراہوں میں سے ہوجاتا۔ جب ستارہ غروب ہوا تھا تو فرمایا تھا کہ میں چھپ جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ یعنی جو غائب ہوجائے اور ذاتی طور پر ایک حال پر باقی نہ رہ سکے میں اسے معبود نہیں مان سکتا، بات کو اپنے اوپر رکھ کر کہا جو گمراہوں کو دعوت دینے کا تبلیغی طریقہ ہے اس میں ان لوگوں پر تعریض تھی کہ تم لوگ عجیب ہو۔ جسے اپنے اوپر اختیار نہیں اس کو معبود بنائے ہوئے ہو، چونکہ پہلی مرتبہ ستارہ کے غروب ہونے پر وہ لوگ کسی درجہ میں قائل ہوچکے تھے اس لیے چاند کے غروب ہوجانے پر بات کا رخ بدل دیا۔
اس مرتبہ (لَا اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ) نہیں فرمایا بلکہ یوں فرمایا (لَءِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبّیِْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ) اس میں بھی بات کو اپنے اوپر رکھا اور فرمایا میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں گمراہوں میں سے ہوتا۔ اس میں اشارۃً یہ بیان فرما دیا کہ تم لوگ ستارہ پرستی کی وجہ سے گمراہ ہو پھر جب سورج نکلا وہ اپنی چمک اور روشنی میں ستاروں سے اور چاند سے بڑھ کر تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ میرا رب ہے یہ پہلے دونوں چمک دار ستاروں سے بڑا ہے۔ چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی دنیا میں رہتے تھے۔ اور روزانہ آفتاب کو بھی دیکھتے تھے۔ اور انہیں معلوم تھا کہ آفتاب سے بڑا دوسرا کوئی ستارہ اپنے وجود مادی اور چمک دمک کے اعتبار سے نہیں ہے، اور اس کے بعد کوئی بڑا ستارہ طلوع ہونے والا نہیں لہٰذا ان کے پاس تیسری مرتبہ ستارہ پرستوں کو قائل کرنے کا موقع تھا اس لیے سورج کے غروب ہونے کا انتظار فرمایا، جب سورج بھی غروب ہوگیا تو بہت زور دار طریقہ پر فرما دیا۔
(یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓ ءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ) (کہ اے میری قوم ! جن چیزوں کو تم شریک بناتے ہو میں ان چیزوں سے بری ہوں بیزار ہوں)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حاضرین کو بتایا کہ جن چیزوں کو تم معبود بناتے ہو کہ تم نے معبود حقیقی کی خدائی میں شریک کر رکھا ہے۔ تمہارا یہ طریقہ غلط ہے جن چیزوں کو تم پوچتے ہو یہ تو اسی خدا وحدہ لا شریک کی مخلوق ہیں جس کی مشیت اور ارادہ سے ان کا وجود ہے۔ اور جس کی مشیت و ارادہ سے یہ آتے جاتے ہیں نکلتے ہیں اور چھپتے ہیں۔
نیز یہ بھی بتادیا کہ میں شرک سے بری ہوں جس میں تم لگے ہوئے ہو تمہیں بھی شرک سے بیزار ہوجانا چاہئے۔ کیونکہ خالق جل مجدہ کے علاوہ کسی کو پوجنا راہ ہدایت کے خلاف ہے۔ اس بات کی طرف (لَءِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبّیِْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ) فرما کر اشارہ کرچکے تھے۔ کنایہ اور اشارہ کے بعد تصریح کا راستہ اختیار فرمایا اور واضح طور پر فرما دیا کہ (اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) میں نے اپنا رخ پھیر دیا اس ذات پاک کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ میں باطل معبودوں کی طرف متوجہ نہیں ہوں میں ان سے منہ موڑے ہوئے ہوں اور شرک کرنے والا نہیں ہوں۔
Ayah 6:80قوم کی حجت بازی کا جواب :
باوجود یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ پرستوں کو دلیل سے عاجز کردیا۔ اور بتادیا کہ جس کے قبضہ قدرت میں ان چھوٹے بڑے ستاروں کا تصرف ہے جس کے حکم سے یہ طلوع غروب ہوتے ہیں صرف وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور کسی بھی مخلوق کی عبادت کرنا یہ خالق ومالک کے ساتھ شرک کرنا ہے جو عقلی طور پر بھی بد ترین چیز ہے، اور اپنے بارے میں موحد ہونے اور شرک سے بیزار ہونے کا اعلان فرما دیا تب بھی ان کی قوم نے حجت بازی جاری رکھی۔ وہ کہنے لگے کہ تم کیسے کہتے ہو یہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں۔ ہم تو اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھتے آئے ہیں، تم ہم سے ہمارا دین چھڑوانا چاہتے ہو۔ حالانکہ تم کو بھی ہمارے دین میں آجانا چاہیے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا (اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰہِ وَ قَدْ ھَدٰینِ ) (کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت دی) جب مجھے ہدایت مل گئی جس کو میں پوری طرح بصیرت سے ہدایت سمجھتا ہوں تو اب معبود حقیقی کو کیسے چھوڑ دوں اسی نے مجھے ہدایت دی ہے اور اسی سے میں ہر طرح کی خیر کی امید رکھتا ہوں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے معبود سے ڈرایا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر فرما دیا کہ (وَ لَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ) (کہ جن چیزوں سے مجھ کو ڈراتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا) یہ تو خود بےجان ہیں۔ نفع و ضرر کے مالک نہیں۔
مزید فرمایا (اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْءًا) (تمہارے یہ معبود ان باطلہ تو کچھ بھی ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکتے ہاں میرا رب ہی اگر چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی نقصان یا تکلیف پہنچ جائے۔ میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ (اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ ) (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے) دلیل سے عاجز ہوجانے کے بعد اور یہ جاننے کے بعد کہ تمہارے معبود ان باطلہ کچھ نفع اور ضرر نہیں پہنچا سکتے شرک پر اڑے ہوئے ہو تمہاری سمجھ میں آجانا چاہئے اور تمہیں نصیحت قبول کرنی چاہیے۔
قال صاحب الروح ج 7 ص 205 ای اتعر ضون بعد ما او ضحتہ لکم عن التامل فی ان اٰلھتکم بمعزل عن القدرۃ علی شی ما من النفع اور الضرر فلا تتذکرون انھا غیر قادرۃ عَلیٰ اضراری۔
Ayah 6:81پھر فرمایا (وَ کَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ ) میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے۔ (وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا) (حالانکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنا لیا جن کے شریک ہونے کی اللہ نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی) تمہارے معبود تو بےقدرت ہیں۔ میں ان کی طرف سے بےخوف ہوں اور پر امن ہوں۔ میں ان سے کیوں ڈروں۔ تم پر لازم ہے کہ معبود حقیقی سے ڈرو جسے نفع و ضرر پہنچانے کی پوری قدرت ہے۔ اور تم نے اس کے جو شریک تجویز کرلیے ہیں یہ سب اپنے پاس سے تجویز کیے ہیں جس کی کوئی سند اور دلیل اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اپنی اس حرکت بد کی وجہ سے تمہیں معبود حقیقی سے ڈرنا لازم ہے۔
قال صاحب الروح ج 7 ص 202 ای کیف اخاف انا مالیس حیز الخوف اصلاً و انتم لا تخافون غائلۃ ماھو اعظم المخوفات و اھو لھا و ھو اشرا ککم باللہ تعالیٰ الذی فطر السَّمٰوٰت والارض ماھو من جملۃ مخلوقاتہ۔
(فَاَیُّ الْفَرِیْقِیْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (سو دونوں فریقوں میں کون سا فریق امن کا مستحق ہے اگر تم جانتے ہو) ۔
مطلب یہ ہے کہ میں تو معبود حقیقی کا پر ستار اور عبادت گزار ہوں اور تم نے اس کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں تم غور کرلو کہ لائق امن وامان کون ہے میں ہوں یا تم ہو ؟ مجرم تو تم ہو شرک کرتے ہو اور معبود حقیقی سے نہیں ڈرتے اور مجھے باطل معبودوں سے ڈراتے ہو اپنی صحیح سمجھ سے کام لیتے تو تمہارا علم تمہیں صحیح راہ پر ڈال دیتا۔
Ayah 6:82پھر فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓءِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) حضرت ابراہیم اور ان کی قوم کے ساتھ ان کا مکالمہ اور مباحثہ بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مستقل قانون بتادیا اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم یعنی شرک کی ملاوٹ نہ کی تو ان کے لیے امن کی ذمہ داری ہے اور ان کے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ امن سے رہیں گے اور یہ بھی طے شدہ ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اہل ایمان کے بارے میں با امن ہونے کی بشارت دیدی جو ایمان اللہ کے ہاں معتبر ہے اس کے علاوہ جو عقائد و اعمال ہوں ان کے بارے میں کوئی کیسا ہی ہدایت پر ہونے کا دعوے دار ہو وہ ہدایت پر نہیں۔ اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو خدا کو مانتے ہیں لہٰذا ہم بھی عذاب سے بےخوف ہونے کے مستحق ہیں۔ اور ہدایت پر ہیں اس آیت میں جواب دیدیا کہ ان لوگوں کو اللہ کو ماننا اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں ہے جو اپنے ایمان میں شرک کو ملاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ ایمان معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور آخرت کے دن پر اور ان تمام چیزوں پر ایمان لائے جو اللہ نے اپنے نبیوں کے ذریعہ بتائی ہیں خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے بعد تو آپ پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayah 6:83حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کی اقتدا کرنے کا حکم
اوپر حجت بیان کی جو ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ پرستوں کو پیش کی اور انہیں بتایا کہ غروب ہونے والا معبود نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ میں تمہارے معبود ان باطلہ سے نہیں ڈرتا۔ یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتادی اور ان کے دل میں ڈال دی۔ جس سے انہوں نے قوم کو سمجھایا اور قائل کردیا اور جواب سے عاجز کردیا۔ (وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے اس کے بعد فرمایا۔
(نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ) (ہم درجات کے اعتبار سے جس کو چاہیں بلند کردیتے ہیں) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سب ہی درجات عالیہ والے تھے اور ان میں اللہ پاک نے بعض کو بعض پر رفعت و فضیلت دی ہے جیسا کہ (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ ) میں بیان فرمایا ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) بلند درجات والے تھے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائیں اور اپنی قوم سے بڑے بڑے مقابلے کیے اور نمردو کے ساتھ بحث و مناظرہ کیا جس سے وہ لا جواب ہو کر رہ گیا۔ اور ان کے بعد جتنے بھی انبیاء اکرام (علیہ السلام) تشریف لائے سب ان کی نسل میں سے ہیں آپ ابو الانبیاء ہیں۔ صلی اللہ علیہ و علی جمیع الانبیاء والمرسلین
Ayah 6:84حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذکر کے بعد ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب ( علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور فرمایا (کُلًّا ھَدَیْنَا) کہ ہم نے ان سب کو ہدایت دی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خود اپنی اولاد کو تعلیم دی۔ ان حضرات نے اس کو اپنایا اور باقی رکھا اور اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔
پھر فرمایا (وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ ) اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی، حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے زمانہ کے طوفان میں ہلاک ہونے کے بعد زمین پر جو دو بارہ آبادی ہوئی وہ ان کی اولاد سے پھیلی، روح المعانی ج 7 ص 211 بحوالہ معجم طبرانی حضرت ابوذر ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ انبیاء کرام میں سب سے پہلے کون تھے ؟ تو فرمایا نوح (علیہ السلام) تھے ان کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس قرن کا فاصلہ تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو جو سب سے پہلا نبی بتایا تو یہ اولیت اضافیہ پر محمول ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے نبی ہونے کی تصریح حدیث میں موجود ہے۔ (مشکوٰۃ ص 513)
حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام جو نوح مشہور ہے اس کو بعض حضرات نے عجمی یعنی غیر عربی بتایا ہے۔ علامہ کرمانی نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ سریانی زبان کا ہے اس میں اس کا معانی ساکن کا ہے لیکن حاکم نے مستدرک میں فرمایا کہ ان کا نام عبدالغفار تھا اور ان کا نام نوح اس لیے مشہور ہوا کہ وہ خوف و خشیت کی وجہ سے اپنے نفس کے بارے میں زیادہ رونے والے تھے۔
اگر نوح لفظ عجمی ہو تو اس لیے غیر منصرف نہ ہوا کہ متحرک الاوسط نہیں ہے۔ پھر فرمایا (وَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ ) اور ابراہیم کی ذریت سے ہم نے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو طریق حق کی ہدایت کی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) وہی ہیں جنہوں نے جالوت کو قتل کیا تھا اور اللہ نے ان کو نبوت اور حکومت عطا فرمائی تھی، ان کے بعد ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) بادشاہ ہوئے اور نبی بھی۔ انہوں نے بیت المقدس کی تعمیر کی تھی، اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں ابن جریر نے کہا تھا کہ وہ ابن موص بن روم بن عیص بن اسحاق تھے۔
اس اعتبار سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے جدرابع ہوئے۔ مورخ ابن عسا کر سے منقول ہے کہ ان کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) تو مشہور ہی ہیں۔ وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑپوتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ (رواہ البخاری ج 1 ص 497)
پھر حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ان دونوں کا تذکرہ قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے اس کی تصریح قرآن مجید میں موجود ہے۔ (ھارُوْنَ اَخِی اشْدُوْبِہٖٓ اَذْرِیْ ) لیکن حقیقی بھائی تھے یا ماں شریک اس میں دونوں قول ہیں۔ موسیٰ اور ہارون دونوں غیر عربی لفظ ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ان کو بچپن میں درختوں کے درمیان ڈال دیا گیا تھا جہاں پر پانی بھی تھا۔ قبطی زبان میں پانی کو مُوْ اور درخت کو شأ کہا جاتا ہے اس لیے ان کو مُوْشیٰ کہا جانے لگا پھر عربی میں ش، س سے بدل گیا چونکہ الف مقصورہ کی صورت میں لکھا اور پڑھا جاتا ہے اس لیے اس پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ قانون نحوی کے اعتبار سے غیر منصرف ہونا چاہیے۔ لفظ ہارون کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ عبرانی زبان میں اس کا معنی مُحِبٌّ کا ہے یعنی جو سب کو محبوب ہو۔
اس کے بعد فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) ( اور اسی طرح ہم اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں) ۔ یعنی جیسے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اور ان کے بعد والے حضرات کو نوازا اور ان کے اعمال پر ان کو اچھا بدلہ عطا کیا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں اور ہماری یہی عادت ہے۔ (روح المعانی بزیادۃ)
Ayah 6:85اس کے بعد فرمایا (وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ ) یہ بھی وَ وَ ھَبْنَا کے ماتحت ہے یعنی یہ حضرات بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذریت سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نبوت سے سر فراز فرمایا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد تھے۔ اور انہوں نے اللہ پاک سے دعا کی تھی کہ مجھے ذریت طیبہ عطا فرمائیں۔ باوجود ان کے بیوی کے بانجھ ہونے کے اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا جس کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ہی کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ مریم بتول بھی ان کی والدہ کے دعا مانگنے پر پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نذر مانی تھی کہ میرے لڑکا پیدا ہوا تو میں بیت المقدس کی خدمت میں لگا دوں گی لیکن وہ لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مریم رکھا اور یہ لڑکی جلدی جلدی بڑی ہوتی چلی گئی۔ اور پھر اس کے بطن سے بغیر کسی مرد کے واسطہ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ یہ سارا واقعہ سورة آل عمران کے چوتھے پانچویں رکوع میں گزر چکا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی بنی اسرائیل میں سے تھے اور ان کا یہ نسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے صرف والدہ کے توسط سے ملتا ہے۔ اس اعتبار سے وَ مِنْ ذُرِیَّتِہٖ کے عموم میں وہ بھی شامل ہیں اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ ذریت کا لفظ بیٹیوں کی اولاد کو شامل ہے و فیہ خلاَفٌ بین العلما۔ (راجع روح المعانی) حضرت عیسیٰ کے بعد حضرت الیاس کا ذکر فرمایا ان کو بعض حضرات نے حضرات اسماعیل کی اولاد میں سے بتایا ہے۔
پھر فرمایا (کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (یہ حضرات صالحین میں سے تھے)
یعنی صالحیت میں کامل تھے ہر وہ کام کرنا جس کا کرنا مستحسن ہو اور ہر اس کام سے بچنا جس سے بچنے کا حکم ہو یہ سب صالحیت کے مضمون میں شامل ہے۔
Ayah 6:86سب سے بڑے صالحین حضرات انبیاء (علیہ السلام) ہیں۔ پھر فرمایا (وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا) اگر اس کو (وَ مِنْ ذُرِّیَتِہٖ ) کے بعد ذکر کیے جانے والے حضرات پر معطوف کیا جائے تو یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں تھے۔ نیز حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے نہیں تھے۔
اس اشکال کے رفع کرنے کے لیے یہاں اَرْسَلْنَا یا بَعَثْنَا یا ھَدَیْنَا محذوف مان لینے سے اشکال ختم ہوجاتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ اور ان کی نسل سے سیدنا محمد ﷺ تھے۔ جن کے لیے حضرت ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں نے یوں دعا کی تھی (رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مّنْھُمْ ) (الآیۃ) ۔ حضرت اسماعیل کے بعد اَلْیَسَعَ کا تذکرہ فرمایا۔ ان کو ابن اخطوب بن العجوز بتایا گیا ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کلمہ عجمی ہے اس پر الف لام خلاف قیاس داخل ہوا۔ وقرء حمزۃ و الکسائی اللَّیْسَعْ علیٰ وٖزنۃِ ضَیْغَم، اور ایک قول یہ ہے کہ یوشع کا معرب ہے۔ وَ اللہ تعالیٰ اَعلم
حضرت یونس (علیہ السلام) کے والد کا نام متی تھا یہ نینویٰ علاقہ کے رہنے والے تھے اور وہاں کے رہنے والوں کی طرف میراث ہوئے تھے۔ ان کا تذکرہ سورة انبیاء (ع 6) میں اور سورة صافات (ع 5) میں اور سورة نون و القلم (ع 2) میں قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ہم اس کو انشاء اللہ سورة صافات کی تفسیر میں بیان کریں گے۔ پھر حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا آپ لوط بن ہاران بن آزر ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی کے بیٹے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت پر انہوں نے بھی لبیک کہا اور ان کے ساتھ اپنے وطن سے ہجرت کر کے ملک شام میں تشریف لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نبوت سے سر فراز فرمایا اور چند بستیوں کی طرف معبوث فرمایا جن کا تذکرہ سورة اعراف (رکوع نمبر 9) میں اور سورة شعراء وغیرہ میں فرمایا ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة اعراف کا مطالعہ فرمائیں۔
پھر فرمایا (وَ کُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) اور ہم نے ان سب کو جہانوں پر فضیلت دی۔ چونکہ خاتم النّبیین ﷺ ان سب سے افضل ہیں اس لیے مفسرین لکھتے ہیں علی عالمی عصر ھم یعنی اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت انبیاء (علیہ السلام) فرشتوں سے افضل ہیں۔
Ayah 6:87پھر فرمایا (وَ مِنْ اٰبَآءِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِھِمْ ) یعنی اوپر جن حضرات کا ذکر ہوا ان کے آباء اور ان کی ذریتوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سوں کو ہدایت ہوئی۔ یہ معنی اس صورت میں ہے جبکہ ھَدَیْنَ محذوف مانا جائے اور فَضَّلْنَا سے بھی متعلق ہوسکتا ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ ان حضرات کے آباء اور ذریات اور اخوان میں سے بھی بہت سوں کو فصیلت دی۔
قال صاحب الروح و من ابتدائیۃ و المفعول محذوف ای و ھدینا من اٰباءھم وابناءِ ھم و اخوانھم جماعات کثیرۃ او معطوف علی کلافضلنا و من تبعیضیۃ أی فضلنا بعض اٰباءِ ھم الخ
پھر فرمایا (وَ اجْتَبَبْنٰھُمْ وَ ھَدَیْنٰھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) (اور ہم نے ان کو چن لیا اور ان کو ہدایت دی) اس میں مضمون سابق کی تقریر اور تاکید ہے۔
Ayah 6:88پھر فرمایا (ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) یہ صراط مستقیم کی ہدایت اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کی ہدایت فرما دے، اس میں یہ بتایا کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے کسی کو زعم نہیں ہونا چاہئے کہ میں صاحب ہدایت ہوں۔ حضرات انبیاء ہوں یا اولیاء سب اللہ تعالیٰ ہی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں سب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور صراط مستقیم پر باقی رکھا۔
پھر فرمایا (وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل کیا کرتے تھے وہ سب ثواب کے اعتبار سے باطل ہوجاتے) کیونکہ شرک اور کفر تمام اعمال کو باطل کردیتا ہے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے شرک اور کفر کا صدور نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ان سے گناہ بھی سرزد نہیں ہوتے کیونکہ وہ معصوم ہیں، بطور فرض یہ بات فرمائی اور اس سے دوسروں کو سبق مل گیا کہ جب انبیاء کرام (علیہ السلام) کا یہ حال ہے تو دوسرا کوئی شخص جو مشرک ہوگا اس کے اعمال صالحہ (جو بظاہر دیکھنے میں اعمال صالحہ ہیں) کا ثواب کیسے مل سکتا ہے۔ کافر اور مشرک کے اعمال باطل ہیں اور اگر کسی نے اسلام کے زمانہ میں اعمال کیے اور پھر مرتد ہوگیا تھا اس کے اعمال بھی باطل ہیں۔