6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جو بھی کوئی جانور زمین میں چلنے والا ہے اور جو بھی کوئی پرندہ ہے جو اپنے بازوؤں سے اڑتا ہے یہ سب تمہاری ہی طرح کی امتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔

چوپائے اور پرندے تمہاری طرح امتیں ہیں اللہ سب کو محشور فرمائے گا ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ زمین پر جو بھی چلنے والے چلتے ہیں اور جو پرندے اپنے بازوؤں سے اڑتے ہیں سب تمہاری طرح کی امتیں یعنی مختلف جماعتیں ہیں۔ ان کے احوال محفوظ ہیں۔ ان سے متعلقہ امور مقرر ہیں ان کی جو مصلحتیں ہیں ان کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں سب کو اللہ کی تقدیر اور تدبیر شامل ہے۔ قال صاحب الروح امم امثالکم فی ان احو الھا محفوظۃ و امور ھامعینۃ و مصالحھا مرعیۃ جاریۃ علی سنن السداد منتظمۃ فی سلک التقدیرات الالھۃ وَالتدبیرات الربانیۃ۔ (ج 7 ص 143) پھر فرمایا (مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ ) (ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی) لوح محفوظ میں ساری کائنات اور اس کے احوال لکھے ہوئے ہیں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جو نہ لکھی گئی ہو، جو جانور اور پرندے موجود ہیں اور آئندہ ہونگے تقدیر ان سب کو بھی شامل ہے۔ انسان اور جنات جو مکلف ہیں تقدیر صرف انہی پر مشتمل نہیں۔ بلکہ دوسری مخلوق کو بھی شامل ہے۔ پھر فرمایا (ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ یُحْشَرُوْنَ ) (پھر اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے) یعنی موت کے بعد قیامت کے دن سب جمع ہوں گے اور پھر اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، معاندین ایسے معجزات کی فرمائش کرتے تھے جن کو اپنے پاس سے تجویز کرتے تھے اور موت کے بعد زندہ ہونے کے بھی منکر تھے اور ان کو یہ اشکال ہوتا تھا کہ اتنی مخلوق ہے اور اتنے انسان ہیں یہ سب مریں گے پھر جیئیں گے ان کی یادداشت کیسے رہے گی۔ اس کا استبعاد رفع فرما دیا کہ نہ صرف سارے بنی آدم بلکہ جتنی بھی مخلوق ہے چرند پرندے تمام چوپائے حیوانات سب تمہاری طرح سے امتیں اور جماعتیں ہیں اور سب لوح محفوظ میں مندرج ہیں اور اس کی تعداد بنی آدم سے بہت زیادہ ہے۔ لوح محفوظ میں اندراج سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہیں ہے۔ تمہارا اور ان سب کا زندہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ خالق اللہ شانہٗ کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی ایک ایک فرد کا اسے علم ہے وہ ساری مخلوق سے پوری طرح باخبر ہے۔ یاد رکھنے کے لیے اسے لکھنے کی ضرورت نہیں پھر بھی سب کچھ کتاب میں لکھ دیا ہے۔ جو قومیں مکلف ہیں انسان اور جنات ان کا تو حساب ہونا ہی ہے۔ جانوروں کو بھی آپس میں بدلے دلائے جائیں گے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم ضرور بالضرور اہل حقوق کے حقوق ادا کرو گے یہاں تک کہ بےسینگوں والی بکری کو سینگوں والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ (اگر سینگ والی نے اسے دنیا میں مارا ہوگا) (رواہ مسلم ج 2 ص 320)
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے ہیں گونگے ہیں، اندھیروں میں ہیں۔ اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستے ڈال دے۔

تکذیب کرنے والے بہرے اور گونگے ہیں : پھر فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا گونگے اور بہرے ہیں اندھیروں میں ہیں) کفر کی تمام انواع کے اعتبار سے الظلمت (اندھیریاں) جمع کے صیغہ کے ساتھ فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہل کی ظلمت اور عناد کی ظلمت اور تقلید باطل کی ظلمت مراد ہو۔ کما قال صاحب الروح۔ (مَنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضْلِلْہُ ) (جسے اللہ چاہے گمراہ کرے) (وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) (اور جسے چاہے صراط مستقیم پر ڈال دے) اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ کے ذمہ جو کام ہے کرتے رہیں یعنی حق کی دعوت دیتے رہیں۔ ہدایت دینا اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے آپ کے ذمہ ہدایت دینا نہیں ہے آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ تم بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تمہارے پاس قیامت آجائے کیا اللہ کے سوا کسی کو پکارو گے اگر تم سچے ہو،

مصیبت میں صرف اللہ کو پکارتے ہو : اس کے بعد ارشاد فرمایا (قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (کہ آپ ان سے دریافت فرمائیے کہ تم لوگ جو توحید سے ہٹ رہے ہو اور شرک پر جمے ہوئے ہو۔ اگر تمہارے پاس عذاب دنیاوی پہنچ جائے یا قیامت آجائے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ ) ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ جب مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہو اور صرف اسی سے دفع مصائب کا سوال کرتے ہو۔ اس وقت معبود ان باطلہ کو بھول جاتے ہو۔ اگر تم سچے ہو کہ معبود ان باطل کی عبادت سے نفع پہنچتا ہے تو ان کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف آڑے وقت میں کیوں متوجہ ہوتے ہو، معلوم ہوا کہ یہ جھوٹے معبود جو تم نے بنا رکھے ہیں کسی بھی نفع اور ضرر کے مالک نہیں پھر ان کو پکارنا اور ان کی عبادت محض حماقت نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟
Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ تم اسی کو پکارتے ہو پھر وہ اگر چاہے تو اس مصیبت کو دور کردیتا ہے جس کی طرف تم اسے پکارتے ہو۔ اور تم جو شرک کرتے ہو اسے بھول جاتے ہو

پھر فرمایا (بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) بلکہ تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر وہ اس مصیبت کو دور کردیتا ہے جس کے دور کرنے کے لیے اسے پکارا اگر وہ چاہتا ہے، اور مصیبت کے وقت ان کو بھول جاتے ہو جن کو شریک ٹھہراتے ہو۔
Ayahs 6:42–44

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے سو ہم اس کو سختی کے ذریعہ اور تکلف کے ذریعہ پکڑا تاکہ وہ عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

سو کیوں انہوں نے عاجزی نہ کی جب ان پر ہمارا عذاب آیا، لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھلایا۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

سو جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترائے جو ان کو عطا کی گئی تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا۔ سو اس وقت ناامید ہو کر وہ گئے،

سابقہ امتوں کا تذکرہ جو خوشحالی پر اترانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں ان آیات میں پچھلی امتوں کا حال بتایا اور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ہم نے ان کے پاس بھی اپنے رسول بھیجے انہوں نے ان کو جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کو سختی اور دکھ تکلیف کے ذریعہ پکڑ لیا لفظ (بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) کے عموم میں وہ سب تکلیفیں داخل ہیں جو عام طور پر اہل دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر وقتاً فوقتاً پہنچتی رہتی ہیں۔ قحط، بھوک، مہنگائی، وبائی امراض جانوں اور مالوں کا نقصان یہ سب چیزیں ان دونوں لفظوں کے عموم میں آجاتی ہیں۔ جب ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی تاکہ عاجزی کریں اور گڑگڑائیں اور اپنے کفر سے توبہ کریں تو وہ الٹی چال چلے اور بجائے تضرع وزاری کے اور توبہ اور عاجزی کے اپنی گمراہی اور معصیت میں ہی لگے رہے ان کے دل سخت ہوگئے۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا اور بتایا کہ تم جس طریقہ پر ہو یہ خوب اور بہتر ہے۔ جب مصائب اور تکالیف کے باو جود حق کو اختیار نہ کیا اور کفر سے باز نہ آئے اور حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی تعلیم اور تبلیغ کو بھول بھلیاں کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یعنی بہت زیادہ نعمتیں دیدیں اور مال و متاع سے نواز دیا۔ خوب آرام و راحت سے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے نعمتوں پر اترانے لگے اور ایسے اترائے کہ نعمتیں دینے والے کو بھول ہی گئے۔ یعنی یہ خیال ہی نہ رہا کہ جس ذات پاک نے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اس کے حضور میں جھکیں جب یہ حال ہوگیا تو اللہ پاک نے اچانک ان کی گرفت فرمائی اور عذاب میں مبتلا فرما دیا۔ اور اب بالکل ہی رحمت سے ناامید ہوگئے۔ اور اس طرح سے ظالموں کی جڑ کٹ گئی اور ان کا کوئی فرد باقی نہ رہا۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

سو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

(وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِنْنَ ) (سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے) اس نے دکھ تکلیف میں مبتلا کرکے رجوع کرنے کا موقع دیا پھر نعمتوں سے نوازا لیکن وہ کسی طرح باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے موافق ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری امت پیدا فرما دی۔ ایک امت ہلاک ہوئی تو دوسری امت نے وہی طرز اختیار کیا جو ان سے پہلی امت کا تھا۔ شکر کا مطلب اور شکر کی اہمیت : کسی فرد یا جماعت کے پاس جو بھی کوئی نعمت ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھے اور اس کا شکر گزار ہو اور اپنے اعضاء وجوارح کو بھی فرماں برداری میں لگائے اور نافرمانی سے بچائے تاکہ صحیح معنوں میں شکر گزار بن جائے۔ اگر کسی فرد یا قوم یا جماعت کے پاس کوئی نعمت ہو تو نہ اس پر اترائے اور نہ نعمت دینے والے کو بھولے۔ اور نہ نافرمانی اختیار کرے، اصل نعمت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہو۔ اور گنہگاری ہو تو وہ نعمتیں، نعمتیں نہیں رہتیں کیونکہ ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ وہ گرفت اور عتاب و عذاب کا سبب بن جاتی ہے۔ نعمتیں ہوں اور ان کے ساتھ اعمال صالحہ ہوں تو یہ اللہ کا مقبول بندہ ہونے کی دلیل ہے اگر نعمتیں ہوں اور نافرمانی ہو اور یہ سمجھے کہ میں اللہ کا مقرب بندہ نہ ہوتا تو یہ نعمتیں مجھے کیوں ملتیں۔ یہ حماقت اور بےوقوفی کی بات ہے جو اللہ تعالیٰ کے نظام تکوینی سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی محبوب چیزیں دے رہے ہیں تو یہ استدراج ہے (جس کا معنی یہ ہے کہ ڈھیل دے کر نعمتیں عطا فرما کر اسے گناہوں میں ترقی کا اور زیادہ موقع دیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ وہ عذاب میں مبتلا ہو) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آیت بالا (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ ) آخر تک تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 443) یہ انسان کی کیسی ناسمجھی ہے کہ نہ نعمت سے صحیح راہ پر آتا ہے اور نہ نقمت اور عذاب سے عبرت حاصل کرتا ہے۔ سورة اعراف میں فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَھْلَھَا بالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُوْن ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً وَّ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ) (اور ہم نے جس کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف کے ذریعہ ضرور پکڑاتا کہ وہ لوگ گڑگڑائیں۔ پھر ہم نے بدل دیا سختی کو آسانی سے یہاں تک کہ وہ زیادہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادوں کو بھی تکلیف اور خوشی پہنچی ہے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ بیخبر تھے) ۔ مصائب اور آفات سے عبرت لینے کی بجائے گناہوں پر اصرار کرتے رہنا اور عبرت لینے کی بجائے یہ کہہ کر خود فریبی میں مبتلا ہونا یہ تو دنیا میں ہوتا ہی رہتا ہے ہمارے آباؤ و اجداد بھی دکھ تکلیف میں مبتلا ہوئے اسی طرح ہم پر بھی مصیبت آگئی ہے یہ اور زیادہ حماقت کی بات ہے مصائب کا سبب گناہوں کو نہ سمجھنا اور گناہوں پر اڑے رہنا اور یہ کہنا کہ یہ تو دنیا میں ہوتا ہی آیا ہے بڑی بد بختی ہے۔ اَ عَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ ذَالِکَ فرح محمود اور مذموم : فرح عربی میں خوش ہونے کو کہتے ہیں اور اس کی دو صورتیں ہیں ایک اس بات کی خوشی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو نعمت عطا فرمائی کرم فرمایا مہربانی فرمائی، اور پھر زبان اور قلب کے اقرار اور شکر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کے کاموں میں لگے رہیں۔ یہ فرح اور خوشی محمود ہے۔ سورۂ یونس میں فرمایا (قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ) (آپ فرمایا دیجیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں) اور فرح کی دوسری صورت یہ ہے کہ نعمتوں پر اترانے لگے۔ خالق کو یاد نہ کرے نعمتوں میں مست ہوجائے اور یہ سمجھے کہ یہ سب چیزیں میرے ہنر سے حاصل ہوئیں۔ اور یہ جو (فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا) فرمایا اس سے یہی اترانے والا، نعمتیں دینے والے کو بھلا دینے والا فرح مراد ہے قارون کی قوم نے اس سے کہا (لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِینَ ) (کہ تو مت اترا بیشک اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا) اس پر قارون نے جواب میں کہا (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ مجھے جو کچھ ملا ہے میرے علم ہی کی وجہ سے ملا ہے) دینے والے کو بھولا، اپنے کمال کا مدعی ہوا۔ لا محالہ اپنے گھر سمیت زمین میں دھنسایا گیا مالداری اور تنگدستی کے ذریعہ آزمائش ہوتی ہے تنگ دستی میں راہ حق پر اور اعمال صالحہ پر باقی رہنا اور گناہوں سے بچنا اتنا مشکل نہیں جتنا کہ مالداری میں حق پر جمنا اور دین پر چلنا دشوارہوتا ہے۔ حضرت کعب بن عیاض ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 2 ص 442) حضرت عمرو بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے بارے میں تنگ دستی کا خوف نہیں لیکن مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خوف ہے کہ دنیا خوب دے دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو دے دی گئی تھی پھر تم اس کی رغبت میں آپس میں مقابلہ کرنے لگو جیسے ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا پھر وہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں کردیا۔ (رواہ البخاری ج 1 ص 951 و مسلم ج 2 ص 407)
Ayahs 6:46–49

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اگر اللہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تم کو یہ چیزیں دیدے۔ دیکھ لیجیے ! ہم کس طرح دلائل بیان کرتے ہیں پھر وہ اعراض کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے بیخبر ی میں یا خبر داری میں تو کیا ظالموں کے علاوہ اور کوئی ہلاک کیا جائیگا۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے بھیجتے رہے ہیں۔ سو جو شخص ایمان لایا اصلاح کرلی سو ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے آیات کو جھٹلایا ان کو اس سبب سے عذاب پہنچ جائے گا کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

اگر اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے کی قوت سلب فرما لے تو کون دینے والا ہے ان آیات میں انذار اور تبشیر ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوت کو ختم کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے جس سے نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو بتاؤ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں دیدے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا ایسا کوئی نہیں۔ پھر اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر کو معبود بناناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک بیخبر ی میں بھی آسکتا ہے اور خبر داری میں بھی۔ اگر عذاب آجائے تو ظالم ہی ہلاک ہوں گے لہٰذا ظلم کرنے والے ظلم سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر ہے اس کو بھی چھوڑ دیں اور دوسرے مظالم سے بھی رک جائیں پھر فرمایا کہ پیغمبروں کو خوش خبری کے لیے اور ڈرانے کے لیے بھیجا جاتا رہا ہے ان کی بشارت کو جس نے قبول کیا اور ان کی بتائی ہوئی وعیدوں پر یقین کر کے جس نے نا فرمانیوں کو چھوڑا ایمان قبول کیا اور اپنے احوال و اعمال کو درست کیا سو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ انہیں کوئی غم ہوگا اور جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور نبیوں کی دعوت پر ایمان نہ لائے ان کو نافرمانی کی وجہ سے عذاب پہنچے گا۔
Ayahs 6:50–51

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں غیب کو جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو اسی کا ابتاع کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ آپ فرما دیجیے کیا برابر ہوسکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا کیا تم غور نہیں کرتے

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور آپ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کیے جائینگے کہ نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا تاکہ یہ لوگ ڈر جائیں

نبوت کے لوازم میں مالدار یا غیب دان ہونا نہیں ہے : لوگ یہ سمجھے تھے کہ نبی مال و دولت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ ہونا چاہئے۔ چونکہ اہل دنیا کے نزدیک دنیا ہی بڑی چیز ہے اس لیے نبوت اور رسالت کا مدار بھی مال زیادہ ہونے پر سمجھتے تھے ایسے لوگوں کی جاہلانہ بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ ) (آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں) خزانے پاس ہونا نبوت و رسالت اور مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں ہے۔ جس بات کی دعوت دی جا رہی ہے اس میں غور کرو اور دلائل کر سمجھو جو اثبات رسالت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ مالدار ہونے کو نبوت کا معیار بنانا جاہلانہ بات ہے۔ کچھ لوگ یوں کہتے تھے کہ غیب کی باتیں بتاؤ تو ہم آپ کو سچا جانیں ان کو بھی جواب دیدیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے اعلان کرا دیا کہ (وَ لَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ ) (میں غیب نہیں جانتا ہوں) غیب کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے وہ جس کو جتنا چاہے عطا فرما دے اور غیب دانی نبوت و رسالت کی یا مقبولیت عنداللہ کی شرط نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کو آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ مرشدین صالحین اور مصلحین سے رجوع نہیں کرتے کیونکہ وہ لوگ غیب کی خبریں نہیں بتاتے، اور جو شعبدے باز گدیاں سنبھالے بیٹھے ہیں اٹکل پچو، کاہنوں کی طرح کچھ باتیں بتاتے رہتے ہیں۔ ان باتوں میں سے کوئی بات ٹھیک نکل جاتی ہے تو ان ہی لوگوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، اور ان کو اللہ کا مقبول بندہ سمجھ لیتے ہیں ان میں بعض لوگ صاحب کشف بھی ہوتے ہیں۔ کشف شرعاً بالکل معتبر نہیں اور نہ یہ بزرگی کی دلیل سے کشف بعض مرتبہ فاسقوں بلکہ جانوروں اور دیوانوں کو بھی ہوتا ہے اس کو مقبولیت عنداللہ کی دلیل سمجھنا غلط ہے ایمان اور اعمال صالحہ اور تقویٰ مدار مقبولیت ہے جو لوگ دنیا دار ہیں، بےنمازی ہیں، فسق و فجور میں مبتلا ہیں ان کو مرشد بنانا اور ان کا معتقد ہونا بہت بڑی گمراہی ہے۔ پھر فرمایا (وَ لَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ) (آپ فرما دیجیے کہ میں یہ نہیں کہ تاکہ میں فرشتہ ہوں) لہٰذا میرے اندر فرشتوں والی صفات تلاش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اسی میں ہے کہ انسانوں کا نبی انسان ہی ہو۔ انسانوں میں گھل مل کر ان کی حاجات کو اور صفات کو جان کر احکام سکھائے۔ قول سے بھی تربیت کرے اور عمل سے بھی۔ مشرکین کو اعتراض تھا کہ (مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاسْوَاقِ ) (اس رسول کا کیا حال ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے) یہ ان لوگوں کا جاہلانہ اعتراض تھا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کھانا کھانے کا طریقہ اور بازار کے احکام سکھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نبی کھانا نہ کھائے اور بازار میں نہ جائے تو متعلقہ احکام کون بتائے۔ منصب نبوت کے متعلق جو ان کے غلط اشکالات یا معاندانہ اعتراضات تھے۔ مذکورہ بالا آیت میں ان سب کی تردید فرمائی۔ (اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ) (آپ فرما دیں کہ میں تو صرف اسی کی ابتاع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے) میں وحی الٰہی کا بندہ ہوں جو حکم الٰہی ہوتا ہے اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں اور تمہیں بھی وہی بتاتا ہوں آخر میں فرمایا (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُ ) (آپ فرما دیجیے کیا برابر ہوسکتا ہے نا بینا اور بینا) یعنی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ تمہارے پاس اللہ کی آیات آگئیں، کلام اللہ سنایا جاتا ہے جس کی بلاغت تمہارے نزدیک مسلم ہے اور جس کے مقابلہ میں تم چھوٹی سی سورت بھی نہیں لاسکتے، اور بھی معجزات ہیں جنہیں دیکھتے رہتے ہو۔ ضد اور عناد کو چھوڑو۔ بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو اور غور و فکر کرو۔ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ (کیا تم غور نہیں کرتے) اگر غور کریں تو حق قبول کرنے کا راستہ نکل آئے اور سب اعتراضات رفع ہوجائیں۔ علم غیب کے بارے میں اہل السنۃ والجماعت کا عقیدۃ : اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق سے زیادہ علم دیا اور علوم غیبیہ کا آپ کے برابر کسی مخلوق کو علم نہیں ہے آپ کا علم تمام اولین و آخرین سے زیادہ ہے۔ اور یہ علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے۔ جس کو سورة آل عمران میں فرمایا (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ) اور سورة جن میں فرمایا (عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖٓ اَحَدًا۔ اِلَّا مَنِ ارْتَضیٰ مِنْ رَّسُوْلٍ ) لیکن تمام کائنات اور غیر کائنات کو علم محیط ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے اس لیے عالم الغیب علی الاطلاق صرف اللہ ہی ہے وہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادۃ بھی۔ جیسا کہ سورة سجدہ اور سورة حشر میں فرمایا ہے، اور سورة نمل میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ ) بعض لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ موت سے پہلے آنحضرت ﷺ کو تمام علوم غیبی عطا کردیئے گئے تھے۔ یہ ان لوگوں کا دعویٰ بےدلیل ہے اور جھوٹ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود ایسی باتیں بتائیں کہ قیامت کے دن ایسا ایسا ہوگا اور مجھے اس کا علم اس وقت دیا جائے گا۔ مثلاً فرمایا کہ حوض کوثر پر میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو ہٹا دیا جائے گا میں کہوں گا کہ یہ میرے آدمی ہیں فرشتے کہیں گے کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 487) ان نئی باتوں میں سے یہ تھی ہے کہ لوگوں نے قرآن و حدیث کے خلاف اپنے عقیدے بنا لیے اور رسول اللہ ﷺ کا علم اللہ تعالیٰ کے برابر بتادیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کو بھی عالم الغیب کہنے لگے۔ حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا میں جو شفاعت کے لیے سجدہ میں سر رکھونگا تو اللہ کی وہ حمدیں بیان کروں گا جو اسی وقت اللہ میرے دل میں ڈالیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 488) اس سے صاف واضح ہے کہ موت کے وقت سے پہلے بھی سب علوم نہیں دئیے گئے۔ محبت کے دعویدار قرآن و حدیث کی تصریحات بھی نہیں جانتے۔ ہذا من العجائب۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو دور مت کیجیے جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام، جو چاہتے ہیں اس کی رضا کو، ان کا حساب آپ کے ذمہ کچھ بھی نہیں۔ اور آپ کا حساب بھی ان کے ذمہ کچھ بھی نہیں کہ آپ ان کو دور کریں پھر آپ ظالموں میں سے ہوجائیں۔

صبح و شام جو لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں انہیں دور نہ کیجیے ان آیات میں اوّل تو رسول اکرم ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرایئے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے جب اس وقت وہاں ان کا کوئی مددگار اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ ان کو تبلیغ کریں حق پہنچائیں اس امید پر کہ کفر سے اور معاصی سے بچ جائیں۔ قال صاحب الروح و جُوّزان یکون حالاً عن ضمیر الا مرای انذز ھم راجیا تقوٰھم اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں ان کو دور نہ کیجیے۔ فقراء صحابہ ؓ کی فضیلت اور ان کی دلداری کا حکم : معالم التنزیل ج 2 ص 99 میں ہے کہ حضرت سلمان فارسی اور خباب بن الارت ؓ نے بیان فرمایا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ اقرع بن یابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری اور دوسرے لوگ جو مؤلفہ القلوب میں سے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (یہ لوگ اپنے قبیلوں کے رؤسا تھے) جب یہ آئے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ بلال، صہیب، عمار، خباب اور بعض دیگر صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف فرما ہیں یہ وہ صحابہ تھے جنہیں دنیاوی اعتبار سے کمزور سمجھا جاتا تھا۔ آنے والے رؤسا نے جب ان کو آپ کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو ان پر حقارت کی نظریں ڈالیں اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اچھا ہوتا آپ ممتاز جگہ پر بیٹھتے اور ان لوگوں کو ہم سے دور کردیتے۔ ان کے کپڑوں میں بو آرہی ہے ان سے ہم محفوظ ہوجاتے ان حضرات کے اس وقت اونی کپڑے تھے۔ ان کے علاوہ دوسرے کپڑے موجود نہ تھے۔ ان رؤسا نے کہا کہ اگر ان کہ ہٹا دیں اور اپنے سے دور کردیں تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھیں اور کچھ حاصل کریں آپ نے فرمایا میں مومنین کو دور کرنے والا نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا تو آپ یوں کیجیے کہ ہمارے لیے کوئی مجلس خاص مقرر فرما دیجیے تاکہ عرب لوگ ہماری فضیلت جان لیں آپ کے پاس عرب کے وفد آتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ عرب کے لوگ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا دیکھیں۔ جب ہم آیا کریں تو آپ ان کو اٹھا دیا کریں۔ پھر جب ہم فارغ ہوجائیں تو اگر آپ چاہیں تو ان کے ساتھ تشریف رکھیں آپ نے فرمایا ہاں ! یہ کرسکتا ہوں کہنے لگے اس بات کی توثیق کے لیے ہمیں لکھ کردیجیے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی ؓ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ حضرت سلیمان اور خباب ؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہم ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی وقت جبرائیل (علیہ السلام) آیت کریمہ (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ ) لے کر نازل ہوئے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے وہ کاغذ اپنے دست مبارک سے پھینک دیا۔ اور ہم لوگوں کو بلایا، ہم حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) (تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم فرما لیا) اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے اور آپ جب چاہتے ہمیں چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (سورۂ کہف کی) یہ آیت نازل فرمائی (وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بالْغَدٰۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ) (اور آپ ان کے ساتھ جم کر بیٹھے رہئے جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے اور ان کی رضا کو چاہتے ہیں) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ اور ہم آپ سے بہت قریب ہو کر بیٹھتے تھے اور اب یہ ہوتا تھا کہ اٹھنے کا وقت ہوتا تو ہم پہلے اٹھ جاتے تھے۔ تاکہ آپ بلا تکلف اٹھ کر جاسکیں۔ جب یہ ماجرا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا الحمد للہ الذی لم یمتنی حتیٰ امرنی ان اصبر نفسی مع قوم من امتی (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس وقت تک موت نہ دی جب تک کہ مجھے یہ حکم نہ فرمایا کہ میں اپنی امت میں سے ایک جماعت کے ساتھ جم کر بیٹھوں) پھر ہم لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا۔ معکم المحیا و معکم الممات۔ (تمہارے ہی ساتھ میرا جینا ہے اور تمہارے ہی ساتھ میرا مرنا ہے) اللہ جل شانہٗ نے ان لوگوں کی رعایت و دلداری کا حکم فرمایا جو دین اسلام قبول کرچکے تھے اور اپنے رب سے لو لگائے رہتے تھے۔ ان کی رعایت و دلداری منظور فرمائی اور مکہ کے رؤسا نے جو یہ کہا کہ ان کو ہٹا دیا جائے تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے ان کی درخواست رد فرما دی اور حضور اقدس ﷺ نے جو ان کی دلداری کا خیال فرمایا تھا (جو اس مشفقانہ جذبہ پر مبنی تھا کہ جو لوگ اپنے ہوگئے ہیں۔ اگر ان کو مجلس میں بعض مرتبہ ساتھ نہ بٹھایا تو محبت اور تعلق میں کمی کرنے والے نہیں ہیں۔ اور یہ رؤسا جو علیحدہ مجلس کے لیے درخواست کر رہے ہیں ان کی بات مان لی جائے تو ان کا بہانہ بھی ختم ہوجائے اور ممکن ہے کہ ہدایت قبول کرلیں) اس خیال کی بھی اللہ تعالیٰ نے تائید نہیں فرمائی۔ اس سے جہاں ان حضرات صحابہ ؓ کی فضیلت معوم ہوئی جن کو غریبی کی وجہ سے رؤسا عرب نے حقیر سمجھا تھا۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ اسلام قبول کرچکے ہوں ان کی رعایت اور دلداری ان لوگوں سے مقدم ہے جو ابھی تک منکرین اسلام ہیں۔ یہ جو فرمایا (مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (ان کا حساب آپ کے ذمہ کچھ بھی نہیں اور آپ کا حساب ان کے ذمہ کچھ بھی نہیں آپ ان کو دور کردیں پھر آپ ظالموں میں سے ہوجائیں) اس کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ یہ فقراء صحابہ ؓ جو آپ کے پاس آتے ہیں اور ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کا باطن ٹٹولنا آپ کے ذمہ نہیں ہے۔ آپ ان کے اخلاص کی تفتیش نہ کریں۔ ظاہر حال کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کریں اور ان کو اپنے پاس بیٹھائیں اور فیض یاب کریں اور اپنے سے دور نہ کریں اور ان کے مقابلہ میں ان لوگوں کو ترجیح نہ دیں جنہوں نے ایمان قبول کیا ہی نہیں۔ دور کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ ان میں اخلاص نہ ہوتا جب آپ کے ذمہ ان کے اخلاص کی تفتیش نہیں تو آپ ان کو کیوں دور کرتے ہیں۔ اور آپ کا حساب بھی ان کے متعلق نہیں کہ وہ آپ کی تفتیش کریں۔ بلکہ اس کا تو احتمال بھی نہیں ہے کہ امت اپنے پیغمبر کے باطن کے احوال معلوم کرلے کیونکہ ایمان کے ساتھ یہ بات جمع نہیں ہوسکی۔ محتمل کو متیقن کے ساتھ برابر قرار کر دے کر امت کے تفتیش حال باطنی کی نفی فرما دی۔ جو لوگ یہ کہیں کہ ہم مسلمان ہیں ان کے غیر مخلص ہونے کی کوئی ظاہری وجہ نہیں، تو ان کو کیوں دور کیا جائے۔ اس صورت میں ان کو دور کیا جائے گا تو یہ ظلم کی بات ہوگی۔ صاحب روح المعانی ج 7 ص 160 میں لکھتے ہیں۔ و انما و ظیفتک حسب ما ھو شان منصب الرسالۃ النظر الی ظواھر الامور و اجراء الاحکام علی موجبھا و تفویض البواطن و حسابھا الی اللطیف الخبیر، و ظواھر ھؤلاء دعاء ربھم بالغدٰوۃ و العشی اھ الیٰ ان قال (وما من حسابک علیھم من شی عطف علی ما قبلہٗ و جی بہ مع ان الجواب قدتم بذالک مبالغۃ فی بیان کون انتفاء حسابھم (علیہ السلام) بنظمہ فی سلک مالا شبھۃ فیہ اصلاً وھو انتفاء کون حسابہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اھ) یہ تقدیر اس صورت میں ہے جبکہ حسَابھم اور علیھم کی ضمیریں (اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ ) کی طرف راجع ہوں اور بعض مفسرین نے ان ضمیروں کو رؤسا مشرکین کی طرف راجع کیا ہے اور آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ یہ لوگ ایمان لائیں یا نہ لائیں آپ غرباء مسلمین کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ان کے حساب کی ذمہ داری آپ پر نہیں جیسا کہ آپ کے حساب کی ذمہ داری ان پر نہیں۔ اگر یہ ذمہ داری آپ پر ہوتی یعنی ان کے مسلمان نہ ہونے پر آپ سے مواخذہ ہوتا تو اس صورت میں آپ ان کی وجہ سے غرباء مسلمین کو مجلس سے ہٹا سکتے تھے اور جب ایسا نہیں تو ان غرباء کو مجلس سے ہٹانا بےانصافی ہے۔ (فَتَطْرُ دَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ) میں اسی بےانصافی کو بیان فرمایا۔ متکبرین کی سزا اور مال و دولت پر گھمنڈ کرنے والوں پر تنبیہ : جن لوگوں کے پاس مال و دولت ہو۔ یا کسی قسم کا چھوٹا بڑا اقتدار حاصل ہو۔ ان میں ایک یہ بہت بڑا مرض بھی ہوتا ہے کہ وہ غربیوں مسکینوں کو حقیر سمجھتے ہیں انہیں اس لائق بھی نہیں سمجھتے کہ وہ پاس بیٹھیں حتیٰ کہ وہ سلام بھی کریں تو سلام کا جواب دینے میں خفت و ذلت محسوس کرتے ہیں یہ تکبر ہے اور تکبر انسان میں بد ترین خصلت ہے۔ یہ صفت انسان کو حق قبول کرنے سے اور کفرکو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا بڑا عذاب ہے۔ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ متکبروں کو قیامت کے دن انسانوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا ان کے جسم اتنے چھوٹے ہوں گے جیسے چیونٹیاں ہوتی ہیں ان پر ہر طرف سے ذلت چھائی ہوگی۔ ان کو دوزخ کے جیل خانے کی طرف چلایا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔ ان کے اوپر آگوں کو جلانے والی آگ چڑھی ہوگی۔ ان کو دوزخیوں کے جسم کا نچوڑ پلایا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 433) مال و دولت پر گھمنڈ کرنا اور اس کی وجہ سے تکبر کرنا اور دوسروں کو حقیر جاننا بہت بڑی حماقت ہے۔ مالدار ہونا انسان کا کوئی کمال نہیں۔ یہ تو انسان کے وجود سے علیحدہ خارجی چیز ہے۔ انسان کے اپنے ذاتی جو عمدہ اخلاق ہیں جن میں تواضع بھی ہے ان سے انسان میں فضیلت آتی ہے۔ اگر مال ہو اور مال کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرے اور اللہ کا شکر گزار بندہ بنے تو یہ بھی بلند اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ فی نفسہ مالدار ہونا کوئی انسان کی فضیلت اور کمال کی چیز نہیں۔ اہل دنیا میں جو یہ رواج ہے کہ مالدار اور صاحب اقتدار ہی کو بڑا سمجھا جاتا ہے خواہ کافر اور ملحد اور زندیق اور ظالم اور فاسق و فاجر ہی ہو یہ دنیا والوں کی حماقت اور جہالت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان محبوب ہے۔ ایمان والے محبوب ہیں۔ تقویٰ محبوب ہے، اعمال صالحہ محبوب ہیں اس کے ہاں انہیں چیزوں سے فضیلت حاصل ہوتی ہے اور فضیلت کی شان انہی بندوں کو حاصل ہے جن میں تقویٰ ہے۔ (اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ) جو غریب صحابہ تھے ان کی اللہ تعالیٰ نے قدر دانی فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو اپنے پاس سے مت ہٹاؤ۔ اور خود ان کے پاس جم کر بیٹھے رہا کرو۔ اور جن دنیا داروں کو آنحضرت ﷺ اپنے پاس بیٹھا کر تبلیغ کرنا چاہتے تھے ان کی شرط کی طرف توجہ نہیں فرمائی حالانکہ آپ کا جذبہ شفقت پر مبنی تھا کہ یہ لوگ کسی طرح ایمان قبول کرلیں۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کیا ہمارے درمیان سے یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے ؟

غنی اور فقیر کا فرق آزمائش کے لیے ہے پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھآؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا) ” اور ہم نے اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے بعض کو بعض کے ذریعہ تاکہ وہ کہیں کیا یہ لوگ ہیں جن پر ہمیں چھوڑ کر اللہ نے احسان فرمایا۔ “ اس میں یہ بتایا ہے کہ اس دنیا میں غنی اور فقیر کا جو فرق رکھا گیا ہے اور دوسری حیثیتوں سے جو امتیاز ہے اس میں حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے جو غنی ہیں وہ فقیر کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح دوسری طرح کی جو چھوٹائی بڑائی پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے بڑے بننے والے چھوٹوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک آزمائش ہے جن لوگوں کو کسی طرح کی برتری حاصل ہے وہ بجائے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرنے کے ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں اگر چھوٹے لوگ نہ ہوتے تو ممکن تھا کہ یہ نعمت دینے والے کی طرف متوجہ ہوتے اور اس کا شکر ادا کرتے۔ لیکن مال و دولت اور اختیار و اقتدار کے نشہ میں دوسروں کو حقیر جاننے کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں اور اس طرح سے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں اگر سب ہی برابر ہوتے تو کوئی کسی کو حقیر نہ جانتا۔ جو لوگ مال و دولت اور اقتدار والے ہیں ان کے تکبر کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے کو ہر خیر کا مستحق سمجھتے ہیں۔ غریبوں اور مسکینوں کو دینی برتری ملنے کا بھی اہل نہیں سمجھتے اور وہ کہتے ہیں کہ کیا یہ پھٹیچر جن کے پاس ایک وقت کا کھانے کو نہیں اس لائق ہیں کہ ان کو ہدایت مل جائے اور ہم ہدایت سے محروم رہ جائیں۔ جس دین کو انہوں نے اختیار کیا ہے اگر یہ ہمارے دین سے بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسے کیوں اختیار کرتے۔ سورة احقاف میں فرمایا (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ کَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَا اِِلَیْہِ ) ” اور کافروں نے مومنین کے بارے میں کہا کہ اگر یہ چیز بہتر ہوتی جو انہوں نے اختیار کی ہے تو یہ ہم سے آگے نہ بڑھ جاتے۔ “ دولت مند ہر طرح کی دینی و دنیاوی برتری کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارے دین کے خلاف دوسرا دین اختیار کیا اگرچہ دلائل واضح کے اعتبار سے وہ حق ہے لیکن چونکہ ہم نے اختیار نہیں کیا اس لیے وہ قابل قبول نہیں اس طبقہ کے لوگوں نے اپنا یہ حق خود سے تجویز کرلیا ہے اپنے خالق ومالک کے قانون تکوینی اور تشریعی کو نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ جس نے ہمیں مال دیا وہ دوسروں کو ہدایت عطا فرما سکتا ہے۔ مالدار ہی دین حق پر ہوں اور غریب ہی باطل پر ہوں یہ کوئی قانون تکوینی نہیں ہے۔ جسے اللہ نے مال و دولت عطا فرمایا ہے وہ غریبوں کو حقیر جاننے کی بجائے منعم حقیقی کی طرف رجوع کرے۔ اور وہ طریقہ تلاش کرے جو اس کے رب کو پسند ہے اور نا شکری و نافرمانی سے پرہیز کرے اور جب حق بات پہنچ جائے تو اسے فوراً قبول کرے۔ چونکہ غریبوں نے حق قبول کرلیا ہے اس لیے ہم اسے قبول نہیں کرتے بلکہ ہم اسے حق سمجھتے ہی نہیں مالداروں کا یہ خیال سراپا تکبر ہے۔ جو حماقت پر مبنی ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) ” کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ شکر گزار بندے کون ہیں۔ غریبوں کے پاس مال نہیں پھر بھی شکر گزار ہیں اور یہ شکر گزاری کی صفت ان کے لیے حق بات کے اختیار کرنے اور حق پر جمنے کا ذریعہ بن گئی۔ جن لوگوں کے پاس مال و دولت ہے وہ نا شکرے ہیں۔ اپنے کبر اور کفران نعمت کو نہیں دیکھتے۔ ان غریبوں کو دیکھ کر نفرت کر رہے ہیں۔ جن پر اللہ نے فضل فرما دیا اور ہدایت کی نعمت سے نواز دیا۔ زمانہ نبوت میں ایسے متکبر تھے جن کا ذکر آیت شریفہ میں ہوا۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں دین سے وابستہ رہنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں یہ لوگ اسلام کے دعویدار بھی ہیں لیکن اسلام پر چلنے والوں اور اسلامی اعمال اختیار کرنے والوں کو اور اسلامی امور سے نسبت رکھنے والوں کو حقیر جانتے ہیں۔ کہ ان کے کپڑے پھٹے ہیں، رہنے کا گھر کچا ہے، بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ مسجد و مدرسہ سے تعلق رکھنے والے مالداروں کی نظروں میں حقیر ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اسلام کے سب سے پہلے موذن حضرت بلال ؓ کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنے کو تیار ہیں لیکن اپنے بچے کو موذن تو کیا بناتے اذان دینے والے کو حقیر جانتے ہیں۔ اور مسجد کی روٹیاں کھانے والے کہہ کر اس کی آبرو گھٹاتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ مسجد کی روٹیاں کھانا حرام کھانے سے کہیں برتر اور بہتر ہیں یہ جو رشوت اور سود لے کر دولت جمع کی ہے اور حرام محکموں میں ملازمت کر کے جو کیش جمع کیا ہے جب آخرت میں و بال بنے گا اور مسجد کا موذن بخشا ہوا جنت میں جائے گا اس وقت اس تکبر اور مالداری کا اور نفرت کرنے کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔ مالداری اور غریبی مقبولیت عنداللہ کا سبب نہیں ہے : جیسے مالدار ہونا فضیلت کا اور اللہ کی نزدیکی کا سبب نہیں اسی طرح غریب مسکین ہونا بھی اللہ کی نزدیکی یا فضیلت یا برتری کا سبب نہیں ہے۔ اللہ کی نزدیکی اور اللہ کے ہاں فضیلت اور برتری ایمان اور اعمال صالحہ اور فرائض کی پابندی سے اور گناہوں کو چھوڑنے سے ہے۔ جس طرح بہت سے مال داروں میں تکبر ہے اور اللہ کی یاد سے غافل ہیں۔ فرائض و واجبات کے تارک ہیں اسی طرح بہت سے غریب اور مسکینوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ خواہ مخواہ مالداروں پر حسد کر کے مرے جا رہے ہیں اور بہت سے ان میں سے اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں اور کفر کے کلمات کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو دیا اور ہم کو نہ یا۔ ایسی غریبی بھی و بال ہے اور باعث مواخذہ اور باعث عذاب ہے امیر ہو یا غریب سب پر لازم ہے کہ شریعت کے احکام کی پابندی کریں بلند اخلاق اختیار کریں گناہوں سے بچیں متقی بنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سب کو زندگی گزارنے کا ایک طریقہ بتایا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص ایسے شخص کو دیکھے جو مال میں اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اپنے سے نیچے والے کو بھی دیکھ لے۔ (صحیح مسلم ج 2 ص 407) دنیاوی چیزوں میں اپنے سے نیچے کو دیکھو تاکہ عبرت ہو اور یہ سمجھ میں آئے کہ اللہ نے ہمیں ہزاروں لاکھوں افراد سے بہتر بنایا ہے اور بہت زیادہ دیا ہے اور دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھو جو اپنے سے زیادہ دیندار ہے۔ جو لوگ اللہ کی یاد میں لگے رہتے ہیں ان کے برابر ہونے بلکہ ان سے آگے بڑھنے کی حرص کرے۔ مساکین صالحین کی فضیلت : آیت شریفہ میں جن مسکینوں کی فضیلت بتائی ان کی تعریف میں فرمایا (یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیدُوْنَ وَجْھَہٗ ) ” کہ یہ لوگ صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اسی کی رضا مندی کے طالب ہیں۔ “ جو غریب اس صفت سے متصف ہیں ان کو بلاشبہ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے لیکن اعمال کی وجہ سے ہے غریبی کی وجہ سے نہیں۔ ایمان اور اعمال صالحہ ہوں اور غریبی بھی ہو تو قیامت میں اس کا یہ فائدہ پہنچ جائے گا کہ مالداروں سے پہلے جنت میں چلے جائیں گے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ایک مرتبہ ضعفاء مہاجرین کے پاس بیٹھ گیا (جن کے پاس مال نہ تھا اور کپڑوں کی اس قدر کمی تھی کہ) ان میں سے بعض بعض کے ذریعہ آپس میں پردہ کرتے تھے۔ (یعنی اس ترتیب سے بیٹھے تھے کہ ایک کی نظر دوسرے کی ران وغیرہ پر نہ پڑے) ایک شخص ان میں سے قرآن مجید پڑھ رہا تھا وہ اسی حال میں تھے کہ سول اللہ ﷺ تشریف لے آئے آپ قریب میں تشریف لا کر کھڑے ہوگئے آپ کے تشریف لانے پر قرآن پڑھنے والا خاموش ہوگیا۔ آپ نے سلام کیا۔ پھر فرمایا تم کیا کر رہے تھے ہم نے عرض کیا کہ ہم کان لگا کر اللہ کی کتاب کو سن رہے تھے آپ نے فرمایا : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ مَنْ اُمَّتِیْ مَنْ اُمِرْتُ اَنْ اَصْبَرُ نَفْسِیْ مَعَھُمْ ” کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد بنا دیئے جن کے ساتھ مجھے جم کر بیٹھنے کا حکم دیا گیا۔ “ اس کے بعد آپ نے اشارہ فرمایا جس پر حاضرین نے حلقہ بنا لیا اور سب کے چہرے آپ کی طرف متوجہ ہوگئے آپ نے فرمایا کہ اے مہاجرین کے مسکینو ! تم اس بات کی خوشخبری قبول کرلو کہ تمہیں قیامت کے دن نور تمام (پورا نور) عطا کیا جائے گا تم مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ آدھا دن پانچ سو سال کا ہوگا۔ (رواہ ابو داؤد ‘ ج 2 ص 160)
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب آجائیں وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیات پر تو ان سے کہہ دیجیے کہ تم پر سلامتی ہو۔ تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت کو مقرر کرلیا ہے۔ کہ جو شخص تم میں جہالت کی وجہ سے کوئی گناہ کرلے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنا حال درست کرلے تو بلاشبہ وہ غفور ہے، رحیم ہے

پھر فرمایا (وَ اِذَا جَآءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) (اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیات پر تو آپ سلام علیکم کہیں) اور یہ بھی کہیں (کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) (کہ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دیا ہے) ۔ جن حضرات کا اوپر ذکر تھا کہ انہیں انپے سے دور نہ کرو اس میں ان کی دلداری کا حکم فرمایا کہ آپ ان کے لیے سلامتی کی دعا کریں اور ان کو بتادیں کہ تمہارا رب رحیم ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کردیا۔ تمہارے ایمان اور عمل صالح کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا (اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓءً بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (کہ تم میں سے جس نے کوئی گناہ کرلیا نادانی کے ساتھ پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی سو وہ بخشنے والا رحیم ہے) ۔ لفظ جہالت جس کا ترجمہ ہم نے نادانی سے کیا ہے اس سے علمی جہالت مراد نہیں۔ عملی جہالت مراد ہے۔ جان بوجھ کر گناہ کرنے والا بھی اس میں داخل ہے کیونکہ جو بھی گناہ ہوتا ہے وہ عملی جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کو گناہ جانتے ہوئے گناہ کرنا اور اس کے مواخذہ پر نظر نہ رکھنا یہ ایک طرح سے جہالت نادانی اور حماقت ہے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

، اور اسی طرح ہم تفصیل سے آیات کو بیان کرتے ہیں، تاکہ مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے

پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ) (اور اسی طرح ہم آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا راستہ واضح ہوجائے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں۔ اَی وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُھُمْ نفعل ما نعفل من التفضیل یعنی آیات کے بیان کرنے کے متعدد فوائد ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ مجرمین کا راستہ کیا ہے (یعنی ان کا کیا انجام ہونے والا ہے)
Ayahs 6:56–58

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! بیشک میں اس بات سے منع کیا گیا ہوں کہ ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ آپ فرما دیجیے ! میں تمہارے خواہشوں کا اتباع نہیں کرتا۔ ایسا کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ بیشک میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ میرے پاس وہ نہیں ہے جس کی تم جلدی کرتے ہو۔ کسی کا حکم نہیں ہے سوائے اللہ کے، وہ حق کو بیان فرماتا ہے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے ! اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے

گمراہوں کا اتباع کرنے کی ممانعت ان آیات میں چند امور مذکور ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے چند باتوں کا اعلان کروایا ہے اولا تو یہ فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں۔ میں معبود ان باطلہ کی عبادت نہیں کرسکتا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھ سے یہ امید نہ رکھنا کہ میں کبھی تمہارے باطل کا ساتھ دے دوں اور تمہاری خواہشوں کا اتباع کروں (العیاذ باللہ) خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو تمہاری طرح میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ یہ وہی مضمون ہے جس کا سورة کافرون میں اعلان فرمایا۔ ثانیاً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ اعلان فرما دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں مجھے پورا یقین ہے کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور رسول اللہ ہوں اور میں جس بات کی دعوت دے رہا ہوں وہ صحیح ہے دلائل واضحہ میرے دعویٰ کی سچائی پر قائم ہیں جس پر مجھے مکمل یقین ہے اور کسی طرح کا شک و شبہ نہیں۔ میں تمہاری باتوں کا کیسے ساتھ دے سکتا ہوں ؟ مجھے تو اپنے دعوے کی صحت پر دلیل کے ساتھ یقین ہے اور تم اس کی تکذیب کر رہے ہو۔ تکذیب ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہو کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر کوئی عذاب لا کر دکھاؤ۔ ہمارے انکار و تکذیب کی وجہ سے ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ عذاب بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ میرے اختیار میں نہیں۔ حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ تکوینی اور تشریعی حکم کا صرف وہی مالک ہے۔ وہ عذاب بھیجے نہ بھیجے میرے اختیار میں کچھ نہیں اور یہ ضد کرنا کہ عذاب آجائے تب ہی آپ کے دعوے کو سچا مانا جائے جہالت و حماقت کی بات ہے حق دلائل سے واضح ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے حق کو بیان فرما دیا۔ دلائل سے واضح کردیا۔ دلائل ہوتے ہوئے حق کو نہ ماننا اور عذاب آجانے ہی کو ثبوت حق کا ذریعہ سمجھنا یہ تمہاری اپنی اپچ ہے۔ اور تمہارا خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ہوا و ہوس کا پابند نہیں کہ تم جو کہو وہ کرے، جسے حق قبول کرنا ہو اس کے لیے واضح طور پر حق کا بیان ہوجانا کافی ہے۔ (یَقُصُّ الْحَقَّ وَ ھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ ) ثالثاً یہ فرمایا کہ آپ اعلان فرما دیں کہ جس چیز کی تم جلدی مچاتے ہو یعنی عذاب لانے کی تو یہ میرے پاس نہیں اگر میرے پاس ہوتا تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی عذاب آگیا ہوتا۔ وہ تو اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے تم واضح حق کو نہیں جانتے عذاب چاہتے ہو اور ظلم کر رہے ہو حق قبول نہ کرنا ظلم ہے اور اللہ کو ظالموں کا پتہ ہے اور وہ دنیا میں عذاب نہیں بھیجتا تو یہ نہ سمجھ لینا کہ آخرت میں بھی عذاب نہیں۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔ ان کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور تری میں ہے، اور نہیں گرتا ہے کوئی پتا مگر وہ اس کو جانتا ہے، اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہیں ہے کوئی تر چیز اور خشک چیز مگر وہ کتاب مبین میں ہے۔

اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، بروبحر میں جو کچھ ہے وہ سب اس کے علم میں ہے۔ پہلی آیت میں اللہ جل شانہٗ کے علم کی وسعت قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ اجمالی طور پر علم الٰہی کو بہت سی جگہ بیان فرمایا ہے اور (وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) کا عموم ہر چیز کے علم کو شامل ہے۔ اس کا عموم موجودات، معدومات، ممکنات ممتنعات سب کے علم کو شامل ہے۔ اور سورة تغابن میں فرمایا (یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) اور سورة یونس میں فرمایا (وَ لَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآء) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ) اور سورة طلاق میں ہے۔ (وَ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا) یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ سورة نمل میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبَعَثُوْنَ ) آیت بالا میں یہ بیان فرمایا کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہیں انہیں صرف وہی جانتا ہے۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے سب کو جانتا ہے۔ ہزاروں قسم کی مخلوق ان کی اجناس اور انواع و اصناف اور ان کے افراد اسے ان سب کا علم ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جو بھی کوئی پتا گرتا ہے اسے اس کا علم ہے اور زمین کی اندھیریوں میں (زمین کے اندر ساتویں زمین کی منتہیٰ تک) اور زمین کے اوپر جو بھی کوئی چیز ہے تر ہو یا خشک ہو اور جہاں بھی ہو وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رطب سے مراد وہ ہے جو اگتا ہے اور یابس سے مراد وہ ہے جو اگتا نہیں بعض علماء نے فرمایا ہے کہ رطب ویا بس سے تمام اجسام مراد ہیں اس لیے کہ اجسام کی دو قسمیں ہیں یعنی رطب اور یابس، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ رطب سے حی یعنی زندہ اور یا بس بےجان چیزیں مراد ہیں۔ مفسرین کی ایک جماعت نے کتاب مبین سے لوح محفوظ کو مراد لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے اور ابدی ہے اسے جاننے یاد رکھنے کے لیے کسی کتاب کی ضرورت نہیں لوح محفوظ میں لکھنے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ جو کچھ وجود میں آتا رہے فرشتوں کو اس کا علم ہوتا رہے کہ یہ سب معلومات الٰہیہ میں سے ہے اور مخلوقات الٰہیہ میں سے ہے اور ایک یہ حکمت بھی ہے کہ جو لوگ مکلف ہیں وہ یہ یقین کرلیں کہ ہمارے اعمال میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لکھنے سے رہ گئی ہو۔ اس کتاب کو لوح محفوظ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تحریف سے اور شیاطین کے وہاں تک پہنچنے سے محفوظ ہے کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔ (روح المعانی ج 7 ص 172) علم غیب صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے وہ جس مخلوق کو جتنا علم عطا فرما دے اسی قدر علم حاصل ہوجاتا ہے۔ آلات کے ذریعہ جو علم ہو وہ علم غیب نہیں بعض بےعلم لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بارش آنے کا علم پہلے سے ہوجاتا ہے یا رحم مادر میں جو ہے اس کے نر مادہ ہونے کا عمل ماہروں کو ہوجاتا ہے اس لیے یہ علم غیب ہوا۔ یہ جاہلانہ بات ہے۔ بارش کا جو پتہ چل جاتا ہے وہ آلات کے ذریعہ ہواؤں کا رخ دیکھ کر پتہ چلاتے ہیں اور وہ بھی حتمی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کا علم ہمیشہ سے ہے اور آلات کے بغیر ہے آلات نہیں تھے جب بھی سب کچھ جانتا تھا اسی طرح مادہ منویہ کے تجربات سے اور ایکسرے وغیرہ سے نر و مادہ کا معلوم ہوجانا بھی علم غیب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم کے لیے نہ آلات کی ضرورت ہے نہ تجربات کی اسے تو ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے معلوم ہے کہ ان کی کتنی نسل ہوگی اور ان کی نسل میں کس کس مرد اور کس کس عورت سے کون کون پیدا ہوگا۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے جو تمہیں قبضہ میں لیتا ہے رات کو۔ اور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو دن میں، پھر وہ تمہیں دن میں اٹھاتا ہے۔ تاکہ پوری کردی جائے میعاد مقرر۔ پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔ پھر وہ تمہیں ان کاموں کی خبر دے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بالَّیْلِ ) (اللہ وہی ہے جو تمہیں اٹھا لیتا ہے رات کو) اس سے سلا دینا مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نیند کو طاری فرما دیتا ہے جو ایک گو نہ روح قبض کرنے کا ذریعہ ہے۔ حدیث شریف میں فرمایا (اَلنَّوْمُ اَخُو الْمَوْتِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 500) کہ نیند موت کا بھائی ہے۔ یہ سلانا اور پھر جلا دینا سب اللہ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہے جو دو بارہ زندہ ہونے کا نمونہ ہے۔ (وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّھَارِ ) اور وہ جانتا ہے جو دن میں تم اعمال کرتے ہو، چونکہ عام طور پر رات ہی کو سوتے ہیں اور دن کو کام کرتے ہیں اس لیے نیند کو رات کی طرف اور کسب عمل کو دن کی طرف منسوب فرما دیا۔ ورنہ جو لوگ دن کو سوتے ہیں رات کو کام کرتے ہیں۔ ان کا بھی ہر عمل اللہ کی مشیت و ارادہ سے ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ سونا اور جاگنا انفرادی موت وحیات ہے اور وقوع قیامت اجتماعی موت ہے۔ اور اس کے بعد زندہ ہوجانے کا نام بعث و نشور ہے۔ دنیاوی زندگی گزر رہی ہے کبھی خواب ہے کبھی بیداری۔ خواب عارضی موت ہے اور ہر شخص کو حقیقی موت بھی آنی ہے اس حیات دنیوی کے لیے باری تعالیٰ شانہٗ کے علم میں ایک مدت مقرر ہے جب یہ مدت پوری ہوجائے گی تو مقرر اجل آئے گی۔ (ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی) پھر وہ تمہیں دن میں اٹھاتا ہے یعنی بیدار کرتا ہے تاکہ وقت مقررہ پورا کردیا جائے، دنیا کی بیداری اور خواب اور موت وحیات اور اکتساب اعمال کو بیان فرمانے کے بعد قیامت کی حاضری کا ذکر فرمایا (ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّءَکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (پھر اس کی جانب تم کو لوٹ کرجانا ہے پھر تم کو بتادے گا جو تم کرتے تھے) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی زندگی کا گزرنا یونہی نہیں ہے، اس میں جو اعمال کرتے ہو قیامت کے دن وہ سامنے آئیں گے اور ان کا نتیجہ بھی سامنے آئے گا۔ ہر شخص کو وہاں کی فوز و فلاح اور کامیابی کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔