Ayahs 37:149–160مشرکین کی تردید جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے
شیطان نے اپنی کوششوں سے انسانوں کو توحید سے ہٹایا اور شرک کا رواج ڈالا، اس سلسلہ میں اس کی جو کوششیں آگے بڑھیں ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بتوں کی عبادت پر تو ڈالا ہی تھا جنات اور فرشتوں کے بارے میں بھی لوگوں کو یہ سمجھایا کہ ان میں اور خالق کائنات جل مجدہ کے درمیان رشتہ داری ہے چناچہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا، لوگ شیاطین کی بات مانتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں لگا دیں جن سے وہ بری ہے اور پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا اس کی شان یکتا کے خلاف ہے، اس کی شان (لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ) ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا، سورة مریم میں فرمایا (وَمَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اور یہ رحمن کی شان کے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے) مشرکین نے اول تو یہ سخت غلطی کی کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کردی، پھر جب اولاد تجویز کی تو وہ بھی لڑکیاں، اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں بتادیا، اللہ تعالیٰ کی اولاد تجویز کرنے میں بھی جھوٹ تراشا اولاد بھی وہ تجویز کی جو اپنے لیے ناپسند ہے۔
اسی کو یہاں فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ خالق جل مجدہٗ نے اپنے لیے لڑکیوں کو بطور اولاد کے چن لیا اور تمہیں اپنے لیے لڑکے پسند ہیں، اور تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تمہارا یہ جھوٹ اپنی جگہ رہا اب تو یہ بتاؤ کہ فرشتوں کے لڑکیاں ہونے کا علم تمہیں کہاں سے ہوا ؟ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا تو کیا تم حاضر تھے اور یہ دیکھ رہے تھے کہ وہ مخلوق جو پیدا ہورہی ہے مونث ہے یعنی مادہ ہے یا نر ہے ایک تو تم نے فرشتوں کو مونث بتایا دوسرے انہیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتایا، تیسرے یہ کیا کہ جب خلاق جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے لگے تو بیٹیاں تجویز کردیں جبکہ اپنے لیے بیٹی کو ناپسند کرتے ہو۔ یہ ساری باتیں بےدلیل اور سراپا جھوٹ ہیں، اللہ تعالیٰ کے کوئی اولاد نہیں، نہ بیٹی نہ بیٹا، اور اولاد ہونا اس کی شان اقدس کے خلاف ہے۔ ان مشرکین سے فرمایا (مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ) تمہیں کیا ہوا تم کیسے حکم لگاتے ہو، کیا تم سمجھ سے کام نہیں لیتے ؟ کوئی دلیل عقلی یا کوئی دلیل نقلی یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی کوئی کتاب تمہارے پاس ہو جس سے تم نے یہ بات نکالی ہے تو وہ پیش کرو، جب تمہارے پاس کئی دلیل نہیں تو یہ شرکیہ باتیں کیوں کرتے ہو اور اپنی طرف سے کیوں جھوٹ بناتے ہو۔ ؟
جب مشرکین مکہ نے یوں کہا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے دریافت کیا کہ ان کی مائیں کون ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہہ دیا کہ جنات میں جو سردار ہیں ان کی بیٹیاں فرشتوں کی مائیں ہیں۔ (روح المعانی ص 151: ج 23) اس طرح سے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان قرابت داری تجویز کردی اور گویا جنات کے سرداروں کو فرشتوں کا نانا بنا دیا۔ اس کو فرمایا (وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا) (کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان رشتہ داری تجویز کردی) پھر ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ) اور جنات کا اس پر عقیدہ ہے کہ وہ حاضر کیے جائیں گے یعنی قیامت کے دن گرفتار ہوں گے، ان میں جو کافر ہوں گے دوزخ میں ڈالے جائیں گے جن میں ان کے سردار بھی ہوں گے، لہٰذا جو گرفتار ہو کر آئے گا اور دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیسے رشتہ ہوسکتا ہے۔ (سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں (یہ جملہ معترضہ ہے) (اِلَّا عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ) مگر جو اللہ کے خاص بندے ہیں وہ دوزخ سے بچالیے جائیں گے، انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے۔
Ayahs 37:161–170فرشتوں کی بعض صفات کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو مشرکین کو خطاب فرمایا کہ تم اور تمہارے سارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی توحید سے کسی کو نہیں پھیر سکتے حالانکہ تمہاری کوششیں برابر جاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس کسی کا دوزخ میں جانا مقرر و مقدر ہے اسی کو توحید کے راستے سے ہٹا سکتے ہو۔
چونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور اس لیے ان کی شان عبدیت انہی کی زبانی بیان فرمائی (پہلے جنات کے بارے میں بتایا جاچکا ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص مجرم ہوگا گرفتار ہو کر حاضر کیا جائے گا) جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے جنات عاجز ہیں اسی طرح فرشتے بھی اپنا عجز تسلیم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں، فرشتوں کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے، جو حکم ہے ہر ایک اسی کی بجا آوری میں لگا ہوا ہے، ہم اللہ کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ (فرشتوں کا تو یہ حال ہے لیکن جو لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں انہوں نے اپنی حماقت اور سفاہت سے فرشتوں کو کیا کیا سمجھ رکھا ہے۔ )
اس کے بعد کفار عرب کا یہ قول نقل فرمایا کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن سے پہلے یوں کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی ایسا ذکر یعنی کتاب آجاتی جیسی پہلی لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کے پاس کتابیں آئیں تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے یعنی تصدیق کرتے اور عمل کرتے اور ان لوگوں کی طرح تکذیب نہ کرتے، جیسا کہ سورة فاطر میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے (وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَءِنْ جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌلَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ) (اور ان لوگوں نے خوب زور دار اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آگیا تو گذشتہ امتیں جو گزری ہیں ان کے مقابلہ میں ہر ایک سے بڑھ کر ہم ہدایت والے ہوں گے۔ )
(فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلَّانُفُوْراً ) (پس جب ان کے پاس ڈرانے والا آگیا تو ان کی نفرت اور زیادہ ہوگئی) اول تو کفر اور شرک یوں ہی سب سے بڑا گناہ ہے پھر خود سے کتاب کا مطالبہ کرنا اور وعدے کرنا کہ اگر ہمیں کتاب مل جائے تو ایسے نیک بنیں گے اور ہدایت میں سابقہ امتوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، پھر جب کتاب مل گئی، ہدایت آگئی تو اس کے منکر ہوگئے، ظاہر ہے کہ اس طرح بڑی سزا کے مستحق ہوگئے، اسی کو فرمایا (فَکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (سو انہوں نے اس کا کفر کیا سو عنقریب جان لیں گے۔ )
Ayahs 37:171–175پیغمبروں کی مدد کی جائے گی، اللہ کے لشکر غالب رہیں گے
ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبر حضرات کے بارے میں ہماری طرف سے یہ پہلے ہی سے طے شدہ ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور اللہ کا لشکر غالب رہے گا۔ سورة المومن میں فرمایا : (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (بلاشبہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگی میں مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس دن گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) اور سورة المجادلہ میں فرمایا ہے : (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) (اللہ تعالیٰ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے بلاشبہ اللہ قوی ہے عزیز ہے) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بڑی کثیر تعداد میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے، ان میں بہت سے تو ایسے تھے جن کے ماننے والے تھے ہی نہیں یا بہت قلیل مقدار میں تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الطھارۃ ص 117: ج 1) ان حضرات کا اہل کفر کے ساتھ قتل و قتال والا مقابلہ ہوا ہی نہیں البتہ دلیل و حجت سے یہ حضرات تکذیب کرنے والوں پر ہمیشہ غالب رہے اور پھر تکذیب کی سزا میں ان کی امتیں ہلاک ہوئیں، یہ بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کا غلبہ ہے۔
پھر جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ماننے والے زیادہ تھے جو لشکر اور فوج بنانے کے لائق تھے ان کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی، ان کے زمانہ کے کافروں نے حق کو نہ مانا تو وہ کافر مغلوب ہوئے، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی فوجوں کے مقابلہ میں شکست کھائی یا عذاب کے ذریعے ہلاک کردئیے گئے جو آیات اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ کافروں کے مقابلہ میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوگا اور یہ بھی نہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں مسلمان غالب ہوجائیں گے، ہاں انجام یہ ہوگا کہ حضرات انبیاء کرام اور ان کے لشکر ہی غالب ہوں گے۔ چناچہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا اور دلیل سے غالب ہونا اور آخرت میں فتح یاب ہونا اور کافروں کا شکست کھانا یہ بات تو بہرحال ہے اگر شاذو نادر کسی نبی کو اس کی قوم نے بلا مقابلہ شہید کردیا جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں (یَقْتُلُوْنَ النَّبِیَیٖنَ ) فرمایا ہے تو یہ واقعات اول تو شاذو نادر ہوئے ہیں عسکری قوت کے مقابلہ میں ایسا نہیں ہوا دشمنوں نے بلا مقابلہ قتل کردیا۔ دوسرے اس میں اللہ کی بعض تکوینی حکمتیں بھی تھیں، لہٰذا ان حضرات کا یہ قتل سورة الصفت اور سورة الرحمن اور سورة المجادلہ کی تصریحات کے خلاف نہیں ہے اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ نہیں فرمایا ہے کہ ہر موقع پر ہر مقابلہ میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کا لشکر غالب ہوگا بلکہ لڑائیوں کا خلاصہ اور حاصل بتادیا ہے۔ غزوۂ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو لشکر تھا اس کو شکست تو ہوئی پھر آخر میں انہی حضرات کو بعد میں فتح ہوئی، غزوۂ احزاب میں بھی کافر بھاگے اور فتح مکہ کے موقع پر بھی مغلوب ہوئے، غزوۂ حنین میں بھی شکست کھائی، طائف والے بھی خود سے آئے مدینہ منورہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، سارا عرب اسلام کا دشمن تھا بالآخر سبھی مغلوب ہوئے، کسریٰ بھی ختم ہوا اور قیصر بھی، انجام کار رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لشکروں ہی کو فتح یابی حاصل ہوئی۔
پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ غزوۂ احد میں جو مسلمانوں نے شکست کا منہ دیکھا وہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے تھا، جیسا کہ سورة آل عمران میں ارشاد فرمایا : (حَتّآی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ) (دیکھو انوار البیان)
رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں امت کو عملی تربیت دینے کے لیے تکوینی طور پر ہر طرح کے واقعات پیش آجاتے تھے۔ غزوۂ بدر میں یہ بتادیا کہ فتح یابی ہو تو کیا کریں، اب عملی طور پر یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ شکست ہو تو کیا کریں، یہ بات غزوۂ احد کے واقعہ نے بتادی اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ شکست کا سبب رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی تھی جس کا صحابہ سے صدور ہوگیا تھا۔
اخلاص اور تقویٰ کی ضرورت
جب تک مسلمان اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ لڑتے رہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر ان کی مدد ہوتی رہی، جب مسلمان اخلاص کھو بیٹھے، دنیا دار ہوگئے، دشمنوں سے دوستی کرلی، خیانتیں کرنے لگے، گناہوں میں کامیابی سمجھنے لگے اس وقت سے تنزل میں آگئے، دشمن انہیں پیٹنے لگے، غزوۂ احد میں جو کچھ انہیں بتایا اور سمجھایا تھا اس کی خلاف ورزی کرنے لگے یعنی گناہوں ہی کو زندگی کا مشغلہ بنا لیا لہٰذا اللہ تعالیٰ کی مدد جاتی رہی اور مغلوب ہونے لگے، جو ممالک اللہ تعالیٰ نے قبضہ میں دئیے تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے۔ مدد کا وعدہ تو ہے لیکن ایمان کی شرط کے ساتھ ہے۔ سورة آل عمران میں جہاں غزوۂ احد کا ذکر ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے (وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور ہمت نہ ہارو اور غمگین مت ہو اور تم ہی بلند ہوگے اگر مومن ہو) آج کا مسلمان اللہ تعالیٰ کی مدد کا انتظار تو کرتا ہے لیکن مدد کی جو شرط ہے اسے پورا کرنے کو تیار نہیں، گناہوں کو چھوڑو پھر مدد دیکھو۔
Ayahs 37:176–179اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سے اعراض فرمائیے وقت گزرنے دیجیے، آپ ان کو دیکھتے رہے یہ بھی دیکھ لیں گے، چناچہ آپ نے دیکھ لیا اور اہل مکہ بدر میں مغلوب ہوئے۔ آپ نے بھی ان کا انجام دیکھ لیا اور انہوں نے بھی۔
(اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) یعنی عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ (مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) ان کا یہ تقاضا کرنا ان کے حق میں اچھا نہیں ہے۔ (فَاِِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو جب وہ ان کے میدان میں نازل ہوجائے گا تو ان لوگوں کی صبح بری ہوگی جن کو ڈرایا گیا) یعنی عذاب کا تقاضا کیوں کرتے ہیں وہ کوئی فائدہ کی چیز تو نہیں ہے، جب عذاب آئے گا وہ دن ان کے حق میں برا ہوگا۔ عام طور سے اہل عرب کا طریقہ تھا کہ صبح کے وقت ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ کیا کرتا تھا اور جس قبیلہ پر حملہ ہوتا تھا وہ (یَا صَبَاحَاہُ ) کی آواز دے کر سب کو مطلع کیا کرتا تھا، اسی محاورے کے مطابق (فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ) فرمایا، ان کی طرف اعراض فرمانے کا حکم دو بار فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آپ ان کو دیکھتے رہیے۔
Ayahs 37:180–182اللہ رب العزت ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں
یہاں سورة الصّٰفّٰت ختم ہو رہی ہے، جو تین آیات اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں پوری سورة کا خلاصہ آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت اور اس کا رب العزت ہونا بیان فرمایا اور جو بھی لوگ اس کی ذات متعالیہ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں یا دل میں اعتقاد رکھتے ہیں ان کی تردید فرمائی اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو سلام کی نعمت سے نواز دیا جو اللہ کے بندوں کے درمیان خیر پہنچانے کا ذریعہ تھے۔ آخری رکوع سے پہلے دو رکوع میں متعدد انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے سلام کا تذکرہ فرمایا تھا یہاں ختم سورة پر (وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ) فرما کر تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کو سلام کی دولت سے نواز دیا۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے
اور آخر میں (وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) فرما دیا کہ ہر طرح کی سب تعریفیں رب العلمین جل مجدہ ہی کے لیے ہیں، اس کے سارے افعال محمود ہیں اور وہ ہمیشہ ہر حال میں حمد وثناء کا مستحق ہے۔
تفسیر روح المعانی میں ہے کہ حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد (مذکورہ بالا) تینوں آیتوں کو پڑھ لے تو اس نے پیمانہ بھر کر ثواب لے لیا۔ اور بعض روایات میں ان آیات کو مجلس کے ختم پر پڑھنے کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے۔ (روح المعانی ج 23: ص 159)
ولقد تم تفسیر سورة الصفت، والحمد للّٰہ رب الصافات والتالیات،
والسلام علیٰ رسلہ اصحاب الباقیات الصالحات وَعَلٰی مَنْ تَبِعَھُمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتٍ