Ayahs 37:75–79حضرت نوح (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور ان کی قوم کا ہلاک ہونا اور ان کی ذریت کا نجات پانا
حضرت نوح اپنی قوم میں ساڑھے نو سو برس رہے، انہیں سمجھایا، توحید کی دعوت دی غیر اللہ کی پرستش چھوڑنے کی تلقین کی، لیکن ان لوگوں نے نہ مانا بس تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔ اہل ایمان کی مختصر تعداد کے علاوہ جو دوسرے لوگ تھے وہ ضد پر اڑے رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کردی (لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنِ دَیَّارًا) (کہ اے رب زمین میں ایک بھی کافر باشندہ مت چھوڑ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ کشتی بنالو، انہوں نے ایک کشتی بنالی، اللہ پاک کی طرف سے پہلے خبر دے دی گئی تھی کہ پانی کا طوفان آئے گا، طوفان آیا، حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنے گھر والوں اور دوسرے اہل ایمان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے، یہ حضرات غرق ہونے سے بچ گئے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو نجات دے دی اور اہل کفر سب غرق ہوگئے، ان غرق ہونے والوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا بھی تھا اور ایک بیوی بھی تھی۔
ارشاد فرمایا (وَلَقَدْ نَادٰنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ) (اور واقعی یہ بات ہے کہ نوح نے ہمیں پکارا، سو ہم کیا ہی خوب دعا قبول کرنے والے ہیں) یعنی ان کی دعا قبول فرمائی (وَنَجَّیْنٰہُ وَاَھْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ ) (ہم نے نوح کو ان کے گھر والوں کو بڑے غم سے یعنی ڈوبنے کی مصیبت سے نجات دے دی) (وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ ) (اور ہم نے ان کی ذریت کو باقی رکھا) (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ ) (اور بعد کے آنے والوں میں ان کے لیے ہم نے یہ بات رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو جہانوں میں) اللہ تعالیٰ نے ان پر کئی طرح سے انعام فرمایا، اول تو انہیں اور ان کے اہل و عیال کو غرق ہونے سے بچالیا۔ دوسرے ان کی نسل کو دنیا میں باقی رکھا جو آج تک چل رہی ہے۔ اور تیسرے یہ انعام فرمایا کہ بعد کے آنے والوں میں ان کا ذکر جاری رکھا، ان کے بعد جو انبیائے کرام (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کی امتیں وجود میں آئیں سب نے آپ پر سلام بھیجا، اور سلام میں بھی عموم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) جہاں بھی ہوں جس عالم میں بھی ہوں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو۔
Ayah 37:80پھر فرمایا (اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم احسان والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں) کسی کام کا اچھی طرح انجام دینے کو احسان کہا جاتا ہے۔ نیت کو درست کرنا، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل کرنا اس کی بڑی اہمیت ہے، اسی لیے ترجمہ میں (الْمُحْسِنِیْنَ ) کا ترجمہ (مُخْلِصِیْن) کیا گیا ہے۔
Ayah 37:81(اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ وہ مومن بندوں میں سے تھے) ایمان ہی تو اصل چیز ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقبولیت نہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے پھر بھی ان کے ایمان کا تذکرہ فرمایا اور اس سے پہلے احسان کا تذکرہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے ساتھ احسان بھی ضروری ہے انہی سے اللہ کے نزدیک تر قیات ہوتی ہیں، لیکن نبوت وہبی چیز ہے کسبی چیز نہیں، اور رسول اللہ ﷺ پر وہ بالکل ہی ختم ہوگئی۔
Ayah 37:82(ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ) (پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو غرق کردیا) یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) ، آپ کے اہل و عیال اور اہل ایمان کو نجات دے دی اور ان کے علاوہ کو غرق کردیا۔
کیا طوفان نوح سارے عالم کو محیط تھا ؟
حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدمی ثانی کہا جاتا ہے اور یہ بات مشہور ہے کہ ان کے بعد دنیا میں جو آبادی ہوئی وہ سب ان ہی کی اولاد سے ہے قرآن مجید کی آیت (وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ ) سے بھی یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ یہ الفاظ حصر پر دلالت کرتے ہیں۔
حضرت سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰقِیْنَ ) کی تفسیر میں (حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے) یوں فرمایا کہ یہ حام اور سام اور یافث تھے۔ امام ترمذی ؓ نے اس کے بارے میں فرمایا : (ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ) پھر حضرت سمرہ ؓ ہی سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ سام عرب کا جد اعلیٰ اور حام حبشیوں کا جد اعلیٰ اور یافث رومیوں کا جد اعلیٰ تھا۔ (سنن ترمذی تفسیر سورة الصفت)
اور معالم التنزیل میں حضرت سعید بن المسیب ؓ تابعی سے یوں نقل کیا ہے کہ سام عرب اور فارس اور روم کا جد اعلیٰ تھا۔ اور حام سوڈان یعنی کالے لوگوں کا جد اعلیٰ تھا۔ اور یافث ترکوں کا اور یاجوج ماجوج کا اور جو ان کے قریب اقوام رہتی ہیں ان کا جد اعلیٰ تھا۔
اگر طوفان پورے عالم میں آیا ہو اور زمین پر جتنی بھی آبادیاں تھیں ان سب کو غرق کردیا گیا ہو تو پھر یہی متعین ہوجاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے آگے دنیا آباد ہوئی، لیکن اس میں یہ اشکال باقی رہ جاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ جن اہل ایمان نے نجات پائی تھی کیا ان کی نسلیں نہیں چلیں ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے : وقدروی انہ مات کل من فی السفینۃ ولم یعقبوا عقبًا باقیًا غیر الثلث سام و حام ویافث وازواجھم فانھم بقوا متناسلین الی یوم القیمۃ (روایت ہے کہ کشتی میں جو تھے سب مرگئے سوائے حام، سام، یافث اور ان کی بیویوں کے اور کوئی نہیں بچا۔ قیامت تک انہیں تین کی نسل چلتی رہے گی) یعنی ” حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ جو لوگ کشتی میں تھے وہ لوگ غرق ہونے سے نجات پاکر کشتی سے اتر کر اپنی اپنی اجل کے مطابق مرگئے اور ان میں سے کسی کی نسل نہیں چلی صرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے سام، حام اور یافث اور ان کی بیویاں باقی رہیں جن کی قیامت تک نسل جاری رہے گی۔ “ صاحب روح المعانی نے لکھ تو دیا لیکن سند پیش نہیں کی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ کس کا قول ہے۔
عام طور پر جو یہ مشہور ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہی کی اولاد سے آگے نسل چلی، اس کے مقابل دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کے علاوہ دوسری نسلیں بھی دنیا میں چلتی رہی ہیں۔ جن لوگوں نے یہ بات کہی ہے ان کا قول اس پر مبنی ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) عام نہیں تھا، ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت تمام اقوام کے لیے عام نہیں تھی کیونکہ یہ صرف خاتم الانبیاء ﷺ کی خصوصیت ہے، جب ان کی بعثت عام نہیں تھی تو جو لوگ ان کے مخاطب تھے انہوں نے ان کی نبوت کا انکار کیا اور انہی کے لیے بد دعا فرمائی اور وہی لوگ ہلاک ہوئے۔ اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ آیت کریمہ کے الفاظ سے تو حصر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہی کی ذریت کو باقی رکھا، اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ یہ حصر کشتی والوں سے متعلق ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کشتی میں سوار تھے ان میں سے صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے نسل چلی، باقی دنیا جو اپنی جگہ آباد تھی اس میں بسنے والوں اور ان کی نسلوں کا تذکرہ نہیں ہے۔ (واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب) (راجع روح المعانی ج 23: ص 98)
(وقد وقع فی قلبی اللّٰہِ تعالیٰ وکرمہ انہ یمکن ان یقال انّ الارض لم تکن معمورۃ ببنی اٰدم کانت اقطارھا کلھا یعیش فیھا الانسان وکان عمر انھا فی مناطق محدودۃ ولم تکن الاّ امۃ واحدۃ لعدم الامتداد الطویل من عھد اٰدم (علیہ السلام) مکان جمیع النّاس مخاطبین لہ فلمّا انکروا اُغْرِقُوْا وھذا لا ینافی کون بعثۃ النبی ﷺ عامۃ لانھا عمت لجمیع افراد البشر ولسائر الاقوام والجمیع الامکنۃ والازمنۃ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب) (اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے دل میں یہ بات آگئی ہے کہ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت پوری زمین میں انسان آباد نہیں تھے فقط محدود علاقوں میں آبادی تھی۔ وہ محدود آبادی گویا بس ایک ہی امت تھی کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو کوئی لمبا عرصہ نہیں گذرا تھا، لہٰذا اس وقت کے سب لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے مخاطب تھے۔ جب انہوں نے انکار کیا تو سب غرق کیے گئے۔ اور یہ توجیہ حضور ﷺ کی عمومی بعثت کے منافی نہیں ہے کیونکہ حضور ﷺ کی رسالت تمام انسانی افراد، اقوام اور تمام ممالک و زمانوں کو عام ہے۔ )
Ayah 37:83حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بتوں کو توڑ دینا پھر آگ میں ڈالا جانا اور صحیح سالم محفوظ رہ جانا
یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے، ارشاد فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا اتباع کرنے والوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے۔
اتباع کا مطلب کیا ہے ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان دونوں کی شریعتوں میں اصول دین میں تو اتفاق تھا ہی احکام میں بھی اکثر اتفاق تھا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ تابع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت کے کام میں بہت محنت کی اور تکلیفیں برداشت کیں اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی جم کر دعوت کا کام کیا اور بڑی بڑی مشقتیں برداشت کیں، حتیٰ کہ آگ میں ڈالے گئے۔
Ayahs 37:84–98(اِِذْ جَاءَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (جبکہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آئے) سلیم سالم کے معنی میں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا دل لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے کہ عقائد بالکل صحیح تھے، نیت خالص تھی، صفات قبیحہ مثلاً حسد، کھوٹ کپٹ سے خالی تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک گفتگو کا تذکرہ فرمایا جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں، کما ذکر فی سورة الشعراء۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ کے معبودوں کو چاہتے ہو ؟ (فَمَا ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) سو رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ تم اس کی عبادت بالکل ہی نہیں کرتے یا اس کی عبادت تو کرتے ہو لیکن ساتھ ہی بتوں کو بھی شریک بنا رکھا ہے یعنی ساتھ ہی ان کی بھی عبادت کرتے ہو۔
صاحب روح المعانی نے اس کا ایک یہ مطلب لکھا ہے کہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا خیال ہے، کیا وہ تمہاری اس جرأت پر عذاب نہ دے گا کہ تم نے جھوٹے معبود بنالیے اور تمہیں کچھ بھی ڈر نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی اور بت پرست اقوام کی طرح میلے لگتے تھے، ایک مرتبہ قوم اپنے بتوں کے سامنے کھانا رکھ کر میلے میں شریک ہونے کے لیے چلی گئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ تم بھی چلو، چونکہ یہ لوگ ستاروں کی تاثیر کے قائل تھے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پیچھا چھڑانے اور ان کے پیچھے ان کے بتوں کی توڑ پھوڑ کے لیے ستاروں کی طرف ایک نظر دیکھا اور فرمایا کہ میں تو بیمار ہونے والا ہوں تمہارے ساتھ کیسے جاؤں، وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر چلے گئے آپ نے ان کے پیچھے بت خانہ کا رخ کیا اور وہاں جاکر اول تو ان بتوں کا مذاق بنایا اور فرمایا کیا بات ہے کہ تم کھاتے نہیں ہو ؟ (کھانے کی چیزیں وہاں پہلے سے رکھی ہوئی تھیں، مشرکین وہاں متبرک بنانے کے طور پر رکھ کر گئے تھے تاکہ واپس ہو کر کھائیں) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یہ بھی کہا کیا بات ہے تم بولتے نہیں ؟ بت تو بت ہیں کیا جواب دیتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان پر کلہاڑا لے کر پل پڑے اور مار مار کر ان کا تیہ پانچہ کردیا اور توڑ کر رکھ دیا۔ اس میں جو لفظ بالیمین وارد ہوا ہے اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں، اول یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے حملہ کیا اور دوسرے یہ کہ پوری قوت کے ساتھ مار بجائی۔
جب وہ لوگ میلہ سے واپس ہوئے اور بتوں کو اس حال میں پایا کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے ہیں، تو اول تو آپس میں پوچھنے لگے کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ پھر کہنے لگے کہ ہاں وہ ایک نوجوان جسے ابراہیم کہا جاتا ہے وہ ایک دن کہہ رہا تھا کہ میں ایک دن ان کے بارے میں ایک تدبیر نکالوں گا، ہو نہ ہو ایسا کام کرنے والا ابراہیم ہی ہوگا، کہنے لگے اسے بلاؤ سب لوگوں کے سامنے بات ہوگی، اس مشورے کے بعد جلدی جلدی حضرت ابراہیم کے پاس دوڑے ہوئے آئے اور آپ سے دریافت کیا کیا تم نے ہمارے بتوں کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ فرمایا یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے انہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں ؟ کہنے لگے تم جانتے ہو یہ تو بولتے نہیں ہیں ! فرمایا تو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو تمہیں کچھ بھی نفع اور ضرر نہیں پہنچا سکتے، تف ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پر، یہ سوال اور جواب سورة الانبیاء میں مذکور ہے۔
یہاں سورة الصافات میں فرمایا ہے (قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ) کیا تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود ہی تراش کر اور کاٹ چھانٹ کرکے بنا لیتے ہو (وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) اور حال یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا اور جن چیزوں کو تم بناتے ہو انہیں بھی اسی نے پیدا فرمایا ہے۔
مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کا دلیل سے تو جواب نہ دے سکے البتہ آپس میں یہ طے کیا کہ ان کے لیے ایک مکان بناؤ یعنی ایک چار دیواری تیار کرو، پھر اس میں بہت زیادہ آگ جلاؤ اور اس شخص کو اس آگ میں ڈال دو ۔
چنانچہ انہوں نے ایک بڑی جگہ بنائی اور اس میں خوب آگ جلائی پھر منجنیق کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ میں ڈال دیا، آگ کو اللہ کا حکم ہوا کہ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی والی بن جا، ابراہیم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، چناچہ آگ اللہ کے حکم سے ٹھنڈی ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بال بھی بیکا نہ ہوا، اب تو دشمنوں نے منہ کی کھائی، سب حیران رہ گئے۔ اسی کو فرمایا (فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ) (سو ان لوگوں نے ابراہیم کو تکلیف پہنچانے کی تدبیر کی سو ہم نے ان لوگوں کو نیچا کردیا) وہ ذلیل ہوئے اور سب نے نیچا دیکھا۔
اس قصہ کی تفصیل سورة الانبیاء (رکوع 4) میں بھی گزر چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو (اِنِّیْ سَقِیْمٌ) فرمایا تھا اس کے بارے میں بھی وہاں ضروری بحث لکھ دی گئی، مطالعہ کرلیا جائے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ستاروں کی طرف دیکھ کر اپنی قوم کو جواب دیا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں، تو ستاروں کی طرف کیوں دیکھا اور کیا ستاروں سے انسانوں کے احوال اور امراض اور اسقام کا کوئی تعلق ہے ؟ پہلی بات کا جواب اوپر گزر چکا ہے کہ چونکہ وہ لوگ ستاروں کو مانتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہمارے حالات کا ستاروں سے تعلق ہے اس لیے ستاروں کو بہانہ بنا کر ان لوگوں کو چلتا کردیا اور خود وہیں رہ گئے۔ اب رہا دوسرا سوال تو اس کے بارے میں حضرت حکیم الامت قدس سرہ، ” بیان القرآن “ میں لکھتے ہیں کہ علم نجوم شرعاً مذموم ہے خواہ اس وجہ سے کہ وہ باصلہ باطل ہے اور کواکب میں سعادت و نحوست منفی ہے اور یا اس وجہ سے مذموم ہے کہ کواکب کو سعادت اور نحوست میں گو ثبوت عدم نہ ہو مگر عدم ثبوت ہے اور اس کے قواعد کسی دلیل صحیح کی طرف مستند نہیں اور پھر مفاسد کثیرہ اس پر مرتب ہوتے ہیں اعتقاد قبیح اور شرک صریح اور ضعف توکل علی اللہ اور ترک علوم نافعہ وغیرہ ذلک۔ حاصل یہ ہے کہ علم نجوم مذموم ہے خواہ قبح لعینہ کی وجہ سے مذموم ہو خواہ قبح لغیرہ کی وجہ سے۔ (انتہیٰ ملخصا)
Ayahs 37:99–103حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے علاقہ سے ہجرت کرنا پھر بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم ملنا اور فرمانبرداری میں کامیاب ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن بابل کے قریب تھا انہوں نے وہاں کے مشرکین کو شرک سے باز آنے اور خالق کائنات وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی، یہ لوگ شرک سے باز نہ آئے، آپ نے ہجرت کا اعلان کردیا اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں یعنی کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوتا ہوں جہاں اپنے رب کے احکام ادا کرسکوں اور دوسروں کو بھی راہ حق دکھا سکوں، میرا رب میری رہبری فرمائے گا اور مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں رہنے سے اس کی رضا مندی حاصل ہوگی، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام کو ہجرت کر گئے اور وہاں جاکر آباد ہوگئے، حضرت لوط (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ تھے، دونوں نے سرزمین شام کے لیے ہجرت کی اور فلسطین کے علاقے میں جاکر آباد ہوگئے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک بیوی تو سفر ہی میں ان کے ساتھ تھیں جن کا نام سارہ ؓ تھا اور دوسری بیوی ایک بادشاہ نے پیش کردی تھی جن کا نام ہاجرہ ؓ تھا، جس بادشاہ نے حضرت سارہ ؓ کو پکڑوا کر بلایا تھا اسی نے حضرت ہاجرہ کو بطور خادمہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا تھا (جس کا قصہ سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے) حضرت سارہ ؓ اسحاق ؓ کی والدہ تھیں اور حضرت ہاجرہ ؓ ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ تھیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ایک ایسا فرزند عطا فرمائیے جو صالحین میں سے ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا۔ مفسر ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ سب علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں جس بیٹے کی بشارت کا ذکر ہے اس سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی مراد ہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے، کچھ بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں اور ان کی والدہ کو اللہ کے حکم سے مکہ معظمہ کی سرزمین میں چھوڑ دیا، پھر بنی جرہم کا قبیلہ بھی وہاں آکر آباد ہوگیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین سے اپنی بیوی اور بیٹے کی خبر لینے مکہ معظمہ جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، انبیاء کرام (علیہ السلام) کا خواب سچا ہوتا تھا اور اللہ کی جانب سے ہوتا تھا، ایسی بات اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دئیے جانے کے مترادف سمجھی جاتی تھی اس لیے انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے جواب دیا : (یَااَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِِنْ شَآء اللّٰہُ مِنْ الصَّابِرِیْنَ ) (یعنی اے ابا جان آپ کو جو حکم ہوا ہے اس پر عمل کرلیجیے آپ مجھے انشاء اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ )
چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ مکرمہ سے لے کر چلے اور منیٰ میں جاکر ذبح کرنے کی نیت سے ایک چھری ساتھ لی (منیٰ مکہ معظمہ سے تین میل دور دو پہاڑوں کے درمیان بہت لمبا میدان ہے) جب منیٰ میں داخل ہوئے تو ان کے بیٹے کو شیطان بہکانے لگا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پتہ چلا تو اللہ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا، دونوں باپ بیٹے آگے بڑھے تو زمین نے شیطان کو چھوڑ دیا، پھر قریب آکر ورغلانے لگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پھر اللہ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا، یہ دونوں آگے بڑھے تو پھر زمین نے اس کو چھوڑ دیا، پھر قریب آکر ورغلانے لگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پھر اللہ اکبر کہہ کر اسے سات کنکریاں ماریں، پھر وہ زمین میں دھنس گیا اور اس کے بعد آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا۔
Ayahs 37:104–105(وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَّاِبْرٰھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا) (اور ہم نے ابراہیم کو آواز دی کہ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا) خواب میں جو حکم دیا گیا تھا اپنی طرف سے اس کا انجام دینے میں ذرا بھی کسر نہ چھوڑی۔ (اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم مخلصین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ )
Ayahs 37:106–107(اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِیْنُ ) (بلاشبہ یہ کھلا امتحان ہے) (وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ) (اور ہم نے اس کے بدلہ ایک بڑا ذبیحہ دے دیا) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ (انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی لیکن گلا نہ کٹا، مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گلے کو تانبے کا بنا دیا جس پر چھری نے کچھ کام نہ دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا ذبیحہ بھیج دیا۔
Ayahs 37:108–111حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو جنت سے لایا گیا تھا، اور بعض روایات میں ہے کہ اس مینڈھے کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی اِِبْرٰھِیْمَ ) (اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ابراہیم کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی کہ سلام ہو ابراہیم پر) (کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) چناچہ بعد کے آنے والی تمام امتوں میں ان کا اور ان کی قربانی کا تذکرہ ہے اور اہل شریعت کے احکام اس شریعت سے ماخوذ ہیں اور نماز میں جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ تو نمازیوں کو یاد ہی ہے انہوں نے دعا بھی کی تھی (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الاْٰخِرِیْنَ ) (اور اے اللہ بعد کے آنے والوں میں میرا اچھا تذکرہ جاری رکھیے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور برابر ان کا ذکر خیر جاری ہے اور برابر ان کے لیے سلام کی دعا اہل ایمان کی زبانوں سے نکلتی ہے۔ (اِِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں۔ )
نیک نیتی پر ثواب
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بہت بڑی قربانی دی، اپنے وطن میں آگ میں ڈالے گئے اسے خوشی سے منظور کرلیا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حفاظت فرمائی اور صحیح سالم آگ سے باہر آگئے، پھر جب ہجرت فرما کر شام آگئے اور مکہ معظمہ میں اپنی بیوی اور ایک بچے کو آباد کردیا، پھر جب اس کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تو اسے بھی ذبح کردیا۔ (یعنی اپنی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی) اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی مدد فرمائی اور ان کے بیٹے کو بچالیا اور اس کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی کوئی شخص سچی نیت سے اور سچے دل سے کسی عمل کا ارادہ کرے اور پھر وہ کام نہ کرسکے تب بھی اس کا ثواب مل جاتا ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے لیے (اپنے گھر سے) نکل گیا پھر راستہ میں مرگیا تو اس کے لیے اللہ جل شانہٗ مجاہد اور حاجی اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب لکھ دے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 223)
قرآن شریف میں وارد ہے (وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْم بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ) (سورۃ النساء) اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل جائے پھر اس کو موت آجائے تو اللہ کے ذمہ اس کا ثواب ثابت ہوگیا۔
حدیث شریف میں یہ بھی وارد ہے کہ جو شخص تہجد کی نماز پڑھنے کی نیت سے سو گیا اور پھر آنکھ نہ کھل سکی تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ (الترغیب والترہیب ص 409)
امت محمدیہ کے لیے قربانی کا حکم
حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کے واقعہ سے قربانی کی ابتداء معلوم ہوئی، اور حج کے موقع پر منیٰ میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں ان کی ابتداء بھی اسی قصہ سے ہے۔ انہی تین جگہوں میں کنکریاں مارتے ہیں جہاں شیطان زمین میں دھنس گیا تھا، جگہ کی نشاندہی کے لیے پتھر کے مینار بنا دئیے گئے ہیں۔ اس کے بعد سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے ان جگہوں میں حج کے موقع پر کنکریاں مارنا اور جانوروں کی قربانی کرنا عبادت میں شمار ہوگیا ہے، چناچہ امت محمدیہ کے لیے قربانی مشروع ہوگئی، صاحب حیثیت پر قربانی واجب ہے اور اگر کسی کی اتنی حیثیت نہ ہو اور قربانی کردے تب بھی ثواب عظیم کا مستحق ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا (مَنْ وَّجَدَ سِعَۃً لِاَنْ یُّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَحْضُرْ مُصَلاَّنَا) (الترغیب والترہیب ج 2: ص 103) یعنی جو شخص وسعت ہوتے ہوئے بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فرمائی۔ (مشکوٰۃ)
ان حدیثوں سے قربانی کی بہت زیادہ تاکید معلوم ہوئی۔ حضور اقدس ﷺ کے پابندی سے قربانی کرنے اور اس کی تاکید کرنے کی وجہ سے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے اہل وسعت پر قربانی کو واجب کہا ہے اور فرمایا ہے کہ صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے (واجب کا درجہ فرض کے قریب ہے بلکہ عمل میں فرض کے برابر ہے) صاحب نصاب کون ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے کتب فقہ کی مراجعت کی جائے۔
چونکہ اصل خون بہانا یعنی جان، جان آفرین کے سپرد کرنا ہے اس لیے قربانی کے ایام میں اگر کوئی شخص قربانی کی قیمت صدقہ کردے یا اس کی جگہ غلہ یا کپڑا محتاجوں کو دیدے تو اس سے حکم کی تعمیل نہ ہوگی اور ترک قربانی کا گناہ ہوگا اور ہر بال کے بدلہ نیکی ملنے کی جو سعادت تھی اس سے محرومی ہوگی۔
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے صحابہ ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جاری کیا ہوا طریقہ ہے، پھر سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہمارے لیے قربانی میں کیا ثواب ہے ؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ ؓ نے پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ اون کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟ فرمایا (اگر قربانی کے طور پر ایسا جانور ذبح کیا جو اون والا ہو مثلاً دنبہ ہو تو) اس کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ملے گی۔ (رواہ احمد وابن ماجہ)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یوم النحر (ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کے دن) کسی شخص نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو اللہ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب ہو اور ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن قربانی کرنے والا قربانی کے جانور کے سینگوں اور بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا، مزید فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت کا درجہ پالیتا ہے لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (رواہ ابن ماجہ والترمذی وقال حسن غریب والحاکم وقال صحیح الاسناد فی الترغیب ص 104: ج 2)
حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنی قربانی کے قریب کھڑی ہوجاؤ کیونکہ قربانی کے خون کا قطرہ جو گرے گا اس کی وجہ سے تمہارے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ ثواب ہمارے لیے یعنی اہل بیت کے لیے مخصوص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ثواب ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ (رواہ البز اور ابو شیخ ابن حبان فی کتاب الضحایا وغیرہ کما فی الترغیب ص 104: ج 2)
Ayahs 37:112–113حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت
(وَبَشَّرْنَاہُ بِاِِسْحَاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اور ہم نے ابراہیم کو بشارت دی اسحاق کی کہ وہ نبی ہوں گے صالحین میں سے) (وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰی اِِسْحَاقَ ) (اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں) (وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ) (اور ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کھلے طور پر اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو بیٹے عطا فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے جن کے ذریعے مکہ معظمہ آباد ہوا ہے اور ان کے ساتھ مل کر انہوں نے کعبہ شریف تعمیر کیا اور جن کی نسل سے خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے دوسرے مشہور صاحبزادہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے، ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے جن کا لقب اسرائیل تھا، ان کے بارہ بیٹے تھے، بنی اسرائیل انہیں کی اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت برکت دی، ان کی نسل بھی بہت ہوئی اور ان میں انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی کثیر تعداد میں ہوئے، اللہ تعالیٰ کی کتابیں بھی ان پر نازل ہوئیں اور صحیفے بھی۔
آخر میں جو یہ فرمایا کہ ان کی ذریت میں محسنین بھی ہیں اور ظالمین میں۔ اس میں یہ بتادیا کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی نسلوں میں ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں ہے، جو ایمان سے محروم ہوگا اور عمل صالح سے دور ہوگا وہ کسی مقبول بندہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نجات کا مستحق نہیں ہوسکتا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کون سا فرزند ذبیح تھا
اس میں اختلاف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جس بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم اللہ نے دیا تھا وہ کون سا بیٹا تھا، اہل کتاب تو یہی کہتے ہیں کہ وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے اور امت محمدیہ میں سے بھی بعض علماء نے اسی کو اختیار کیا ہے لیکن بہت سے اہل تحقیق فرماتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے، ان حضرات کی دو دلیلیں زیادہ وزنی ہیں، ایک تو یہ کہ سورة الصفت میں اولاً یہ فرمایا کہ (فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلاَمٍ حَلِیْمٍ ) پھر متصلاً یوں فرمایا (فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَابُنَیَّ اِِنِّی اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّی اَذْبَحُکَ ) اس کے بعد ذبح کا قصہ ذکر فرمایا، پھر فرمایا (وَبَشَّرْنٰہُ بِاِِسْحَاقَ نَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) لہٰذا کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس بیٹے کی اولاً خوشخبری دی گئی وہی ذبیح تھے اور وہ اسحاق (علیہ السلام) کے علاوہ تھے، دوسری دلیل جو پہلی دلیل سے زیادہ وزن دار یہ ہے کہ سورة ہود میں فرمایا (فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ) کہ ہم نے اس عورت (یعنی ابراہیم کی بیوی سارہ) کو اسحاق کی خوشخبری دی اور ہم نے یہ خوشخبری بھی دی کہ اسحاق کے بعد یعقوب کا بھی تولد ہوگا، اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس بیٹے کو ذبح فرمایا وہ نابالغ تھا اسی لیے اسے یٰبنی کہہ کر خطاب کیا، اور جب کسی کے بارے میں پہلے سے کہہ دیا جائے کہ اس سے اولاد بھی ہوگی اور پھر یوں کہہ دیا جائے کہ اس کو ذبح کردو تو اس میں امتحان کا خاص پہلو نہیں نکلتا جسے ذبح کرنے کا حکم دیا جائے وہ پہلے سے جانتا ہے کہ یہ ذبح ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اسے بالغ بھی ہونا ہے اور اس کی اولاد بھی ہونی ہے۔ صاحب الدر المختار لکھتے ہیں کہ (المختار ان الذبیح اسماعیل، وفی القاموس انہ اصح قال ومعناہ مطیع اللّٰہ) صاحب رد المحتار اس پر تعلیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ (قلت وبہ قال احمد ورجعہ غالب المحدثین)