Ayahs 37:37–49کافر درد ناک عذاب میں ہوں گے اور اللہ کے مخلص بندے عزت کے ساتھ تختوں پر جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے
اس میں منکرین اور معاندین کی تردید ہے، ارشاد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا رسول شاعر یا دیوانہ ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ حق لے کر آیا ہے اور آپ نے اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کی ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے آئے، ان کی دعوت حق تھی اور اس نبی (یعنی امام الانبیاء) کی دعوت بھی حق ہے، تم شرک پر اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو اور دعوت توحید قبول کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہو، لا محالہ تمہیں درد ناک عذاب چکھنا ہی ہوگا اور تمہیں جو عذاب ہوگا وہ صرف تمہارے کیے ہوئے اعمال ہی کا بدلہ ہوگا۔
رہے مومن مخلص بندے سو وہ اپنے ایمان کی وجہ سے عذاب سے محفوظ ہوں گے بلکہ ان کا انعام و اکرام کیا جائے گا، ان کے لیے رزق معلوم ہوگا جو ہر اعتبار سے عمدہ ہوگا۔ فواکہ یعنی میوے ہوں گے جنہیں پوری رغبت اور اشتہاء کے ساتھ کھائیں گے کما فی سورة الواقعۃ (وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ ) یہ حضرات اللہ کے نزدیک معزز اور مکرم ہوں گے، نعمت کے باغیچوں میں ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے، ان پر جام و شراب کا دور چلے گا۔ وِلْدَانْ اور غِلْمَانْ ایسی شراب کے جام بھر بھر کر لائیں گے جو جاری یعنی بہتی ہوئی ہوگی۔ جنت میں جیسے پانی اور دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی ایسے ہی شراب کی بھی نہریں ہوں گی اور رنگ کے اعتبار سے یہ شراب سفید ہوگی اور مزہ کے اعتبار سے پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی۔ اور کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ شراب میں تو نشہ ہوتا ہے جس سے آدمی کے ہوش و حواس ٹھیک نہیں رہتے، شراب پی کر اگر نشہ طاری ہوا اور ہوش و حواش صحیح نہ رہے تو کیا مزہ رہے گا ؟ اس وسوسہ کو دور کرتے ہوئے فرمایا (لاَ فِیْہَا غَوْلٌ) (نہ تو اس میں درد سر ہوگا) یہ ترجمہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور انہیں سے اس کا یہ مطلب بھی منقول ہے کہ (لَیْسَ فِیْھَا نَتْنٌ وَلاَ کَرَاھِیَۃ کَخَمْرِ الدُّنْیَا) اس میں دنیا والی شراب کی طرح نہ بدبو ہوگی نہ اس سے کراہت ہوگی۔ (ذکرہ صاحب الروح) (وَلاَ ھُمْ عَنْہَا یُنْزَفُوْنَ ) (اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا) خلاصہ یہ ہے کہ شراب لذیذ بھی ہوگی اور کسی قسم کی ظاہری یا باطنی تکلیف بھی نہیں پہنچے گی، شراب پی کر بھی حسب سابق ہوش گوش برقرار رہے گا۔
مخلص بندوں کو جو نعمتیں ملیں گی، ان میں بڑی بڑی آنکھوں والی حسین و جمیل بیویاں بھی ہوں گی، وہ صفائی ستھرائی میں ایسی ہوں گی جیسے دنیا میں پرندوں کے انڈے ہوتے ہیں جنہیں جانور اپنے پروں میں چھپا کر رکھتے ہیں جنت کی ان بیویوں کو جو بیض مکنون سے تشبیہ دی ہے یہ تشبیہ صفائی اور گرد و غبار اور داغ دھبے سے محفوظ رہنے میں ہے، اہل عرب عورتوں کو انڈوں سے تشبیہ دیتے تھے اور انہیں بیضات خدور کہتے تھے، لہٰذا سورة رحمن میں جو (کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) فرمایا یہ اس کے منافی نہیں ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے کہ حورعین کے رنگ مختلف ہوں، سفید بھی ہوں سرخ بھی ہوں۔ لیکن چونکہ خالص سفید رنگ (جو انڈے کی طرح ہو) عورتوں میں محبوب و مرغوب نہیں سمجھا جاتا اس لے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس رنگ میں زردی کی آمیزش ہوگی، سفیدی اور زردی مل کر ایک خوشنما منظر دیکھنے میں آئے گا۔ (ھذا ملخص ما ذکرہ صاحب الروح والذی سنح فی قلبی انہ لیس من الضروری ان تکون البیضۃ بیضاء فقد رأینا بیضاً ذات الوانٍ اخریٰ غیر بیاضٍ وَلَیْس فی لفظ الاٰیۃ ما یدل علیٰ وجہ الشبہ ولمّا کان فی الجنۃ کل نعمۃ حسب رغباتً اھلھا یکون لونھن احسن اجمل ایا ما کان۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب) (یہ تو اس کا خلاصہ ہے جو صاحب روح المعانی نے ذکر کیا ہے۔ اور جو بات میرے دل میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ انڈہ سفید ہی ہو ہم نے سفیدی کے علاوہ کئی رنگوں والے انڈے دیکھے ہیں۔ اور آیت کے الفاظ میں بھی اس پر شبہ کی کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا جب جنت میں جنتیوں کے حسب منشاء ہر نعمت ہوگی تو عورتوں کا رنگ بھی حسین و خوبصورت ہوگا خواہ کوئی بھی ہو۔ )
جنت کی بیویوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ (قَاصِرات الطَّرْفِ ) ہوں گی جس کا ترجمہ ” نیچی نظروں والی “ کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں کی طرف نظر رکھیں گی کسی غیر کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گی، دنیا کی مومن عورتوں کو جنتی حوروں کی طرح (قَاصِرات الطَّرْفِ ) ہونا چاہیے۔
Ayahs 37:50–57ایک جنتی اور ایک دوزخی کا مکالمہ
اہل جنت، جنت کی نعمتوں میں مشغول ہوں گے، آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے آپس میں باتیں بھی ہوں گی، دل لگی کے طور پر چھینا جھپٹی بھی ہوگی، جیسا کہ سورة الطور میں (یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا) فرمایا۔ انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہوگی کہ جنتیوں میں سے ایک جنتی یوں کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ خود مومن نہ تھا مجھے بھی سرزنش کرتا تھا اور قیامت پر ایمان لانے کو بیوقوفی سمجھتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھیں گے، تو ہی بتا کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اور اپنے اپنے اعمال کی جزا و سزا پائیں گے، میری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی۔
بات کرتے کرتے وہ شخص کہے گا میں تو جنت میں آگیا اور وہ ساتھی جو جزا سزا کی تصدیق نہیں کرتا تھا اور مجھے بھی اس سے روکتا تھا وہ دوزخ میں چلا گیا، آؤ ذرا دوزخ میں جھانک کر دیکھیں تو سہی اس کا کیا حال ہے ؟ یہ بات کہہ کر جب وہ شخص دوزخ میں جھانکے گا تو اسی ساتھی کو جو ایمان سے روکتا تھا اور خود کافر تھا دوزخ کے درمیان دیکھ لے گا، جب وہ نظر آئے گا تو اس سے کہے گا کہ تو نے اپنا انجام دیکھ لیا، تو تو مجھے بھی ایمان لانے سے روکتا تھا، قریب تھا کہ تو میرا بھی ناس کھو دیتا، اگر میں تیری مان لیتا تو آج میں بھی دوزخ میں ہوتا، اللہ تعالیٰ ہی نے مجھ پر فضل فرمایا کہ اس نے مجھے ایمان کی توفیق دی اور کفر سے بچایا، اللہ کی توفیق اور فضل و کرم نہ ہوتا تو آج میں بھی انہیں لوگوں میں ہوتا جو عذاب کے لیے دوزخ میں حاضر کردئیے گئے۔
جنت میں ہوتے ہوئے دوزخ میں کیسے نظر آجائے گا اور جنتی آدمی کو اپنا دنیا والا ساتھی جو منکر بعث تھا کیسے نظر آجائے گا ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اہل جنت کی نظر کو تیز پیدا فرما دے اور انہیں ایسی قوت دے دے جس کے ذریعے جس کو چاہیں دیکھ سکیں۔ اور دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جب جنتی حضرات دوزخ میں نظر ڈالنا چاہیں گے تو اعراف پر کھڑے کردئیے جائیں گے۔ اور بعض حضرات سے نقل کرتے ہوئے تیسرا جواب یہ دیا ہے کہ جنت میں کچھ طاقچے ہوں گے ان سے دوزخ والوں کو دیکھ لیں گے، یہ جواب پرانے زمانے کے اعتبار سے ہیں، اب تو دیکھنے، سننے اور بات کرنے کے لیے ایسے نئے آلات نظروں کے سامنے آگئے ہیں کہ احتمالات بعیدہ نکالنے کی ضرورت ہی نہیں رہی، پہلا جواب احوال حاضرہ کے مناسب ہے۔ (وَیَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ )
Ayahs 37:58–59(اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ) وہ جنتی شخص جو اپنے ساتھی کو دوزخ میں دیکھے گا اس سے خطاب کرنے کے بعد پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر یوں کہے گا۔ یہی بات ہے ناکہ اب ہم مرنے والے نہیں ہیں، وہ پہلی موت جو دنیا میں آئی تھی اس کے بعد اب اور کوئی موت نہیں، ہمیشہ ہمیں جنت میں رہنا ہے اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا۔ (قال صاحب الروح : والمراد استمرار النفی وتاکیدہ وکذا فیما تقدم و استمرار ھذا النفی نعمۃ جلیلۃ) (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں مراد نفی کا استمرار اور تاکید ہے اور گذشتہ میں بھی یہی مراد ہے اور اس نفی کا استمرار بہت بڑی نعمت ہے)
Ayah 37:60اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (اِِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) (بلاشبہ یہ بڑی کامیابی ہے) کہ جنت میں داخلہ ہوگیا اور ہمیشہ کے لیے ہوگیا اور وہاں کی بےمثال نعمتیں ہمیشہ کے لیے مل گئیں۔
Ayah 37:61(لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ ) (اسی جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے) یعنی ایمان لائیں اور اعمال صالحہ کرتے رہیں۔
Ayahs 37:62–67شجرۃ الزقوم کا تذکرہ جسے اہل جہنم کھائیں گے
اوپر اہل جنت کی نعمتوں کا اور وہاں کی کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، اور ان آیتوں میں اہل دوزخ کے کھانے کی چیزوں میں سے ایک چیز یعنی زقوم کا تذکرہ فرمایا، اہل جنت کے بارے میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمُ ) اور یہاں یوں فرمایا (اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ) (کیا اہل جنت کا رزق بہتر ہے جو بطور مہمانی ان کو دیا جائے گا یا زقوم کا درخت بہتر ہے) زقوم کا درخت بہت ہی زیادہ بدمزہ اور کڑوا ہوگا جو دوزخ کی گہرائی میں سے نکلے گا، اس کے پھل ایسے ہوں گے جیسے سانپوں کے پھن ہوں۔ اس میں درخت کی بدصورتی بیان فرمائی، مزہ بھی بہت زیادہ مکروہ ہوگا اور صورت بھی بہت زیادہ مکروہ ہوگی جس کے دیکھنے ہی سے ڈرنے لگے گا، یہ درخت گو بہت زیادہ کڑوا اور بدصورت ہوگا لیکن دوزخی بھوک کی وجہ سے اتنا کھائیں گے اتنا کھائیں گے کہ پیٹ بھر لیں گے۔
سورۂ محمد میں فرمایا کہ ان کو سخت گرم پانی پلایا جائے گا۔ (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) (اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ )
سورۂ واقعہ میں فرمایا (ثُمَّ اِِنَّکُمْ اَیُّہَا الضَّاتُوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ لاَٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّومٍ فَمَالِوءٗ نَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ فَشَارِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْہِیْمِ ھٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) (پھر اے جھٹلانے والے گمراہ لوگو ! تم زقوم کے درخت سے کھاؤ گے اور اس سے پیٹ بھرلو گے پھر اوپر سے کھولتا ہوا پانی پیو گے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں، قیامت کے روز اس طرح ان کی مہمانی ہوگی۔ )
وہ کیا ہی برا منظر ہوگا جب دوزخی اس درخت سے کھائیں گے اور پھر اوپر سے کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور وہ بھی تھوڑا بہت نہیں بلکہ پیاسے اونٹوں کی طرح خوب زیادہ پئیں گے۔ (اعاذنا اللّٰہ تعالیٰ من الزقوم والحمیم وسائر انواع عذاب الجحیم)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو وہ یقیناً تمام دنیا والوں کی غذائیں بگاڑ ڈالے، اب بتاؤ اس کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی زقوم ہوگی۔ (الترغیب و الترہیب جلد 4: ص 480 از ترمذی و ابن ماجہ و ابن حبان)
Ayah 37:68(ثُمَّ اِِنَّ مَرْجِعَہُمْ لاَ اِلَی الْجَحِیْمِ ) (پھر ان کا لوٹنا دوزخ ہی کی طرف ہوگا) زقوم کھانے اور گرم پانی پینے کے لیے جس جگہ جائیں گے وہ بھی دوزخ ہی میں ہوگی اور یہ چیزیں کھا پی کر بھی دوزخ میں ہی رہیں گے، اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے۔ (قال صاحب الروح ای التی مقرھم من النار فانّ فی جھنّم مواضع اعدفی کل موضع منھا نوع من البلاء) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں یعنی جہنم میں ان کے ٹھکانے کی طرف لوٹنا ہے کیونکہ جہنم میں کئی درجے ہیں ہر جگہ ایک الگ قسم کا عذاب ہے۔ )
زقوم کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اسے ظالموں کے لیے امتحان کی چیز بنایا ہے (یعنی موت کے بعد دوزخ میں داخل ہو کر اہل کفر بطور سزا کے زقوم کا درخت کھائیں گے وہاں اسے کھانا پڑے گا، اور دنیا میں اس کا ذکر آیا تو مذاق بنانے لگے جو ان کے لیے فتنہ یعنی امتحان کا سبب بن گیا کہ وہ اس کی خبر پر ایمان لاتے ہیں یا انکاری ہوتے ہیں۔ )
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ کافروں نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ تمہارے بیان کے مطابق تو دوزخ میں آگ ہی آگ ہے وہاں درخت کا کیا کام ؟ اور جب ابو جہل نے زقوم کے درخت کی بات سنی تو مذاق بناتے ہوئے کہنے لگا کہ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ زقوم کھجور اور مسکہ کا نام ہے، وہاں جاکر بھی تو ہمارے مزے ہوں گے۔ یہ بات اس نے اپنے پاس سے بنائی۔ عربی لغت میں زقوم کا ترجمہ کھجور اور مسکہ نہیں ہے، اور یہ بات کہ آگ میں درخت کیسے زندہ رہے گا ؟ یہ بھی بیوقوفی کا سوال ہے، آگ تو اللہ کے حکم سے جلاتی ہے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے آگ میں زندہ اور ہرا بھرا رکھ سکتا ہے۔
Ayahs 37:69–70اہل جہنم آباؤ اجداد کی تقلید کرکے گمراہ ہوئے
(اِِنَّہُمْ اَلْفَوْا اٰبَاءَ ھُمْ ضَالِّیْنَ فَہُمْ عَلٰی اٰثَارِھِمْ یُہْرَعُوْنَ ) یعنی یہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے اور آخرت کے عذاب کے مستحق ہو رہے ہیں انہوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا پھر غور و فکر کیے بغیر اور حق اور باطل میں امتیاز کیے بغیر انہی کے قدم بہ قدم تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں، گمراہی کی تقلید نے انہیں برباد کیا۔
Ayahs 37:71–74(وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (اور یہ بات واقعی ہے کہ ان موجود ظالموں یعنی کافروں سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے اکثر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں) (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ) (اور یہ بات بھی واقعی ہی ہے کہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے) یعنی حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) حق کی دعوت لے کر پہنچے اور انہیں بتایا کہ اگر باطل میں لگے رہو گے، حق قبول نہ کرو گے تو تمہارا برا انجام ہوگا، لیکن وہ لوگ نہ مانے دنیا میں بھی ان پر عذاب آیا اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب ہے۔ (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ) (سو دیکھ لیجیے جن لوگوں کو ڈرایا گیا ان کا کیا انجام ہوا ؟ )
(اِِلَّا عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ) (مگر اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے منتخب فرمالیا) وہ برائی سے بھی محفوظ رہے اور ان کا انجام بھی اچھا ہوا۔ )