Ayahs 37:114–122حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں پر احسان کیا یعنی نبوت عطا کی اور اس بڑے انعام سے نوازا اور اس کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی کیونکہ یہ لوگ مصر میں رہتے تھے جہاں کا صاحب اقتدار فرعون تھا وہ بڑا ظالم تھا اس کی حکومت میں بنی اسرائیل عاجز محض بنے ہوئے تھے (جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے) فرعون ان کے لڑکوں تک کو ذبح کردیتا تھا اور یہ چوں بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس سے بڑی بےچینی اور مظلومیت کیا ہوگی، اللہ تعالیٰ نے اس بےچینی سے ان کو نجات دی، ان لوگوں کی مدد فرمائی۔ دریا سے پار کردیا، یہ لوگ غالب ہوئے اور فرعون اور اس کے لشکر مغلوب ہوئے جو دریا میں غرق ہو کر ہلاک ہوگئے۔
(وَاٰتَیْنَاھُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ ) (اور ہم نے انہیں واضح کتاب دی) یعنی توریت شریف عطا فرمائی جس میں واضح طور پر احکام شرعیہ بیان فرمائے (وَھَدَیْنَاھُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ) (اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی) جس پر وہ قائم رہے اور بنی اسرائیل کو بھی اسی کی دعوت دیتے رہے۔ (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَھَارُوْنَ ) (اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ان کے بارے میں یہ بات رہنے دی کہ سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر (چنانچہ ان کے بعد آنے والے ساری امتیں خاص کر امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ برابر دعا وسلام کے ساتھ ان کے نام لیتی ہے یعنی انہیں لفظ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ یاد کرتی ہے) (اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ اِِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ) (بیشک ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں بلاشبہ وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں۔ )
Ayahs 37:123–132حضرت الیاس (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا
حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے تھے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے آپ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے وہ لوگ مشرک تھے، ان کا ایک بت تھا جس کا نام بعل تھا یہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اور اس سے حاجتیں مانگا کرتے تھے۔ روح المعانی میں ایک قول لکھا ہے کہ یہ بت سونے کا تھا جس کا قد بیس ہاتھ تھا اور چار چہرے تھے، شیطان اس کے اندر داخل ہوجاتا تھا اور اس کے پجاریوں اور خدمت گاروں سے باتیں کرتا تھا وہ لوگ اس کی باتیں وہاں آنے والوں کو بتا دیتے تھے جس سے وہ لوگ اور زیادہ معتقد ہوجاتے تھے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور استفہام انکاری کے طور پر فرمایا کیا تم اس ذات پاک کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے جو اللہ ہے جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے باپ دادوں کا بھی، تم معبود حقیقی کی عبادت نہیں کرتے اور اسے اپنی حاجتوں کے لیے نہیں پکارتے، یہ تمہاری بیوقوفی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو۔
اس میں جو احسن الخالقین فرمایا ہے اس سے احسن المصورین مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ سب کی صورتیں بناتا ہے، وہی حقیقی مصور ہے، اس کے علاوہ جو لوگ مورتیاں بناتے ہیں وہ مجازی مصور ہیں۔
ان لوگوں نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کی بات نہ مانی، شرک کو نہ چھوڑا، توحید پر نہ آئے، ان کے بارے میں ارشاد فرمایا (فَاِِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ) (کہ وہ ضرور عذاب میں حاضر کیے جائیں گے) (اِِلَّا عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ) (سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو اللہ ہی کے خالص بندے تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا) اس میں یہ بتادیا کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی امت میں سبھی کافر و مشرک نہ تھے بعض مخلص مومن بھی تھے (وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ سَلاَمٌ عَلٰی اِِلْ یَاسِیْنَ ) اور ہم نے بعد کے آنے والوں میں ان کے بارے میں یہ بات رہنے دی کہ سلام ہو الیاس پر (اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ اِِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ) بیشک ہم مخلصین کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں۔
(سَلاَمٌ عَلٰی اِِلْ یَاسِیْنَ ) میں جو لفظ اِلْ یَاسِیْنَ ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ بھی حضرت الیاس (علیہ السلام) کا نام تھا۔ کبھی کبھی کلمہ کے آخیر میں یا اور نون بڑھا دیا کرتے ہیں جیسے (سِیْنَآء) اور (سینین) ہے، رعایت فواصل کی وجہ سے (یاسِین) لایا گیا ہے (وقیل ھو جمع الیاسٍ علی طریق التغلیب علی قومہ واتباعہ کالمھلبین للمھلب وقومہ وقیل جمع الیاسیٍ بیاء النسبۃ فخفف والمراد بالیاسین قوم الیاسین المخلصون فانھم الاحقآء بان ینسبوا الیہ وضعف ھذا القول۔ وقرأ نافع وابن عامر و یعقوب وزید بن علی (آل یاسین) بالاضافۃ، وکتب فی المصحف العثمانی منفصلاً ففیہ نوع تأیید لھذہ القراءۃ وجوزان یکون الآل مقحما علی ان یاسین ھو الیاس نفسہٗ ) (اور کہا گیا ہے کہ وہ الیاس کی جمع ہے حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم اور متبعین پر ان کی تغلیب کی وجہ سے جیسے مھلب اور اس کی قوم کے لیے مھلبین کہا جاتا ہے۔ اور بعض نے کہا یہ الیاس کی جمع ہے جس کے آخر میں یاء نسبت کی ہے پھر اس میں تخفیف کرکے الیاسین ہوا۔ اور الیاسین سے مراد حضرت الیاس (علیہ السلام) کے مخلص متبع ہیں کیونکہ وہی حضرت الیاس (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہونے کے مستحق ہیں۔ لیکن اس قول کو ضعیف کہا گیا ہے نافع، ابن عامر، یعقوب اور زید بن علی نے اضافت کے ساتھ آل یاسین پڑھا ہے مصحف عثمانی میں آل اور یاسین الگ الگ لکھا ہوا ہے لہٰذا یہ بات اس قول کی تائید کرتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آل کا لفظ زائد ہو اور یاسین سے مراد خود حضرت الیاس ہی ہوں۔ )
Ayahs 37:133–138حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ اور قوم کا ہلاک ہونا اور بیوی کے علاوہ ان کے تمام اہل و عیال کا نجات پانا
ان آیات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور ان کی اور ان کے اہل و عیال کی نجات اور ان کی قوم کی ہلاکت کا ذکر ہے، ان کی قوم کے لوگ کافر تو تھے ہی برے اعمال میں بھی بہت آگے بڑھے ہوئے تھے، مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا وہ لوگ نہ مانے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ اے لوط اگر تم اپنی بات سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی آبادی سے نکال باہر کردیں گے۔ ان لوگوں پر جس دن صبح صبح عذاب آنا تھا اللہ تعالیٰ نے اس صبح سے پہلے حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر رات کے آخری حصہ میں آبادی سے نکل جائیں البتہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لینا (یہ اس لیے کہ وہ کافرہ تھی جیسا کہ سورة التحریم کے آخر میں اس کا کافر ہونا مذکور ہے) چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) رات کو اپنے اہل و عیال کو لے کر آبادی سے نکل گئے، صبح ہوئی قوم پر عذاب آگیا، زمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور آسمان سے پتھر برسا دئیے گئے، یہ قصہ سورة الانعام، سورة الحجر، سورة الشعراء اور سورة النمل میں گزر چکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک شدہ لوگوں میں رہ گئی، اسی کو (اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغَابِرِیْنَ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔
اہل مکہ کو عبرت دلانا
اہل مکہ کا یہ طریقہ تھا کہ سال میں دو مرتبہ ملک شام کا سفر کرتے تھے، ایک سفر سردی میں اور ایک سفر گرمی میں ہوتا تھا، جس کے بارے میں (رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِ ) فرمایا ہے، یہ سفر تجارت کا ہوتا تھا، شام جانے کے لیے ضروری تھا کہ ان بستیوں کے پاس سے گزرے جو الٹ دی گئی تھیں ان کے کھنڈر نظر آتے تھے، ان جگہوں میں کبھی رات کو گزرتے تھے اور کبھی صبح کو، ہلاک شدہ اقوام کے آثار اور نشان دیکھتے تھے لیکن اثر نہیں لیتے تھے، اسی کو فرمایا (وَاِِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) (اور بیشک تم ان پر گزرتے ہو صبح کے وقت اور رات کو، تو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جب حجاز کی جانب سے شام کو جاتے تھے تو ان کا گزر ان بستیوں کے قریب صبح کے وقت ہوتا تھا اور جب ادھر سے حجاز کی جانب واپس آتے تھے تو رات کو ان بستیوں کے پاس سے گزرتے تھے انہیں یاد دلایا کہ دیکھو کفر کی وجہ سے یہ بستیاں ہلاک ہوگئیں، تم آنکھوں سے ان کی نشانیاں دیکھ رہے ہو پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے، تم اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت سے باز آؤ اور ہلاک شدہ قوموں سے عبرت حاصل کرو ورنہ تمہیں بھی عذاب پہنچ سکتا ہے۔
Ayahs 37:139–148حضرت یونس (علیہ السلام) کا کشتی سے سمندر میں کود پڑنا، پھر مچھلی کے پیٹ میں تسبیح میں مشغول رہنا
ان آیات میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی بعثت اور مصیبت اور ان کی قوم کی ضلالت اور پھر ہدایت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ ایک عرصہ تک اپنی قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور قوم نے نہ مانا انکار پر تلے رہے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرما دیا کہ دیکھو تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا، اس کے بعد دو دن تک انتظار کیا، تیسرے دن بھی انتظار میں تھے لیکن عذاب کے آثار نہیں دیکھے، جب یہ صورت حال سامنے آئی تو یہ سمجھ کر کہ اگر عذاب نہ آیا تو میں جھوٹا بنوں گا وہاں سے روانہ ہوگئے اور ادھر ان کی قوم نے عذاب آتا دیکھا تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں روئے اور گڑگڑائے، زاری کرتے رہے، خوب توبہ کی، معافی مانگی اور ایمان قبول کرلیا، اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹا دیا اور ان کا ایمان قبول فرما لیا۔ یہ ان کی خصوصیت تھی کیونکہ عذاب آنے کے بعد ایمان اور توبہ کی قبولیت نہیں ہوتی۔ سورة یونس میں فرمایا (فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ) سو کوئی ایسی بستی کیوں ایمان نہ لائی جس کا ایمان لانا اس کو نافع ہوتا مگر یونس کی قوم، جب وہ ایمان لائے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کا دنیوی زندگی میں ان پر ٹال دیا اور ان کو ایک وقت خاص تک عیش دیا۔
حضرت یونس (علیہ السلام) یہ دیکھ کر کہ عذاب نہیں آیا اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہوئے تو چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچے وہاں جو کشتی والے تھے سواریوں کو کشتی میں بٹھا کر اس کنارے سے اس کنارہ تک پہنچاتے تھے اور مسافروں سے کرایہ بھی لیتے تھے، انہوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور بغیر اجرت کے کشتی میں بٹھا لیا، کشتی میں سوار ہوگئے لیکن اب یہ ماجرا ہوا کہ کشتی روانہ ہو کر بیچ منجھدار میں جاکر رک گئی۔ کشتی والوں نے کہا کہ جو لوگ کشتی میں سوار ہیں ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی وجہ سے کشتی بیچ دریا میں آکر ٹھہر گئی ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے تو دیکھ رہے ہیں کہ دائیں بائیں کشتیاں چل رہی ہیں لیکن آپ جس کشتی میں تھے وہ نہ چلانے سے چلتی ہے نہ ہلانے سے ہلتی ہے، آپ نے خود ہی دریافت فرمایا کہ اس کشتی کو کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو پتہ نہیں ! فرمایا لیکن مجھے اس کا سبب معلوم ہے، اس میں کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے آقا کی فرمانبرداری چھوڑ کر بھاگ آیا ہے اور جب تک اس شخص کو سمندر میں نہ ڈال دو یہ کشتی ٹھہری ہی رہے گی، اور وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں (یہ اس لیے کہا کہ اللہ جل شانہٗ کی اجازت کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے آئے تھے) مجھے دریا میں ڈال دو ، لوگوں نے کہا یا نبی اللہ ! ہم آپ کو دریا میں نہیں ڈال سکتے۔ فرمایا اچھا تو پھر قرعہ ڈال لو، جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے دریا میں ڈال دینا چناچہ انہوں نے تین بار قرعہ ڈالا ہر بار آپ ہی کا نام نکلا، لہٰذا آپ نے خود ہی دریا میں چھلانگ لگا دی۔ عربی زبان میں (سھم) تیر کو کہتے ہیں چونکہ تیروں کے ذریعہ قرعہ ڈالا گیا تھا اس لیے اسے (فَسَاھَمَ ) سے تعبیر فرمایا۔ اور طریقہ قرعہ کا یہ تھا کہ ہر شخص اپنا اپنا تیر لے کر پانی میں ڈال دے جس کا تیر اوپر ہی کو رہے اس کو دریا میں ڈال دیا جائے اور جس کا تیر ڈوب جائے اس کے بارے میں سمجھ لیا جائے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے جس کی وجہ سے کشتی رکی کھڑی ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام کا جو تیر تھا پانی پر ہی تیرتا ہوا رہ گیا، اس پر آپ نے سمجھ لیا کہ مجھ ہی کو سمندر کے حوالے ہونا چاہیے، اور کشتی کے دوسرے سواروں نے بھی اس بات کا یقین کرلیا۔ اس کو یہاں فرمایا (فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ ) (کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مغلوب ہوگئے اور دوسری سواریوں کے مقابلہ میں ہار گئے) (ذکرہ صاحب الروح)
حضرت یونس (علیہ السلام) نے جیسے ہی دریا میں چھلانگ لگائی ایک مچھلی اللہ کے حکم سے پہلے ہی سے تیار تھی اس نے آپ کو لقمہ بنا لیا لیکن چبایا نہیں صحیح سالم نگل لیا، مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو تین تاریکوں میں مبتلا ہوئے، ایک تاریکی رات کی، دوسری سمندر کے پانی کی، تیسری مچھلی کے پیٹ کی، ان تاریکیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے جسے سورة الانبیاء میں فرمایا ہے (فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (سو تاریکیوں میں پکارتے رہے کہ اے اللہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ پاک ہیں بیشک میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں) مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہے، اللہ تعالیٰ نے وہاں ان کی حفاظت فرمائی اور ان کو اس مصیبت سے نجات دے دی، سورة الانبیاء میں فرمایا ہے (فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجْی الْمُؤْمِنِیْنَ ) (سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں گھٹن سے نجات دی اور ہم اسی طرح اہل ایمان کو نجات دیا کرتے ہیں) اور یہاں سورة الصفت میں فرمایا ہے (فَلَوْلاَ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہِ اِِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) (سو اگر وہ تسبیح بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے۔ )
ایک بیل دار درخت کا سایہ دینا
جب مچھلی کے پیٹ میں آپ نے ذکر کیا، اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی تو اللہ جل شانہٗ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ان کو کنارے پر اگل دے، مچھلی نے آپ کو کنارے پر ڈال دیا۔ اس کے پیٹ سے اور پانی سے باہر تو آگئے لیکن سقیم تھے، سقیم عربی زبان میں بیمار کو کہتے ہیں، جب مچھلی کے پیٹ میں کھانا دانہ نہ ملا تو تندرستی والی حالت برقرار نہ رہی، ضعف ہوجانا لازمی تھا۔ اسی لیے بعض حضرات نے سقیم کا ترجمہ مضمحل کیا ہے، ضرورت تھی کہ سایہ بھی ملے اور غذا بھی پہنچے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے وہاں ایک بیلدار درخت اگا دیا مشہور ہے کہ وہ کدو کا درخت تھا اور مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جنگل کی بکری کو انہیں دودھ پلانے پر لگا دیا، وہ بکری آتی تھی اور آپ کو دودھ پلا کر چلی جاتی تھی۔
امتیوں کی تعداد
حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ نینویٰ بستی کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو شہر موصل کے قریب تھی، یہاں سورة الصفت میں ان کی تعداد کے بارے میں فرمایا ہے (وَاَرْسَلْنَاہُ اِِلٰی ماءَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ) (اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ افراد کی طرف بھیجا) چونکہ ان لوگوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کرلی اور ایمان لے آئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹا دیا اور اس کے بعد انہیں ایک زمانہ تک مزید زندگی بخش دی اور دنیا کی زندگی سے اور دنیا کی دوسری نعمتوں سے بھی متنفع ہونے کا موقع دیا۔ اسی کو یہاں فرمایا (فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنَاھُمْ اِِلٰی حِیْنٍ ) (سو وہ لوگ ایمان لے آئے لہٰذا ہم نے انہیں ایک زمانہ تک جینے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیا) تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) تندرست ہوگئے تو اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے۔
یہاں جو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بیل دار درخت تو زمین پر پھیل جاتا ہے اس سے سایہ کیسے مل سکتا ہے ؟ بعض حضرات نے اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ بطور خرق عادت اس درخت کی بیل کسی سہارے کے بغیر اوپر پھیل گئی، کیونکہ معجزہ تھا اس کے لیے چڑھنے اور ٹھہرنے کے لیے کسی درخت یا دیوار کی ضرورت نہ ہوئی، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ممکن ہے کہ وہاں کوئی سوکھا ہوا درخت کھڑا ہو، اس پر بیل چڑھ گئی ہو۔
(اِِلٰی ماءَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ) جو فرمایا ہے کہ اس میں اَوْ شک کے لیے نہیں ہے۔ (لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ مُتَعَالٍ عَنْ ذٰلِکَ ) اسی لیے فرانحوی نے فرمایا ہے کہ یہاں اوبل کے معنی میں ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ واؤ کے معنی میں ہے اور اخفش اور زجاج نے فرمایا ہے کہ الفاظ قرآنی کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کو دیکھ لیتے تو تمہارے اندازہ میں ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ میں آتے۔ (تفسیر قرطبی ص 132: ج 15) اور ” بیان القرآن “ میں لکھا ہے کہ کسر کا اعتبار نہ کرو تو ایک لاکھ کہو اور اگر کسر کا اعتبار کرو تو زیادہ کہو۔
سنن ترمذی میں حضرت ابی بن کعب ؓ کا بیان نقل کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَاَرْسَلْنَاہُ اِِلٰی ماءَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ) کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ ایک لاکھ بیس ہزار زیادہ تھے۔ (قال الترمذی ھذا حدیث غریب وفی سندہ رجل مجھولٌ)
فائدہ : اللہ تعالیٰ کا تکوینی قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجائے تو اس وقت توبہ کرنے سے واپس نہیں ہوتا لیکن حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے لیے یہ خصوصیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب آنے کے بعد بھی ان کی توبہ قبول فرمائی، وہ ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، اور ایمان بھی قبول فرمایا اور عذاب کو ہٹا دیا جس کی تفصیل سورة یونس میں گزر چکی ہے۔ (انوار البیان جلد اول)