Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 3 of 199

44Sunan At-Tirmidhi

وضو کے اعضاء کو تین تین مرتبہ دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَالرُّبَيِّعِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ، وَأَفْضَلُهُ ثَلَاثٌ، وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٌ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَزِيدُ عَلَى الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًى.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔

Sayyidina Ali (RA) said that the Prophet ﷺ washed each limb during ablution three times.

صحيح، صحيح أبي داود (100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 44
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- علی ؓ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی ؓ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٣- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو (دیوانگی اور وسوسہ) میں مبتلا ہوگا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی کو شک ہوجائے کہ تین بار دھویا ہے یا دو ہی بار، تب بھی اسی پر اکتفا کرے کیونکہ اگر تین بار نہیں دھویا ہوگا تو دو بار تو دھویا ہی ہے، جو کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٥٠ (١١٦) سنن النسائی/الطہارة ٧٩ (٩٦) و ٩٣ (١١٥) و ١٠٣ (١٣٦) (تحفة الأشراف: ١٠٣٢١، و ١٠٣٢٢) مسند احمد (١/١٢٢) ویأتي برقم: ٤٨، وانظر ما یأتي برقم ٤٩ (صحیح)
45Sunan At-Tirmidhi

اعضائے وضو کو ایک دو اور تین مرتبہ دھونا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَجَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا ، قَالَ: نَعَمْ.قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَ 26 جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً ، قَالَ: نَعَمْ. وحَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّة، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا، عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ، وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ، وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ.

ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر ؓ نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے) ۔

Sayyidina Thabit ibn Abu Safiyah (RA) narrated that he asked Abu Jafar if Sayyidina Jabir (RA); had narrated to him the hadith that the Prophet ﷺ (RA) performed ablution washing the limbs once, twice and thrice each. He answered, "Yes."Abu Eesa said , “ Waki has also narrated this hadith from Thabit bin Abu Sufyan (RA) that he asked Abu Jafar and got a confirmatory response. He said that Qutaybah and Hannad had narrated the hadith from Waki on the authority of Thabit”

ضعيف، ابن ماجة (410)، //، المشکاة (422)، ضعيف سنن ابن ماجة (91) // صحيح بحديث ابن عباس المتقدم برقم (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 45 یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر ؓ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 46
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٢- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٥ (٤١٠) (تحفة الأشراف: ٢٥٩٢) (ضعیف) (سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے) (صحیح) (سابقہ ابن عباس کی حدیث اور اس میں مذکور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
47Sunan At-Tirmidhi

وضو میں بعض اعضاء دو مرتبہ اور بعض تین مرتبہ دھونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذُكِرَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بَعْضَ وُضُوئِهِ مَرَّةً وَبَعْضَهُ ثَلَاثًا، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ: لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بَعْضَ وُضُوئِهِ ثَلَاثًا وَبَعْضَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ مَرَّةً.

عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پیر دو دو بار دھوئے۔

Sayyidina Abdullah ibn Zayd,(RA) narrated that while performing ablution, the Prophet ﷺ washed his face three times and hands twice. Then he wiped his head and washed his feet (twice).

صحيح الإسناد، وقوله فی الرجلين: مرتين شاذ، صحيح أبي داود (109)، // انظر صحيح سنن أبي داود - باختصار السند - طبع مکتب التربية - برقم (109 - 118)، ضعيف سنن النسائی (3 / 99) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 47
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس کے علاوہ اور بھی حدیثوں میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے بعض اعضائے وضو کو ایک ایک بار اور بعض کو تین تین بار دھویا، ٣- بعض اہل علم نے اس بات کی اجازت دی ہے، ان کی رائے میں وضو میں بعض اعضاء کو تین بار، بعض کو دو بار اور بعض کو ایک بار دھونے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
(صحیح الإسناد) (وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ میں مرتين کا لفظ شاذ ہے، صحیح ابی داود ١٠٩)
48Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کا وضو

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالرُّبَيِّعِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.

ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ١ ؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کیسے ہوتا تھا۔

Sayyidina Abu Hayyah (RA) reported that he observed Sayyidina Ali (RA) perform ablution. He washed his both hands thoroughly, rinsed his mouth thrice, snuffed w up his nostrils thrice, washed his face thrice, washed both arms including elbows thrice, wiped head once and washed both feet including ankles. Then he stood up and drank the remaining water, saying, "I wished to show you how the Prophet ﷺ performed his ablution.

صحيح، صحيح أبي داود (101 - 105)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 48
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ علی ؓ نے کہا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے کیا ہے، اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ١- کھڑے ہو کر کبھی کبھی پانی پینا جائز ہے، ٢- وضو سے بچے ہوئے پانی میں برکت ہوتی ہے اس لیے آپ نے اسے پیا اور کھڑے ہو کر پیا تاکہ لوگ یہ عمل دیکھ لیں، نہ یہ کہ وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر ہی پینا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٤٤ (صحیح)
49Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کا وضو

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ذَكَرَ، عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ، قَالَ: كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، وَعَبْدِ خَيْرٍ، وَالْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثَ الْوُضُوءِ بِطُولِهِ، وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ فَأَخْطَأَ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقَالَ: مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ مِثْلُ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، وَالصَّحِيحُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ.

عبد خیر نے بھی علی ؓ سے، ابوحیہ کی حدیث ہی کی طرح روایت کی ہے، مگر عبد خیر کی روایت میں ہے کہ جب وہ اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو بچے ہوئے پانی کو انہوں نے اپنے چلو میں لیا اور اسے پیا۔ امام ترمذی نے اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Qutaybah and Hannad reported from Abul Ahwas who from Abu Ishaq who from Abd Khayr on the authority of Sayyidina Ali a hadith similar to Abu Hayyahs hadith, but Abd Khayr has reported some more words : (When he had fini performing ablution, he took some of the remaining water in his palm and drank it).

صحيح انظر الذي قبله (48)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 49
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٥٠ (١١١) سنن النسائی/الطہارة ٧٤ (٩١) و ٧٥ (٩٢) و ٧٦ (٩٣) (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٣) مسند احمد (١/١٢٢) سنن الدارمی/الطہارة ٣١ (٧٢٨) وانظر رقم: ٤٤ (صحیح)
50Sunan At-Tirmidhi

وضو کے بعد ازار پر پانی چھڑکنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍ الْهَاشِمِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ، وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا: اے محمد! جب آپ وضو کریں تو (شرمگاہ پر) پانی چھڑک لیں ١ ؎۔

Sayyidna Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ . said "Jibril came to me and said: "O Muhammad ﷺ ! When you perform ablution, sprinkle water."

ضعيف، ابن ماجة (463)، // ضعيف سنن ابن ماجة (103)، الضعيفة (1312)، الصحيحة (2 / 519 - 520)، المشکاة (367 / الحقيق الثاني)، ضعيف الجامع الصغير - بترتيبى - رقم (2622) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 50
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں ٢ ؎، ٣- اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں، ٤- اس باب میں ابوالحکم بن سفیان، ابن عباس، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہوجاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہوگا، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہوگی تو وہ پیشاب ہی کی ہوگی۔ ٢ ؎: حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الطہارة ٥٨ (٤٦٣) (تحفة الأشراف: ١٣٦٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بن علی ہاشمی ضعیف ہیں، قولی حدیث ثابت نہیں، فعل رسول ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے، دیکھئے: الضعیفة ١٣١٢، والصحیحة ٨٤١)
51Sunan At-Tirmidhi

وضو مکمل کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا ١ ؎ اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا ٢ ؎ اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "Shall I not tell you of something by which Allah erases sins and elevates ranks?" They (the sahabah) said, Of course, O Messenger of Allah! ﷺ " He said, "To perfect ablution even in trying conditions, to go towards mosques very often and to wait for the next salah after offering one. This is ribat (guarding the frontiers)."

صحيح، ابن ماجة (428)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 51
Notes · وضاحت
١ ؎: ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنے کا مطلب ہے سخت سردی میں اعضاء کا مکمل طور پر دھونا، یہ طبیعت پر نہایت گراں ہوتا ہے اس کے باوجود مسلمان محض اللہ کی رضا کے لیے ایسا کرتا ہے اس لیے اس کا اجر زیادہ ہوتا ہے۔ ٢ ؎: مسجد کا قرب بعض اعتبار سے مفید ہے لیکن گھر کا مسجد سے دور ہونا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ جتنے قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہوگا۔ ٣ ؎: یعنی یہ تینوں اعمال اجر و ثواب میں سرحدوں کی پاسبانی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی طرح ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سرحدوں کی نگرانی کے سبب دشمن ملک کے اندر گھس نہیں پاتا اسی طرح ان اعمال پر مواظبت سے شیطان نفس پر غالب نہیں ہو پاتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الطہارة ١٤ (٢٥١) سنن النسائی/الطہارة ١٠٧ (١٤٣) (تحفة الأشراف: ١٣٩٨١) موطا امام مالک/السفر ١٨ (٥٥) مسند احمد (٢/٢٧٧، ٣٠٣) (صحیح)
52Sunan At-Tirmidhi

وضو مکمل کرنے کے بارے میں

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ نَحْوَهُ، وقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبِيدَةَ، وَيُقَالُ: عُبَيْدَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ الْجُهَنِيُّ الْحُرَقِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اس طرح روایت ہے، لیکن قتیبہ نے اپنی روایت میں «فذلکم الرباط فذلکم الرباط فذلکم الرباط» تین بار کہا ہے۔

Qutaybah reported to us that Abdul Azizi ibn Muhammad also reported in like manner from Ala, except that Qutaybah repeats the words (This is ribat) three times.

صحيح انظر الذي قبله (51)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 52
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، عبیدہ - یا۔۔۔ عبیدہ بن عمرو - عائشہ، عبدالرحمٰن بن عائش الحضرمی اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٤٠٧١) (صحیح)
53Sunan At-Tirmidhi

وضو کے بعد رومال استعمال کرنا

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا بَعْدَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ لَيْسَ بِالْقَائِمِ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، وَأَبُو مُعَاذٍ يَقُولُونَ: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضو کے بعد اپنا بدن پونچھتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) said that Allahs Messenger ﷺ had a cloth with which he dried his limbs after (having performed) ablution.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 53
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی روایت درست نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے، ابومعاذ سلیمان بن ارقم محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، نیز اس باب میں وارد کوئی بھی صریح حدیث صحیح نہیں ہے جیسا کہ امام ترمذی نے صراحت کی ہے، مگر ام سلمہ ؓ کی حدیث جو صحیحین کی حدیث سے اس سے اس کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے، اس میں ہے کہ غسل سے فراغت کے بعد ام سلمہ نے نبی اکرم ﷺ کو تولیہ پیش کیا تو آپ نے نہیں لیا، اس سے ثابت ہوا کہ غسل کے بعد تولیہ استعمال کرنے کی عادت تھی تبھی تو ام سلمہ ؓ نے پیش کیا، مگر اس وقت کسی وجہ سے آپ نے اسے استعمال نہیں کیا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المولف ( تحفة الأشراف: ١٦٤٥٧) (حسن) (سند میں ” ابو معاذ سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق کی وجہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی ٥٠٢، والصحیحہ ٢٠٩٩)
54Sunan At-Tirmidhi

وضو کے بعد رومال استعمال کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي التَّمَنْدُلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ، وَمَنْ كَرِهَهُ إِنَّمَا كَرِهَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ قِيلَ إِنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنِّي وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ، عَنْ ثَعْلَبَة، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ الْمِنْدِيلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، لِأَنَّ الْوُضُوءَ يُوزَنُ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو چہرے کو اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے۔

Sayyidina Mua’dh ibn Jabal (RA) said ,I observed the Prophet ﷺ wipe his face face with the edge of his garment after performing ablution.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 54
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے، رشدین بن سعد اور عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم الافریقی دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں، ٢- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کے ایک گروہ نے وضو کے بعد رومال سے پونچھنے کی اجازت دی ہے، اور جن لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے تو محض اس وجہ سے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے: وضو کو (قیامت کے دن) تولا جائے گا، یہ بات سعید بن مسیب اور زہری سے روایت کی گئی ہے، ٣- زہری کہتے ہیں کہ وضو کے بعد تولیہ کا استعمال اس لیے مکروہ ہے کہ وضو کا پانی (قیامت کے روز) تولا جائے گا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس معنی میں بھی کوئی مرفوع صحیح حدیث وارد نہیں ہے، اور قیامت کے دن وزن کیے جانے کی بات اجر و ثواب کی بات ہے کوئی چاہے تو اپنے طور پر یہ اجر حاصل کرے، لیکن اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوگیا کہ تولیہ کا استعمال ہی مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٣٣٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں رشدین بن سعد اور عبدالرحمن افریقی دونوں ضعیف ہیں)
55Sunan At-Tirmidhi

وضو کے بعد کیا پڑھا جائے

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبيِ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَوَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو ۔

Sayyidina Umar ibn al-Khattab (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, “ anyone performs ablution and makes it a perfect ablution and says (I bear witness that there is no God besides Allah who is the One, Who has no partner and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. O Allah! Cause me to be among those who repent and cause me to be among who purify themselves), then all eight doors of Paradise are opened for him that he may enter whichever door he chooses.

صحيح، ابن ماجة (470)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 55
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- امام ترمذی نے عمر ؓ کی حدیث کے طرق ١ ؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ٣- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ کی اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک دوسری سند سے کی ہے ( رقم: ٢٣٤) اور اس میں «اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» کا اضافہ نہیں ہے، اور یہ روایت اضطراب سے پاک اور محفوظ ہے، احناف اور شوافع نے اپنی کتابوں میں ہر عضو کے دھونے کے وقت جو الگ الگ دعائیں نقل کی ہیں: مثلاً چہرہ دھونے کے وقت «اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه» اور دایاں ہاتھ دھونے کے وقت «اللهم أعطني کتابي في يميني وحاسبني حساباً يسيراً» ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ٣ ؎: ترمذی کی سند میں ابو ادریس کی روایت براہ راست عمر ؓ سے ہے، لیکن زید بن حباب ہی سے مسلم کی بھی روایت ہے مگر اس میں ابو ادریس کے بعد جبیر بن نفیر عن عقبہ بن عامر، عن عمر ہے جیسا کہ ترمذی نے خود تصریح کی ہے، بہرحال ترمذی کی روایت میں «اللهم أجعلني …» کا اضافہ بزار اور طبرانی کے یہاں ثوبان ؓ کی حدیث میں موجود ہے، حافظ ابن حجر نے اس کو تلخیص میں ذکر کر کے سکوت اختیار کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو: الإرواء رقم ٩٦، وصحیح أبی داود رقم ١٦٢)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٠٨٠) وأخرجہ بدون قولہ ” اللھم اجعلني … “ کل من: صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤)، والطھارة ٦٥ (١٦٩)، و سنن النسائی/الطھارة ١٠٩ (١٤٨)، والطھارة ٦٠ (٤٧٠)، و مسند احمد (١/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) من طریق عقبة بن عامر عن عمر ( تحفة الأشراف: ١٠٦٠٩) (صحیح) (سند میں اضطراب ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث مذکور اضافہ کے ساتھ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود رقم ١٦٢)
56Sunan At-Tirmidhi

ایک مد سے وضو کرنے کے بارے میں

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَليُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَفِينَةَ، حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَيْحَانَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، وَهَكَذَا رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ وَالْغُسْلَ بِالصَّاعِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَيْسَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى التَّوَقِّي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْثَرُ مِنْهُ وَلَا أَقَلُّ مِنْهُ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْفِي.

سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل فرماتے تھے ١ ؎۔

Sayyidinah Safinah (RA) narrated that the Prophet ﷺ performed ablution with a mudd of water and the purifying bath with a sa’ of water.

صحيح، ابن ماجة (267)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 56
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سفینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، جابر اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کی رائے یہی ہے کہ ایک مد پانی سے وضو کیا جائے اور ایک صاع پانی سے غسل، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصود تحدید نہیں ہے کہ اس سے زیادہ یا کم جائز نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقدار ایسی ہے جو کافی ہوتی ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مد ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے جو موجودہ زمانہ کے وزن کے حساب سے ڈھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔ ٢ ؎: مسلم میں ایک «فرق» پانی سے نبی اکرم ﷺ کے غسل کرنے کی روایت بھی آئی ہے، «فرق» ایک برتن ہوتا تھا جس میں لگ بھگ سات کیلو پانی آتا تھا، ایک روایت میں تو یہ بھی مذکور ہے کہ عائشہ ؓ اور نبی اکرم ﷺ دونوں ایک «فرق» پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے، یہ سب آدمی کے مختلف حالات اور مختلف آدمیوں کے جسموں پر منحصر ہے، ایک ہی آدمی جاڑا اور گرمی، یا بدن کی زیادہ یا کم گندگی کے سبب کم و بیش پانی استعمال کرتا ہے، نیز بعض آدمیوں کے بدن موٹے اور لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور بعض آدمیوں کے ناٹے اور دبلے پتلے ہوتے ہیں، اس حساب سے پانی کی ضرورت پڑتی ہے، بہرحال ضرورت سے زیادہ خواہ مخواہ پانی نہ بہائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦) سنن ابن ماجہ/الطہارة ١ (٢٦٧) (تحفة الأشراف: ٤٤٧٩) مسند احمد (٥/٢٢٢) سنن الدارمی/الطہارة ٢٣ (٧١٥) (صحیح)
57Sunan At-Tirmidhi

وضو میں اسراف مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا، يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَالصَّحِيْحَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْحَسَنِ قَوْلَهُ: وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، وَخَارِجَةُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وضو کے لیے ایک شیطان ہے، اسے ولہان کہا جاتا ہے، تم اس کے وسوسوں کے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے سے بچو ۔

Sayyidina Ubayy ibn Kab(RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "There is adevil for ablution called Walahan. So, beware of temptations caused about water."

ضعيف جدا، ابن ماجة (421)، //، المشکاة (419)، ضعيف الجامع الصغير (1970)، ضعيف سنن ابن ماجة (94) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 57
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن مغفل ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابی بن کعب کی حدیث غریب ہے، ٣- اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ کے علاوہ کسی اور نے اسے مسنداً روایت کیا ہو، یہ حدیث دوسری اور سندوں سے حسن (بصریٰ ) سے موقوفاً مروی ہے (یعنی اسے حسن ہی کا قول قرار دیا گیا ہے) اور اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز صحیح نہیں اور خارجہ ہمارے اصحاب ١ ؎ کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ابن مبارک نے ان کی تضعیف کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی جب «اصحابنا» کہتے ہیں تو اس سے محدثین مراد ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٨ (٤٢١) (تحفة الأشراف: ٦٦)، و مسند احمد (٥/١٣٦) (ضعیف جدا) (خارجہ بن مصعب متروک ہے)
58Sunan At-Tirmidhi

ہر نماز کے لئے وضو کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ ، قال: قُلْتُ لِأَنَسٍ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بےوضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ used to make ablution for every salah whether he already was in a state of ablution or not.

ضعيف صحيح أبى داود تحت الحديث (163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 58
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ٢ ؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔ ٢ ؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٤٠) (ضعیف) (محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں اور محمد بن اسحاق مدلس، اور روایت ” عنعنہ “ سے ہے، لیکن متابعت جو حدیث: ٦٠ پر آرہی ہے کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے)
59Sunan At-Tirmidhi(60)

ہر نماز کے لئے وضو کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأنْصَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.

عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، میں نے (انس سے) پوچھا: پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔

Sayyidina Amr ibn Aamir Ansari (RA) reported that he heard Sayyidina Anas ibn Malik (RA) say “The Prophet ﷺ used to perform ablution for every Salah”. He asked , “ What was your practice?” He said, “We let one ablution serve us many salah till the ablution was nullified”

صحيح، ابن ماجة (509)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 60
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطہارة ٥٤ (٢١٤) سنن النسائی/الطہارة ١٠١ (١٣١) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٢ (٥٠٩) (تحفة الأشراف: ١١١٠) مسند احمد (٣/١٣٢، ١٩٤، ٢٦٠)، سنن الدارمی/ الطہارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح)
60Sunan At-Tirmidhi(59)

ہر نماز کے لئے وضو کرنا

وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ . قَالَ: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَفْرِيقِيُّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: ذَكَرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ، فَقَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌ، قال: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔

It is reported in a hadith of Sayyidina Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said "If anyone who is in a state of ablution, made a fresh ablution then Allah records for him ten pieties."

ضعيف، ابن ماجة (512)، // ضعيف سنن ابن ماجة (114)، المشکاة (293)، ضعيف أبي داود (12 / 62)، ضعيف الجامع الصغير - بترتيب زهير - رقم (5536) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 59
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ١ ؎، ٣- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق ( اہل کوفہ اور بصرہ ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٢ (٦٢) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٣ (٥١٢) (تحفة الأشراف: ٨٥٩٠) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، اور ابو غطیف مجہول ہیں)
61Sunan At-Tirmidhi

کہ نبی ﷺ کا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ فَعَلْتَهُ. قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ: تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، قَالَ: وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ، وَيُرْوَى عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر ؓ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے ۔

Sayyidina Sulayman ibn Buraida (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ used to perform ablution for every salah. When Makkah was liberated, he offered several salah with one ablution and wiped over his socks. Sayyidina Umer (RA) said, “You did something that you never used to do before”. He said. “I did it on purpose”

صحيح، ابن ماجة (510)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 61
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا ، ٣- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» (مرسلاً روایت کیا ہے) کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، ٤- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ٥- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٦- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ٧- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ٨- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ٩- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ کی یہ مرسل روایت جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر نہیں ہے وکیع کی مسند روایت سے جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر ہے زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کے رواۃ زیادہ ہیں، لیکن عبدالرحمٰن بن مہدی کی علقمہ کے طریق سے روایت مرفوع متصل ہے ( جو مولف کی پہلی سند ہے ) اور اس کے متصل ہونے میں سفیان کے کسی شاگرد کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ محارب والے طریق میں ہے، فافہم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٥ (٢٧٧) سنن ابی داود/ الطہارة ٦٦ (١٧٢) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٢ (٥١٠) (تحفة الأشراف: ١٩٢٨) مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨) سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٦٨٥) (صحیح)
62Sunan At-Tirmidhi

مرد اور عورت کا ایک برتن میں وضو کرنا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ: أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَأُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قال أبو عيسى: وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ: جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے میمونہ ؓ نے بیان کیا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) ,(RA) reported that Sayyidah Maymunah (RA) told him that she and the Prophet ﷺ had the purification bath from the same vessel.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 62
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، ٣- اس باب میں علی، عائشہ، انس، ام ہانی، ام حبیبہ، ام سلمہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور غسل جائز ہے تو وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٢) سنن النسائی/الطہارة ١٤٦ (٢٣٧) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٥ (٣٧٧) (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٧) مسند احمد (٦/٣٢٩) (صحیح)
63Sunan At-Tirmidhi

عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی کراہت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ. قال أبو عيسى: وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق: كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا.

قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے (وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔

A man from Bani Ghifar reported that the Prophet ﷺ forbade use of water after a woman has purified herself from it.

صحيح، ابن ماجة (373)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 63
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن سرجس ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٤٠ (٨٢) سنن النسائی/المیاہ ١٢ (٣٤٥) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٤ (٣٧٣) (تحفة الأشراف: ٣٤٢١)، مسند احمد (٤/٢١٣، ٦٦٥) (صحیح)
64Sunan At-Tirmidhi

عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی کراہت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍيُحَدِّثُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ.

حکم بن عمرو غفاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔

Sayyidina Hakam ibn Amr Ghifari (RA) narrated that the Prophet ﷺ disallowed man to make ablution with the water remaining after a woman has made ablution bath) from it. Or, he disallowed her left-over after drinking.

صحيح انظر ما قبله (63)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 64
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ١ ؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے۔ ٢ ؎: مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ (صحیح)