عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : میں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا کھڑا تھا، تین ناسمجھ جن کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی) آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، انہوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا، ان میں سے ایک نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے : کیا اللہ ہماری یہ بات چیت سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب ہم بآواز بلند بات چیت کرتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو نہیں سنتا ہے، تیسرے نے کہا : اگر وہ ہماری بات چیت کا کچھ حصہ سن سکتا ہے تو وہ سبھی کچھ سن سکتا ہے، عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آیت «وما کنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعکم ولا أبصارکم ولا جلودکم» (فصلت : 22) سے لے کر «فأصبحتم من الخاسرين» (فصلت : 23) تک نازل فرمائی۔
Abdur Rahman ibn Yazid reported that Sayyidina Abdullah (RA) narrated: I was hiding behind the curtain of the Ka’bah when three men with very fat stomachs but hearts short of understanding came there. They were a Qurayshi and his two Thaqafi sons-in-law, or a Thaqafi and his two Qurayshi sons-in-law. They conversed with each other but I could not decipher what they said. 0ne of them asked, ‘Do you think that Allah hears this conversation of ours? The other said, ‘When we raise our voices, He hears it but when we do not raise it, He cannot hear it.’ The third said, “If He hears something of it then He hears all of it.” So I mentioned that to the Prophet ﷺ and Allah revealed to him; "And you used not to cover yourselves, lest your ears and your eyes, and your skins should bear witness against you, but you thought that Allah’s did not know much of what you were doing. And that thought of yours which you thought regarding your Lord has ruined you, so you have become of the losers." (41 : 22-23) [Ahmed 3614]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3249
اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے وہب بن ربیعہ کے واسطہ سے عبداللہ سے اسی طرح روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3249
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «إن الذين قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا» (فصلت : 30) ١ ؎ پڑھی، آپ نے فرمایا : بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ recited: "Surely those who say 0ur Lord is Allah, then remain firm in their belief." (41 : 30) He said, “Many people say that but then many of them disbelieve. So, those who die while they profess they remain firm.”
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (4079) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے، ٤- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : (واقعی ) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں : تم نہ ڈرو ، نہ غم کرو ، اور اس جنت کا خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ( حم السجدۃ : ٣٠)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٤٢٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں سہیل بن ابی حزم ضعیف راوی ہیں)
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربی» اے نبی ! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت و تبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو (الشوریٰ : ٢٣) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا : «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا : (تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، (آیت کا مفہوم ہے) اللہ نے کہا : میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا (بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔
Tawus reported that Ibn Abbas (RA) was asked about (the verse) :"Say: I ask of you no reward for that but (I seek to guide you) in respect of love of kinship."(42: 23) Saeed ibn Jubair said kinship is the family (descendants) of Muhammad." Ibn Abbas (RA) asked, "Do you know that there was no household of the Quraysh but it had kinship to Allahs Messenger to?" So, he said, "(I will not seek a reward from you) except that you join ties of relationship between me and you." [Ahmed 202-1, Bukhari 3497]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3251
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس (رض) سے آئی ہے۔
بنی مرہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں کوفہ آیا مجھے بلال بن ابوبردہ ١ ؎ کے حالات کا علم ہوا تو میں نے (جی میں) کہا کہ ان میں عبرت و موعظت ہے، میں ان کے پاس آیا، وہ اپنے اس گھر میں محبوس و مقید تھے جسے انہوں نے خود (اپنے عیش و آرام کے لیے) بنوایا تھا، عذاب اور مار پیٹ کے سبب ان کی ہر چیز کی صورت و شکل بدل چکی تھی، وہ چیتھڑا پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا : اے بلال ! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں نے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب آپ بغیر دھول اور گردوغبار کے (نزاکت و نفاست سے) ناک پکڑ کر ہمارے پاس سے گزر جاتے تھے، اور آج آپ اس حالت میں ہیں ؟ انہوں نے کہا : تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے کہا : بنی مرہ بن عباد سے، انہوں نے کہا : کیا میں تم سے ایک ایسی حدیث نہ بتاؤں جس سے امید ہے کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، میں نے کہا : پیش فرمائیے، انہوں نے کہا : مجھ سے میرے باپ ابوبردہ نے بیان کیا اور وہ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کسی بندے کو چھوٹی یا بڑی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس کے گناہ کے سبب ہی پہنچتی ہے، اور اللہ اس کے جن گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے وہ تو بہت ہوتے ہیں ۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی «وما أصابکم من مصيبة فبما کسبت أيديكم ويعفو عن کثير» (الشوری : 30) پڑھی ٢ ؎۔
A man of Banu Murrah (RA) narrated: I went to Kufah (where) I was informed about Bilal (RA) ibn Abu Burdah. I said, "Indeed in that is a lesson." I went to him and he was imprisoned in his house that he had got built. Everything of him had changed because of the punishment and the beating that he was getting. He had a worn out garment on him. I said, "Praise belongs to Allah, O Bilal (RA) . I had seen you pass by us holding your nose although there was no dust about. And, today, you are in this condition o( yours." He asked, "From whom are you?" I said, "I am from Banu Murrah-Ibn Abbad." He said, "Shall I not narrate to you a hadith, perhaps Allah may benefit you therefrom." I said, "Go ahead"! He said that Abu Burdah narrated on the authority of his father Abu Musa (RA) that Allahs Messenger ﷺ said," A person does not face a difficulty or something more than that or less than that but because of his sin, and that which Allah forgives is more than that." Then he recited: "And whatever of misfortune befalls you, it is for what your own hands have earned and He pardons much." (43: 30)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3252
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پوتے تھے ، بصرہ کے قاضی تھے ، بڑے متکبر اور ظالم تھے ، کسی وجہ سے قید کردیئے گئے تھے۔ ٢ ؎ : تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے پہنچتی ہے ، اور بہت سے گناہ تو وہ ( یونہی ) معاف کردیتا ہے ، یعنی ان کی وجہ سے مصیبت میں نہیں ڈالتا ( الشوریٰ : ٣٠) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٠٧٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” شیخ من بنی مرہ “ مبہم راوی ہے، نیز عبیداللہ بن الوازع الکلابی البصری مجہول ہے)
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہوجاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہوجاتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی «ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں (الزخرف : ٥٨) ۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "No people go astray after receiving guidance unless they begin to dispute with each other." He recited this verse: "They cite not him to you but to dispute. Nay, they are a contentious people." (43: 58) [Ibn e Majah 48, Ahmed 22226]
حسن، ابن ماجة (48)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3253
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم اسے صرف حجاج بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں، حجاج ثقہ، مقارب الحدیث ہیں اور ابوغالب کا نام حزور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٨) (تحفة الأشراف : ٤٩٣٦) (حسن)
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آ کر کہا : ایک قصہ گو (واعظ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا (قیامت کے قریب) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہوجائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہوجائے گا۔ مسروق کہتے ہیں : یہ سن کر عبداللہ غصہ ہوگئے (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (سنبھل کر) بیٹھ گئے۔ پھر کہا : تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» اللہ بہتر جانتا ہے کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» اللہ بہتر جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتکلفين» کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں (ص : ٨٦) ، (بات اس دخان کی یہ ہے کہ) جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر (آپ کی دعا قبول ہوگئی) ، ان پر قحط پڑگیا، ہر چیز اس سے متاثر ہوگئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے (اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے) ، عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا : آپ کی قوم ہلاک و برباد ہوگئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے عبداللہ نے کہا : یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشی الناس هذا عذاب أليم» جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ (دھواں) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے (الدخان : ١٠) ، کا، منصور کہتے ہیں : یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اکشف عنا العذاب إنا مؤمنون» اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں (الدخان : ١٢) ، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جاسکے گا ؟۔ عبداللہ کہتے ہیں : «بطشہ» ، «لزام» (بدر) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا : «قمر» (چاند) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا : روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔
Masruq reported that a man came to Sayyidina Abdullah (RA) and said that a preacher preached that a smoke would emerge from the earth whereby the hearing of the disbelievers would be impaired and the Believers would get something like common cold. Abdullah (RA) was enraged and he sat up straight though he had been reclining (before being told of that). Then he said, "If one of you is asked of something of which he has knowledge then he may answer"-or he said, inform. "But, if he is asked something of whch he has no knowledge then he must say Allah knows best." Then he said that Allah has said to His Prophet: "Say, I ask of you no reward for this, nor am I of the impostors." -------------------------------------------------------------------------------- (38: 86) When Allahs Messenger ﷺ observed that the Quraysh disobeyed him, he prayed, "O Allah! Help me over them with the seven like the seven of Yusuf." (seven years of famine). So, a year came upon them when everything was exhausted and they were driven to eat hides and carriory.-And one of the narrators saide-even bones. The like of smoke emerged from the earth. Abu Sufyan (RA) came to the Prophet ﷺ and said, "Your people are perishing. Pray to Allah for them." This was for his people: "...the Day when the heaven shall bring a manifest smoke enveloping the people. This will be a painful chastisement." (44: 10-11) Mansur (a narrator) said that this is for his people (who will pray): "Our Lord remove from us the chastisement, surely we are believers. (44 : 12) (This cannot be the punishment of the Hereafter). Obviously, the Punishment of the Hereafter is not removed. (Abdullah said:) "The batshah, the lizam and the dukhan have passed." And one of the narrators (Mansur or Amash) said, "The (splitting of the) moon" and the other said, (The liberation of) Rome have also passed. [Ahmed 4206, Bukhari 4693, Muslim 2798] Lizam means (the people who were killed during) the Battle of Badr.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3254
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : «فما بکت عليهم السماء والأرض وما کانوا منظرين» (کفار و مشرکین) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی (الدخان : ٢٩) ، کا مطلب ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "There is not a Believer but there are for him two gates a gate through which his deeds ascend and a gate through which his provision descends. When he dies, both weep over him." This is as the saying of Allah: "So the heaven and the earth wept not for them, nor were they respite." (44: 29)
ضعيف، الضعيفة (4491) // ضعيف الجامع الصغير (5214) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3255
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٧٥) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابان رقاشی ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن سلام (رض) کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب عثمان غنی (رض) کو جان سے مار ڈالنے کا ارادہ کرلیا گیا تو عبداللہ بن سلام (رض) ان کے پاس آئے، عثمان (رض) نے ان سے کہا : تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں آپ کی مدد میں (آپ کو بچانے کے لیے) آیا ہوں، انہوں نے کہا : تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو ، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے، چناچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا : لوگو ! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا (یعنی حصین) پھر رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں، میرے بارے میں آیت : «وشهد شاهد من بني إسرائيل علی مثله فآمن واستکبرتم إن اللہ لا يهدي القوم الظالمين» بنی اسرائیل میں سے گواہی دینے والے نے اس کے مثل گواہی دی (یعنی اس بات پر گواہی دی کہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے) اور ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (الاحقاف : ١٠) ، اور میرے ہی حق میں «قل کفی بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الکتاب» اے نبی کہہ دو ! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے (اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ حق کیا ہے اور کس کے پاس ہے) (الرعد : ٤٣) ، آیت اتری ہے، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، تو ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے اس شخص (عثمان) کے قتل کردینے سے، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے (بھگا دو گے) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جاسکے گی، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے (عبداللہ بن مسعود (رض) کی بات سن کر) کہا : اس یہودی کو قتل کر دو ، اور عثمان (رض) کو بھی مار ڈالو قتل کر دو ۔
The nephew of Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) narrated: When the people intended to slay Usman (RA) , Abdullah ibn Salaam (RA) came to Usman (RA) asked him. "What has brought you here?" He said, "I have come to" help you, He said, "Then go out and send the men away from me, for you are better for me outside then you are inside." So, Abdullah went out to the people and said, "O People! During the jahiliyah my name was so-and-so. Then Allahs Messenger ﷺ named me Abdullah and verses were revealed in Allahs Book about me. This was (also) revealed concerning me : "And a witness from among the children of Israil has already testified to its similarity and has believed, while, you are arrogant. Surely Allah guides not the evildoing people." (46: 10) And also this verse was about me : "Say, Allah suffices as a witness between me and you and whosoever has with him know-ledge of the Book." (13: 43) A sword of Allah is concealed from you and, indeed, the angels are your neighbours in this your city where your Prophet ﷺ had come. By Allah! Allah! About this man that you wish to slay. By Allah, if you slay him, the angels will give up your neighbourhood and the concealed sword of Allah will come upon you. It will never again be sheathed till the Last Day." The people responded, "Kill the Jewl and kill Usman!"
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣٤٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مجہول راوی ہے)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے (اندر آتے باہر جاتے) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہوجاتے، میں نے عرض کیا : ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں (صحیح) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی (آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے) (الاحقاف : ٢٤) ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Whenever the Prophet ﷺ saw a cloud, he would come in and go out (become restless). But when it rained, he was pleased with that, I asked him (about it) and he said: I cannot realise, for, it can be as Allah says: "Then, when they saw it as a sudden cloud advancing tewards their valleys, they said, "This is a cloud bringing us rain." (46: 24) [Ahmed 24401, Bukhari 3206, Muslim 899, Abu Dawud 5098]
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) سے کہا : کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ؟ انہوں نے کہا : ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا : آپ کا اغوا کرلیا گیا ہے یا (جن) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے ؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : جنوں کا قاصد (مجھے بلانے) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا ، ابن مسعود کہتے ہیں : ـپھرآپاٹھکرچلے اور ہمیں انکے آثار (نشانات و ثبوت) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں : جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا : ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید (گوبر) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا : (اسی وجہ سے) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں ۔
Alqamah reported that he asked Ibn Masud (RA) "Did anyone of you accompany the Prophet ﷺ on the night of the jinn"? He said: None of us did accompany him, but we lost him one night while he was in Makkah and we thought that someone may have captured him or kidnapped him. That night was very evil for us till it was morning. Early morning he was seen coming from the side of (the cave of) Hira. They mentioned to him how they had felt. He said, "A jinn had come to invite me. I went to them and recited the Quran to them." Then, he took us there and showed us their traces and traces of their fires. Shabi said that the jinns then asked him for provision and they were from the island. And the Prophet ﷺ said, "For you is every bone on which Allahs name is not called, and it will be clothed in much flesh. And the droppings and excretion of every camel will be the grazing of your animals." Then Allahs Messenger ﷺ disallowed us to make istinja (abstertion) with bone or dung, saying, "This is the food of your brothers, the Jinns." [Bukhari 3859, Muslim 450, Abu Dawud 85]
صحيح دون جملة اسم اللہ و علف لدوابکم ، الضعيفة (1038)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3258
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠) ، سنن ابی داود/ الطھارة ٤٢ (٨٥) (تحفة الأشراف : ٩٣٦٣) (صحیح) (اس حدیث پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم ١٠٣٨)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت : «واستغفر لذنبک وللمؤمنين والمؤمنات» تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ (محمد : ١٩) ، کی تفسیر میں فرمایا : میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported about the Prophets ﷺ explanation of this verse: "And ask forgiveness for your fault, and for the believing men and believing women." (47: 19) The Prophet ﷺ said, "Surely, I make istighfar (seek forgiveness of Allah) seventy times in a day." [Bukhari 6307, Ahmed 7798]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3259
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوہریرہ (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں ، ٣- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن یہ آیت «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يکونوا أمثالکم» اے عرب کے لوگو ! تم (ایمان و جہاد سے) پھر جاؤ گے تو تمہارے بدلے اللہ دوسری قوم کو لا کر کھڑا کرے گا، وہ تمہارے جیسے نہیں (بلکہ تم سے اچھے) ہوں گے (محمد : ٣٨) ، تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا : ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مارا (رکھا) پھر فرمایا : یہ اور اس کی قوم، یہ اور اس کی قوم ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ recited this verse one day:"If you turn away, He will substitute for you another people, then they will not be your likes." (47: 38)They [the sahabah (RA)] asked, "Who will replace us?" Allahs Messenger ﷺ struck the shoulder of Salman and said, "He and his people. He and his people." [Ahmed 9410, Bukhari 4898, Muslim 2546]
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ اگر ہم پلٹ جائیں گے تو وہ ہماری جگہ لے آئے جائیں گے، اور وہ ہم جیسے نہ ہوں گے، سلمان (رض) رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے سلمان (رض) کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : یہ اور ان کے اصحاب، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایمان ثریا ١ ؎ کے ساتھ بھی معلق ہوگا تو بھی فارس کے کچھ لوگ اسے پالیں گے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that some of the sahabah (RA) said, "O Messenger of Allah, who are they about whom Allah says that if we turn away, they will replace us whereafter they will not be the, likes of us?" He (the narrator) said that Salman was sitting by the side of the Prophet ﷺ and he struck him on his thigh and said, "He his friends. By Him in Whose Hand is my soul, if faith was placed on Pleiades, the people of Persia would fetch it." [Ahmed 9410, Muslim 2546]
صحيح، الصحيحة (1017 / الطبعة الثانية)
صحيح، الصحيحة (1017 / الطبعة الثانية)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3261
علی بن حجر نے ہمیں یہ حدیث بطریق : «إسمعيل بن جعفر عن عبد اللہ بن جعفر» روایت کی ہے، نیز : ہم سے بشر بن معاذ نے یہ حدیث بطریق «عبد اللہ بن جعفر عن العلاء» بھی روایت کی ہے مگر اس طریق میں «معلق بالثريا» کے الفاظ ہیں۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3261
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ عبداللہ بن جعفر بن نجیح : علی بن المدینی کے والد ہیں، ٢- علی بن حجر نے عبداللہ بن جعفر سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ثریا سات ستارے ہیں جو سب ستاروں سے زیادہ بلندی پر ہیں ، اور آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایمان ( یا دین ، یا علم جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اور سب کا حاصل مطلب ایک ہی ہے ) ثریا پر بھی چلا جائے تو بھی سلمان فارسی (رض) کو قوم کے کچھ لوگ وہاں بھی جا کر حاصل کرلیں گے ، اور یہ پیشین گوئی اس طرح ہوگئی کہ اہل فارس میں سیکڑوں علماء اسلام پیدا ہوئے ، اور بقول امام احمد بن حنبل : اگر اس سے محدثین نہیں مراد ہوں تو میں نہیں سمجھتا کہ تب پھر کون مراد ہوں گے ، «رحمہم اللہ جمیعا»۔
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ (اس بار بھی) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب (کنارے) ہوگیا، اور (اپنے آپ سے) کہا : ابن خطاب ! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ ﷺ سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو (اور تجھے سرزنش کی جائے) عمر بن خطاب کہتے ہیں : ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، عمر بن خطاب کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، آپ نے فرمایا : ابن خطاب ! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورة نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورة یہ ہے «إنا فتحنا لک فتحا مبينا» بیشک اے نبی ! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے (الفتح : ١) ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) narrated: We were on a journey with the Prophet ﷺ spoke to him about some thing but he kept quiet. I spoke again, but he maintained silence. So, I moved my beast to a side and said to myself, "O Ibn Khattab may your mother weep over you. You caused inconvenience to Allahs Messegner ﷺ by putting the question three times each time he did not speak to you. I am afraid a verse of the Quran might be revealed about you." I had not even paused when I heard a crier call me. So I went to Allahs Messenger ﷺ who said, "O Ibn Khattab, indeed, a srah has been revealed to me this night and it is dearer to me than everything on which the sun shines. (It is) : "Surely we have granted you a manifest victory." (48: 1) [Ahmed 109, Bukhari 4177]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً (بلاعاً ) روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٥ (٤١٧٧) ، وتفسیر سورة الفتح ١ (٤٨٣٣) ، وفضائل القرآن ١٢ (٥٠١٢) (تحفة الأشراف : ١٠٣٨٧) (صحیح)
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر» (اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے (الفتح : ٢) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے (سن کر) «هنيأ مريئًا» (آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو) کہا، اے اللہ کے نبی ! اللہ نے آپ کو بتادیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے (الفتح : ٥) ، تک نازل ہوئی۔
Sayyidina Anas (RA) reported that this was revealed to the Prophet ﷺ ;"That Allah may forgive you of your fault that which is past and that which is to come." (48: 2) When he was returning from Hudaybiyah. So he said, "Indeed, a verse is revealed to me dearer to me than whatever is on earth." Then he recited it to his companions. They exclaimed. "How happy and welcome! O Messenger of Allah, Allah has described for you what He would do with you, but what would He do with us?" So, this was revealed to him: "That He may admit the believing men and the believing women into Gardens underneath which rivers flow, adiding therein, and may acquit them of their evil deeds. And that in Allahs sight is a mighty triumph." (48: 5) [Ahmed 13245, Muslim 1786]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3263
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی ( ٨٠) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کو قتل کردیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت :«وهو الذي كف أيديهم عنکم وأيديكم عنهم» وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے (الفتح : ٢٤) ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that eighty men (disbelievers) came down upon Allahs Messenger ﷺ and his sahabah from Mount Tanim at the time of the salah of fajr. They intended to kill him, but they were (all) seized. Allahs Messenger ﷺ released them and Allah revealed: And it is He Who has restrained their hands from you and your hands from them in the midst of Makka, after that He gave you the victory over them. And Allah sees well all that ye do. (48: 24) [Muslim 1808, Abu Dawud 2688, Ahmed 12256]
صحيح، صحيح أبي داود (2408)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3264
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے «وألزمهم كلمة التقوی» اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا (الفتح : ٢٦) ، کے متعلق فرمایا : اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔
Sayyidina Ubayy ibn Kab (RA) reported from the Prophet ﷺ about "And (He) made them stick to the word of piety." (48: 26) He said, "It is "There is no God but Allah."
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3265
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے، ٣- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔
عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں تو تو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ابوبکر نے عمر (رض) سے کہا : آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر (رض) نے کہا : میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چناچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي» رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو ( الحجرات : ٢) ، اس واقعہ کے بعد عمر (رض) جب نبی اکرم ﷺ سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑجاتا، راوی کہتے ہیں : ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی ابوبکر (رض) کا ذکر نہیں کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) narrated: Aqra ibn Habis (RA) came to the Prophet ﷺ , Abu Bakr (RA) said, "O Messenger of Allah, make him amir over his people." But Umar (RA) said, "Do not make him their amir, O Messenger of Allah." They argued in the Prophets ﷺ presence and soon their voices were raised. Abu Bakr (RA) said to Umar (RA), "You had no intention but to oppose me." He said. "I had no intention to oppose you." This verse was revealed (in this situation): "O you who believe! Raise not your voice above the Prophets voice." (49: 2) After that whenever Umar (RA) spoke to the Prophet ﷺ , his words were not heard until he explained (or repeated) them. (Zubayr did not mention how his (matenal) grandfather Abu Bakr (RA) Behaved after that.) [B4367, Nisai 5396]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3266
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : ابن زبیر نے آپ ﷺ کے سامنے پست ترین آواز سے بات نہ کرنے کے سلسلے میں صرف عمر کا ذکر کیا ، اپنے نانا ابوبکر (رض) کا ذکر نہیں کیا۔
براء بن عازب (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونک من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» اے نبی ! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بےعقلوں کی ہے (الحجرات : ٤) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں : ایک شخص نے (آپ کے دروازے پر) کھڑے ہو کر (پکار کر) کہا : اللہ کے رسول ! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ صفت تو اللہ کی ہے (یہ اللہ ہی کی شان ہے) ۔
Sayyidina Bara ibn Aazib reported about Allahs words:"Surely those who callout to you (O Prophet) from behind the private apartments, most of them have no sense." (49: 4) (The backgraound is that) a man stood and called, O Messenger of Allah! ﷺ My praise is honourable and my blame is digrace." The Prophet ﷺ said, "That is Allah, the Mighty, the Glorious."
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3267
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» لوگوں کو برے القاب (برے ناموں) سے نہ پکارو (الحجرات : ١١) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Abu ]ubayrah ibn Dahhak narrated: Each one of us had two or threee names by one of which he was called and perhaps he detested it (that name). This verse was revealed: "And revile not one another with nicknames." (49: 12) [Ahmed 6642, Bukhari 330, Abu Dawud 4962, 1Muslim 3741]
صحيح، ابن ماجة (3741)
صحيح، ابن ماجة (3741)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3268
اس سند سے داود نے شعبی سے اور شعبی نے ابوجبیرہ بن ضحاک سے اسی طرح روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3268
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ (معتبر) شخص ہیں۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔