Sunan At-Tirmidhi 3250

قرآن کی تفسیر کا بیان

3250Sunan At-Tirmidhi

حم السجدہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا سورة فصلت آية 30 قَالَ: قَدْ قَالَ النَّاسُ: ثُمَّ كَفَرَ أَكْثَرُهُمْ فَمَنْ مَاتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مِمَّنْ اسْتَقَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: رَوَى عَفَّانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا، وَيُرْوَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَعْنَى اسْتَقَامُوا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «إن الذين قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا» (فصلت: 30) ١ ؎ پڑھی، آپ نے فرمایا: بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ recited: "Surely those who say 0ur Lord is Allah, then remain firm in their belief." (41 : 30) He said, “Many people say that but then many of them disbelieve. So, those who die while they profess they remain firm.”

ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (4079) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے، ٤- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: (واقعی ) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کا خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ( حم السجدۃ: ٣٠)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٤٢٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں سہیل بن ابی حزم ضعیف راوی ہیں)