Sunan At-Tirmidhi 3257

قرآن کی تفسیر کا بیان

3257Sunan At-Tirmidhi

سورہ دخان کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: وَمَا أَدْرِي، لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَى: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے (اندر آتے باہر جاتے) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہوجاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں (صحیح) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی (آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے) (الاحقاف: ٢٤) ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Whenever the Prophet ﷺ saw a cloud, he would come in and go out (become restless). But when it rained, he was pleased with that, I asked him (about it) and he said: I cannot realise, for, it can be as Allah says: "Then, when they saw it as a sudden cloud advancing tewards their valleys, they said, "This is a cloud bringing us rain." (46: 24) [Ahmed 24401, Bukhari 3206, Muslim 899, Abu Dawud 5098]

صحيح، الصحيحة (2757)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦)، وتفسیر الاحقاف ٢ (٤٨٢٩) (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٦) (صحیح)